20 جولائی 2019
تازہ ترین

سابق ڈی جی آئی بی برگیڈیئر امتیاز کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد

 سپریم کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں سابق ڈی جی آئی بی برگیڈیئر امتیاز کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد کردی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق ڈی جی آئی بی برگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز کی آمدن سے زائد اثاثوں میں بریت کیخلاف نیب اپیل کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے نیب کی اپیل خارج کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی بی برگیڈیئر امتیاز، اے ڈی خواجہ اور بیگم نسرین امتیاز کی بریت کا ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آمدن اور زائد اثاثوں کی مالیت کا تعین کرنا نیب کی ذمہ داری ہے، لیکن نیب نے اس مقدمہ میں آمدن سے زائد اثاثوں کا تعین نہیں کیا۔ نیب کے وکیل نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کی وضاحت ملزمان نے کرنا تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 2011 سے پہلے نیب کے ہر کیس میں یہی مسئلہ آ رہا تھا، سپریم کورٹ نے 2011 میں فیصلہ دیا آمدن سے زائد اثاثوں کو ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے۔ نیب کے وکیل نے کہا کہ ملزم کی اہلیہ نسرین امیتاز بے نامی دار تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بے نامی دار ثابت کرنے سے پہلے آمدن سے زائد اثاثے ثابت کرنا بنیاد ہے، جب پہلی بنیاد نہ ہو تو بے نامی ہونا جرم نہیں، عدنان خواجہ کون تھا اس نے کیا کیا۔ نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ عدنان خواجہ بریگیڈر امتیاز کا بے نامی دار ہے، بریگیڈیر امتیاز کی دی ہوئی رقم سے عدنان خواجہ نے ایک دکان خریدی۔ ملزمان کے وکلا نے کہا کہ عدنان خواجہ کارباری شخصیت ہے جس کی اپنی ایک فیکٹری بھی ہے۔ برگیڈیر امتیاز کے کلاف یہ کیس بدنیتی پر مبنی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ جائیددیں اگر غیر قانونی ذرائع امدن سے بنائی ہیں تو استغاثہ ثابت کرے۔ نیب کے وکیل نے کہا کہ غیر قانونی ذرائع آمدن ریکارڈ پر موجود نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے تو ریکارڈ کو ہی دیکھنا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد برگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز کی بریت کا فیصلہ کا برقرار رکھتے ہوئے نیب اپیل مسترد کردی۔

سابق ڈی جی آئی بی برگیڈیئر امتیاز کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد