کا لم

راولپنڈی کے فرزند شیخ رشید کے ہم کل بھی فین تھے اور آج بھی ہیں، یہ اور بات ہے کہ ایک زمانے میں اُن کے مداحوں میں کچھ ایسی خواتین بھی شامل ہو گئی تھیں، جو ان کی بیگم ہونے کا کلیم کرتے ہوئے ہم سے بازی لے گئیں۔ شیخ رشید کے مداح ہونے میں ہمیں نہ تو کوئی لالچ اور فائدہ ہے اور نہ ہی کبھی تھا،ہم تو شیخ صاحب کی ذہانت اور حاضر جوابی کے قائل ہیں۔ شیخ صاحب کے ہم قریب نہ ہو سکے کہ انکے اور ہمارے درمیان ہمیشہ ان کے ماتحت اور سیکیورٹی والے حائل رہے، اور نہ ہی ہم نے شیخ صاحب کو کبھی زیادہ قریب سے دیکھنے کی کوشش کی کہ کہیں وہ ایکسپوز ہونے پہ ناراض ہی نہ ہو جائیں۔
سنا ہے شیخ صاحب کا سیاسی ’’حلقہ‘‘ ان کے ذاتی حلقے سے کافی وسیع ہے اور چونکہ ہم ان کے کسی حلقے میں بھی نہیں تھے لہٰذا اپنی ’’وزیری‘‘ کے دوران نہ وہ ہمارے کام آ سکے اور ان کی ’’اسیری‘‘ کے دوران نہ ہم ان کے کسی کام آ سکے۔ اب اس سیاسی افراتفری کے دور میں چونکہ شیخ صاحب عارضی طور پہ پریکٹیکلی کسی کے کام نہیں آ سکتے (سیاسی حوالے سے) لہٰذا ہمیں امید تھی کہ روایت کے مطابق انکے سیاسی حلقے بھی کسی طوطے کی آنکھ کی طرح سکڑ چکے ہوں گے۔ مگر ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جہاں آج کل مفاد پرست اپنی وفاداریاں ایسے تبدیل کر رہے ہیں ’’جیسے جانتے نہیں‘‘، وہاں شیخ صاحب کی ذاتی مقبولیت اور ڈیمانڈ میں کمی ہونے کے بجائے بیشی ہوئی ہے۔ اس کی ایک باسی مثال اخباروں میں چھپنے والی وہ خبر تھی جس میں ایک خاتون نے شیخ صاحب کی خاتونِ خانہ، بلکہ ’’خفیہ خانہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہم نے تو سنا تھا کہ بُرے وقت میں پرائے تو کیا اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں مگر یہاں تو شیخ صاحب پہ جب بھی کڑا وقت آیا تو پرائے بھی اپنے اپنے سے نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگ تو کہتے تھے کہ شیخ صاحب بڑے لکی نکلے جو اس آڑے وقت میں بیٹھے بٹھائے انکی لاٹری نکل آئی ہے جبکہ شیخ صاحب کے مخالف سکول آف تھاٹ کا کہنا تھا کہ لاٹری تب نکلتی ہے جب پہلے سے اسکا ٹکٹ خریدا ہوا ہو۔ شیخ رشید صاحب چونکہ پکے شیخ ہیں لہٰذا فطرتاً دُوراندیش بھی ہونگے لہٰذا اس مہنگائی میں جہاں ڈالر ایک سو دس بارہ کا مل رہا ہے وہاں انکی ’’محتاط خرچی‘‘ یہ بھی کہتی ہو گی کہ اس مہنگائی میں جیون ’’ساتھی‘‘ پالنا ایک غریب کا ’’ہاتھی‘‘ پالنے کے مترادف ہے۔ بقول انکل سرگم، ایک شیخ صاحب اپنی بیگم سے اس لیے ناراض رہتے تھے کہ انکی بیگم اپنے دونوں ہونٹوں پہ لپ سٹک لگاتی تھیں، شیخ صاحب کا اصرار تھا کہ اس مہنگائی کے دور میں دونوں ہونٹوں پہ لپ سٹک لگانا فضول خرچی ہے، جبکہ ایک ہونٹ پہ لپ سٹک لگا کر بار بار ہونٹ آپس میں جوڑنے سے لپ سٹک دونوں ہونٹوں پہ پھیلائی جا سکتی ہے۔
ہمارے ہاں ماں باپ اپنی لڑکی کا رشتہ دیکھتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکے کی عمر زیادہ نہ ہو، آمدنی کم نہ ہو اور نوکری پکی ہو۔ جبکہ ہمارے شیخ صاحب کی عمر ڈھکی چھپی، آمدنی کچی پکی اور نوکری آئی گئی ہونے کے باوجود خواتین ان کی ’’حویلی سنبھالنے‘‘ پہ تُلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں کوئی بھی ’’ختم شدہ‘‘ سے شادی کرنے پہ کم ہی راضی ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ شادی کے بعد ہر شوہر ختم شدہ ہی تصور کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ماضی میں شیخ رشید صاحب کی ’’خاتونِ خفیہ خانہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کرنے والی خاتون کی دیدہ دلیری بلکہ ’’دعویٰ دلیری‘‘ دیکھ کر ہمیں تو اس وقت بھی شاک سا پہنچا تھا جبکہ شیخ صاحب اُس وقت بھی ہمیشہ کی طرح ’’شاک پروف‘‘ ہی لگے تھے۔
نامور سیاسی ہستیوں کو اخلاقی پستیوں میں دھکیلنے کی اس سے پہلے بھی کوششیں ہو چکی ہیں جن میں ماضی کی سیتا ’’وائٹ‘‘ کے ذریعے عمران خان کو ’’بلیک‘‘ کرنے کی کوشش اور امریکی صدر بل کلنٹن کو ’’مو نیچا‘‘ دکھانے کی وارداتیں اخبارات اور نیوز چینلز کیلئے قابل ذکر اور نامور ہستیوں کیلئے ’’قابلِ فکر‘‘ بنی رہی ہیں۔ بقول انکل سرگم، ہمارے ہاں نامور سیاسی ہستی اب اُسے کہا جاتا ہے جس کا نام سُن کر دُنیا ’’ہنستی‘‘ ہو ایک طرح سے انکل سرگم کا یہ ’’قول‘‘ نامور ہستیوں کا ’’فعل‘‘ دیکھ کر ٹھیک بھی لگتا ہے کہ آج کل دُنیا بھر کی نامور ہستیاں اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے جتنی انٹر ٹینمنٹ مہیا کر رہی ہیں اتنی تفریح تو امان اﷲ اور سہیل احمد بھی پیدا نہیں کر رہے۔ بھلا ہو ہمارے شیخ رشید کا جنہوں نے سیاسی مخالفت کے باوجود عوام کی تماش بینی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، وزارت سے پاک ہو کر بھی اپنی پشین گوئیوں سے عوام کا نا صرف دل بہلائے رکھا ہے بلکہ ان کا دھیان دیگر مسائل سے بھی ہٹائے رکھا ہے۔
بہر حال ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ماضی میں ہمارے شیخ صاحب کی اچانک ’’لاٹری‘‘ نکل آئی تھی یا ’’لاڑی‘‘۔ ہمیں تو یہ فکر ہے کہ پہلے تو ان کے ہاں سے ’’جعلی کلاشنکوف‘‘ نکل آئی تھی اب کہ کہیں ان پہ ’’اصلی پیش گوئیاں‘‘ چھپا کے رکھنے کا الزام نہ لگ جائے۔
 تو جناب شیخ صاحب کی دلہن بننے کی لاٹری نکلے یا نہ نکلے عمران خان کے صادق اور امین ڈکلیئر ہونے سے شیخ صاحب کی وزارت ضرور نکلنے والی ہے۔ ہم چونکہ خود ایک عوامی بندے ہیں اس لیے ہمیں بھی سیاسی سے زیادہ عوامی لیڈر ہی پسند ہیں۔ بقول انکل سرگم اگر عمران خان اگلے وزیر اعظم بن گئے تو شیخ صاحب کا بھی ’’جیک پاٹ‘‘ نکل آئے گا۔ عمران خان چونکہ کھرے بندے ہیں اور بقول زرداری صاحب سیاست زیادہ نہیں جانتے اس لیے شیخ رشید جیسے گھاک سیاستدان انکے بہترین مشیر ہو سکتے جو عمران کو اپنے عوامی مشوروں کے ساتھ ساتھ سیاسی پیشن گوئیاں بھی مفت میں مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
ہمارے سیاسی لیڈروں میں یہ عادت سی بن گئی ہے کہ وہ ہر کام کو تکمیل تک پہنچانے میں بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں اور اکثر جذبات میں آ کر مبالغہ آرائی سے بھی باز نہیں آتے۔ جال بچھانے کا کام اور بیان ہمارے ہاں ہر بڑے چھوٹے آدمی اور سیاسی لیڈر کی اولین ترجیح رہا ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کے ایک وزیر ’’ملک صاحب‘‘ نے تو ایک بار جلسے میں عوام کو اپنی ولولہ انگیز تقریر کے دوران جوش میں آ کر یہ کہہ کر دلاسہ دے دیا کہ ’’میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ملک میں جیلوں کاجال بچھا دوں گا‘‘۔ ملک صاحب کے بارے میں سنا ہے کہ وہ اردو میں تقریر کرنے سے گھبراتے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنے چند پارٹی ورکرز کو ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ جلسے میں سٹیج کے قریب رہا کریں۔ جونہی ملک صاحب اردو میں تقریر کرتے تو وہ پارٹی ورکرز ہدایت کے مطابق بلند آواز میں شور مچا دیتے ’’ملک صاحب، پنجابی۔۔ ملک صاحب پنجابی۔۔‘‘ اور اس طرح ملک صاحب اردو چھوڑ کر عوام کی ’’پرُ زور فرمائش‘‘ پہ فوراً پنجابی میں تقریر شروع کر دیتے۔
ایک بار جلسہ شروع ہونے میں کچھ دیر تھی چنانچہ ملک صاحب کے ’’پلانٹڈ‘‘ حاضرین چائے پینے کسی قریبی کھوکھے پہ چلے گئے۔ اس دن پروگرام کے مطابق کافی لوگوں نے تقاریر کرنی تھیں جو کسی وجہ سے جلسے میں پہنچ نہ پائے اور ملک صاحب کو بادل نخواستہ اپنی باری سے پہلے تقریرکرنا پڑ گئی۔ ملک صاحب نے اس آسرے پہ اردو میں تقریر شروع کر دی کہ ان کے بندے ’’ملک صاحب پنجابی۔۔ ملک صاحب پنجابی‘‘ کی آوازیں بلند کر کے انکی تقریر کو اردو سے نجات دلوا دیں گے مگر انکے بندے پروگرام کی اچانک تبدیلی سے بے خبر کھوکھے پہ چائے پی رہے تھے۔ ملک صاحب کے بندے طشتریوں میں چائے انڈیل انڈیل کے پی ہی رہے تھے کہ انکے کانوں میں ملک صاحب کی اردو گونجی۔ ملک صاحب کی لاؤڈ سپیکروں پہ اردو میں آواز سن کر انکے ہوش اڑ گئے اور وہ چائے کی پیالیاں پھینکتے، چیختے چلاتے، بلند آواز میں یہ پکارتے ہوئے جلسہ گاہ کی طرف بھاگے ’’ملک صاحب، پنجابی۔۔ ملک صاحب پنجابی‘‘۔
تو جناب ہماری شیخ رشید صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنے صندوقوں سے پرانی شیروانیاں نکلوا کر انہیں ڈرائی کلین کرا لیں اور ہو سکے تو کسی درزی ووٹر کو دے کر شیروانیوں کو کھلا بھی کرا لیں کیونکہ لاٹری نکلنے کی خوشی میں عوام انہیں وزنی ہونے باعث کندھوں پہ تو شاید نہ اُٹھا سکیں البتہ اپنے نعروں میں ضرور اٹھائے رکھیں گے۔
 

image

دنیا کی آبادی میں روزافزوں اضافہ، کرئہ ارض کے ارد گرد درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان اور روئے زمین پر جنگلات اور نباتات میں بتدریج کمی نے انسان کو ماحولیاتی مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2020ء میں دنیا کی کل آبادی آٹھ بلین نفوس سے تجاوز کر جائے گی۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے خوراک کی پیداوار کو مطلوبہ ضرورت کے مطابق بڑھانا، دور دراز علاقوں تک پہنچانا اور اس کی تازگی اور غذائیت کو برقرار رکھنا ایک انتہائی مشکل کام ہو جائے گا۔ سید ضمیر جعفری نے ٹھیک ہی تو کہا تھا:
شوق سے نورِ نظر لختِ جگر پیدا کرو
ظالمو! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو
دنیا کے متعدد ممالک ایسے ہیں جہاں آبادی بہت زیادہ ہے لیکن قابلِ کاشت زمین کا رقبہ بہت کم ہے۔ چین، جہاں آبادی کے لحاظ سے دنیا کے20 فی صد لوگ آباد ہیں۔ وہاں قابل کاشت رقبہ کرئہ ارض کا صرف7 فی صد ہے۔ بعض ملکوں میں وافر زمین موجود ہے لیکن پانی نہیں ہے۔ جنگلات کو بے دردی سے کاٹا گیا ہے، مویشی انسانوں کی خوراک بن چکے ہیں اور ان کی تعداد روزبروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مشینوں اور گاڑیوں سے اُٹھنے والا دھواں، جس میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور دیگر زہریلے مادے فضا کو آلودہ کر رہے ہیں۔ یوں اس کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے جسے گلوبل وارمنگ(Global Warming) کا نام دیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے کسی حد تک اِن مسائل کو حل کرنے میں مدد دی ہے، بائیوٹیکنالوجی سے مراد ہے بائیولوجی کے سائنسی طریقے۔
بائیوٹیکنالوجی کی مدد سے جینیاتی فصلیں اُگا کر ہم زیادہ خوراک پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیڑے مار اسپرے اور دیگر زہریلی ادویات کا استعمال گھٹایا جا سکتا ہے۔ درحقیقت یہ کیمیائی دوائیں پانی کے ذریعے ندی نالوں اور دریاؤں کے پانیوں کو آلودہ کر دیتی ہیں۔ جینیاتی انجینئرنگ کی مدد سے زیادہ ہری بھری فصلیں اور پودے اُگا کر ہوا میں آکسیجن کی مقدار کو بڑھایا جا سکتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو متوازن کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ہم ماحولیات کے مسائل پر کسی حد تک قابو پا سکتے ہیں۔
شہری آبادی میں کارخانوں اور گھروں سے خارج ہونے والے گندے پانی میں مختلف قسم کے ہائیڈروکاربن اور بیماریوں کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ اگر اس گندے پانی کو مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر دریا یا ندی میں ڈال دیا جائے تو اس 
سے دریا یا ندی کا پانی آلودہ ہو جاتا ہے جو انسانوں، جانوروں اور فصلوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ قدرتی ماحول میں ایسے خوردبینی جان دار یا بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو ان ہائیڈروکاربن اور دیگر کیمیائی مادوں کو آلودگی سے پاک کرتے ہیں۔ اگر ماحول میں ایسے بیکٹیریا موجود نہ ہوں تو جینیاتی انجینئرنگ (یعنی بائیوٹیکنالوجی) کے ذریعے یہ پیدا کیے جا سکتے ہیں اور گندے پانی کو استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
لاہور کے قریب ایک طرف شہر قصور اور دوسری طرف کالاشاہ کاکو میں صنعتی گندگی کی وجہ سے پانی بہت ہی گندا ہو چکا ہے اور اس میں کرومیم نامی ایک عنصر بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔ یہ پانی نہ صرف کھیتوں بلکہ ہر طرح کے جان داروں کے لیے بھی بے حد نقصان دہ ہے۔ قدرت نے اسی آلودہ پانی میں ایسے بیکٹیریا اور خوردبینی جاندار پیدا کیے ہیں جو کہ کرومیم کے ذروں کو اپنے اندر جذب کر کے یا اس کی کیمیائی ہیئت کو بدل کر پانی کو کھیتی باڑی کے لیے قابل استعمال بنا سکتے ہیں۔
خام تیل جو بحری ٹینکروں کے ذریعے ایک سے دوسرے ملک میں لایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض اوقات تیل کے چھلکنے یا بہنے کی وجہ سے سمندر کا پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ 2003ء میں پیش آیا تھا جب ایک تیل بردار جہاز کراچی کے ساحل سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا اور اس کا تمام تیل سمندر میں بہہ گیا، اس سے سمندر کا ایک بڑا حصہ آلودہ ہو گیا تھا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس سے سمندری حیات کو پہنچنے والا نقصان پچیس سال تک ناقابل تلافی رہے گا۔ سمندری سطح پر تیل کا یوں بہہ کر پھیل جانا ایک انتہائی سنگین ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ اس سے نہ صرف سمندری حیوانی زندگی بلکہ سمندر کی دوسری سرگرمیاں مثلاً جہاز رانی یا پیراکی وغیرہ بھی متاثر ہوتی ہیں۔ ایسے تیل کو صاف کرنے کے لیے بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے خصوصی بیکٹیریا تیار کیے گئے ہیں جو تیل کے مرکبات کی لمبی لمبی کیمیائی زنجیروں کو کاٹ کر چھوٹے چھوٹے سالموں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ یوں سمندر کی سطح پر تیل کی تہہ کٹ کٹ کر کم ہوتی جاتی ہے۔ ایسے بیکٹیریا کو ’’سُپربگ‘‘(Super Bugs) کہا جاتا ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جنیٹک انجینئرنگ فیصل آباد کے سائنس دانوں نے ایسے ہی بیکٹیریا استعمال کر کے کراچی کے ساحل کو صرف چند دنوں میں صاف کر دیا تھا۔
بائیوٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے پھل اور سبزیاں اُگانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو زیادہ بڑے سائز کے ہوں اور ایک لمبے عرصے تک گلنے سڑنے سے محفوظ رہ سکیں۔ 
قارئین! وہ دن دُور نہیں جب آپ کو کھانے کے لیے خربوزے کے سائز کا ٹماٹر، تربوز کے سائز کا سیب، مالٹے کے سائز کا انگور اور کنگ سائز پپیتا کھانے کے لیے دستیاب ہو گا۔ یہ سب پھل اور سبزیاں توانائی سے بھرپور ہوں گی۔ اب میں اپنی بات کو اِن اشعار پر ختم کرتا ہوں کہ:
بائیو تیکنیک کی مدد سے ہم
اپنا دامن خوشی سے بھر لیں گے
یعنی گیہوں، کپاس، چاول میں
ملک کو خود کفیل کر لیں گے
دودھ اور گوشت جو زیادہ دیں
وہ مویشی ’’کلون‘‘ کر لیں گے
ریت میں ہم اُگائیں کے سبزہ
پھر مویشی وہاں پہ چر لیں گے
کر کے ماحولیات کو بہتر
یہ زمیں رنگ و بُو سے بھر لیں گے
 

