22 ستمبر 2018
اب رقم کی ادائیگی سیلفی کے ذریعے بھی ممکن ہوگی

اب اس ٹیکنالوجی کو برطانیہ، جرمنی، اسپین، ڈنمارک، بیلجیئم، سویڈن اور دیگر ممالک میں استعمال کیا جائے گا جس سے آن لائن پیمنٹ کو ایک نیا رخ ملے گا۔ فی الحال امریکا میں صرف کارپوریٹ سطح کے افراد ہی یہ نظام استعمال کرسکتے ہیں اور اسے اگلے برس پوری دنیا میں ’’سیلفی پے‘‘ یا سیلفی ادائیگی کے نام سے متعارف کرایا جائے گا۔

 

کمپنی حکام کے مطابق ’’وہ ادایئگیوں کے ایسے نظام پر کام کررہے ہیں جس میں تحفظ اور سیکیورٹی تو موجود ہوں مگر وہ تیز رفتار اور آسان بھی ہو‘‘۔ بغیر چھوئے جانے والے کارڈز، موبائل پیمنٹس اور پہنے جانے والے آلات کی بدولت آن لائن شاپنگ کی شناخت اور خریداری میں ایک انقلاب آچکا ہے۔

سیلفی پے میں صارف کو کیمرہ فون سے اپنی ایک صاف تصویر لینا ہوگی جو ماسٹر کارڈ کے ڈیٹا بیس میں موجود تصویر سے اسے ملائے گی اور اس کے بعد مطلوبہ رقم کی ادائیگی ممکن ہوسکے گی۔ اس دوران پلک جھپکنے کو بھی کہا جائے گا جس سے سافٹ ویئر کو چہرہ پہچاننے میں مدد مل سکے گی اور یہ بھی کہ تصویر والے کا چہرہ اصلی ہے ناکہ کوئی ماسک۔  اس کے علاوہ فنگر پرنٹنگ کو استعمال کرنے والے سام سنگ اور آئی فون کے ذریعے بھی رقم کی لین دین کی ٹیکنالوجی پر کام ہورہا ہے۔ جب ہالینڈ میں اسے آزمایا گیا تو 10 میں سے 9 نے آن لائن پیمنٹ کے لیے پاس ورڈ کی بجائے بایو میٹرکس کا استعمال پسند کیا۔

اکثر صارفین اب بھی پاس ورڈ کا خیال نہیں رکھتے اور 123456 جیسے پاس ورڈ اب بھی بہت زیادہ استعمال ہورہے ہیں جنہیں توڑنا اور ہیک کرنا آسان ہوتا ہے۔ اسی طرح فنگر پرنٹس بھی چوری کیے جاسکتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