18 اگست 2019
تازہ ترین
 امریکا،سعودیہ اورخلیجی ممالک سے تر سیلات زر میں کمی کا رجحان

 امریکا،سعودیہ اورخلیجی ممالک سے تر سیلات زر میں کمی کا رجحان

رواں مالی سال کے آٹھ ماہ کے دوران امریکا،سعودیہ اورخلیجی ممالک سے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ارسال کی جانے والی رقوم میں 2.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ان ممالک سے مستقبل قریب میں بھی ترسیلات زر میں مزید کمی آنے کی توقع ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب سے رواں مالی سال کے آٹھ ماہ کے دوران ترسیلات زر میں6.8 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور سعودیہ سے 3.57 ارب ڈالر ارسال کئے گئے ، امریکا سے اسی مدت کے دوران 7.8 فیصد کمی سے 1.51 ارب ڈالر اورمتحدہ عرب امارات سے 1.6 فیصد کمی سے 2.76 ارب ڈالر کی ترسیلات کی گئیں جبکہ یورپی ممالک سے جولائی 2016 تا فروری 2017 کے دوران 13 فیصد اضافے سے 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئیں۔جنوری 2017 کے مقابلے میں فروری 2017 کے دوران ترسیلات زر میں 4.7 فیصد کی کمی رہی اور 1 ارب 41 کروڑ 69 لاکھ ڈالر کی ترسیلات کی گئیں۔معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تارکین وطن کیلئے ملازمتوں کے حوالے سے قوانین سخت کئے جانے ، سعودی عرب میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باعث اقتصادی مشکلات اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات سمیت ملازمتوں کیلئے مقامی افراد کو ترجیح دیئے جانے کے باعث مستقبل قریب میں امریکا اور سعودی عرب سے ترسیلات زر میں مزید کمی ممکن ہے ، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہنر مند اور تربیت یافتہ افرادی قوت برآمد کرنے پر توجہ دینا ہوگی ، اس وقت خطے کے بعض ممالک بشمول بھارت ، سری لنکا اور بنگلہ دیش ہنر مند تربیت یافتہ افرادی قوت کی بیرون ملک کھپت کے حوالے سے کافی سرگرم ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