کا لم

ازلی دشمن بھارت سرحدوں پر اور حکومتی نمائندے و ارکان پارلیمنٹ اپنے قومی اداروں پر بلا اشتعال حملوں میں ملوث ہیں۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور پالیسی تو قابل فہم ہے کہ اس کے حکمران اندرونی صورت حال کو سنبھالا دینے کیلئے سرحدوں پر گہما گہمی پیدا کر کے عوام اور تنقید نگاروں کی توجہ خالصتاً پاکستان کی طرف کر کے اپنے لئے سہولت پیدا کر لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں پاک فوج کسی بھی طرح سنبھلنے نہیں دیتی اور جوابی کارروائی میں حقیقی جانی و مالی نقصان بھارت کا ہی مقدر بنتا ہے لیکن اندرونی محاذ کے بلا اشتعال حملے ہر صورت میں وطن عزیز کا نقصان ہیں کیونکہ قوموں کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت مضبوط قومی ادارے ہی ہوا کرتے ہیں۔ پھر بھی بر سر اقتدار مسلم لیگ (ن)کے منتخب نمائندے اپنے غیر ذمے دارانہ رویوں سے قومی اداروں کی ساکھ کو ایسے نقصان پہنچانے میں جت گئے ہیں جیسے یہ ان کی آخری لڑائی ہو؟ کوئی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ اس محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اسی لئے نادان دوستوں نے عدالت عظمیٰ، قومی احتساب بیورو، الیکشن کمیشن سے ’’اِٹ کھڑکا‘‘ لگا لیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس وقت حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ذمے داریاں مسلم لیگ(ن) کے گلے پڑ گئی ہیں۔ رکن قومی اسمبلی، داماد نواز شریف کیپٹن(ر) صفدر کی پارلیمنٹ میں اشتعال انگیز تقریر دلپذیر خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے ردعمل میں بہت سی شخصیات نے طبع آزمائی کی لیکن وزیراعظم شاہد خاقان
 عباسی کے بیان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان سے جواب طلب کیا جائے گا کیونکہ جو انہوں نے کہا وہ پارٹی پالیسی نہیں ہے۔ اسی طرح مریم نواز کا یہ کہنا کہ حسین اور حسن پاکستانی شہری نہیں، اس لئے ملکی آئین و قانون کی پابندی بھی ان پر لاگو نہیں ہوتی۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عدالت نے حسن اور حسین کو طلب کرنے کیلئے انٹر پول کو خط لکھنے کیلئے کہا تو وہ خط ضرور لکھیں گے۔ ایسا لگا کہ وہ یوسف رضا گیلانی کی طرح محض خط نہ لکھنے کی پاداش میں وزارت عظمیٰ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ یہی نہیں وزیر اعظم اپنے وزیر خزانہ کو بہترین تسلیم کرنے کے باوجود ان کے تمام فیصلوں سے اتفاق نہیں کرتے۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ اور سابقہ حکومت معاشی ترقی و خوشحالی کے گیت گاتے نہیں تھکتی۔ دوسری جانب وزیراعظم یہ بھی کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن سے سیکیورٹی صورت حال ہی نہیں اقتصادی معاملات میں بھی بہتری آئی ہے۔ اس صورت حال کا مطلب تو یہی سمجھ آ رہا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی اور دوبارہ سربراہ پارٹی بننے کے بعد بھی مسلم لیگ(ن) کو وہ اعتماد نہیں مل سکا جو وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں تھا۔ بظاہر یہ سب قومی اداروں سے پنجہ آزمائی کر رہے ہیں لیکن اندرونی طور پر مسلم لیگ(ن) میں کھلبلی روز اول کی طرح پائی جا رہی ہے۔ مسلم لیگی رہنما نیک خواہشات کے باوجود تذبذب کا شکار ہیں اس گو مگوں کی نازک صورت حال میں سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں پارٹی اور حکومت سے دور رہ کر بھی اپنے سابقہ مشورہ پر قائم ہیں کہ عدالتوں سے کسی قسم کی محاذ آرائی بھی ملک، قومی اداروں، مسلم لیگ(ن) اور نواز شریف کیلئے کسی بھی طرح ٹھیک ثابت نہیں ہو سکتی پھر بھی سیاسی گولہ باری کی شدت کم نہیں ہو رہی۔ حسن، حسین کو پیش ہونے کیلئے 30دن کی مہلت دی گئی ہے ورنہ دائمی ورانٹ جاری کر کے جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ ایسے میں بھی مسلم لیگی متوالوں نے مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی پیشی پر جس قسم کا ٹریلر چلایا وہ تو مستقبل میں مزید جارحانہ اور گمبھیر صورت حال کی نوید سنا رہا ہے۔ ہمارے چند دوستوں کا تجزیہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) جذبہ شہادت میں تلملا رہی ہے وہ کسی بھی موقعے پر حالات کی نزاکت کا فائدہ اٹھا کر رتبہ شہادت حاصل کرنے کی خواہشمند ہے۔
 فی الحال معاملات اسی ڈگر پر چلتے محسوس ہو رہے ہیں۔ ناقدین کی رائے ہے کہ اَب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے مسلم لیگ (ن) کو اقتدار اور مستقبل بچانے کیلئے نئی حکمت عملی افہام و تفہیم سے بنانا پڑے گی ورنہ موجودہ صورتحال پارلیمنٹ و عدلیہ ٹکراؤ کی کیفیت ’’پارٹی اور قیادت‘‘ دونوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی۔ یہ ٹکراؤ مصنوعی ہے کہ حقیقی، تاریخ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہو گا اگر ان معاملات میں بہتری نہ آئی تو جمہوریت، جمہوری نمائندے اور جمہوری اقدار سب گھاٹے میں رہیں گے اور دنیا کو ہمیں غیر جمہوری قرار دینے کا ایک سنہری موقع مل جائے گا۔ پاکستانی عوام، سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں نے جمہوریت کے لئے بہت قربانیاں دیں لیکن بد قسمتی یہی ہے کہ اسکے ثمرات صحیح معنوں میں عوام تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ ہم میں برداشت کی کمی ہے۔ ہم آئین و قانون کے تحت خود حکمرانوں کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر آئینی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی بیزار ہو جاتے ہیں۔ وطن عزیز کے آمرانہ ادوار نے کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا لیکن حالات چغلی کھاتے ہیں کہ ہمارے جمہوری حکمرانوں اور سیاستدانوں نے ہر مرتبہ ایسے گل کھلائے کہ اقتدار گنوا بیٹھے۔ اس وقت بھی صورت حال ایسی ہی بنتی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ کا تیسری بار بھی اقتدار بخیر و خوبی اختتام تک پہنچتا نظر نہیں آ رہا۔ موجودہ اقتدار ایک منتخب جمہوری حکومت نے دوسری منتخب حکومت کے حوالے کیا تھا اور ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ شاید جمہوریت پٹری پر چڑھ گئی لیکن نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں سیاستدانوں پر تنقید کو جمہوریت، دینی رہنمائوں کے خلاف بولنے کو اسلام اور کرپشن کے خلاف رائے زنی کو نظام کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں صرف اپنے اپنے رشتہ داروں کے خلاف بول کر جمہوریت نہیں بچائی جا سکتی۔
جمہوریت اور جمہوری اقدار کو بچانا اور اسکے ثمرات کو عوام تک پہنچانا مقصود ہے تو اقتدار کی ’’چھینا جھپٹی‘‘ سے بچ کر آخری لڑائی ’’رواداری اور برداشت‘‘ کی بنیادوں پر لڑنا ہو گی۔ اس لئے ماضی کی طرح قید و بند کی صعوبتیں بھگتنا پڑیں گی اور سیاضحکومتیں اور ریاستیں آئین و قانون کے تابع ہوا کرتی ہیں لیکن ہمیں اپنے آپ پر جمہوری ’’لیبل‘‘ لگانے کے باوجود آئین اور قانون یاد ہی نہیں رہتا۔ ہمارے وزراء، بلکہ اہم ترین حکومتی عہدیداران ’’پل میں ماشہ پل میں تولہ‘‘ ہوتے ہوئے ’’معیشت‘‘ کے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں۔ جب ان پر تنقید ہوتی ہے کہ کامیابی اور ترقی کے تمام اشاریے وفاقی و صوبائی بجٹ کی طرح الفاظ کا ’’گورکھ دھندہ‘‘ ہیں کیونکہ صرف قوم کو بین الاقوامی قرضوں کے جال میں پھنسا کر ترقی کی منزل نہیں مل سکتی تو سرکار کی تمام چھوٹی بڑی توپوں کا رخ ذمے دار اداروں کی طرف کر کے کبھی نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ دی جاتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت، وزراء اور وزیر اعظم سب کے سب بدحواسی کا شکار ہیں۔ جب ہی تو ان کے بیانات وقت گزاری کے لئے علیحدہ علیحدہ دکھائی دیتے ہیں۔حکومتیں اور ریاستیں آئین و قانون کے تابع ہوا کرتی ہیں لیکن ہمیں اپنے آپ پر جمہوری ’’لیبل‘‘ لگانے کے باوجود آئین اور قانون یاد ہی نہیں رہتا۔ ہمارے وزراء، بلکہ اہم ترین حکومتی عہدیداران ’’پل میں ماشہ پل میں تولہ‘‘ ہوتے ہوئے ’’معیشت‘‘ کے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں۔ جب ان پر تنقید ہوتی ہے کہ کامیابی اور ترقی کے تمام اشاریے وفاقی و صوبائی بجٹ کی طرح الفاظ کا ’’گورکھ دھندہ‘‘ ہیں کیونکہ صرف قوم کو بین الاقوامی قرضوں کے جال میں پھنسا کر ترقی کی منزل نہیں مل سکتی تو سرکار کی تمام چھوٹی بڑی توپوں کا رخ ذمے دار اداروں کی طرف کر کے کبھی نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ دی جاتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت، وزراء اور وزیر اعظم سب کے سب بدحواسی کا شکار ہیں۔ جب ہی تو ان کے بیانات وقت گزاری کے لئے علیحدہ علیحدہ دکھائی دیتے ہیں۔ وزیر اعظم عباسی فرماتے ہیں ’’سول و ملٹری تناؤ نہیں‘‘ سپہ سالار معیشت پر رائے دے سکتا ہے، وزراء مخالفت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم ٹیکنو کریٹ اور قومی حکومت کے خوابوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اراکین ’’عدلیہ اور فوج‘‘ کے احتساب کے لئے پارلیمنٹ میں صف بندی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے ذرائع ’’فارورڈ بلاک‘‘ بنتے دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم عباسی کا دعویٰ ہے کہ جس کی ہمت ہے تحریک عدم اعتماد لے آئے۔ گردشی قرضے 
390ارب ہو چکے ہیں۔ عوام 35فیصد سے زائد غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ خزانے کے مالک اسحاق ڈار سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کے ذمہ دار 261ارکان پارلیمنٹ اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر معطل ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قوم پر احسان کرنے کے لئے الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کے لئے تیار ہوئے تو سابق مفاہمتی صدر آصف علی زرداری نے ’’ون ٹوون‘‘ نواز شریف سے ’’اٹ کھڑکے‘‘ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ’’معاملہ‘‘ ہر لحاظ سے گڑ بڑ ہے، ہر کوئی افہام و تفہیم کے بجائے ’’جمہوریت اور جمہوری اقدار‘‘ کے نام پر آخری لڑائی کے لئے ’’لنگوٹ‘‘ کس کر تیار ہے جس میں عمران خان کی اسلام آباد پر چڑھائی کی دھمکی بھی شامل ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ شریف الدین پیرزادہ کی رحلت کے بعد دور کی کوڑی ڈھونڈنے والے ماہر قانون دارالحکومت اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں ہوئے ہیں، سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو چند دنوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
 

image

کوئی اس بات کا اعتراف کرے یا نہ کرے، بہرحال حقیقت یہی ہے کہ شریف خاندان کو قومی سیاست میں اب ایک قابل ذکر اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ ماضی میں یہ خاندان بنیادی طور پر ایک ایسا کاروباری خاندان تھا جس کو سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اس خاندان کے بزرگوں نے ہمیشہ اپنی روز و شب کی محنت پر انحصار کیا اور نہایت خاموشی کے ساتھ خوشحالی اور آسودگی کے مراحل طے کئے۔ اس صورتحال میں اس وقت اچانک حیرت انگیز تبدیلی آئی جب جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا خاتمہ کر کے اقتدار پر قبضہ جما لیا اور جنرل جیلانی نے شریف خاندان کے سربراہ میاں شریف کو جنرل ضیاء الحق سے متعارف کرایا۔ میاں صاحب نے جنرل ضیاء الحق کو باور کرایا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ان کے صنعتی یونٹ کو قومی ملکیت میں لے کر ان کے ساتھ نہایت زیادتی کی ہے چنانچہ وہ بھٹو کو ہر محاذ پر شکست دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ ضیاء الحق کے لئے یہ عندیہ اور پیشکش قابل قبول تھی چنانچہ ضیاء الحق نے کچھ عرصے کے بعد مذکورہ صنعتی یونٹ شریف خاندان کو واپس کر دیے اور کسی نہ کسی طور ان کا مالی نقصان بھی پورا کر دیا لیکن شریف خاندان نے آج تک اس کا اعتراف نہیں کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت (بلکہ دشمنی) میں شریف خاندان نے ضیاء الحق کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ہی میاں نواز شریف نے مارشل لاء حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اس سے پہلے ایئر مارشل (ر) کی سیاسی جماعت، تحریک استقلال میں شامل تھے لیکن وہاں پر ان کی کوئی شناخت اور پہچان ہرگز نہیں تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میاں نواز شریف ممتاز صحافی اور دبنگ خطیب، آغا شورش کاشمیری کے صاحبزادے مسعود شورش کو اپنے کشمیری ہونے کے تعلق کی بنیاد پر فرمائش اور اصرار کیا کرتے کہ کسی نہ کسی طرح ان (نوازشریف) کی فوٹو بزرگ سیاستدان، نوابزادہ نصراللہ خان کے ساتھ بنوا کر، آغا صاحب کے ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ میں شائع کرا دی جائے۔ اس نشاندہی کی ضرورت نہیں کہ تب نواز شریف کی سیاسی فکر کی سطح بلکہ معراج یہی تھی۔ ضیاء الحق کے ساتھ میاں شریف کا ذاتی سطح پر ہونے والا رابطہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا گہرا اور وسیع ہو گیا کہ آج بھی اس کا تجزیہ اور جائزہ ناقابل یقین محسوس ہوتا ہے۔ 1977ء سے شروع ہونے والے اس تعارف 
اور تعاون کو اب 4 عشرے گزر چکے، اس عرصے میں بھٹو صاحب کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا، ضیاء الحق ایک ہوائی حادثے میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، بھٹو کے دو صاحبزادے اور ایک صاحبزادی لقمہ اجل ہو گئے اور خود ضیاء الحق کے صاحبزادے سیاسی اعتبار سے ’’یوسف بے کارواں‘‘ کا مترادف ہو کر رہ گئے لیکن شریف خاندان نے سیاسی اعتبار سے خود کو یوں مستحکم کیا کہ میاں نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف تین مرتبہ وطن عزیز کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ (یہاں پر میں شریف خاندان کے مالی استحکام اور ذخائر کا بیان کرنے سے گریزاں ہوں کہ یہ ایک الگ موضوع بلکہ مضمون ہے)۔
شریف خاندان کی سیاسی حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی اس وقت مشاہدہ کی گئی تھی جب اس خاندان کی سعودی عرب میں جلا وطنی کے دوران میاں شریف کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد نواز شریف نے 14 مئی 2006ء کو لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ اگرچہ شریف خاندان اور اس کے مرغ دست آموز اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے لیکن قومی سیاست کا ایک عام طالبعلم بھی خوب جانتا ہے کہ اسی سیاسی معاہدے نے شریف خاندان کی وطن واپسی کا راستہ بھی ہموار کیا اور یہ اسی معاہدے کا ثمر ہے کہ آج شریف خاندان سیاسی اعتبار سے نا صرف اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کے سر پر اقتدار کا ہما بھی بیٹھا ہوا ہے۔ اس تناظر میں یہ امر بھی نہایت قابل غور ہے کہ ان خوشگوار اور قابل رشک حالات کے باوجود شریف خاندان کی نئی نسل یعنی میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی اولاد اپنے خاندان کی سیاسی حرکیات کی ’’باغی‘‘ مشاہدہ کی جاتی ہے۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد بغاوت کا یہ عنصر بے حد نمایاں دکھائی دیا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ لاہور میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنی بھتیجی مریم نواز اور صاحبزادے، رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف سے ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کی جس میں موصوف نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی۔ تینوں رہنمائوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ جمہوریت کو ہر صورت چلنا چاہیے اور اس کے لئے تمام لوگوں کو یک جان ہو کر کام کرنا ہو گا۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اداروں کے درمیان محاذ آرائی کسی صورت ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں لہٰذا تصادم سے گریز کیا جائے، ایسے بیانات بھی نہ دیے جائیں جس سے غلط فہمیاں پیدا ہونے کے امکانات ہوں۔ ملک کسی بھی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جب اور جہاں ضرورت ہو میاں نواز شریف سے فوری مشاورت کی جائے۔ شنید ہے کہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ جلد ناراض کارکنوں سے مل کر انہیں منایا جائے گا۔ ادھر مریم نواز نے ملاقات سے متعلق اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انکل شہباز سے میری ملاقات کو مختلف رنگ دے دیا گیا، انکل شہباز کو سلام کرنے اور چائے پینے گئی تھی، حمزہ اور سلمان بھائی سے بھی ملاقات اچھی تھی، شریف خاندان میں دراڑیں ڈالنے والے ہمیشہ کی طرح ناکام ہوں گے۔ حمزہ شہباز نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا پہلے سے ذاتی وجوہ پر لندن جانا طے تھا اور میں نوازشریف صاحب کو بتا کر گیا۔ میری ٹیم اور پارٹی کا الیکشن سیل مریم باجی کے ساتھ کام کر رہا تھا اور میں بیرون ملک بیٹھا الیکشن کی لمحہ بہ لمحہ خبر لیتا۔ ہماری جیت اسی میں ہے کہ ہم مل کر رہیں، 
انہوں نے کہا کہ ہم کبھی نہ کبھی تایا نوازشریف اور بہن مریم نواز کو قائل کر لیں گے۔ شہبازشریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز کے درمیان 6 ماہ بعد ہونے والی اس اہم ملاقات میں ’’چچا نے بھتیجی اور بیٹے‘‘ کے درمیان اختلافات ختم کرا دیے اور دونوں کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔ واضح رہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کی مہم حمزہ شہباز کو چلانی تھی لیکن وہ اچانک بیرون ملک روانہ ہو گئے جس کے بعد مذکورہ مہم مریم نواز نے چلائی تھی۔
ان تینوں شخصیات کے بیانات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘ اور اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ مذکورہ خیال آرائی اور بیان بازی کسی جواز کے بغیر کی گئی۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی نے ان تینوں شخصیات سے اس بارے استفسار نہیں کیا تھا جس کی وضاحت اور تشریح انہوں نے کرنے کی زحمت گوارا کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ لندن میں زیر علاج کلثوم نوازشریف کی صحتیابی کے باب میں دعا کرتے اور عوام سے بھی دعا کی اپیل کرتے لیکن اب صورتحال اس نوبت پر آن پہنچی ہے کہ شیخ رشید نے بھی اس کو اپنے بیان کا ہدف بنا لیا۔ موصوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے بچوں میں لڑائی پرانی ہے جس میں اب شدت آ چکی ہے، مریم نواز نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ شریف خاندان کی عادت ہے کہ کام پڑنے پر وہ پاؤں میں گر جاتے ہیں اور جب کام نکل جاتا ہے تو گلے پڑتے ہیں، شریف خاندان کے بچوں میں اختلافات ختم ہونے والے نہیں کیونکہ بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں چنانچہ تجربہ کار بھائی کے بجائے کل کی لڑکی کو پارٹی کی باگ ڈور تھما دی ہے۔
 

image

مثل ہے ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘۔ آخر 6 مہینے بعد مریم نواز کو کیا اُفتاد پڑ گئی کہ وہ اپنے چچا شہباز شریف کے گھر جا کے طویل ملاقات کریں۔ خود اُن کے مطابق یہ محض رسمی ملاقات تھی، چچا کو سلام پیش کرنے اور چائے پینے گئی تھیں، لیکن آخر اس کی ضرورت کیوں پڑی؟ جب نواز شریف کو واقعی خاندان کے اہم افراد کی حمایت اور دیکھ بھال کی ضرورت تھی، اُس وقت تو شہباز شریف سامنے آئے نہ اُن کے صاحبزادے حمزہ شہباز، سب نے عین انتخاب کے دوران لندن یاترا کو ترجیح دی۔ کہنے کو تو یہ کلثوم نواز کی عیادت تھی لیکن بات کچھ سمجھ نہیں آتی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ NA-120 کے انتخابات زیادہ اہم تھے یا لندن یاترا۔ کلثوم نواز (اﷲ اُنہیں صحت کاملہ عطا کرے، ہماری دعائیں اُن کے ساتھ ہیں) کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ نواز شریف کا وہاں ہونا سمجھ آتا ہے، بیوی اگر بیمار ہو تو شوہر سے بڑھ کر اﷲ کے بعد دوسرا کوئی اور بڑا سہارا نہیں ہوتا۔ نواز الیکشن چھوڑ کر لندن اہلیہ کی تیمارداری کے لیے گئے تو مناسب بات ہے۔ ہونا بھی یہی چاہیے تھا۔
تاہم اس بیچ میں کئی مہینوں سے مریم نواز تمام تر درد بھلا کر ضمنی انتخاب کی جیت پر ہی نظر مرکوز رکھے ہوئے تھیں، شاباش ہے، اُنہوں نے دلیری اور ہمت سے کام لیا۔ مریم نے جو کچھ کیا اُس پر اُنہیں مبارک باد، لیکن انتخابات کے دوران شریف خاندان میں تنائو کی خبریں متواتر گردش کرتی رہیں، کتنی صداقت تھی کتنی مبالغہ آرائی، یہ تو نہیں کہہ سکتا، لیکن انگریزی کا ایک مقولہ ہے Where there is smoke there is fire ’’شعلے دھویں کے نیچے چنگاری تو ہوتی ہی ہے۔‘‘ کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ تھی جس کا خاصا چرچا رہا، ہر ٹیلی وژن پر مبصرین اس پر رائے زنی کرتے سنائی دیے۔ مریم کا چچا کے یہاں جانا، شہباز اور اُن کے صاحبزادے سے ملاقات اور پھر شہباز کی لمبی چوڑی، جوشیلی تقریر نواز شریف کی حمایت میں، بغیر کسی وجہ کے تو نہیں تھی۔
مریم لندن سے واپس آ گئیں، اُن کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر بھی وطن لوٹے، دونوں نے احتساب عدالت کے سامنے حاضری دی، لیکن وکلا کی دھما چوکڑی کی وجہ سے سب ڈر گئے کہ پہلے جیسا حملہ دوبارہ عدالت پر نہ ہو جائے، اُس وقت بھی نواز شریف کی پارٹی کے اہم عہدے دار بشمول وزیر اطلاعات مشاہد حسین سید اور معروف ٹی وی شو نیلام گھر کے میزبان ایم این اے طارق عزیز اور کئی دوسروں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا۔ ایسا ہی کچھ سین اس دفعہ بھی تھا جب نواز شریف سپریم کورٹ میں پیش ہونے آئے، جج نے 19 اکتوبر تک تاریخ بڑھا دی۔ تاہم نواز شریف اب بھی نہیں آئے۔ شاید یہی پس منظر تھا جس پر گفتگو کرنے مریم صاحبہ چچا شہباز شریف کے گھر گئیں۔ ظاہر ہے گلے شکوے دُور ہوئے ہوں گے، جو شہباز شریف کے جوش خطابت اور ٹی وی انٹرویو سے لگ رہا تھا۔ ڈوبتی نیّا کو تو اکثر لوگ چھوڑ دیتے ہیں لیکن جہاں معاملہ اقتدار کا ہو وہاں تو کشتی کو بچانا ہی پڑتا ہے، ڈوبتے کو تنکے کا سہارا، یہی کچھ آج بھی لگ رہا ہے۔ اُن کی ملاقات محض رسمی نہیں تھی، خاندان کی عزت بچانا بھی مقصود تھا۔ گو مریم نواز نے خود بھی کہا کہ ملاقات کو کوئی اور رنگ نہ دیا جائے، لیکن جب بات نہ ہونی ہو تو تبصرے تو خود بخود ہی شروع ہو جاتے ہیں۔
دوسرے تناظر میں، میں بھی ملاقات اہم تھی، دارالحکومت اسلام آباد میں مسلسل چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ شاید جمہوریت پٹری سے اُتر جائے۔ اس لیے کہ نواز شریف ہٹ دھرمی سے باز نہیں آ رہے۔ مریم کی زبان قابو میں نہیں۔ مستقلاً افواج پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ نتیجہ اس کا خراب ہی ہونا ہے۔ دیکھنا یہی ہے کہ جمہوریت بچتی ہے یا حالات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ سرگوشیاں اب مستقل سننے میں آ رہی ہیں کہ ایک ٹیکنو کریٹ گورنمنٹ کا قیام عمل میں لایا جائے، جو صحیح معنوں میں انتخابات، صاف و شفاف، بائیو میٹرک کے ذریعے، قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر کرائے جائیں لیکن پہلے ملکی دولت کو واپس لایا جائے، جو شریف اور زرداری خاندان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کی طرف سے لوٹی گئی۔ ورنہ پھر جائیداد کی ضبطگی، لیکن ایک اور مسئلہ درپیش ہے اور وہ ہے کہ کیا صرف سیاست دانوں کا ہی احتساب ہو گا، کیا دوسروں جن پر بے پناہ دولت بنانے کا الزام ہے، اُن کو شامل تفتیش نہیں کیا جائے گا۔ یہ ذرا ٹیڑھی کھیر ہے، سو سیدھی اُنگلی سے نکالنا مشکل ہے۔ بہرحال کچھ تو ہے جس کا ذکر خیر سڑکوں پر سنائی دے رہا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جب تک تصدیق نہ ہو جائے، میں افواہوں پر تبصرہ کرنے کا قائل نہیں، لیکن اگر عوام النّاس میں بات پھیل جائے تو نوٹس تو لینا ہی پڑے گا۔
دوسری طرف کچھ مبصرین یہ تک کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ملک کے موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے شریف خاندان سے دُوری اختیار کرنا شروع کر دی ہے، میں تو یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں، اس لیے کہ شاہد خاقان عباسی کا ماضی بھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرح داغ دار ہے۔ اُن پر قطر گیس کا کمیشن لینے کا الزام لگا، پھر ایک نئی کہانی شروع ہو گئی کہ پی آئی اے کا نیویارک میں برسوں سے خریدا ہوا ہوٹل روز ویلٹ اونے پونے داموں بیچ دیا گیا۔ پی آئی اے جو قومی ایئر لائن اپنی امریکا کی سروسز بند کر رہی ہے، شاید یکم نومبر سے کراچی نیویارک سروس بند کر دی جائے اور اس کے بجائے شاہد خاقان عباسی کی ایئر بلیو (جو نجی ایئر لائن ہے) کراچی، نیویارک سروس کا اجرا کرے۔ واﷲ اعلم بالصواب۔
ایک بات تو صاف ہے کہ (ن) لیگ کی حکومت کی ساکھ ختم ہوتی نظر آ رہی ہے، نیّا ڈوب رہی ہے، کیسے بچے گی، اس کا علم غیب کو ہے۔ افتخار چوہدری کے معاملے کے بعد ایک دوسری عدالت وجود میں آ چکی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ایک وزیر اعظم کو برخاست کر دیا گیا۔ ویسے تو یوسف رضا گیلانی کو بھی کرسی چھوڑنا پڑی تھی لیکن ایسا کرپشن نہیں بلکہ توہین عدالت کی وجہ سے ہوا تھا۔ ویسے بھی نواز شریف اور اسحاق ڈار کی مقدمات کو التوا میں ڈالنے کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ انصاف کی توقع ہر کسی کو ہے، جو پوری ہوتی نظر آتی ہے۔
مریم نواز کی چچا اور چچا زار بھائی سے ملاقات کا سلسلہ ان تمام باتوں سے منسلک نظر آتا ہے، پھر اوّل سوال یہی کہ کیا شریف خاندان بچ پائے گا، بظاہر تو نہیں لگتا، لیکن غیب کا علم خدا کو ہی ہے۔ کایا پلٹ بھی سکتی ہے، مگر ایسی صورت میں عمران خان نے وہ ہنگامہ برپا کرنا ہے جس کے تصور سے روح کانپ جاتی ہے۔ عمران کا بھرپور عزم اُس کی کامیابی کی ناقابلِ تردید دلیل ہے۔
 

