19 دسمبر 2018
تازہ ترین

سعد رفیق کی ڈی جی نیب لاہور کیخلاف درخواست،تحریری جواب طلب

<p>لاہور( آن لائن ) لاہور  ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی ڈائریکٹر جنرل نیب شہزاد سلیم کے خلاف درخواست پر ادارے سے تحریری جواب طلب کرلیا۔جسٹس علی باقر نجفی نے سعد رفیق کی درخواست پر سماعت کی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم سے شفاف انکوائری کی امید نہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی جی نیب جانبدار ہو چکے ہیں جنہوں نے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر میرے موکل پر الزامات لگائے۔وکیل نے کہا کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کے جانبدار رویے سے متعلق چئیرمین نیب کو بھی آگاہ کیا ہے۔ وکیل نے جسٹس علی باقر نجفی سے مکالمے کے دوران کہا کہ میں بہت کچھ مانگنے آیا ہوں جو کچھ عدالت سے ملے گا اپنا نصیب سمجھ کر لے جاؤں گا جس پر فاضل جج نے کہا ہم آپ کو وہی کچھ دے سکتے ہیں جس کی ہمیں قانون اجازت دیتا ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چئیرمین پیمرا اس معاملے پر نوٹس لے چکے ہیں، عدالت نے سعد رفیق کی درخواست پر سماعت کے بعد نیب سے جواب طلب کرلیا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اگر نہ بنے تو وارنٹ جاری کر دیے جاتے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیرریلوے کا کہنا تھا کہ ڈی جی نیب فریق بن چکے ہیں اور ان کا ٹارگٹ (ن) لیگ ہے، وہ ٹی وی انٹرویو دے کر جھوٹ بول کر حقائق کو تروڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں، موصوف عرصے سے ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کر رہے ہیں۔سعد رفیق کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہورہا، ہمیں جبرا ایک ہاوسنگ اسکیم کا مالک بنایا جا رہا ہے، میں سپریم کورٹ میں بیان حلفی دیا کہ پیراگون سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ہمارے خلاف کوئی چیز ان کے ہاتھ آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبورکیا جاتا ہے اور اگر نہ بنے تو وارنٹ جاری کر دیے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت اس انتقامی کاروائی میں پوری طرح شریک ہے، حکومت عوامی فلاح کی بجائے اپوزیشن کو دبا رہی ہے اور میرا قصور یہ ہے کہ میں بولتا ہوں اگر بولنا بند کر دوں تو کوئی نیب نہیں ہوگا تاہم ہم 15،15 بار جیل جا چکے ہیں ہمیں جیل کا کوئی خوف نہیں۔جو لوگ آج قانون سے کھیل رہے ہیں کل وہ قانون کی گرفت میں آئے تو پتہ چل جائے گا، جب منتخب لوگوں کی تذلیل کی جائے گی اور جوتے مارے جائیں گے تو پھر نظام کیسا چلے گا، ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنا اور چور چور کہنا حکومتوں کا رویہ نہیں ہوتا، ہرعمل کا ایک ردعمل ہے اور اب پرانے وقتوں کی سیاست نہیں چلے گی۔</p>
سعد رفیق  کی ڈی جی نیب لاہور کیخلاف درخواست،تحریری جواب طلب