17 جولائی 2018
تازہ ترین
کا لم

مغربی دنیا میں وقتاً فوقتاً ہونے والی مسلمانوں کے بارے میں قانون سازی اکثر و بیشتر مسلمان اقلیتی آبادیوں کے لیے تشویش کا ہی باعث بنتی رہی ہے۔ مگر حال ہی میں فرانس کی طرف سے مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی دینے کا اعلان تازہ ہوا کا ایسا جھونکا ہے کہ اگر واقعی فرانس نے اس پر عمل کیا تو آگے چل کر یہ ایک صحت مند روایت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی صدر ایما نیویل میکرون نے مغربی پیرس میں فرسائی کے مقام پر پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے مسلمانوں کے لیے ملک میں مذہبی آزادی کی قانون سازی کریں گے، کیونکہ اسلام اور جمہوریہ فرانس کے درمیان ناخوشگواری اور کسی پیچیدگی کا کوئی عنصر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کی حکومت مسلمانوں کو اپنے ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگیاں بسر کرنے کے لیے مزید سہولیات فراہم کریں گے تا کہ وہ اپنے مذہبی امور بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کر سکیں۔ صدر عمانویل میکرون نے فرانسیسی معاشرے میں اسلام کے بارے میں پائی جانے والی سخت گیر سوچ پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچ ہماری ریاستی قوانین کو مذہبی آزادی کے متضاد قانون سازی کی طرف نہیں لے جا سکتی۔ کیونکہ لوگوں کو ہر طرح کی سماجی اور مذہبی آزادی فراہم کرنا فرانس کی شناخت ہے اور ملک کو کسی خاص مذہبی طبقے کی علامت بنانا انسانی اور مذہبی آزادی کے منافی ہو گا۔ اس وقت فرانس میں مسلمانوں کی تعداد 60 لاکھ سے زائد اور مساجد کی تعداد 2500 کے قریب ہے۔
اس سے پہلے یورپ سے مسلمانوں کے بارے میں امتیازی قوانین کی اطلاعات خصوصاً جو مسلمانوں کے شعائر سے متعلق ہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تکلیف کا باعث رہی ہیں۔ پردہ، مساجد، اذان ان قوانین کا خصوصی ہدف رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جرمنی جیسے ملک میں مسلمان پناہ گزینوں کی تبدیلی مذہب کو مہم کے طور پر چلایا گیا۔ جیسا کہ جنوب مغربی جرمنی میں ایک کیتھولک عیسائی پادری فیلکس گولڈنگر نے اپنے کلیسا میں پناہ گزینوں کے کئی گروپوں کی طرف سے بپتسمہ لینے کی درخواست کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ مسلمان اپنے آبائی مذہب کا جائزہ لینے کے بعد عیسائیت قبول کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
جون 2017ء میں یورپی ملک آسٹریا میں خواتین کے نقاب کرنے اور ملک میں قرآن حکیم کے نسخوں کی تقسیم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وین ڈیربیلن نے نقاب پر پابندی اور انتہاپسندی کے لٹریچر پر پابندی لگانے کے نام پر قرآن حکیم کے نسخوں کی تقسیم کے قانون پر دستخط کیے تھے جو یکم اکتوبر 2017ء کو نافذ العمل ہوا۔ اس قانون کے مطابق چہرے کا نقاب کرنے والی خواتین کے خلاف 150 یورو کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 
صدر فرانس کے موجودہ بیان کو بھی ان کے فروری کے ایک انٹرویو کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس ساری تاریخ کا تعین کرنا چاہتے ہیں جو فرانس میں اسلام کے منظم ہونے سے متعلق ہے۔ دراصل یہ وہ ایجنڈا ہے جس میں میکرون سے پہلی حکومتیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ 1980ء کے بعد سے آنے والی حکومتیں یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ وہ اسلام کی ایسی صورت کی تشکیل کریں جو فرانس کے لیے قابل قبول ہو۔ اسلام کی اس مطلوبہ صورت سے فرانسیسی حکومت دو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ کہ فرانس کی مسلم اقلیت کو مقامی آبادی سے ہم آہنگ کیا جا سکتے اور فرانسیسی معاشرے کو انتہاپسندانہ تعبیر سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کا ایک منصوبہ یہ بھی ہے کہ فرانس میں اسلام کی وہ صورت اور تصور متعارف کرایا جائے جو فرانس کی اپنی اقدار یعنی سیکولرزم سے ہم آہنگ ہو۔ مگر ان سب کوششوں کو فرانس کے مسلمانوں نے اسلام اور فرانس کے فروغ کے بجائے اسلام کے فرانس کے فروغ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ 
2015ء میں فرانس کے صدر فرانسیس ہالینڈ نے کچھ فرانسیسی اماموں کو رباط کے ایک ادارے میں تربیت کے لیے بھجوایا تھا۔ مگر یہ سارے اقدامات عوام میں اعتماد اور جواز کے حوالے سے سوالیہ نشان کا شکار ہیں۔
فرانس کے حکومت کے اسلام کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کا واحد مقصد صرف انتہا پسندانہ رجحانات کا قلع قمع کرنا ہے نہ کہ فرانس کے مسلم عوام کی خاطر بہبودی اقدامات۔ فرانس کے اہل اختیار و اہل دانش یہی زاویہ نگاہ رکھتے ہیں کہ جیسا کہ فلورنس میں یورپین یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر اوراسلامی امور کے دانشور Olivier Roy نے کہا ہے کہ فرانس کا اسلام معتدل 
اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ درست مگر عام فرانسسی مسلمان کایہ سوال ہے کہ پھر ایک معتدل مسلمان کے لیے اسلام کا مطلب کیا ہے؟ اس وقت فرانس میں 6 ملین یعنی کل فرانسیسی آبادی کا 8 فیصد مسلمان ہیں۔ اورحکومت کے لیےمسئلہ ان مسلمانوں کی قومی شناخت یعنی 1905ء کے طے کردہ قانونی اصول ،چرچ اور ریاست الگ الگ ہیں اور ریاست مذہب کے معاملے میں مکمل طور پر غیر جانبدار ہے، کے مطابق شناخت طے کرنا ہے۔ 1970ء کے دوران فرانسیسی کالونیوں خصوصاً شمالی افریقا سے فرانس میں ملازمتوں کی تلاش میں آنے والے مسلمانوں کے مستقل طور پر یہاں قیام پذیر ہونے کے بعد حکومت بطور خاص تشویش میں ہے۔
حکومت کے اقدامات فرانسیسی مسلمانوں کے لیے اطمینان کا باعث نہیں رہے۔ کیونکہ ایک طرف تو حکومت اس اصول، پالیسی اور اعلان کے باوجود کہ ریاست کسی بھی طرح کے مذہبی معاملات یا امور میں مداخلت سے باز رہے گی، حکومت نے فرانسیس مسلمانوں کے حوالے سے ’’مذہبی اصلاح‘‘ کا منصوبہ شروع کیا تو دوسری طرف یہ منصوبہ قابل اعتراض اقدامات کا حامل بھی ہے۔
فرانسیسی حکومت میں دوسرا نقطہ نظر رکھنے والے اس سارے منصوبے کو فرانس کی سلامتی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ 1997 سے 2014 تک فرانس کی وزارت داخلہ میں اسلام کے امور کے ماہر Bernard Godard کے مطابق اہل فرانس کے لیے فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کے معاملات کی نگرانی اور انہیں کسی ضابطے کا پابند کرنا فرانس کی سلامتی اور تحفظ کا معاملہ ہے۔ اسی لیے سابقہ حکومتوں نے مسلم اماموں کی تربیت کےمنصوبے شروع کیے۔ جن کا مقصد فرانسیسی مسلمانوں کے لیے “made in France” امام تیار کرنا ہے۔
سابق صدر ہالینڈ کے وزیر اعظم Manuel Valls نے اپنے دور میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کے بعد سکیورٹی کی خاطر کئی طرح کی پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں جن میں حجاب پر پابندی بھی شامل تھی۔ وزیر اعظم کے ایجنڈے سے اتفاق رکھنے والے ایک سکالر Gilles Kepel نے، جو ایک نمایاں فکری فورم کے رکن بھی ہیں، اس حوالے سے تحقیق کی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 43 فیصد عوام یہ سمجھتے ہیں کہ فرانس میں اسلام کی اداراتی تنظیم جو سیاسی طور پر قابل قبول ہو اور خود مسلمان بھی اسے اپنے خلاف نہ سمجھیں خاصی مشکل ہے۔ الغرض شک وشبے کی دھند فرانس میں اسلام کے بارے میں حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ تقریباً آج بھی وہی صورت حال نظر آتی ہے کہ جب علامہ اقبال کو پیرس میں ایک مسجد کی تعمیر کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے ایک نظم لکھی تھی جو اس تمام ذہنیت کی عکاس ہے جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے:
مری نگاہ کمالِ ہُنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرَمِ مغربی ہے بیگانہ
حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے
تنِ حرم میں چُھپا دی ہے رُوحِ بُت خانہ
یہ بُت کدہ اُنہی غارت گروں کی ہے تعمیر
دمشق ہاتھ سے جن کے ہُوا ہے ویرانہ