image

پاکستان کی معیشت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے، وزیر خزانہ اپنے ذاتی معاملات میں اس قدر الجھ چکے کہ معاشی ماہرین کو خدشات لاحق ہیں کہ ایسا ہی رہا تو ملک کو شدید معاشی دھچکا لگنے کے خطرات ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی موجودہ سیاسی صورتحال کے سبب تن تنہا جرأت مندانہ پالیسی بنانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان حالات میں پاکستان کے عسکری ادارے کی جانب سے مارشل لا لگنے کے امکان کو قطعی مسترد کر دینا اور جمہوری عمل کے تسلسل پر یقین رکھنے کا پالیسی بیان اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں پاکستان کے عسکری اداروں کے خلاف عالمی سازشوں کو گہری نظر سے دیکھنا ہو گا۔ بھارت، افغانستان اور امریکا ٹرائیکا کی پاکستان کے عسکری اداروں کے خلاف مشترکہ پالیسیوں و جارحانہ بیانات کو نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اصل سازش یہی ہے کہ حکومت پر دباؤ ڈال کر معتبر اداروں کے کردار کو محدود کرنے کے لیے متنازع قانون سازی کی جائے، یہ حکومت نہیں عوام کے خلاف سازش شمار ہو گی۔
ٹرمپ پالیسی کے بعد جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی، جسے خود افغانستان کے سابق صدر کرزئی نے خطے کے امن کے خلاف خطرناک قرار دیا اور داعش کی خطے میں موجودگی کا ذمے دار امریکا کو ٹھہرایا۔ افغانستان سے بہتر تعلقات کی خواہش پاکستان سے زیادہ کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا، کیوںکہ افغانستان کے امن کا براہ راست تعلق وطن عزیز کے امن و ترقی سے ہے۔ حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ افغانستان کے بعد مغرب اور افغان میڈیا میں اس بات کا اظہار کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں کمی کے آثار پیدا ہونے کی امید ہے، لیکن صرف چند روز بعد ہی افغانستان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ رحمت اللہ نبیل نے شکوک کا اظہار کر دیا، جس کے بعد افغانستان کے سابق سرکاری اہلکاروں، سیاست دانوں اور افغانی تجزیہ کاروں نے بھی معاملات منجمد ہونے کے حوالے سے برملا اظہار کیا۔ گو ماضی کے مقابلے میں پاکستانی فوجی سربراہ کے استقبالیے میں کابل حکومت کا رویہ کافی پُر جوش رہا تھا اور اُنہیں شاندار سرکاری پروٹوکول بھی دیا گیا تھا۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں بہتر تعلقات کا عندیہ بھی دیا، لیکن اب وہی ہو رہا ہے جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پاکستان کے خلوص اور نیک نیتی پر اعتماد بحال ہونے کے لیے کئی دقّت طلب معاملات طے کیے جانے کے متقاضی ہیں۔ اس دورۂ افغانستان کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دے کر پاکستان کی جانب سے امن کی خواہش پر دوبارہ شکوک کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے مفاہمتی عمل کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔
دوسری جانب پاکستان۔ امریکا تعلقات میں بھی برف پگھلنے کے امکانات پیدا ہوئے، اس کی وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے امریکا سے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ’’امریکا اگر پاکستان کے حوالے سے سمجھتا ہے کہ دہشت گردوں کی ’پناہ گاہیں‘ موجود ہیں تو وہ نشان دہی کرے، ان جگہوں پر پاکستان خود بمباری کرے گا۔‘‘ امریکا کی جانب سے ریاستی اداروں پر سنگین الزامات عائد کرنا براہ راست ریاست پر الزام لگانے کے مترادف ہے، کیونکہ کوئی ریاستی ادارہ خودمختار نہیں جو اپنی مرضی سے پالیسیاں بناتا ہو، بلکہ ریاست کے اہم ستون کا جزو ہونے کی حیثیت سے اپنے آئینی فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اہم بات یہ کہ ماضی کے مقابلے میں پاکستان نے بڑی جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو باور کرایا کہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے میں اصل رکاوٹ خود امریکا ہے۔
علاوہ ازیں افغان طالبان کو جب بھی مذاکرات کے لیے پاکستان نے اپنا محدود اثررسوخ استعمال کیا، امریکا نے ڈورن حملوں سے اُسے سبوتاژ کر دیا، جس کے سبب پاکستان کا افغان طالبان پر ماضی کے مقابلے میں نفوذ کم ہو گیا ہے۔ امریکا، پاکستانی مؤقف کو سمجھتا بھی ہے لیکن اب اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ پاکستان سے اعتماد ساز تعلقات کی بحالی میں اس کا کردار کیا ہو، کیونکہ امریکا ڈومور کے مطالبے کے ساتھ پاکستان کی کلیدی نان نیٹو اتحادی حیثیت کم کرنے کی کئی بار دھمکی بھی دے چکا ہے۔ اس دوران امریکا خطے میں بھارت کی اجارہ داری کے لیے پالیسی مرتب کر چکا تھا، جسے وطن عزیز دوٹوک مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ پاکستان کو بھارت کا افغانستان میں متنازع کردار قبول نہیں۔ عالمی امور کے ماہر تجزیہ نگاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ امریکا، بھارت کو افغانستان میں اہم کردار دے کر پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی امید نہ رکھے۔
پاکستانی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران ہی امریکی وزیر دفاع نے ہاؤس کی آرمڈ سروس کمیٹی کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دے ڈالی، لیکن امریکی وزیر دفاع بھی اچھی طرح جان چکے ہیں کہ پاکستان سے بات کیے بغیر کوئی بھی قدم اٹھانا امریکا کے لیے سبکی اور خفت کا باعث بن سکتا ہے۔ دراصل امریکا پاکستان پر ڈورن حملوں میں اضافے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی خاطر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان میں امریکی محدود ڈرون حملے سابقہ پالیسیوں کے تناظر میں جاری ہیں جب کہ امریکا خواہش مند ہے کہ ڈورن حملوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے اُن تنظیموں کو بھی نشانہ بنائے، جن سے اس کا چہیتا بھارت پریشان رہتا ہے۔ امریکا افغانستان میں موجود اُن عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کی یقین دہانی بھی نہیں کرانا چاہتا جو مسلسل افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں ہی افغانستان سے وادی راجگال خیبر ایجنسی کی لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فورسز پر فائرنگ کی گئی، جس سے لیفٹیننٹ ارسلان، نائب صوبے دار اظہر علی سمیت 8 بے گناہ شہری شہید ہوئے۔
پاکستان لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب جب اشرف غنی اور مودی حکومتوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی بات کرتا ہے تو امریکا اس کے مطالبے پر کان دھرنے کے بجائے پُرانا گیت گانا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے امریکا کو کہا ہے وہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی نشان دہی کرے، پاکستان خود بمباری کرے گا۔ غالب امکان یہی ہے کہ پاکستان نے امریکی اشتعال انگیز بیانات کی پالیسیوں کے جواب میں نیا بیانیہ ترتیب دیا ہے تاکہ کچھ وقت مل سکے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے نئی راہ تلاش کی جا سکے، کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری کا اہم مرحلہ افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔ چین، روس سمیت وسطی ایشیائی ممالک اس اہم منصوبے کے ثمرات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور امریکا کے کردار کو افغانستان میں کم کرنا چاہتے ہیں۔ اقتصادی سرد جنگ میں پاکستان خود کو دوبارہ تختۂ مشق بنانے کی پوزیشن میں بھی نہیں، کیوںکہ اقتصادی طور پر پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار اگر اس بار رُک جاتی ہے تو اسے دوبارہ سنبھلنے میں طویل وقت درکار ہو گا، جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا۔
بھارتی حکومت کے عہدے دار و سیاست دان میڈیا پر آ کر واضح دھمکی دے چکے ہیں کہ 2018ء اپریل، مئی میں پاکستان کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ بھارت کی جانب سے گیدڑ بھبکیاں جاری ہیں کہ پاکستان کو (خدانخواستہ) چار حصّوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ بھارت کی اشتعال انگیزی کا مدعا یہ ہے کہ پاکستان کے تین صوبوں کے عوام پاکستان سے(خاکم بدہن) آزادی چاہتے ہیں، لہٰذا بھارت اس کے چار ٹکڑے کرے گا، تا کہ ہمیشہ کے لیے پاکستان کا مسئلہ ختم ہو سکے۔ بھارتی حکام و سیاست دان پاکستان کو پانی  بند کرنے کی دھمکی کے ساتھ کشمیر سے ڈیم توڑ کر پاکستانی عوام کو سیلاب میں ڈبونے کی منصوبہ بھی کیے بیٹھے ہیں۔ یہ دھمکیاں سنجیدہ نوعیت کی ہیں، کیونکہ جس طرح بھارت لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور دوسری طرف افغانستان سے در اندازی جاری ہے۔ بین الااقوامی امور کے ماہر تجزیہ نگار بھارت کے حالیہ بیانات کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ جس طرح کا ماحول بھارت میں پیدا کیا جا رہا ہے، اس سے خدشہ ہے کہ پاک۔ بھارت کے درمیان ایک بار پھر جنگ چھڑ سکتی ہے۔ پاکستان بھارت کے مکروہ عزائم سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ خصوصاً جب ملک میں نئے انتخابات کی تیاریوں میں تمام سیاسی جماعتیں مصروف ہوں، عبوری حکومت کا ڈھانچہ بڑی اہمیت کے حامل فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ مملکت میں امن کے ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے حساس اداروں اور اہم ریاستی ستونوں کی تمام توجہ ملکی حالات پر مرکوز ہو تو دشمن کے لیے کسی بھی قسم کا وار کرنے کا اس سے اچھا موقع دوسرا نہیں ہو سکتا۔ ہمیں تو یقین ہے کہ تحفظ پاکستان کے ضامن ادارے ان مذموم عزائم سے بے خبر نہیں ہوں گے اور مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مزید چوکنّے ہوں گے۔ اسی لیے پاکستان امریکا سے کم ازکم اس حد تک مہلت ضرور چاہتا ہے کہ اہم نوعیت کے حساس فیصلوں کے لیے کم ازکم نئی حکومت کا انتظار کرے، کیونکہ موجودہ حکومت کسی بھی قسم کا کوئی بھی فیصلہ کرتی ہے تو اس کے نتائج براہ راست انتخابات پر اثرانداز ہوں گے جب کہ امریکا کسی نئی حکومت کے انتظار کے بجائے مسائل میں الجھی موجودہ حکومت سے ہی ایسی یقین دہانیاں چاہتا ہے، جسے آنے والی کوئی بھی حکومت تبدیل نہ کر سکے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت و سیاسی صورت حال کوئی بھی ایسا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، جس میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف ’’زیرو ٹالرینس‘ پر تن تنہا عمل درآمد کر سکے۔

image

مہاجر صحابہؓ کے امیر حضرت ابوحذیفہؓ اور انصار کے امیر حضرت ثابت بن قیس انصاریؓ تھے۔ فوج کے علم بردار حضرت عمر بن خطابؓ کے بھائی حضرت زید بن خطابؓ مقرر کیے گئے۔ (البدایۃ والنہایۃ، امام ابن کثیر، المجلد الاول، ص1318-1319)
جنگ یمامہ تاریخ اسلام کے عظیم ترین اور اہم ترین معرکوں میں شمار ہوتی ہے۔ حضرت خالدؓ اپنی فوج کو لے کر اس علاقے میں پہنچے تو دیکھا کہ مسیلمہ چالیس ہزار جنگجو اپنے گرد جمع کیے اپنے قلعے کے باہر عقربا کے مقام پر خیمہ زن ہے۔ اس کے سامنے کھلے میدان میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے بھی پڑاؤ ڈال دیا۔ اس عرصے میں یہاں پہنچنے سے قبل حضرت خالدؓ کا آمنا سامنا بنو حنیفہ ہی کے ایک اور کافر سردار مجاعہ بن مرارہ کے ساتھ ہوا، جو بنو عامر اور بنو تمیم پر شب خون مارنے کے بعد مال غنیمت لے کر واپس جا رہا تھا۔ اس کے سب ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا اور حضرت خالدؓ کے حکم پر اسے جنگی حکمت عملی کے پیش نظر قید کر لیا۔ 
حضرت خالدؓ کے میدان جنگ میں پہنچنے کے دوسرے روز باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ دشمن کا ایک جنگجو میدان میں نکلا اور مسلمانوں کو مقابلے کے لیے للکارا۔ حضرت زید بن خطابؓ اس کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے اور اسے تہہ تیغ کر دیا۔ دشمن کا یہ جنگجو رجال بن عنفوہ تھا جو اپنی بہادری کے لیے مشہور تھا۔ اس کے قتل پر مسیلمہ کی فوج بپھر کر مسلمانوں پہ حملہ آور ہوئی۔ یہ حملہ اتنا سخت تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں قدرے کمزوری نظر آنے لگی۔ اس موقع پر علم بردارانِ لشکر حضرت زید بن خطابؓ حضرت ثابت بن قیسؓ اور ان کے دیگر ساتھی بڑی پامردی سے لڑے اور مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے دونوں علم برداروں نے جہاد کی عظمت، شہادت کا مقام ومرتبہ اور جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج آگے بڑھنے کا دن ہے۔
حضرت ابوحذیفہؓ اور حضرت سالمؓ مولیٰ ابوحذیفہؓ نے بھی اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے دشمن پر زوردار حملہ کیا۔ وہ بھی مسلمانوں کو مسلسل تلقین کیے چلے جا رہے تھے: ہَلَمُّوْا اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی آؤ جنت کی طرف بڑھو۔ بنوحنیفہ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمان بنو حنیفہ کے تیر اندازوں کے تابڑ توڑ حملوں سے منتشر ہونے لگے تو ان صحابہؓ کے ساتھ حضرت عمار بن یاسرؓ بھی آگے بڑھ کر صحابہؓ کو پکارنے لگے: اے اہلِ ایمان! میں عمار بن یاسرؓ ہوں، میری طرف آؤ۔ وہ سامنے جنت ہے، جنت سے کیوں فرار اختیار کر رہے ہو۔ حضرت عمارؓ اس نازک مرحلے پر ایک بلند ٹیلے پر کھڑے تھے اور ان کا ایک کان شہید ہو چکا تھا، مگر اس تکلیف سے بے پروا وہ مردانہ وار دشمن سے برسر پیکار تھے، جبکہ حضرت سالمؓ نے ایک گڑھا کھود کر اس میں پاؤں جما لیے اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 
حضرت زید بن خطابؓ، حضرت ثابت بن قیسؓ، حضرت ابو حذیفہؓ، حضرت سالمؓ اور عمار بن یاسرؓ دشمن سے لڑ رہے تھے تو بہت سارے دشمن ان کے ہاتھوں جہنم رسید ہوئے۔ صحابہ میں سب سے پہلے حضرت زیدؓ شہید ہوئے، پھر حضرت ابوحذیفہؓ اور حضرت سالمؓ نے جام شہادت نوش کیا۔ حضرت سالمؓ شہادت کے وقت حضرت ابو حذیفہؓ کے قدموں میں گرے ہوئے تھے اور ان کے دونوں ہاتھ بھی شہید ہو چکے تھے، مگر انہوں نے آخری وقت تک جھنڈا کٹے ہوئے بازوؤں سے اپنے سینے کے ساتھ لگا کر بلند رکھا تھا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ نے کفن زیب تن کر رکھا تھا اور خود کو خوشبو میں بسا رکھا تھا۔ انہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ آج وہ جنت کے شوق سے یوں سرشار تھے کہ ان کو دیکھ کر مسلمانوں کے حوصلے بھی بڑھے اور وہ ان پر رشک بھی کرنے لگے۔ حضرت انسؓ فرمایا کرتے تھے کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت ثابتؓکو جب شہادت اور جنت کی بشارت دی گئی تو اس کے بعد صحابہ جب بھی ان کو دیکھتے تو کہتے وہ جنتی چلا آ رہا ہے۔
جب سورۂ الحجرات نازل ہوئی جس میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے بات کرنے سے منع کیا گیا تھا، تو حضرت ثابتؓ نے سمجھا کہ ان کے تو سارے اعمال ضائع ہو گئے ہیں، کیونکہ ان کی آواز فطری طور پر بلند تھی۔ جب آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ سنا تو فرمایا کہ جاؤ اسے خوش خبری دو کہ وہ سعادت کی زندگی گزارے گا، شہادت کی موت آئے گی اور سیدھا جنت میں جائے گا۔ یمامہ کے دن حضرت ثابتؓ کی عجیب شان تھی۔ دشمن پر بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے اور مسلمانوں کو بلند آواز سے جنت کی ترغیب دے رہے تھے۔ آخر بے جگری سے لڑتے ہوئے وہ بھی شہید ہو گئے۔ حضرت عمارؓ کا کان اس جنگ میں شہید ہوا اور وہ شدید زخمی ہوئے، مگر بے جگری سے لڑنے کے باوجود اللہ نے ان کو محفوظ رکھا۔   (جاری ہے)

