اقتدارکا نشہ اتراتومیاں صاحب کو میثاق جمہوریت یاد آگیا،بلاول

نام نہاد بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈرز کی یہ حالت کہ اہم مسائل پر بات نہیں کرتے،ان کی نظر اقتدار پر ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکا جلسے  سے خطاب

چنیوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے  بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ  آج چنیوٹ میں بھٹوکے جیالوں،شہیدبے نظیرکے بھائیوں کے درمیان کھڑا ہوں، 2013 میں دھاندلی کرکے منصوبے کے تحت ہمیں ہرایا گیا، پیپلزپارٹی نے این اے 86 ہمیشہ واضح اکثریت سے جیتا ہے،پیپلزپارٹی کی ہرحکومت نے عوام کی خدمت کی ہے،ذوالفقار علی بھٹو نے چنیوٹ کو سیلاب سے بچانے کیلیے بند بندھوایا، چینیوٹ میں ہی ہزاروں بےگھر افراد کو گھر دیے گئے، نوجوانوں کیلیے اسٹیڈیم بنوائے،چینوٹ میں سوئی گیس کے تمام بڑے منصوبے بینظیر بھٹو کے دور میں شروع ہوئے، چینوٹ کو ضلع بنانےکیلیے پیپلز پارٹی نے کوشش کی تھی، جیالو،ن لیگ کوشکست دینے کے لیے تیار ہو جاؤ،یہ مزدور دشمن حکومت ہے، انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں، انہیں اپنی تجوریاں بھرنے کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچنا ہو گا کیا یہ پاکستان قائداعظم کی سوچ والا پاکستان ہے؟ پاکستان آج بھی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں نواز شریف اور عمران خان پر کڑی تنقید کی، بلاول کا کہنا تھا کہ دونوں نے ملکر ملکی سیاست کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ان کو ملک کی صورتحال کی کوئی فکرنہیں، نام نہاد بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈرز کی یہ حالت کہ اہم مسائل پر بات نہیں کرتے، ان کی نظر صرف کرسی اور اقتدار پر ہے۔بلاول بھٹو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب جی ٹی روڈ کے اطراف رہنے والے کیسے یاد آ گئے؟ میاں صاحب آپ کی چالبازی نہیں چلے گی، اقتدارکا نشہ اترنے کے بعد میاں صاحب کو میثاق جمہوریت یاد آ رہا ہے، میاں صاحب کو گرینڈ ڈائیلاگ یاد آ گیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے ہماری آواز دوسرے ملکوں تک کیوں نہیں پہنچ رہی؟ پولیس اور فوج قربانیاں دے رہے ہیں، دہشت گردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے، کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان؟ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا، دہشت گردی، فرقہ وارایت صرف آپریشن سے ختم نہیں ہو سکتی، اگر جڑ سے ختم کرنا ہے تو پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس ناسور کیخلاف جنگ کرنا ہو گی، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرنا ہو گا۔بلاول بھٹو نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران کے وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں، وزیر اعلیٰ کی کرپشن سے عمران کا جہاز اور جہانگیر ترین کا کچن چل رہا ہے، پوچھتا ہوں خیبر پختونخوا کے کس علاقے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں؟ اگر نئے پاکستان میں گالی کی سیاست ہو گی تو پھر نیا پاکستان نہیں چاہیے، میاں صاحب اور عمران دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ان کی منزل صرف اقتدار ہے۔