12 نومبر 2018
امریکا نے فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد روکدی

 امریکا نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے خدمات انجام دینے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی اونروا کی امداد روک دی ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے بحالی کو فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لئے دی جانے والی امدادی رقوم روک دی ہے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی فیصلے کو فلسطینی قوم پر حملے کے مترادف قرار دیتے ہوئے امریکی اقدام کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی ریلیف اینڈ ورکس کو دی جانے والی امداد کو مکمل جائزے کے بعد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایجنسی کی کارکردگی ناقص ہے اور اسے دی جانے والی امداد کے ثمرات سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ امریکا اب یونائیٹڈ نیشن ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی یعنی  اونروا  کو مزید کوئی امداد نہیں دے گا۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ہیدر نورٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کی بندش کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ رواں سال اونروا کے لئے رواں سال 6 کروڑ ڈالر کی رضاکارانہ امداد کرے گی ، تاکہ ایجنسی کے تحت چلنے والے سکول اور صحت کے مراکز کے بند ہونے کا خدشہ نہ رہے، تاہم امریکا چاہتا ہے کہ ایجنسی کے کام کرنے کے طریقہ کار کو وضع ہونا چاہئے تاکہ اس بات یقینی بنایا جا سکے کہ امدادی رقم درست جگہ استعمال ہو رہی ہے۔ دوسری جانب اونروا کے ترجمان نے امریکی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی کے تحت چلنے والے سکول، صحت کے اور خوراک کے مراکز کا معیار بہترین ہے جہاں حفظان صحت کے تمام اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے۔ پناہ گزینوں کو ایسی سہولیات کوئی اور مہیا نہیں کر رہا ۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