image

ملک کے دارالحکومت سے قریب پُرفضا مقام پر چوروں ڈاکوؤں کے کل پاکستان کنونشن کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے مرد خواتین بچوں اور بوڑھوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔
کنونشن میں شرکاء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اخبارات میں اشتہار دے کر انہیں سرکاری اور پرائیویٹ نوکریاں نہیں دی جاتیں بلکہ خاموشی سے چور دروازوں سے من پسند افراد کو بھرتی کر لیا جاتا ہے۔ میرٹ پر آنے والے چوروں کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں اور وہ بے چارے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ مطالبہ کیا گیا چونکہ چوروں کیلئے آج تک سروس سٹرکچر نہیں بن سکا اور وہ سڑکوں پر آ کر اساتذہ ، ڈاکٹروں اور نرسوں کی طرح ڈنڈے کھا کر اپنے سر نہیں پھٹوا سکتے لہٰذا ان کیلئے سروس سٹرکچر کا اعلان کیا جائے۔ اس مطالبے کے پیش نظر چوری اور ڈکیتی کو سیلف سروس قرار دیا گیا، تاوقتیکہ گورنمنٹ سروس اور پرائیویٹ سروس میں میرٹ پر ان کی بھرتیاں شروع نہ ہو جائیں۔ اس موقع پر چوروں کے سروس سٹرکچر کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق مرغی چور اور گٹر کا ڈھکنا چرانے والوں کیلئے گریڈ ایک، گاڑیوں کے شیشے اور ویل کپ چرانے والوں کیلئے گریڈ دو، پرس و موبائل فون چھیننے والوں کیلئے گریڈ تین، گھریلو ملازمین چوروں کیلئے گریڈ چار، کم سن بچوں کے ہمراہ جیولرز اور سپر سٹور پر چوری کرنے والوں کیلئے گریڈ پانچ، قربانی کے جانور چرانے والوں کیلئے گریڈ چھ، موٹر سائیکل چور کیلئے گریڈ سات، کار چوروں کیلئے گریڈ آٹھ، اوور بلنگ کے ذریعے لوٹنے والوں کیلئے گریڈ نو، ملاوٹ کرنے والوں کیلئے گریڈ دس، ایئر پورٹ پر کسٹم کاؤنٹر پر لوٹنے والوں کیلئے گریڈ گیارہ، تھانے میں سائل کو لوٹنے والے کیلئے گریڈ بارہ، مقدس مقامات کے ٹور کے بہانے لوٹنے والوں کیلئے گریڈ تیرہ، انسانی اعضاء گردے وغیرہ چرانے والوں کیلئے گریڈ چودہ، بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر لوٹنے والوں کیلئے گریڈ پندرہ، ظالم محبوب کو قدموں میں ڈھیر کرنے کا چکر دے کر لوٹنے والوں کیلئے گریڈ سولہ، جوان، خوبصورت، دنیا میں تنہا اکلوتی امیر دوشیزہ سے شادی کرانے کے نام پر لوٹنے والوں کو گریڈ سترہ، منشیات فروشوں، جعلی دوائیاں بنانے اور عوام کی جان لینے والے چوروں کیلئے گریڈ اٹھارہ، صنعتیں لگا کر بجلی
 وگیس چوروں کیلئے گریڈ انیس، بنکوں کے قرضے لوٹ کر واپس نہ کرنے والوں کیلئے گریڈ بیس، قبضہ گروپوں کے ذریعے لوٹنے والوں کیلئے گریڈ اکیس، گن پوائنٹ پر ڈکیتی کرنے والوں کیلئے گریڈ بائیس، پین پوائنٹ پر ڈکیتی کرنے والوں کیلئے گریڈ ایک سو بائیس اور عوام کے ووٹ لوٹ کر ڈیلور نہ کرنے والوں کیلئے گریڈ ایک ہزار بائیس کا اعلان کیا گیا۔ اس سروس سٹرکچر کے مطابق کسی بھی گریڈ میں سروس کرنے والا چور دو سال بعد ازخود اختیارات کے تحت اگلے گریڈ میں ترقی حاصل کرنے کا مجاز ہو گا، جبکہ خصوصی ترقی اور بڑی چھلانگ لگا کر بڑے گریڈ میں جانے کے خواہشمند چوروں کے کیسز کے فیصلے ان کی کارکردگی اور مالی حیثیت و معاشرے میں مقام کے پیش نظر، اس مقصد کیلئے قائم کیے گئے خصوصی چور ڈاکو بورڈ میں ہونگے۔ اس طرح ایک عام چور اعلیٰ ترین گریڈ میں ترقی حاصل کر سکے گا۔ کنونشن میں پیشے سے متعلق تعلیم وتربیت کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور ماہر استادوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مزید برآں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ خواتین چوروں نے مرد چوروں کے ساتھ مل کر لوگوں کے گھروں کے گیٹ کھلوانے، گھروں میں کام کرنے والی ملازمت پیشہ اور چوری کے پیشے سے متعلق خواتین نے گھر کے صاحب اور بیگم صاحبہ کی قیمتی اشیاء کے متعلق مخبری کر کے جو عظیم خدمت کی ہے اس کا اعتراف اور اعلان کیا گیا کہ خواتین کے کردار کو مزید مؤثر بنانے اور اس سے زیادہ فائدہ اٹھانے کیلئے خواتین چوروں اور 
ڈکیتوں کو ہر واردات میں ساتھ رکھا جائے گا تا کہ راہ میں حائل رکاوٹوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
کنونشن میں چوروں اور ڈاکوؤں کیلئے ملک بھر میں موجود پُر تعیش علاقوں کی رہائشی کالونیوں میں پلاٹس کا کوٹہ مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مندوبین نے تجویز پیش کی کہ کوٹہ نہیں علیحدہ رہائشی کالونیاں تعمیر کی جائیں، جہاں پیشے سے متعلق افراد اپنی شخصی آزادی رسوم ورواج کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ مطالبہ کیا گیا کہ افراط زر پر قابو پانے کیلئے مہنگی منشیات کی فروخت بڑھائی جائے جبکہ اس کی بیخ کنی کرنے والوں سے تعاون کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔
کنونشن میں غریب چوروں اور پہلی ہی واردات میں پکڑے جانے والے ڈاکوؤں کی مدد و رہائی کیلئے مفت قانونی امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مخیر حضرات سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مستحق افراد کی مدد کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ اینٹی کرپشن کے محکمے اور دیگر ایجنسیوں سے جو کام میں رکاوٹ بن سکتی ہیں کے ساتھ مراسم بہتر بنانے کیلئے کمیٹیاں بنائیں گئیں جو آئندہ تیس روز میں اپنی رپورٹ پیش کرینگی۔
ملک میں کرپشن بڑھانے اور لوٹ مار کلچر کو فروغ دینے کے نئے منصوبوں پر غور کیا گیا جبکہ نامور چوروں، ڈاکوؤں اور سماج دشمن افراد کیلئے ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے یا معذوری کی صورت میں انہیں تاحیات وظیفے دینے کا اعلان کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ایسی شخصیات کو پولیس مقابلے میں مارے جانے پر بعداز مرگ اعزازات سے نوازا جائے گا۔
شرکائے کنونشن نے ملکی مجموعی اقتصادی صورتحال، امن عامہ کے حالات پر سیر حاصل گفتگو کی اور جمہوری نظام کو جاری وساری رکھنے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کنونشن کے اختتام پر شرکاء کی تواضع پیلے پانی اور مرغن کھانوں سے کی گئی جبکہ ڈنر کے بعد نامور فنکاروں نے رقص و موسیقی سے شرکاء کے دلوں کو گرمایا۔
 

image

Among the first two people who recruited me to activism after I completed military service in the Vietnam War were the Palestinian scholar Ibrahim Abu-Lughod and the Egyptian scholar M. Cherif Bassiouni. They were formidable and brilliant role models for a young Palestinian trying to work out how best to help his people.
Abu-Lughod wrote the only book worth reading about the Palestine conflict, “The Transformation of Palestine,” while Bassiouni was instrumental in defining Arab civil rights and was the chief architect of the International Criminal Court.
Both men gave voice to the growing American Palestinian movement. Abu-Lughod later retired as a professor at Bir Zeit University and Bassiouni continued to pursue a celebrated career in international law.
They shared a fundamental approach to the Palestine-Israel conflict many activists ignore: You cannot achieve 100 percent. What you can do is achieve what you can, have respect for the truth, and then build the foundation to achieve more.
When Abu-Lughod asked me to become involved in fighting for Palestinian justice, becoming the spokesman for the Arab American Congress for Palestine, I couldn’t say no. I wanted to be a doctor, like several relatives, but with Abu-Lughod’s guidance I pursued communications and journalism, two skills lacking in our community.
It was through Abu-Lughod that I understood the challenges Palestinians faced in America. Anger did not work in influencing Americans, he explained. It distorted our cause and was often mischaracterized as hate. Palestinians don’t hate Jews. But their anger over Israel’s atrocities can be so intense it appears like hate.
Abu-Lughod believed Palestinians needed to establish common ground with mainstream Americans. We needed to make a strong connection. A bond. In America, “perception is reality,” he would often explain.
That became my mantra. The solution was clear. Change perceptions and change American foreign policy. Our cause needed to look like “their” cause.
Americans would listen to a Palestinian activist who looked like them, sounded like them and didn’t just speak “English,” but spoke “American.”
It was a decision by my father, George. Dad insisted I learn English, not Arabic, even though for the first decade of my life, my mother, Georgette, often spoke only Arabic to me. That made me as American as everyone else. It made the message I conveyed more effective in connecting with the American sense of fairness and justice. I wrote hundreds of Letters to Editors complaining about biased, inaccurate coverage.
The idea of perception was so strong, Abu-Lughod selected me to publicly debate key Israeli figures, including Foreign Minister Abba Eban on national TV when I was only 22.
Two legendary role models showed that changing perceptions through persuasion and communications skills is the best way to counter Israeli propaganda.
Bassiouni taught me success is often built from failure. In other words, people who are successful often became successful by acknowledging and understanding their failures. If you ignore your failures — pretending they never happened — you are doomed to live in those failures for ever.
I ended up going into journalism as a profession on the basis of those lessons. Bassiouni was one of my first major interviews.
He also believed Palestinians needed to become more “American” in order to influence Americans. We had to establish that bond of understanding and support by building that friendship.
I quickly discovered Palestinians often can’t break free of their anger. Instead of pursuing solutions, we pursue punishment. We want to punish Israel. Recognizing failure is foreign to our culture.
(Continued......)
 

image

کراچی ہمیشہ سے تجارتی اور کاروباری مرکز رہا ہے۔ یہاں پاکستان کے ہر حصے سے اور ہر زبان بولنے والے آتے تھے اور محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچّوں کا پیٹ پالتے تھے۔ دن بھر مزدور اس شہر میں محنت کرنے کے بعد رات کو کسی بھی جگہ بے خوف و خطر سوجاتے تھے۔ 80 کی دہائی میں کراچی کی رونقوں اور روشنیوں کی پورے عالم میں دھوم تھی۔ یہاں غیر ملکی طالب علم آتے اور اس شہر کی درس گاہوں سے علم کی پیاس بجھاتے۔ اس شہر کے بازاروں کی رونقیں رات گئے تک رہتی تھیں۔ ایک ٹھیلا لگانے والے سے لے کر فیکٹری کے مالک تک سب یہاں چین کی نیند سوتے تھے۔ 
پھر نہ جانے اس شہر بے مثال کو کس کی نظر لگ گئی۔ کراچی میں خوف وہراس نے ڈیرے ڈال لیے۔ یہاں موت رقص کرنے لگی۔ لوگ دن دہاڑے گھروں سے باہر نکلنے سے بھی ڈرنے لگے۔ کپڑے کی صنعت و تجارت کے حوالے سے مشہور اس شہر میں ملبوسات سے زیادہ کفن فروخت ہونے لگے۔ روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔ شہر کی جو سڑکیں لوگوں کے لیے کبھی تفریح کا سامان ہوتی تھیں، قتل گاہوں کا منظر پیش کرنے لگیں، جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ ہر ماہ گھر والوں کو پیسے بھیجتے تھے، اب وہاں سے لاشیں گھروں کو واپس جانے لگیں۔ 
قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ ملک دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ تھا، لیکن ظلم کی اس تاریک رات کو آخر ختم ہونا تھا، سو کراچی آپریشن کے ذریعے ظلم کی سیاہ رات کو ختم کیا گیا اور امن کا سورج ایک بار پھر طلوع ہوگیا۔ آج کا کراچی بھلے 90 کی دہائی سے پہلے والا نہ سہی لیکن پچھلے دو تین سال سے یہاں کے حالات گزشتہ دو تین دہائیوں کے مقابلے میں خاصے بہتر ہوگئے ہیں۔ 
خیر یہ تو تھا کراچی کے سیاسی و معاشی حالات کا ایک مختصر تذکرہ، لیکن آج اگر اس شہر کا انتظامی جائزہ لیا جائے تو بہت سے مہنگے علاقوں میں جہاں جائیداد کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں، وہاں بھی گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ کراچی کی اہم ترین سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ شہر کی 90 فیصد آبادی پینے کے پانی سے محروم ہے، لیکن سڑکوں پر پانی ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ پینے کا پانی اگر کہیں ہے بھی تو گندے پانی کی آمیزش نے اسے پینے کے قابل نہیں چھوڑا، جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے موذی امراض میں مبتلا ہے۔ بجلی کا تو جیسے کراچی سے ساس بہو کا رشتہ ہے، جب چاہے آجائے اور جب چاہے گھروں میں اندھیرے ڈیرے ڈال لیں۔ 
سیاسی و انتظامی صورت حال کی ابتری اپنی جگہ، رہی سہی کسر اس شہر کے رہنے والوں کے رویوں نے نکال دی ہے۔ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، کوئی ٹریفک سگنل پر رکنا پسند نہیں کرتا۔ ٹریفک کا نظام بے ہنگم طریقے سے چل رہا ہے اور کیوں نہ چلے کہ ہر شخص کو صرف اپنی فکر ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ لوگ کوڑا کرکٹ بھی سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں، جس سے پورا شہر کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ میونسپل کارپوریشن ٹھیک کام نہیں کررہی۔ یہاں ہر شخص پیسے کا پُجاری دکھائی دیتا ہے، کیوںکہ اب شہر میں عزت صرف بڑی گاڑیوں اور اونچے مکانوں کی ہے۔ لوگ پیسہ کمانے کے بجائے چھیننے میں لگے ہیں۔ ڈاکو بے چارے تو ایسے ہی بدنام ہیں کہ کبھی کبھار بندوق کی نوک پر کسی سے تھوڑی بہت رقم ہتھیا لیتے ہیں جب کہ ٹھیلے والوں سے لے کر بڑے بڑے دُکان داروں تک نے من مانے نرخوں پر بغیر کسی بندوق کے ہی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
اب کوئی پوچھے کہ کس سیاست دان نے ہمیں سڑکیں گندی کرنے پر لگایا ہے، کون سے کونسلر نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا حکم دیا ہے، کس ایم پی اے یا ایم این اے نے تجارت کے نام پر لوٹ مار کی ترغیب دی ہے۔ قومیں اس لیے بری نہیں ہوتیں کہ وہاں کے حکمران برے ہیں بلکہ جب لوگوں کا اپنا ضمیر مرجائے، اپنے اندر سے احساس ختم ہوجائے تو پھر وہ قوم نہیں ہجوم کی شکل اختیار کرجاتے ہیں، پھر کشادہ سڑکیں اور صاف پانی ان کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔ 
خیر یہ تو تھی تھوڑی سی تلخ نوائی، اب آتے ہیں اصل بات کی طرف اور وہ یہ کہ ہمیں ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ کراچی کی انہی گلیوں اور سڑکوں نے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا اور زندگی میں اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔ آج یہی گلیاں سڑکیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ تم جو اپنا مستقبل بنانے کی دھن میں ہمیں ویران کرگئے، بتائو کہ ہمیں کون سدھارے گا۔
ہمیں چاہیے کہ کراچی میں ہوں یا دنیا کے کسی اور شہر میں، اگر ہم نے اپنا بچپن اور طالب علمی کا زمانہ اس شہر میں گزارا ہے تو پھر اس کا حق ادا کریں۔ یہ دنیا خدا نے عجیب امکانات سے بنائی ہے۔ یہاں مادہ فنا ہوتا ہے تو توانائی بن جاتی ہے۔ تاریکی آتی ہے تو اس کے بطن سے ایک نئی روشنی پھوٹتی ہے۔ یہاں ہر ناکامی میں سے کامیابی کا امکان ابھرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں کسی کے لیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ حالات بظاہر کتنے ہی ناموافق دکھائی دیتے ہوں، ہم اس شہر کو دوبارہ اس کی روشنی اور خوبصورتی لوٹائیں گے۔ ہم سب پر کراچی کا یہ قرض واجب الادا ہے۔
 

image

کچھ دنوں قبل ترکی کے صدر طیب اردوان روس کے دورے پر تھے۔ اس دوران دونوں ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت روس ترکی کو دنیا کا سب سے زیادہ جدید ترین اینٹی ایئر میزائل نظام S-400 (جس کی مالیت 2.5 ارب ڈالر ہے) مہیا کرے گا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان ایک نیا اسٹرٹیجک اتحاد قائم کرنا ہے۔ ترکی اس معاہدے کے ذریعے مغرب، خصوصاً نیٹو جس کا وہ پچھلے 55 سال سے رکن ہے، پر اپنا دبائو بڑھانا چاہتا ہے۔
روسی صدر پوتن کے فوجی مشیر ولادیمیر کوزین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ روس کے اسٹرٹیجک مفادات کے ساتھ سختی سے مطابقت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ترکی نے اس میزائل پروگرام کے لیے ابتدائی ادائیگی بھی کردی ہے۔ ترکی کے صدر نے اس معاہدے کی تصدیق کی ہے، اس معاہدے کے بعد واشنگٹن اور برسلز میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے، خصوصاً انہیں ترکی کے صدر کے اس بیان پر تشویش ہے، جس میں انہوں نے کہا، ’’ہمیں خود ہی اپنے ملک کے تحفظ کا بندوبست کرنا ہوگا۔‘‘
روس نے اسی طرح کا ایک معاہدہ ایران کے ساتھ کیا ہے، جس کے تحت روس ایران کو نسبتاً کم جدید ترین میزائل سسٹم S-300  مہیا کرے گا۔ ایران کے لیے یہ معاہدہ اس لیے بھی اہم ہے، کیونکہ اس وقت وہ امریکا اور دیگر ممالک کی طرف سے عائد مختلف پابندیوں کا شکار ہے۔ ترکی کا معاملہ اس لیے مختلف ہے، کیونکہ اس وقت اس پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور اس پر (ابھی تک) دہشت گردوں کی مالی امداد اور معاونت کا الزام نہیں لگایا گیا، اسے مغربی ممالک اور اتحادیوں کا حامی رکن سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ترکی کی نیٹو میں دوسری سب سے بڑی فوج ہے، لیکن 2015 میں روس کے جیٹ طیارے کے گرانے کے بعد سے وہ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح روس سے اپنے تعلقات بہتر بناسکے۔
ترکی کے روس سے تعلقات بہتر بنانے کی ایک اور وجہ اس کے امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کا بگڑنا بھی ہے۔ خصوصاً اسے کُرد جنگجوؤں (مقبوضہ بیت المقدس) کے لیے امریکی فوجی حمایت کے حوالے سے تشویش ہے، جو ترکی میں باغی کُردوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان معاہدوں کی اہمیت دو وجہ سے ہے۔ پہلی یہ کہ روس نے کئی بار یہ میزائل نظام اسرائیل کو فروخت کرنے سے انکار کیا ہے۔ دوسری اسرائیلی حکام کے ماسکو کے بار بار دوروں کے باوجود کہ روس یہ نظام ترکی اور ایران کو نہ بیچے، اس نے یہ میزائل نظام ترکی اور ایران کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران اور ترکی دونوں ہی نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں، خصوصاً ترکی امریکا اور اپنے پرانے اتحادیوں یورپی یونین سے کافی مایوس ہے اور اب چین و روس کو نئے اتحادیوں کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ان ملکوں کو امید ہے کہ اس نئے اتحاد سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں سے شام کے زوال کو روکنے میں مدد ملے گی، اس نئے اتحاد کو یہ بھی امید ہے کہ وہ مل کر اس علاقے میں امریکا کی حمایت سے بننے والی نئی کُرد ریاست کے قیام کو روک سکتے ہیں۔ 
تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی کے صدر طیب اردوان نے روسی صدر پوتن کو اس نئی کُرد ریاست کے حوالے سے اپنے ملک کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ روسی صدر نے انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ پوتن نے یہ بھی کہا کہ اگر ترکی ان کُرد باغیوں کے خلاف شام کے سرحدی علاقوں میںکوئی کارروائی کرتا ہے تو روس اور شامی صدر بشارالاسد کی حمایتی افواج کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
2017 کے آغاز سے آستانہ میں ہونے والے مذاکرات جس میں شامی حکومت، شام کے مسلح گروہوں کے نمائندے، روس، ایران اور ترکی نے شرکت کی، اس کے بعد سے شام کے وسیع علاقے میں فائربندی ممکن ہوئی ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کے حالیہ اجلاس میں ترک صدر نے اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ اس بیان کے بعد سے امید پیدا ہوئی کہ روس، شام، ایران اور ترکی کے درمیان ایک نیا چار ملکی اتحاد بن جائے۔ روس اس اتحاد کے قیام کے لیے بھرپور کوشش کررہا ہے، اس کے بننے سے ایک طرف روس اور ایران، جو امریکا اور اس کے حمایتیوں کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیوں کا شکار ہیں، ان کی سیاسی تنہائی میں کمی آئے گی، دوسری طرف ترکی کو امریکا اور اس کے اتحادیوں سے مزید دُور کیا جاسکے گا۔
ماضی میں اگرچہ روس اور ایران میں کافی کشیدگی رہی ہے، لیکن اب یہ دونوں ممالک ہی مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے کسی بھی کردار کے خلاف ہیں۔ روس اور ایران دونوں نے ہی اپنے تلخ ماضی کو بھول کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں ممالک توانائی اور تجارت کے کئی منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ دونوں اپنے پڑوسی ملکوں سے تعلقات بہتر بنارہے ہیں۔
ان ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب اگست 2016 میں روس نے شام میں اپنے اہداف بنانے کے لیے ایران کے حمامہ ایئربیس کا استعمال کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی دوسرے ملک نے ایرانی فوجی اڈے کا استعمال کیا۔ مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، جہاں ایک طرف امریکا اور اس کے حواری انتشار کے ذریعے بعض ممالک کی جغرافیائی سرحدوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، دوسری طرف یہ چار ملکی اتحاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ نیا اتحاد امریکا اور اس کے حواریوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بناسکتا ہے یا نہیں؟
 