image

قومی سیاسی امور کا تذکرہ ہو تو اس بیان کا حوالہ ضرور دیا جاتا ہے کہ سیاست دراصل میسر مواقع اور امکانات سے فائدہ اٹھانے کا نام ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ یہ بیان وطن عزیز کے دانشور سیاستدان، ذوالفقار علی بھٹو کے زرخیز ذہن کی پیداوار رہا۔ ہوا یوں تھا کہ ایک مرتبہ ان سے ان کی لاڈلی بیٹی، محترمہ بے نظیر بھٹو نے دریافت کیا تھا کہ پاپا ! سیاست کیا ہوتی ہے تو اس کے جواب میں بھٹو صا حب نے برجستہ اور مختصر جواب یہی دیا تھا کہ سیاست مواقع اور امکانات سے فائدہ اٹھانے کا نام ہے۔ اس وقت یقینی طور پر بھٹو صاحب کو یہ احساس نہیں تھا کہ ان کا یہ بیان ان کے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی اولاد پر اطلاقی اور عملی تناظر میں کس طرح اثرانداز ہوگا۔ مجھے یقین کی حد تک یہ گمان ضرور ہے کہ بھٹو صاحب نے جب اپنی لاڈلی بیٹی سے سیاست کی معنویت کے حوالے سے بات کی ہوگی تو ان کے پیش نظر وہ احوال اور حالات ضرور ہوں گے جو ان کو عملی سیاست کے میدان میں اترنے کے بعد درپیش ہوئے اور جن کے پس منظر میں ان کے اپنے خاندان کی روایات بھی موجود تھیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ بھٹو صاحب نے جب ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی تو انہوں نے اپنے کزن، ممتاز بھٹو کو بھی شریک اقتدار کیا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ (اس واقعہ کے اسباب اور مضمرات کے بارے میں سنجیدہ تحقیق کی اشد ضرورت ہے) تاہم ایک مرحلے پر جب بھٹو صاحب نے ممتاز بھٹو کو ’’ٹیلنٹڈ کزن‘‘ قرار دیا تو یار لوگوں نے یہی باور کیا کہ یہ خطاب تعریف اور تحسین سے زیادہ طنز اور مزاح کا تاثر لیے ہوئے ہے۔ بعدازاں ممتاز بھٹو اور بھٹو صاحب کے درمیان سیاسی اختلافات اتنے گہرے اور وسیع ہوگئے کہ انہوں نے اپنے راستے جدا کر لئے۔ شنید رہا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کرکے واپس وطن آئیں اور انہوں نے اپنے والد کے سیاسی ورثے کو یکجا کرنے کا آغاز کیا تو ممتاز بھٹو نے ان سے ملاقات میں تجویز کیا تھا کہ حکومت سے مطالبہ 
کیا جائے کہ گڑھی خدابخش میں قبر کشائی کرکے بھٹو صاحب کی لاش کو برآمد کیا جائے اور اس کا طبی معائنہ کرایا جائے تاکہ یہ حقیقت معلوم ہو جائے کہ بھٹو صاحب کو واقعی پھانسی دی گئی تھی یا وہ تختہ دار تک پہنچنے سے پہلے ہی بعض ذمہ دار حکام کے جسمانی تشدد کا ہدف بن کر اس دارفانی سے رخصت ہوگئے تھے۔ بظاہر ممتاز بھٹو کی یہ تجویز بے حد جذباتی اور فکرانگیز محسوس ہوئی لیکن محترمہ بی بی نے اس کے اثرات کا تصوراتی احاطہ کرتے ہوئے جواب دیا ’’میرے پاپا نے جیل میں کافی اذیت اور اہانت برداشت کی، اب میں ان کی لاش کو قبر سے نکال کر اس کی مزید توہین کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی، میرے پاپا اپنی قبر میں آرام سے ہیں، کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کے اس ابدی سکون میں خلل پیدا کرے‘‘۔ 
یہ واقعات تو بہرحال قومی سیاسی تاریخ اور خاص طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ کے ناقابل فراموش حقائق ہیں کہ بھٹو صاحب کی زندگی میں ہی ان کے اپنے کئی سیاسی رفقاء کے ساتھ ایسے اختلافات ہوئے جن کے باعث نہ صرف بھٹو صاحب کی سحرانگیز شخصیت متاثر ہوئی بلکہ پیپلزپارٹی کے سیاسی وقار کے 
بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے۔ ان رفقاء کار میں ملک غلام مصطفیٰ کھر، جے اے رحیم، معراج خان، عبدالحفیظ پیرزادہ اور حنیف رامے کے نام نہایت قابل ذکر ہیں۔ جے اے رحیم کے بارے میں تو بہت کم لوگوں کو یہ علم ہوگا کہ وہ نہایت لائق و فائق سفارتکار اور نظریاتی شخصیت کے مالک تھے۔ بھٹو صاحب کے اصرار اور خواہش پر ہی وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور اس کی نظریاتی بنیاد کو مضبوط اور مقبول بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح معراج خان نے عوامی سطح پر پارٹی کو متعارف کرانے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ان سب شخصیات کا بھٹو صاحب بظاہر تو نہایت احترام کرتے تھے لیکن جب معاملہ عملی اقدامات یا فیصلہ جات کا درپیش ہوتا تو بھٹو صاحب ایک مختلف شخصیت کے روپ میں سامنے آتے۔ وہ بجا طور پر اس زعم کا شکار تھے کہ پارٹی اور اس کی قیادت دراصل ان (بھٹو صاحب) کے نام کی محتاج ہے جبکہ بھٹو صاحب کو ان کی ضرورت ہرگز نہیں۔ یوں بھی بھٹو صاحب کا عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ ایک عامی ان کی ابرو کے اشارے پر اپنا تن، من، دھن نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ 
بھٹو صاحب کی ناگہانی اور المناک موت کے بعد پارٹی کی قیادت ابتدائی طور پر تو بیگم نصرت بھٹو کے پاس رہی لیکن جلد ہی ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے قیادت کے فرائض خود سنبھال لیے۔ اس سلسلے میں جب مولانا کوثر نیازی، غلام مصطفی جتوئی اور دیگر احباب نے اپنا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا تو بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اس کو قبول نہ کیا۔ شنید رہا کہ ان دنوں، پارٹی کے ایک اجلاس میں جب جتوئی صاحب نے بی بی صاحبہ کو ’’بیٹی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تو محترمہ نے تنک کر جواب دیا ’’میں صرف ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی ہوں، آپ کے ساتھ میرا رشتہ پارٹی کی چیئرپرسن کا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی نہ صرف جتوئی صاحب بلکہ دیگر سینئر شخصیات کو بھی یہ پیغام مل گیا کہ بھٹو صا حب کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اب پارٹی میں ان کے رفقاء کی کیا حیثیت ہے اور یہ کہ بی بی صاحبہ کا اپنے ’’انکلز‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ واقفان حال کو خوب معلوم ہے کہ ایک مرحلے پر جب بیگم نصرت بھٹو نے اپنے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کی حمایت کی کوشش کی تو بی بی صاحبہ نے اس کے ردعمل میں اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں لاڑکانہ میں بھٹو خاندان کی آبائی رہائشگاہ ’’المرتضیٰ‘‘ ایک مرحلے پر مسلح تصادم کا ہدف بن گئی تھی۔ سیاسی احوال پر نگاہ رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ شدید سیاسی اختلافات رہے اور یہ سلسلہ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد، ان کی اہلیہ غنویٰ بھٹو اور دختر، فاطمہ بھٹو تک جا پہنچا۔ 
 گردش ماہ و سال کے نتیجے میں ایک وقت وہ بھی آن پہنچا جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے اپنے شریک حیات، آصف علی زرداری کے ساتھ بھی ’’سیاسی‘‘ اختلافات نمایاں ہونا شروع ہوگئے۔ زرداری صاحب کا سیاسی حرکیات کے تناظر میں یہ خیال تھا کہ حریف کو شکست دینے کے لئے اسی کے حربے اور ہتھیار کئے جانے چاہئیں جبکہ محترمہ کا موقف تھا کہ حریف کی تقلید اور نقل کرنے کی بجائے ہمیں اپنے طرز فکر و عمل کو بروئے کار لانا چاہئے اور اپنے سیاسی فلسفے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ بہرحال یہ سیاسی اختلافات 27 دسمبر 2007ء کو اس وقت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئے جب راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے محترمہ دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں۔ بعدازاں پارٹی کی قیادت پہلے زرداری صاحب اور ان کے بعد اب ان کے فرزند، بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھوں میں ہے۔ نہایت مختصر عرصے میں ہی زرداری صاحب کے اپنی اولاد (بلاول، آصفہ اور بختاور)کے ساتھ سیاسی اختلافات کی خبریں زبان زدعام ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ جب زرداری صاحب نے اپنے ایک دوست، عرفان اللہ مروت کو پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کی تو آصفہ اور بختاور نے اس کی ایسی شدید مخالفت کی کہ مذکورہ دونوں دوستوں کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ خود زرداری صاحب کا یہ اعتراف صورتحال کو واضح کرتا ہے ’’بلاول اب جوان ہے ،وہ میری بات کم ہی سنتا ہے یوں بھی جوانی بھلا کب کسی کی سنتی ہے‘‘۔ پروین شاکر نے شاید ایسے وقت کے لئے کہا تھا ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘۔

image

شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپر مل ریفرنس دوبارہ کھولنے کے لیے نیب کی درخواست زائد المیعاد ہونے کے باعث15 دسمبر کو سپریم کورٹ نے خارج کر دی۔ اکتوبر 1999ء میں آرمی چیف جنرل مشرف نے شریف فیملی کے خلاف کرپشن کے تین ریفرنس دائر کیے تھے جن میں سے ایک حدیبیہ پیپر ملز کیس بھی تھا۔ اس میں شریف خاندان پر ایک ارب بیس کروڑ روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا۔ اس کیس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعترافی بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔ اس کے متعلق اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وہ بیان ان سے جبراً لیا گیا تھا۔2014ء میں لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں حدیبیہ کیس میں نیب کی تحقیقات کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد احتساب عدالت نے اس ریفرنس کو خارج کر دیا تھا۔ نیب نے رواں سال 20 ستمبر کو یہ کیس دوبارہ کھولنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جس میں نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، شمیم اختر اور صاحبہ شہباز کو فریق بنایا گیا۔ نیب نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے حقائق دیکھے بغیر اس کیس میں فیصلہ دیا جبکہ پاناما لیکس کی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں، اس لیے ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے سرے سے اس معاملے کی تحقیقات کی اجازت دی جائے۔
گزشتہ سوموار کو نیشنل اکاؤنٹی بلٹی بیورو (NAB) یعنی ’’قومی ادارۂ احتساب‘‘ کے پراسیکیوٹر عمران الحق سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس شیر عالم اور ارکان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل تھے۔ عمران الحق نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے اقلیتی فیصلے سے جو کہ نان آپریٹو ہے ’’دلائل‘‘ پیش کرنے شروع کیے تو فاضل جج قاضی فائز عیسیٰ نے ڈانٹ پلائی ’’پاناما فیصلے کا آپریٹو حصہ پڑھیں، اس میں سپریم کورٹ نے حدیبیہ کیس کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔‘‘ حیرت ہے کہ نیب کے پراسیکیوٹر جو یقیناً لاء گریجوایٹ ہیں، انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ عدالتی بنچ کا اکثریتی فیصلہ ہی عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے اور اسی کی مثال دی جاتی ہے۔ بنچ کے کسی رکن کا اقلیتی فیصلہ عدالت کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ لیکن کیا کیا جائے کہ مشرف اور زرداری کے گزشتہ ادوار میں نیب میں سیاسی جماعتوں کے لوگ بھرتی کر لیے گئے جو اپنے سیاسی تعصبات سے ہٹ کر سوچ ہی نہیں سکتے۔ اسی لیے عدالتوں میں نیب کا مذاق بن رہا ہے۔
پہلی سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ’’کرپشن کرپشن‘‘ کرنے سے بد عنوانی ثابت نہیں ہوتی، نیب کو کیس میں مجرمانہ فعل دکھانا ہو گا۔ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیں، پھر بھی ریفرنس بحال نہیں ہو گا۔ عدالت نے سوال کیا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی جبکہ ہائیکورٹ نے ریفرنس کی بحالی پر کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا۔ عمران الحق نے جب یہ کہا کہ معاہدے کے تحت نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجا گیا اور نواز شریف خود اپنی مرضی سے باہر گئے تھے تو جسٹس فائز عیسیٰ کو کہنا پڑا ’’اگر وہ خود باہر گئے تھے تو مفرور کی کارروائی ہونی چاہیے تھی، مگر اس کیس میں نئے قواعد بنا لیے گئے۔‘‘ فاضل جج نے یہ سوال بھی کیا ’’کیا نیب نے جلا وطنی میں سہولت کاری پر کوئی کارروائی کی؟ اگر نواز شریف خود گئے تھے تو انہیں واپسی کے لیے درخواست نہ دینا پڑتی۔‘‘
درحقیقت اکتوبر 1999ء میں شب خون سے قائم ہونے والی پرویز مشرف کی حکومت غیر آئینی تھی۔ وہ ازخود چیف ایگزیکٹو بن بیٹھے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو غیر آئینی طور پر برطرف کر کے قلعہ 
اٹک میں رکھ کر کٹھ پتلی عدالت سے طیارہ ہائی جیکنگ کے بوگس مقدمے میں سزا دلوائی تھی۔ اس پر امریکی صدر کلنٹن اور سعودی شاہ عبداللہ نے دباؤ ڈال کر میاں نواز شریف کو قید سے رہائی دلوائی اور پھر وہ فیملی کے ارکان سمیت جدہ پہنچ گئے جبکہ نواز شریف کی ’’درخواست‘‘ پر صدر رفیق تارڑ نے ان کی سزا معاف کر دی تھی۔ صرف ان کے بزرگ والد میاں محمد شریف اور میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شریف پیچھے لاہور میں رہے تھے۔ ایک انٹرویو میں جنرل مشرف سے پوچھا گیا کہ آپ نے ’’سزا یافتہ‘‘ نواز شریف کو باہر کیوں بھیج دیا، تو ان کا جواب تھا کہ جن سے تیل لینا ہو، ان کی بات ماننا پڑتی ہے۔ یاد رہے نواز شریف نے مئی 1998ء میں جب صدر کلنٹن کے پانچ فون مسترد کر کے 6 ایٹمی دھماکے کر ڈالے تھے اور اس کے بعد امریکا نے پاکستان پر پابندیاں لگوا دی تھیں تو برادر ملک سعودی عرب نے پاکستان کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے مفت تیل فراہم کرنے کی مہربانی کی تھی۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب کا عہدہ 23 نومبر سے خالی تھا جبکہ قومی احتساب بیورو نے وزارت قانون و انصاف کے ذریعے صدر مملکت کو نئے پراسیکیوٹر جنرل (اکائونٹی بلیٹی) کے تقرر کی سمری بھجوائی تھی مگر انہی دنوں فیض آباد راولپنڈی میں رضوی دھرنے میں وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور وہ دھرنا زاہد حامد کا استعفا لے کر ہی ٹلا، اسی لیے شاید وزارت قانون کو سمری آگے ارسال کرنے پر توجہ دینے کا ’’موقع‘‘ ہی نہیں ملا ہو گا۔ پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹی بلیٹی جو کہ نیب کا چیف پراسیکیوٹر جنرل ہوتا ہے، اس کی تعیناتی کے لیے نیب کی طرف سے پانچ نام بھجوائے گئے۔ ان میں ناصر سعید شیخ اور جسٹس فصیح الملک کی عمر زیادہ ہونے پر اعتراض کیا گیا جبکہ باقی تین ناموں میں سے کسی ایک کا وزارت قانون تقرر کر سکتی ہے۔ اس دوران میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے شاہ خاور کو بطور سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا ہے جس کے بارے میں نیب کے سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر عباس کا کہنا ہے کہ شاہ خاور کا تقرر کر کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ دفعہ 8 سی کے تحت ایسے تقرر کا اختیار پراسیکیوٹر جنرل کے پاس ہے جو چیئرمین نیب کی منظوری سے مشروط ہے۔ جب نیب میں پراسیکیوٹر جنرل ہی نہیں تو چیئرمین یا کوئی اور سپیشل پراسیکیوٹر کا تقرر کیونکر کر سکتا ہے۔ مزید برآں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی حکومتی ادارہ عدالتوں میں اپنے مقدمات کی پیروی کے لیے پرائیویٹ وکلا کی خدمات حاصل نہیں کر سکتا جبکہ نیب کے پی آر او نوازش علی نے کہا ’’شاہ خاور کو صرف حدیبیہ کیس کے لیے بھرتی کیا گیا ہے۔‘‘ اب حدیبیہ ریفرنس کا ٹنٹا نکل گیا ہے تو شاہ خاور نیب کی کسی اور مہم جوئی میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے چیئرمین نیب سے شاہ خاور کے تقرر کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے کیونکہ ان کے بقول ’’شاہ خاور ماضی میں پی پی پی کے دیرینہ ورکر رہ چکے ہیں اور ان کی خدمات پر پی پی پی کے دور حکومت میں انہیں ڈپٹی اٹارنی جنرل تعینات کیا گیا تھا جبکہ وہ آٹھ ماہ سے میڈیا چینلز کے درجنوں پروگراموں میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت کے خلاف بغض و عناد کا بھرپور مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔‘‘ رانا صاحب نے مطالبہ کیا ہے کہ شاہ خاور کے بجائے کسی پیشہ ورانہ اہمیت کے حامل غیر متنازع شخص کا تقرر کیا جائے۔ ویسے ان دنوں احتسابی اداروں میں مسلم لیگ (ن) کی شنوائی کم ہی ہو رہی ہے۔ آٹھ ماہ پہلے پاناما کیس میں ہیروں جیسے ارکان پر مشتمل جے آئی ٹی کی تشکیل کے وقت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے دو ارکان پر ایسے ہی اعتراضات اٹھائے گئے تھے، مگر شنوائی نہیں ہوئی تھی۔
12 دسمبر کی سماعت میں جب عمران الحق نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے ملزمان کے جرم کے لیے بادیٔ النظر (It seems) کے لفظ استعمال کیے تو عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ یہ لفظ استعمال نہ کریں بلکہ مجرمانہ عمل کیا ہے، وہ بتائیں مگر نیب کے وکیل کوئی مجرمانہ عمل ثابت کرنے سے قاصر رہے۔ یاد رہے جے آئی ٹی رپورٹ (جولائی 2017ء) کے مندرجات میں جگہ جگہ بادیٔ النظر کے لفظ استعمال کیے گئے تھے۔ شاید اسی وجہ سے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بنچ نے نواز شریف کو پاناما کیس میں سزا سنانے کے بجائے اقامہ کا سہارا لیا۔ جب عمران الحق نے اسحاق ڈار کا اعترافی بیان پڑھنا چاہا تو جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ یہ بیان بطور گواہ استعمال ہو سکتا ہے بطور ثبوت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائیکورٹ نے 2013ء کے فیصلے میں کہا تھا کہ نیب مذاق بنا رہا ہے اور اب 2017ء میں پھر ہمیں مذاق والی بات کہنا پڑ رہی ہے۔ یوں نیب کے تیار کردہ حدیبیہ ریفرنس کی ہوا نکل گئی کیونکہ اس کی بنیاد اسحاق ڈار کے اعترافی بیان پر تھی اور نیب منی ٹریل دینے سے بھی قاصر رہا تھا۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ حراست میں لیے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ جہاں تک نیب کا تعلق ہے اس کی پلی بارگیننگ پالیسی میں بھی کئی کئی کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ جنرل مشرف نے اس ادارے کی بنیاد نیک نیتی سے نہیں ڈالی تھی۔ اب نیب کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ واقعی احتسابی ادارہ ہے نہ کہ مخصوص لوگوں کے مفادات کی پاسداری کرنے والا انتقامی ادارہ۔
 

image

 کتاب دوستوں کی اس محفل میں اسد اللہ کی کتاب کا تذکرہ بیت بازی کی محفل میں پہلے مصرع کی طرح ادا ہوا اورپھر تو:    گویا دبستاں کھل گیا
والی کیفیت ہوئی، نئی پرانی، اہم غیر اہم، اچھی بری اور دستیاب و نایاب کتابوں کا تذکرہ یوں ہوا کہ ڈائننگ ٹیبل اچھی خاصی لائبریری اور ریڈنگ روم کاتاثر دینے لگی۔ بات آگے بڑھی تو پروفیسر شفاعت یار خاں، بیورو کریٹ کاشف منظور، آصف انصاری اورمیزبان محفل ڈاکٹر وحید الرحمٰن نے علم و فکر سے حالات حاضرہ کی گرہیں کھولیں کہ سواد آ گیا مگر:
ممکن نہیں حالات کی گتھی کو سلجھانا
اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے
بس یہی سوچ کر موضوع بدل لیا گیا اور بات پھر شعرو ادب کی وادی میں آ گئی، تاہم اب کہ موضوع سخن:
میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
فیم استاد الاساتذہ شاعر اسلم انصاری تھے۔ اسلم انصاری اپنی شخصیت، کام اور خدمات کے حوالے سے بہت احترام اور محبت کے حامل ہیں۔ پروفیسر نجیب جمال نے بتایا کہ ایک مرتبہ انصاری صاحب کا شعری مجموعہ شائع ہوا تو کسی نے پھبتی کسی کہ اس میں ایک شعر بھی عصری شعور کا آئینہ دار نہیں؟ اس پر اس کالم نگار نے برجستہ کہا کہ معترض کے پاس اپنے مبلغ عصری شعور کا کوئی سرٹیفکیٹ موجود تھا؟ تاہم یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو میرے پی ٹی وی کی ملازمت کے دوران سلسلہ وار پروگرام ’’کتاب‘‘ کے تناظر میںپیش آنے والا ایک دلچسپ اور یادگار واقعہ نوک قلم پر آنے کو مچلنے لگاہے۔
 ہوا یوں کہ حضور نبی کریمؐ کی سیرت مبارکہ پر گفتگوو تبصرہ کیلئے ایک کتاب منتخب کی گئی۔ حسب روایت میرے افسر اعلیٰ نے سفارش کی اور دو افراد کے اسمائے گرامی دیتے ہوئے انہیں نبی پاکؐ کی سیرت مطاہرہ پر گفتگو کرنے کیلئے مدعو کرنے کا کہا۔ میں نے دونوں شخصیات کو سیرت نبیؐ پر گفتگو والے پروگرام میں مدعو کرنے سے انکارکرتے ہوئے نہایت ادب و عاجزی اور انکساری سے گزارش کی کہ دونوں اصحاب کو آئندہ کسی پروگرام میں مدعو کر لیا جائے گا۔ نبی پاکؐ کی سیرت پر بات کرنے والے کی اپنی سیرت بھی محاکمہ مانگتی ہے اور دیکھنا یقیناً ضروری ہے کہ اس کی اپنی سیرت کیسی ہے؟ اس کے بعد مجھے کیا کیا بھگتنا پڑا، یہ ایک لمبی کہانی ہے اور یہ اس کا محل نہیں کہ یہاں بیان کیا جائے البتہ اپنی ذاتی زندگی سے اس واقعہ کے بیان سے میرا احساس ہے کہ گفتگو یقیناًاس محفل سے باہر نکل آئی ہے جو ڈاکٹر وحید الرحمٰن نے اہل علم اور صاحبان فکر و نظر کو مدعو کر کے سجائی تھی اور ایک گڑبڑ اس واقعہ کے تذکرے سے یہ بھی ہوئی ہے کہ ہلکی پھلکی گپ شپ سے بھی ہم ذرا پرے ہو گئے ہیں تاہم محفل کے شگفتہ اور ہیپی ہیپی موڈ کی طرف لوٹتے ہوئے میں آپ کو ایک مرتبہ پھر قہقہوں کی بازگشت میں لیے چلتا ہوں۔ پروفیسر نجیب جمال نے بتایا کہ ایک مرتبہ ملتان کے معروف دانشور حسن رضا گردیزی اور ممتاز شاعر مجید اکبر کسی بالا خانے پر گانا سننے چلے گئے۔ سوئے اتفاق جب محفل عروج پرتھی تو پولیس کا چھاپہ پڑ گیا۔ گانے والی نائیکہ سمیت کچھ طبلے سرنگی اور ڈھولکی باجے والے اپنا ساز و سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے جبکہ کچھ پکڑ لیے گئے۔ پکڑے جانے والوں میں شاعر مجید بھی تھے جبکہ بچ جانے والوں میں حسن رضا گردیزی شامل تھے اوران کے بچنے کا سبب یہ تھا کہ جو سازندہ بھاگتے ہوئے اپنی بری اور بھدی سی قراقلی ٹوپی چھوڑ گیا تھا، گردیزی صاحب نے اٹھا کر وہ سر پہ پہن لی اور ہارمونیم کے سامنے بیٹھ کر یہ تاثر دیا کہ وہ تو سازندے ہیں۔ نجیب جمال صاحب کے بیان کردہ اس قصے نے سب کہ ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا اور پھر شاعروں، ادیبوں، اہل دانش کے ایسے دلچسپ واقعات کا وہ ’’طرحی مشاعرہ‘‘ ہوا کہ یہ کالم یقیناً ان کے بیان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
 بہرطور! حرف آخر یہ کہ اس روز اس محفل کے بیشتر شرکاء سے یہ پہلی ملاقات اور رسمی تعارف تھا مگر جب کلب کی راہ داری میں کھڑے ہو کر ہم الوداعی جملے ادا کر رہے تھے تو لگ رہا تھا جیسے یہ تعلق، واسطہ اور دوستی ہرگز نئی نہیں۔ شاید اسی تناظر میں شاعر پہلے سے ہی کہہ گیا ہے کہ:
لہو دے رشتے نالوں پکا رشتہ قلم دواتاں دا
آج متذکرہ محفل کو بپا ہوئے کئی دن ہو گئے مگر میں اس کی شیرینی حلاوت اور دوستوں کی محبتیں ایسے محسوس کر رہا ہوں جیسے اس وقت بھی ہم آمنے سامنے بیٹھے ہوں۔ تقریب کے میزبان ڈاکٹر وحید الرحمٰن، پروفیسر شفاعت یار خان، آصف انصاری اورکاشف منظور سے مل کر یہ لگا جیسے فراز نے یہ شعر اسی موقع اور تناظر میں کہا تھا:
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بڑی دیر سے ملا ہے مجھے
بہرطور جیوندے رہے تے ملاں گے لکھ واری، انشاء اللہ تعالیٰ!!