image

بڑے بوجھل دل سے یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ سراج رئیسانی اور ہارون بلور دونوں فرزند پاکستان تھے۔ دونوں نے ہماری خصوصاً ’’پنجابی توقعات‘‘ کے برعکس برملا پاکستان، اس کی فوج اور سالمیت کے لیے جان سے گزر جانے کا عندیہ دیا۔ اس عہد کو وقتاً فوقتاً دوہرایا خصوصاً سراج رئیسانی نے اپنے کھل کر متعدد مرتبہ غیر ملکی مداخلت کی نشاندہی کی بی ایل ایف کے ساتھ حالت جنگ میں مختصر زندگی گزاری ان کے ایک صاحبزادے والد سے پہلے غالباً 2015ء کے دھماکے میں شہید ہوئے، لیکن بہادر بلوچ سردار نے کبھی اپنی روایات سے سمجھوتا نہیں کیا۔ اس نے کبھی پسپائی اختیار نہیں کی اپنے معصوم بیٹے کی قربانی سے بھی اس کا عزم متزلزل نہیں ہوا۔ وہ اپنے دوسرے معصوم بیٹے کے ساتھ محاذ پر ڈٹا رہا۔ سراج رئیسانی وہ شیر دل بلوچ تھا جس نے کھل کر بھارت کو للکارا کیونکہ ہمارے افلاطونی لبرل دہشت گردوں کے برعکس جو بلوچستان کی بدامنی کو بھی فوج کے کھاتے میں ڈال کر اپنا حق نمک ادا کرنے اور تنخواہ میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے غیر ملکی آقائوں سے مزید ’’بونس‘‘ کا تقاضا بھی کرتے رہتے ہیں اور ان کی توقعات سے بڑھ کر ملک دشمنی اور نمک حرامی کا مظاہرہ کر کے خود کو نمایاں کرتے ہیں۔
سراج رئیسانی بلوچ سردار تھا۔ اس نے بھارتی پرچم کے جوتے پہن کر اپنے دشمن کو بتایا تھا کہ تم بلوچستان کے نمک حراموں سے پاکستانی پرچم جلاتے ہو میں تمہیں تمہاری زبان میں جواب دینے کی ہمت رکھتا ہوں۔ وہ بی ایل ایف سے حکومتی اعانت کے بغیر ٹکرایا اور اس نے بلوچستان کے چپے چپے میں تب پاکستانی پرچم لہرایا جب کوئی ڈر کے مارے ایسا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ اللہ اس کے درجات بلند کرے۔ ہم من حیث القوم اس کے احسان مند ہیں ہم ان تمام شہداء کے احسان مند ہیں، جن کے نام بھی ہم نہیں جانتے۔ اس حادثے میں ایک گھر سے 15جنازے اٹھے ہیں۔ اس سے زیادہ قیمت سارا ملک بھی مل کر اس آزادی کی عطا نہیں کر سکتا جس کی قدر ہی ہمیں معلوم نہیں۔ وہ سیکڑوں شہید اور زخمی جن کا سیاست یا صوبائیت سے کچھ لینا دینا نہیں تھا دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کوئی غیرت مند قوم ہوتی تو اس روز کرپشن کے جرم میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے سزا یافتہ مجرموں کی جان کا سیاپا کرنے کے بجائے بلوچستان کے گمنام شہداء کا گریہ کرتی۔ ان کے لواحقین کا حوصلہ بنتی، قافلہ در قافلہ ان غریب ، بے کس، بے بس لیکن غیور، غیرت مند بلوچوں کے گھروں کے باہر کھڑے ہو کر ان سے اظہار یکجہتی کرتی۔ ان کے لیے اپنی اپنی بساط کے مطابق مالی امداد کا اہتمام کرتی جو ان کے بچوں کو زندہ تو نہ کر پاتی لیکن زخمیوں کی اشک شوئی ہو جاتی۔ وہ غریب بلوچ جس کے نو سال میں دو بیٹے پیدا ہوئے تھے وہی بوڑھے اور معذور والدین کا سہارا تھے۔ دونوں شہید ہو گئے ان غیرت مند غریب اور بے کس والدین کی کفالت کرتی۔ 
آزاد کشمیر اور گلگت کے وہ وزیراعظم جو لاکھوں روپے کے سرکاری خرچ پر گاڑیوں کے قافلے لے کر دشوار گزار راستوں کا سفر کرتے لاہور کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں عیاشی کر کے ’’اپنے قائد‘‘ کے سامنے نمبر بنانے آئے تھے اپنے قافلوں کا رخ بلوچستان کی طرف موڑتے۔ خصوصاً پنجاب سے غیور بلوچوں کی اشک شوئی کے لیے سیاستدانوں، علماء، سرمایہ داروں، جاگیردار، صحافیوں کے وفود وہاں جاتے تو بلوچوں کا حوصلہ بڑھتا۔ ان کا عزم جو انشاء اللہ کبھی نہیں ڈگمگائے گا مزید مضبوط ہوتا۔ وہ محسوس کرتے کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اکیلے نہیں۔ہائے ! ایسا نہیں ہوا۔ ہم اس روز بھی ’’پٹواریوں‘‘ اور ’’یوتھیوں‘‘ کی جنگ لڑتے رہے۔ لاہوریے نواز شریف کی بڑھکیں مارتے رہے (گھروں سے نہیں نکلے) عمران خان کے جلسے جلوس جاری رہے۔ مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری جیسے درد مند نے ایک دن کے سوگ کا بھی اعلان نہ کیا؟ اور تو کسی سے امید نہیں تھی۔ سب سے زیادہ ذمہ داری پنجاب پر عائد ہوتی ہے۔ آدھے ملک سے زیادہ پنجاب کی آبادی ہے۔ کیا لوگ ہیں ہم؟ ان سیاسی گماشتوں نے ہمارے احساسات ہی کو موت کی نیند سلا دیا؟ ہم سے شرف انسانیت ہی چھین لیا۔ قیمے والے نان، بریانی کی پلیٹیں، حلوہ پوری کا ناشتہ، کیا یہی ہے ہمارے ایمان اور جذبہ حب الوطنی کی قیمت؟ بڑے سستے داموں بکے ہو۔ لاہوریو! بڑی گھٹیا قیمت لگی ہے تمہاری۔ تم تو وہ تھے کہ فلسطین، مقبوضہ کشمیر، دنیا کے کسی بھی ملک میں مسلمانوں پر آنچ آتی تو تڑپ اٹھتے تھے۔ مساجد میں خصوصی نفلی نمازیں اور دعائیں ہوتی تھیں۔ اظہار یکجہتی کے لیے جلوس نکلا کرتے تھے۔ کہاں گیا تمہارا وہ جذبہ، تمہاری قومی غیرت کا معیار اب کیا پیشہ ور سیاستدان رہ گئے ہیں؟ کتنے مردہ ہو گئے ہو تم؟
اور ہمارا الیکٹرانک میڈیا! خدا کی پناہ۔ ہمارے بیشتر چینلوں کے مالکان ارب پتی ہیں۔ چینل تو ایک بہانہ ہے۔ ان کے درجنوں اور کاروبار ہیں۔ جن کی پروٹیکشن کے لیے چینلز بنائے گئے ہیں (اب تو خیر سے اخبارات بھی نکل آئے ہیں) کروڑوں روپے یہ لوگ روزانہ کماتے ہیں لیکن قرآن کی سورۃ ’’التکاثر‘‘ کی تعبیر بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی اشتہارات اور ریٹنگ کے چکر میں سارا میڈیا صبح سے اگلی صبح تک میاں صاحب کی لندن سے اڈیالہ جیل تک کی کہانیاں سناتا رہا۔ سنسنی خیز خبریں، انکشافات، پس پردہ سازشوں، اندرون خانہ کہانیاں سنا کر خود کو صحافتی افلاطون ثابت کرتے رہے۔ کسی کو سنجیدگی سے اس سانحے کی تفصیلات بتانے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ نواز شریف کو نیند نہیں آئی، اطلس و کمخواب کے بجائے عام بستر پر سونا پڑا، امی جان کے جذبات ، بھائی صاحب کے ’’کمالات‘‘ غرض فیملی کے ایک ایک فرد پر ’’ٹونے والی قیامت‘‘ کا احوال سناتے رہے ابھی تک سنا رہے ہیں۔ ان غریب بلوچوں کی کہانیاں ان کی اندھی آنکھوں اور بہرے کانوں تک شاید پہنچیں ہی نہیں۔ جو ابھی تک اپنے بچوں کے جسموں کے ٹکڑے جمع کر رہے ہیں جن کے پاس عام حالات میں کھانے کے لیے روٹی نہیں ہوتی وہ اپنے زخمیوں کی ٹوٹی ٹانگوں اور بازوئوں کا علاج کہاں سے کرائیں گے؟ 
جنرل باجوہ اکیلا کس کس زخمی کی تیمار داری کرے گا، کس کس یتیم کو اپنے سینے سے چمٹا کر اس کا درد اپنے کلیجے میں سموئے گا ؟ ساڑھے تین لاکھ فوج شہروں کی حفاظت کر رہی ہے اور ساڑھے تین لاکھ سرحدوں کی۔ تعصب اور گمراہی میں اندھے ہو جانے والے پیارے پاکستانیو! وہ اس سے زیادہ اور کیا کر سکتے ہیں؟ ان کے جسم بظاہر فولادی ہوں گے لیکن اندر سے ہماری طرح گوشت پوست کے انسان ہی ہیں۔ یارو! زہر اگلتی زبانوں کو کبھی دانتوں کے نیچے بھی دبا لیا کرو!