image

فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے دعویدار نے میاں نواز شریف کو خبردار کیا ہے کہ وہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے باز رہیں۔ سنا تھا سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، مگر یہاں تو سیاست کا سر ہے نہ پاؤں اور ضمیر… شاید گھاس چرنے چل نکلا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، کسی زمانے میں وہ خود بھی ایسا ہی کھیل کھیلنا چاہتے تھے مگر ارادہ ظاہر کرنے کے بعد کئی ماہ دبئی قیام کرنا پڑا، تاہم ایک شریف جرنیل کی رخصتی کے بعد اُن کی آمد ہوئی، پھر وہ ایسے رام ہوئے کہ نواز شریف کو بھی آرام کا مشورہ دے ڈالا، وہ کانٹوں پر چلنے کے بجائے بُوئے گل سے آشنا ہو گئے اور پھر ایسے معطر ہوئے کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ حسین حقانی امریکا میں کل ان کی لابنگ کرتے تھے، آج خود اپنی۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے بیشتر سفارت کار اپنے اصل فرائض کی انجام دہی کے بجائے دراصل اپنی اور اپنے اہل خانہ کی خدمت پر مامور ہیں۔ پتا نہیں کون سی مائیں ایسی اولادیں جنم دیتی ہیں جو مادر وطن کو بیچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شمالی کوریا ایٹم بم بنا کر امریکا کو آنکھیں دکھاتا ہے اور ہم پلکیں بچھاتے ہیں۔ فرق کیا ہے؟ غیرت وحمیت کا یا پھر مٹی کا! کچھ بھی ہو، اتنا فرق ضرور ہے کہ ہم امریکا سرکار کے منگتے ہیں مگر وہ نہیں۔ قومیں افراد جمع کرنے سے نہیں بنتیں، افراد کی تفریق سے بنتی ہیں۔ قوم بننے کے لئے اندر کی غلاظتیں نکال باہر کرنا ہوتی ہیں، ہمیں بحیثیت مجموعی قومی حجامے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ گندہ خون آپ کو تنگ کرے خود ہی نکال دیں۔ یہ امر ناممکن نہیں مشکل ضرور ہے۔ ادویہ جواب دے چکیں، اب تکلیف دہ سرجری کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بڑی گہری بات کر گئے مگر ہم نے سنی ان سنی کر دی۔ کہا کہ عدلیہ خود مختار ہے مگر حکومت فنڈز کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اداروں کو کنٹرول کرنے کا یہ طریقہ حکومت نے امریکا، برطانیہ، آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے مستعار لیا ہے۔ ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں قانون کا رکھوالا ہی اس کی عزت تار تار کر رہا ہے، جہاں کا طبیب اپنے ہاتھوں سے مریض کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ ہم اس راہ کے مسافر ہیں جہاں سنگِ میل پر واضح نشاندہی کر دی گئی ہے، خبردار! ’’جہاں ہے منزل وہیں لٹیرا‘‘۔ ہم رہبروں کے بجائے راہ گیروں کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔
اندر کے حالات جس قدر خراب ہیں، باہر کے اس سے کہیں زیادہ۔ ہمارے دشمن اکٹھے ہو رہے ہیں اور دوست اُونگھ رہے ہیں۔ گزشتہ چار برس کے دوران خارجہ امور میں ہم نے جس تساہل اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اس کا خمیازہ عشروں بھگتنا پڑے گا۔
ٹرمپ کے اندر ٹرمپ نہیں بولتا، مودی بولتا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کوئی سپرپاور اپنے سے ادنیٰ ملک کی زبان بول رہی ہے۔ ایسا کرنے کے لئے بھارت سرکار نے عرق ریزی کی ہے، اس کے سفارت کاروں نے خود پر نیند حرام کر رکھی ہے، وہ امریکا و یورپ میں لابنگ کرتے ہیں، لابنگ ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ سپر پاور کی زبان سے اپنا بیانیہ اگلوانے کے لئے پل پل جیتے ہیں، لمحہ لمحہ مرتے ہیں۔ اسے محض ڈیوٹی نہیں سمجھتے، زندگی کا مشن سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ اپنی نسلوں کی بقا کی۔ ہم اپنے حواس میں نہیں مگر وہ پورے ہوش میں ہیں۔ بھارت اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا گُر جانتا ہے اور ہم سچے ہو کر بھی ڈومور کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
ایک اُجلی صبح نہار منہہ چیمہ مجھ سے پوچھنے لگا، صاحب یہ دھنیا کہاں سے ملتا ہے جو ہمارے سفارت خانوں اور وزارت خارجہ نے پی رکھا ہے، میں نے جواب دیا اس کا موسم ہوتا ہے۔ بولا، نہیں! یہ بارہ مہینے، ساتوں دن، چوبیس گھنٹے کی فصل ہے جسے بونے سے قبل اسے ذاتی منفعت کے ساتھ کچھ اس طرح پیوند کیا جاتا ہے کہ ملکی مفاد کی کونپلیں اول تو پھوٹتی نہیں لیکن اگر کوئی ہمت کر بیٹھے تو ماحول کی شدت میں جھلس جاتی ہے۔ میں نے پوچھا کیا حل ہے؟ بولا، آپ ستر برس سے شاخیں تراش رہے ہیں۔ استفسار کیا، تو؟ قریب ہو کر سرگوشی کی ’’جڑ کاٹیے جناب جڑ‘‘ ہائیبرڈ بیج آگ میں جھونک دیجئے، تلف کر دیجئے اور خالص بیج ارض پاک کے سینے میں اتار دیجئے۔ چیمہ پتے کی بات کر رہا تھا مگر میں نے چھیڑنے کے انداز میں اسے مزید ٹٹولا اور گویا ہوا! یہ مشکل کام ہے۔ دیکھونا، ہماری خوراک سے لے کر تعلیم تک سب ہائیبرڈ ہے، ہم نے اپنے نظام میں پیوند کاری کر رکھی ہے، اپنی زبان اور ثقافت کو بھی خالص نہیں رہنے دیا، ہمارے ہاں چار مختلف طبقات کے لئے سماجی تفریق پر مبنی چار مختلف معیار تعلیم ہیں۔ غریب امیر کے ہسپتال جدا جدا ہیں۔ اقتدار اشرافیہ کا شغل بھی ہے ضرورت بھی، مگر عوام ستر برس سے انصاف کا گھڑیال پیٹ رہے ہیں، ہمیں تو دودھ اور شہد کی نہروں کا کہا گیا تھا، یہاں خون کا سمندر ہے، شہر کا شہر اجنبی ہے، سورج سرپٹ ہماری طرف دوڑے چلا آ رہا ہے مگر ہم اندھوں کی بستی کے مکین ہیں، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا، خون سفید ہو چکا ہے اور ضمیر سیاہ۔ ہمارے ایک طرف آگ ہے تو دوسری طرف کھائی۔ چیمہ تم سمجھتے کیوں نہیں… ماؤں نے جناح جننا بند کر دیے ہیں!!! تمہارے پاس خالص بیج کی آخر ایسی کون سی کستوری ہے جس کی بنیاد پر تم مسیحا بنے بیٹھے ہو؟ چیمہ کی آنکھوں میں خون اُتر آیا، مجھے گماں ہوا وہ اس نظام کو قتل کر دے گا جو اس کی اُمنگوں کا جھوٹا پیامبر بن بیٹھا ہے۔
اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں گاڑ دیں اور بولا…
ایمل کانسی کو جب خصوصی انتظامات کے تحت پاکستان سے امریکا لے جایا گیا تو ریاست ورجینیا کے ایک سرکاری وکیل نے ایمل کانسی کی گرفتاری کی تفصیلات اور تناظر کے حوالے سے یہ ہتک آمیز جملہ کہا ’’پاکستانی پیسے کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں‘‘ اس پر پاکستانی قوم اور امریکا کی پاکستانی کمیونٹی نے تو خوب احتجاج کیا مگر پاکستانی حکام نے بے شرمی کی چادر اوڑھ لی۔ حد ہے کہ ایم کیو ایم کا سابق سربراہ بطور فردِ واحد تو امریکا و برطانیہ میں اپنے حق میں پاکستان مخالف لابنگ کر سکتا ہے مگر ہم بطور ریاست جنیوا میں چھلیاں بُھون رہے ہیں۔ ہمیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ہم مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کشمیری کے بجائے فلسطینی کی تصویر اقوام عالم کو پیش کر دیتے ہیں۔ حالات کے تھپیڑوں نے ہمارا منہ لال کر دیا ہے، ہمیں پٹخ پٹخ کر زمین پر مارا ہے، صاحب ہم ننگے ہو چکے ہیں، ستر برس بعد بھی طفیلی ہیں، دشمن کو مشترکہ آپریشن کی دعوت دے رہے ہیں، ہمیں اقتدار کے نشے چڑھے ہوئے ہیں، حکمران اشرافیہ ٹُن ہے۔ اُدھر امریکا رج کھانے کی مستیوں میں غرق ہے تو اِدھر ہم ننگ دھڑنگ فاقوں میں رقص و سرود کی محفلیں سجائے بیٹھے ہیں۔ بتاؤ نا صاحب! ہمیں کون سے نشے چڑھے ہیں!! قرضوں کے ڈکار حلق تک آن پہنچے ہیں اور وہ جنہوں نے مضبوط معیشت کی بنیاد پر ہی دفاعی حصار کو مضبوط کرنا ہے، جب معاشی زوال اور گراوٹ کی بات کرتے ہیں تو ہم بُرا مان جاتے ہیں اور اُن تک پیغام پہنچاتے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھیں، حدود نہ پھلانگیں۔ ہم نے کئی بار کرپشن کو دفن کرنے کی آڑ میں جمہوریت کا جنازہ نکالا، اُصولی سیاست کی قبر پر فاتحہ پڑھی، کبھی کسی آمر کے آنے پر ڈھول پیٹے اور مٹھائیاں بانٹیں تو کبھی نعرے بیچنے والے سیاست دانوں کے گلے میں ہار پہنائے، کبھی لسانیت کا رونا رویا تو کبھی صوبائیت کے شادیانے بجائے۔ چیمہ حقیقی جذبات کے غلبے سے باہر نکلا تو میں نے حوصلہ دیا، ہماری عدالتوں نے گند صاف کرنے کا بیڑا اُٹھا لیا ہے، فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا، شریف فیملی سے شروع ہونے والا احتساب اگر شریف فیملی پر ہی ختم نہ ہوا تو سب اچھے کی رپورٹ ہے۔ اس مرتبہ وہ بھڑکا نہیں، گہری سانس بھری اور بے بس ہوکر چھت کو گھورنے لگا۔ میں کانپ گیا، اس کی آنکھوں کی پتلیوں پر نقب زن تیر رہے تھے مگر کوئی رفوگر نہیں!

image

30) مئی 1923ءکی تحریر(
 کہ تمام قلمرو کے ایک ایک گوشے کے اندر نسل و رنگ کا تعصب اپنے پورے زور سے نمایاں ہو جائے گا اور قلمرو برطانیہ کو پارہپارہ کر دے گا۔ کیونکہ اگر ایشیا اورافریقہ کے لوگوں کو دنیا میں رہنا ہے تو سب سے پہلے ان کیلئے یہ لازم ہوگاکہ نسل و رنگ کی اس جنگ کا فیصلہ کرلیں۔ اگر مملکت برطانیہ مستعمرات کے اندر ہندوستانیوں کے مساوی حقوق بلدیت کو تسلیم کرنے کیلئے طیار نہیں تو یقینا ہندوستانیوں کو اس امر پر آمادہ ہو جانا چاہئے اور اپنی تمام قوتیں اس مقصد کیلئے صرف کر دینی چاہئیں کہ سفید رنگ قوموں کا اقتدار جہاں تک جلد ہوسکے ایشیا اور افریقہ کی بدقسمت قوموں پر سے اٹھ جائے۔
کینیامیں پچیس لاکھ افریقی، تیس ہزار ہندوستانی اورصرف دس ہزار فرنگی موجود ہیں۔ باوجودیکہ ہندوستانی فرنگیوں سے تگنے ہیں لیکن وہ فراعنٔہ رنگ و نسل یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستانیوں کو زمین کے مرتفع طبقوں میں سے نکال دیا جائے۔ ہندوستانیوں کی نیابت حکومت میں اس قدر کم ہو کہ سفید رنگ قوم کا اقتدار ہمیشہ مسلم رہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانیوں کے داخلہ کیخلاف سخت قانون نافذ کئے جائیں۔ اسی قسم کی اور بھی بہت نامعقول سختیاں ہیں اور فرنگیوں کے رویہ سے صاف ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے اندھا دھند بے دلیل اپنا اقتدار منوانے کی قسم کھا رکھیہے ورنہ وہ ایک بات میں بھی حق بجانب نہیں ہیں۔
اگر ان تمام حالات کے باوجود فیصلہ ہندوستانیوں کے مقاصد کیخلاف ہو اور یقینا خلاف ہوگا تو تمام ہندوستانیوں کو خواہ موالاتی ہوں یاتارکین موالات، اس کا نہایت معقول جواب دینے کیلئے طیار رہنا چاہئے۔ اگر جرنیل سمٹس (Smuts)  کینیا کے مسئلہ کوجنوبی افریقہ کا مسئلہ بنا کر جنوبی نوآبادیوں کو ہندوستانیوں کیخلاف آمادۂ پیکار کر دینے کی دھمکی دے رہے ہیں تو تینتیس کروڑ ہندوستانیوں کو بھی چاہئے کہ اپنے ان دور افتادہ بھائیوں کے حقوق زندگی اور غیرت، خودداری کی حمایت کیلئے کمر بستہ ہو جائیں۔ مشرقی اور جنوبی افریقہ کا کوئی سفید رنگشخص ہندوستان کے ساحلوں پر اترنے نہ پائے۔ جو اس وقت یہاں ملازم یا تجارتی کاروبار میں مصروف ہیں فی الفور نکال دیئے جائیں۔ تاجر لوگ اپنے تعلقات مشرقی و جنوبی افریقہ سے منقطع کر دیں اوراس کے ساتھ ہی کینیا میں ہمارے تیس ہزار بھائی ’’خلاف ورزی قانون‘‘ اور پرامن ترک موالات کے ذریعے سے افریقی فرنگیوں پر زندگی وبال کر دیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ یہ نسل و رنگ کے اختلاف کو اختلاف حقوق کا باعث جاننے والے کب تک ہم پر تشدد کرتے ہیں اور قلمرو برطانیہ ان کی اس سینہ زوری اور شوریدہ سری کے طفیل کتنے دن کی مہمان رہتی ہے۔
غیور اور خوددار ہندوستانیو! تم ایک عظیم الشان قوم ہو۔ جہاں رہو عزت سے رہو۔ جس کی عزت نہیں اس کی زندگی نہیں۔ بے عزت زندگی سے موت ہزار درجے بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندے ماترم اور سیاست
گزشتہ دو اشاعتوں میں اس موضوع پر جو کچھ عرض کیا جا چکا ہے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ایک کی ناواجب تائید اوردوسرے کی ناجائز مخالفت کر رہے ہیں بلکہ ہمارا مقصد محض یہ تھا کہ جن امور کو ہمارے معزز معاصر بندے ماترم نے قابل اعتراض اور درخور حرف گیری سمجھا تھا ان کے پیش کرنے کی صورت صحیح نہیں تھی۔ اور اس لئے سیاست پر جو الزامات عائد کئے گئے وہ ٹھیک نہیں تھے علیٰ الخصوص اسے قومیت کے دائرے سے خارج کرنا تو بہت زیادتی تھی۔ ہماری توجہ اس طرف منعطف کی گئی ہے کہ سیاست نے بھی بندے ماترم کے متعلق ایسا ہی کہا تھا۔ ہمیں ابتدا کا علم نہیں ہے لیکن یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر واقعی سیاست نے بھی بندے ماترم کی بعض غلطیوں یا خطائوں پر اسے دائرہ قومیت سے خارج کیا تو اس نے بھی وہی غلطی کی جو بعد میں بندے ماترم نے کی۔ عام انسانوں کی طرح جریدہ نگاروں سے بھی غلطیوں اور خطائوں کا امکان ہے۔ لیکن ایک یا ایک سے زائد غلطیوں یا خطائوں کو ایک ناقابل معافی جرم اور ناقابل بخشش گناہ سمجھ کر دوسرے کی تمام اچھائیوں اور نیکیوں سے یکسر آنکھیں بند کر لینا انصاف کا خون ہے خواہ اس کا مرتکب سیاست ہو، بندے ماترم یا زمیندار یا کوئی دوسرا اخبار۔ ہم بارہا دوسرے جرائد سے اس حقیقت کا اعترافکر چکے ہیں کہ بندے ماترم نہایت انصاف دوست قومی اخبار ہے۔ یہ بہت ممکن ہے کہ اس سے بعض لغزشیں ہوئی ہوں جس طرح کہ ہزارہا دوسرے جرائد سے اس قسم کے امکانات ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کی پہلی حالت کسی حد تک متحیر ہو چکی ہے لیکن اس کے خصائصِ قوم پرستی اب تک بدستورنمایاں ہیں اور ان خصائص سے چشم پوشی کرنا ظلم ہے۔ قوم پرست جرائد کو چاہئے کہ اگر ان میں سے کوئی نادانستہ یا قوت فیصلہ کی غلطی سے کسی خطا کا مرتکب ہو جائے تو دوسرے محبت آمیز انداز میں اسے متنبہ کر دیں۔ یہ بات بات پر قوم پرستی کے دائرے سے اخراج کی ہنگامہ آرائی بالکل نامناسب ہے۔ امید واثق ہے کہ ہمارے تمام بھائی اس امر کو بطور خاص پیش نظر رکھیں گے۔ اس موضوع پر ہماری گزشتہ تحریرات سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہمیں خدانخواستہ بندے ماترم سے کوئی وجہ پرخاش ہے۔ قطعاً نہیں بلکہ ہم اپنے معاصر کی ایک زیادتی کی طرف اسے متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے دل میں اس کی ویسی ہی قدر ہے جیسی کہ پہلے تھی۔ البتہ دعا ہے کہ اس کے گرد و پیش 

image

رات کے دو بج رہے تھے، دفتر سے چھٹی کے بعد گھر آنے کے لیے آٹو پر بیٹھا، آٹو ڈرائیور مزید سواریوں کا انتظار کرنے لگا، میں بھی فارغ تھا، کام کوئی تھا نہیں تو موبائل فون میں مشغول ہوگیا، تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک تیرہ سال کا بچہ میری بغل میں آکر بیٹھ گیا، میرا دھیان موبائل پر تھا، بچّے کے بیٹھنے کے چند لمحے بعد ایک شخص کہیں سے نمودار ہوا  اور بچّے کے پاس  آکر کھڑا ہوگیا اور پیسوں کا مطالبہ کرنے لگا، اچانک میری توجہ موبائل فون سے ہٹ کر اس طرف ہوگی، بچہ  ڈرا ہوا تھا، مجھے خیال آیا کہ کوئی چائلڈ ابیوز کا معاملہ تو نہیں،  کیوںکہ  بچّے نے ہاتھ میں فروخت کرنے کی خاطر رنگین  کاپیاں پکڑی ہوئی تھیں، گمان ہوا شاید  اس شخص نے بچّے کو کام کے لیے رکھا ہے، جو اس سے پیسوں کا مطالبہ کررہا ہے، ابھی میں محض دیکھ اور سوچ رہا تھا، کہ اس نے بچّے کے ساتھ  بدتمیزی کی کوشش کی تو میں بھی کوئی مزاحمت کروں گا۔
ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اُس شخص نے خود ہی مجھے گفتگو میں شامل کرلیا، اس نے  مجھ سے بات شروع کرتے ہی  چند رسیدیں  جیب سے نکالیں اور کہنے لگا، صاحب آپ پڑھے لکھے ہو، آپ خود ہی بتاؤ، ان رسیدوں پر کیا لکھا ہے؟ اتنے میں مزید چار آدمی  آٹو کے گرد اکٹھے ہوگئے، میں نے رسیدیں دیکھنا شروع کیں تو وہ چالان تھے جو ایل ٹی سی کی طرف سے کیے گئے تھے، وہ چار چالان تھے جن کی کل مالیت 2 ہزار روپے سے زائد بنتی تھی، اس شخص نے بتانا شروع کیا، صاحب میں رکشا ڈرائیور ہوں، یہ بچّہ ایک دن میرے رکشے میں بیٹھا تھا، کوئی  چھ مہینے پہلے کی بات ہے، اس نے میرے رکشے کے باکس کو توڑ کر پیسے نکال لیے اور ساتھ رکشے کے کاغذات بھی تھے، پیسے اس نے پاس رکھ لیے اور کاغذات کہیں پھینک دیے، یہ بات  اس نے سب کے سامنے قبول بھی کی اور وعدہ کیا کہ میں آپ کے پیسے تھوڑے تھوڑے کرکے واپس کردوں گا، لیکن یہ غائب ہوجاتا ہے مجھے دیکھ کر، کئی دن  ملتا نہیں۔ اس شخص نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  صاحب میں نے اس کو پیسے سارے معاف کردیے لیکن میرے کاغذات کے جو پیسے ہیں، اس کا مطالبہ کررہا ہوں، میں غریب رکشا ڈرائیور ہوں، آپ نے دیکھا، دو ہزار کے تو میرے چالان ہی ہوگئے، میں اس ڈر سے رکشا ہی نہیں چلاپاتا، کہیں چالان نہ ہوجائے۔
اب میرے ذہن میں جو تصویر چل رہی تھی، وہ الٹی چلنا شروع ہوگئی۔ بچّے سے میں نے سب پوچھا، وہ مانا بھی، میں نے اس کو پیسے دینے کے لیے منایا، اس شخص کو بھی کہا کہ آئندہ آپ کو یہ پیسے دیا کرے گا ہر مہینے۔ رکشا ڈرائیور نے کہا، صاحب یہ بہت پیسے کماتا ہے  آپ کو نہیں پتا۔ آج میں اس سے پیسے لے کر ہی جاؤں گا۔ اب میں عجیب شش وپنج کا شکار ہوگیا، بچے کے لیے ہمدردی اپنی جگہ لیکن رکشا ڈرائیور بھی سچا معلوم ہورہا تھا۔ خیر میں نے خود ہی بچّے کی جیب سے نکال کر پیسے اس شخص کو دے دیے، چوری سے اپنی جیب سے کچھ پیسے نکال کر اس بچّے کو دے دیے تاکہ اس کی دن بھر کی محنت ضائع نہ جائے۔ بچّے نے مطالبہ کیا، میرے ابا سے پوچھ لیں کیا معاملہ ہے، یہ مجھے اکیلا کہیں اور نہ لے جائے آپ ساتھ چلیں۔ میں بچّے کے کہنے پر اس کے گھر جانے پر راضی ہوگیا۔ گھر پہنچ کر اور بھی حیران ہوا، وہاں منظر ہی بدلا سا تھا، بچّے نے اپنے باپ کو بلایا، باپ نے آتے ہی رکشا ڈرائیور کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی اور الزام لگایا کہ یہ میرے بچّے کو بلیک میل کرتا ہے، بچّے نے کچھ نہیں کیا، بلکہ بات یہاں ہی نہیں رکی، باپ نے اس شخص پر بدفعلی کا الزام بھی لگادیا، وہ ہاتھا پائی کرنے ہی والا تھا کہ میں نے بیچ بچاؤ کرایا۔ 
میں سب کچھ گہری نظر سے دیکھ رہا تھا، میں نے بچّے کے باپ سے ثبوتوں کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ حیرانی کی بات یہ بھی تھی کہ وہ بچہ جو  رکشا میں بیٹھ کر سب مان رہا تھا، اب باپ کے سامنے  سب باتوں سے مُکر گیا جب کہ رکشا ڈرائیور التجا کررہا تھا کہ آپ غلط کررہے ہیں، میرے پاس گواہ ہیں کہ بچّے نے ہی چوری کی ہے اور اس نے سب کے سامنے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے، لیکن اس کا باپ ہاتھا پائی کے لیے ہمہ وقت تیار تھا، یہ سب  وہ لالچ میں کررہا تھا، کیونکہ وہ بچہ اپنے باپ کو پیسے کما یا چرا کر دے رہا تھا۔ میں نے رکشا ڈرائیور کو سمجھایا کہ ہم چلتے ہیں، کیوںکہ بچّے کے باپ کو عزت کا خیال نہیں تھا، وہ اپنے بچّے کو ہی بدنام کررہا تھا۔ ہم وہاں سے واپس آگئے، راستے میں سارے واقعے پر نظر دہرائی، سارا قصور باپ کا نظر آیا، وہ باپ کیا حسّاس ہوسکتا ہے جس کا بچہ رات دو بجے مشقت کرکے آرہا ہو اور وہ گھر میں سویا پڑا ہو؟ کیا ہم  اسے بے غیرت نہیں کہیں گے جو اپنے ہی بچّے پر بدفعلی کا الزام لگارہا ہو؟ اس واقعے کا میں نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ تھا کہ معاشرے میں تعلیم کا بے پناہ فقدان ہے اور دوسری اہم بات جو تھی کہ ہم ایک بدتہذیب معاشرے میں جی رہے ہیں۔ خدارا! تعلیم کو عام کیا جائے اور یہ کام صرف حکومت کی ہی ذمے داری نہ سمجھا جائے۔ ہمیں اپنے تئیں یہ کوشش کرنی چاہیے مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا یہ فرض بھی ہے۔ خدارا! اپنے بچوں کو تہذیب سکھائیے، ان کی اچھی تربیت کیجیے، اپنے گھر معاشرے کو تہذیب سکھائیے، علم کا چراغ جلائیے تا کہ معاشرہ روشن ہو، ہمارے سماج کو تعلیم و تربیت اور تہذیب کی اشد ضرورت ہے۔
 

image

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ حالات کو معمول پر لانا چاہ رہے تھے لیکن لندن میں نوازشریف سے ملاقات کے بعد ان کے تیور بھی بدل گئے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ ’’اُنہیں‘‘ ذرا کھینچ کر رکھیں ہتھ ہولا نہ کریں۔ کچھ اسی قسم کا معاملہ وفاقی وزراء کے ساتھ ہے، جنہوں نے پچھلے ہفتے اداروں پر خوب تنقید کی اور سخت بیانات دیے۔ ان وفاقی وزراء اور مشیروں کا مسئلہ یہ  ہے کہ وہ وزیراعظم کے بجائے پارٹی سربراہ نوازشریف اور ان کی سیاسی جانشین مریم نواز کو جواب دہ ہیں۔ شہباز شریف ان مشیروں سے وزیراعظم اورپارٹی کی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
اداروں کے درمیان تناؤ اور چیز ہے جبکہ اختلاف رائے ایک بالکل مخلتف چیز۔ پالیسیوں میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں بھی اداروں سے اختلاف رائے ہو جاتا 
ہے۔ جہاں  ایسا ہوتا ہے وہاں آئین وقانون کے تحت فیصلہ کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چاہے کچھ بھی کہیں  وفاقی وزراء کے بیانات سے طنز اور تناؤ چھلکتا نظر آتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، احسن اقبال اور خواجہ آصف سب نے ایک دوسرے سے بڑھ کر بیانات دیے۔ یہ سب نمبر بنانے کی گیم ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں ابھی نوازشریف کا سکہ چل رہا ہے۔ نوازشریف کی وزارت عظمیٰ ضرور ختم ہوئی ہے لیکن انکی پارٹی کی حکومت قائم ودائم ہے۔ نوازشریف کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ شاہد خاقان عباسی سے استعفا لے کر ان کی جگہ کسی اور کو وزیراعظم بنا دیں۔ قومی اسمبلی میں وزارت عظمیٰ کے بہت سے امیدوار موجود ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کے جانے کے دو راستے ہیں ایک یہ کہ وہ ازخود استعفا دے دیں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے اور اسے کامیاب بھی کرایا جائے، لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ فوج حکومت کی پشت پر ہے اور حکومت فوج کی پشت پر ہے۔ احسن اقبال نے یہ بیان دے کر دراصل حکومت کے لیے فوج کی حمایت کا تاثر دیا ہے۔ فوج آئین وقانون کے ساتھ ہے اور اس کا اظہار فوجی ترجمان بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ سیاسی 
حکومت کے سیاسی یا معاشی فیصلوں کی فوج ذمے دار نہیں۔ احسن اقبال نے ٹیکنیکل مار، مارنے کی کوشش کی ہے، انہیں یقین ہے کہ ان کے بیان کی تردید نہیں کی جائے گی۔
حکومت کو یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ اس کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ نظر نہ آنے والی طاقت اسے اقتدار سے باہر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کبھی قبل از وقت انتخاب، کبھی کنگز پارٹی بنانے اور کبھی ٹیکنو کریٹس حکومت کی باتیں ہو رہی ہیں۔ تجزیے اور تبصرے ہو رہے ہیں کہ عام انتخابات وقت پر نہیں ہوں گے۔ انتخاب سے قبل احتساب ہو گا۔ ٹیکنو کریٹس کی حکومت دوسال تک ملک کا نظام چلائے گی۔ دوسری طرف فوج کے ترجمان واضح لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی ٹیکنو کریٹس کی حکومت آ رہی ہے۔ اس وضاحت کے باوجود وزراء اپنے بیانات میں اس خوف کا اظہار کر رہے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے اور موجودہ جمہوری نظام لپیٹا جا سکتا ہے۔ وزراء اور مشیر اپنی غلطیاں ماننے کے لیے تیار نہیں۔
موجودہ سیاسی تناؤ میں ایک بڑا کردار وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ہے، جن کی ساری توجہ اپنے خلاف چلنے والے مقدمات پر ہے۔ وہ سزا سے بچنے کے لیے دن رات وکلا اور قانونی ماہرین سے مشاورت میں مصروف رہتے ہیں۔ وزارت کے لیے کب وقت نکالتے ہیں معلوم نہیں۔ پاکستان پر معاشی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کے بوجھ کے باعث پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے چند دن پہلے اعداد وشمار کا ایک لمبا چوڑا گورکھ دھندا پیش کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بھارت سے کم اور معیشت بھارت سے بہتر ہے، جلد پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ شروع ہو جائے گا۔ اسحاق ڈار کا مخاطب کون تھا اور انہوں نے کس کو مطمئن کرنے کی کوشش کی سب کو علم ہے۔ عام آدمی صرف اتنی بات جانتا ہے کہ مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور روپے کی قیمت مسلسل کم ہوتی جا رہی 
ہے۔ اگر واقعی معیشت ترقی کر رہی ہے تو اس کے ثمرات غریب عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟ یہ تجزیے اور تبصرے کیوں ہو رہے ہیں کہ پاکستان پر دیوالیہ ہونے کی تلوار پھر لٹک گئی ہے۔ اسحاق ڈار ایسے وزیر خزانہ ہیں جن پر آمدنی سے زیادہ جائیدادیں بنانے کا الزام ہے، اخلاقیات کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ ازخود وزارت چھوڑ دیں۔ لیکن ظاہر ہے وزارت کے باعث انہیں جو پروٹوکول اور مراعات حاصل ہیں وہ اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے۔ وہ وزیر نہ رہے تو انکی گرفتاری کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔ وفاقی کابینہ میں انہیں سینئر ترین وزیر کی حیثیت حاصل ہے۔ نوازشریف سے رشتے داری کے باعث شاہد خاقان عباسی بھی اُن سے باز پرس نہیں کر سکتے۔ اگر کبھی انہوں نے ایسی کوئی کوشش کی بھی ہو گی تو جواب میں اسحاق ڈار کے پاس جمع تفریق کا ایک لمبا چوڑا حساب کتاب ہے۔ جسے دیکھ کر وزیراعظم بھی چکرا جاتے ہوں گے۔ اسحاق ڈار کا مؤقف یہ ہے کہ وہ اس وقت تک  مستعفی نہیں ہوں گے جب تک پارٹی انہیں استعفا دینے کا نہیں کہے گی۔
مسلم لیگ ن اس وقت دو کشتیوں کی سوار ہے۔ ایک طرف وفاق میں بعض وزراء اداروں سے تصادم کی راہ پر چل رہے ہیں اور دوسری طرف شہباز شریف اداروں سے مفاہمت چاہتے ہیں۔ چچا شہباز کی چائے نے اثر نہ دکھایا تو یہ خلیج مزید وسیع ہوتی جائیگی۔ اگر مسلم لیگ ن میں موجود تصادم پر آمادہ عناصر بے قابو ہوئے تو شہباز شریف بھی بغاوت کر سکتے ہیں۔ مریم نواز کے چچا شہباز کو پنجاب کے عوام اور اسٹیبلشمنٹ کا مزاج معلوم ہے۔ اس لیے وہ کوشش کر رہے ہیں تصادم سے بچا جائے ورنہ دیوار پر کیا لکھا ہے سب کو نظر آ رہا ہے۔
 