image

پہیہ ایجاد ہوا تو اس کے بعد دو پہیے والی گاڑی ایجاد ہوئی جسے انسان کھینچتے تھے۔ مرد اور عورت کو زندگی کی گاڑی کے دو پہیے کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرد اس گاڑی کا بڑا پہیہ اور عورت چھوٹا پہیہ ہے۔ یہ بات درست ہو نہ ہو، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ دونوں پہیے ایک دوسرے کو سپورٹ کریں تو ہی گاڑی مناسب انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ کھائیوں، گھاٹیوں سے گزرتی ہے۔ صحراؤں اور پانیوں سے بھی بخوبی پار ہو جاتی ہے۔ عرصہ دراز سے دنیا بھر میں تیار کی جانے والی عام گاڑیوں میں چار پہیے لگے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک سٹپنی بھی ہوتی ہے چار پہیوں میں سے کوئی ایک پنکچر ہو جائے، اس کی ہوا نکل جائے تو سٹپنی لگا کر سفر بنا رُکے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک چاروں پہیوں اور سٹپنی کا سائز یکساں ہوتا تھا لیکن اس میں قباحت یہ تھی کہ صاحب کار پنکچر لگوانا بھول جاتے اور اس اثنا میں ایک اور ٹائر پنکچر ہو جاتا، جس پر منزل کھوٹی ہو جاتی، لہٰذا سٹپنی یعنی پانچویں ٹائر کو نسبتاً چھوٹا کر دینے کا خیال آیا کہ ایک طرف سے گاڑی جھکی رہے گی تو کار میں سفر کرنے والا پہلی فرصت میں پنکچر لگوائے گا۔ اب ٹیوب لیس ٹائر کا دور ہے۔ اس ٹائر میں پنکچر بھی ہو جائے تو کچھ کلومیٹر تک سفر جاری رکھا جا سکتا ہے لہٰذا بنا رُکے منزل مقصود تک پہنچا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں پائی جانے والی سیاسی جماعتیں بھی گاڑیوں سے مماثل ہیں کچھ کے دو پہیے ہیں کچھ کے چار، ایک جماعت ایسی بھی ہے جس کا ایک ہی پہیہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو ذوالفقار علی بھٹو ہی اس کا انجن تھے، بڑا پہیہ بھی اور ڈرائیور بھی۔ باقی سب چھوٹے پہیے تھے، مگر ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ۔ بھٹو نہ رہے تو گاڑی سکریپ بن گئی، دس برس شیڈ میں کھڑی رہنے سے انجر پنجر سب تباہ ہو گیا۔ وقت کا زنگ ہر شے کو چاٹ گیا۔ ضیاء الحق آمریت کی ریل گاڑی نے اس کی جگہ لی۔ ابتدائی چند برس فراٹے بھرتی رہی پھر ہچکولے کھانے لگی اور بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ کچھ ڈبے بچ گئے جو بعد میں دوسری گاڑیوں میں دوسرے انجن کے پیچھے چلنے کیلئے تیار ہو گئے۔ یہ ڈبے آج تک مختلف انجنوں کے پیچھے چل رہے ہیں اور اپنی مرادیں پا رہے ہیں۔
بے نظیر اقتدار میں آئیں تو گاڑی کا اکلوتا پہیہ وہی تھیں، بعدازاں آصف زرداری کی صورت انہیں دوسرا پہیہ میسر آیا، لیکن یہ چھوٹا پہیہ تھا۔ بڑا پہیہ ہی طاقتور تھا اور فعال بھی۔ بے نظیر کے بعد چھوٹا پہیہ ہی بڑا پہیہ بن گیا اور گاڑی چلتی رہی۔ مسلم لیگ کی گاڑی کے بھی دو پہیے تھے، ایک بڑا پہیہ دوسرا چھوٹا۔ نوازشریف بڑا پہیہ، شہبازشریف چھوٹا پہیہ۔ دونوں پہیے بے مثال تھے، پنکچر ہوتے رہے، پنکچر لگواتے رہے اور سفر کرتے رہے، مگر 2017ء اس گاڑی پر بھاری ثابت ہوا۔ اس مرتبہ بھی اس کا ایک پہیہ پنکچر ہو جاتا تو خیر تھی، پنکچر لگ سکتا تھا، مگر شومئی قسمت اس مرتبہ زیادہ ہوا بھر جانے اور رفتار تیز ہونے کے سبب سڑک کے کناروں نے اس پہیے کو پنکچر نہیں کیا بلکہ کاٹ کے رکھ دیا ہے۔ یعنی پہیہ برسٹ ہو گیا ہے اور گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پہیہ برسٹ ہو جائے تو ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جسے جوڑنا ممکن نہیں رہتا۔ اس کی جگہ نیا پہیہ ہی لگانا پڑتا ہے۔ یہ پارٹی ایک لحاظ سے خوش قسمت تھی کہ اس کے پاس اضافی پہیوں کا انبار لگا تھا۔ سائز کے حساب سے بھی کوئی مسئلہ نہ تھا۔ گاڑی کو کھینچنے کی صلاحیت بھی موجود تھی لیکن جانے کیا سوچ کارفرما تھی کہ گاڑی میں ایسے پہیے کو فٹ کیا گیا ہے جو خاصا پرانا ہے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر چکا ہے، لہٰذا وہ طاقت نہیں رکھتا جو گاڑی کھینچنے کیلئے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے گاڑی میں آگے لگا دیا گیا ہے اور پیچھے ایک چھوٹا پہیہ ہے جسے اس سے قبل گاڑی میں آگے لگانے کا فیصلہ ہوا تھا مگر پھر تبدیل کر دیا گیا۔
تحریک انصاف بھی بنیادی طور پر دوپہیوں والی گاڑی تھی ایک بڑا پہیہ اور ایک چھوٹا پہیہ۔ گاڑی اپنی مخصوص رفتار سے ٹاں ٹاں کرتی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کبھی کبھار قریب سے پاکستان عوامی لیگ کی ایک پہیے کی گاڑی فراٹے بھرتی گزرتی تو دونوں گاڑیوں کے سواروں کے چہرے کھل اٹھتے۔ اچانک تحریک انصاف کی گاڑی کو وہی حادثہ پیش آ گیا، جو اس سے قبل مسلم لیگی گاڑی کو پیش آیا تھا۔ گاڑی کی جانچ پڑتال شروع ہوئی تو مسلم لیگی گاڑی کے سوار دعائیں کرنے لگے کہ اس گاڑی کا بھی بڑا پہیہ برسٹ ہوا ہو تو مزا آ جائے۔ وہ اس اعتبار سے خاصے پُرامید تھے لیکن جب معلوم ہوا کہ گاڑی بچ گئی ہے، بڑا پہیہ سلامت ہے، چھوٹا پہیہ برسٹ ہو گیا ہے۔ چھوٹا پہیہ تبدیل کیا جائے گا اورگاڑی پھر چل پڑے گی۔ نتیجے نے مسلم لیگی گاڑی کے سواروں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ وہ جانتے ہیں کہ چھوٹے پہیے کی جگہ لینے کے لیے لا تعداد پہیے موجود ہیں۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی فٹ ہو جائے گا اور گا ڑی اپنی سابقہ رفتار سے پھر ٹاں ٹاں کرتی منزلِ مقصود پر پہنچ جائے گی۔
دونوں گاڑیوں کی منزل اسلام آباد تھی مختلف سیاسی گاڑیوں میں سوار، سواریاں یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ اب تحریک انصاف کی گاڑی کو اسلام آباد پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کئی سواریاں مسلم لیگی گاڑی سے اتر کر تحریک انصاف کی گاڑی میں سوار ہونے کیلئے دھکم پیل کر رہی ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ مسلم لیگی گاڑی کا پہیہ ایک مرتبہ پھر برسٹ ہونے والا ہے، وہ پھر راستے میں کھڑی ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی کا انجن سیز ہونے کے قریب ہے، اس کے گوڈے ٹوٹ چکے ہیں، گاڑی الٹ بھی سکتی ہے، گاڑی کے ڈرائیور نے بھی یہی بتایا ہے۔
 

image

Saudi Arabia is on the threshold of a revolution in its financial and equity markets, as it seeks to reduce both oil dependency and the overweening power of the public-sector economy. But revolutions are notoriously difficult to control once they are set in train, and can have unpredictable consequences. Just ask the French, Russians and Iranians.
Of the two aims — lessening the importance of oil and increasing the power of the private sector — the former is the big headline-grabber, but the latter is the more difficult to achieve. If the initial public offering (IPO) of Saudi Aramco is achieved late next year or early 2019, it will be a symbolic but highly significant step toward moving away from oil dependency. Policymakers can tick one big box as “mission accomplished.”
But getting away from the domination of the public sector — much of it funded by oil revenue — will be much more difficult. The private sector still lags way behind as a generator of economic growth and employment, and is still largely dependent on government expenditure for its basic economic activity.
Under Vision 2030, a central part of the transformation is a privatization program that will hand over government-run entities to the private sector via a state sell-off. It has been estimated there is $200 billion worth of state assets that could be privatized, ranging from power generators to schools and hospitals and through to football clubs. It is the biggest and most ambitious privatization program in history.
The Aramco IPO is enormous, global and complicated. But it is a one-off. The rest of the privatization plan will be like scores of mini-Aramcos; some floated on local or international markets; some sold to private equity investors; some privatized via deals with trade buyers.
Though smaller, of course, than Aramco, each has the potential to be problematic. Saudi citizens will want to have some basic questions answered, like why they are being asked to buy something that they already own, via their government?
Or does the sell-off mean that foreigners will end up controlling vital sectors of the Saudi social fabric, like medical and educational facilities? And does the Kingdom have the legal, financial and regulatory infrastructure in place to ensure a fair and transparent sell-off process that will ultimately be profitable for citizens?
These were the kind of questions asked of privatizing governments around the world over decades, and answered with only mixed success.
There are armies of advisers — foreign and Saudi — working on how to answer those questions. Recently, State Street Corp., one of the oldest and biggest financial institutions in the US with $2.45 trillion of assets under management, came up with an idea which seeks to address some of the basic concerns of Saudi citizens as they contemplate their upcoming privatization spree.
A ‘national privatization fund’ could help implement the state sell-off in a way that benefits both Saudi citizens and the government.
State Street is proposing the creation of a “national privatization fund” (NPF) that could be used to implement the state sell-off in a way that would benefit both Saudi citizens, and the government.
It would be either a mutual fund or an exchange-traded fund that would bundle together a cross section of the equity that will be created in privatization, and would be sold to Saudis at a discount to the other parts of the sell-off earmarked for big regional or international investors.
This would help win over doubters among the population, who would see a clear financial benefit, but just as importantly it would have three very significant and desirable knock-on effects.
State Street’s head of policy and research Elliott Hentov said: “First, it would give Saudi citizens a real sense of ownership of the future by mobilizing their capital to be staked on the country’s success. Second, it would help build a new investor class and lay the seeds of a wider retail investor culture. And third, it would symbolize the gradual transition away from a government-dominated economy to one based much more on individual household responsibility, fostering a retirement and savings culture.”
He is right. An NPF arrangement in some form would be an ingenious way of getting buy-in from Saudi citizens to the whole privatization process, and would also help ensure that they make a profit out of it.
Some bank experts in the Kingdom detect a slowing in the pace of the privatization program as the necessary legal and corporate infrastructure proves more difficult to implement that originally envisaged.
Lloyd Blankfein, the chairman of Goldman Sachs, hinted as such when he urged the Saudi government to just “push the button” on the transformation process in September. The NPF concept — which is apparently being considered seriously by Saudi policymakers — would be a relatively easy and cost-effective way to kick-start the biggest sell-off in history.
(Courtesy : Arab News)
 

image

پاکستان اسلامی نظریاتی مملکت ہے، جس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے، یہاں رائج آئین میں اسلام کو سپریم لاء کی حیثیت حاصل ہے، آئین میں موجود آرٹیکل 62-63 تقاضا کرتا ہے کہ قوم کی رہنمائی کا دعویدار مسلمان ہونے کے ساتھ ایسا ہوکہ کبھی کسی گناہِ کبیرہ میں ملوث نہ رہا ہو اور اسے ایمان دار اور اچھی شہرت کا حامل بھی ہونا چاہیے۔ ہر مملکت کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کا آزادانہ قانون بنا اور نافذ کرسکے، مگر اسرائیل، بھارت اور امریکا کا شیطانی ٹرائیکا ہمیشہ ہی اسلام اور اسلامی مملکتوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور اسے ان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی سمجھیں یا امت مسلمہ کی بے بسی کہ 57 اسلامی ممالک کے باوجود مسلمان پوری دنیا میں رسوا ہورہے ہیں اور اس زوال کا سبب یہ بھی ہے کہ ان پر یہود وہنود کے کٹھ پتلی حکمران مسلط ہیں، جو بظاہر مسلمان ہیں مگر ان کے دل و دماغ غیروں کے مفادات کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان، کشمیر، فلسطین اور برما سمیت کئی ممالک میں دشمنوں کے ہاتھوں خون مسلم کی ارزانی پر ایک دو کے علاوہ تمام مسلم دنیا مہر بلب ہے۔ 
اگرچہ پاکستان کا کردار بھی اس حوالے سے کوئی زیادہ اچھا نہیں رہا مگر صہیونی تھنک ٹینک بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اسلام پسند ہیں اور جس دن یہاں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت برسراقتدار آگئی، اس روز یہ ملک جنوبی ایشیا کا ہی نہیں پوری اسلامی دنیا کا حقیقی لیڈر بن جائے گا اور اسی وقت سے سامراجی و غاصب قوتوں کا زوال شروع ہوگا۔ تبھی وطن عزیز میں عرصہ دراز سے برسرپیکار سیکولر ازم کی حامی قوتیں کبھی توہین رسالت تو کبھی 62-63 کے خلاف پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں اور اب کی بار گزشتہ دنوں جب باسٹھ تریسٹھ میں خاموشی سے جزوی ترمیم کی گئی تو دینی قوتوں نے اس اقدام کو غیر مسلم کی حکمرانی کی راہ ہموار کرنے کی سازش قرار دیا، اس کے بعد ملک بھر میں بھرپور احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور آخرکار حکومت کو پسپائی اختیار کرتے ہوئے اس قانون کو سابقہ اصل شکل میں بحال کرنا پڑا مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی، اس کے بعد تحریک لبیک نے اسلام آباد میں دھرنا دے دیا اور وزیر قانون زاہد حامد کو اس سازش کا ذمے دار قرار دے کر ان کے استعفے کا مطالبہ کردیا، لیکن حکومت نے دارالحکومت میں دھرنے میں شریک ہزاروں افراد کو پرکاہ کی اہمیت بھی نہ دی۔ بات بڑھتے بڑھتے عدالت اورآرمی ایکشن تک جاپہنچی مگر حکومت کے کانوں پر جوں نہ رینگی اور تین ہفتے بعد پُرتشدد واقعات شروع ہوگئے، نتیجتاً سات افراد جاں بحق ہوگئے اور یوں خون کی اس ہولی کے بعد زاہد حامد کے استعفے کی خبر بھی آگئی۔ اس دھرنے اور حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث ناصرف ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ حکومت کو خاصا سیاسی نقصان بھی ہوا اور متعدد ایم این ایز، ایم پی ایز نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ 
اس سے قبل جب سابق وزیراعظم کو پاناما کیس میں پانچ رکنی بینچ میں سے دو ارکان نے نااہل قرار دیا تو اُس وقت کئی سیاسی ماہرین نے انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا مگر میاں صاحب نے انکار کردیا اور اس کے بعد (ن) لیگ جس بحران کا شکار ہوئی، اس سے ابھی تک نکل نہیں پائی، اس فیصلے کے بعد نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی سربراہی سے بھی فارغ ہوگئے، مگر کیا کیجیے کہ یہاں اصول و ضوابط کے بجائے شخصیات ہی محور ہوتی ہیں جس کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا، جب (ن) لیگ نے پارٹی قواعد کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نااہل شخص کو بھی پارٹی عہدے کے لیے قابل قبول قرار دے دیا۔ اُس وقت دیگر پارٹیوں کی جانب سے (ن) لیگ کے اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی، پی ٹی آئی سب سے آگے تھی مگر عملاً خود تحریک انصاف اس منافقانہ سیاست میں پیچھے نہ رہی، کیوںکہ اب بھی اس جماعت کی ویسٹ پنجاب کی صدارت کا تاج اس شخص کے سر پر سجا ہے جسے سپریم کورٹ اسی شق کے تحت نااہل قراردے چکی ہے، جس کے تحت نواز شریف کو نکالا گیا۔ یاد رہے رائے حسن نواز 2013ء کے الیکشن میں کامیاب ہوئے مگر حاجی محمد ایوب نامی لیگی رہنما نے الیکشن کمیشن کو درخواست دے دی کہ رائے حسن نے اثاثے چھپائے ہیں جس پر الیکشن کمیشن نے تحقیقات کے بعد انہیں نااہل قرار دے دیا، اپیل کی مگر بے سود رہی اور نااہل ہی ٹھہرے، مگر پی ٹی آئی کی میرٹ پالیسی پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے کہ اس سب کے باوجود بھی اس شخص کو ویسٹ پنجاب کی صدارت کے لیے موزوں سمجھا گیا۔ پی ٹی آئی کے اس اقدام کے خلاف ایک بار پھر کسی نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی کہ پارٹی منشور کے مطابق کوئی نااہل شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا، جس پر ایکشن لیتے ہوئے پی ٹی آئی کو انہیں عہدے سے ہٹانے کا نوٹس دیا، جس کے خلاف رائے حسن نواز نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا کہ الیکشن کمیشن کو پارٹی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں مگر ہائی کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو حق بجانب قرار دیا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے رائے حسن نواز کو ویسٹ پنجاب میں بطور صدر غیر آئینی تقرری سے متعلق جواب جمع کروانے کے لیے چوبیس گھنٹے کا ٹائم دیا، لیکن وہ کوئی مناسب جواب نہ دے پائے اور آخرکار انہیں بادل نخواستہ استعفیٰ دینا پڑا۔
دوسری جانب استعفیٰ کے باوجود رائے حسن ہی بدستور بطور صدر ویسٹ پنجاب فرائض ادا کررہے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف نے بھی (ن) لیگ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے پارٹی آئین میں نااہل شخص کو عہدہ رکھنے کی گنجائش پیدا کر لی ہے یا پھر آئینی ترمیم کیے بغیر جس کی لاٹھی اس کی بھینس پر بڑے دھڑلے سے عملدرآمد ہورہا ہے اور اسی حیثیت سے ہی شاید وہ 17 دسمبر کو عمران خان کے دورۂ اوکاڑہ کے موقع پر ان کے ہمراہ سٹیج پر بھی رونق افروز ہوں گے اور معاملہ کتنا مضحکہ خیز ہو گا جو جلسہ نااہل نواز شریف کے خلاف کمپین کا حصہ ہو گا۔
سیاسی جماعتوں کا یہی انداز ہے جس نے ناصرف عوام کا اُن پر سے اعتماد اٹھادیا بلکہ بعض اوقات تو وہ تنگ آکر آمریت کو جمہوریت سے بہتر قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ منشور کے بجائے ہر صورت چند شخصیات کو ناگزیر سمجھنے کی پارٹی پالیسیاں جمہوری اقدار کا خون کرنے کے ساتھ ملکی ترقی و خوشحالی میں بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔
 

image

معاشرہ مثبت اجتماعی سوچ سے آگے بڑھتا اور ترقی کرتا ہے۔ اسی سے مثبت کردار جنم لیتا ہے جو باہمی ربط اور بقا کی ضمانت ہے۔ سوچ یا فکر جس کی بنیاد پر سماج کی تشکیل ہوتی ہے، ہمارے ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ فروغ پاتی ہے، جو روایت کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ ایک ہی جگہ صدیوں تک مل جُل کر رہنے سے نسل درنسل منتقل ہونے والی یہ روایت اپنے اندر ایسی اقدار کی پرورش کرتی ہے، جو اخلاقیات کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔ یوں نیک نامی اور بدنامی کا تصور معاشرے میں ابھرتا ہے، جو ایک جانب عزت و احترام اور دوسری طرف سزا کے خوف کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب کسی معاشرے کو زوال آتا ہے تو سب سے پہلے لاقانونیت آتی ہے اور پھر اخلاقی قدروں کے ٹوٹنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔
یہی اجتماعی سوچ جب وسعت اختیار کرتی ہے تو عالمی برادری کی تشکیل کا موجب بنتی ہے۔ لوگوں میں برداشت اور درگزر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے انسانوں کے لیے درد کا احساس جنم لیتا ہے۔ دوسروں کے کام آنا اور ان کے دُکھ درد میں شامل ہونا انسانیت کی معراج ہے۔ باہمی تعاون کا جذبہ ہی اجتماعی ترقی اور بھائی چارے کی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ یہی عمل اجتماعی مثبت شعور کو ترقی دیتا ہے، جو سماجی اور اخلاقی ترقی کے ساتھ معاشی بہتری میں اہم معاون بن جاتا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب اسی لیے اس بات پر زور دیتے ہیں اور تمام انسانوں سے مثبت کردار ادا کرنے کی توقع کرتے ہیں۔ جب اس طرف اسلام نے توجہ دی تو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آیا، جس میں مکہ سے مدینہ کی طرف تنہا سفر کرنے والی عورت کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کرتی تھی، جہاں انصار مدینہ نے مہاجرین کے لیے اپنے کاروبار اور زراعت میں حصہ ڈالا اور ان کو بھی آدھے اثاثوں کا مالک بنادیا۔ 
مثبت اجتماعی سوچ سے کئی سماجی اور اخلاقی برائیاں خود بخود دم توڑ جاتی ہیں۔ انسان میں یہ خوبی یا صفت دوسرے انسانوں کے ساتھ نیک برتائو اور حسن ظن رکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا معاملہ بڑی حد تک دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور نیک و مثبت خیالات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی ضد بدگمانی ہے۔ بدگمانی سے حسد، بغض، عناد اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ حسن ظن سے الفت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے معاشرے میں ایک اجتماعی خیر خواہی کا ماحول بنتا ہے، جو دیگر افراد کے حقوق کی نگہبانی کے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن میں ارشاد ہے، (ترجمہ): ’’اے ایمان والو! بدگمانی سے بچو بے شک بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔‘‘ کسی دوسرے شخص کے متعلق بدگمانی رکھنا اسلام میں جائز نہیں۔ مسلمانوں کے علاوہ بھی دیگر انسانوں کے ساتھ احسان کا برتائو کرنے کا حکم ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ مخلوق ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی عیال ہے، پس اللہ تعالیٰ کو وہ شخص بہت محبوب ہے جو اس کی عیال کے ساتھ احسان کرے، یعنی اپنے حصے سے بھی کم لے۔ یہ دراصل نتیجہ ہے اس مثبت سوچ کا۔ تمام انسانوں پر ان کے مذہب، نسل اور رنگ و خون کا لحاظ رکھے بغیر ان کے ساتھ نیکی کا برتائو کیا جائے اور ان کے متعلق اچھا خیال دل میں رہے۔ 
امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ ایک مجوسی حضرت ابراہیمؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے حضرت ابراہیمؑ سے ان کا مہمان بننے کی درخواست کی۔ آپؑ نے فرمایا، اگر تُو ایمان لے آئے تو میں تیری مہمانی قبول کرتا ہوں۔ وہ مجوسی چلاگیا۔ اللہ کریم کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ ابراہیمؑ تم ایک رات کا کھانا تبدیلی مذہب کے بغیر نہ کھلاسکے۔ ہم ستر برس سے اس کے کفر کے باوجود اس کو کھانا دے رہے ہیں۔ تم اسے ایک وقت کا کھانا کھلا دیتے تو کیا مضائقہ تھا۔ حضرت ابراہیمؑ فوراً اس کی تلاش میں دوڑنے لگے۔ وہ مل گیا۔ اس کو اپنے ساتھ واپس لائے اور اسے کھانا کھلایا۔ اس مجوسی نے پوچھا کہ کیا بات پیش آئی کہ تم مجھے خود تلاش کرنے نکلے۔ حضرت ابراہیمؑ نے وحی کا قصہ سنایا۔ وہ مجوسی کہنے لگا، اس کا میرے ساتھ یہ معاملہ ہے تو مجھے اسلام کی تعلیم دیجیے۔ وہ مجوسی اسی وقت ایمان لے آیا۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے نبیؑ کو کہہ رہے ہیں کہ آپؑ ایک مجوسی کو محض اس وجہ سے کھانا کھلانے سے انکار نہیں کرسکتے کہ اس نے آپ کا دین قبول نہیں کیا۔ 
مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اس میں انسان، حیوان، نباتات، چرند پرند اور کائنات کی دیگر مخلوق بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ مثبت کردار مثبت سوچ ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اجتماعی مثبت کردار ہی ایک خوشحال معاشرے کی ضمانت ہے۔ ایک مسلمان اور اسلامی ریاست کا شہری ہونے کی بناء پر ہمیں چاہیے کہ منفی سوچ کو ترک کرکے مثبت فکر کو اپنائیں، جو انسانیت اور وطن کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ منفی سوچ کے نتیجے میں معاشرے میں بہت سی خرابیاں اور بُرائیاں جنم لیتی ہیں، جن میں فواحش اور جرائم شامل ہیں۔ منفی کردار کے حامل لوگ معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ ہوتے ہیں، جو سماج اور ماحول کو آلودہ کردیتے ہیں۔ مثبت اجتماعی سوچ اور کردار ایسے خصائص ہیں جو انسان کو اس کی معراج تک لے جاتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت انسان ایک دوسرے کے دکھ اور درد میں شریک ہو کر ایک دوسرے کی تشفی و تسلی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ کئی دیگر جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ صلۂ رحمی، احسان اور عدل وغیرہ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ دوسروں سے صلۂ رحمی سے انسان کے رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثبت سوچ اور کردار قوموں کو پستی سے نکال کر عروج کی طرف لے جانی والی صفت ہے۔ مسلمانوں کو اسی لیے تاکید کی گئی ہے کہ کسی ایسے شخص کے متعلق جس نے آپ کے خلاف جنگ نہ کی ہو یا اس نے آپ کو آپ کے گھر سے نہ نکالاہو، اس کے ساتھ صلۂ رحمی کا مظاہرہ کرو اور اس کے متعلق اپنے دل میں بدگمانی پیدا نہ ہونے دو۔
 

