21 اگست 2019
تازہ ترین

قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل اور پی ٹی ایم سے بات چیت کیلئے کمیٹی تشکیل

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا حکومت نے قبائلی اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی جو قبائلی علاقہ جات کے مسائل حل کرے گی اور پی ٹی ایم سے بھی بات چیت کرے گی۔ گورنر ہائوس پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، ارکان پارلیمنٹ، کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ قبائلی اراکین پارلیمنٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ فرمان اور محمود خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا انضمام ہوچکا ہے،  رواں ماہ پولیس اور عدلیہ قبائلی اضلاع میں کام شروع کردینگے، قبائلی اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی بنادی گئی ہے جو ترقیاتی امور سمیت تمام معاملات کو دیکھے گی جب کہ شکایات بھی سنے گی۔ اجمل وزیر نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)  کے ارکان پارلیمنٹ محسن داوڑ اور علی وزیر کو بھی اجلاس میں مدعو کیا تھا تاہم وہ نہیں آئے، پی ٹی ایم کے ساتھ بھی یہ کمیٹی بات چیت کرے گی اور مسائل کو حل کریگی، اس میں سب اراکین پارلیمنٹ شامل ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے وزیراعلی محمود خان سے اختلافات کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور ہم دونوں اپنا اپنا کام کر رہے ہیں، میں کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں بلکہ مدد کر رہا ہوں، میں فارغ نہیں رہنا چاہتا اسی لیے کام کرنا اور مصروف رہنا چاہتا ہوں، ہر وزیراعلی اپنی ٹیم بناتا ہے تو محمود خان پر پابندی کیوں ہے۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ انہیں مکمل اختیارات حاصل ہیں اور کوئی انہیں گائیڈ لائن نہیں دے رہا۔ محمود خان نے کہا کہ مجھے کوئی نہیں ہٹا سکتا جب دل بھر گیا خود عہدہ چھوڑ دوں گا، میں وزیراعظم عمران خان کی مشاورت سے فیصلے کرتا ہوں۔

قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل اور پی ٹی ایم سے بات چیت کیلئے کمیٹی تشکیل