20 اکتوبر 2020
تازہ ترین

واچ ڈاگ کی رپورٹ میں مشکوک لین دین کیلئے 44 بھارتی بینکس کی نشاندہی

امریکی بینکوں نے فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک (فن سین) کو بھارتی بینکس کی فراہم کردہ مشتبہ سرگرمیوں کی رپورٹ (ایس اے آرز) میں انڈین اداروں اور افراد کی جانب سے کی گئی رقوم کی منتقلی سے تعلق میں 44 بھارتی بینکوں کی نشاندہی کی ہے۔   رپورٹ میں بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارتی پتا رکھنے والی پارٹیز کے ریکارڈ کے ایک سیٹ کے مطابق مشتبہ سرگرمیوں کی رپورٹ میں بھارتی بینکس 2011 سے 2017 کے دوران ایک ارب روپے سے زائد کی 2 ہزار ٹرانزیکشن سے منسلک تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارتی اداروں، کاروباری افراد سے تعلق رکھنے والی ایسی ہزاروں ٹرانزیکشنز ہیں جس میں رقم بھیجنے یا وصول کرنے والے بھارتیوں کے پتے بیرونِ ملک کے تھے۔  تحریر جاری ہے‎ تفتیش کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس اے آرز میں شامل کیے گئے بھارتی بینکوں میں سرکاری بینک مثلاً پنجاب نیشنل بینک (290 ٹرانزیکشنز)، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (102 ٹرانزیکشنز)، بینک آف برودا (93 ٹرانزیکشنز)، یونین بینک آف انڈیا (99 ٹرانزیکشنز) اور کانارا بینک (190 ٹرانزیکشنز) شامل ہیں۔ اسی طرح ایس اے آرز میں درج نجی بھارتی بینکوں میں ایچ ڈی ایف سی (253 ٹرانزیکشنز)، آئی سی آئی بینک (57 ٹرانزیکشنز)، کوٹک مہیندرا بینک (268 ٹرانزیکشنز)، ایکسز بینک (41 ٹرانزیکشنز) اور انڈس انڈ بینک (117 ٹرانزیکشنز) شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق مشتبہ سرگرمیوں کی رپورٹ فائل کرنے والے غیر ملکی بینکوں میں ڈوئچے بینک ٹرسٹ کمپنی امیرکاز (ڈی بی آی سی اے)، بی این وائے میلن، سٹی بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور جے پی مورگن چیز شامل ہیں۔

 واچ ڈاگ کی رپورٹ میں مشکوک لین دین کیلئے 44 بھارتی بینکس کی نشاندہی