image

مشیر برائے قومی سلامتی جنرل ناصر جنجوعہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو گا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا جواز مستقل طور پر ختم ہو جائے گا۔ مزید برآں جنرل صاحب نے فرمایا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے کوشش کرے اور اس دیرینہ مسئلے کے حل سے دنیا کی دو جوہری قوتوں کے درمیان جنگ کا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاک بھارت تعلقات میں خرابی کی واحد جڑ یا سبب کشمیر ہے جس نے خطے بلکہ عالمی امن کو جوہری جنگ کے دہانے پرلا کر کھڑا کیا ہے۔ یہ حقائق سے چشم پوشی ہے یا تاریخ سے لا علمی۔ حقیت یہ ہے پاک بھارت تعلقات میں خرابی اور نقصِ امن کا سب سے بڑا سبب بھارت کا نظریہ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ ہے اور دوسرا سبب دو قومی نظریہ ہے جو قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کا واحد جواز ہے۔ پاکستان پہلے وجود میں آیا اور مسئلہ کشمیر نے بعد میں جنم لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے اور اس کے لیے بھارت یا برطانیہ یعنی اس وقت کی عالمی طاقت سے کشمیر کے حصول کے لیے منت یا مذاکرات کی خیرات نہیں مانگی تھی تقسیم ہند کے وقت ہندی ریاستوں کے الحاق کیلئے اپنے ہی بنائے ہوئے رہنما اصولوں کے برعکس برطانیہ نے مسلم اکثریت ریاست کشمیر کو بذریعہ فوج بھارت کے حوالے کر دیا۔ برطانوی بددیانتی کا معاملہ فقط کشمیر تک محدود نہیں تھا بلکہ مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور بشمول قصبہ اور موجودہ تحصیل قادیان بھی بھارت کے حوالے کیا 
گیا تا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے زمینی راستہ اور رابطہ قائم رکھ سکے۔ قائداعظم نے جنگ کا جواب جنگ سے دیا۔ مگر نو آزاد پاکستانی ریاست کے فوجی سربراہ جنرل گریسی نے حکم عدولی کی اور کہا کہ پاک فوج برطانوی کمانڈر ان چیف جنرل آکن لیک کے ماتحت ہے اورآکن لیک 1947ء میں برطانوی وزیر اعظم کو لکھتے ہیں کہ مجھے بھارتی سرکار اور برطانوی افسران کی جانب سے استحکام پاکستان کیلئے عدم تعاون کا کہا گیا (دیوار برہمن از پروفیسر محمد منور ص۔391) جبکہ برطانوی وزیراعظم مسٹر ایٹلی اپنی کتاب ’’یاداشت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ میرے دور کا ناگوار ترین واقعہ تقسیم ہند یعنی قیام پاکستان ہے۔ جس کو ہم روکنے میں ناکام رہے۔
جنرل صاحب کا مفروضہ درست تسلیم کر لیا جائے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے سے پاک بھارت بھائی چارہ ہو جائے گا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے آزاد بلوچستان، آزاد سندھ، آزاد پختونخوا اور متحدہ یا عظیم تر بلوچستان و پنجاب کیلئے پاکستان کے اندر تحریکی، تنظیمی، تخریبی اور دہشت گردی کا نیٹ ورک کیوں بنا رکھا ہے؟ بھارت کے اندر آج بھی بنگلا ٹیکس کی طرح سندھی، بلوچی اور پختون ٹیکس کیوں نافذ ہے؟ جبکہ بھارتی ریاست کے اندر سندھی، بلوچی اور پختون قوم نہیں پائی جاتی۔ کیا یہ کشمیر کا مسئلہ تھا جس نے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کیا؟ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا سقوط ڈھاکہ کے وقت بیان دینا کہ ہم نے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا۔ نیز ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ڈھاکہ میں ’’بنگلا دیش کے نام نہاد یوم آزادی‘‘ کی تقریب میں اعلان کرتا ہے کہ میں مکتی باہنی کا ادنیٰ کارکن تھا اوراس طرح میں نے بنگلا دیش کی آزادی میں عملی حصہ لیا تھا۔ سبرا مینیئم کا سوشل میڈیا پر بیان چل رہا ہے کہ پاکستان کے حکمران اور عوام احمق ہیں ہم نے (16دسمبر 1971) میں پاکستان کے 2 ٹکڑے کیے اور اس بار 4 ٹکڑے کریں گے۔ سندھی، بلوچی، پختون اور پنجابی بھارتی مکتی باہنی کے منتظر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کی مذکورہ تخریبی سر گرمیاں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہیں؟ علاوہ ازیں بھارت کے اندر پاکستان مخالف بے شمار ہندو انتہا پسند عوامی تنظیمیں ہیں جن کو سرکاری سرپرستی میسر ہے۔ مودی کی وزارت اعلیٰ میں گجرات کے اندر بوسنیا کی طرح مسلمانوں کا قتل عام کل کی بات ہے۔ کیا بابری مسجد کی بربادی ہندو کی اسلام اور مسلم کش پالیسی کا بین ثبوت نہیں۔ قائد اعظمؒ کا بھارتی مسلم اقلیت کی حمایت اور حفاظت کیلئے واضح پیغام ہے کہ اگر بھارتی مسلم اقلیت کو اذیت دی گئی تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں ہو گا بلکہ اپنے مظلوم بھائیوں کی داد رسی کیلئے جنگ کا حق بھی رکھتا ہے۔ (مسلم لیگ کنونشن، دہلی 14-04-1946)۔ یہ پیغام اہل پاکستان کیلئے تھا جبکہ ہندو انتہا پسند نتھورام گوڈ سے نے گاندھی کو قتل کیا تھا۔ اس کی وصیت ہے ’’میری راکھ اس وقت تک محفوظ رکھی جائے جب تک پاکستان ختم نہیں ہو جاتا۔ (خاکم بدھن) پاکستان اور مسلمانوں کو ختم کر کے میری راکھ دریائے سندھ کے آغاز مانسرور میں بہائی جائے تا کہ بھارت دھرتی ماتا جو پاکستان کی وجہ سے پلید اور اپوتر ہو گئی ہے دوبارہ پاک اور پوتر ہو جائے۔‘‘ یہ راکھ پونا میں تاحال محفوظ ہے اور یہاں ہر سال نتھو رام گوڈ سے کے عرس کے موقع پر لاکھوں ہندو انتہا پسند مرد، عورتیں اور بوڑھے حاضر ہو کر پاکستان ختم کرنے اور مسلمانوں کو مارنے کا عہد کرتے ہیں۔
مسئلہ کشمیر سادہ نہیں پیچیدہ ہے۔ کشمیر خطے کا اہم ترین سٹرٹیجک مقام ہے۔ کابل کی طرح کشمیر کا حصول بھی سب کی آشا ہے حملہ آور امریکا اور عالمی طاقتوں کا پہلا استعماری ہدف کابل تھا جبکہ دوسرا ہدف کشمیر ہے۔ سی پیک تناظر میں کشمیر کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے سی پیک کے سارے رستے گلگت  بلتستان سے نکلتے ہیں اور بھارت کی گلگت دراس روڈ تک رسائی کارگل کے ذریعے ہے۔ اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ کشمیر کے غیر مشروط الحاق کے بغیر پاکستان نا مکمل اور غیر محفوظ ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے سارے آبی ذرائع کشمیر سے نکلتے ہیں۔ یاد رہے کہ کشمیر گیا تو سی پیک بھی گیا۔ امریکا مکار پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ سی پیک کا مخالف ہے کیونکہ یہ کشمیر کے متنازع علاقے سے گزرتا ہے۔ آج بھی آزاد کشمیر بشمول کارگل متنازع کیوں؟ آزاد کشمیر قائداعظمؒ کی جہادی پالیسی کا تحفہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ وزیر خارجہ مسٹر ظفر اللہ خان نے آزاد کشمیر بشمول گلگ بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنانے کے بجائے متنازع کیوں رکھا؟ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظمؒ کی پالیسی نے بھارت اور برطانیہ کو زچ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی مدد سے پاکستانی مجاہدین کو روکے۔ مجاہدین رک گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی مدد سے باقی ماندہ مقبوضہ کشمیر بچا لیا اور آج قائداعظمؒ کے جانشینوں کا کمال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکا، عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بار بار منت کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل کرو وگرنہ جوہری جنگ ہو جائے گی۔ قائداعظم کی طرح ہمت نہیں تو منت بھی نہ کریں۔ انگریزی زبان کا محاورہ ہے کہ بھکاری کو بھیک ملتی ہے۔ مرضی نہیں ملتی۔ Beggars are Loosers, not choosers.
یاد رہے کہ کشمیر کی آزادی، تحریک پاکستان کا حصہ تھی اور ہے 1930کے ابتدائی عشرے میں علامہ اقبال کشمیر ایکشن کمیٹی کے صدر تھے۔ مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی، دوراندیشی اور دانشمندی سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ کہیں جلدی میں غلط فیصلہ نہ ہو جائے ۔ اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کا انعقاد الحاق برائے پاکستان یا بھارت ہونا ہے جبکہ جنرل پرویز مشرف نے کشمیر پر تھرڈ آپشن دیکر کشمیری عوام اور قیادت کو خود مختار کشمیر کا جھانسہ بھی دے رکھا ہے۔ پاکستان کے اکابرین اس امر کو ذہن میں رکھیں۔ گو اس وقت بھارت اسرائیل سیاسی اور عسکری گٹھ جوڑ اور فوج نے نہتے کشمیری مسلمانوں کو مارنے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اسرائیلی اور بھارتی دستاویزات کے مطابق (جو Youtubeپر موجود ہیں) مسئلہ کشمیر کے حل یعنی آزاد کشمیر کے پاکستانی علاقوں کو ہتھیانے کے لیے بھارت نے امریکا، اسرائیل، برطانیہ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ساز باز کر رکھی ہے کہ بھارت افغانستان میں امریکی بگرام ایئر بیس کی طرح سرینگر یا جموں کا کچھ رقبہ اقوام متحدہ کے حوالے کر دے گا مگر اس آڑ میں پاکستان اپنے آزاد کشمیر کے علاقے برائے استصواب رائے اقوام متحدہ کے زیر انتظام دے دے گا۔ خاکم بدہن اس طرح پاکستان کو متنازع کشمیر کی صورت میں ’’کشمیری یروشلم‘‘ یعنی اسرائیلی زمینی استعمال سے براہ راست پالا پڑے گا۔ جبکہ گلگت اور بلتستان کی آبادی کے رجحانات اور میلانات سکہ بند مسلمانوں کے نہیں ہیں۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ اے مسلمانوں جو بات تمہارے لیے مفید ہو گی اس پر کافر اور دشمن نا خوش ہو نگے۔ اسی طرح جو بات امت اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہو گی، اس پر کافر اور دشمن خوشی اور سرگرمی کا اظہار کریں گے۔ اللہ ہمیں کشمیر کے معاملے میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
 

image

ختم نبوتؐ کے منکرین اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ یہ فتنہ آنحضورؐ کے دور ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ جہاں آپؐ نے اپنی ختم نبوت کا اعلان فرمایا، وہیں آپؐ نے قیامت تک نمودار ہونے والے ان کذابین کا بھی تذکرہ فرمایا تھا۔ بندۂ مومن کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچ سکتا کہ آنحضورؐ کے بعد کوئی نبی اور رسول آ سکتا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا تو اس باب میں قول فیصل ہے جو کذاب نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس سے یہ پوچھنا بھی کہ وہ اس کی دلیل پیش کرے۔ ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔ آج کل یہ فتنہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ ان کذابین میں سے بنو حنیفہ کا سردار، مسیلمہ کذاب نہایت خطرناک تھا۔ اس کا انجام بھی عبرت ناک ہوا۔ یہ شخص بہت دھوکے باز، عیّار، مکّار اور چرب زبان تھا۔ اس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔ یہ بدبخت کہا کرتا تھا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) بھی اللہ کے رسول ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اسے کذّاب قرار دیا تھا۔ مسیلمہ کا ایک خط تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے، جس میں اس نے کذب بیانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریکِ نبوت بنایا گیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے تھوڑا ہی عرصہ قبل اس نے آپؐ کے نام جو خط لکھا وہ مؤرخ طبری نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے: (جلد سوم ص ۱۴۶-۱۴۷)
مِنْ مُسیلمہ رسول اللہ الیٰ محمدٍ رسول اللہ سلامٌ علیک فانی اُشرکتُ فی الامر مَعَکَ۔ مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے، محمد رسول اللہ کی طرف، آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔
مسیلمہ اور اس کے پیروکار بہت مکار، فریبی اور دھوکے باز تھے۔ وہ اذان اور نماز کا اہتمام کرتے تھے۔ اذان میں اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ کے بعد اشھد ان مسیلمۃ رسول اللّٰہ کہا کرتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خط ملتے ہی اس پر لعنت بھیجی اور اسے کافر وکذّاب قرار دیا۔ بنو حنیفہ کے بیش تر مسلمان نیک نیتی کے ساتھ سمجھتے تھے کہ مسیلمہ بھی اللہ کا رسول ہے۔ اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کے بعد انہوں نے اس کی اتباع شروع کر دی۔ اس کے باوجود کچھ مخلص اور فہیم اہلِ ایمان اس پر ایمان نہیں لائے تھے۔ اس کے خلاف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فوج بھیجنا چاہتے تھے، مگر اجل مسمّٰی نے آپ کو مہلت نہ دی۔ یہ اہم کام حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں انجام دیا گیا۔
یہ شخص دھوکہ دینے کے لیے کبھی نرمی اختیار کرتا اور کبھی اپنی دھونس جمانے کے لیے ظلم وستم کی انتہا کر دیتا تھا۔ امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ سورۂ النحل کی آیت نمبر۱۰۶میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ (النحل۱۶:۱۰۶)
اس کی تفسیر میں امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اس رخصت کے باوجود عمومی طور پر عزیمت کا راستہ اختیار کرتے تھے اور جان کی قربانی دے دیتے تھے، مگر کفریہ کلمہ اپنی زبان سے نہیں نکالتے تھے۔ حضرت حبیب بن زید انصاریؓ (حضرت ام عمارہ کے فرزندِ دل بند) یمامہ کے علاقے سے گزر رہے تھے۔ مسیلمہ کو اس کی اطلاع ملی۔ مسیلمہ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور کہا: ’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ہاں میں گواہی دیتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ مسیلمہ کذّاب ہے۔ اس نے کہا: تم اگر یہ گواہی نہ دو گے تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ انہوں نے فرمایا: تمہیں جو کچھ کرنا ہے کر لو، میں ہرگز یہ گواہی نہیں دوں گا۔ پھر اس نے حکم دیا کہ ان کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ ہاتھ کٹنے کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ پھر ان کا ا یک پاؤں کاٹا گیا، مگر ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ 
آئی۔ پھر دوسرا ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹا گیا۔ امام ابن کثیرؒ کے الفاظ میں: فَلَمْ یَزَلْ یَقْطَعُہٗ اِرْباً اِرْباً وَھُوَ ثَابِتٌ عَلٰی ذَالِکَ۔ یعنی انہیں ایک ایک عضو کاٹ کر شہید کیا گیا، مگر وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ (تفسیرابن کثیر، ج۴،ص۲۲۸، مطبوعہ ، بیروت)
مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکرصدیقؓ نے حضرت عکرمہؓ بن عمرو کو ایک فوج دے کر روانہ کیا اور حکم دیا کہ تمہارے پیچھے شرحبیل بن حسنہؓ ایک مزید دستہ لے کر آ رہے ہیں۔ ان کے آنے تک جنگ شروع نہ کرنا، جب وہ پہنچ جائیں تو مسیلمہ پر حملہ کر دینا۔ اہلِ یمامہ نے مضبوط قلعے تعمیر کر رکھے تھے اور مسیلمہ کے گرد مختلف قبائل کے مرتدین اور جنگجو بھی ہتھیار بند ہو کر پہنچ چکے تھے۔ حضرت عکرمہؓ اور ان کے ساتھی جب اس علاقے میں پہنچے تو انہوں نے حضرت شرحبیلؓ اور ان کے ساتھیوں کا انتظار کرنے کے بجائے مسیلمہ سے جنگ چھیڑ دی۔ چونکہ ان کی تعداد کم تھی اور دشمن پہلے سے تیار بیٹھا تھا، اس لیے مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کو جب یہ اطلاع ملی تو انہوں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور ایک خط میں سرزنش کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے کیوں عجلت سے کام لیا اور شرحبیل کے پہنچنے سے قبل جنگ کیوں چھیڑ دی، خیر جو مقدر تھا وہ ہوا، اب واپس مدینہ آنے کے بجائے مہرہ اور عمان کے مرتدین کے خلاف لڑنے کے لیے حذیفہؓ اور عرفجہؓ سے جا ملو۔ جب وہاں سے فارغ ہو جاؤ تو پھر حضرموت اور یمن کے مرتدین سے لڑنے کے لیے مہاجر بن ابی امیہؓ کے پاس چلے جانا۔
اس عرصے میں حضرت خالدؓ بھی اپنی مہمات سے فارغ ہو چکے تھے اور مالک بن نویرہ کے قتل کی شکایات پر مدینہ آ کر خلیفۂ رسولؐ کی خدمت میں اپنا مؤقف پیش کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کی معذرت اور وضاحت قبول کرتے ہوئے انہیں مسیلمہ کذاب کے مقابلے پر سپہ سالار بنا کر بھیجا اور حضرت شرحبیلؓ کو حکم دیا کہ وہ خالدؓ کے لشکر میں شامل ہو کر مسیلمہ کے مقابلے پر جہاد میں حصہ لیں۔ حضرت خالدؓ کے لشکری تو پہلے سے ان علاقوں میں موجود تھے۔ ان کی مدد کے لیے مدینہ سے انصار و مہاجرین صحابہ پر مشتمل دو دستے بھی روانہ کیے گئے۔ ان صحابہؓ میں بہت سے حفاظ وقرأ بھی شامل تھے اور وہ اصحاب بھی بڑی تعداد میں تھے، جو بدر و احد اور احزاب وحنین کے معرکوں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں حصہ لے چکے تھے۔ (جاری ہے)
 

