15 نومبر 2018
تازہ ترین
 آم کے پتے ذیابیطس کیلئے مفید

ذیابیطس سے نمٹنے اور قابو کرنے کیلئے غذا کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کرنا پڑتی ہے اور اسے کنٹرول کرنا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ مگر ایک قدیم چینی طریقہ کار اس لاعلاج مرض کو روکنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آم کے درخت کے پتے خصوصی ایکسٹریکٹ کے ساتھ صدیوں سے دمہ اور ذیابیطس کے علاج کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ یہ پتے ضروری وٹامنز اور نیوٹریشن سے بھرپور ہوتے ہیں۔ جو ذیابیطس کے مریضوں کیلئے اس مرض کو کنٹرول کرنا بہت زیادہ آسان بنا دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان پتوں میں موجود ایکسٹریکٹ انسولین کی تیاری اور گلوکوز کی تقسیم کو بہتر بناتا ہے۔ جبکہ بلڈ شوگر لیول کو موثر طریقے سے مستحکم کرتا ہے۔ یہ پتے پیسٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو صحت کیلئے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ پتے ذیابیطس کی علامات جیسے رات کو اکثر پیشاب آنا، وزن میں غیر متوقع کمی اور نظر دھندلانے وغیرہ کو بھی کم کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر کسی کو ذیابیطس کا مرض نہ بھی ہو تو بھی یہ کرشماتی پتے طبی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار ہے، جو کہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج اور الرجی سے تحفظ دیتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق میں بھی ان فوائد کی تصدیق کی گئی تھی۔ 2010  میں جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مینگو ایکسٹریکٹ غذائی نالی میں گلوکوز کو کم جذب کرتا ہے اور بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔ ان پتوں کو استعمال کرنے کیلئے دس سے پندرہ پتے پانی میں ابا لیں اور رات بھر کے لئے چھوڑ دیں۔ صبح ناشتے سے پہلے اسے چائے کی شکل میں پی لیں۔ اس کو دو سے تین مہینے تک اپنانے پر ذیابیطس کے مرض کی شدت میں نمایاں کمی محسوس ہوگی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