image

صرف بیٹھا نہیں ہوں سائے میں
میں ہی دیوار کا سہارا ہوں 
(خالد علیگ)
قوم کو مبارک ہو، ان کے دکھوں اور تکالیف کے مداوے کیلئے ایک اور نیا سیاسی اتحاد پچیس جولائی کے بعد کسی بھی روز بن جائے گا۔ آصف زرداری اور شہبازشریف ایک ہی ٹرک پر سوار ہوں گے۔ آصف زرداری کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کا ’’عزم شہبازی‘‘ سیر کرنے کہیں نکل گیا ہے۔ بلاول، شہباز، اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن سب ’’ایک پیج‘‘ پر ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کی محبت نہیں، وقت کا جبر ایک دوسرے کے گلے پڑنے کے بجائے، گلے ملنے پر مجبور کر رہا ہے۔
دونوں بڑی سیاسی جماعتیں (مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی) رِنگ میں اترنے سے پہلے ہی شکست مان چکی ہیں۔ سندھ میں آصف زرداری کی گرفت مضبوط ہونے کے باوجود پتا نہیں وہ کیوں ڈرے ہوئے ہیں۔ شہبازشریف اس وقت حواس باختہ دکھائی دیتے ہیں، ان کے پائوں کئی کشتیوں میں ہیں۔ بڑے بھا…جی… نے تیزی سے اپنے کارڈ کھیلے ہیں، جس کے باعث وہ اڈیالہ پہنچ گئے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ پورا لاہور ان کیلئے ایئرپورٹ پر ہوگا۔ جو طیارے کے ویڈیو باہر آئے ہیں، ان میں نوازشریف کو بتایا جا رہا ہے کہ باہر بہت کارکن ہیں۔ یہ بات بہت مشہور ہے کہ لاہوری کسی کو کبھی راستہ نہیں بتاتے۔ لوگوں نے جگت لگائی کہ شہبازشریف کو کسی لاہوری نے غلط راستہ بتا دیا، اس لیے وہ ایئرپورٹ نہیں پہنچ سکے۔ اعتزاز احسن کے بیان ’’شہبازشریف نے بھائی کی پشت میں چھرا گھونپا ہے‘‘ نے پوری مسلم لیگ کو سیخ پا کیا ہوا ہے۔ شریف خاندان پر یہ وقت 1999ء سے زیادہ بھاری ہے۔ اس وقت ہمدردیاں تھی کہ ایک آمر نے یہ سب کچھ کیا ہے، اس بار تو گیم ہی الٹ گئی ہے۔ پوری لٹیا ڈوب چکی ہے۔ شریف خاندان کو جس نے ماضی میں سہارا دیا وہی بیچارا بعدازاں ان سے متنفر ہو گیا۔ سعودی شاہ عبداللہ سے لیکر بریگیڈیئر نیاز مرحوم تک بے وفائی کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ محمد خان جونیجو کے ساتھ بھی تو یہی کچھ ہوا تھا، ابھی حکومت نے عدت کیا، صدمہ بھی صحیح طریقے سے برداشت نہیں کیا تھا کہ نوازشریف ضیاء الحق کی کابینہ کا حصہ بن گئے تھے۔ محمد خان جونیجو دیکھتے ہی رہ گئے۔ پھر ان کا کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا کہ موصوف نے مسلم لیگ پر ہی قبضہ کر لیا۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ رو کیوں رہے ہیں، یہ تو مکافات عمل ہے، شہبازشریف قدرت کے ’’سکرپٹ‘‘ کے مطابق چل رہے ہیں۔
بس یہیں تک تیرے ہمراہ مجھے چلنا تھا
اس سے آگے جو سفر ہے، وہ سفر میرا ہے
(شہزاد احمد شہزاد)
شہبازشریف کو پتا ہے کہ ان کی ’’گیم‘‘ بچے گی تو وہ بھا جی کی مدد کرنے کے قابل ہوں گے، یہاں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ سید مشاہد حسین ’’جنگ‘‘ کے ذریعے ’’جنگ‘‘ کر رہے ہیں، سروے رپورٹس جاری کرائی جا رہی ہیں۔ اب وقت گزر گیا ہے، پولز فارغ ہو چکے ہیں، ان کی معتبریت تباہ ہو چکی ہے۔ جو طبقہ کبھی اس پر یقین کر کے سیاسی جماعتوں پر سرمایہ کاری کیا کرتا تھا، وہ خود بڑا سیانا ہو گیا ہے۔ پاکستان میں پولز کیسے بکتے اور خریدے جاتے ہیں، سب کو پتا ہے۔ اس کے روح رواں حکومتوں میں عہدے حاصل کرنے یا پھر ’’اعتماد سازی‘‘ کی اقساط وصول کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
بریگیڈیئر(ر) نیاز مرحوم سے شریف خاندان کی بے وفائیوں پر پھر کبھی لکھوںگا، اس معزز آدمی کو کیسے رسوا کیا گیا، جدہ ڈیل سے لیکر شہباز شریف کی لندن ڈیل تک اس شریف آدمی نے کیا کردار ادا کیا تھا؟ بریگیڈیئر نیازمرحوم پرویز مشرف کو بڑا آدمی گردانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے میری گارنٹی کو جب ’’ڈس آنر‘‘ ہوتے دیکھا تو صرف مسکرائے، کبھی گلہ تک نہیں کیا۔ وہ کہتے تھے شریف خاندان پر اعتبار ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
سیاست دان وہ بھی پاکستانی ہو تو اس پر اعتبار کرنا ’’پاؤں پر کلہاڑی‘‘ مارنے کے مترادف ہے۔ جتنی تیزی سے یہ پینترہ بدلتے ہیں، اتنی تیزی سے تو ایف سولہ بھی پینترہ نہیں بدلتا۔
آصف زرداری بہرحال دوسری مرتبہ (ن) لیگ سے محبت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ان کا بھی قصور نہیں ہے، وقت کاجبر ہی اس قدر شدید ہے۔ میں تو ابھی سے آنے والے دنوں کے حوالوں سے مسکراتا ہوں۔ یہ لوگ کہتے ہیں عمران خان پاگل ہے۔ اس سے ڈرے ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں وہاں پر ان کے عزیز و اقارب موجود ہیں، پھر بھی سہمے ہوئے ہیں۔ کہیں وہ اندر ہی نہ کر دے۔ بیورو کریسی کو دونوں پارٹیوں نے ’’خواجہ سرا‘‘ بنانے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا ہے۔ بظاہر  بیورو کریسی نے اپنا حلیہ ان کی خواہشات کے مطابق بدل لیا مگر اب بھی وہاں پر جان ہے، دیوانے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جو روزہ رکھا تھا اس کے کھلنے میں کم وقت رہ گیا ہے۔ ان دونوں جماعتوں سے ایک غلطی ہوئی کہ یہ بیورو کریسی کا ’’آپریشن‘‘ نہیں کرا سکے، وگرنہ اس کی جنس ہی تبدیل ہو جاتی۔ دیکھنا ہے کہ عمران خان کیا کرتا ہے۔ وہ ’’خواجہ سراؤں‘‘ سے کام لیتا ہے یا بیورو کریسی میں جو چند ’’مرد‘‘ رہ گئے ہیں ان کے ذمہ، ذمہ داریاں لگاتا ہے۔ میں عمران خان اور اس کی ٹیم کے حوالے سے زیادہ خوش فہم نہیں ہوں مگر اس کے باوجود دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کونسی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اس نے اچھا کیا کہ ایک بار پھر اعلان کر دیا ہے کہ منشور پر عمل نہ کرا سکیں تو کیا فائدہ ہے۔ کرپٹ لوگوں سے مل کر حکومت نہیں بنائیں گے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے، جعلسازی ہی جعلسازی ہے، نقلی بیانات کی پوسٹیں بن رہی ہیں۔ لوگوں کو عصبیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا ایجنڈا ہے، سوشل میڈیا اپنی اعتباریت کھو رہا ہے۔ لوگ بلا سوچے سمجھے مجھ سمیت پوسٹ کو شیئر کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ کئی تو باقاعدہ مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔
ایک ایسی ہی پوسٹ پر ہمارے دوست اعزاز سید نے کالم لکھ مارا ہے۔ کئی دنوں سے ہاتھ سے لکھی، مختلف خانوں میں بٹی پوسٹ پر سرخ قلم سے مختلف جماعتوں کی سیٹوں کی تقسیم دکھائی گئی ہے جس میں پی ٹی آئی کو 116، (ن) لیگ کو 57، پیپلزپارٹی کو 27، اسی طرح دوسری جماعتوں کو مختلف سیٹیں دے کر 270 کا ہندسہ پورا کیا گیا ہے۔ اعزاز نے بہرحال پیپلزپارٹی سے کافی رعایت کی تھی، مصنف کو بھی تحریف کا تو حق حاصل ہوتا ہے۔
الیکشن کے حوالے سے شبہات ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائے جا رہے ہیں مگر سیاسی جماعتوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ جس شاخ پربیٹھی ہیں اسی کو کاٹ رہی ہیں۔ اپنے گلے کو خود دبانے میں مصروف ہیں۔ ان کی 23 ترامیم نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، شخصیت پرستی کے پرستان نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہم بیس کروڑ لوگوں کو تو اس نظام سے کچھ ملنے والا نہیں ہے مگر… حضور… بطور خاص آپ کیلئے یہ بنا نظام جس روز نہیں رہے گا، آپ کا کیا ہوگا۔ قوم بھی سوچ سمجھ لے۔ اب وہ بھی سنجیدگی اختیار کرے، ڈنگ ٹپائو سے کام نہیں چلے گا۔
اقساط میں مرتی ہی چلی جاتی ہے یہ قوم
خالد اسے جینے کا ہنر کیوں نہیں آتا
(خالد علیگ)
 

image

صاحبو۔۔۔ الیکشن گہما گہمی میں زور بروز اضافہ ہورہا ہے، ایک دوسرے پر الزامات لگا کر آگے بڑھنے کا شوق کسی میں کم نہیں۔تینوں بڑی پارٹیاں باری باری اپنے جوش خطابت میں دوسری دونوں جماعتوں اور ان کی قیادت پر لفظی تیر اندازی میں مصروف ہیں، لیکن’’تیر‘‘کا حقیقی انتخابی نشان تو پاکستان پیپلز پارٹی کی ملکیت ہے۔ شیر بھی دھاڑیں مارتا پھر رہا ہے اور بلے باز اسے ’’بلا‘‘ بن کر ٹکرے ہوئے ہیں۔ اَب الیکشن میں وقت انتہائی کم ہے اور مقابلہ سخت، لہٰذا توڑ جوڑ کے بعد ایک دوسرے کو زیر کرنے کی تراکیب اور فارمولے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ تمام سیاسی رہنما عوامی حلقوں میں جا کر جمہوریت کے استحکام، عوامی خوشحالی اور وطن عزیز کو مستحکم کرنے کے وعدے کر رہے ہیں سیاسی اجتماعات بھی بڑے کامیاب ہیں۔ اس لیے کہ ان جلسوں کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت عوامی شرکت ہوتی ہے، بس اسی فارمولے پر سب کے جلسے کامیاب سمجھے جا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ میڈیا، ایجنسیاں اور سیاسی جماعتوں کی بیان کردہ تعداد میں خاصا فرق دکھائی دیتا ہے۔ جس جماعت کا جلسہ ہو اس کا دعویٰ لاکھوں اور مخالفین اسے ہزاروں میں قرار دیتے ہیں، جبکہ ایجنسیوں کا فارمولا کبھی حوصلہ افزائی کیلئے رعایتی اور کبھی نکیل ڈالنے کیلئے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ ایسے میں ’’میڈیا‘‘ اعداد و شمار کے ساتھ تعداد کا اظہار کر کے تمام اندازوں کو ’’گڈ مڈ‘‘ کر کے مزے لیتا ہے۔
پنجاب کی نگران حکومت نے گالی، گولی، ہُلڑ بازی اور ہوائی فائرنگ سے بچنے کیلئے صوبے میں دفعہ 144کا نفاذ کر دیا کیونکہ پہلا جمہوری شہید الیکشن 2018ء کا اعزاز فیصل آباد کا سیاسی ورکر متوالوں اور کھلاڑیوں کی معرکہ آرائی میں بن چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی سختی سے قواعد و ضوابط پر پابندی کا حکم جاری کر دیا ہے، لیکن جوں جوں الیکشن مہم میں تیزی آ رہی ہے، مختلف سیاسی جلسوں میں سر عام اسلحہ کی نمائش بآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں شیر کے شکاری تیر انداز اور بلے باز پیچھے رہ گئے۔ کے پی کے میں ایم ایم اے کے امیدوار مخالفین کے گھیرے میں پھنس کر ساتھیوں سمیت زخمی ہو گئے۔ یقیناً ہر الیکشن میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں کے پاس کوئی مناسب دلیل نہیں ہوتی وہی ایسے واقعات میں ملوث ہوتے 
ہیں۔ اگر جمہوریت کی بنیاد، رواداری اور برداشت کا مظاہرہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت کرے تو معاملات میں بہتری آ سکتی ہے۔ اس حقیقت کو عام کرنے کیلئے ہر جماعت کو لفظی اور شخصی لڑائی جھگڑوں کے بجائے مضبوط اور مربوط ایسے منشور کا سہارا لینا ہو گا جو اس قدر سادے اور عام فہم انداز میں ہو کہ ہر کسی کو سمجھ آ جائے۔ دراصل ہمارے ہاں زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں کم تعلیم اور کم مراعات یافتہ ہے لہٰذا اول تو ہماری سیاسی پارٹیاں ’’منشور‘‘ پر توجہ نہیں دیتیں اور جنہیں ’’منشور‘‘ کی اہمیت کا احساس ہے وہ سالانہ بجٹ کی طرح ’’منشور‘‘ کو بھی الفاظ کا گورکھ دھندہ بنا کر وقت گزار لیتے ہیں۔ اگر الیکشن جیت جائیں تو ’’منشور‘‘ کو بالائے طاق رکھ کر حالات کے دھارے میں الجھ کر سب کچھ بھول جاتے ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں تمام تر الیکشن ’’منشور‘‘ کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کی جمہوریت اور ہماری جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کیلئے کسی قسم کے ’’تھینک ٹینک‘‘ کا رواج نہیں جبکہ پوری دنیا ’’تھینک ٹینک‘‘ کے بغیر چلتی ہی نہیں۔ اسی لیے ہماری جمہوریت میں پارٹی قیادت کی شخصی آمریت کا ’’شیڈ‘‘ ضرور ملتا ہے۔
جمہوریت کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ لفظی جنگ کے بجائے سیاسی پارٹیاں مستقبل کا لائحہ عمل بنا کر ’’منشور‘‘ دیں تا کہ رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے کوئی ’’روڈ میپ‘‘ موجود ہو۔ ووٹرز اسے پرکھیں جس کا ’’منشور‘‘ عوامی فلاحی اور ریاست کے استحکام کی ضمانت دے لوگ اسے پسند کریں،
 لیکن اتنا اچھا ماحول ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیم کا دور دورہ ہو اور دھونس، دھاندلی، علاقائی سیاست اور برادری ازم نہ ہو۔ ہم بد قسمتی سے ان تمام خصوصیات سے محروم ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں صحیح معنوں میں جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکی۔ ویسے بھی ہماری 70 سالہ زندگی میں آمریت کا عمل دخل زیادہ رہا جنرل محمد ایوب خاں سے جنرل پرویز مشرف تک ’’جمہوریت‘‘ کو مختلف لبادے پہنائے گئے۔ جب بات نہ بنی تو جیسی تیسی ’’جمہوریت‘‘ بحال کر دی گئی اور اس جمہوریت میں بھی آمریت کو سلامی دے کر رخصت کیا گیا۔ پہلی جمہوریت کا پانچ سالہ دور مکمل ہوا تو غلط فہمی پیدا ہو گئی کہ اَب ’’جمہوریت‘‘ پٹڑی پر چل نکلے گی، لیکن اس پر بھی کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔ اس قدر اسے بُرا بھلا کہا گیا کہ الیکشن 2013ء میں ان کا بوریا بستر گول ہو گیا اور پارٹی محض ایک صوبے میں رہ گئی۔ دوسری ’’جمہوریت‘‘ آئی اور اس نے اپنا پانچ سالہ اقتدار مکمل کیا پھر بھی جو صورت حال بنی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ پہلی جمہوریت کا ایکشن ری پلے ثابت ہوا۔ اپوزیشن ’’فرینڈلی‘‘ رہی، دونوں حکومتوں کے ایک ایک وزیراعظم نا اہل ہوئے اور دونوں ادوار میں اقتدار ایسے وزرائے اعظم کو ملا جن کی ’’چابی‘‘ قیادت کے پاس تھی۔ بہرکیف دوسری ’’جمہوریت‘‘ پہلے سے زیادہ ’’کرپشن‘‘ کی ذمے دار بنی۔ ایسے میں قومی اداروں نے ’’احتساب‘‘ سے حالات میں بہتری کی ٹھانی تو نا اہل وزیراعظم اپنے رفقا کی دھواں دار تقاریر کے ساتھ اداروں پر چڑھ دوڑے۔ یہ عجیب دور رہا، اپنی حکومت میں بھی اپنا احتجاج دیکھنے کو ملا۔ ریکارڈ یافتہ وزیراعظم نے ایسا ’’بیانیہ‘‘ دیا کہ ملکی اور غیر ملکی اکابرین حیران رہ گئے، لیکن نادان دوستوں نے ’’بیانیہ‘‘ کی پذیرائی کی رٹ لگا کر انہیں جیل تک پہنچانے کا مشکل کام بآسانی کر دکھایا۔
ہمارے قول و فعل کے تضادات کم ہو جائیں تو شاید ہمارے سیاستدان ’’منشور‘‘ کو فوقیت دینے پر مجبور ہو جائیں۔ موجودہ حالات میں گفتار کے غازیوں کو اہمیت حاصل ہے، اسی لیے ’’منشور‘‘ کا تڑکا حسب ضرورت آخری وقت میں لگایا جاتا ہے۔ کھلاڑی عمران خان کو وزیراعظم کی شیر وانی پہننے کی جلدی ہے، اسی لیے انہوں نے ’’منشور‘‘ اور منصوبہ بندی کا چرچا قبل از وقت کر کے لوگوں کو کروڑ افراد کے روزگار پر تنقید کا موقع فراہم کر دیا۔ یوں ان کا منشور ہوا میں اُڑ گیا اور اَب وقت الیکشن نیا منشور پیش کرنا پڑا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنے پرانے ’’منشور‘‘ کو وقت کے تقاضوں میں ڈھال کر نئی پیکنگ میں پیش کر دیا۔ پی پی پی نے ذوالفقار علی بھٹو کے مقبول نعرے ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کو ’’بھوک مٹاؤ‘‘ کا نام دے دیا اور بجلی کی کمی کو پانی بحران کے ساتھ شامل کر دیا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے 2013ء میں ’’بجلی‘‘ کو اولیت دی تھی۔ ان کے دعوے میں لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی ہے، اس لیے نئے منشور میں ’’پانی اور ڈیمز‘‘ کو فوقیت دے دی ہے۔ باقی رہی صحت، تعلیم اور روزگار ان بنیادی نکات کو ہر کسی نے دوہرایا ہے، حالانکہ تینوں بڑی پارٹیاں اس سلسلے میں کوئی جامع پروگرام نہیں رکھتیں۔ اس لیے ہر پاکستانی کی رائے یہی ہے کہ ’’منشور‘‘ محض ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی میں پیش کیا جاتا ہے۔ اقتدار حاصل کرنے والے حکمران بنتے ہی سب کچھ بھول جاتے ہیں، بس یہی حقیقی جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
جمع تفریق
 

