30 ستمبر 2020
تازہ ترین

محمد حفیظ بے روزگار کرکٹرز کا مقدمہ وزیراعظم کے سامنے پیش کریں گے

محمد حفیظ بے روزگار کرکٹرز کا مقدمہ وزیراعظم کے سامنے پیش کریں گے۔ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں 39 سالہ محمد حفیظ نے کہاکہ نئے ڈومیسٹک سٹرکچر کی وجہ سے بہت زیادہ بے روزگاری ہوئی، ڈپارٹمنٹل کرکٹ کا ختم ہونا بڑا دھچکا ہے، ہمارے ساتھ کھیلنے والے کئی کرکٹرز بہت تکلیف میں ہیں،ان کے ساتھ کام کرنیوالے معاون سٹاف کے ارکان بھی مشکلات کا شکار ہیں،بورڈ متبادل سسٹم تیار کرے پھر پہلے والے کو ختم کرے۔   انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کرکٹرز ٹیکسی چلا رہے ہیں،میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بڑی عزت کرتا ہوں، کسی کھلاڑی کو راتوں رات پی سی بی کا کنٹریکٹ نہیں مل سکتا،کلب سے لیکر اوپر تک کئی مراحل ہیں، اس دوران بھی ضروریات ہوتی ہیں محمد حفیظ نے کہا کہ ڈپارٹمنٹس کا اس ضمن میں اہم کردار تھا، مجھے 2000ء میں کنٹریکٹ نہ ملتا تو گھر کیسے چلاتا، اچھے بیٹ، گلوز اور دیگر سامان کہاں سے خریدتا، دیکھا جائے تو رواں سال کنٹریکٹ پانے والے 192 کرکٹرز بھی تو ختم کیے جانیوالے اسی سسٹم سے آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ انگلینڈ کی آبادی ہم سے کم لیکن وہاں 18 ٹیمیں کھیل سکتی ہیں تو پاکستان میں صرف 6 کیوں؟ 22 کروڑ عوام میں موجود کرکٹ ٹیلنٹ صرف چند صوبائی ٹیموں میں نہیں سمویا جا سکتا،میرے دل میں متاثرہ کرکٹرز کے لیے بڑا درد ہے۔ پوری کوشش کروں گا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے ان کے سامنے یہ کیس پیش کروں۔ محمد حفیظ نے تجویز پیش کی کہ کمزور زمبابوین ٹیم کیخلاف ہوم سیریز میں ان سمیت سینئرز کو آرام دیکر بیک اپ میں موجود نئے ٹیلنٹ کو موقع دیا جائے، بابراعظم بھی بطور اوپنرکھیلنے کے بجائے کسی نوجوان کو میدان میں اتاریں، نوجوانوں کو موقع ملے گا تو مینجمنٹ کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ کون سا بیٹسمین پہلے، دوسرے، تیسرے یا چوتھے نمبر پر مستقبل میں ٹیم کے کام آ سکتا ہے۔

محمد حفیظ بے روزگار کرکٹرز کا مقدمہ وزیراعظم کے سامنے پیش کریں گے