image

اگر شام سے اپنی فورسز نکالے کا روسی اعلان درست ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ملک جوکہ خانہ جنگی سے نکلتا دکھائی دیتا ہے، اس کے پتے نئے سرے سے بانٹے جائینگے۔ ستم ظریفی ہے کہ روسی مداخلت کا اثرات بھی منفی ہیں؛ باغی اور دہشت گردوں گروپوں کو ابتدائی دوسال میں شکست دینے میں ناکام رہنے والی شامی حکومت اور ایران کا ملک پر کنٹرول قائم ہوا۔اب روس کو مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اپوزیشن کی فورسز کیساتھ توازن پیدا کرنا ہے، سب سے بڑھ کر ایران اور اس کی ملیشیاؤں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔ روس کے صدر ولادی میر پیوتن نے واضح اعلان کیا ، ’’ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ عرب جمہوریہ شام میں موجود روسی فوجیوںکا بڑا حصہ واپس بلا لیا جائے‘‘۔ 
اگرروسی واپس چلے جاتے ہیں، یا شام میں اپنی فوجی موجودگی کم کر دیتے ہیں، تب شام میں روسی اثرورسوخ کم ہو جائے گا، جس میں سب سے زیادہ مفاد ایران کا ہے۔ خامینائی حکومت شام میں مکمل غلبہ حاصل کرنے کیلئے لڑ رہی ہے، سوائے کرد علاقوں کے جوکہ ترک سرحد کے ساتھ واقع ہیں۔ شام میں ایرانی موجودگی کا اندازہ اس کی ملیشیاؤں کی تعیناتی کے مراکزسے لگایا جا سکتا ہے جوکہ عراق، لبنان اور اُردن کی سرحدوں کے علاوہ دمشق میں بھی ہیں۔ 
شام سے جزوی فوجی انخلا کے روسی اعلان کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔کیا اس کی وجہ زیر کنٹرول علاقوں اور صورتحال کی مینجمنٹ سے متعلق ایران کے ساتھ اختلافات ہیں؟یا پھر امریکہ کیساتھ معاملات بہتر کرنا چاہتا ہے جس کی شام میں معمولی سی موجودگی ہے؟اسد کے اتحادیوں میں جنگ کے بعد کی صورتحال پر عدم اتفاق ہونا فطری امر ہے۔ ایران امریکی چیلنج اور اس کے دباؤ کے پیش نظرشام پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول اور غلبہ چاہتا ہے ۔ جہاں تک روس کا تعلق ہے،تو دنیا کے کئی شورش زدہ علاقوں میں وہ امریکہ کے ساتھ توازن پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ روس اور ایران دونوں کے اپنے اپنے اندازے ہیں جن میں یکسانیت محض عارضی ہو سکتی ہے، جیسے کہ خانہ جنگی کے دوران تھی ۔ دونوںشام میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے بہانے داخل ہوئے، مگر دونوں کی فورسز نے لڑائی کے دوران زیادہ تر نشانہ شامی اپوزیشن کے گروپوں کو بنایا۔ امریکی اتحاد اس جنگ کا واحد فریق تھا جن کی لڑائی داعش کے خلاف پر مرکوز رہی۔
ماسکو کو ایرانی فورسز کو سپورٹ کرنے اور انہیں تحفظ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایران کے کثیر ملکی ملیشیائیں ہزاروں جنگجوئوں پر مشتمل ہیں جنہیں ایران مختلف ملکوں سے لایا ہے۔ علاوہ ازیں روسیوں کو فوجی سروس کے بدلے میں ایران کیا دے سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ کچھ نہیں دے سکتااور نہ دے گا۔ ایک خدشہ یہ ہے کہ روس کی فوجی موجودگی میں کمی سے شامی حکومت اور ایرانی ملیشیائیں کمزور پڑ جائیں گے، ایک امکان یہ ہے کہ کریملن اپنی اتحادی شامی حکومت کو چھوڑ کر وہ سب کچھ ضائع کردینا چاہتا ہے جوکہ اس نے اسد حکومت کیلئے کیا؟
نئی صورتحال جو بھی بنتی ہے، اس کا انحصار شام میں ایرانی اثرورسوخ سے متعلق امریکہ کے ممکنہ علاقائی منصوبے پر ہو گا۔ اگر ایران کی توسیع پسندی سے امریکہ کو خطرہ محسوس ہوتا ہے اور اس سے نمٹنے کا ارادہ کرتا ہے تب ایرانی پاسداران انقلاب کے لئے شام کی سرزمین ایک دلدل ثابت ہو گی۔ اگر امن مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تب ایرانی ملیشیاؤں کے لئے مخاصمانہ ماحول کیساتھ مطابقت پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا ؛ اور جب تک بشار الاسد کا وجود قائم دائم ہے اور اسے ایران کی حمایت حاصل ہے، امن مذاکرات کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ ایران کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا حل نکلے جوکہ شامی حکومت اور اپوزیشن کو ایک کر دے۔
 روسی فوج کے جزوی انخلا اور حالیہ جنیوا مذاکرات کی ناکامی دو ایسے عوامل ثابت ہو سکتے ہیں کہ ان کے نتیجے میں اسد حکومت اور خامینائی کے ایران پر اس حد تک دباؤ بڑھ جائیں کہ دونوں کو اپنے اپنے موقف کے از سرنو جائزے اور حقیقت پسندانہ سمجھوتوںکی پیش کش کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔۔ بشکریہ العربیہ)
 

image

اب شہباز شریف کو برداشت نہیں کریں گے، اس کے لیے جدوجہد کریں گے، لڑیں گے اور سڑکوں پر نکلیں گے۔ ہم موجودہ حکومت کے خلاف جدوجہد کرکے آئین کو نہیں توڑ رہے بلکہ اس کے بقا کی بات کررہے ہیں۔ عبوری حکومت سے پہلے انہیں ہٹادیں گے، یہ تو مغل بادشاہ ہیں، مغل بادشاہت جمہوریت نہیں۔ یہ باتیں سابق صدر زرداری نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ لاہور میں طاہرالقادری سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیں۔ یہ عام فہم اور سادہ جملے ہیں لیکن سیاسی الجھنوں کو سلجھانے اور کہیں مزید الجھانے کا اشارہ ہیں۔ یہ اشارہ آئندہ دنوں میں مکافات عمل کی جھلک نمایاں کرتا ہے۔ مکافات عمل اُس بڑھک کا ہوسکتا ہے جو شہبازشریف نے یہ کہتے ہوئے لگائی تھی کہ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ اگر سیاست میں بڑھک ہٹ ہوئی تو اپنی فلم نگری میں یہی بڑھکیں سپرہٹ ہوئی ہیں۔ فلم انڈسٹری میں ویسے تو مظہرشاہ کی ’’اوئے میں ٹبر کھا جاواں پر ڈکار نہ ماراں‘‘ الیاس کشمیری کی ’’میں دشمن دا بی مکا دیواں گا‘‘ اور مصطفیٰ قریشی کی ’’نواں آیاں ایں سوہنیا‘‘ جیسی بڑھکیں مشہور ہیں۔ ایسے ہی سیاسی بڑھکوں میں شہباز شریف کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا بڑھک ہرکسی کو یاد ہے۔ جس کے جواب میں زرداری کی بڑھکیں شروع ہوگئی ہیں۔ 
اب سیاسی منظر میں تجسس اور ایکشن کے آغاز کی امید رکھیں۔ مسلم لیگ کی طرف سے زرداری کو جواب شکوہ دیا جارہا ہے کہ ہم نے ہاتھ پکڑ کر آپ کی حکومت کی مدت پوری کرائی تھی لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہم نے جس روایت کی بنیاد رکھی ہے، آگے چل کر اس سے
 کھلواڑ کیا جائے گا۔ خواجہ آصف، سعد رفیق اور طلال چودھری کہہ رہے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے دیے گئے تو یہ بڑا مایوس کن اقدام ہوگا، حالات سے فائدہ اٹھانا پڑا تو اپنے سیاسی فائدے کے لیے اسمبلیاں چند ماہ پہلے تحلیل کرسکتے ہیں، اپوزیشن کی طرف سے استعفے ایسا ہی ہے کہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔ (ن) لیگ نے طاہرالقادری سے زرداری اور عمران خان کے روابط کو زیرو جمع زیرو قرار دیا ہے۔ بہرحال پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور عوامی تحریک قبل ازوقت انتخابات کے لیے اکٹھے ہوگئے ہیں، حکومت کے لیے ان سب کو روکے رکھنا مشکل ہوگا۔ پانچ سال قبل دہشت گردی اورلوڈشیڈنگ بڑے مسائل تھے لیکن اب معیشت اور بیروزگاری بڑے مسائل ہیں۔ آج کل حکمران جماعت کے لیے عوامی منصوبوں کی تکمیل اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہونا نیک شگون ہے۔ پہلے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان ہوا، اب سپریم کورٹ نے لاہور میں اورنج ٹرین منصوبہ بحال کرنے کی منظوری دے دی۔ جس سے (ن) لیگ کو فائدہ ہوگا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے کتنے امکانات ہیں۔ خوش آئند بات حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان نئی حلقہ بندیوں کے بل کی سینیٹ سے منظوری پر بیک ڈور ڈپلومیسی کی کامیابی ہے۔ جس کے بعد پیپلزپارٹی حکومت سے تعاون پر آمادہ ہوگئی اور بروقت انتخابات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے تعاون کی صورت میں مردم شماری کے عبوری نتائج پر نشستوں میں اضافہ کیے بغیر نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔ یوں انتخابات میں ممکنہ تاخیر اور قومی حکومت کے قیام کی چہ میگوئیاں کم ہونے کی توقع ہے۔ ملک میں تین سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف انتخابات میں جانا چاہتی ہیں جب کہ باقی جماعتوں میں سے اکثریت ایسا سیٹ اپ چاہتی ہے، جس سے وہ جماعتیں الیکشن میں جائے بغیر حکومت میں شامل ہوجائیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں وائس آف بلوچستان کے زیراہتمام انٹرنیشنل سیمینار سے خطاب میں اہم ملکی مسائل اجاگر کردیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے حکومت کرنا فوج کا کام نہیں، فوج اور سیاستدانوں سب نے غلطیاں کیں، جمہوریت پسند ہوں اور ووٹ کی طاقت اہم ہے، پاکستان صرف جمہوری عمل کے ذریعے ہی ترقی کرسکتا ہے لیکن جمہوریت کا ہرگزیہ مطلب نہیں
 کہ ہم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد ان کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیں، پاکستان کی ترقی کے لیے میرٹ کی بالادستی، تعلیم کا فروغ اور انتظامی امور میں بہتری کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ترجیحات کو طویل المدت کرنے کی ضرورت ہے، ملک میں 40 برسوں کے دوران سکولوں سے زیادہ مدارس بنے، جہاں دینی تعلیم دی جارہی ہے تاہم اب اس پرنظرثانی کی ضرورت ہے، مدارس کی تعلیم ناکافی ہے کیونکہ یہاں جدید دور کے لحاظ سے طلبہ کی تربیت نہیں ہوپارہی، مدارس کے خلاف نہیں لیکن ہم مدارس کا اصل مقصد بھول چکے ہیں، ایک مکتبۂ فکر کے مدارس میں 25 لاکھ طلباء زیر تعلیم ہیں، وہ کیا بنیں گے، مدارس سے نکلنے والے کیا مولوی بنیں گے یا دہشت گرد؟ اتنی مساجد نہیں جتنے مدارس ہیں اور یہ بھی ممکن نہیں کہ مدارس کے اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کو روزگار کی فراہمی کے لیے مساجد تعمیر کی جائیں، ان طلبہ کو جدید تعلیم دینے کی ضرورت ہے، ناقص تعلیم خصوصی طور پر مدارس قوم کو پیچھے لے جارہے ہیں۔ آرمی چیف کے اس خطاب میں جمہوریت کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرنے والوں سمیت کئی حلقوں کے لیے سخت پیغام ہے، اس کے ساتھ تعلیم، میرٹ اور گڈ گورننس کے مشورے بھی شامل ہیں۔ جس سے مستقبل کے حالات کی منظرکشی کی جاسکتی ہے۔ 
آئندہ دنوں میں کسی سیاسی اتحاد کا امکان نظر نہیں آرہا، صرف حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے چند جماعتیں مل کر چل سکتی ہیں مگر وہ انتخابات میں ایک پلیٹ فارم پر نہیں ہوں گی، جس سے مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مضبوط رہے گی۔ 
 

image

(20 جون 1923ءکی تحریر)
اس سرزمین کی سات کروڑ اسلامی آبادی میں بہت سے نوجوان ایسے نکل آئیں گے جو شرح جامی، قطبی، نور الانوار اور مشکوٰۃ شریف پڑھ چکے ہوں گے اور واقعات و حالات کے تغیر نے اس وقت بہت سے قلوب میں خدمت دینی کی آگ مشتعل کر دی ہے۔پھر کیا ہم ان سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے دو سال انجمن خدام الدین کے اس جدید دارالاقامہ میں بسر کر کے دیکھیں۔ یہ نہایت مبارک اور اپنی نوعیت کا واحد کام ہے۔ تمام ذی اثر مسلمانوں کافرض ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں انجمن کے اس مبارک کام کیلئے تحریک فرمائیں اور ہرجگہ سے مخلص طالب علم مہیا کر کے ان کی درخواستیں انجمن خدام الدین کے پاس بھجوا دیں۔ انجمن مذکور نے پہلے اس کیلئے جو اشتہار دیاتھا اس سے واضح ہوتا ہے کہ درخواستیں بھیجنے کی آخری تاریخ 20 رمضان المبارک رکھی گئی تھی اور داخلہ کی تین شوال سے15 شوال تک تھی۔ ہمیں امید ہے کہ انجمن مذکور کے محترم ارباب حل و عقد طلبا کو استفادہ کا مزید موقع دیں گے اور اس تحریک پر جتنی درخواستیں آئیں انہیں مسترد نہیں فرمائیں گے۔ بہرحال یہ مسلمانوں کیلئے علوم دینیہ سے استفادہ کا نہایت عمدہ موقع ہے۔ امید واثق ہے کہ وہ اس سے پورا فائدہ اٹھائیں گے۔ مزید تفصیلات کیلئے ناظم انجمن خدام الدین مسجد لائن سبحان خان شیرانوالہ دروازہ لاہور سے خط و کتابت کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر غلام حسین ایم۔ اے
پروفیسر غلام حسین صاحب ایم۔ اے کی ناگہانی گرفتاری ان کے احباب پر تو نہایت گراں گزری ہوگی لیکن جہاں تک ہم سمجھتے ہیں عامتہ الناس پروفیسر صاحب سے بہت کم واقف ہیں۔ آپ نہایت لایق، تعلیم یافتہ، روشن خیال اور درد ملت رکھنے والے بزرگ ہیں۔ آپ پہلے ایڈورڈس کالج پشاور میں پروفیسر تھے۔ 1922ء میں وہاں سے رخصت لے کر سیاحت کابل کیلئے تشریف لے گئے۔ کوئی چار ماہ بعد وہاں سے واپس تشریف لائے۔ اکتوبر 1922ء میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر وارد لاہور ہوئے۔
چونکہ آپ کو حمایت عمال کی تحریک سے بے انتہا لگن تھی اس لئے آپ نے مزدوروں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اخبار انقلاب جاری کرایا جس کے مدیر غلام نبی خاں صاحب تھے۔ آپ اور مسٹر شمس الدین حسن دونوں اس اخبار میں مضامین لکھا کرتے تھے۔ چند روز بعد انقلاب سہ روزہ ہو گیا۔ پھر دسمبر 1922ء کے بعد پروفیسر صاحب نے اس کو ماہوار کر کے اپنے زیر ادارت نکالنا شروع کیا لیکن وہ بھی تین ماہ سے زیادہ نہ چل سکا۔
صحافت کے علاوہ آپ نے مزدوروں کی انجمنوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ’’آل انڈیا ریلوے مین فیڈریشن‘‘ کے سالانہ اجلاس میں جو پادری اینڈ ریوز کی صدارت میں منعقد ہوا، پروفیسر صاحب مجلس استقبالیہ کے نائب صدر تھے۔ اس کے علاوہ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگرس کی مجلس انتظامی کے بھی رکن قرار پائے اور مسٹرداس صدرِ اجلاس کی تشریف آوری پر نہایت محنت و تندہی سے کام کیا۔ آپ لاہور کے قومی کالج میں پروفیسر تھے اور اخبار نیشن کے ڈائریکٹر بھی تھے۔
ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پروفیسر صاحب زیر دفعہ 2 قانون 1818ء کے ماتحت گرفتار کئے گئے ہیں جس میں بغیر سماعت مقدمہ وغیرہ عبور دریائے شور کی سزا دی جاتی ہے۔ 1907ء میں لالہ لاجپت رائے بھی اس دفعہ کے ماتحت مانڈلے نظر بند کئے گئے تھے۔ ہم حیران ہیں کہ پروفیسر غلام حسین کونسی خوفناک سازش میں مصروف تھے کہ حکومت کو انہیں گرفتار کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ کیا قانون 1818ء کے ماتحت آپ کو گرفتار کرنے کی وجہ یہ تو نہیں کہ حکومت کے پاس آپ کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں۔حق و انصاف کا منشا یہ ہے کہ پروفیسر صاحب پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایاجائے معلوم تو ہو کہ ان کا قصور کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ حزب العمال کی حمایت کیلئے ہندوستان میں جتنی تحریکات کی جاتی ہیں ان سب میں حکومت کو بولشویت کا بھوت نظر آتا ہے۔ ہمارے نزدیک ’’ریلوے فیڈریشن اور ٹریڈ یونین‘‘ کو پروفیسر صاحب کی گرفتاری کے خلاف نہایت زور سے صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئے اور بالخصوص اخبار نیشن کو اس امر کے خلاف شور مچانا چاہئے۔    (جاری ہے)

image

نہیں دی تھی۔ جنرل حمید نے، جو اُس وقت چیف آف سٹاف کے طور پر کام کر رہے رہے تھے، اپنے ایک ٹیلی گرام میں جنرل امیر عبداللہ کو مشرقی پاکستان میں سیز فائر کی بات چلانے اور سیز فائر سے قبل پاکستان کے حامی بنگالی شہریوں، بہاریوں اور مغربی پاکستان کے شہریوں کی حفاظت کو فول پروف بنانے کی بات کی تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گفتگو جاری ہے اگر وہاں چند روز میں کوئی قرارداد پاس ہو جاتی ہے تو مشرقی کمانڈ کی سیز فائر بے معنی تصور ہو گی۔ اِس جلد بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک جانب ہتھیار ڈالنے کی دل شکن تقریب جاری تھی تو دوسری جانب مکتی باہنی نے بنگلا دیش کے طول و ارض میں پاکستان کے حامی بنگالیوں، مغربی پاکستان کے شہریوں اور بہاریوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ اس کے سبب آج بھی بنگلا دیش میں اڑھائی لاکھ سے زیادہ بہاری کیمپوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ چنانچہ بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے، بنگلا دیش میں حسینہ واجد کی موجودہ حکومت کی جانب سے یہ اَمر انتہائی شرمناک ہے کہ وہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد ہتھیار ڈالنے کی دستاویز کی روح پر عمل کرنے اور بھٹو مجیب الرحمٰن معاہدے کے تحت بنگلا دیش اور پاکستان میں پاکستانیوں اور بنگلا دیش کے حامیوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے کے باوجود بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے بزرگ ترین افراد کو پھانسیوں پر چڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کے چار سالہ دور حکومت میں حسینہ واجد اور نریندر مودی کے اِن پاکستان دشمن حربوں کے خلاف اچھائی کی آواز بلند کرنے کے بجائے ناقابل فہم خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
ماضی میں سابق بھارتی وزیراعظم آنجہانی مسز اندرا گاندھی نے 1968ء میں مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارتی سنٹرل انٹیلی جنس بیورو کی کارکردگی کو ناکافی سمجھتے ہوئے ایک پسندیدہ پولیس انٹیلی جنس آفیسر آر این کاؤ کی سرکردگی میں 1968ء ہی میں ریسرچ اینڈ انالیسز ونگ ’’را‘‘ کے نام سے خفیہ آپریشنز کیلئے ایک نئی ایجنسی قائم کی۔ چنانچہ آر این کاؤ نے بھارتی انٹیلی جنس کی کارروائیوں کو مربوط بناتے ہوئے مشرقی پاکستان میں خفیہ آپریشن کیلئے شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ کے کارکنوں کے اور ہندو اقلیتی آبادی میں موجود بھارتی ایجنٹوں (Sleepers) کی مدد سے سابق مشرقی پاکستان کے طول و ارض میں تخریب کاری پھیلانے کی منصوبہ بندی کی۔ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں تعینات سول اور فوجی افسران میں بنگالی افسروں و جوانوں سے خفیہ رابطے استوار کرنے کیلئے اہم مغربی ممالک بالخصوص یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا میں بھارتی سفارت خانوں میں نفسیاتی پراپیگنڈے کی تربیت سے لیس ’’را‘‘ کے انٹیلی جنس آفیسرز کو سفارتی کور میں تعینات کیا گیا۔ بھارتی کمیونٹی کی مدد سے اِن انڈر کور افسران نے پاکستانی سفارت خانوں میں تعینات بنگالی افسروں کی بنگلا دیش کی آزادی کی آڑ میں وفاداریاں تبدیل کرنے کے علاوہ پاکستان فوج کے خلاف مذموم نفسیاتی پراپیگنڈے کیلئے یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا کی انسانی حقوق کی تنظیموں میں اپنے بھارتی ایجنٹ داخل کر کے اُنہیں پاکستان کے خلاف اُکسایا گیا۔
جنرل مانک شاہ، جنہیں بنگلا دیش آپریشن کی کامیابی پر فیلڈ مارشل بنا دیا گیا تھا، آر ایس ایس کے بنگالی بولنے والے ہندو تربیت یافتہ مسلح رضا کاروں کو مشرقی پاکستان میں تخریب کاری کیلئے اسلحہ کی خفیہ سپلائی کے علاوہ عوامی لیگ کے شدت پسند کارکنوں کو مکتی باہنی میں بھرتی کیلئے استعمال کیا گیا۔ انکارکارکنوں کو بھارت میں تربیت دے کر مشرقی پاکستان میں تخریب کاری اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور بہاری پاکستانیوں کی بستیوں میں قتل عام کے ذریعے خوف و ہراس پیدا کیا گیا۔ حتیٰ کہ آر ایس ایس کے مسلح رضاکاروں نے مکتی باہنی کے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ایسٹ پاکستان رائفلز کے پاکستانی فوجیوں پر شب خون مارنے کے لیے پاکستان فوج کی وردیاں استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ چنانچہ اِسی اسٹرٹیجی کے تحت بلوچستان میں تخریب کاری اور سبوتاژ کی کارروائیوں کو مہمیز دینے کے لیے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ نے موجودہ خان آف قلات اور نواب اکبر بگٹی مرحوم کے پوتے براہمداغ بگٹی و منحرف مری قبائل کے کچھ حلقوں اور اُن کے انتہا پسند ہندو بلوچوں کی مدد سے بلوچستان میں سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچانے کی نیت سے شیطانی منصوبہ بندی کی ہے، جس میں اُنہیں اسرائیلی ایجنسی ’’موساد‘‘ کی بھر پور مدد حاصل ہے۔ دوسری جانب پاکستان دشمنی پر مبنی انتہا پسند ایجنڈے کو مہمیز دینے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت سٹیل ٹائیکون سجن جندال (جو میڈیا ذرائع کے مطابق افغانستان میں بھارتی ایجنسی را کیلئے کام کر رہا ہے) کی مدد سے شریف فیملی سے ذاتی دوستی قائم کر کے سابق نااہل پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی سول حکومت کو اپنا تابع بنانے کی بھر پور کوشش کی۔ اس کا احوال بھارتی جاسوس ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی گرفتاری سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ بہرحال پاکستانی ایجنسیوں نے بلوچستان کی صوبائی حکومت کے تعاون سے بلوچستان میں بھارتی ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کامیاب آپریشن کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اندریں حالات، نریندر مودی، جو ایک مرتبہ پھر بھارتی صوبائی انتخابات میں پاکستان مخالف انتخابی مہم چلائے ہوئے ہے، کی پاکستان دشمنی سے باخبر رہتے ہوئے موجودہ پاکستانی سویلین حکومت کو بھی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ نریندر مودی پاکستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
 

