25 مئی 2019
تازہ ترین

نیوزی لینڈ مساجد حملہ، دہشتگرد کی بندوق پر درج الفاظ کی حقیقت؟

نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ میں جمعے کے روز مساجد پر حملے میں 49 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو ئے ہیں۔اس واقعے کی پاکستان سمیت دنیا بھر سے شدید مذمت کی گئی ہے جب کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ایک آسٹریلین حملہ آور برینٹ ٹیرنٹ نے اس پورے حملے کی فیس بک پر لائیو اسٹریمنگ بھی کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ اور گاڑی میں موجود اسلحے پر سفید رنگ سےانگریزی میں زبان میں کچھ نام اور سال درج ہیں۔ترک ٹی وی چینل ٹی آر ٹی ورلڈ نے اس اسلحے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس پر درج عبارت کی تشریح کچھ اس طرح سے ہے۔ "Anton Lundin Pettersson": اینٹون لنڈن پیٹرسن ، یہ اس طالبعلم کا نام ہے جس نے سوئیڈن میں دو مہاجر طالبعلموں کو قتل کیا تھا۔ Alexandre Bissonnette: الیگزینڈر بیسونیٹ نے 2017 میں کینیڈا میں ایک مسجد پر حملہ کرکے 6 لوگوں کو قتل کیا تھا۔ Skanderberg: سکندربرگ البانیہ کے اس رہنما کا نام ہے جس نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت شروع کی تھی۔ Antonio Bragadin: یہ وینس کے اس فوجی افسر کا نام ہے جس نے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ترک مغویوں کو قتل کیا۔ Charles Martel: یہ اس فرنگی فوجی رہنما کا نام ہے جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسلمانوں کو شکست دی تھی۔ اس معرکے میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ویانا 1683: 1683 میں خلاف عثمانیہ نے دوسری مرتبہ ویانا کا محاصرہ کیا تھا۔

نیوزی لینڈ مساجد حملہ، دہشتگرد کی بندوق پر درج الفاظ کی حقیقت؟