الیکشن کمیشن کا عمران کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم  

 الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ میں سے سندھ اور پنجاب کے 2 ممبرز کی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی مخالفت  

الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم  دے دیا ۔ الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے سابق رہنما اکبر ایس بابر کی درخواست پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ میں سے سندھ اور پنجاب کے 2 ممبرز نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی مخالفت کی تاہم 3 ممبرز نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف سے درخواست پر جواب طلب کرلئے اور کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے عمران خان نے عدالت پر متعصب ہونے کے الزامات لگائے تھے جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے انہیں پیش ہونے کے احکامات جاری کئے تھے۔ اس سے قبل 15 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم ان کی عدم پیشی پر الیکشن کمیشن نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیئے تھے۔ عمران خان کے وکیل کو دلائل کے لئے گزشتہ سماعت پر الیکشن کمیشن نے آخری موقع دیاتھا۔  الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف فیصلے تعصب کی بنیاد پر ہوتے ہیں، ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ  عمران خان کے خلاف نوٹسز کس قانون کے تحت جاری کئے گئے، جب تک اختیار سماعت کا فیصلہ نہیں ہوتا، جلدی میں جو بھی فیصلے کئے جائیں گے، اس کا مطلب یہی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نشانے پر ہے۔