image

فاٹا (Federally Administered Tribal Areas ) یعنی قبائلی علاقہ جات کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ انسانی بنیادی حقوق تو دور کی بات، یہاں کے مکین ’’حقوق‘‘ نام کے لفظ سے ہی نا آشنا ہیں۔ قبائلی علاقہ جات یا وفاقی منتظم شدہ قبائلی علاقہ جات، پاکستان کے چاروں صوبوں سے علیحدہ حیثیت رکھتے ہیں اور یہ وفاق کے زیر انتظام ہیں۔ قبائلی علاقہ جات 27 ہزار 220 مربع کلومیٹر کے علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں جو صوبہ سرحد سے منسلک ہیں۔ مغرب میں قبائلی علاقہ جات کی سرحد افغانستان سے ملتی ہیں جہاں ڈیورنڈ لائن انہیں افغانستان سے جدا کرتی ہے۔ 
قبائلی علاقہ جات کے مشرق میں پنجاب اور صوبہ سرحد اور جنوب میں صوبہ بلوچستان ہے۔ اس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ علاقے پاکستان کا حصہ تو ہیں تاہم ابھی تک صوبے کی حیثیت حاصل نہیں، یہ پاکستان کی دو وفاقی اکائیوں میں سے ایک، دوسری اکائی اسلام آباد ہے۔ قبائلی علاقوں میں لوگ مختلف پشتون قبائل میں تقسیم ہیں۔ علاقائی دارالحکومت پاراچنار ہے۔  یہ علاقے 7 ا یجنسیوں/ اضلاع پر مشتمل ہیں۔ خیبر ایجنسی، کرم ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان ان کے علاوہ پشاور، ٹانک، بنوں، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ 6 سرحدی علاقے بھی موجود ہیں۔ سرحدی علاقہ بنوں، سرحدی علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان، سرحدی علاقہ کوہاٹ سرحدی علاقہ لکی مروت، سرحدی علاقہ پشاور، سرحدی علاقہ ٹانک۔ قبائلی علاقہ جات کے اہم شہروں میں پارہ چنار، میران شاہ، میر علی، باجوڑ، وانا اور درہ بازار شامل ہیں۔ فاٹا میں انگریز کے دور کا قانون رائج ہے جو آج تک چلا آ رہا ہے۔ اسے تبدیل کرنے کی کوشش اور اس علاقے کے مکینوں کو ان کے جائز حقوق دینے کے لیے کسی حکومت نے کوئی کوشش نیت سے نہیں کی۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 247 کے مطابق ایف سی آر نامی ایک قانون ایسا بھی ہے جس کی رو سے فاٹا اور شمالی علاقہ جات پر کسی بھی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کا کوئی بھی دائرہ اختیار متعین نہیں۔ یہ علاقہ جات براہ راست صدارتی احکامات کے پابند ہوتے ہیں۔
یہاں جو قانون نافذ ہے اسے فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (FCR) کہتے ہیں جسے پہلی مرتبہ1848ء  میں برطانوی راج نے نافذ کیا تھا۔ یہ قانون خصوصاً شمالی علاقہ جات میں پختون اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے رائج ہوا تھا۔ پھر 1873، 1876 اور 1901ء میں اس میں مزید ترامیم ہوئیں۔ 1947ء میں حکومت پاکستان نے اس قانون کو من و عن تسلیم کرنے کے بجائے ایک ترمیم اور کر دی جس کی رو سے کسی بھی فاٹا کے شہری کو اس کا جرم بتائے بغیر گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ اس قانون کی رو سے فاٹا اور شمالی علاقہ جات کے شہری وکیل اور اپیل ایسے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اگست 2011ء تک کسی بھی سیاسی جماعت کو ان علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں تھی۔ 9 مارچ 2008ء کو سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پوری پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے ہی خطاب میں اس ’’قانون‘‘ کو ختم کرنے کا اعلان تو کیا مگر عملدرآمد میں بہت دیر کر دی، اگرچہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی۔ بنیادی انسانی حقوق سے محروم  ان علاقوں کے شہری بہت پہلے سے خود کو سیاسی اور معاشرتی طور پر تنہا محسوس کرنے لگے تھے۔
مختلف قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان، قبائلی رہنماؤں اور ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے مطالبے پر سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے قبائلی علاقوں کے مستقبل کے تعین اور ان کے انتظام میں اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔ اس سے قبل پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کے بعد ہونے والی ایک کل جماعتی کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مرتب کیے جانے والے لائحہ عمل میں بھی قبائلی علاقوں میں اصلاحات لانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ سابق وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نے متفقہ طور پر وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علمائے اسلام اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پختون قوم پرست سیاسی رہنما محمود خان اچکزئی کی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس انضمام کی مخالفت کر رہی ہیں۔ حکومت کی اتحادی ان دونوں جماعتوں کی مخالفت کے باعث اس بارے میں قانون سازی التوا کا شکار ہے جس پر دیگر جماعتیں خصوصاً پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی خاصی برہم ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں قبائلی پٹی کے لوگوں کی رائے کو مقدم سمجھا جائے یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ فاٹا کے لوگ اصل سٹیک ہولڈر ہیں اور ان کی رائے فیصلہ کن ہونی چاہیے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق اس معاملے پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم ایک بڑا ذریعہ ہے۔ فاٹا میں ایک کھلا، منظم اور شفاف انداز میں ریفرنڈم منعقد کیا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے ایک دلیل پیش کی جاتی ہے کہ قبائلی پٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی انضمام کے حق میں ہیں۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح انتہائی کم رہی اور خواتین کی شمولیت بہت ہی کم تھی۔ علاوہ ازیں انتخابات میں فاٹا کے ارکان قومی اسمبلی کو اس بات کا مینڈیٹ نہیں دیا گیا کہ وہ قبائلی پٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ گرینڈ جرگے کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ تاریخی طور پر جرگہ پختونخوا کلچر کا ایک لازمی حصہ ہے جس کے ذریعے تنازعات کو حل کیا جاتا ہے۔ جرگے کی معقولیت کا انحصار جرگہ کے ارکان کی ایمانداری اور سچائی پر ہوتا ہے۔ اقدار کے زوال کی وجہ سے جرگہ کے فیصلوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ پُرامن طور پر کیا جانا چاہیے نہ کہ دھرنوں سے۔ اگر لوگوں کا خیال ہے کہ انضمام سے دہشت گردی رک جائے گی تو ان کو سوات کی مثال ذہن میں رکھنی چاہیے جو اگرچہ خیبر پختونخوا کا بندوبستی علاقہ ہے مگر اس میں دہشت گردی نے دوبار سر اٹھایا تھا۔
کچھ سیاسی لوگوں کا خیال ہے کہ انضمام کیلئے پانچ سال کا عبوری وقت غیر ضروری ہے اور قبائلی پٹی کا فوری انضمام ہونا چاہیے۔ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں مختلف نظام کام کرتے ہیں۔ یہ اختلافات کا سلسلہ ہو سکتا ہے اس پر مفاہمت میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ مغربی اور مشرقی جرمنی اور ہانگ کانگ اور مین لینڈ چائنہ کا انضمام اس سلسلے کی کارآمد مثالیں ہیں۔ چین میں ہانگ کانگ کو خصوصی سٹیٹس دیا جاتا ہے اگرچہ یہ ایک ایسے جمہوری نظام کے تحت کام کرتا ہے جو مؤخرالذکر سے مختلف ہے۔ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ بڑے اور بنیادی سٹیک ہولڈرز کے ذریعے کرنا چاہیے اور بڑے اور بنیادی سٹیک ہولڈرز وہاں کے عوام ہیں۔ جو بھی فیصلہ کیا جائے پُرامن طور پر کیا جانا چاہیے۔ فاٹا کے عوام کو اپنی قسمت اور وسائل کا فیصلہ خود کرنے دینا چاہیے۔ اس سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے تنازع ختم ہو جائے گا۔ فوجی لحاظ سے یہ حساس علاقہ ہے اور اس میں بے چینی ملکی مفاد میں نہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قبائلی عمائدین کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت اور امن و استحکام کے لیے ان کی قربانیوںکو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کی حمایت کرتی ہے، فاٹا کے معاملے پر قبائلی عوام کے جذبات کا احترام کیا جانا چاہیے، فاٹا کی قسمت کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا، فاٹا میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، قبائلیوں کے موقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، فاٹا میں دہشت گردی کیخلاف کامیابی بہادر قبائلیوں کی قربانیوں سے ہی ممکن ہوئی۔
اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ وہاں کے عوام کے بہترین مفاد میں فیصلہ وہاں کی مکینوں کی رائے کو سامنے رکھ کر ہی کیا جانا چاہیے اور ایک کروڑ سے زائد آبادی کے بنیادی حقوق کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا انسانی قدروں کے ہی خلاف ہے۔
 

image

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کی وہاں منتقلی کے اعلان کے بعد عالمی سطح اور خاص طور پر مسلم و عرب دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ایسے لگ رہا ہے جیسے کسی نے لمبی نیند سلا دیے گئے مسئلہ فلسطین کو اچانک جگا دیا ہو۔ اس وقت یروشلم سے متعلق ٹرمپ کے اعلان کے خلاف اور فلسطین کے حق میں پوری دنیا میں مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پُرامن مظاہروں کے ساتھ ساتھ پُر تشدد واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ بعض مقامات پر گرفتاریاں تک دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اسرائیل  اپنی سابقہ روایات پر عمل کرتے ہوئے غزہ میں حماس کے مبینہ ٹھکانوں پر راکٹوں اور جنگی جہازوں سے حملہ کر رہا ہے۔ ایسے حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کے شہید اور زخمی ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ جب یورپ کے اکثر ممالک ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کی مذمت کر چکے تو مسلمان ملکوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے بھی ترکی میں معرکہ آرائی کرتے ہوئے ایک کانفرنس منعقد کر ڈالی جس کا اختتام امریکی صدر کے اعلان کی مذمت پر ہوا۔
امریکی صدر کے یروشلم سے متعلق اعلان جیسے واقعات کے بعد فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف مظاہروں کا رونما ہونا نہ تو کوئی انوکھا واقعہ ہے اور نہ ہی اس سے کسی کو یہ امید ہے کہ ایسے مظاہروں سے فلسطین کے مسئلے کا کوئی حل ممکن ہو سکے گا۔  افسوس کہ تمام مظاہروں، مذمتی قراردادوں، گرفتاریوںاور شہادتوں کے بعد بھی حسب سابق مسئلہ فلسطین جہاں ہے، جیسا ہے، ویسا ہی رہے گا۔ مذکورہ کارروائیوں کے بعد ہمیشہ کی طرح غزہ کے فلسطینیوں پر ان کی اپنی زمین مزید تنگ کر دی گئی ہے۔ غزہ کے حدود اربعہ سے اس بات کا بہتر طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس علاقہ کی ناکہ بندی کے بعد وہاں کے باسیوں کی زندگی کس حد تک دشوار ہو جاتی ہے۔ غزہ کے مغرب میں بحیرہ روم، جنوب مغرب میں مصر اور مشرق سے شمال تک 51 کلومیٹر طویل اسرئیلی علاقہ ہے۔ اسرائیلی نیوی نے غزہ کی ساحل کی اتنی سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے کہ سمندری راستے سے وہاں کچھ بھی لانا اور لے جانا ممکن نہیں۔ طویل زمینی سرحد پر اسرائیل نے غزہ باسیوں کو آمدورفت کے لیے صرف دو مقامات کیرم شلوم اور ایرز سے راستہ دے رکھا ہے۔ ان میں سے کیرم شلوم سامان کی نقل و حمل اور ایرز انسانوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نئی صورتحال پیدا ہونے کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے مذکورہ دونوں راستوں کو ہر طرح کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے۔ مصر نے غزہ کے ساتھ جُڑی 11 کلومیٹر سرحد کافی عرصہ پہلے سے  بند کر رکھی ہے۔ اسرائیل کی موجودہ اور مصر کی پہلے سے جاری پابندیوں کے بعد غزہ ایک مرتبہ پھر تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی جیل کی طرح بن کر رہ گیا ہے۔ اسرائیل کا غزہ کو جیل کی طرح بنا دینا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے وضع کردہ قوانین کی صریحاًخلاف ورزی ہے مگر اسرائیل نے نہ تو پہلے کبھی فلسطینیوں کے انسانی حقوق کا احترام کیا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس سے ایسی کوئی توقع رکھی جا سکتی ہے۔
انسانی حقوق سے محروم فلسطینیوں کے ذکر کے بعد کچھ بات اپنے فاٹا باسیوں کی ہو جائے جن کے حقوق کسی اسرائیل نے نہیں بلکہ ہم نے خود ہی سلب کیے ہوئے اور انہیں انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون FCR کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ فاٹا ایسے نیم خود مختار قبائلی علاقہ جات کا مجموعہ ہے جس کے باشندے کہنے کو تو پاکستان کے عام شہریوں پر نافذ قوانین کے اطلاق سے مبرا ہیں مگر حقیقت میں FCR کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ فاٹا کے مشرق اور جنوب میں پاکستان کے صوبے کے پی کے اور بلوچستان ہیں جبکہ مغرب اور شمال میں افغانستان کے صوبے کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست اور پکتیکا واقع ہیں۔ فاٹا میں غیر مسلم اور غیر پشتون آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ فاٹا میں آباد پشتونوں کے نا صرف ان کے ہمسایہ میں واقع کے پی کے اور بلوچستان کے پشتونوں بلکہ افغان علاقوں میں رہنے والے پشتونوں سے بھی گہرے رابطے اور تعلقات ہیں۔ فاٹا سات قبائلی ایجنسیوں باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان اور 6 قبائلی علاقوں، پشاور، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ٹانک (جنڈولہ) اور ڈیرہ اسماعیل خان میں منقسم ہے۔ فاٹا کے اہم شہر پارا چنار، میران شاہ، رزمک، وانا، جمرود اور لنڈی کوتل ہیں۔ فاٹا کا انتظامی مرکز تو کے پی کے کا دارالحکومت پشاور ہی ہے مگر پاراچنار کو اس کا سب سے بڑا شہر کہا جاتا ہے۔ فاٹا کا رقبہ 27220 مربع کلومیٹر اور 2017ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 5001676 نفوس ہے۔
فاٹا کے 5001676  لوگ ہمارے آئین نہیں بلکہFCR کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ FCR ایسے قوانین کا مجموعہ ہے جن کا اطلاق صرف فاٹا کی حد تک کیا جاتا ہے۔ یہ قوانین انگریزوں کے دور غلامی کی ایسی بد ترین یادگارہیں جنہیں آزاد پاکستان کے قیام کے بعد تبدیل یا ختم کرنے کے بجائے مزید پُر جبر بنا دیا گیا۔ FCR کے ذریعے کی جانیوالی انسانی حقوق کی پامالیوں کی تفصیل بہت طویل ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں مختصراً ٖصرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ فاٹا کے جن انسانوں پر FCR  نافذ ہے انہیں نہ تو پاکستان کے عام شہریوں کی طرح اپنی بے گناہی کے لیے دلیل دینے کا،  نہ خود پر عائد الزام کے خلاف وکیل کرنے کا اور نہ ہی سزا کی صورت میں کہیں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ FCR  جیسے سیاہ قانون کی جڑیں انگریزوں کے 1877ء میں نافذ کیے گئے قانون MOR (Murderous Outrages Regulation) میں پیوست ہیں۔ انگریزوں نے یہ قانون خاص طور پر ان پشتونوں کو ختم کرنے کے لیے بنایا تھا جو مسلح کارروائیوںکے ذریعے انگریز راج کے خاتمہ کے لیے برسرپیکار تھے۔ MOR میں بوقت ضرورت کئی تبدیلیاں کرنے کے بعد انگریزوں نے 1901ء میں اسے FCR سے تبدیل کیا۔ 1947ء میں آزاد پاکستان کے قیام کے بعد حکومت نے FCR  کو ختم کرنے کے بجائے اس میں یہ اضافہ کیا کہ آئندہ فاٹا کے کسی بھی باشندے کو کسی جرم کی سرزدگی کے الزام کے بغیر بھی گرفتار کیا جا سکے گا۔
معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر ہر لحاظ سے نظر انداز کیا گیا فاٹا جب مکمل طور پر دہشت گردوں کا مرکز بن گیا تو پھر مقتدر طبقات کو خیال آیا کہ یہ تباہی وہاں اس وجہ سے برپا ہوئی کیونکہ جو کم از کم اصلاحات ملک کے دوسرے حصوں میں نافذ کی گئیں، فاٹا کے لوگوں کو ان سے بھی محروم رکھا گیا۔ ماضی میں سرزد ہونے والی دانستہ و نادانستہ غلطیوں کے ازالے کے لیے تیار کی گئی پالیسیوں پر عملدرآمد کو دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کا حصہ بنا دیا گیا۔ دہشت گردی کی جنگ میں جس طرح سے آگے بڑھنے، رکنے یا پیچھے ہٹنے کا عمل جاری رہا، لگتا ہے  اسی طرح  فاٹا سے FCR کے خاتمے کا کام کیا جا رہا ہے۔
 

