29 اکتوبر 2020
تازہ ترین

جب پاکستانی خواتین کا کام ’میلان ویک‘ میں پیش کیا گیا

34 سالہ ادینہ بی بی خیبرپختونخوا کے دُوردراز ضلع چترال کے پسماندہ علاقے گرم چشمہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی رہائشی ہیں جو شادی شدہ گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے شوہر گاؤں کے دیگر لوگوں کی طرح کھیتی باڑی کرتے ہیں لہٰذا کم آمدنی کے باعث گھر کے اخراجات پورے کرنے میں مشکل کا سامنا تھا۔ ادینہ بی بی گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھیں لیکن وہ تعلیم سے محروم تھیں اور چترال میں خواتین کو روزگار فراہم کرنے کے لیے کوئی خاص مواقع نہیں تھے، لیکن ان کے پاس چترالی روایتی دستکاری کا ہنر تھا جو انہوں نے اپنی ماں سے سیکھا تھا۔ پھر جب صرف کھیتی باڑی سے گھر اور بچوں کے اخراجات پورے نہ ہوئے تو ادینہ بی بی نے سلائی کڑھائی اور دستکاری کا کام شروع کردیا۔ ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے ادینہ بی بی نے بتایا کہ ’گھر کے اخراجات زیادہ اور آمدن کم تھی، اوپر سے بچوں کی اسکول فیس اور دیگر خرچے بھی تھے اس لیے گھریلو کام کاج ختم کرکے دستکاری کا کام شروع کرتی اور رات دیر تک لگی رہتی تھی‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’ابتدائی طور پر میں ہاتھ سے خواتین اور بچیوں کے لیے روایتی چترالی ٹوپی، بچوں اور بچیوں کے سر پر باندھنے کے لیے پٹی اور دستانے بناتی تھی جس سے مہینے میں بمشکل 2 ہزار روپے تک کماتی تھی اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا‘۔

جب پاکستانی خواتین کا کام ’میلان ویک‘ میں پیش کیا گیا