24 ستمبر 2018
تازہ ترین
آر ٹی ایس میں پریذائیڈنگ افسران کی لاعلمی ،انٹرنیٹ نہ ہونے پر مسائل پیدا ہوئے،نادرا

عام انتخابات میں آر ٹی ایس فیل ہونے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بیشتر پریذائیڈنگ اور اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسران کے پاس اسمارٹ فون نہیں تھے اور وہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت نہیں رکھتے تھے جب کہ انٹرنیٹ نہ ہونے پر بھی مسائل پیدا ہوئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عام انتخابات 2018 میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم   آر ٹی ایس  فیل ہونے سے متعلق نادرا نے ابتدائی رپورٹ مرتب کرکے الیکشن کمیشن کو بھجوا دی جب کہ الیکشن کمیشن نے بھی نادرا کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹ کی تصدیق کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آر ٹی ایس 25 جولائی کو ٹھیک کام کر رہا تھا، 25 جولائی 6 بجے سے 27 جولائی شام 4 بجے تک آرٹی ایس سے نتائج موصولی کا عمل جاری رہا، نادرا نے آر ٹی ایس کے بین الاقوامی معیار کا بیک اپ تیار کیا تھا، رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم اور رزلٹ مینجمنٹ سسٹم میں کوئی مماثلت نہیں تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آر ٹی ایس میں ڈیٹا فیڈ کرنے کا اختیار صرف پریذائیڈنگ اور اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسران کو تھا، ابتدا میں آر ٹی ایس کے ذریعے رزلٹ کی آمد جاری تھی، انتخابی عملے کو آرٹی ایس سافٹ ویئر کے استعمال کرنے میں مختلف وجوہات رکاوٹ کا باعث بنیں۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تھری جی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی بھی رزلٹ فارم کی آرٹی ایس ترسیل میں بڑی رکاوٹ رہی، بیشتر پریذائیڈنگ اور اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسران ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت نہیں رکھتے تھے اور ان کے پاس اسمارٹ فون بھی دستیاب نہیں تھے، پریذائیڈنگ افسران کی اسمارٹ فون سے لاعلمی، موبائل چارجنگ کے مسائل اور انٹرنیٹ ڈیٹا پیکجز نہ ہونے کے باعث نتائج آر ٹی ایس کے ذریعے ارسال نہ کیے جاسکے۔

الیکشن کمیشن کی رات 2 بجے سے قبل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا دباؤ بھی ناکامی کا سبب بنا رہا، 2 بجے کی ڈیڈ لائن کے لیے الیکشن کمیشن نے آر ٹی ایس کو بائی پاس کرنے کے احکامات جاری کیے، آر ٹی ایس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں تھا کہ وہ کسی حلقے کے نتائج مرتب کرے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