22 جولائی 2019
تازہ ترین

 جمہوری نظام کو کچھ ہوا تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی، سعد رفیق

 خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں یہی حالات رہے تو جمہوری نظام خطرے میں ہے اور ملک میں جمہوری نظام کو کچھ ہوا تو ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہوگی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر آپ کا شکر گزار ہوں،جانتا ہوں کہ اسپیکر صاحب آپ پر ہمارے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے دبائو ہوتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  جیل میں پہلی بار نہیں گیا، 7 ماہ سے نیب کی زیرحراست ہوں، جانتا ہوں رگڑا کیوں لگ رہاہے، مجھے میری تقریروں کی وجہ سے رگڑا لگ رہا ہے۔  گریبان پکڑ کر اور کنپٹی پر پستول رکھ کر میثاق نہیں ہوتا، میثاق معیشت یاد رہا میثاق جمہوریت یاد کیوں نہیں رہا، یہ نہیں ہو سکتا آمرانہ اقدامات کریں اور میثاق بھی ہو، میثاق ضرور کیجئے لیکن میثاق جمہوریت سے شروع کیجیے۔ جو ان کے پلے ہے وہ بھی ہمیں پتہ ہے جو ہمارے پلے ہے وہ بھی ہمیں پتا ہے، پانچ سال حکومت کرکے آئے ہیں سب معلوم ہے۔ رہنما (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ منتخب وزیراعظم این آر او نہیں کرسکتا، سلیکٹڈ کا لفظ آپ کو پسند نہیں لیکن این آر او سلیکٹڈ ہی دے سکتا ہے، نیب کا کالا قانون ملک کی جڑیں کھوکھلا کر رہاہے، جس پر شک ہوتا ہے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جاتاہے، آپ عدالت بھی بننا چاہتے ہیں اور مدعی بھی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر ریاست میں یہی حالات رہے تو جمہوری نظام خطرے میں ہے اور ملک میں جمہوری نظام کو کچھ ہوا تو ذمہ داری تحریک انصاف پر ہوگی، یہاں پانچ سال کسی کے بھی آرام سے نہیں نکلتے، وزیر اعظم آستینیں چڑھا کر کہتے ہیں کہ نہیں چھوڑوں گا، موجودہ حالات میں تو 2 سال بھی نہیں نکلیں گے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بجٹ سے کیا کرپشن کا نیا سیلاب نہیں آئے گا، حکومت نے اپنے بیانات سے اپنی ساکھ ختم کر دی ہے، حکومت نے لوگوں سے گھروں کا وعدہ کیا اور گھر گرادیے، انہوں نے روزگار کا وعدہ کیا اور روزگار چھین لیا، پیسے نہیں تو صوبوں کو رقم کہاں سے دیں گے، رواں مالی سال کابجٹ پی ٹی آئی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

 جمہوری نظام کو کچھ ہوا تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی، سعد رفیق