image

سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی پر جب لاہور کو صوبائی انتظامیہ نے مکمل طور پر سیل کردیا اور (ن) لیگی کارکنان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو پارٹی صدر شہبازشریف اس صورت حال میں بے بس و لاچار نظر آئے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’یاد رکھنا، وقت ایک سا نہیں رہتا۔‘‘ (ن) لیگ کے لیے یقینی طور پر یہ ایک کٹھن اور تکلیف دہ صورت حال تھی، شہباز شریف نے کمال معصومیت سے جو جملہ کہا کہ وقت ایک سا نہیں رہتا تو واقعتاً وقت ایک سا نہیں رہتا۔ 
آج سے 32برس پیچھے لوٹتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کی زندگی ترک کرکے پاکستان واپس آرہی ہیں۔ اُن کے طیارے نے لاہور میں لینڈ کرنا ہے۔ پاکستان میں ایک نام نہاد سی جمہوری حکومت قائم تھی جس کی سربراہی محمد خان جونیجو جیسے مرنجان مرنج فرد کررہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا اٹھ چکا تھا لیکن ضیاء الحق اپنے تمام تر اختیارات کے ساتھ قصر صدارت میں فروکش تھے۔ بے نظیر بھٹو کی آمد سے پہلے محمد خان جونیجو کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوتا ہے جس میں وفاقی وزراء اور دوسرے اعلیٰ حکام کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف بھی شرکت کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف صدر ضیاء الحق کے زیر سایہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے سے ترقی پاتے پاتے 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ کے منصب پر براجمان ہو چکے تھے۔ جونیجو صاحب نے اجلاس شروع ہونے کے بعد شرکاء سے بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی اور پیش آمد صورت حال پر رائے چاہی۔ شرکاء مختلف رائے دے چکے تو محمد خان جونیجو نے روئے سخن نواز شریف کی طرف موڑا اور استفسار کیا، میاں صاحب! آپ کی اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا رائے ہے؟ انہوں نے کمال بے نیازی سے جواب دیا، جونیجوصاحب! صورت حال سے کیا نمٹنا، لاہور میں جہاز لینڈ ہونے کے بعد بے نظیر بھٹو کو لفٹ کرلیتے ہیں۔ جونیجو صاحب نے نواز شریف کی جانب خشمگیں نگاہوں سے دیکھا اور دوسرے شرکاء سے صلاح مشورے میں مصروف ہوگئے۔ 
یہ واقعہ چوہدری شجاعت حسین کی تصنیف ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں مذکور ہے، جو کچھ عرصہ پہلے منصۂ شہود پر ابھری۔ واقعی وقت ایک سا نہیں رہتا۔ 32برسوں کے بعد وہی لاہور تھا جہاں نواز شریف کے طیارے نے لینڈ کیا اور انہیں ایئرپورٹ سے باہر آنے سے پہلے قومی احتساب بیورو کے حکام نے لفٹ کرکے اسلام آباد پہنچادیا اور بعد میں انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس سے جمہوری ذہن رکھنے والا شخص فرحاں و شاداں نہیں ہوسکتا، لیکن شاید اسے انقلاب زمانہ یا مکافات عمل کہتے ہیں کہ جو سلوک نواز شریف محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ روا رکھنا چاہتے تھے، گردش دوراں نے خود انہیں ایسے حالات کا شکار کر ڈالا۔ 
نواز شریف کی سیاست کا خمیر بھٹو دشمنی سے اٹھا تھا۔ ان کے مربی و محسن جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو اڈیالہ جیل میں پس زنداں کیا تھا، اب یہ گردش دوراں ہی ہے کہ آج میاں صاحب اسی جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اب ایک نیرنگی دوراں بھی ملاحظہ ہو کہ بھٹو کی بیٹی اور بیوی کو اسی سہالہ ریسٹ ہائوس میں بند کیا گیا تھا جس میں آج نواز شریف کی صاحبزادی اسیری کے دن گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہباز شریف نے سچ کہا کہ وقت ایک سا نہیں رہتا،  جو کچھ پنجاب کی نگراں صوبائی انتظامیہ نے نواز شریف کی آمد سے پہلے کیا، وہ شہباز شریف کی زیر سربراہی صوبائی حکومت کرتی رہی ہے۔ ماضی بعید کو چھوڑیے۔ ماضی قریب کو ہی لے لیں، سانحہ ماڈل ٹائون میں چودہ بے گناہ افراد گولیوں سے بھون دیے گئے تھے۔  اگر اس وقت کی صوبائی انتظامیہ کے بیانات ملاحظہ کیے جائیں تو ان کے مطابق نقص امن کا خطرہ تھا اور یہ چودہ افراد بھی نقص امن کے بھیڑیے نے نگل لیے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاست سے لاکھ اختلاف سہی لیکن جب وہ کارکنان کی ہلاکت کے بعد پاکستان پہنچے تو پنجاب بھر میں ایسی ہی صورت حال شہباز شریف کی 
زیر قیادت صوبائی حکومت نے پید ا کردی تھی۔ جگہ جگہ کنٹینر، ناکے اور سڑکوں پر رکاوٹیں آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔ 
آج اگر صوبائی حکومت نے ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرکے (ن) لیگ کے کارکنان کو نواز شریف کے استقبال سے روکا تو اس وقت کی شہباز حکومت نے بھی یہی ظالمانہ اقدامات کیے تھے۔ ہوسکتا ہے نواز شریف کو فیئر ٹرائل کا حق فراہم نہ کیا گیا ہو اور ان کے ساتھ کسی حد تک ناانصافی بھی ہوئی ہے لیکن کیا دونوں بھائی اپنے ماضی کے طرز حکمرانی پر بھی کچھ غور کریں گے۔ نواز شریف کو جیل میں فرصت کے لمحات میسر آئے ہیں، انہیں یقینی طور پر اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ دور اقتدار میں ان سے کون کون سے گناہ سرزد ہوئے کہ جن کا خمیازہ آج انہیں جیل یاترا کی صورت بھگتنا پڑرہا ہے۔ 
نواز شریف جمہوری نظام کے ایک اہم شراکت دار ہیں اور ان کی سزا اور قید سے کوئی بھی جمہوریت پسند خوش نہیں ہوسکتا اور یہ موقف بھی بڑی حد تک صحیح ہے کہ کیا پھانسیاں اور جیلیں فقط سیاستدانوں کا ہی مقدر بنتی رہیں گی؟ اور دوسرے مقتدر طبقات کے سامنے قانون مفلوج بنارہے گا۔ تاہم نواز شریف کو قدرت نے ایک بار پھر موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے ماضی پر پشیمان ہوکر اس قوم سے کھلے عام ان گناہوں کی معافی مانگیں جو وہ جمہوریت کے خلاف سازشوں کی صورت میں کرتے رہے ہیں۔ جدہ کے سرور پیلس میں خدا نے میاں صاحب کو ایک موقع دیا تھا کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے جمہوری انداز فکر اپنائیں گے۔ یہ سارے دعوے اس وقت ریت کے گھروندوں کی طرح وقت کی تیز ہوائوں نے اڑا کر رکھ دیے تھے، جب وہ ایک بار پھر جمہوریت کے خلاف سازشوں میں شریک جرم ٹھہرے۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، آج نواز شریف جیل میں ہیں، کل با ہر ہوں گے، ہوسکتا ہے وہ پھر اقتدار کو اپنی مٹھی میں لے لیں لیکن قدرت نے آج انہیں موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کم ازکم اپنے آپ کو خود احتسابی کے عمل سے گزار کر ان گناہوں کا ہی اعتراف کرلیں جو ان سے ماضی میں سرزد ہوئے تھے تو ہمیں بھی یقین آئے اور قوم کو بھی کہ آج سے نواز شریف ایک بدلا ہوا فرد ہے۔
قلم کہانی
 