image

عرب دنیا میں غیر معمولی مقبولیت کے حامل علامہ یوسف القرضاوی مسجد عمر بن خطاب میںصلوٰۃ جمعہ میں صدا دیتے ہیں کہ ’’مسلمان کہاں ہیں؟ عالم اسلام کہاں ہے؟ او آئی سی کہاں ہے؟؟؟ عرب لیگ کہاں ہے؟؟؟ کہاں ہے امت مسلمہ جو مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے؟؟؟ تم اس ظلم پر خاموش کیسے رہ سکتے ہو؟ اس پر نہ کیوں نہیں کہتے؟؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مسجد اقصیٰ چلی جائے اور ہماری گردنوں پر سر سلامت رہیں۔۔۔‘‘ یروشلم پر امریکی اقدام کے بعد دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں امریکا نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل کی بدترین دشمن ’’اقوام متحدہ‘‘ ہے۔ امریکا نے اس پر تعصب کا الزام بھی لگایا۔ امریکا نے واضح طور پر ہنگامی اجلاس میں کہا کہ اسرائیل کو ڈرا دھمکا کر یا دباکر نہ کبھی کسی معاہدے کا پابند بنا سکیں گے اور نہ ایسا ہونا چاہیے۔ فلسطینی نمائندے نے اجلاس میں کہا کہ ’’صدر ٹرمپ نے جو کیا، اس کے بعد امریکا کبھی بھی امن کا امین نہیں ہوسکے گا۔‘‘ امریکا نے دنیا بھر کی مخالفت مول لے کر اسرائیل کے حق میں اپنے منشور پر عمل کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکا اپنے اقدام پر ندامت کا اظہار کرتا، لیکن الٹا وائٹ ہائوس فلسطین کو مزید دھمکی دے رہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ’’اگر امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔‘‘
 پوری دنیا میں زبانی جمع خرچ کے احتجاج و مظاہرے ماسوائے اپنے ملک کے عوام کو امریکا؍ اسرائیل مخالف جذبات ٹھنڈے کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔ یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اسلامی بلاک، یورپی یا مغربی ممالک امریکا کی جانب سے یروشلم کو دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد کوئی سخت عملی اقدام کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سو برس قبل کی جانے والی اسرائیلی پیش گوئی پوری ہونے جارہی ہے۔ دو ریاستی حل سے انحراف کے بعد امریکا نے ثالثی کا کردار کھوکر اسرائیل کی حمایت میں بے خوف ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دیکھا جائے تو امریکا نے دنیا بھر کے ممالک کو کھلا چیلنج دیا کہ امریکا جب چاہے، جو چاہے کرسکتا ہے، کوئی ایٹمی طاقت ہو یا تیل کی معیشت پر مبنی معاشی طاقت، امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے انتخابی منشور سے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکی۔ ٹرمپ کا یہ جارحانہ اقدام اُن تمام ممالک کے لیے نوشتۂ دیوار ہے جو امریکا کے ساتھ اپنی ’’دوستی‘‘ کا بھرم بھی رکھتے ہیں اور احتجاج بھی کررہے ہیں۔ امریکا کے اسرائیل سے تعلقات کوئی مخفی عمل نہیں رہا کہ موجودہ امریکی اقدام پر عالمی برادری سکتے میں آگئی ہو اور اب کسی راست اقدام سے ان پر رعشہ طاری ہوچکا ہے۔ امریکی صدر اپنے اعلان سے قبل ہی دنیا کو باور کراچکے تھے کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے اور امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ عرب ممالک سمیت دنیا بھر میں اس فیصلے سے قبل ہی امریکی صدر کو بیانات کے ذریعے روکنے کی لاحاصل ’’کوشش‘‘ کی، لیکن امریکی صدر اپنے عزائم کے لیے ایک مضبوط ارادے کے ساتھ عالمی برادری کو چیلنج کرنے کا تہیہ کرچکے تھے اور حسب توقع سابق امریکی صدور کلنٹن، بارک اوباما کے برعکس ٹرمپ نے وہ اقدام کرڈالا، جو امریکا کے سابق صدور دو دہائیوں سے خواہش ہونے کے باوجود نہیں کرسکے تھے۔ امریکی صدر کے اعلان کے بعد بیانات، مذمتی اجلاس، تجزیات اور مظاہروں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، لیکن اس سے امریکا کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا، کیونکہ وہ عالمی بساط پر اپنی مرضی کا کھیل کھیلنے کا عادی ہے۔ امریکا، یہودیوں کی دی گئی پالیسیوں کو دنیا بھر میں نافذ کرتا ہے اور چھوٹے، بڑے تمام مسلم و غیر مسلم ممالک امریکی پالیسیوں کے برخلاف جانے سے کتراتے، گھبراتے اور ڈرتے ہیں۔ 
مسلم ممالک کا حالیہ ردّعمل پانی کے بلبلے سے زیادہ کچھ نہیں۔ پچاس برس قبل 1948 میں جو حالت مسلم ممالک کی تھی، آج اُس سے بدتر حالت اُن کی ہے۔ مسلم امہ کچھ اور چاہتی ہے اور حکمران کچھ اور کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ برطانیہ نے اپنی بَلا عربوں کے سر ڈال کر یہودیوں کی آمد کا سلسلہ اپنے ملک میں تو روک دیا تھا، لیکن یہ فتنہ ایک جگہ جمع ہوکر عظیم عالمی فتنہ بن کر نمودار ہوچکا ہے۔ انگریزوں نے جنگِ عظیم اوّل کے خاتمے کے بعد اپنی روایتی بدعہدی کو دہراتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کرکے اسرائیلی حکومت کے قیام کے لیے ایک قانون منظور کیا۔ اسی طرح معاہدہ سائیکس پیکاٹ کے تحت برطانیہ اور فرانس نے اپنے زیر انتظام علاقوں کو اس طرح تقسیم کردیا کہ سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑوں کے بعد کئی مسلم نام کی ریاستیں وجود میں تو آگئیں، لیکن ان ریاستوں میں عالمی طاقتوں سے جنگ کرنے کی استطاعت نہیں تھی۔ چند سو یہودی پچاس برسوں بعد اب لاکھوں کی تعداد میں اسرائیلی ریاست میں جمع ہیں اور دنیا بھر میں اپنی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے امریکا کے ذریعے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے میں مصروف ہیں۔ مذمت پر ان گنت صفحات کالے کیے جاچکے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل ماضی کے مقابلے میں یہودیوں کی سازشوں اور امریکا کے کردار کو بخوبی سمجھتی ہے۔ مسلم دنیا میں خانہ جنگیوں کا فائدہ امریکا اور یورپ اٹھا رہے ہیں۔ آخر کون سا ایسا ملک ہے جو امریکا و اسرائیل کو لگام دے سکے تو اس کا جواب نہیں ملتا۔ بدقسمتی سے مسلم ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت تو ہے لیکن قوت و شجاعت میں ماضی کے مسلم حکمرانوں کی طرح موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تیاریاں نہیں کیں۔ وہ مسلمان جس کے آنے کی خبر سے ہی یورپ کپکپاتا تھا، اب ان ہی مسلمانوں کی ناطاقتی پر خنداں ہے۔ اسلام کے نام پر پہلے فرقے پیدا کیے گئے، پھر ان میں اختلافات پیدا کرکے وحدتِ اسلامی کو منقسم کردیا گیا۔ وطنیت کی تقسیم کے ساتھ مسلمان بھی کچھ اس طرح تقسیم ہوئے کہ امت واحدہ کا تصور زمینی سرحدوں میں تقسیم ہوتا چلا گیا۔ آج دنیا یہ نظارے دیکھتی ہے کہ ایک جانب صلیبی جنگ قرار دے کر پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد ٹھہرایا جاتا ہے تو دوسری طرف معاشی طور پر مضبوط مسلم ریاستیں، انِ مسلم دشمن ممالک کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے کے لیے اپنے تمام مالی وسائل و خزانے جمع کیے ہوئے ہیں۔ مسلم ممالک کے اربابِ اقتدار میں ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ پتا نہیں کب کوئی انقلاب آجائے، جس سے ان کے مالی خزانے محفوظ نہ رہ سکیں، اس لیے اپنی تمام دولت کا بڑا حصّہ مسلم دشمن ممالک کے پاس ہی امانتاً رکھوا دیتے ہیں۔ آج اگر ایک عام مسلمان بے یارومددگار ہے تو اس کی اصل وجوہ میں سب سے بڑا کردار ہمارے مسلم ممالک کے ارباب اختیار و اقتدار کا ہے، جنہوں نے امت واحدہ کے لیے عملی طور پر کوئی قدم اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ اگر کسی نے اٹھنے کی کوشش بھی کی تو اُس کے ملک میں بغاوت یا پھر امریکا کو جارحیت کی دعوت دے کر ملیامیٹ کردیا گیا۔ باہمی ریشہ دوانیوں کا یہ سلسلہ لامحدود اور غیر متعین ساعت کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ امت مسلمہ کی انہی کمزوریوں کی بناء پر امریکا، اسرائیل دنیا بھر میں من مانی کرتے پھر رہے ہیں۔ سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی مسلم ملک اسرائیل پر حملے کی ڈیڈ لائن دیتا (خوش فہمی ہی ہے) تو کیا امریکا اس پر خاموش رہتا۔ یقینی طور پر ایسا نہیں ہوتا ۔ اوّل تو یہ خام خیالی ہی ہے کہ کوئی بھی ملک اتنی ’’جرأت‘‘ پیدا کرے کہ اسرائیل کے خلاف عملی جنگ کا تصور بھی کرسکے۔ اس وقت داعش سے بڑا فتنہ اسرائیل ہے، لیکن اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل کے تمام ممالک بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکتے، بلکہ امریکا انہیں اقوام متحدہ کے اندر اسرائیل کو مظلوم بناکر جھاڑ رہا ہے۔ 
کیا ہم اُس وقت کا انتظار کریں جب جرمن قوم کی طرح پھر کہیں ایک نیا ہٹلر پیدا ہو اور ہولو کاسٹ برپا ہوجائے۔ کیا ہم کسی کا انتظار کررہے ہیں۔ کیا ہمارے انتظار کرنے میں ہی عافیت ہے۔ کیا ہم اس فکر میں ہیں کہ مسلم حکمران کرسیٔ اقتدار کو بچائے ’’کیونکہ اسی میں مصلحت ہے۔‘‘ آج ایک نظر اطراف پر ڈالیں تو وہاں یہ جنگ چھڑی ہوئی ہے کہ فلاں ملک اسرائیل جاکر جہاد کیوں نہیں کرتا، فلاں ملک اپنی ملیشیائوں کو اسرائیل کے خلاف استعمال کیوں نہیں کرتا، فلاں ملک اپنے عسکری اتحاد کو طاقت ور بناکر اسرائیل کے خلاف بھرپور اعلان جنگ کیوں نہیں کرتا۔ عجب المیہ ہے کہ ہم اپنے مصائب کا ذمے دار امریکا اور مصائب سے نکلنے کے لیے بھی اسی کی جانب دیکھتے ہیں۔ ہم ان خوش فہمیوں سے کب نکلیں گے۔ کہاں ہیں مشرق تا مغرب تک پھیلے ہوئے وہ مسلم جو شاہوں کے ثناء خواں نہیں۔ نیا مرگ انبوہ برپا ہوگا مگر۔۔۔ نشانہ خدانخواستہ اس بار یہودی نہیں بلکہ۔۔۔!!!
 

image

ہمارے کلاسیکی اور اساتذہ میں سے ایک بڑے شاعر مرزا رفیع سودا کا ایک مشہور اور توجہ طلب شعر ہے:
فکرِ معاش، عشقِ بتاں، یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیاکیاکرے؟
مجھے تاریخ سے کوئی علاقہ اور شغف نہیں اس لئے وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ مرزا رفیع سودا کا عہد کونسا اور متذکرہ شعر کتنا پرانا ہے مگر اپنی اس ’’جہالت اور کم علمی‘‘ کے باوجود یہ گمان کر سکتاہوں کہ یہ شعر صدی ڈیڑھ صدی پرانا تو ضرور ہوگا۔ اب ذرا آیئے شعرکے نفس مضمون کی طرف، مرزا رفیع سودا نے کس قدر سیدھے سبھائو، آسان الفاظ اور انداز میں روزمرہ زندگی کی ہمہ جہت اور ناگزیر مصروفیات کا تذکرہ کرتے ہوئے باقاعدہ ہاتھ اٹھا دیئے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے بھلا ایک شخص اور کیا کیاکر سکتا ہے؟؟ سودا کے اس شعر کا جب بھی حوالہ نظر نواز ہوتا یا مطالعے میں آتا ہے تو خیال آتا ہے کہ صدی ڈیڑھ صدی پہلے تو زندگی اور معمولات زندگی اتنے ہمہ گیر، الجھے ہوئے اور ہمہ جہت نہ تھے جیسے آج۔ اب تو زندگی کے اتنے بکھیڑے اور معاشی مسائل کے حل کیلئے بھاگ دوڑ اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایک ہی گھر اور کنبہ کے افراد کی بھی کئی کئی روز ملاقات نہیں ہو پاتی۔ یوں اگر سودا آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو نہ معلوم ہماری اس صورتحال اور کیفیت کو کیسے بیان کرتے تاہم کبھی کبھی مجھے ہمدم دیرینہ اور پاکستان ٹیلی ویژن میں اپنے ماضی کے رفیق کار، شاعرایوب خاور کا یہ شعر:
ہاتھ الجھے ہوئے ریشے میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں
اس صورتحال کی نشاندہی کرتا ہوا لگتاہے، جس کا تذکرہ مرزا رفیع سودا کے شعر کے تناظر میں سطور بالا میں کیا گیا ہے تاہم بے ہنگم زندگی کی بے ترتیب، بے معنی اور لایعنی مصروفیات کے معمولات کے اس عہد میں بھی اگر کچھ لوگ، دوست احباب باقاعدگی سے مل بیٹھنے کی تدبیر، گپ شپ کی سبیل اور باہم مکالمہ کی راہ نکال لیتے ہیں تو یقینا وہ سراہے جانے کے اہل ہیں۔ تمہید کچھ زیادہ طولانی ہو گئی۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک عرصہ سے یار عزیز، زابر سعید تکرار اور اصرار کے ساتھ مجھے پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں ہر ماہ باقاعدگی سے سجنے والی اپنی ایک محفل میں شرکت کی دعوت دے رہے تھے مگر وہی سبب جس کا اوپر تذکرہ ہوا ہے میرے آڑے آتا رہا تاہم گزشتہ دنوں جب عزیزی Zabar مجھے باقاعدہ اغوا کرنے کے انداز میں یونیورسٹی کلب میں ہونے والی اپنی اس محفل میں لے گئے تو وہاں جا کر افسوس ہواکہ میں ایسی محفل اور احباب سے دور کیوں رہا۔ ہال کے اندر داخل ہوتے ہی ڈاکٹر عالم خان اور پروفیسر نجیب جمال جیسے دوستوں سے ملاقات نے ذوق اور ذوق کا یہ شعر زندہ اور مسخر کر کے لا سامنے کھڑا کر دیا کہ:
اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
تاہم آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ محبتوں سے لبریز ایسی محافل کا ایک پہلو یاحصہ ’’غیبت سیشن‘‘ بھی ہوتا ہے یعنی جو محفل میں نہیں ہوتے ان کا تذکرہ بھی بقدر ظرف کیا جاتا ہے۔ گو یہاں یہ رویہ اور یہ منظر نہ تھا مگر جب شاعر ظفر اقبال کی شاعری اور شعری محاسن پر گفتگو چلی تو پھرجہاں اس کالم نگار نے:
 یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
اور
خاتم الشعراء ہمیں مانیں یا نہ مانیں ظفر
شاعری کے دین کو ہم نے مکمل کر دیا
جیسے لازوال اور بے مثال اشعار کا تذکرہ کیا، وہیں کسی نے ابتذال کی حدوں کو چھولینے والی ظفر اقبال کی شاعری کا بھی ذکر چھیڑ دیا اور کہا کہ المیہ یہ ہے کہ یہ شاعری ان کی جوانی یا نوجوانی کے عہد کی تخلیق نہیں، تازہ واردات ہے ۔
ان دنوں کوئی بھی محفل، مجلس یا اکٹھ پڑھے لکھے اہل دانش کا ہو یا بے چارے عام الناس کا، جہاں بھی چلے جایئے نوازشریف فیم مجھے کیوں نکالا اور خادم حسین رضوی دھرنا فیم کی پین دی سری کا تذکرہ ضرور سماعتوں میں اترتا ہے۔ حسن اتفاق اس روز ہمارے دوست دانشور پبلشر فرخ سہیل گوئندی کی شائع کردہ کتاب ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی تقریب رونمائی کی خبریں اور ٹکرز ٹیلی ویژن چینل پر چل رے تھے۔ چنانچہ کتاب سیر حاصل گفتگو کا موضوع بن گئی۔ یہ کتاب صحافی اور ٹیلی ویژن اینکر اسد اللہ کی تحقیق سے ظہور اور منصہ شہود پر آئی ہے اوربتایاگیاہے کہ یہ محنت اور سنجیدگی کے اشتراک سے کیا جانے والاکام ہے جو بعدازاں اسی موضوع پرتحقیق مزید کے خواہش مندوں کو اچھی، مستند ، معیاری اوربنیادی معلومات فراہم کرے گا۔ ( جاری ہے)

 

image

یہ مکافاتِ عمل ہے یا ایک انتہائی سوچا سمجھا منصوبہ، مگر جو بھی ہو رہا ہے وہ ملک و قوم کے لیے اچھا نہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ان سے جو امیدیں وابستہ کی گئی تھیں وہ دم توڑتی نظر آ رہی ہیں اور خود ان کے قائد نے حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کر دی ہے کہ حالات بدحالی کی طرف جا رہے ہیں۔ سچ کہتے ہیں کہ بی ٹیم ہمیشہ بی ٹیم ہی رہتی ہے یا دوسرے لفظوں میں آپ باؤلر سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ مستقل مزاجی کے ساتھ بلے بازی کرتے ہوئے آپ کو ہر میچ جتا دے گا۔ ملکی حالات جس طرف جا رہے ہیں اس میں جناب نوازشریف بھی اتنے ہی ذمے دار ہیں جتنا یہ حکومت ہے یا شاید ان سے بھی زیادہ ذمے دار ہیں کہ انہو ںنے اس حکومت کو آزادانہ طریقے سے کام کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ بے چارے وزیراعظم آئے روز لندن کے سفر پر ہی رہتے ہیں، انہیں پیشی بھگتنے سے فرصت ملے تو وہ دوسرے امور کی طرف توجہ دیں۔ وزیراعظم کے دفتر کے معاملات ان کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسین فواد چلا رہے ہیں، وزیراعظم سے شاید کہہ دیا گیا ہے کہ بس آپ ذرا ’’سیر سپاٹا‘‘ کر لیا کریں۔ وزیر خزانہ کے ساتھ خزانے کی وزارت بھی ہسپتال کے بستر پر موجود ہے اور وہ دن دور نہیں جب ملکی معیشت وینٹی لیٹر پر منتقل ہو جائے۔ دن بدن روپیہ کمزور اور ڈالر سمیت دوسری غیر ملکی کرنسیاں مضبوط ہو رہی ہیں۔ ڈالر کے اوپر جانے سے ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمتیں مزید اوپر چلی جائیں گی اور مہنگائی کا طوفان سر اٹھا لے گا۔ وزیراعظم میں یہ ہمت نہیں کہ نوازشریف کو سمجھا سکیں کہ بغیر وزیر خزانہ کے ملکی معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔ حدیبیہ کیس کے فیصلے کے بعد اب امید کی جانی چاہیے کہ اسحاق ڈار تیزی سے صحت یاب ہو جائیں گے اور اپنا قلمدان سنبھال لیں گے۔ ان کی غیر حاضری میں ملکی معیشت کا جو ستیاناس ہوا ہے، وہ ہوتے تب بھی ہوتا، مگر اب وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں یہاں نہیں تھا اس لیے معیشت کا خانہ خراب ہوا۔ یہ کم بخت حدیبیہ کا قضیہ تھا جس نے اچھے بھلے وزیر خزانہ کو صاحب فراش کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلو ں پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میںآیا۔ اثاثے ڈیکلیئر نہ کرنے پر نوازشریف کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا اور اسی طرح کے کام میں عمران خان بچ گئے۔ بے چارے جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ نے واپس گھر بھیج دیا۔ وہ بھی نوازشریف نا اہلی گروپ میں شامل ہو گئے ہیں۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ ماضی میں بھی سپریم کورٹ اسی طرح کے فیصلے کرتی رہی ہے۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کے تحت صدر نے برطرف کر دیا تو سپریم کورٹ نے اسے جائز قرار دیا۔ انہی الزامات کے تحت نوازشریف کو فارغ کیا گیا تو سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا اور ان کی حکومت کو بحال کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ معاملات کو نہیں سنبھال سکے تھے اور بالآخر ان کو بھی گھر ہی جانا پڑا۔ دونوں بار حالات ایک جیسے ہی تھے مگر فیصلے مختلف ہوئے۔ آج مسلم لیگ ن یہ کہہ رہی ہے کہ جب نوازشریف اور عمران خان کے مقدمہ میں حالات ایک جیسے تھے تو فیصلہ مختلف کیوں ہوا؟ نوازشریف کے ماضی کے مقدمات میں ایک ہی الزامات کے تحت سپریم کورٹ کا مقدمہ لڑنے اور دو مختلف فیصلے کرانے والے وکیل اکرم شیخ تھے، بہتر ہے کہ مسلم لیگ ن ان سے رہنمائی حاصل کرے۔ نوازشریف کو جذباتی نہیں ہونا چاہیے اور حالات کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔ ویسے اسی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اطمینان کا اظہار کیا اور حدیبیہ کے حوالے سے عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے دونوں جماعتوں کو ریلیف دیا ہے۔ کیا نوازشریف کے لیے یہ اطمینان کی بات نہیں ہے کہ ان کے بعد شہباز شریف پارٹی اور حکومت سنبھالنے کے لیے موجود ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ شریف خاندان میں اختلافات کی خلیج مزید گہری ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے مخالفین تو عرصہ سے دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ عوام میں اس تاثر کو مضبوط کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف صلح جُو ہیں اور اداروں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں جبکہ نوازشریف ضدی ہٹ دھرم اور انا پرست ہیں اور اپنے سوا کسی دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
گزشتہ دنوں میاں شہبازشریف کا ایک بیان خاصا وضاحت طلب ہے۔ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام اداروں جن میں حکومت، مقننہ، فوج اور عدالتیں شامل ہیں کو مل کر نیا عمرانی معاہدہ کرنا چاہیے۔ نوازشریف اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح کی بات ایک بار چیف آف آرمی سٹاف نے کی تھی، اسے برداشت کرنے کے بجائے گھر بھیج دیا گیا۔ آج ان کے بھائی نے وہی بات کر دی ہے اور فوج کو سیاسی کردار دینے کے سب سے بڑے وکیل بن کر سامنے آئے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ شہبازشریف کو ایک بار پھر سے نادیدہ قوتو ں نے یہ بات کرنے کے لیے مجبورکر دیا ہو۔ آج شہبازشریف کی خوشی دیدنی ہے کہ انہیں حدیبیہ سے کلین چٹ مل گئی ہے اور وہ ملکی سیاست میں وزیراعلیٰ سے بڑا کردار ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ باقر نجفی رپورٹ میں بھی ان کو واضح طور پر ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
وفاقی حکومت اگر کچھ ڈلیور کرتی تو شاید حالات بہتر ہو سکتے تھے مگر وفاقی حکومت نے خود کو منوایا ہی نہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے خود ایک بار کہا تھا کہ صفر کو صفر میں جمع کیا جائے تو اس کا نتیجہ صفر ہی نکلتا ہے۔ لگ یوں رہا ہے کہ یہ بات ان کی حکومت پر بھی صادق آتی ہے۔ ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے اس سارے عرصہ میں کیا کیا ہے؟ عوام کی بہتری کے وہ کون سے اقدامات ہیں جن کا ذکر آئندہ انتخابات میں کیا جا سکتا ہے۔ محض ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی رٹ سے حالات کو سازگار بنانے کی پالیسی شاید درست ثابت نہ ہو۔
 

