14 نومبر 2018
تازہ ترین
 العزیزیہ ریفرنس،نواز کو کل عدالت میں پیش کرنے سے معذرت

اڈیالہ جیل حکام نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے سلسلے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر نوازشریف کو کل عدالت میں پیش کرنے سے معذرت کرلی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس کی سماعت کی جس سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے عدالت لایا گیا۔ میاں نوازشریف کی عدالت آمد پر لیگی رہنمائوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں آگئی جس پر جج ارشد ملک نے سیکیورٹی اہلکاروں کو طلب کرکے کچھ افرادکو باہر بھجوادیا۔ سماعت کے آغاز پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کا آغاز کیا تو جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیائ نے شماریات کی اصلاحات سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔ واجد ضیائ نے عدالت سے مکالمہ کیا کہ خواجہ صاحب مکمل طور پرتکنیکی ٹرمز سے متعلق سوالات کررہے ہیں، جنرل نالج اور سمجھ کے مطابق بتا سکتا ہوں، غلطی کی گنجائش ہوسکتی ہے، خواجہ حارث نے سوال کیا کہ جےآئی ٹی نےسعودی حکام سے ایچ ایم ای کے آڈٹ شدہ اکائونٹس کی فنانشل اسٹیٹمنٹ مانگی تھی؟ اس پر واجد ضیائ نے بتایا کہ اس سوال کا جواب دینے کیلئے مجھے ریکارڈ دیکھنا پڑے گا، سعودی حکام کو لکھا گیا ایم ایل اے والیم ٹین میں موجود ہے، والیم 10سربمہرہے اور اس وقت میرے پاس دستیاب نہیں،۔ عدالت نے واجد ضیائ اور پراسیکیوٹر کی درخواست پر والیم ٹین کا متعلقہ حصہ لانے کی ہدایت کی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ شریک ملزمان کی جمع کرائی گئی دستاویزات بھی ہمارے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ جب یہ دستاویزات آپ نے نہیں دیں تو پھر ان پر جرح کیوں کررہے ہیں۔ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا گیا جس کے بعد عدالت نے نوازشریف کو واپس اڈیالہ جیل بھیجنے کی ہدایت دے دی جب کہ اس موقع پر جیل حکام نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کل نوازشریف کو پیش کرنے سے معذرت کرلی۔ جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ کل دھرنے اور ریلیوں کا امکان ہے لہٰذا کل نوازشریف کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے پیش نہیں کرسکتے۔ کمرہ عدالت میں نوازشریف سے شاہدخاقان عباسی، چوہدری تنویر، آصف کرمانی، پرویز رشید، راجہ ظفر الحق، سینیٹر غوث نیاز اور میئر اسلام آباد شیخ انصر نے ملاقات کی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