image

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی انتہا پسندی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کو ہٹانا ماضی میں بھی لازم تھا اور آج بھی ضروری ہے، اس لیے اسے قربانیوں کی زد میں رکھا ہوا ہے، خصوصاً بلور خاندان کا نام ترقی پسند اور روشن خیال تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ حالیہ سانحہ کی ذمہ داری بھی تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے جو ہمارے دہشت گردی کیخلاف دعووں اور نعروں، کامیابی اور کامرانیوں کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آخر یہ ٹی ٹی پی کون ہے اور اس کا وجود کہاں ہے؟؟ یہ محض ہارون بلور کی نہیں، 21 افراد کی شہادت اور ستر سے زائد بے گناہ انسانوں کے زخموں کا بھی المیہ ہے۔ ہم تو گزشتہ دنوں سے اپنے شعور و لا شعور، فہم و فراست اور سیاسی بصیرت سے صبح و شام ایک ہی سوال کرتے چلے آ رہے ہیں، ہمیں اس کا کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا۔
آخر ترقی پسند اور روشن خیال جماعتیں ہی اس دہشت گردی کی زد میں کیوں آتی ہیں؟ ایسی جماعتوں کو انتخابی مہم کے دوران میں نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ اس کا فائدہ کس کو ہوتا ہے اور یہ دھماکے، یہ خود کش حملے کس کے راستے ہموار کرتے ہیں؟؟ ہم مخدوم جاوید ہاشمی کی اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے، ان کا دعویٰ ہے کہ اے این پی کو میدان کھلا چھوڑنے کا پیغام دیا گیا ہے لیکن پھر سوال تو وہی ہے کہ اس کے بالمقابل میدان میں کون ہے اور وہ کے پی کے میں کون ہے، جس کو اے این پی سے خطرہ ہے یا وہ کس کیلئے چیلنج ہے۔ کس کیلئے اسے سامنے سے ہٹ جانے کا یہ واضح پیغام دیا گیا ہے؟ جاننے والے سب جانتے ہیں اور تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔
تو پھر یہ سوال تو ذہن میں ابھرنا فطری ہے کہ ترقی پسندی اور روشن خیالی ہی کیوں نشانے پر ہوتی ہے، انتہا پسندی اور تنگ ذہنی کو اہداف میں شامل کیوں نہیں کیا جاتا؟ جمہوریت پسندوں کو ہی زد میں کیوں رکھا جاتا ہے۔ آمریت کی محفوظ پناہ گاہوں میں، ڈکٹیٹر شپ کی سرپرست غاروں میں، سیاسی اور غیر سیاسی سرپرستی میں نام نہاد جمہوری جدوجہد کرنے والوں سے ایسی محبت کا اظہار کیوں نہیں ہوتا؟؟ یہ جو دہشت گرد اور خودکش حملہ آور ایسے مواقع پر ہی میدان میں آ کر ایسی جماعتوں کو نشانہ بناتے، کسی اور کیلئے راستے کیوں ہموار کرتے ہیں؟؟ آخر کیوں؟؟ آخر کیوں؟؟
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
یہ وہ راز ہے جسے راز ہی رہنا چاہیے لیکن کیا کریں پتا نہیں ہم یہ کہنے پر کیوں مجبور ہیں:
ابھی تو ابتدائے عشق ہے
ہارون بلور اس مہم جوئی کا پہلا شکار ہے۔ تسلی و تشفی اور تعزیت اپنی جگہ، اسفند یار ولی نے اچھا نہیں کیا۔ اس واضح پیغام، انتباہ، دھمکی، سانحہ اور المیہ کے باوجود میدان کھلا نہ چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ خادم بدہن، یہ عوام دوستی نہیں، عوام دشمنی ہے۔ اپنے ساتھیوں، اپنے بازوؤں کو جان بوجھ کر آگ میں جھونکنے کی کوشش ہے۔ انہیں چاہیے تھا کہ 2013ء کے انتخابات یاد کرتے اور آصف علی زرداری کی طرح میدان کھلا چھوڑتے اور پیچھے ہٹ جاتے، اپنے ساتھیوں کو مزید قربانی سے بچا لیتے۔ لیکن کیا کریں، سیاست وہ طلسم خانہ ہے جس میں صرف بت ہی بت ہوتے ہیں اور ان بتوں کے جسم تو ہوتے ہیں، زندگی نہیں!! پتھر کے سینے ہوتے ہیں مگر ان سینوں میں دل نہیں!! یہی سیاست ہے اور یہی سیاسی طلسمی حیات۔
لعنت ہے ایسی سیاست اور سیاسی ماحول پر۔ ہزار لعنت میدان کھلا رکھنے کی خواہش، کوشش اور سازش پر۔ ایسی سیاست سے تو بیگانگی اچھی، دیوانگی اچھی، تارک الدنیا ہونا اچھا؟؟
کیا جینا اور کیسی جینے کی خواہش؟
زندہ رہیں تو کیا، مر بھی جائیں تو کیا
بات تو پہلے نشانے اور پہلے شکار کی تھی۔ بجھنے والے چراغ اور اس کی روشنی کی تھی! حبس کم تو نہیں ہوا، تند و تیز ہواؤں کا واضح امکان ہے۔
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
کے پی کے میں تو میدان کھلا رکھنے کو جو کچھ ہوا ہے یا پھر جو کچھ مزید ہو سکتا ہے جس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اے این پی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اب اس کو ’’جسٹی فائی‘‘ کرنے کیلئے کچھ اور اہداف پر ’’چاند ماری‘‘ یا نشانے بازی ہو گی۔ اس کی سندھ اور پنجاب میں بھی اشد ضرورت ہے، یہاں بھی تو کچھ لوگ میدان کھلا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ انہیں بھی تو ایک واضح پیغام کی ضرورت ہے۔ ٹی ٹی پی نہیں تو داعش یا کوئی اور بھی تو ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں انتہا پسندی کی کوئی کمی تو نہیں۔
 