image

2005ء میں بطور بھارتی سفیر میں نے اپنے کاغذات اسرائیل کے صدر کو یروشلم میں پیش کیے، جہاں اسرائیلی حکومت کے سرکاری دفاتر، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے عمارتیں واقع ہیں۔ سرکاری سطح کی میل ملاقاتوں کے لیے مجھے تل ابیب جہاں بھارتی سفارتخانہ ہے، سے یروشلم جانا پڑتا  تھا۔ سرکاری دورے پر آنے والے بھارتی حکام اکثر یروشلم میں قیام کرتے، جولائی میں وزیراعظم مودی نے اپنے دورے میں یروشلم میں ہی قیام کیا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے دیگر ملکوں کا بھی معمول یہی ہے۔ لیکن بیشتر سفارتکار مشرقی یروشلم میں اسرائیلی حکام کے ساتھ ملاقات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی حکام کے ساتھ مشترکہ بیانات جاری کرتے وقت یروشلم کا ذکر کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے 6دسمبر کو اعلان کیا، ’’یہی وقت ہے کہ سرکاری سطح پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا جائے‘‘۔ اسرائیل کی نظر میں شہر پر اُس کے دعوے کو عالمی جواز فراہم کرنے میں ٹرمپ کا اعلان اہم ہے۔
اقوام متحدہ کی 29 نومبر 1947ء کی اصل قرارداد نمبر 181 جس میں فلسطین میں یہودی اور عرب ریاستیں قائم کرنے بات کی گئی، اس میںیروشلم کے لیے اقوام متحدہ کے زیر انتظام خصوصی عالمی حکومت کے قیام کے حق میں ووٹنگ ہوئی۔ تاہم عرب ملکوں نے فلسطین کی تقسیم قبول نہ کی جس کے باعث معاملہ آگے نہ بڑھ سکا، اس کا نتیجے میں محاذ آرائی کے باعث مغربی یروشلم اسرائیل کے کنٹرول میں چلا گیا، جسے 1949ء کے صلح کے معاہدے میں تسلیم کیا گیا، اس معاہدے پر اسرائیل اور اُردن نے دستخط کیے۔ اسرائیل کی مغربی یروشلم میں موجودگی کو عالمی جواز کچھ مئی 1950ء کے امریکا، برطانیہ اور فرانس کے سہ فریقی اعلامیہ نے فراہم کیا جس کے مطابق 1949ء کے صلح نامے کی خلاف ورزی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے اندر اور باہر اقدامات کریں گے۔ سکیورٹی کونسل کی 22 نومبر 1967ء اور 
22 اکتوبر 1973ء کی قراردادیں نمبری 242 اور 338 میں فوجی انخلا کا مطالبہ 1949ء کے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے، دونوں قراردادیں عرب اسرائیل جنگوں کے دوران منظور ہوئیں۔
19ویں صدی کے آخر میں قیام اسرائیل کا خواب پورا کرنے کے علمبرداروں اپنے مقصد کے حصول کے لیے وقت کی غالب طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کی، اس دوران انہیں احساس ہوا کہ مختلف ملکوں میں اس مسئلے پر گہرے اختلافات تھے۔ برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ لارڈ بالفورڈ نے 2 نومبر 1917ء کے خط میں مطلع کیا، ’’برطانوی سرکار فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کے قیام کی حمایت کرتی ہے‘‘۔ یہ خط بالآخر 1948ء میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ بنا۔14 اپریل 2004ء کو اسرائیلی وزیراعظم ایرل شیرون نے امریکی صدر جارج بش کے نام خط میں لکھا، ’’نئے حقائق بشمول اسرائیلی آبادی کے موجودہ مراکز کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کرنا غیر حقیقی ہے کہ حتمی حیثیت سے متعلق مذاکرات کا نتیجہ 1949ء کے صلح نامے کی مکمل بحالی ہو گا‘‘۔ تب سے مشرق وسطیٰ سے متعلق تجاویز میں 1949ء کے بعد حقائق کی بنیاد پر علاقوں کے تبادلے کی بات کی جاتی ہے۔
ٹرمپ کا علامیہ زمینی حقائق کی تصدیق قراردیا جا سکتا ہے، جو اسرائیلی خواہشات کے مطابق ہے۔ تاہم امریکی کانگریس یا اسرائیلی موقف کی حد تک نہیں گئے۔ 1995ء کے یروشلم ایمبیسی ایکٹ میں امریکی کانگریس نے غیر منقسم شہر اور اسرائیلی دارالحکومت کی بات کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شہر کی حتمی حیثیت سے متعلق کوئی موقف اختیار نہیں کر رہے ’’جس میں یروشلم پر اسرائیلی حاکمیت کی خاص حدود، یا متنازع سرحدوں کی قرارداد شامل ہے‘‘۔ یہ معاملہ فریقین نے حل کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی سفارتخانہ فوری طور پر وہاں کام کرنا شروع کر دے گا۔ امکان ہے کہ علامتی طور پر کوئی عمارت کرائے پر لی جائے گی، یا پھر یروشلم کے قونصلیٹ کو سفارتخانہ میں تبدیل کر دیا جائیگا۔
اس جزوی پیش رفت پر اسرائیل کے اطمینان کے برعکس یہ اقدام امریکا کو عالمی سطح پر تنہائی کی سطح پر لے آیا ہے۔ سکیورٹی کونسل میں 8 دسمبر کو ہونے والی بحث میں فرانس اور برطانیہ سمیت 14کونسل ارکان نے امریکی فیصلے کی مخالفت کی۔ داخلی سطح پر پروٹسٹنٹ عیسائیوں اور یہودیوں میں ٹرمپ کی حمایت بڑھے گی۔ 2016ء کے انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات سے دوچار ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ حمایت اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ خارجی یا داخلی سطح پر اس نے تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ ہندوستان ٹائمز)

image

To make sense of the world, researchers prefer a peep into the past, while for analysts the primary lens for current affairs is the present. But it is the sadly ignored discipline of looking to the future that provides a broader canvas for a longer-term analysis.
Prediction is a tough business, but complex, layered analytics tools and indices have emerged that aim to arm policymakers with an appropriately useful imagining of near futures.
A new study, produced by an independent Pakistani group as part of a global project, offers an opportunity to shift the focus of analysis from the country’s troubled present to a near-term future that provides a more nuanced view.   
Produced by the Pakistan Foresight Initiative, based at Agahi in Islamabad, which is part of the Millennium Project think tank, the “Pakistan State of Future Index” (P-SOFI) report unseats the conventional perspective of a country falling apart at the seams due to political and economic turbulence.
While acknowledging the inherent weaknesses of the political and governance systems, the report submits that Pakistan maintains a growth by the index standard and has demonstrated a fight back against terrorism and natural disasters to keep the pace.
The scenario that P-SOFI outlines is a hopeful one and it suggests that, with appropriate modifications, chances are high that Pakistan will become a stable growth state over the next decade.
The index is an indication of a 10-year outlook for the future based on historical data of selected variables for the previous two decades. It includes judgments about the best and worst case scenarios for each variable, with aggregates that indicate a potential trend of the future.
There is a slim chance that Pakistan’s growth trajectory, in keeping with its potential, will be derailed, the report says. The confidence that the results of the study — which analyzes social, technological, economic, environmental and political trends — has in Pakistan’s immediate future and the burden of the near future outcomes is premised on activism of the citizenry, particularly the tech-savvy, expanding middle class that aspires for a better life.
The predictions of the P-SOFI study are not the only source inspiring confidence in the prospects for Pakistan’s near future.
Foresight initiative outlines a hopeful scenario and suggests chances are high that nation will be a stable growth state over the next decade.
Pakistan is one of the fastest-growing economies in the world and its digital landscape is no different from other countries, Elias Markopoulos, an international expert in strategic digital communications analysis, said in Karachi last week.
Pakistan’s technological growth has been tremendous; of a population of 195 million, there are currently 35 million internet users (18 percent) and 31 million active social media users (16 percent). Over 140 million have mobile phones, of which 45 million have smartphones and 40 million use 3G and 4G services. More than 28 million now access social media from their phones. Experts estimate the total value of e-commerce in Pakistan will cross the $1 billion mark by 2020.
“These are remarkable numbers. The use of the internet and the advancement in mobile technology has triggered a change in Pakistan. Individuals have become influencers — influence is about authenticity, credibility, access to information and the drive to empower others,” Markopoulos said.
If that was not enough, Pakistan is all set to emerge as the first nation in South Asia to introduce 5G internet services in 2020, according to the Pakistan Telecommunication Authority in its annual report issued last month.
The 5G connectivity is already being tested. It says 87 percent of Pakistan’s population is covered by cellular mobile networks, of which 70 percent are covered by 3G and 30 percent by 4G.
Apart from digital connectivity improving lives, Pakistan is seeing an unprecedented boom in businesses. According to business regulator the Securities and Exchange Commission of Pakistan last week, the total number of registered companies in the country has reached 84,201, following the incorporation of 881 new firms in November 2017 — a growth of 40 percent over the same period last year.
This massive increase in the number of new companies is the direct result of various economic reform measures.  
Next year’s general election, a new government and a smooth transfer of power between two elected governments — the first time this will happen consecutively in Pakistan’s history — is expected to provide the right political impetus to underpin the social and economic development that is already underway. The short-term future definitely looks brighter for Pakistan.
(Courtesy : Arab News)
 

image

ہندوستان میں جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی اور انگریز قابض ہوئے تو بعض ہندو اس کے دست راست بن گئے۔ مسلمانوں نے کچھ عرصے کے خواب غفلت کے بعد جب انگریز سے آزادی کی تحریک شروع کی تو ساتھ ہندو کی سازشیں بھی شروع ہوگئیں، اس کا منصوبہ تھا کہ انگریز جائے تو حکومت اُس کے حوالے کرے، لیکن جب قائداعظمؒ کی قیادت میں مسلمانان ہند کی ثابت قدمی نے انہیں ہار ماننے پر مجبور کردیا اور مسلمان اپنے اکثریتی علاقوں میں ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہندو نے اپنی سازشیں بھی تیز کردیں جو تاحال جاری ہیں اور ہمیں آج بھی اس کا توڑ کرنے کے لیے مسلسل ہوشیار رہنا ہے، کیونکہ ہم اپنی اس بے احتیاطی اور غیر ذمے داری کی وجہ سے ایک ایسا نقصان اٹھاچکے ہیں جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ 
پاکستان اپنے قیام کے وقت مغربی اور مشرقی حصوں پر مشتمل تھا، دونوں حصوں میں ایک ہزار میل سے زیادہ فاصلہ تھا اور درمیان میں وہ دشمن ملک تھا، جس نے روزِ اول سے ہی پاکستان کے قیام کو ناصرف تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف اپنی تمام توانائیاں صرف کررہا تھا۔ اپنی اس ذہنیت کو استعمال کرتے ہوئے اُس نے پاکستان کے مشرقی حصے میں اپنی خفیہ کارروائیاں شروع کیں اور اس کا یہ کام آسان یوں ہوا کہ مشرقی پاکستان تین اطراف سے اسی دشمن ملک میں گھرا ہوا تھا اور دنیا کی پانچویں بڑی زمینی سرحد (جس کی لمبائی 4096 کلومیٹر ہے) سے جڑا ہوا تھا۔ اسی طرح اس کی سمندری حدود بھی مکمل بھارت کی دسترس میں تھیں جب کہ مغربی پاکستان سے اس کا سمندری فاصلہ کئی دن کی مسافت پر تھا۔ ان طویل سرحدوں کی وجہ سے بھارت کے لیے مشرقی پاکستان میں نظریاتی مداخلت بہت آسان تھی اور وہ یہ کرتا رہا۔ وہ مشرقی پاکستانیوں کے ذہنوں میں زہر اُتارتا رہا اور شیخ مجیب جیسے کردار اسے میسر آتے رہے اور وہ اُنہیں استعمال کرتا رہا۔ 
ملک کے دو حصوں میں دُوری آتی رہی اور وہ اس خلیج کو بڑھاتا رہا۔ کچھ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی بھی غلطیاں تھیں، جنہوں نے اس 
معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور شکایات کو دور کرنے کی کوشش کے بجائے اُنہیں چھپایا جاتا رہا۔ 1970 میں الیکشن ہوئے تو ہمارے سیاستدانوں نے ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کا نعرہ لگاکر گویا خود ہی متحدہ پاکستان کی مخالفت کردی اور ایساصرف حصولِ اقتدار کے لیے کیا گیا۔ اُدھر شیخ مجیب کی اپنے آقائوں کے ساتھ مل کر سازشیں بڑھتی رہیں اور اِدھر حکومت حاصل کرنے کے مختلف طریقے ڈھونڈے جاتے رہے اور بھارت مشرقی پاکستان میں خونی کھیل کی منصوبہ بندی اور تیاری کرتا رہا۔ خفیہ کارندوں سے کام لینے کے ساتھ اُس نے اب اپنے سدھائے ہوئے مُکتی باہنی کے غنڈوں سے سرِعام 
کام لینا شروع کیا۔ وہ بھارت جہاں روزِ اوّل سے ہی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوئوں اور 
دلتوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا رہا ہے، اُس نے مشرقی پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور اُٹھایا اور اس کی آڑ لے کر باقاعدہ حملہ کردیا۔ بھارت اور مُکتی باہنی نے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے غریب مزدوروں اور کاریگر طبقے پر جو مظالم کیے، وہ سفّاکی کی عظیم داستان ہے، جسے سن کر روح کانپ جاتی ہے، مِلوں میں جس طرح ان کا قتلِ عام کیا گیا، گھروں اور سڑکوں پر اِنہیں جیسے مارا گیا، وہ کسی بھی طور انسانیت کے زمرے میں نہیں آتا۔ہزاروں بنگالی مسلمان بھی مارے گئے لیکن کچھ نہ ہوا تو اُن غدار لیڈروں کو نہ ہوا جو عام شہریوں کو لڑاتے اور خود قلعہ بند ہوکر تماشا دیکھتے رہے۔  3 دسمبر 1971 کو بھارت براہ راست اس جنگ میں کودا اور پھر خون کی ندیاں بہاتا گیا۔ اس کی دوسرے ملک میں یوں براہ راست مداخلت بذاتِ خود ایک جرم ہے، لیکن اُس نے یہ کیا اور دونوں طرف کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہا، پھر 16 دسمبر1971 کو اس خون آشام جنگ کا اختتام ہوا تو بنگلادیش بن گیا اور پاکستان دولخت ہوگیا۔ 
16 دسمبراب بھی آتا ہے اور ہمیں دشمن کی چالوں سے باخبر رہنے کا پیغام دیتا ہے۔ اس دن کو ہم بھولتے جارہے ہیں۔ جب یہ سب ہوا تو اُس وقت تو ہم سکتے کی صورت ِحال سے دوچار رہے اور جب اِس صدمے سے نکلے تو ایک بار پھر خود کو اُنہی سرگرمیوں میں اُلجھالیا، پھر بھائی بھائی کا دشمن اور بدخواہ بن گیا۔ ہم آج بھی علاقائیت اور صوبائیت میں پڑے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں، اپنے دشمن کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اپنا حربہ آزمانے کی کوشش کرے۔ ہمیں اپنی نئی نسل تک دشمن کی چالاکیوںاور اپنی کوتاہوں کی خبر ضرور پہنچانی ہے، تاکہ ہم دوبارہ خود 
ایسی غلطی کریں اور نہ دشمن کو موقع دیں کہ وہ اپنی چال چلے۔ اپنی اس ناکامی کے لیے تو ہمارے پاس ایک عذر لنگ ہے کہ مشرقی پاکستان کا ہم سے زمینی رابطہ نہیں تھا، درست ہے کہ فاصلہ بہت تھا، لیکن ہمارے موجودہ جغرافیے میں ایسا کچھ نہیں۔ عذر تو تب بھی ماننے کے قابل نہیں تھا کیونکہ مسلماناںِ ہند نے پاکستان نظریے کی بنیاد پر بنایا تھا اور نظریے یوں ٹوٹتے نہیں کہ بقول اندرا گاندھی اُسے بحیرۂ عرب میں غرق کردیا گیا۔ نظریہ غرق تو نہ ہوسکا کہ بنگلادیش بھی اسلامی ملک ہی بنا، لیکن ہماری بنیادیں ضرور ہلادی گئیں جس کو قابو کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت تھی۔ عام آدمی تو آج بھی اس نظریے پر قائم ہے، اُس کی پاکستان سے محبت کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہے، ہمارے اربابِ اختیار کی حب الوطنی پر بھی شک نہیں لیکن مفادات میں تقدیم پر ضرور ہے کہ جب ان کے ذاتی اور قومی مفادات کا ٹکرائو ہوتا ہے تو انہیں ہر بار اپنا ذاتی مفاد عزیز ہوجاتا ہے۔ اگر ہم عوام اپنے حکمرانوں کو یہ رویہ سکھادیں کہ پہلے ملک پھر ذات ہے اور اِن کو اِن کی دانستہ غلطیوں کی سزا دے سکیں تو ہم ان شاء اللہ دوبارہ اس قسم کے سانحے سے دوچار نہیں ہوسکیں گے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت بھی ہم سب کی ذمے داری ہے، لہٰذا ہمیں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹ جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد اور حفاظت فرمائے گا اور دشمن ضرور ناکام ہوگا، چاہے وہ کتنا ہی چالاک اور طاقتور ہو۔
 

image

میرے ایک دوست شعبۂ وکالت میں آنے کے بعد کافی عرصے تک ’’روزمرّہ کے اخراجات‘‘ سے بھی تنگ تھے۔ کمال درجے کے مقرر ہیں اور ایک اچھے قصہ گو۔ پاکستان میں وکالت میں شدید ناکامی کے بعد ان کے خواب بکھر گئے اور وہ خاموشی سے برطانیہ جابسے۔ کچھ عرصہ ہم نے ان کی کمی کو محسوس کیا، بعدازاں کافی عرصے تک اس کے خوابوں کو ڈسکس کرتے رہے۔ ہم تمام دوست اگر کسی ناکام انسان کی نظیر پیش کرتے تو اسی کی مثال دیا کرتے تھے۔
 پانچ سال کی روپوشی کے بعد دو دن قبل اس کی کال ایک نئے نمبر سے موصول ہوئی، اس نے کہا کہ وہ واپس آچکا اور ملنا چاہتا ہے۔ میں اس سے ملنے گیا، اس کے حالات اچھے دکھائی دے رہے تھے۔ حیرت ہوئی کہ وہ ایک یورپی ملک کا نامور وکیل بن چکا ہے اور اس کی لاء فرم یورپ میں کافی مشہور ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شارٹ کٹ تو کامیاب نہیں ہوگیا۔ اس نے کہا، ایسا کچھ نہیں وہاں وکالت کا ایک نظام ہے، ماحول ہے، احساس ذمے داری ہے، وکالت کتنا ذمے داری کا شعبہ ہے وہاں جاکر احساس ہوا، وکیل کی کتنی عزت ہوتی ہے وہاں پتا چلا۔ میں نے پوچھا کہ وہاں کے جج تو کافی ایمان دار ہوں گے۔ میرے دوست نے کہا، نہیں وہاں ایسا کوئی تصور نہیں، اگر کوئی بے ایمان ہے تو وہاں کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ کرپشن کا سوچ بھی نہیں سکتا، ان کو اپنے ججز پر بھروسا نہیں بلکہ اپنے ایسے نظام اور اداروں کی کارکردگی پر مکمل بھروسا ہے جو بدعنوانی کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اُس نے بتایا کہ یورپی ممالک میں عدلیہ ایسا مضبوط ادارہ ہے، جس کے سائے میں تمام اداروں کی نشوونما ہوتی ہے۔ عدلیہ تمام اداروں کے حقوق کی حفاظت کی ضامن ہے، ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرسکتے ہیں نہ ایک دوسرے کی حدود میں دخل اندازی۔ ٹیکس چوری سب سے بڑا جرم ہے۔ زیادہ ذمے دار وکیل ہوتا ہے، وہ اپنے کلائنٹ کے قانونی حقوق کی حفاظت کا ذمے دار ہے اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ وکیل نے کیس کے دوران کسی بھی مرحلے پر ذرا سی غفلت کا مظاہرہ کیا تو لائسنس منسوخ کردیا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی وکیل اپنے مؤکل کے ساتھ برے سلوک کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر ایک وکیل نے کیس لے لیا اور اپنی ذمے داری کو پورا نہیں کیا، بلاوجہ تاخیری حربے (جو یہاں عام ہیں) اختیار کیے تو پھر اسے ہمیشہ کے لیے وکالت کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے۔
میں نے پوچھا، کیا وہاں بار کونسلیں نہیں ہیں؟ دوست نے کہا، ادارے ہیں لیکن وہ ذمے دار ہیں، وہاں کی ریگولیٹری اتھارٹیز اداروں کی شکل میں کام کرتی ہیں، وہاں ایک عام وکیل کی بھی اتنی انکم ہے کہ وہ ایک پورے خاندان کو پال سکتا ہے۔ ادارے مضبوط ہونے سے ہرادارے کا وقار بحال ہے۔ کرپشن کے خاتمے سے ایک میرے جیسا نااہل اور ناکام ترین وکیل آج کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ 
میں نے پوچھا کہ وہاں وکالت کیوں اتنی زیادہ کامیاب ہے اور ہمارے ہاں زوال پذیر؟ اس نے بتایا کہ وکالت معتبر اور بہترین پروفیشن ہے، اس کے لیے پہلے وکیل کا بھی تو ایک معیار ضروری ہے، جب اچھے وکیل ہوں تو اچھے جج بھی انہی کی صفوں سے آتے ہیں۔ میں نے دوست سے پوچھا کہ یورپی ممالک میں سزا کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟ اُس نے کہا، عدالت ہوگی تو جزا اور سزا بھی ہوگی۔ بھائی جب کسی بھی ملزم کے خلاف پولیس ٹھوس ثبوت کے ساتھ رپورٹ پیش کردے، تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ عدالت سے باعزت بری ہوجائے، کیونکہ اگر اس کے خلاف کیس ثابت نہ ہوا تو پولیس اور پراسیکیوشن کی ساکھ زیرو اور عدلیہ کی ساکھ بھی صفر ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بہت کم کیسز رجسٹر ہوتے ہیں اور جب کیس ٹھوس ثبوت کے ساتھ رجسٹر ہوجائے تو سزا بھی لازمی لگتی ہے اور اگر کسی وجہ سے کیس ثابت نہ ہو تو اس پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی ہوتی ہے، جس مجسٹریٹ نے کیس رجسٹر کرکے سماعت کے لیے منظور کیا تھا، سب سے پہلے اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور یہی کامیابی کا راز ہے۔
دوست نے بتایا کہ اچھے نظام کی وجہ سے یورپ میں سب کو یکساں مواقع حاصل ہیں۔ تبھی میرے جیسا عام وکیل اتنا کامیاب ہے کہ آج برطانوی وکلاء میری لا فرم میں ملازمت کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ان تمام مسائل کا حل کیا ہے تو اُس نے کہا، ایک طویل آئینی جدوجہد، آئین کے دائرے میں رہ کر ان نااہل افراد کے خلاف آئینی جنگ جاری لڑی جائے۔ تمام نااہلیوں کو قانون کے دائرے میں رہ کر آئینی عدالت میں چیلنج کرتے جاؤ، کرتے جاؤ، یہاں تک کہ نااہلی ایک گالی بن جائے۔
چند روز قبل ہی اعدادوشمار سامنے آئے کہ نوے فیصد مقدمات پراسیکیوشن کی غلطی سے ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ نظام انصاف سے منسلک تمام اداروں کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ جب تک ذمے دار اداروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، ان کی تطہیر نہیں ہوگی تو ادارے قدآور اور مضبوط ہوکر اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوں گے۔ جب تمام ادارے مضبوط ہوجائیں گے تو عدلیہ فخر سے یہ اعدادوشمار جاری کرے گی کہ پراسیکیوشن کی غلطی کی وجہ سے اتنے ہزار مقدمات ختم ہوگئے تھے۔ بعدازاں ذمے دار پراسیکیوٹرز اور تفتیشی پولیس افسران کے خلاف عدلیہ نے کارروائی کی سفارش کردی، تمام نااہل پراسیکیوٹرز اور محکمہ پولیس کے تفتیشی افسران کے خلاف ڈپارٹمنٹل ایکشن کے لیے سفارش کی تھی اور ان کے خلاف ایکشن بھی ہوچکا۔ یہ وہ طویل آئینی جنگ ہے جو عدلیہ سمیت نظام انصاف سے منسلک تمام اداروں کی نااہلی کو ختم کردے گی اور اگر مقدمہ کے دوران ثابت ہوگیا کہ کیس بنتا ہی نہ تھا تو عدلیہ فخر سے بتائے گی کہ وہ تمام جوڈیشل مجسٹریٹس پراسیکیوٹرز اور پولیس افسران برطرف کردیے گئے ہیں جن کی وجہ سے جھوٹے مقدمات رجسٹر ہوئے تھے۔ عدلیہ کی مضبوطی سے تمام ادارے خود ہی مضبوط ہوں گے اور ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔
میرے دوست نے کہا، جب عدالتوں سے لوگوں کو انصاف ملنا شروع ہوجائے گا تو پھر وکالت کو بھی عروج حاصل ہوگا اور جرم کرنے والوں کو سزا بھی ملے گی اور وہ جیلوں میں بند بھی ہوں گے۔ میں نے دوست کو دعوت دی کہ چلو ابھی ڈسٹرکٹ کورٹ آؤ۔ اس نے کہا، کبھی نہیں آؤں گا، کیونکہ وہاں میرے بہت سے خواب، جنون اور اُن کی تعبیر دفن ہے۔
 

