17 نومبر 2018
تازہ ترین
امریکا امداد نہیں بلکہ اتحادی سپورٹ فنڈ دیتا رہا،وزیرخارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان نے قربانیاں دی ہیں، امریکا سے عزت و احترام کا رشتہ چاہتے ہیں، واشنگٹن امداد نہیں بلکہ اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں ڈالرز دیتا رہا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اندرونی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جی ایچ کیو میں بہت اچھی میٹنگ ہوئی جو اچھے ماحول میں ہوئی اور میٹنگ میں وزیراعظم کو دی جانے والی بریفنگ ملکی مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی صورتحال یہ تھی کہ کسی لیول پر انگیج منٹ نہیں ہورہی تھی، خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنا چاہتے ہیں،5 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر آر ہے ہیں اور ان سے عزت و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے تعلقات بحال کریںگے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا سے گفت و شنید ہی نہیں ہورہی تھی یہ ایک تعطل تھا، امریکی وزیر خارجہ کی خدمت میں اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے ان سے نئے رشتے پر بات ہوگی، کوشش ہوگی کہ پاک امریکا تعلقات کو بہتر کروں شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ عزت و احترام کے رشتے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے امریکہ سے تعلقات وقت کا تقاضا ہیں، امریکا نے سابق حکومت کے دورسے ہی یہ فنڈ معطل کر رکھا ہے، یہ پیسا امریکا نے ہمیں واپس کرنا تھا، یہ وہ پیسا ہے جو پاکستان نے اپنے وسائل سے خرچ کیا ، یہ پیسہ ہم نے امن، استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خرچ ہوا، یہ ہمارا پیسا ہے ہم نے خرچ کیا ہے تاہم میں وضاحت دینا ضروری سمجھتا تھا کہ ہم نے یہ سب اپنے ملکی مفاد کے لیے کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان حکام سے ہمارا رابطہ ہے انہوں نے اقدامات کا وعدہ کیا ہے، یہ تاثر دینا کہ یہ کیا ہوگیا یہ کوئی نئی چیز نہیں، ہماری کوشش ہوگی کہ مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھیں، جلال آباد میں قونصل خانہ بند کرنے کا اقدام سیکورٹی وجوہات پر اٹھایا اور اس معاملے پر آج صبح ساڑھے10 بجے افغان وزیر خارجہ مجھے کال کریں گے تاہم ہر بات کو سازش کے طور پر نہیں لینا چاہیے انہوںنے کہا کہ فرانسیسی صدر کی کال آئی اور طے ہواکہ بعد میں بات ہوگی جس سے ایک نئی اوپننگ ہمارے سامنے آرہی ہے۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