image

ایک بار میں نے ایک معروف اینکر کو ’’الو کا پٹھا‘‘ کہہ دیا اور میرے جاننے والے جتنے بھی اینکر پرسن و میڈیا جرنلسٹ گروپ لسٹ میں تھے، اُن سب کو بھی اپنا اظہاریہ بذریعہ ای میل ارسال کردیا۔ 2012 کے اس واقعے کو میں اب بھی اُسی طرح یاد کرتا ہوں جیسے یہ کل کی ہی بات ہو۔ میں نے صبح سات بج کر 33منٹ پر پہلی ای میل کی اور پھر اگلے پانچ منٹ بعد ہی اُس اینکر سے معافی مانگی کہ میرا عمل درست نہیں تھا، مجھے آپ کو الو کا پٹھا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ نجی نیوز چینل سے وابستہ معروف پختون اینکر نے حسن ظن سے کام نہیں لیا اورمیرے معافی نامے کو قبول نہیں کیا، تاہم کراچی میں ایک تقریب کے دوران فیصل سبزواری و دیگر نے گلے ملادیا۔ انہیں لندن کے معروف عالمی نشریاتی ادارے کے کئی صحافیوں نے بھی میری ای میل (شکوہ) فارورڈ کی تھی، میں 13 ہزار سے زائد میڈیا پرسن و میڈیا ہائوسز کو رابطے میں رکھتا تھا۔ لیکن کیا کرتا، منہ سے نکلی بات واپس نہیں آتی۔ قصہ مختصر کہ یہ ایک ایسا غیر پارلیمانی لفظ تھا کہ مجھے اب بھی افسوس ہوتا ہے کہ کم ازکم مجھے احتیاط برتنی چاہیے تھی۔ اب اس کی کیا وجوہ تھیں، اس پس منظر میں جائے بغیر میں نے صرف یہ دیکھا کہ سیاستدان ہو یا صحافی ہو، اس میں اگر رعونت آجائے تو بڑا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ 
دور حاضر کے الیکٹرونک چینلز میں تجزیہ کاروں کے تبصرے سنتا ہوں تو سمجھ نہیں آتا کہ آیا صحافت سے وابستہ شخصیت بیٹھی ہے یا پھر کسی سیاسی جماعت کا جذباتی نمائندہ۔ ویسے تو میرے احباب میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات فیس بک پر موجود ہیں کہ ان کی تحریریں پڑھ کر پسینہ آجاتا ہے، لیکن یقین کریں کہ ان کی ’’شیریں بیانی‘‘ اور لفظوں کے انتخاب میں اعلیٰ ادبی ذوق موجود ہوتا ہے۔ سعادت حسن منٹو، میرا جی اور اختر شیرانی کو تو چھوڑیں، بابائے نفسیات ’سگمنڈ فرائیڈ‘  اور رجنیش اوشو بھی ان کے آگے پانی بھرتے نظر آئیں۔ یہ الگ بات اُس زمانے میں منٹو، میرا جی اور شیرانی کو کوئی نہیں سمجھا، انہیں فحش گو قرار دیا لیکن اب انہیں اردو کا عظیم اثاثہ قرار دیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ صہیب بھائی، منصور بھائی، ثاقب بھائی، لائبہ، قدسیہ سمیت کئی دوسرے احباب کی نگارشات بھی تاریخی اثاثہ بن جائیں۔ میں تو جب بھی فرسٹریشن کا شکار ہوتا ہوں، ان احباب کی تحریریں (فیس بک والی) پڑھ کر دوبارہ تروتازہ ہوجاتا ہوں۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ میں ’سچائی‘ کے ایسے پل صراط سے کبھی نہیں گزر سکتا، لیکن ایک سیاسی جماعت کے لیڈر نے جب دوسری جماعت کے سیاسی کارکنان کو ’’گدھا‘‘ کہا  تو مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ میں اس کے لیے کون سا لفظ استعمال کروں۔ لاکھوں افراد ان جیسوں کو جبراً سنتے ہیں۔ اربوں روپے کے اشتہارات دینے کا خمار ان کی زبان کو بے قابو کیے ہوئے ہے۔ اس بے روزگار شخص کے ذرائع آمدن بینک سے ملنے والے ’’سود‘‘ (منافع) پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ اس پر طرّہ کہ وہ خلافت راشدہ کو رول ماڈل قرار دیتا ہے، اس کا عمل مکمل تضاد سے بھرا پڑا ہے۔ مجھے اس کے ماضی سے کوئی کام نہیں۔ حال سے بھی کوئی واسطہ نہیں۔ مستقبل کا بھی نہیں سوچنا، کیونکہ ہر شخص اپنے قول و فعل کا خود ذمے دار ہے۔ مجھے اس کی کسی بات کا کوئی اثر اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ خود میٹھا میٹھا ہپ ہپ کرنے والا کڑوا آنے پر تھو تھو کرنے لگتا ہے، وہ جب ’’خود‘‘ میں تبدیلی نہیں لاسکتا، ملک و قوم میں تبدیلی کیسے پیدا کرسکے گا۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی ہے، جس کا آئیڈیل (بظاہر) خلافت راشدہ کا نظام ریاست ہے۔ وہ اشرف المخلوقات کو ’’گدھا‘‘ ، بے ضمیر ، زندہ ’مُردے‘ اور نہ جانے کیا کیا کہتا پھرتا ہے اور پھر بھی اس کی زبان روکنے والا کوئی نہیں۔ اب ایسا بھی نہیں کہ دوسرے سیاسی جماعت کے لیڈروں نے یاوہ گوئی نہ کی ہو، لیکن سیاست میں اخلاقیات کا پیراہن اتارنے کا سہرا یقیناً اسی کے سر جاتا ہے۔
میں نے تو تاریخ میں پڑھا ہے کہ نامور ترین ہستیاں اپنے مخالفین کی بدزبانیاں، ان کی جسارتوں کو خندہ پیشانی سے جھیل لیتی تھیں۔ شاہ ایران جب کسی ’’شہنشاہ‘‘ کو تلاش کرتا تو اُسے جواب دیا جاتا کہ ہمارے یہاں شہنشاہ نہیں ہوا کرتے، ’’امیر‘‘ ضرور ہیں اور چشم فلک نے دیکھا کہ 27لاکھ مربع میل کے ’’حکمراں‘‘ کا سرہانہ ایک اینٹ تھی، جس پر وہ آرام فرمارہے تھے۔ کوئی سیاسی یا موجودہ مذہبی شخصیت تو اس عظیم ہستی کے پائوں کی خاک بھی نہیں ہوسکتی۔ رب کائنات کی جانب سے حیات میں ہی جنت کی بشارت حاصل کرنے والوں کا موازنہ کسی پڑھے لکھے جاہل سے نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یقین جانئے بڑا دکھ ہوتا ہے کہ سیاسی شخصیات جب اپنی دکان چمکانے کے لیے کبھی خواتین کو رسوا کرتے ہیں تو کبھی انسانوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ ہمارا الیکٹرونک میڈیا بھی من و عن انہیں دکھاتا۔ برسبیل تذکرہ کہتا چلوں، مجھے آج بھی یاد ہے کہ لندن سے ایک سیاست دان نے معروف نجی چینل کو سخت الفاظ میں پریس ریلیز دی اور خوف زدہ چینل دھڑا دھڑا ٹکرز چلانے لگا۔ میں اس وقت کیپری سنیما میں فلم دیکھ رہا تھا کہ مجھے اس رہنما کے بیان پرردعمل دینے کو کہا گیا۔ میں فلم ادھوری چھوڑکر میڈیا سیل پہنچ گیا۔ نسوار رکھی سائیڈ میں اور ترکی بہ ترکی جواب داغ دیا۔ میڈیا گرو ’ڈائریکٹر نیوز اظہر عباس‘ کو فون کیا اور پانچ سیکنڈ میں جوابی ٹکرز چلنے لگے۔
نازیبا پریس ریلیز پر میرا ردعمل بھی سخت تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے فون آیا کہ قادر بھائی، تھوڑا الفاظ نرم کرلیں، میں نے کہا کہ کیوں یہ جو ٹکرز چل رہے ہیں کیا اس میں شہد ٹپک رہا ہے۔ میرا لہجہ انتہائی تلخ تھا۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ فون آیا کہ قادر بھائی میری لندن والوں سے بات ہوگئی ہے، وہ ٹکرز تبدیل کرنے پر تیار ہیں۔ میں نے کہا، چلائیں دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں۔ ٹکرز چلے، لیکن میری تشفی نہیں ہوئی۔ میں نے اپنے ٹکرز چلانے پر اصرار کیا۔ بالآخر لندن والے اس پر راضی ہوگئے کہ پریس ریلیز واپس لے لیتے ہیں، قادر بھائی بھی واپس لے لیں۔ تھا تو پٹھان دماغ، میں نے کہا کہ پہلے ان کے بند کریں، پھرٹکرز غائب ہوگئے اور میں نے بھی ہامی بھر کر نسوار رکھ لی۔ اس واقعے کا ذکر اس لیے کرنا مناسب سمجھاکہ یہ کوئی زیادہ پرانی بات بھی نہیں، چند برس قبل میڈیا ہائوسز اقدار کا خیال اور اخلاقیات کا پاس رکھتے تھے۔ لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ میں نے قلم کی طاقت سے دہشت گردوں کو سرنگوں ہوتے دیکھا۔ اس پر آج بھی فخر محسوس کرتا ہوں، لیکن اب قلم کی طاقت کو مفادات کے ترازو میں تولنے کا رواج پروان چڑھنے لگا ہے۔ میڈیا، سیاست دانوں کی مجبوری اوراس طوطے میں ان کی جان ہے۔ التماس ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر جب اخلاقیات کی حدود پامال کرے تو اس کو حد سے نہ بڑھنے دیں۔ عوام گالیاں نہیں موقف سننا چاہتے ہیں۔ الزامات نہیں حقائق پڑھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا، بس ایک بار ان سب کو لگام دے دیں۔
 

