19 دسمبر 2018
تازہ ترین

 صوبہ سندھ میں بچوں کے بھیک مانگنے پر پابندی

<p>   کراچی(  آن لائن)  سندھ کابینہ نے صوبے بھر میں بچوں کے بھیک مانگنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹریفک سگنلز اور سڑکوں سے گداگری کرنے والے بچوں کو لے جاکر فلاحی مراکز میں آباد کریں۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں تمام صوبائی وزیر، مشیر اور معاون خصوصی نے شرکت کی۔اجلاس میں گندم کی فصل کی قیمتوں کے تعین، گداگری پر قانونی نقطہ، نئے کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے مختلف سبسڈی اور دیگر معاملات کے ایجنڈے زیر بحث آئے۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون اور اطلاعات مرتضی وہاب نے گداگری کے معاملے پر کمیٹی کے پیش کردہ نکات سامنے رکھے۔کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے کافی قوانین موجود ہیں، مثال کے طور پر مغربی پاکستان خانہ بدوش آرڈیننس 158 کی شق 7 کے تحت گداگری ممنوع ہے۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ 2011 میں اسمبلی نے سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ 2011 پاس کیا تھا، جس میں بچوں کے حقوق کے لیے خصوصی اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔اجلاس میں پیش کردہ رپورٹ کے بعد وزیر اعلی سندھ نے کابینہ سے مشاورت کے بعد صوبے بھر میں گدا گری پر پابندی عائد کردی، ساتھ ہی محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کی گداگری کے خلاف ایک خصوصی مہم شروع کریں۔وزیر اعلی سندھ نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کی گداگری کے خلاف مہم میں محکمہ سماجی بہبود کی مدد کریں ایسے بچوں کو پکڑ کر سویٹ ہوم اور اسٹریٹ چلڈرن سینٹر کورنگی میں منتقل کریں، جہاں ان کی دیکھ بھال کی جائے۔انہوں نے کہا کہ میں ان بچوں کو چھت، کھانا، کھیل اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ اس ملک کے کارآمد شہری بن سکیں۔مراد علی شاہ نے محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت کی کہ وہ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کو ایک موثر ادارہ بنائیں اور ہیلپ لائن 1121 کو میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائیں تاکہ بچوں کے حقوق پر سمجھوتے سے متعلق شکایات درج کی جاسکیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اگلے مرحلے میں گداگری کے خلاف ایک اور مہم شروع کی جائے گی کیونکہ میں کسی بچے کو گلیوں یا سگنل پر ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگتے نہیں دیکھنا چاہتا۔اجلاس کے دوران انہیں بتایا گیا کہ اسٹریٹ چلڈرن سینٹر کورنگی تکمیل کے قریب ہے، جس پر وزیر اعلی سندھ نے وزیر محنت اور افرادی قوت ناصر شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اسے مکمل کروایں۔</p>
 صوبہ سندھ میں بچوں کے بھیک مانگنے پر پابندی