image

برصغیر پاک و ہند میں ملت اسلامیہ کی خود شناسی کا آغاز سرسید احمد خاں سے ہوا۔ سر سید نے اپنی فراست، محنت، اولوالعزمی، علمیت اور شخصی جاذبیت سے مسلمانوں کی سوچوں کا رُخ موڑ دیا۔ اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انکی ہمہ جہت شخصیت متنازع فیہ رہی۔ مذہبی عقائدکے لحاظ سے علمائے وقت نے انہیں کافر اور ملحد کہا تو روشن خیال گروہ نے انہیں مجتہد العصر اور امام زمانہ کے ناموں سے یاد کیا۔ تعلیمی افکار کے اعتبار سے دقیانوسی طبقہ نے انہیں اسلام کش اور انگریزوں کا پٹھو قرار دیا تو ماہرین تعلیم نے انہیں زمانہ شناس اور دور اندیش کہا جبکہ سیاسی اعمال کی حیثیت سے نا سمجھ لوگوں نے انہیں ابن الوقت کہا تو اہلِ دانش و بینش نے انہیں مصلح قوم کا خطاب دیا۔ اہلِ نقد و نظر فکری اختلاف کے باوجود اس امر پر متفق ہیں کہ سر سید کی شخصیت ایک تہذیبی ادارے اور انجمن کی سی ہے جس نے ہماری زندگی کے رخ کو موڑنے، اس میں نئے مزاج کو سمونے اور اسے زمانے کے ساتھ آگے بڑھانے، اپنی ذات سے بلند ہو کر مسلسل کوشش کرنے کی طرح ڈالی۔ یہ وہی فکر اور تحریک ہے جس کے ساتھ ہم نے تبدیلی کا ایک طویل سفر طے کیا۔
قاضی جاوید اپنی کتاب ’’تاریخ و تہذیب‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ میرے بچپن کے زمانے میں سر سید ہمارے تین بڑے قومی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے ہمارے کلاس روم میں اکثر سکولوں کے کلاس روموں کی طرح تین تصویریں آویزاں تھیں درمیان میں قائد اعظم، دائیں طرف سر سید جبکہ بائیں طرف علامہ اقبال۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ سر سید کی تصویر اس لیے آویزاں ہے کہ انہوں نے مشرقی روایت میں ’’صحت مند اور نیا خون‘‘ داخل کر کے اس میں نئی زندگی پیدا کرنی چاہی تھی جبکہ باقی دو صاحبان اقبال اور جناح اس نئی زندگی کا ثمر تھے۔ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کی جدید تاریخ کی یہ تعبیر 70 اور 80 کے عشروں میں اٹھنے والے قوم پرستی اور مذہبی شدت پسندی کے بگولوں کے سامنے نہ ٹھہر سکی۔ مذہبی شدت پسند اصل میں تثلیث کے سبھی ارکان کو مسترد کرنے کے در پے تھے مگر یہ کوئی سہل نہ تھا۔ جناح بابائے قوم تھے اور علامہ کے بارے میں طے تھا کہ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جداگانہ شناخت کی راہ دکھائی نیز علامہ اس لیے بھی مضبوط تھے کہ ان کی جڑیں پنجاب میں پیوست تھیں۔ پس یہ دونوں صاحبان بچ نکلے البتہ سر سید بگولوں کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکے۔ ان کی تصویر کسی اعزاز کے بغیر اتار دی گئی اور اب وہ ضیاء الدین لاہوری کی کتاب کے سوا کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ نائن الیون کے بعد جو طوفان اٹھا اس نے ہوا کا رخ موڑ دیا۔ مذہبی شدت پسندی اور جہاد کے شعلوں کو ہوا دینے والے حاکم و جرنیل اب اعتدال پسند روشن خیالی کا درس دینے لگے، ذہنی و ثقافتی فضا بدلنے لگی اور آخر کار ہمیں سنجیدہ فکر اعتدال پسند راہنماؤں کی تلاش کا خیال آ ہی گیا۔ دانشوروں کا خیال ہے کہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ہندوستان کی مسلم تاریخ سے قوم اگر کوئی انسپائریشن حاصل کرنا چاہے تو یہ سر سید ہی سے مل سکتی ہے۔ انیسویں صدی کے خاتمے تک تاریخ نے بس یہی ایک کردار ایسا پیدا کیا جو جدید طرز احساس رکھتا تھا اور بدلتی ہوئی سچائیوں کو قبول کرنے کی اس میں اخلاقی جرأت بھی تھی۔
سر سید نے اپنی فکر اور تحریک کے ذریعے مایوسی، غلامی اور تقلید کی زنجیروں میں جکڑے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی بشارت دی۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک ہم اندھی تقلید کی زنجیروں کو نہ توڑیں گے اصلاح کا کوئی کام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو گا۔ اسی طرز فکر کے باعث ان پر کفر کے فتوے لگے لیکن ان کے کفر نے ایمان کے نئے راستے کھول دیے۔ ہمارے معاشرے میں عمل اور حرکت کی ایک موج پیدا ہوئی۔ آج بھی ہم جن سماجی و فکری اور سیاسی و مذہبی مسائل کا شکار ہیں اس کے تدارک کے لیے بھی ہمیں سر سید جیسی ہمہ جہت، اعتدال پسند، روشن خیال اور منطقی شخصیت و فکر کی ضرورت ہے۔ سر سید احمد خاں روح عصر کے نمائندہ مصلح تھے وہ اپنے عہد کا بہتر شعور رکھنے والے انسان تھے ان سے بھی زیادہ جو اس وقت سر سید سے زیادہ پڑھے لکھے تھے۔ سر سید نے مجتہدانہ انداز فکر اور حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کیا اور مسلمانان ہند کو جینے کے آفاقی اطوار اپنانے کی تلقین کی۔ سر سید جنگ آزادی کے بعد کی مایوسی کے عالم میں خضر راہ بن کر ابھرے اور تعلیم کو عام کر کے شعوری بیداری سے برصغیر پاک و ہند کی ملت اسلامیہ کو خود اعتمادی سے لیس کیا اور انہیں شناخت کی بازیافت کا درس دیا۔ سر سید ایسے دور بیں اور دور اندیش انسان تھے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں اکیسویں صدی کی گلوبلائزیشن میں ملی و انفرادی شناخت کے ساتھ جینے کی تیاری شروع کرنے کی تلقین کی۔ کامیابی محض بے معنی ہے، فرد اور اقوام کی حقیقی ترقی شناخت کے ساتھ نسبت رکھتی ہے۔ سرسید بے مہار جدیدیت کے بجائے ملی شناخت کے ساتھ جدید ہونے کا درس دیتے رہے۔ آج فکر سر سید ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم آفاق میں اپنا مقام تلاش کریں مگر اپنی شناخت گُم کیے بغیر۔ یہی فکر سر سید کی عہد حاضر میں حقیقی مطابقت ہے۔ سر سید کے افکار و اعمال کا مطالعہ اور جائزہ تقاضا کرتا ہے کہ آج سر سید احمد خاں کی دریافت نو ہی قوم کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سر سید سر تا پا مذہبی آدمی تھے ان کی ذات کی اٹھان اور ضمیر کا جوہر مذہبی تھا۔ ایسا مذہبی جو فطرت کی مافوق الفطرت تعبیر پر یقین رکھتا ہو۔ سر سید کا دل محبت و خلوص سے سرشار تھا وہ دین اسلام پر فخر کرنے والے مسلمان تھے ۔سر سید حقیقی معنوں میں مذہبی آدمی تھے اور انہیں دین فطرت کا بساط بھر فہم بھی تھا۔ سر سید زندہ سوچ اور تازہ فکر کے حامل ایسے اصلاح کار تھے جو ہر وقت، شب و روز قوم کی فلاح اور اصلاح و ترقی کے لیے کوشاں رہے۔ سر سید کی جدوجہد کا سبق یہی ہے کہ انسانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی انقلاب سے نہیں اصلاح و ارتقاء سے آتی ہے۔ سر سید کا خیال متحرک تھا وہ فکر تازہ سے جہان نو آباد کرنے کے آرزو مند تھے ان کے خیال میں تعلیم اور شعور کی بیداری ہی اقوام کی ترقی کا کامیاب نسخہ ہے۔ سر سید کی فکر کا اہم درس یہ بھی ہے کہ بڑی قوتوں سے بلا جواز ٹکرانا تباہی ہے کمزور کا بغیر تیاری کے بڑی قوتوں سے تصادم اسکی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ کمزور اقوام کو پہلے خود علم و تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابی سے مستحکم ہونا ہو گا اسکے بغیر موت کو گلیمرائز کر کے قوم کو لڑانا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومیں زندگی کے راستے پر چل کر ہی زندہ و پائندہ رہتی ہیں موت کا گلیمر قوموں کو نہیں بچا سکتا۔ لوگوں کو زندگی سے محبت کرنا سکھانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ فکر و شعور کا رواں پانی ہی زندگی کو جنم دیتا ہے جس سماج میں فکر رواں اور سوچ متحرک نہیں رہی  جمود اور جہالت کا کینسر اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ آج ہمیں سر سید جیسے اصحاب فکر و عمل کو دریافت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سر سید احمد خاں مسلمانوں کے دور ابتلا کے دانشور ہیں، جب نو آبادیاتی نظام جڑیں پکڑ چکا تھا۔ سر سید کے افکار کو سمجھنے کے لیے جمال الدین افغانی اور محمد عبدہٌکو سمجھنا ہو گا ان دونوں نے اپنے اپنے علاقوں میں نو آبادیاتی جبر کے خلاف مسلمانوںکی حکمت عملی کا لائحہ عمل پیش کیا۔ سر سید وہ واحد شخص تھے جنہوں نے مغرب میں پیدا ہونے والے فکری و علمی ابھار کو سمجھا۔ غیر معمولی بصیر ت کے حامل سر سید نے 1857ء کے فوراً بعد کے زمانہ کی تاریکی سے نکلنے کا راستہ سمجھایا۔ یہ پُر آشوب زمانہ ایک ناکام انقلاب سے پیدا ہوئے اضطراب و اذیت سے عبارت تھا اور اس کام کے لیے انہوں نے ہوشمندانہ حکمت عملی اختیار کی جس کے سہارے ایک دم توڑتی روایت کی دلدل اور مصنوعی جدیدیت کے بھنور دونوں سے ہی بچا جا سکتا تھا۔ آج مسلمان ایسی ہی ملتی جلتی کیفیت میں پر آشوب دور سے پھر گزر رہے ہیں مگر افسوس کہ آج ہمارے درمیان کوئی سر سید نہیں ہے۔ بلاشبہ قوم کو درد کے درماں کے لیے سر سید جیسی مخلص اور متوازن فکر کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سر سید کو دریافت کریں اور پھر نسل نو سے متعارف کرا دیں۔
پرانے ولیوں کی شکل والے سر سید احمد خاں کی شخصیت جتنی دلکش تھی اتنی ہی ہمہ گیر بھی تھی وہ بیک وقت اصلاح معاشرہ کے پرزور علمبردار، غیر معمولی بصیرت کے ماہر تعلیم ، دیدہ ور سیاسی مدبر، روشن خیال مذہبی مفکر، بے خوف صحافی، گہری لگن کے مؤرخ، اور مؤثر و فکر انگیز طرز تحریر کے مالک انشاء پرداز تھے۔ ان کی جہد و سعی کا میدان اتنا وسیع اور ان کی فکر میں ایسی توانائی تھی کہ ان کی ذات ایک قندیلِ رہبانی بن کر رہ گئی ہے۔ آج انہیں دریافت کرنا کلاس روموں میں دوبارہ لٹکانا، نسل نو کو متعارف کرانا اہم عصری تقاضا ہے۔ انہوں نے ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ہمہ گیر نقوش چھوڑے۔ حالیؔ نے درست کہا تھا  کہ  
ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کو 
کریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائیں گے ان کو

image

ٹرین کے ساتھ عجب جذباتی وابستگی ہے، وجہ یہ نہیں کہ بچپن سے کہانیوں میں ریل گاڑی کا تذکرہ سنتے آئے ہیں اور یہ بھی نہیں کہ لڑکپن میں  اس کے ذریعے سانگلہ ہل ماموں کے گھر جایا کرتے تھے، ایسی بہت سی خوشگوار یادوں کے باوجود جب بھی ٹرین میں بیٹھتا ہوں وہ منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے جو آنکھو ں سے نہیں تخیل سے دیکھا ہے، ریل گاڑی کی کھڑکی سے با ہر دیکھتے ہوئے پلیٹ فارم پر بلوائی نظر آتے ہیں، کٹی پھٹی لاشیں، بلکتے ہوئے زخمی سنائی دیتے ہیں۔ ٹرین سے شہدا کے لہو کی مہک آتی ہے۔ یہ کم نہیں ہوتی وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ گذشتہ برس کوئٹہ ایکسپریس میں لاہور سے صادق آباد جاتے ہوئے  ہاتھوں میں صدیق سالک کی سقوط ڈھاکا کے بعد اسیری کے زمانے کا احاطہ کرتی ہوئی کتاب ’’ہمہ یاراں دوزخ‘‘ تھی، جس نے جذباتی کیفیت کو دوچند کردیا، راقم قیام پاکستان کی ٹرین سے اُتر کر کبھی ڈھاکا کی گلیوں میں دیوانہ وار بھاگنا شروع کردیتا، تو کبھی بھارتی سکھ جیلر سے تکرار کرتا۔ ہنوز ٹرین پر یہی سفر کرتے ہوئے مختار مسعود کی انقلاب ایران کے حوالے سے لکھی ہوئی کتاب ’’لوح ایام‘‘ شریک سفر تھی، جس کے مخاطب اہل پاکستان ہیں۔
کوئٹہ ایکسپریس وسطی پنجاب سے سفر کا آغار کرتی ہے، جنوبی پنجاب اور سندھ سے گزر کر بلوچستان پہنچتی ہے، کئی طور کے حالات دیکھتی ہوئی گزرتی ہے، مختلف قسم کے طرز حکمرانی اور عوام کے ساتھ برتائو کا مشاہدہ کرتی ہے۔ بظاہر کوئٹہ ایکسپریس، سقوط ڈھاکا، انقلاب ایران کا آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا، لیکن وطن عزیز کی موجودہ سیاسی صورت حال دیکھی جائے، سیاست دانوں کے غیر ضروری بیان پڑھے جائیں، پاکستانی سیاست میں بڑا نام و مقام رکھنے والوں کو چھوٹے مسائل میں اُلجھتے مشاہدہ کیا جائے، اداروں پر کھلے بندوں تنقید کرنے والوں کی زبان درازیاں سنی جائیں، اندرونی سلگتے مسائل نگاہ میں ہوں یا خارجہ پالیسی کا ضعف ذہن میں رکھا جائے تو ناصرف ان تینوں کا تعلق سمجھ میں آجاتا ہے بلکہ ماتھے پر پسینہ بھی نمودار ہوجاتا ہے۔ تب محسوس ہوتا ہے کہ ایران انقلاب کے چشم دید گواہ اور ڈھاکا کو ڈوبتے دیکھنے والوں کی تحریریں عوام وخواص سے کیا مطالبہ کرتی ہیں۔
تخت نشین لوگوں کے اقتدار کو دوام دینے کے لیے استعمال کیے گئے حربے ہی بڑی غلطیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ہیں۔ معمولی سمجھی جانے والی باتوں سے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں، عوام اور خواص کے درمیان حائل فاصلہ بڑھنے کی وجہ سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں رہائش پذیر اُن مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جن کا سامنا جنوبی پنجاب، اندرون سندھ اور بلوچستان کے شہریوں کو رہتا ہے۔ سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات ماضی میں ہماری سنگین غلطیاں ثابت ہوئیں۔ اس وقت بھی ملک کے مختلف حصوں میں جہاں ایک طرف احساس محرومی بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب احساس ضیاع عنقا ہورہا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے زیر عتاب ہونے کی وجہ سے حزب اختلاف کی جماعتوں کا بھی زیادہ وقت عوام میں یہ تاثر پیدا کرنے میں صرف ہورہا ہے کہ بڑے صوبے و اضلاع میں ہونے والی ترقی پس ماندہ علاقوں کا پیٹ کاٹ کر ممکن کی جارہی ہے۔ کتنی حقیقت ہے، کتنا فسانہ یہ تو آنے والا کل ہی بتائے گا، لیکن اس سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں بے چینی اور تشویش بڑھ رہی ہے۔
اس وقت مملکت خداداد پاکستان کے باسی طرفین کی طرف سے ہونے والی محاذ آرائی کو سہمے ہوئے دیکھ رہے ہیں، کیوںکہ قوم کو تقسیم کرنے، ریاست کے مختلف ستونوں کے درمیان کشیدگی بڑھانے کے لیے جس طرح کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں، یہ خاکم بدہن کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ اس مفادات کے تحفظ کی جنگ کے مضر اثرات براہ راست عوام پر ہی  ہوں  گے، کیونکہ اشرافیہ تو پل میں تولہ پل میں ماشہ ہوتی ہے۔ سیاسی و مذہبی اکابرین کی قلابازیاں ہی عوام میں ساکھ خراب ہونے کا موجب بنی ہیں، یہی وجہ ہے مشکل کی کسی گھڑی میں عوام دفاعی اداروں کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات پختہ ہوچکی کہ سیاست دانوں کے برعکس دفاعی ادارے یہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں، ہماری بقا، آن، شان اسی خطۂ ارض کی بدولت ہے، اسی لیے وہ ملکی سلامتی کو  ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں۔
ملک و ملت کی وحدت کو تقسیم کرنے کے لیے دو ہتھیار انتہائی کارگر ثابت سمجھے جاتے ہیں۔ اوّل، مذہبی و لسانی منافرت پیدا کی جائے، دوم عوام کے ایک حصے میں احساس محرومی پیدا کردیا جائے۔حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ قبل اس کے بہت دیر ہوجائے، سیاست دانوں، ریاستی اداروں اور ذرائع ابلاغ کو ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفاد کو مقدم سمجھتے ہوئے، دانش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

image

کسی بھی قوم کی بقا کے لیے زبان، ثقافت اور قومی تشخص روحِ رواں کی حیثیت رکھتا ہے۔ قوموں کی زندگی اور ان کی ترقی کا راز صرف اسی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ قوموں کو یکجا کرنے کے لیے یہ تینوں لفظ بنیادی ستون کی طرح کام کرتے ہیں۔ پاکستان کی بنیاد زبان، ثقافت اور قومی تشخص کو مدنظر رکھتے ہوئے دو قومی نظریے پر رکھی گئی، یعنی ہندو دھرم، ثقافت، زبان اور قومی تشخص کسی بھی طور ہم سے نہیں ملتا اور یہی نظریہ تخلیق پاکستان کا باعث بنا۔ پاکستان اور بھارت اسی روز بن گئے تھے جب انگریز دور میں 1867 میں اردو ہندی تنازع پیدا ہوا۔ مسلم اکابرین کو اُس وقت محسوس ہوا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، جو ہزاروں سال ساتھ تو رہیں لیکن ثقافتی، مذہبی اور لسانی اعتبار سے کبھی یکجا نہ ہوسکیں۔ 
کسی قوم کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہو تو آپ اس کی زبان کو تبدیل کرنا شروع کردیں، وہ قوم اسی کلچر اور زبان کے تابع ہوجائے گی، جس کا ان کی زبان اور کلچر پر اثر زیادہ ہوگا۔ یوں کسی بھی قوم کو جدید دور میں بم سے مارنے کی ضرورت نہیں، بلکہ آپ اس کی ثقافت اور زبان تبدیل کردیں تو وہ یا خودبخود تباہ ہوجائے گی یا آپ کے تابع۔ قوموں کے تشخص میں مادری اور قومی زبانیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ دو قومی نظریے کی اساس بھی اردو ہندی تنازع تھا۔ مسلمانِ ہندی کو سرکاری زبان قرار دینے کے خلاف تھے، کیونکہ ہندی ہمارے قومی تشخص کے ناصرف منافی، بلکہ سرے سے مختلف تھی۔
شاید آج ہم اپنی تاریخ بھول گئے۔ اب ہمارے لیے زبان اتنی اہمیت نہیں رکھتی۔ یقین کیجیے اگر ہم نے اس خطرناک صورتِ حال کا تدارک نہ کیا تو یہ تاثر کینسر کی طرح ہماری تمدن و ثقافت کو کھوکھلا کردے گا۔ اس وقت پاکستان کے مختلف چینلز پر ہندی پروگرام اور ڈرامے دکھائے جارہے ہیں، جن کی زبان ہندی ہوتی ہے اور کردار بھی اکثر و بیشتر ہندو مت سے متعلق ہوتے ہیں۔ اور ان ڈراموں میں بعض اوقات ایسی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں، جن کا ہماری معاشرتی اقدار سے دُور دُور کا واسطہ نہیں ہے۔ ان ڈراموں کی بڑی ویورشپ ہماری گھریلو خواتین اور بچّے ہیں۔ عورتیں ان ڈراموں سے گہرا اثر لیتی ہیں۔ یہ ڈرامے اور ہندی کلچر نہ چاہتے ہوئے بھی خواتین اور بچوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ چینلز بچوں کے کارٹون تک ہندی زبان میں دکھاتے ہیں، جو ہندی کلچر کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ آج ہمارے گھروں میں تین سال سے لے کر دس سال کے بچّے یہ کارٹون بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ حیران کن بات کہ یہ بچّے ہندی زبان اور کلچر سیکھ رہے ہیں۔ اکثر گھروں کے بچّے یقین اور بھروسے کی جگہ ہندی لفظ ’’وشواش‘‘ کو دینے لگے ہیں، اسی طرح دوسرے ہندی الفاظ کا استعمال بھی اردو میں تیزی سے ہونے لگا ہے۔ میری پیمرا سے درخواست ہے کہ ایسے چینلز کو فوری متنبہ کیا جائے جو پاکستانی کے بجائے ہندی ڈرامے دکھارہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگ مفلسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اسی طرح ایسے چینلز کے پروگرام پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے، جن سے بچوں کے لیے ہندی کارٹون نشر کیے جاتے ہیں۔ بچّوں کی انٹرٹینمنٹ کے لیے ہمیں متبادل کارٹون نیٹ ورک چینلز بنانے چاہئیں، جن سے ہمارے بچّے پاکستانی ثقافت اور اقدار کو بھی نہ بھولیں اور سب سے بڑھ کر اپنی قومی زبان اردو کی آسانی سے تمیز کرسکیں۔ وگرنہ یہ کلچر کی تبدیلی دو قومی نظریے کو بھی خطرے میں ڈال دے گی، کیونکہ ہماری نئی نسلیں بہت جلد اپنی زبان، ثقافت اور قومی تشخص کھو بیٹھیں گی اور جب وہ ہم سے سوال کریں گی کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا تو ہمارے پاس سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ ہوگا، کیونکہ ہم اس وقت تک دو قومی نظریہ کھو چکے ہوں گے۔
مزید برآں، ہمارے ملک میں کئی نیشنل اور انٹرنیشنل بزنس کمپنیاں اور برانڈز موجود ہیں۔ ان کمپنیوں کی مختلف مصنوعات ہم روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے پلانٹس بھی پاکستان میں موجود ہیں اور یہ کماتی بھی یہیں سے ہیں، لیکن یہ کمپنیاں اپنے کمرشل مقاصد کے لیے ہمیشہ ماڈلز بھارت سے Hire کرتی ہیں جبکہ یہ پاکستانی فلم/ ٹی وی اسٹارز یا ماڈلز کو ترجیح نہیں دیتیں۔ اس سے پاکستانی معیشت کو ناصرف ٹیکس کی صورت میں نقصان ہوتا ہے بلکہ ہمارے ماڈلز کا بھی معاشی استحصال ہوتا ہے۔ حکومت  پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان کمپنیوں کو پابند بنائے اور انہیں تلقین کی جائے کہ اپنی پروڈکٹ کی پروموشن کے لیے برانڈ ایمبیسڈر صرف پاکستان سے لیں۔ یوں ہمارے شوبز کے لوگوں کے مالی حالات کافی بہتر ہوں گے۔ اور اگر ہم نے یہ پالیسی نہ اپنائی تو ہمارے فن کار آہستہ آہستہ کم ہوتے جائیں گے اور یوں ہماری فلم اور ٹی وی انڈسٹری مزید تباہ ہوجائے گی۔ یہ بات کتنی عام فہم ہے کہ اگر ایک کمپنی پاکستان میں بزنس کرتی ہے اور اس کی پروڈکٹس بھی یہیں پہ بکتی ہیں تو یہ اس کا اخلاقی اور قانونی فرض ہے کہ وہ اپنے برانڈ ایمبیسڈر ہمسایہ ملک کے بجائے پاکستان سے Hire کرے۔ آپ روزانہ اپنے ٹی وی سیٹ پہ ایسے کئی کمرشلز اور پروڈکٹ پروموشنز کی بھرمار دیکھتے ہیں جن میں تمام ماڈلز پاکستانیوں کے بجائے غیر ملکی ہوتے ہیں۔ یہ طریق کار پاکستانی معیشت کے ساتھ ساتھ ہماری زبان، ثقافت اور قومی تشخص کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ 
آپ یورپ کے کئی ممالک کی مثال لے سکتے ہیں۔ ان کی  آبادی صرف چند لاکھ ہوتی ہے، لیکن  پھر بھی وہ اپنی زبان اور ثقافت پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ شاید اسی لیے پورے یورپ میں انگریزی صرف اندلستان کی ہی سرکاری زبان ہے، باقی ہر ملک کی اپنی بولی ہی سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ اس طرح ان کا الگ کلچر بھی زندہ  رہتا ہے اور ان کی لوگوں میں علیحدہ پہچان بھی قائم رہتی ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو ہماری تباہی اپنے ہی ہاتھوں سے ہوگی، کیونکہ اگر کسی قوم کا کلچر تباہ کردیا جائے تو وہ اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ میری تمام متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کی قومی زبان، کلچر اور قومی تشخص کی بحالی کے لیے مناسب اقدام کریں، تاکہ ہم اپنی نسلوں کو قیام پاکستان کے اسباب فخر سے بتاسکیں۔
 

