25 ستمبر 2018
تازہ ترین
 سٹیٹ بینک نے شرح سود ایک فیصد بڑھا دی

سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 6.5 فیصد سے بڑھا کر ساڑھے 7 فیصد کر دیا ہے۔ مرکزی بینک ایک سال میں چھ بار مانیٹری پالیسی وضع کرتا ہے اور ہر پالیسی دو مہینوں کے لئے نافذ کی جاتی ہے۔عموما ًپالیسی کا اعلان مہینے کے آخری دنوں میں ہوتا ہے لیکن الیکشن کی وجہ سے نئی پالیسی کا اعلان تقریباً دس روز پہلے کیا گیا ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے اور زرمبادلہ ذخائر پر درآمدات کی وجہ سے دباؤ ہے۔ ہماری نمو ہمارے بجٹ اور بیرونی خسارے کو بڑھا رہی ہے اور درآمدات کی ادائیگی کے لئے ملکی خزانے میں ڈالر کم ہیں۔ اب تک ادھار لے کر معاملات چلاتے آرہے ہیں لیکن اسے جاری رکھنا مشکل ہے اس لئے شرح سود بڑھا کر طلب کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی بڑھے گی جب کہ بجٹ خسارہ 6 اعشاریہ 8 فیصد رہنے کااندازہ ہے۔دوسری جانب ماہرین رواں مالی سال شرح سود میں دو سے ڈھائی فیصد اضافے کے اندازے لگارہے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