17 نومبر 2018
 امریکا نے اگر بات کرنی ہے تو عزت سے کرے،وزیراعظم

 وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا کے حوالے سے وہ اپنے موقف پر اب بھی قائم ہیں اور اگر امریکا نے بات کرنی ہے تو عزت سے کرے۔ وزیراعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کیسز چلانے پر شور مچے گا لہٰذا اس پر میڈیا کا ساتھ چاہیے ہوگا اور ان کیسز میں جو بھی پکڑا گیا میڈیا اس میں کسی پروپگینڈے کا حصہ نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا ویږن آگے لیکر بڑھوں گا، عوامی منصوبے شروع کریں گے اور پاکستان میں پیسہ واپس لانے کے لیے اقدامات کروں گا جب کہ ہمارے اندرونی حالات ایسے نہیں کہ غیرملکی دورے کروں۔ عمران خان نے کہا کہ بھارت سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم بھارت کی جانب سے مثبت ردعمل نہیں آیا جب کہ نوجوت سدھو کو بلانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ واپس جا کر لوگوں کو اعتماد میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے حوالے سے وہ اپنے موقف پر اب بھی قائم ہیں، امریکا نے اگر بات کرنی ہے تو عزت سے  کرے۔ عمران خان نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے استعمال سے وقت اور پیسہ بچتا ہے اور شہریوں کو بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات کریں گے جس سے حکومت کے مزید اخراجات کم ہوں گے جب کہ کفایت شعاری مہم کے تحت گاڑیوں کی نیلامی کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے اوپر کسی قسم کا اور کسی بھی ادارے کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ، ہم فوج کے ساتھ مل کر آئین کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

پاکپتن کے واقعے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف چیف سیکرٹری کو معاملہ دیکھنے کا کہا تھا تاہم ڈی پی او سے معافی کے مطالبے کا علم نہیں جب کہ اس واقعے پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس خوش آئند ہے۔صحافیوں سے ملاقات کے دوران  فرانسیسی صدر کی 2  بار ٹیلی فون کال بھی آئی جس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ ابھی مصروف ہیں بعد میں بات کریں گے۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