image

We know that they know human rights abuses are common in Egypt. Nevertheless, consecutive Egyptian governments tend to deny such violations take place in Egypt — committed not only by the authorities, but also by individual citizens who do not abide by, and are not even aware of, basic human rights obligations. The Egyptian state deals with this issue by applying a “catch me if you can” stratagem. It tends to deny all allegations of human rights abuses by law enforcement agencies, in direct contradiction to the reality that citizens have been confronting for decades and that is frequently portrayed in Egyptian movies.
Almost a decade ago, Egyptian pundits repeatedly warned the government of the likely outbreak of bread riots. However, we were all taken by surprise during the Jan. 25, 2011, revolution when Egyptians demanded dignity along with bread, freedom, and justice. Apparently, leading a dignified life is a fundamental demand for Egyptians — who are probably not aware of their daily humiliation of one another. Minimal awareness of human rights and responsibilities, on the part of both ruling authorities and citizens, is our true dilemma.
Many Egyptians believe that harsh punishment is legitimate under certain circumstances, which are obviously determined on an individual basis; they are happy to abuse human rights if they know that they will get away with it. Meanwhile, the state believes that people suspected of crime, violence and terrorism deserve to be the victims of repressive policies, including torture. The ruling authorities’ implicit opinion is that a nation with a population in excess of one hundred million, of which a large segment is illiterate and poor, is left with only one option — meting out rough treatment.
Unfortunately, the issue has become a game played by the Egyptian government and a number of international human rights organizations, which often accuse Egypt of adopting a comprehensive policy of violating the rights of citizens, warning us that further repression will lead to increased violence. In return, the Egyptian government consistently refutes these allegations, claiming that instances of abuse are rare exceptions to the prevalent norm of upholding human rights, and declaring these organizations to be ignorant of actual conditions on the ground in Egypt.
While the state and many of its citizens refute all human rights abuse allegations, regular Egyptians are lost amidst intensive and violent mistreatment.
As this debate takes place, we Egyptians are lost amidst intensive and violent mistreatment and a culture of abuse, wherein influential citizens manipulate marginalized ones; wealthy citizens take advantage of the less fortunate; men, at large, mistreat women; and so on. Lately, to disassociate themselves from any criminal allegations, many powerful, wealthy citizens have resorted to hiring “bodyguards,” who are often willing to engage in illegal acts for which their employers cannot be held responsible.
The state’s argument, that the national stability of our large population necessitates draconian methods of government (occasionally entailing repressive measures), is easily countered by arguing that enforcing the rule of law will create the needed stability. The state’s philosophy of broadening the definition of human rights by claiming that it entails more than individual legal rights — such as the right to education, health and other state services — simply signals to lawbreakers that they may persist in their offences. Moreover, this philosophy overlooks the fact that the state is the entity responsible for addressing all issues equally and comprehensively.
The Egyptian state believes that the issue of human rights is politicized. Unfortunately, I tend to agree that a few nations make use of this flaw — only when needed — to exert pressure on Egypt. However, we should not bother with defending Egypt’s human rights status on issues that conflict with our religious beliefs and moral values. Acknowledging that we have shortcomings in the area of human rights, as in most other areas, is the first step to addressing the problem. To realize true progress in this controversial matter, we must educate Egyptians, inclusive of the ruling authorities, on the best methods for managing our citizens.
(Courtesy : Arab News)
 

image

امراض قلب کے سب سے زیادہ 17 کارڈیک  کنسلٹنس پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں کام کررہے ہیں جب کہ یہاں بھی اٹھارہ آسامیاں خالی ہیں، اسی طرح دیگر کارڈیک ہسپتالوں میں مطلوبہ تعداد سے کم ڈاکٹرز ہیں۔ دل کے ڈاکٹروں کی شدید کمی سے پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے روزانہ آنے والے ہزاروں مریضوں کو ناصرف پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ دل کے بہت سے مریض روزانہ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
2006 میں فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان میں بھی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قائم کیے گئے، جس سے جنوبی پنجاب کے مریضوں کوآسانی مہیا ہوگئی۔ لاہور میں پی آئی سی کو توسیع بھی دی گئی اور مختلف مواقع پر اپ ڈیٹ بھی کیا گیا، جس سے شہر کے قرب وجوار اضلاع کے مریضوں کو آسانی مہیا کی گئی، مگر یہ توسیع بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ آئوٹ ڈور مریضوں کے لیے پرانی عمارت کے سامنے مینٹل ہسپتال کے قریب ایک عمارت مخصوص ہے، جہاں گنجائش تو سیکڑوں مریضوں کی ہے مگر وہاں ہزاروں مریض دھینگا مشتی کرنے پر مجبور ہیں، باوجود اس کے کہ ہسپتال کا عملہ محنتی اور تعاون کرنے والا ہے مگر ناکافی جگہ کا مسئلہ درپیش ہے جب کہ مریضوں کی ڈاکٹروں تک رسائی بے حد مشکل ہے۔  
انچارج آئوٹ ڈور پی آئی سی بے حد ملنسار شخصیت ہیں۔ آئوٹ ڈور میں ان کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے، وہ  دل جمعی سے مریضوں کا معائنہ کرکے انہیں ادویہ تجویز کرتے ہیں اور جو ٹیسٹ کرانے ہوتے ہیں، ان کی پرچیاں دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں ایک مریض کو اُنہیں دکھانے گیا تھا، اس دوران ایک خاتون (جو وہیل چیئر پر تھی) کی اچانک طبیعت بگڑ گئی، ڈاکٹر صاحب سب کچھ چھوڑ کر اس مریضہ کو دیکھنے زمین پر بیٹھ گئے، انہیں فوری ٹریٹمنٹ دے کر ایمرجنسی میں بھیجا اور دوبارہ مریضوں کا چیک اپ شروع کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے ہر مریض اہم ہے، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی مریض آئوٹ ڈور میں آجائے وہ بغیر چیک اپ کے واپس نہ جائے، چاہے وقت جتنا بھی ہوجائے اور اکثر شام ہوجاتی ہے۔ دوردراز سے آئے مریض آئوٹ ڈور میں دریاں اور صفیں بچھا کر لیٹے ہوتے ہیں، انہیں کئی کئی گھنٹے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پی آئی سی کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مسعود احمد اور ڈاکٹر انوار احمد خاں بھی بہت محنتی اور ہمدرد انسان ہیں، جو مریضوں کی خدمت عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔  
شیخوپورہ سے ایک جوان لڑکا اپنے والد کے ٹیسٹ کرانے آیا ہوا تھا، اس نے بتایا کہ ہمیں والد صاحب کو دکھانے کے لیے مہینے میں ایک مرتبہ ضرور آنا پڑتا ہے۔ ہماری صوبائی حکومت کو چاہیے کہ تمام اضلاع میں کارڈیالوجی ہسپتال تعمیر کرے، تاکہ عوام کو اپنے شہر میں طبی سہولت میسر آجائے۔ لڑکا لیکچرار اور اپنے والد کی اکلوتی اولاد ہے۔ ٹھنڈے دل و دماغ کے مالک ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم صاحب مریضوں کو دیکھتے رہے اور وہ نوجوان میرے ساتھ بڑی مفید گفتگو کرتا رہا۔ اس نے بتایا کہ آپ اگر لکھیں تو اس میں میری یہ تجویز ضرور شامل کریں کہ تمام شہروں میں امراض قلب کے ہسپتال ضرور قائم کیے جائیں۔ تمام شہروں کے مریضوں کو اپنے گھر میں سہولت مل جائے گی اور یہ ہسپتال اہل لاہور کی ضروریات کو پوری کرتا رہے گا۔ اس نے بتایا کہ انہیں ای ٹی ٹی ٹیسٹ کے لیے تین ماہ بعد کی تاریخ دی گئی ہے، انجیو گرافی کے لیے چھ چھ ماہ اور بائی پاس یا انجیوپلاسٹی کے لیے دو سال سے پہلے کی تاریخ نہیں دی جاتی۔ کوئی مریض بھاری اخراجات برداشت کرسکتا ہے تو اسے فوری تمام سہولتیں حاصل ہوجاتی ہیں۔
پی آئی سی کے تمام پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز اور کنسلٹنٹس کو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ وہ شام کے وقت چار سے چھ بجے تک مریضوں کو پرائیویٹ دیکھ سکتے ہیں، جہاں وہ پندرہ سو سے تین ہزار روپے تک فیس وصول کرتے ہیں اور پرائیویٹ مریضوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، ان کے ٹیسٹ اور علاج معالجہ فوری ہوتا ہے  جب کہ غریبوں کو برسوں تک انتظار کی سولی پر لٹکایا جاتا ہے۔ کئی غریب مریض پی آئی سی کو زحمت دیے بغیر ہی اللہ کے پاس پہنچ جاتے ہیں، کیونکہ موت تو برسوں انتظار نہیں کرسکتی۔
 وزیراعلیٰ پنجاب پر غریبوں کا قرض ہے کہ انہیں طبی سہولتیں ان کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کریں، ورنہ اللہ سے درخواست ہے کہ اس بیماری کو صرف سرمایہ داروں تک ہی مخصوص رکھے، اس کا علاج کرانا غریبوں کے بس سے باہر ہے۔
 

image

دنیا کے دوسرے خوبصورت ترین دارالحکومت اسلام آباد میں واقع قائداعظم یونیورسٹی ملک کی واحد جامعہ ہے جس نے دنیا بھر کی بہترین 500 جامعات میں اپنی جگہ بنائی، کچھ روز قبل ایک دعوت ملی اور یونیورسٹی میں جاری ایک غزل نائٹ میں جانے کا اتفاق ہوا، اس موقع پر وائس چانسلر، اساتذہ، طلباء، طلباء تنظیموں کے نمائندگان، متعدد سینیٹرز اور رکن قومی اسمبلی (جو قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں) ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ معلومات کرنے پر پتا چلا کہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا، سابق گورنر اسٹیٹ بینک مسز شمشاد، چانسلر پریسٹن یونیورسٹی ڈاکٹر عبدالباسط، وائس چانسلر ایجو کیشن یونیورسٹی ڈاکٹر رئوف اعظم، جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر، ڈاکٹر ثقلین نقوی باچا خان یونیورسٹی، ڈاکٹر طاہر امین بہائو الدین ذکریا یونیورسٹی، ڈاکٹر قیصر مشتاق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، معروف اینکر پرسن کاشف عباسی، نسیم زہرا، طلعت حسین، اسد شریف، دو درجن سے زائد وفاقی و صوبائی سیکریٹریز، بیرون  ملک وطن عزیز کا نام روشن کرتے ہوئے کئی سفراء بھی قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔
افسوس کہ اس وقت یہ یونیورسٹی شدید انتشار کا شکار ہے، گرلز ہاسٹل میں طلباء کی جانب سے ہلڑبازی کی خبریں گردش کررہی ہیں، منشیات کا استعمال چھوڑیں یہاں تو منشیات فروشی عام ہو چکی اور کئی طلباء کو اس میں ملوث پاکر پولیس گرفتار بھی کرچکی ہے، یونیورسٹی کی لسانی طلباء تنظیمیں اپنے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہیں، جنہوں نے گزشتہ دس روز سے یونیورسٹی کا تدریسی و انتظامی عمل بند کر رکھا ہے، مظاہرین رات بھر سڑکوں پر ٹینٹ لگاکر سوتے ہیں، کلاسز کا مکمل بائیکاٹ ہے، داخلے کے خواہشمند افراد کے لیے 10اکتوبر کو میرٹ لسٹ لگنی تھی، وہ بھی نہیں لگ سکی۔ پرو چانسلر قائداعظم یونیوسٹی و وزیر تعلیم انجینئر بلیغ الرحمان نے مظاہرین سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ انہیں انصاف دیا جائے گا مگر مظاہرین کا کہنا ہے کہ زبانی کلامی دعووں کا زمانہ گزر گیا، جب تک عملی کام نہیں ہوجاتا تب تک احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ ایک خبر کے مطابق اگلے ماہ قائداعظم یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا اجلاس ہے، جس میں مظاہرین کے مطالبات زیر بحث لائے جائیں گے، یعنی تب تک حالات جوں کے توں رہنے کا خدشہ ہے۔
احتجاجیوں اور ہڑتالیوں کے اوپن مطالبات یہ ہیں کہ سمر کورسز آفر کیے جائیں، قائداعظم یونیورسٹی سرکاری ادارہ ہے، لہٰذا آسمان سے باتیں کرتی فیسوں کو زمین پر لایا جائے، یونیورسٹی میں میڈیکل سینٹر بنایا جائے اور گرلز ہاسٹل میں چوبیس گھنٹے ڈاکٹرز کی سہولتیں فراہم کی جائیں، سیٹیں خالی ہونے کی صورت میںسیلف فنانس پر پڑھنے والے طلباء کو میرٹ پر اپ گریڈ کیا جائے، مجھ سمیت تمام قارئین احتجاجیوں کے ان مطالبات کو تہہ دل سے تسلیم کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ اس احتجاج میں اُن کے شانہ بشانہ شامل ہیں۔
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ مطالبات تسلیم کرلینا انتظامیہ کا فرض ہے تو پھر تمام اسٹیک ہولڈرز، انتظامیہ کے حامی احتجاجیوں کے مخالف کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ ایسی کون سی بات ہے جس پر یونیورسٹی انتظامیہ بھی بضد ہے اور دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کی کوئی صورت نظر نہیں آتی؟ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی میں جانا ہوگا۔
دراصل ان چھوٹے چھوٹے مطالبات کے پیچھے احتجاجیوں کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان تمام طلباء کو بحال کیا جائے جنہیں سندھ اور بلوچ کونسل کے آپسی جھگڑے کی پاداش میں فارغ کیا گیا تھا اور یہی مطالبہ یونیورسٹی کے لیے ماننا مشکل ہے، کیونکہ اس جھگڑے سے ناصرف یونیورسٹی کا ماحول خراب ہوا بلکہ دنیا بھر میں جگ ہنسائی بھی ہوئی، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح آپس میں گتھم گتھا نوجوان ایک دوسرے کو ہاسٹل کی چھتوں سے نیچے پھینکتے رہے، تصادم رکوانے کے لیے کوشاں پولیس پر ہاسٹلز کی چھتوں سے پتھرائو کیا گیا، جھگڑالو اور متشدد طلباء کی جانب سے میڈیا نمائندگان پر شدید تشدد کیا گیا، کیمرے توڑ دیے گئے جس کے بعد پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی، ہاسٹلز خالی کروانے کے لیے گرینڈ آپریشن کیا گیا، یہ تماشا سوشل میڈیا پر پوری دنیا نے دیکھا۔ بدلے کی آگ بجھانے کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی کو میدان جنگ بنانے والے گروہ اب مشترکہ احتجاج کررہے ہیں، یونیورسٹی کی جگ ہنسائی کا باعث بننے والوں کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اس بار یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف بھی حق پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے پریس کانفرنس میں واضح کہا کہ کسی کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے، ضرورت پڑی تو ایک بار پھر گرینڈ آپریشن کروائیں گے، ڈاکٹر جاوید یقیناً دانا اور محنتی شخص ہیں، جن کی کاوشوں سے آج قائداعظم یونیورسٹی دنیا کی 500 بہترین جامعات میں شامل ہوئی، جامعات کی عالمی رینکنگ جاری کرنے والا معروف ترین ادارہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن بتاتا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی پاکستان کی واحد جامعہ ہے جو  2017میں دنیا کی 500بہترین جامعات میں شامل ہوئی اور ہم بھی جانتے ہیں کہ اس سے پہلے تک جاری ہونے والی رینکنگز کے بعد اخبارات میں ہمیں یہی خبر ملتی تھی کہ بھارت اور چین دنیا کی 500بہترین جامعات میں شامل ہیں، لیکن پاکستان اس دوڑ سے باہر ہے۔
آخر میں کہنا چاہوں گا کہ قائداعظم یونیورسٹی جہاں سے کوہ نور نکلا کرتے تھے، آخر اس قدر انتشار کا شکار کیوں؟ یہ کوئلے کی کان کیسے بن گئی؟ یونیورسٹی میں پھیلتی بدامنی کی وجہ کیا ہے؟ منفی سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا رجحان کیوں ہے؟
 دراصل قائداعظم یونیورسٹی میں کوٹا سسٹم ہے، یہاں مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کو کوٹے کے حساب سے سیٹیں دی جاتی ہیں اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ماجے گامے بھی یونیورسٹی تک پہنچ جاتے ہیں اور یہاں آتے ہی وہ فروغ ثقافت و تہذیب کے نام پر لسانی گروپوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر ذاتیات کی جنگ میں یونیورسٹی کے تقدس کو بلی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ضیاء الحق کی جانب سے 9 فروری 1986کو طلباء یونین پر پابندی لگائی گئی، جس کے بعد بینظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پنجاب بھر میں طلباء یونین کے آخری الیکشن ہوئے جو تین ماہ بعد ہی کالعدم قرار دے دیے گئے، 1989کے بعد سے آج تک تعلیمی اداروں میں طلباء یونین الیکشن نہیں ہوئے، جس سے ان لسانی اور مقامی گروپس کو تقویت ملی، تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کا فقدان ہوا اور  شدت پسندی نے جڑیں مضبوط کیں، موجودہ چیئرمین سینیٹ نے ایک خصوصی کمیٹی اس حوالے سے تشکیل دے رکھی ہے، قومی اسمبلی میں بھی طلباء تنظیموں کے الیکشن کی بازگشت ہے۔ امید ہے کہ جلد پاکستان کے تعلیمی اداروں میں گروپ بندیاں ختم ہوجائیں گی، حقیقی طلباء تنظیموں کو ان کا جمہوری حق ملے گا اور تعلیمی اداروں میں ایک بار پھر سے غیر نصابی سرگرمیاں فروغ پائیں گی، شدت پسندی کا خاتمہ ہوگا، امن ہوگا۔

image

28) مئی 1923ءکی تحریر(
 جہاں تک ہمیں یاد ہے ملتان کے مفسدوں کو کبھی سیاست نے اچھا نہیں کہا۔ ایک سیاست کیا مفسدوں کو کوئی صاحب عقل و خرد بھی اچھا نہیں کہہ سکتا، البتہ یہ صحیح ہے کہ اس نے پرتاپ اورکیسری کی طرح فسادات ملتان کی ساری ذمہ داری مسلمانوں پر عائد نہیں کی۔ وہ تسلیم کرتا رہا ہے کہ مسلمان مفسدوں کی حرکات ناشائستہ بہت زیادہ افسوسناک تھیں لیکن ہندو معصوم اور فرشتے نہیں تھے اور فساد اول کے بعد سے لیکر اس وقت تک ملتان میں سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں ہی پر ہوتا رہا ہے۔
باقی رہے فسادات امرتسر تو ان میں ہندو مسلمانوں سے زیادہ مجرم ہیں۔ اگرچہ مسلمان بھی پاک دامن نہیں ہیں لیکن سیاست نے ہمیشہ ان فسادات پر مصالحانہ مضامین لکھے اور مفسدوں پر اظہار افسوس و نفرت کیا۔ لیکن ہم بندے ماترم سے پوچھتے ہیں کہ وہ خود فسادات امرتسر کے متعلق کیا کرتا رہا ہے اور کیا کر رہا ہے۔ کیا وہ سارا الزام مسلمانوں پرعائد کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ دوسرے تیسرے دن اس میں فسادات امرتسر کے متعلق مضامین اور اطلاعات نکلتی رہتی ہیں۔ کیا اس نے اس بارے میں اپنے آپ کو ہمہ تن ہندوئوں کا وکیل قرار نہیں دے لیا۔  اگر تھوڑی دیر کیلئے بندے ماترم کے سیاست پر اس الزام کو تسلیم کر لیا جائے تو سیاست کہہ سکتا ہے کہ:
ایں گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند
پھر جو چیز بندے ماترم کو قوم پرستی کے حکم بننے میں مانع ہو سکتی  وہ غریب سیاست کو قوم پرستی کے دائرے سے نکالنے کیلئے کیسے پیش کی جا سکتی ہے؟
ہمیں افسوس ہے کہ س قدر طویل بحث کرنی پڑی۔ بندے ماترم کو غور کرنا چاہئے تھا کہ جو اخبارنہایت قابل قدر قربانیاںکررہا ہے، کئی دفعہ اس کی ضمانتیں ضبط ہو چکی ہیں، اس کا مالک ایک طویل مدت کیلئے اسی جرم آزادی اور اسی گناہ قوم پرستی میں اپنے اعزا و اقارب سے علیحدہ کیا جا چکا ہے اور وہ اب تک اپنے سابقہ طریق عمل پر قایم ہے اس کے متعلق کوئی مخالفانہ حکم لگا نے میں عجلت ٹھیک نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امتیازِ رنگ و نسل کی لعنت
کینیاکے ہندوستانیوں کی حالتِ زار(2)
30 مئی 1923ءکی تحریر
کینیا کے برگشتہ بخت ہندوستانیوں کا مسئلہ صرف امتیاز نسل و رنگ کا مسئلہ ہے اورقلمرو برطانیہ میںصرف سفید رنگ اور اینگلو سیکسن نسل ہی کے لوگ نہیں رہتے بلکہ ’’کالے آدمی‘‘ بھی سکونت پذیر ہیں جن کے اغراض و مقاصد ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اوربعض اوقات متضاد بھی ہوتے ہیں۔ مرکزی حکومت کا یہ فرض ہے کہ تمام مستعمرات و مقبوضات میں ہم آہنگی پیدا کرے اور توازن کو قایم رکھے کہ قلمرو کا نضباط و استحکام صرف اسی توازن میں مضمر ہے۔ جس دن سے برطانیہ کے ارباب بست و کشاد اس ہم آہنگی اور توازن سے بے نیاز ہوئے اور جس دن سے نسل و رنگ کے مصالح حق و انصاف پر سبقت لے گئے وہ قلمرو برطانیہ کی تباہی کا پہلا دن تھا۔ چونکہ اب تک نسلی و قومی تعصب بدستور ہی نہیںبلکہ روز افزوں ہے اس لئے قلمرو کا استحکام بھی اندر ہی اندر فرسودہ و بوسیدہ ہو رہا ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس دن یہ کہنہ و پارینہ عمارت دھڑرام سے گر پڑے اور پیوندِ زمین ہو جائے۔
یورپ کے تمدن نے دنیا کوجن گوناگوں مصیبتوں اور بوقلموں لعنتوں میں گرفتار کیا ہے ان میں سے ایک سب سے بڑی مصیبت اور سب سے زیادہ شرمناک لعنت امتیاز نسل و رنگ ہے۔ آج تمام دنیا میںدیکھ لیجئے سفید رنگ قومیں سیاہ و زرد قوموں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ خدا جانے اس کی وجہ کیا ہے۔ امریکہ والے حبشیوں سے الگ ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور چین و جاپان سے الگ بیزار ہیں۔ انگریزوں کو دیکھو تو وہ کالے آدمی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ اسی طرح فرانسیسیوں اور جرمنوں اور اطالویوں کو دیکھ لو کہ امتیاز رنگ کا مرض کس شدت سے ان اقوام کے اجسامِ قومی میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ یوں تو یہ مرض عام ہے لیکن جہاں سفید و سیاہ قوموں کے درمیان حاکم و محکوم کے تعلقات بھی ہوں وہاں تو پھر کچھ نہ پوچھئے، ایک تو کڑوا کریلا اور پھر اس پر نیم چڑھا۔ کینیا کے سفید رنگ لوگ ہندوستانیوں کو مبتلائے مصیبت کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ چیخے چلائے بھی تو معاذ اللہ ملاء اعلیٰ کے کزوبی یعنی حکومت عالیہ برطانیہ کے ارباب اختیارتو آخر ہمار ے ہی ہیں۔رتی بھر رشتہ گاڑی بھر آشنائی کے برابر ہوتا ہے۔ اب بتایئے جہاں یہ جذبات ہوں اور گوروں کی یہ توقعات ہوںاور پھر ان توقعات کو واقعات نے صحیح بھی ثابت کر دیا ہو وہاں یہ امید رکھنا کہ قلمرو کے مختلف حصوں کے درمیان توازن قایم رہ جائے گا ’’آب بہ ہاون کوفتن‘‘ اور’’ مہتاب بہ گزپیمودن‘‘ نہیں تو کیا ہے۔ آج کل لارڈ ڈیلامیئر کا وفدبھی انگلستان میں موجود ہے اور یادش بخیر سرکار کے لاڈلے سیلانی رائٹ آنریبل سری نواس شاستری بھی مستعمرات کے غریب ہندوستانیوں کی حمایت میں خون پسینا ایک کر رہے ہیں۔ اگر حکومتبرطانیہ کے خداوندوں نے ڈیلامیئر اوراس کے حواریوں کی مرضی کے مطابق کینیاکے ہندوستانیوں کی قسمت کا فیصلہ کر دیا تو یاد رکھنا چاہئے۔ (جاری ہے)

