17 نومبر 2018
  اللہ نے نواز شریف کیخلاف سوموٹو ایکشن لے لیا ، عمران

کرپشن کےخلاف جنگ جیت گئے تو پاکستان تبدیل ہو جائے گا، بی بی سی  نے بھی کہہ دیا نواز شریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ برطانیہ بھیجا اور قاضی فیملی کے اکاوئنٹس میں ڈالا، تحریک انصاف ایسا نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے جہاں عام آدمی کا بچہ پڑھ کر وزیراعظم بن سکے ، جہاں روزگار ہر پاکستانی شہری کا حق ہو گا۔ ڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا  ڈیرہ غازی خان اور جنوبی پنجاب کے لوگ سب تخت لاہور سے تنگ آ چکے ہیں۔ صرف آپ ہی نہیں بلکہ سارے پاکستان کے لوگ بلکہ لاہور کے لوگ بھی تخت لاہور سے تنگ آ چکے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے پانامہ لیکس پر نواز شریف کیخلاف سوموٹو ایکشن لے لیا ہے، پاکستان کو جلد شریف مافیا سے نجات مل جائے گی۔ جب تک زندہ ہوں کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرتا رہوں گا۔ فلاحی ریاست میں عدل ہوتا ہے اور سب کے لئے قوانین اور حقوق برابر ہوتے ہیں۔ مغرب میں فلاحی ریاست میں عام آدمی کو مفت اور بہترین تعلیم، مفت اور بہترین علاج ملتا ہے۔ ہمارا ملک بھی ایک ایسی ہی مثال بننا تھا لیکن بدقسمتی سے نا یہاں انصاف ہے اور نا عدل، طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون ہے، عام آدمی کو تعلیم نہیں ملتی اور صحت کی سہولیات نصیب نہیں ہوتیں۔ عام لوگوں کو دینی مدارس اور اردو میڈیم میں تعلیم ملتی ہے۔ ہم نے ایسا ہی پاکستان بنانا ہے جس میں سرکاری سکولوں میں ایک عام آدمی کا بچہ پڑھ کر ملک کا وزیراعظم بن سکے۔  اللہ نے زندگی دی اور کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال بن گیا تو اس کے بعد ڈی جی خان کے پاس ایک بہترین ہسپتال بنانے کی کوشش کریں گے لیکن میں وعدہ تب تک نہیں کروں گا جب تک مجھے یہ محسوس نہ ہو کہ میں یہ کر سکتا ہوں میں جھوٹا وعدہ نہیں کر سکتا کیونکہ کینسر ہسپتال بنانا آسان کام نہیں، کوشش کریں گے کہ پورے پاکستان میں ایسے ہی ہسپتال بنائیں۔ عمران خان نے کہا  پاکستان کو ایسی فلاحی ریاست بنائیں گے جہاں روزگار ہر پاکستانی شہری کا حق ہو گا اور اگر حکومت روزگار نہیں دے سکے گی تو تب تک اسے پیسے دے گی۔ عمران خان نے پانامہ لیکس  پر گفتگو کرتے ہوئے کہا اس کیس میں بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے اپنی دولت اور جائیدادیں چھپانے کیلئے پانامہ میں کمپنیز بنائی ہوئی تھیں، ان انکشافات میں ہمارا میاں نواز شریف پکڑا گیا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے 1993میں یہ فلیٹ خریدے اور اپنی بیٹی کے نام لگا دئیے۔ اور پھر جب انہوں نے بیٹوں کو لندن پہنچایا تو یہاں سے پیسہ چوری کر کے ان کے نام رکھ دیا۔ پھر پاکستانی قوم کو تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان کرپشن کرتا ہے اور چوری کرتا ہے تو اپنے نام پر کچھ نہیں رکھتا، تو آپ نے بھی اپنے نام پر کچھ نہیں رکھا اور بچوں کے نام پر رکھا۔ بچوں کے نام پر پیسہ چوری کر کے باہر بھجوایا۔ عمران خان نے کہا کہ جنوبی کوریا میں جب عوام کو پتہ چلا کہ ان کی صدر نے ان کے پیسے میں کرپشن کی ہے تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ آئس لینڈ کے وزیراعظم کی بیوی کا نام پانامہ میں آیا تو وہاں کے لوگوں نے وزیراعظم سے استعفی لے لیا، آج پاکستانی قوم یہ سمجھ جائے کہ جب تک کرپشن کا کینسر ختم نہیں وہ گا، نہ یہاں غربت ختم ہو گی اور نہ روزگار ملے گا، نا یہاں سرمایہ کاری ہو گی نہ ادارے ٹھیک ہوں گے، نہ ملک آگ بڑھے گا۔  پانامہ کی جنگ پاکستانی قوم کی جنگ ہے اور ہم سب کی جنگ ہے جو جیت گئے تو پاکستان بدل جائے گا۔ نواز شریف کے وکیل کا کہنا ہے کہ 2006میں مے فیئر اپارٹمنٹس لئے لیکن اب بی بی سی کی رپورٹ میں بھی یہ آگیا ہے کہ 1993سے ان کا کوئی مالک تبدیل نہیں ہوا اور اس کا مطلب ہے کہ نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں۔ اسی طرح 1998میں ایف آئی اے کی رپورٹ ہے اور بی بی سی کی ڈاکومینٹری بھی جس میں کہا گیا کہ نواز شریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ برطانیہ بھیجا اور قاضی فیملی کے اکاوئنٹس میں ڈالا۔  کیس عدالت میں ہے اور سپریم کورٹ ہی فیصلہ کرے گی۔ ہم سب کو اللہ پر ایمان ہے اور پاکستان کے انصاف کے نظام کیلئے دعا کرتے ہیں کہ یہ نظام بھی طاقتور اور کمزور کو ایک ہی طرح دیکھے حالانکہ آج تک ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا ابھی تک مولانا فضل الرحمان کا بھی احتساب نہیں ہوا، میں نے کرپشن کی کرکٹ کی ٹیم بنانی ہے جس کا کپتان نواز شریف ہو گا۔ عمران خان نے کہا  اگر نواز شریف نے ثابت نہ کیا کہ 1993میں ان کے فلیٹ نہیں تھے اور قطری کے تھے تو نواز شریف کی چھٹی ہو جائے گی اور اگر یہ ثابت نہ کیا کہ فلیٹ مریم نواز شریف کی ملکیت ہیں تو بھی نواز شریف کی چھٹی ہو گی کیونکہ اگر وہ مالکہ ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہ قطری  خط جھوٹ تھا اور اگر مریم نواز کی ملکیت ہیں تو مریم نواز کے پاس تو پیسہ ہی نہیں تھا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف پکڑے گئے ہیں۔  ملک میں ایک چھوٹا سا ٹولہ حاوی ہو گیا ہے اور کرپشن کر رہا ہے، ادارے تباہ کر رہا ہے، اپنے بچوں کو آگے لا رہا ہے۔ اب دو ہی راستے ہیں کہ ہم تباہی کے راستے پر چلیں یا پھر اس نظریہ کے لئے جدوجہد کریں جس پر پاکستان قائم ہوا تھا۔ جس دن اس ملک میں ایسی حکومت آئی جو عوام کا ٹیکس دیانت داری سے اکٹھا کرےگی اور عوام پر ہی خرچ کرے گی تو یقین کریں کہ ہمیں ایک روپیہ بھی قرض نہیں لینا پڑے گا، اور قوم پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔ پاکستان کا سارا نظام کرپشن کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے اور ادارے اور سرمایہ کاری تباہ ہو گئی ہے ہمارے لوگوں کو باہر نوکریوں کیلئے جانا پڑتا ہے اور نوجوان 18,18 گھنٹے کام کر کے اپنے گھر والوں کو پیسہ بھیجتے ہیں۔ ہمیں اس نظام کے خلاف جدوجہد کرنی ہے، اگر ہم اس ملک میں عدل و انصاف کیلئے نہیں لڑیں گے، اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے والے بڑے بڑے مگر مچھوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوں گے اور ان ظالموں کے سامنے سر جھکا دیں گے تو ہمارے لوگوں کو اسی طرح تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ انہوں نے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی پے درپے شکستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کرکٹ بورڈ میں سفارشی بیٹھے ہوں گے تو ایسا ہی ہو گا۔ قبل ازیں اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان نے  کہا پاناما کرپشن کیس میں نیب نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ، چیئرمین نیب کو چاہیے تھا کہ وہ سب سے پہلے معاملے کا نوٹس لیتے اور انکوائری کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہو بھی کیسے سکتا تھا جب چیئرمین نیب کا تقرر مک مکا کے ذریعے وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کریں گے تو وہ ان کا احتساب کیسے کرے گا ۔یہی حال ایف بی آر کا ہے جو ٹیکس چوروں کو پکڑنے کی بجائے خاموش تماشائی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ ہم نظام بدلیں گے طاقتور کو بھی پکڑا جائے گا ۔ بڑے چور جیل میں جائیں گے قوم کا ایک ایک پیسہ ریکور ہوگا۔ عمران خان نے  کہا میرا سارا پیسہ پاکستان کے بینکوں میں اور میرے نام ہے میرے سارے اثاثے ڈکلیئر ہیں اور میں نے 2012ئ سے اپنی ویب سائٹ پر ڈالے ہوئے ہیں ہر وقت چیک کیے جا سکتے ہیں میرے اثاثے دو کروڑ روپے سے کم ہو گئے ہیں اس کا مطلب ہے کہ میری انکم نہیں ہے اور جمع شدہ پیسے سے اخراجات کر رہا ہوں۔ علیم خان اور جہانگیر ترین نے بھی اپنے اثاثے ویب سائٹ پر ڈالے ہوئے ہیں۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