image

یہ ایمان کے وہ چراغ ہوتے ہیں جن سے لاکھوں بے نور اپنے باطن کے اندھیروں کو دُور کرتے ہیں، پھر چراغ سے چراغ جلتا چلا جاتا ہے۔ میں بھی اِس وقت تاریخ تصوف کے سب سے بڑے چراغ  شہنشاہِ لاہور سید علی ہجویریؒ  کے دربار اقدس پر حجرہ مبارک کے اندر کھڑا اپنے باطن کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل رہا تھا۔ سرکار کی قبر مبارک کے اتنا قریب یہ احساس ہی نس نس میں سرور کے دریا بہارہا تھا، میں دنیا و مافیہا سے بے خبر آنسوئوں کا نذرانہ پیش کررہا تھا، کافی دیر بعد آہستہ آہستہ اعصاب نارمل ہوئے تو دیکھا دیوانوں کا دریا مزار اقدس کے چاروں طرف لپک لپک کر آرہا تھا، پھر ہم لوگ حجرہ مبارک سے باہر آگئے، جہاں دیوانوں کا ہجوم رشک بھری نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ اب ہم دربار کے باہر مسجد کے صحن میں آگئے، پھر میں نے دوستوں سے درخواست کی کہ تھوڑی دیر کے لیے مجھے تنہا چھوڑ دیا جائے۔ اب دربار اقدس میرے سامنے تھا۔ فضا درود و سلام کی عطر بیز سرگوشیوں سے مہک رہی تھی۔ قافلوں کے قافلے اپنے مرشدوں کے پیچھے عقیدت و احترام سے سرجھکائے مزار اقدس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ 
مریدوں کی عقیدت دیکھ کر مجھے اپنی ریاضت کے ابتدائی ایام یاد آگئے، جب میں بھی عرس مبارک پر دن رات مرشد پاک کے دربار پر دیوانہ وار جھومتا تھا۔ تصوف کی وادی پُراسرار بھیدوں اور عقیدت و احترام کے پھولوں سے مہکی ہوتی ہے، آپ تصوف میں جب مرید کا اپنے مرشد سے دیوانہ وار عشق دیکھتے ہیں تو خوش گوار حیرت ہوتی ہے، مرید مرشد خانے کو ساری عمر عقیدت و احترام کا مرکز مانتا ہے، مرشد خانے کی خاک کو آنکھوں کا سُرمہ بناتا ہے، تاریخ کا دامن ایسے ایمان افروز واقعات سے بھرا پڑا ہے، جب مرشد کا تعلق اہل دنیا کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ شہنشاہِ اجمیر خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ  کا 90 سال کی عمر میں اپنے مرید خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے لیے دہلی کا سفر کِسے یاد نہیں۔ بابا فرید گنج شکرؒ کا اپنے مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ  سے والہانہ عشق کون بھول سکتا ہے۔ نظام الدین اولیاء ؒ  کا بابا فریدؒ سے دیوانگی والا عشق تاریخ تصوف کا سنہرا باب ہے۔ امیر خسرو کا نظام الدینؒ سے عشق مثالی باب ہے۔ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کا سیال شریف میں حاضری کا انداز کون بھول سکتا ہے۔ دمڑی والی سرکار میرپور کا یہ کہنا کہ مرشد خانے سے جو بھی میرے مزار پر آئے، جوتوں سمیت آئے۔ کیا انداز ہے شمس تبریزؒ اور مولانا رومؒ کے عشق کا اور پھر مولانا کا اپنے مرشد کے ہجر میں مثنوی روم لکھنا، عقل حیران رہ جاتی ہے۔ سلطان باہوؒ کا مرشد کریم کے پاس دہلی جانا کون بھول سکتا ہے۔ اور پھر بلھے شاہؒ  کا شاہ عنایت قادریؒ  سے دیوانہ وار عشق عقل انگلی دانتوں تلے دبانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ 
تصوف کی پُرخار پُراسرار وادی میں منزل اُسی کے حصے میں آئی جو مرشد کے عشق میں فنا ہوا۔ اپنی ذات کی نفی کی تاریخ کے اوراق ایسے ہزاروں واقعات سے بھرے پڑے ہیں، جب مرید نے مرشد کی رضا کے لیے خود کو فنا کردیا، اِس فنا پن میں جو لذت ہے، آپ بیان نہیں کرسکتے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے، جب چند سال قبل مرشد کے حکم پر میں اجمیر شریف (بھارت) گیا اور شہر میں داخل ہوتے ہی جوتے اتار کر ننگے پائوں شاہ اجمیر کے دربار میں دوڑ کر حاضری دی۔ شدید گرمی اور گرم سڑک پائوں میں چھالے پڑگئے، لیکن چھالوں کی پروا نہ گرمی کی۔ کرۂ ارض پر دیوانے دنیا جہاں سے بے فکر ہوکر جب مرشد خانوں میں حاضری دیتے ہیں تو اپنی خالی جھولیوں کو فیض سے بھر کر لے جاتے ہیں۔ سید علی ہجویریؒ  کے مزار پُرانوار پر بھی دنیا جہاں سے دیوانے مرید اپنی جھولیاں بھرنے آئے ہوئے تھے۔ یہاں پر مرید اپنے مرشدین کے ساتھ دامن مراد پھیلائے  حاضر ہورہے تھے، یہاں پر مرشد مرید کی تمیز ختم ہوگئی تھی۔ مریدوں کے چہرے عقیدت سے گلنار تھے اور بہت سارے دیوانے اپنی جھولیاں پھیلائے مرشد خانے میں حاضر تھے۔ مرشد کبھی بھی اپنے مرید کو خالی دامن نہیں لوٹاتا۔

image

(20 جون 1923ءکی تحریر)
جاپان روس کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے کی مساعی میں مصروف ہیں لکین شہنشاہی و سرمایہ داری کا بدستور علم بردار بنا ہوا ہے۔ ہم نہیں سمجھتے حکومت برطانیہ و دولت فرانس بولشویکوں کی حکومت کو تسلیم کرنے سے کیوں خوف کھا رہی ہیں۔ کیا بولشویک انگلستان و فرانس کو نگل جائیں گے؟
ہمارا عقیدہ ہے کہ لارڈ کرزن کی وزارت خارجہ مشرق ادنیٰ و مشرق وسطیٰ میں کبھی امن قایم نہ ہونے دے گی اور اگر اس کا رویہ یہی رہا جو آج کل ہے تو کوئی عجب نہیں کہ عنقریب روس و انگلستان کی آپس میںجنگ چھڑ جائے اور ظاہر ہے کہ دونوں طاقتوں کا تصادم دنیا بھر کے امن و امان کو تباہ و برباد کر  دے گا۔ وسط ایشیا میں بولشویکوں کا اثر و اقتدار مشہور ہے اگر انگریزوں کے خلاف جنگ شروع ہو گئی تو ہندوستان کب تک بولشویک حملے سے محفوظ رہ سکتا ہے؟
کیا حکومت برطانیہ کے ارباب بست و کشاد کے دماغ عقل سے بالکل بے بہرہ ہو چکے ہیں۔ کیا انہیں اتنے بڑے خطرہ کا احساس نہیںہونا چاہئے جس سے حکومت برطانیہ عظمیٰ کی بنیادیں تک اکھڑ جانے کا احتمال ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انجمن خدام الدین لاہور اور خدمت اسلام
مسلمانوں کے زوال کا سبب اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ انہوں نے اپنے مقصد حیات کو فراموش کردیا۔ وہ دنیا میں صرف اس لئے آئے تھے کہ علم الٰہی کی نشر و اشاعت کریں لیکن ان کی حالت یہ ہو گئی کہ نشر و اشاعت تو درکنار وہ اس علم مقدس سے اس درجہ بے بہرہ ہو گئے کہ آج شاید ہزار میں سے ایک مسلمان بھی ایسا نہ نکلے گا جو اس علم سے صحیح طریقے پرسعادت اندوز ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ ایک عرصہ کی غفلت اور جمود کے بعد ان کی حالت میں تغیر پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ذلت و پستی کی حقیقی علت کو محسوس کر لیا ہے اور مختلف مقامات پر بعض مقدس حلقے یا بزرگ افراد ایسے پیدا ہو گئے ہیں جن کا رات دن کا مشغلہ صرف یہی ہے کہ عام مسلمانوں کو علم الٰہی سے ٹھیک ٹھیک بہرہ ور کریں اور انہیں صحیح معنوں میں مسلمان بنائیں۔ انجمن خدام الدین شیرانوالہ دروازہ لاہور ایک بزرگ کی مخلصانہ مساعی سے یہ پاک اور مقدس کام جس اعلیٰ پیمانہ پر انجام دے رہی ہے، اس سے ہمارے لاہوری بھائی ناآشنا نہیں ہوں گے۔ اب انجمن مذکور نے دینی خدمت کے جذبہ حقہ و صادقہ کا ایک اور قابل قدر مظاہرہ کیا ہے یعنی اس نے یہ اہتمام اپنے ذمہ لیا ہے کہ سچے مبلغین کی ایک ایسی جماعت پیدا کر دے جو نہایت اخلاص و ایثار کے ساتھ خالصتاً للہ کلمتہ اللہ کی اشاعت کیلئے اللہ کی زمین پر پھیل جائے اور اثنائے تعلیمِ کتاب و سنت میں اس جماعت کو بعض ایسے فنون سکھائے کہ وہ ’’ما انزل الی الرسول‘‘ کی تبلیغ میں کسی انجمن یا جمعیۃ یا عامۃ المسلمین کی محتاج و دست نگر نہ رہے بلکہ اپنی معاش خود اپنے ہاتھ سے پیدا کرے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انجمن مذکور اپنی اس نیک اورمبارک کوشش میںکامیاب ہو گئی تو یہ اسلام کی نہایت زبردست خدمت ہوگی۔
 اس مقصد کیلئے انجمن نے ایک دارالاقامۃ کے قیام کی تجویز کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مبلغین کو تمام غیر اسلامی اثرات سے علیحدہ رکھ کر خالص سبغۃاللہ (ومن احسن من اللہ صبغہ) کے رنگ میں رنگنے کی اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ایک مستقل دارالاقامہ قایم کیا جائے اور اس کے قواعد و ضوابط ایسے ہوں کہ متعلمین کو بیرونی اثرات قبول کرنے کا زیادہ موقعہ نہ ملے۔ انجمن کو ایسے طلبا کی ضرورت ہے جو شرح جامی، قطبی، شرح وقایہ اور مشکوٰۃ شریف پڑھ چکے ہوں۔ فنون میں سے انہیں ذیل کے فنون سکھائے جائیں گے۔ طب، کتابت، پینٹری، شیشہ پر قلعی چڑھانا اور فریم لگانا یعنی آئینہ بنانا، چاندی پر سونا چڑھانا، سونے چاندی کی انگشتریاں بنانا، چاقو بنانا، صابون بنانا۔ اس جمعیت مقدسہ میں داخلہ کی درخواست بھیجنے والے طالب علم کی عمر اٹھارہ سال سے کم نہیں ہونی چاہئے۔ طلبا کے قیام، طعام اور کتب کا انتظام انجمن کے ذمہ ہوگا۔
یہ تو عام قواعد ہیں لیکن سب سے ضروری اور سب سے زیادہ جس خصوصیت کی ضرورت ہے وہ اخلاص ہے اوراسلام کی محبت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ صرف وہی بھائی اس طرف متوجہ ہوں جن کا نصب العین خدمت دین قیم ہو اور بعد فراغت تعلیم علوم دینیہ کو کسب معاش کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ حسبتہً للہ انہیں دنیا تک پہنچائیں اور اس خلوص و تڑپ کے ساتھ کہ گویا ان کی زندگی کا اس کے سوا اور کوئی کام نہیں۔                 (جاری ہے)
 

image

O ’’ ٹھیک ہے جناب صدر‘‘ آگے کیا ہوا؟‘‘
٭ ’’ یہ حقیقت ہے کہ جب آپ مجیب کے بارے میں بات کرتی ہیں تو ہر بات ناقابل یقین سی لگتی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دنیا اسے سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ بہر حال جب وہ اٹھ کھڑا ہوا تو میں بھی اٹھ کھڑا ہوا، اور اس کے ساتھ فوجی افسروں کے کمرے میں ہم دونوں پہنچ گئے۔ اس کمرے میں یحییٰ خان کے معتمد خاص فوجی افسران کے ملٹری سیکرٹری اور سیاسی معاون جنرل عمر موجود تھے۔ مجیب بلند آواز میں بولنے لگا، جائو، چلے جائو ہر شخص کمرے سے نکل جائے۔ مجھے مسٹر بھٹو سے بات کرنی ہے۔ یہ سن کر تینوں افسران باہر چلے گئے۔ مجیب بیٹھ گیا اور کہنے لگا ’’ برادرم! ہم دونوں کو لازماً ایک سمجھوتا کر لینا چاہیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں۔ 
’’ میں حیرت زدہ تھا۔ میں اسے لے کر باہر آگیا کہ دوسرا کوئی ہمیں سن نہ لے۔ باہر نکل کر اس نے اپنے مخصوص لہجے میں اعلان کیا کہ اپنے لیے مغربی پاکستان قبول کر لوں اور اسے مشرقی پاکستان دے دوں اور یہ بتایا کہ اس نے ایک خفیہ اجلاس میں ہر چیز کا سیٹ اپ کر لیا ہے رات کو وہ تفصیلات مجھے بھیجے گا۔ 
میں نے اسے بتایا کہ میں تو اس سارے کھیل کو پسند نہیں کرتا۔ میں ڈھاکہ اس سے ملنے اس طرح آیا جیسے کوئی چور رات کے اندھیرے میں کیلے کے درخت کے پیچھے ملا کرتے ہیں۔ میں پاکستان کو ٹکڑے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اگر وہ علیحدگی ہی چاہتا ہے تو اسے اپنی یہ تجویز اسمبلی میں پیش کرنی چاہیے، جس میں اس کو اکثریت حاصل ہے۔ مگر اس کو یہ سب کچھ سمجھانا دیوار کے ساتھ سر ٹکرانے کے مترادف تھا۔ اس لیے میں نے اسی میں مصلحت جانی اور ترجمانوں کے ذریعے بات کا سلسلہ آگے بڑھانے کو قبول کر لیا۔ یوں ہم 25مارچ تک پہنچ گئے۔
O’’ کیا آپ کو 25مارچ کے روز کوئی بات مشکوک محسوس نہیں ہوئی؟‘‘
٭ ’’ ہاں مجھے بعض باتوں کی پریشانی رہی اور دماغ میں ایک عجیب و غریب احساس رہا۔ میں ہر شام کو یحییٰ خان کے پاس جاتا رہا اور یہ رپورٹ دیتا رہا کہ مجیب اور میں مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں کر پا رہے۔ لیکن یحییٰ کو اس سے کوئی دلچسپی اور غرض نہ تھی۔ وہ میری بات کو سنی ان سنی کر دیتا تھا یا ٹیلی ویژن کے بارے میں شکایات کرنے لگتا یا اس بات پر ناراضی کا اظہار کرتا کہ وہ اپنے پسندیدہ گانے نہیں سننے پا رہا۔ اس وقت تک اس کے ریکارڈز راولپنڈی سے نہیں آئے تھے۔
25مارچ کی صبح کو اس نے کچھ ایسی باتیں کیں، جن کی وجہ سے میری بے کلی اور پریشانی بڑھ گئی۔ اس نے کہا کہ اب مجیب سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کل اس سے ملیں گے، میں اور تم دونوں ملیں گے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ لیکن رات کوآٹھ بجے ہی میں نے ہر بات کی رپورٹ مجیب کے ایلچی کو دے دی۔ جس پر وہ غصے اور حیرت سے چلایا اورکہا کہ وہ (یعنی یحییٰ) تو پہلے ہی فرار ہو چکا ہے۔ میں نے اس کی بات پر اعتبار نہیں کیا۔ میں نے فوری طور پر صدرکی رہائش گاہ پر فون کیا اور کہا کہ میں یحییٰ خان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ انہیں ڈسٹرب نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یحییٰ خان کے ساتھ عشائیے میں شریک ہے۔ یہ ساری باتیں معلوم ہونے کے بعد مجھے بڑی پریشانی ہوئی اور مجھے شک ہوا کہ میرے ساتھ چال چلی گئی ہے۔ تب میں نے رات کا کھانا کھایا اور سو گیا۔ اچانک بندوق کے فائر سے میری آنکھ کھلی اور دوسرے کمروں سے دوستوں کے بھاگنے کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ میں اٹھ کر کھڑکی پر جا کر کھڑا ہوا۔ میرا اللہ شاہد ہے کہ میں اس وقت رو رہا تھا اور روتے ہوئے میں نے کہا کہ میرا ملک ختم ہو گیا۔‘‘
O’’ کیوں آپ نے کھڑکی میں کیا دیکھا؟‘‘
٭ میں نے کھڑکی سے کوئی اندھا دھند قتل عام ہوتے نہیں دیکھا تھا، بلکہ فوجی ایک اپوزیشن اخبار کے دفاتر کو منہدم کر رہے تھے، جس کے دفاتر انٹرکانٹی نینٹل کے بالکل سامنے واقع تھے۔ یہ فوجی اپنے لائوڈ سپیکروں پر لوگوں کو حکم دے رہے تھے کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔ جو لوگ ان عمارتوں سے باہر آرہے تھے انہیں مشین گنوں سے دھمکا کر ایک جانب کھڑا کر دیا اور دوسرے گروپوں کو دوسرے پہلوئوں پر کھڑا کر دیا گیا اور سب کو مشین گنوں پر رکھا گیا۔
دوسری طرف بتایا گیا کہ مجیب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات مجھے آٹھ بجے صبح پتا چلی۔ میں نے اسی وقت وہ جگہ چھوڑ دی۔ میں اس بات پر خوش تھا کہ مجیب زندہ ہے اور میں نے سوچا کہ انہوں نے اس کے ساتھ معمولی سی بدتمیزی ہی کی ہو گی۔ پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی گرفتاری سے کوئی مصالحت کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے، اس لیے کہ میں نے سوچا کہ یہ لوگ اسے جیل میں ایک یا دو ماہ سے زیادہ نہیں رکھ سکیں گے اور اس دوران ہم امن و امان بحال کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔‘‘
O ’’ جناب صدر، مجیب نے آپ سے کہا تھا کہ ’’ تم مغربی پاکستان سنبھالو اور میں مشرقی پاکستان‘‘ پھراس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ کیا آپ کو اس مطالبے پر اس سے نفرت پیدا ہوئی؟‘‘
٭ ’’ نہیں،قطعی نفرت پیدا نہیں ہوئی اور میں فیشن کے طور پر یہ بات نہیں کہتا، یہ تو سراسر منافقت ہے۔ میں پوری سنجیدگی سے یہ بات کہتا ہوں کہ اس کی یہ بات سن کر نفرت کے بجائے میں نے اپنے دل میں اس کے لیے بہت ہمدردی محسوس کی اور اس پر ترس آیا، اس لیے کہ وہ نااہل، متکبر ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیبی دیوالیہ پن کا بھی شکار ہے۔ میں بھی جانتا تھا کہ وہ کسی مسئلے کوخواہ سیاسی ہو یا سماجی، اقتصادی ہو یا بین الاقوامی اسے حل کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ تھا۔ وہ صرف یہ جانتا تھا کہ کیسے للکارے اور قوت سے چلائے۔ میں اس سے 1954ء سے واقف تھا اور میں نے کبھی بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ میں روز اول سے ہی یہ سمجھتا تھا کہ اس کی سوچ میں کوئی گہرائی نہیں اور وہ کسی کام کو تیاری سے نہیں کرتا۔ بس وہ احتجاجی تھا اور آگ لگانا جانتا تھا۔ اس میں فکر انگیزی کا قطعی فقدان تھا اور اس کے ذہن میں واحد آئیڈیا یہ سما گیا تھا کہ بس علیحدگی چاہیے اب ایسے کسی شخص کے بارے میں سوائے رحم اور ہمدردی کے آپ کیا محسوس کر سکتی ہیں؟
1961ء میں ڈھاکہ کے دورے میں، میں نے ایک بار پھر اسے دیکھا۔ وہ میرے ہوٹل کی لابی میں تھا۔ میں اس کی طرف بڑھا اور کہا کہ مجیب آئو، ہم ایک کپ چائے پیتے ہیں۔ وہ انہی دنوں جیل سے چھوٹ کر آیا تھا اور تلخی سے پر تھا، لیکن اس بار ہم کافی دیر تک تنہائی میں بات کر سکتے تھے۔ اس نے کہا کہ مغربی پاکستان نے کس طرح مشرقی پاکستان کا استحصال کیا اور مغربی پاکستان نے مشرقی پاکستان کو ایک کالونی سمجھا اور اس کا خون تک نچوڑ لیا اور یہ بڑی حد تک حقیقت بھی تھی۔
میں نے یہی بات ایک کتاب میں بھی لکھی ہے لیکن اس نے کوئی نتیجہ خیز بات نہیں کی۔ اس نے سوشلزم اور جدوجہد کی بات بھی نہیں کی۔ اس کے برعکس اس نے اعلان کیا کہ لوگ جدوجہد کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں، کوئی بھی فوج کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کو ناانصافیاں دورکرنی چاہئیں۔ اس میں حوصلہ نہ تھا، کیا ایسی صورت حال میں اس کا خون کو ’’شیر بنگال‘‘ قرار دینا زیب دیتا تھا؟‘‘
O ’’ اس نے یہ بھی تو کہا کہ اس نے اپنے خلاف مقدمے کے دوران خود اپنا دفاع کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا اور اس کا اپنی گرفتاری کے بعد رویہ اور کردار ہیرو جیسا تھا۔ پھر اسے ایک کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا، جہاں سونے کے لیے بستر تک نہ تھا۔‘‘
٭ ’’ دیکھئے، وہ کسی کوٹھڑی میں نہیں تھا، اسے ایک اپارٹمنٹ میں رکھا گیا تھا، جہاں ہم سیاسی نظر بندوں کورکھا جاتا ہے۔ یہ لائل پور (فیصل آباد) میں میانوالی پنجاب جیل کے قریب واقع ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اسے اخبارات پڑھنے اور ریڈیو سننے کی اجازت نہیں دی گئی تھی لیکن اس کے استفادے کے لیے گورنر پنجاب کی پوری لائبریری تھی اور وہ وہاں بہت آرام سے رہا۔
بعض اوقات اسے بنگالی باورچی بھی دیا گیا، اس لیے کہ وہ بنگالی کھانے پسند کرتا تھا اور اس کے خلاف مقدمے میں اس نے خود اپنا دفاع کیا۔ اس نے دو ممتاز وکلا کمال حسین اور اے کے بروہی کی خدمات مستعار لیں۔ اے کے بروہی اس کے قانونی مشیر اور دوست تھے۔ کمال حسین تو جیل میں تھے لیکن بروہی جیل میں نہ تھے اور بروہی کی خدمات لینا سب سے بہترین بات تھی۔        )جاری ہے(

image