image

پولیس آفیسر کو تھپڑ مارنے والے سرکاری وکیل کی معطلی سے کم از کم یہ تو اطمینان ہوا کہ جلد یا بدیر ہمارے حکمرانوں کو سچائی اور اصلیت کی خبر ہو جاتی ہے لیکن کیا اتنا ہی کافی ہے؟ اگر یہ مجرمانہ اقدام ہے خلاف قانون ہے (اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ہے) تو اس پر مکمل گرفت ہونی چاہیے اور ایسی سزا جس کے بعد کم از کم کوئی قانون جاننے والا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرے۔ کل وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اچانک اور ہنگامہ خیز پریس کانفرنس میں آپ نے اپنی روایت کے مطابق معیشت سے متعلق جو غلط اعداد و شمار پیش کیے اور جس طرح وہ گھبراہٹ اور بے چینی کا شکار دکھائی دے رہے تھے اس کے بعد یہ تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ موصوف ’’کڑکی‘‘ میں پھنس چکے ہیں اور یہ پریس کانفرنس انہوں نے اپنی مرضی سے نہیں میاں نواز شریف کے دباؤ پر کی ہے کیونکہ وہ میڈیا کے سوالوں کا سامنا نہیں کر سکے خصوصاً اپنے استعفا کے معاملات پر تو آپ نے کھسیانے انداز میں سوال کرنے والے سے آخر میں کہا ’’جلدی نہ کریں آپ کو پتا لگ جائے گا‘‘ کسی مہذب معاشرے میں ایسا وزیر خزانہ جس پر فرد جرم عائد ہو چکی ہو اور جو گزشتہ سات ماہ سے عملاً غائب ہے زبردستی صرف اس لیے اپنی وزارت سے چمٹا ہوا ہے کہ اس طرح ممکن ہے اس کی سودا بازی پوزیشن مضبوط ہو لیکن ایسے ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور میاں نواز شریف اس خطرے سے آگاہ ہیں کہ کسی بھی کمزور لمحے میں اسحاق ڈار صاحب ماضی کی طرح ’’سلطانی گواہ‘‘ بن سکتے ہیں۔ شاید اس لیے ان کی کوشش صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی بھی طرح کوئی بھی ایسی ہنگامہ آرائی ہو جائے جس کے بعد یہ سارا سسٹم ہی لپیٹ دیا جائے اور وہ لندن میں باقی زندگی ’’یاد اللہ‘‘ میں گزار دیں۔ آج خبر ہے کہ میاں صاحب کو اپنے صاحبزادے کے گھر کے سامنے گاڑی غلط پارک کرنے پر 70پاؤنڈ جرمانہ ہوا ہے۔
سبحان اللہ… اللہ کی شان ہے یہاں آپ کی نااہلی کے بعد بھی درجنوں کاریں ٹریفک کیا انسانیت کو بھی روندتی ہوئیں دندناتی چلی جاتی ہیں اور وہاں آپ کو صرف غلط پارکنگ پر ٹکٹ لگ گیا یہ ہوتی ہے جمہوریت۔ میاں صاحب آپ جس ’’بادشاہی جمہوریت‘‘ کا راگ الاپ رہے ہیں وہ پاکستان میں اب ممکن نہیں رہی۔
وزیر خاقان عباسی کے تازہ انٹرویو میں یہ اشارے مل رہے ہیں کہ انہیں اپنے آقاؤں کی غلطیوں کا ادراک ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک جس کرائسس سے گزر رہا ہے اس کی ذمے دار بھی میاں صاحب کی ہی بادشاہی جمہوریت ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ترقی کے لیے جمہوریت ناگزیر ہے۔ خرابیاں پارلیمنٹ ہی ٹھیک کرے گی۔ غیر جمہوری حکومت مسائل حل نہیں کر سکتی۔ ملکی ترقی و خوشحالی حکمراں مسلم لیگ کی منزل ہے۔ اٹک میں تیل اور گیس کے ایک منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرنے کے بعد اگلے ہی روز انہوں نے کراچی میں کول ٹرمینل کا افتتاح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آمریت نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری طرف وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں ملک میں مارشل لاء کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان دونوں سے چار ہاتھ آگے بڑھ کر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کو متنبہ کیا کہ وہ معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ذمے دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں۔ ہمارے تمام اداروں کو اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے تبصرہ کرنا چاہیے۔ کوئی دشمن ہی پاکستانی معیشت کے خلاف بات کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اور آخر میں میجر جنرل آصف غفور نے ہفتے کو ایک بار پھر اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ملک کے تمام ادارے اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ ملکی معیشت غیر مستحکم ہے اور جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے۔ میں پاک فوج کا ترجمان ہوں۔ میرا کوئی بیان ذاتی نہیں ہوتا۔ ان تمام بیانات سے ایک بات تو کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے، اسی لیے وہ ایک دوسرے کی کارکردگی کو زیر بحث لاتے رہتے ہیں۔ فوج بار بار یہ وضاحت کر چکی ہے کہ اس کی جانب سے جمہوریت کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں اور اس کا مارشل لاء نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وطن عزیز کو جب بھی کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے، وہ سیاسی کرداروں کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے ادوار میں اداروں کو تباہ اور معیشت کو برباد کر کے جب بھی پاکستان کوبدترین بحران اور معاشی دیوالیہ پن کے قریب پہنچایا اور خود فوج کو دعوت دی، تب ہی اس نے آ کر اقتدار سنبھالا۔ پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ سیاسی حکومتوں کے دور میں ملکی اقتصادی تباہی کے گڑھے میں گرتا رہا اور ہر بار فوج نے آ کر اسے سنبھالا دیا۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران تو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے لوٹ کھسوٹ کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ کوئی باشعور شخص مارشل لاء کی حمایت نہیں کر سکتا لیکن کسی کو بھی اس بات میں شک نہیں کہ پاکستان میں سیاست صرف کرپشن میں جھنڈے گاڑنے کے لیے کی جاتی ہے اور اسے ملکی خدمت کے بجائے ’’سٹیٹس سمبل‘‘ بنا کر اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں پر رعب گانٹھنے اور ناجائز مراعات کے حصول کے لیے ’’پاور پالیٹکس‘‘ کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ’’جمہوریت‘‘ مروجہ معنوں میں دھونس دھاندلی سے برسر اقتدار آ کر اپنی سماجی حیثیت کو مزید نمایاں کرنے کا نام ہے۔ ملکی خدمت جیسے الفاظ بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں جس ملک کا وزیر خزانہ اسے لوٹنے پر تلا ہو جس نے اپنی دولت میں راتوں رات ہزاروں فی صد اضافہ کر لیا ہو اور فرد جرم عائد ہونے پر ہی جس کو قطعاً کسی شرمندگی کا احساس نہ ہو اس کے منہ سے جمہوریت کی بات بہت عجیب لگتی ہے۔ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور مجبوریوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر جو بے چارے عوام انہیں ووٹ دیتے ہیں ان کا ضمیر ہی انہیں ضرور ملامت کرتا ہو گا لیکن وہ بے چارے کیا کریں؟ اور آپشن کیا ہے ان کے پاس؟ اس بے رحم معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے انہیں بڑے گھٹیا کمپرومائز کرنا پڑتے ہیں۔ 40لاکھ جانوں کی قربانی کے حاصل اس مملکت خدا داد پاکستان میں رہنے والے 85فیصد عوام کو ان جمہوریت کے پاٹے خانوں نے زندہ درگور کر دیا ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔

image

بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح دنیا بھر کی ماڈرن مسلم ریاستوں کی تاریخ میں ایک عہد ساز شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں کچھ سیاسی و ثقافتی دوغلے اور میڈیا میں اُن کے پروردہ مخصوص مفادات کے حامل چند نام نہاد دانشور موقع ملنے پر ڈِس انفارمیشن کے مختلف پہلؤوں سے قائد کی ذات کو بھی ہرزہ سرائی کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے ہیں۔ چاہے ایسا کچھ ازراہ تفنّن ہی کیوں نہ کیا جا رہا ہو یا پھر مخصوص بیرونی سیاسی مفادات کے تحت قائداعظمکی امانت، دیانت اور بے لوث امامت کی فکر کے حوالے سے کرپشن، بدعنوانی اور اقربا پروری پر اُن کے افکار کو متنازع بنانے کیلئے کیا جا رہا ہو۔ بہرحال ٹویٹر پر قائد کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم ناقابل فہم ہے۔ امریکا میں نائن الیون کے بعد جنوبی ایشیا میں بھارت اور مغربی طاقتوں کے مخصوص سامراجی مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہونے کے سبب ایٹمی پاکستان کی فکر اسلامی، دو قومی نظریے اور پاکستان فوج کو تواتر سے ڈِس انفارمیشن کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکا اور سری لنکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی جنہیں سابق صدر زرداری اور سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کی حمایت حاصل رہی ہے پاکستان اور قائداعظم کے خلاف ڈِس انفارمیشن پھیلانے کیلئے فرنٹ لائن پر کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آجکل امریکی تھنک ٹینکس اور بھارتی لابی سے مل کر پاکستان میں اداروں کے مابین تصادم کی فضا کو اُبھارنے پر کام کر رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاناما پیپرز کرپشن کیس کے سامنے آنے پر سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے پر حسین حقانی اور کچھ متنازع دانشور بھی بانیِ پاکستان کے خلاف ٹویٹر کے محاذ پر متحرک ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں عمر چیمہ، آمر غوری اور مریم نواز وغیرہ کے نام سے یہ ٹویٹ سوشل میڈیا پر نظر آ رہے ہیں جہاں ری ٹویٹ کے حربے سے قائداعظم کی شخصیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ٹویٹر اکاؤنٹ جعلی ہیں تو اِس کی شکایت رجسٹر کرائی جانی چاہیے اور اگر یہ تفنن طبع کیلئے ہیں تب بھی یہ مہم جوئی قابل مذمت ہے کہ بانیِ پاکستان کی شخصیت سے متعلق حقائق کو توڑ مڑور کر پیش کرنا ہرزہ سرائی کے مترادف ہے۔
ٹویٹر پر قائداعظم کے خلاف ہرزہ سرائی پر مبنی چند ٹویٹ جو گزشتہ چند دنوں میں نظر سے گزرے انتہائی قابل مذمت ہیں۔ ایک عہد ساز عظیم شخصیت کو آج کے کرپشن سے اَٹے نواز شریف اور زرداری جیسے چہروں کی تقابلی فہرست میں شامل کرنا پاکستان کی بنیاد پر
 حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ بانیِ پاکستان کے حوالے سے تفنن طبع کیلئے لکھی گئی تحریریں بھی نوجونوں کے ذہنوں میں غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ (1) یہ کہنا بدترین خیانتِ الفاظ ہے کہ 14 اگست 1947 کو سٹاف کالج کوئٹہ میں مسلح افواج سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے کہا تھا ’’ Do not forget that the armed forces are the servant of the people and you do not make national policy; it is we, the civilian, who decide these issues and it is your duty to carry out these tasks with which you are entrusted‘‘۔ حقیقت یہی ہے کہ 14 اگست کو ایسی کوئی تقریب سٹاف کالج کوئٹہ میں نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ قائداعظمکے الفاظ ہیں۔یہ الفاظ تفنن طبع کیلئے ہی بنائے گئے ہیں تب بھی نوجوانوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں کیونکہ وہ اِس طرح سے لکھے گئے اصل اور نقل کے فرق کو محسوس نہیں کر سکتے۔ البتہ قائداعظم نے 21 فروری 1948ء میں طیارہ شکن توپخانے کے افسران اور جوانوں سے ملیر کینٹ کراچی میں خطاب کرتے ہوئے افواج پاکستان کو یہ ذمے داری ضرور سونپی تھی ’’آپ نے دنیا کو فسطائیت (فاشزم) سے نجات دلانے اور مغربی جمہوریت کو محفوظ کرنے کی خاطر دور دراز میدانوں میں جنگ کی ہے۔ اب آپ کو اپنے وطن میں اسلامی جمہوریت، معاشرتی عدل اور انسانی مساوات کے تحفظ کیلئے سینہ سپر ہونا پڑیگا۔ آپ کو ہر لمحہ چوکس رہنا ہو گا کیونکہ آرام کا وقت ابھی نہیں آیا۔ یقین، نظم و ضبط اور فرض کی بے 
لوث ادائیگی سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو آپ حاصل نہ کر سکیں‘‘۔ دوسری بات جو ایک اور ٹویٹر میں سامنے آئی، قائداعظم کی ذاتی زندگی کے بارے میں انتہائی بے ہودہ انداز میں کہی گئی ہے۔ یہ کہ (2)  جناح نے دولت مند غیر مسلم پارسی خاتون کی دولت سمیٹنے کیلئے شادی رچائی تھی؟ بظاہر یہ الزام قائداعظم نااہل وزیراعظم کی حمایت میں ایک مخالف سیاسی جماعت کے رہنما کیلئے تقابلی طور پر کہی جا رہی ہے لیکن افسوسناک بات ہے کہ اِس قسم کی بیہودہ حرکت کیلئے ٹارگٹ بانی پاکستان کی ذات کو بنایا گیا ہے؟ یہ بے حکمت دانشور شاید نہیں جانتے کہ اِس پارسی خاتون ریتو بائی نے اپنے والد کی دولت کو خیر باد کہہ کر 1918 میں جامع مسجد ممبئی میں محمد علی جناح کیساتھ شادی کی تھی اور اُن کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔
اندریں حالات ، بانیِ پاکستان قائداعظم جیسی عظیم شخصیت کی حرمت کو قائم رکھنے کیلئے ریاست کو اِن ثقافتی دوغلوں کی بے حکمتی اور بیہودہ مہم جوئی کا نوٹس لینا چاہیے۔ قائداعظم کا مقام تاریخ میں طے ہوچکا ہے اور سماجی میڈیا چاہے وہ ٹویٹر ہی کیوں نہ ہو پر بیہودگی اِسے تبدیل نہیں کر سکتی۔ قائداعظمؒ دنیا بھر میں غیر معمولی شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ برطانوی پروفیسر سٹینلے والپرٹ  ’’جناح آف پاکستان‘‘ میں قائداعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے’’ ہم صرف زمانہ جدید کی تاریخ کا سرسری جائزہ ہی کیوں نہ لیںتو ہمیں ایسے اولوالعزم انسانوں کی طویل فہرست ملتی ہے جن کے عظم الشان کارناموں سے اقوام عالم کی کہانی روشن ہے۔ تاہم ایسے انسانوں کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جنہوں نے واقعات عالم کا رُخ موڑ دیا، پھر ایسی ہستیاں تو بہت تھوڑی ہیں جنہوں نے عزم بالجزم سے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اگر ایک قدم آگے بڑھا کر ایسے افراد کی جستجو کریں جنہوں نے اپنی مضبوط قوت ارادی اور اٹل فیصلے کے بل پر ایک قومی ریاست قائم کرکے دنیا سے اپنی قیادت کا لوہا منوایا تو ہمیں ایک صرف ایک نام ملتا ہے۔ یہ اعزاز صرف بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے حصہ میں آیا جنہوں نے بیک وقت یہ تینوں کارنامے انجام دیکرتاریخ میں منفرد و یکتا مقام حاصل کیا‘‘۔ اِسی طرح سابق برطانوی وزیراعظم لارڈ ریمزے جن کا جھکائو اکھنڈ بھارت کے حوالے سے
 ہندوئوں کی جانب ہونے کے باعث جناح نے ایک تقریب میں ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا قائداعظم کی وفات پر کہا کہ جناح کو کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا تھاکیونکہ لالچ اور خوف کے الفاظ اُن کی لغت میں نہیں تھے۔ تقسیم ہند سے قبل کانگریسی لیڈر مسز سروجنی نائیڈو ممبئی میں کانگریسی سیاست دانوں ، دانشوروں اور ادبی شخصیتوں کی ایک مجلس میں کانگریسی مسلم لیڈر کی جانب سے جناح کو انگریزوں کا زر خرید کہنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیج پر تشریف لائیں اور کہا بھائی آپ نے کیا کہا کہ جناح انگریزوں کا زر خرید ہے ؟ ایسا بالکل نہیں۔ تم بِک سکتے ہو ، میں بِک سکتی ہوں ، گاندھی جی اور جواہر لال نہرو کا بھی شاید سودا ہو سکتا ہے مگر جناح کو خریدا نہیں جا سکتا۔ سر فرانسس موڈی سابق انگریز گورنر پنجاب نے کہا کہ جناح کا مقابلہ محض ہندوئوں کی دولت اور قابلیت سے ہی نہیں تھا بلکہ تمام انگریز حکام اور برطانیہ کے اکثر سیاست دان بھی اُن کے مخالف تھے لیکن اُنہوں نے اپنے مؤقف کو تبدیل نہیں کیا اور پاکستان حاصل کرلیا۔ چنانچہ موجودہ حکومت کو نریندر مودی اور سابق نااہل وزیراعظم کی دوستی کے پس منظر اور پیش منظر میں بانی پاکستان کی بے مثال سیاسی فراست، تدبر اور بے لوث عظیم خدمات کے پیش نظر اُن کی ذات گرامی کو ٹارگٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اب وہ تاریخ کا حصہ ہیں اور تاریخ میں اُن کے مقام کو کوئی بھی ثقافتی دوغلہ دانشور اپنی بے حکمت تحریروں سے کم نہیں کر سکتا ۔ بقول ممتاز عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی ’’ہندوستان نے اورنگ زیب عالمگیر کے بعد اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس نے مسلمانان ہند کی بربادی اور مایوسی کو فتح میں بدل دیا اور جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی عظیم ریاست قائم کردی‘‘۔
 

image

شیخ سعدی کا قول ہے کہ غم نداری بزنجز۔ اگر تجھے کوئی غم نہیں تو ایک بکری خرید لے، پھر دیکھ تیرا کیا حال ہوتا ہے۔ ہر وقت بکری کی فکر میں ڈوبا رہے گا۔ وہ رسی تڑا گئی۔ ارے لینا میری بیاض کے ورق کھا رہی ہے۔ ارے دیکھنا دانہ نہیں کھاتی۔
 ہم پاکستانیوں نے بھی جمہوریت نام کا ایک غم پال رکھا ہے۔ اس جمہوریت کی فکر ہمیں دن رات ہلکان کیے جا رہی ہے۔ اس جمہوریت کے غم نے ہم سے ہمارے دن کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیا ہے۔ اس جمہوریت کی فکر ہمیں کچھ ایسی دامن گیر ہوئی ہے کہ ہمارے رگ وپے میں بے چینی متواتر ہلکورے لیتی رہتی ہے۔ اس جمہوریت کی تعریف میں ہم سب رطب اللسان رہتے ہیں اور دن رات اس کی پائیداری اور استحکام کے لئے دعا گو رہتے ہیں کہ ’’کہیں ٹھیس لگ نہ جائے ان آبگینوں کو‘‘۔ اس جمہوریت کی طوالت عمری کے لئے اس کے علمبردار تو خیر سے کڑھتے ہی رہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاسبان ملت اور نگہبان ملک بھی اس کے استحکام کے لیے بار بار یقین دہانیاں کراتے پھرتے ہیں کہ بخدا ہم سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ 
میاں نواز شریف جو چند مہینے پہلے تک اس جمہوریت کے بل بوتے پر ملک میں سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ اختیار و اقتدار ان کے سامنے ہر وقت باندھے کھڑا رہتا تھا۔ تمام قومی ادارے باندی کی طرح حکم بجا لانے کے لئے مستعد و متحرک رہتے تھے وہ ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں معتوب ٹھہرے اور وزارت عظمیٰ کی نیلم پری کو کھو بیٹھے۔ یہ صاحب پھر بھی جمہوریت کا دم بھرنے کے لئے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ ان کی تان اب اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ جموریت ہی اس ملک کا مقدر ہے اور اس کے بغیر خاکم بدہن ملک کہیں اکہتر ایسے سانحے کا شکار نہ ہو جائے۔ میاں صاحب کا جمہوریت کے لئے یوں بے کل رہنا قابل فہم ٹھہرتا ہے کیونکہ اسی جمہوریت نے انہیں تین بار اس ملک کی وزار ت عظمیٰ سے سرفراز کیا۔ اب یہ اقتدار میں جمہوری قدروں کی کتنی پاسداری کر پائے یہ ایک قطعی طور پر الگ بحث ہے۔
 عمران خان نامی ایک شخص نے کھیل کے میدانوں میں توانائیاں خرچ کرنے کے بعد جب سیاست کی نگری میں قدم رنجہ فرمایا تو وہ ایک نئی توانائی اور جذبے کے ساتھ جمہوریت کے کاز کو سربلند رکھنے کے لئے نعرہ زن ہوئے۔ یہ صاحب مغربی جمہوریت کے ماڈل سے بہت متاثر ہیں اور گوروں کے دیس میں پنپنے والی جمہوری قدروں کو اس ملک میں نافذ کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ان صاحب کا جمہوری کردار کتنا معتبر ہے اس بحث میں پڑے بغیر ان کی یہ خدمت کیا کم ہے کہ انہیں بھی جمہوریت کا غم دامن گیر ہے اور اس نے ان کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون غارت کر رکھا ہے۔
ایک صاحب جو آصف زرداری کے نام سے پکارے جاتے ہیں انہوں نے تو جمہوریت کا روگ کچھ زیادہ ہی پال لیا ہے۔ اپنے حامیوں کے نزدیک مرد حر اور مخالفین کے نظر میں مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے پہچان رکھنے والے یہ صاحب جمہوریت کے بارے میں جب گل افشانیاں کرتے ہیں تو انسان عش عش کر اٹھے۔ یہ صاحب بھٹو نامی سیاسی ورثے پر کاربند ہونے کا دعویٰ کر کے جمہوریت کی طویل العمری اور دوام کے لئے کچھ ایسے سرگرم ہیں کہ ان دیکھ کر بندہ ان کی معصومیت پر فریفتہ ہو جائے۔ ان کے بقول جمہوریت ایک بہترین انتقام ہے لیکن ابھی تک یہ صراحت سے نہیں بتا سکے کہ اس کے ذریعے کس سے انتقام لیا جائے۔
ایک صاحب مولانا فضل الرحمان بھی سرگرم عمل ہیں۔ ان صاحب کی جمہوریت سے کٹمنٹ انمٹ ہے اور اسی واسطے یہ ہر حکومت کا حصہ بن کر جمہوریت کو استحکام و مضبوطی سے ہمکنار کرتے رہتے ہیں۔ اے این پی کے اسفند یار ولی خان ہوں یا ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار سب جمہوریت کے غم میں دبلے ہو رہے ہیں۔ اب تو خیر سے ایسے باشندگان ملک بھی جمہوریت کے لئے سرگرم ہو چکے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک اسے بے نقط سناتے تھے کہ یہ کافروں کا نظام حکومت کیونکر ایک پاک سرزمین پر نافذ العمل کیا جائے۔ اب یہ عناصر بھی اپنی پرانے مؤقف سے دستبردار ہو کر جمہوریت کے غم میں گھلتے پھر رہے ہیں۔
 جمہوریت کا غم اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے کہ اس ملک کا طاقتور ترین عسکری ادارہ بھی اس سے عزم کا اعادہ کر چکا ہے۔ ابھی ان دنوں جب جمہوریت پر منڈلاتے سیاہ بادل گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کچھ منچلوں نے افواج کی طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا ہے تو سپہ سالار صاحب سے لے کر فوجی ترجمان سب نے جمہوریت کے ساتھ ملک کے مستقبل کو نتھی کیا اور اسے کسی بھی نوع کے خطرے پر خط تنسیخ پھیر دیا ہے۔ یہ ایک قطعی طور پر الگ موضوع ہے کہ افواج پاکستان کے کچھ خود ساختہ ترجمانوں کی جانب سے انہیں کھلم کھلا دعوت دی جا رہی ہے کہ جناب والا! آئیں اور اس جمہوریت کا تختہ گول کر کے اقتدار سنبھال لیں تاہم افواج نے جمہوریت کے خلاف کسی بھی سازش کا حصہ بننے سے کھلے بندوں انکار کر رکھا ہے۔ عدلیہ نام کا ادارہ بھی جمہوریت کی زلف کا اسیر ہے اور اس کی زلفیں سنوارنے کے لئے ہمہ وقت فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ اگرچہ چند بد خواہ کہتے ہیں کہ عدلیہ جمہوریت کو کمزور کرنے میں مصروف عمل ہے لیکن معزز جج صاحبان اس نوع کے تمام الزامات کو قطعی طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ 
جب ملک میں جمہوریت کے بہی خواہ اتنے ادارے اور شخصیات ہوں تو پھر اسے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس صورت حال میں جمہوریت کو چھلانگیں مارتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ اسے اپنا سفر بلا تعطل اور بلا خوف و خطر آگے کی طرف برقرار رکھنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اتنے سارے ریاستی شراکت داروں، حکومتی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عناصر کی جانب سے جمہوریت کی پائیداری اور مضبوطی کی فکر میں گھلنے کے باوجود جمہوریت کا آشیانہ لرزتا رہتا ہے۔ اس کے زمین بوس ہونے کے بارے میں قیاس آرائیوں اور افواہوں کا لامتناہی سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ایک ذرا سی آہٹ پر جمہوریت کا کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔ اب یہ کونسی نادیدہ قوتیں ہیں جو اتنے سارے بہی خواہوں اور غم گساروں کی موجودگی کے باوجود عفیفہ جمہوریت کی عزت عزت تار تار کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ کہیں خدانخواستہ جمہوریت کی فکر میں گھلنے والوں کی آستینوں میں بت تو نہیں جن کے خوف سے جمہوریت لرزہ اندام ہے۔
 

image