25 مئی 2019
تازہ ترین

 رائو کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دوبارہ دائر کرنے کا حکم

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)  سپریم کورٹ نے سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے نظر ثانی درخواست عدالتی فیصلے کے ساتھ دوبارہ دائر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس عمر عطائ بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سابق ایس ایس پی ملیر کراچی رائو انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ رائو انوار کے وکیل ملک نعیم اقبال نے موقف اختیار کیا کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کا نوٹس عدالت نے لیا تھا، رائو انوار عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت نے انہیں ضمانت دی تھی لیکن بعد میں رائو انوار کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔ جسٹس عمر عطا  بندیال نے رائو انوار کے وکیل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ کہتے ہیں کہ ضمانت پر ہیں تو نام ای سی ایل سے بھی نکالا جائے، ای سی ایل سے نام نکلوانے کا ایک طریقہ ہے،آپ پولیس آفیسر ہیں تو بیرون ملک کیوں جانا چاہتے ہیں،کیا آپ کا کاروبار ہے بیرون ملک؟، جس پر ملک نعیم اقبال نے بتایا کہ ان کے موکل کا خاندان بیرون ملک مقیم ہے، انہیں فیملی سے ملنے کے لئے جانا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا رائو انوار پر کوئی اور ایف آئی آریا انکوائری چل رہی ہے ؟، جس پر ملک نعیم اقبال نے بتایا کہ 444 لوگوں کے ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے بہت سی چیزیں چل رہی ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ اخباروں میں تو آتا ہے کہ رائو انوار پر مزید انکوائریاں ہیں، جس پر نقیب اللہ کے والد کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا رائو انوار کے خلاف نیب میں اثاثوں سے متعلق انکوائری جاری ہے، جس پر جسٹس عمر عطائ بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اس نوعیت کے تو بہت سے کیسز ہیں، ہم اس کیس کو نہیں دیکھ رہے۔ سپریم کورٹ نے رائو انوار کو نظر ثانی درخواست عدالتی فیصلے کے ساتھ دوبارہ دائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔

 رائو کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دوبارہ دائر کرنے کا حکم