16 نومبر 2018
اسلام آباد،تجاوزات کیخلاف کارروائی، وزیر مملکت داخلہ کا جائزہ

وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑی کارروائی جاری ہے جس میں غیر قانونی مارکیز، شادی ہال اور پٹرول پمپ گرائے جا رہے ہیں۔ سی ڈی اے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیڑھ ہزار اہلکار اس کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔  وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے آپریشن کا جائزہ لینے کے لئے دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ ملک میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں، تجاوزات کیخلاف کارروائی تبدیلی کا نشان ہے، آپریشن دو روز سے جاری ہے جس میں بلا امتیاز کارروائی کی جارہی ہے، 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور باقی 30 فیصد بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے، پولیس اور انتظامیہ میں قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کو پکڑا جائے گا، جن لوگوں نے غلط لائسنس اور این او سی جاری کئے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، غیر قانونی اقدام اٹھانے والوں کیخلاف مقدمات درج اور گرفتاریاں ہوں گی، ایسا نظام لائیں گے کہ کسی کی جرات نہ ہو سرکاری زمین پر قبضہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات قائم کرنے والے ایک مافیا ہیں جو مل کر کام کرتے ہیں، قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانے والے کسی بااثر کو رعایت نہیں دیں گے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ ذاتی رنجش میں کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے، عام لوگوں اور ملازمین پر نہیں بلکہ اصل مالکان پر ہاتھ ڈالا جائے، اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں پر بھی نظر رکھی جائے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