image

The US has every interest in the prosperity of its allies, especially when it demands they spend 2 percent of their GDP on defense. These economies cannot function without reliable supplies of energy. Natural gas other than LNG is a regional resource and proximity to markets is pivotal. Therefore, Russia, which boasts the world’s largest natural gas reserves, has been and will remain a logical point of origin for German gas supplies. Gazprom actually started exporting gas to Germany and Western Europe during the “Ostpolitk” of Willy Brandt in the 1970s — the height of the Cold War.
Wednesday’s meetings were 
tumultuous. Still, in the end NATO issued a communique which acknowledged a “dangerous, unpredictable and fluid security environment.” It went on to mention “Russia’s aggressive actions” and state that “instability and continuing crises across the Middle East and North Africa are fueling terrorism.” The allies also “reaffirmed unwavering commitment to all aspects of the Defense Investment Pledge agreed at the 2014 Wales Summit.” (Read spending 2 percent of GDP on defense.)
But if they sighed a sigh of relief once the document was signed, NATO leaders were wrong. As he did in Quebec, Trump turned things on their head when he suddenly announced that leaders needed, and had agreed, to spend 4 percent of their GDP on defense.
Once again, he had moved the goalposts after an agreement had been reached. Looking at the UK situation, Adm. Lord West said in Donald Trump’s defense that 2 percent of GDP was “in all likelihood insufficient to support the country’s capability and the various commitments of the armed forces overseas.”
The saga continued, with French President Emmanuel Macron contradicting Trump, claiming that NATO allies had not agreed to the 4 percent goal. The talks apparently got so heated at the summit that Jens Stoltenberg, NATO’s secretary-general, only allowed heads of state and one aide into the meeting on the second day.
Trump may have spoken truth to power and it might have been necessary to cajole European NATO allies to pay up. However, language and behavior matter.
Europe is an old ally of the US. Many of these NATO countries have sent their sons and daughters to fight shoulder-to-shoulder with US forces in Afghanistan, Iraq and other theaters of war. EU Council President Donald Tusk had a point when he told Trump that he had reliable friends in Europe and that he should value them, because true friends were hard to come by.
The implicit threat of having the US resign from NATO will embolden Russia, and that cannot be in the long-term interest of the US. It will also make many European leaders more susceptible to advances from China, the emerging global power. Trade disputes are also playing a major part on that front.
The real question for the US president is how he wants to position the US globally. He risks that China, Russia and co. can increase their respective power bases at the expense of America’s standing in the world.
(Courtesy : Arab News)
 

image

حقیقت میں دیکھا جائے تو ہم پاکستانی اپنی ساخت، اپنے خصائل اور اپنی محنت کے باعث دنیا بھر میں سب سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا ہمارا لوہا مانتی ہے، ہم سی ایمان دار، جفاکش، ہنرمند دنیا کے نقشے پر موجود ممالک میں کسی ایک کے پاس بھی افرادی قوت موجود نہیں۔ جو کام کسی سے نہیں ہوپاتا، اسے ہمارے جوان کر دکھاتے ہیں اور ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں، سبز ہلالی پرچم کو سربلند کرتے ہیں۔
دفاعی میدان کو ہی لے لیجیے، دنیا کی سپر طاقت سمیت سب تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان آرمی سے بہتر کوئی فوج نہیں، ہم نے جوہری طاقت بننے کا خواب آنکھوں میں سجایا تو کہا گیا کہ یہ آپ کے بس کی بات نہیں، اس پر اٹھنے والے اخراجات آپ برداشت نہیں کرپائیں گے اور اگر یہ مرحلہ طے کر بھی لیا تو آپ بیرونی دبائو کے آگے ٹھہر نہیں سکیں گے، لیکن سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے بھی کیے اور واحد سپرپاور کے دبائو اور مالی امداد کے پیکیجز کو جوتے کی نوک پر بھی رکھا۔ سائنس کے شعبے میں بھی دنیا بھر میں ہمارے سائنس دان مصروف عمل ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے پاکستان کو جوہری قوت بناکے عالمی سامراج اور بھارت کی اکڑ اور غرور کو خاک میں ملایا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے فزکس میں نوبل انعام اپنے نام کرکے ثابت کیا کہ ’’ہم سا زمانے میں کوئی نہیں‘‘۔ صحت کی دنیا میں نظر دوڑائیں تو بھی عالمی سطح کے ڈاکٹر حسنات سمیت بہت سے فرزندان پاکستان دنیا کے بڑے اوربہترین شمار ہونے والے ہسپتالوں میں بھی پاکستانی ڈاکٹر ہمارے قومی پرچم کو اونچا کرکے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔
اقتصادیات و معاشیات کے میدان میں آئی ایم ایف سے لے کر ورلڈ بینک تک ہر عالمی فورم میں ڈاکٹر محبوب الحق، شاہد جاوید برکی، معین قریشی اور شوکت عزیز سمیت ان گنت پاکستانی سپوت اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ تعلیم میں بھی دنیا کی صف اوّل کی یونیورسٹیوں میں ’’پاکستانی‘‘ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھارہے ہیں، اس کی ایک مثال کینیڈا میں ایک پاکستانی انجینئر محمد اشرف بھٹی کا ایک صوبے کے توانائی کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دینا ہے۔ اسی انجینئر محمد اشرف بھٹی کی تحریر کردہ چار کتب بھی امریکا اور دیگر ممالک کی درس گاہوں میں پڑھائی جارہی ہیں۔
سیاست اور قیادت کے معاملے میں بھی پاکستان خوش قسمت ہے، اسے قائداعظم محمد علی جناحؒ، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جیسے دور اندیش راہنما اللہ نے عطا کیے۔ گاندھی کی آرزو رہی کہ ایک قائداعظمؒ ہمیں بھی دستیاب ہوتا۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے بھٹو سے ملاقات میں خواہش ظاہر کی کہ ’’کاش آپ امریکی شہری ہوتے تو امریکا کے وزیر خارجہ ہوتے، جس پر بھٹو نے جواب دیا وزیر خارجہ نہیں آپ کی جگہ ہوتا۔‘‘
جہاں یہ سارے اعزاز ہم اپنے سینے پر سجائے ہوئے ہیں، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ کالے باطن والوں نے دنیا میں پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ دو نمبری میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ اس کاریگری میں بھی پاکستانیوں نے دنیا کو مات دے دی ہے تو غلط نہ ہوگا، غیر ملکی جعلی کرنسی چھاپنا، جعلی پاسپورٹ بنانا، سفری دستاویزات میں ٹیمپرنگ کرنا وطن عزیز کی خدمت نہیں بلکہ ملک دشمنی ہے۔ اس کے علاوہ دین کی غلط تشریح کرکے دہشت گردی کو فروغ دے کر پاکستان کے ساتھ اسلام کو بھی بدنام کیا گیا۔
آج کل ملک میں انتخابات کا دور دورہ ہے، ہر طرف وطن سے محبت کرنے کے چرچے ہیں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے بھی ملک کو گل و گلزار بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں ہر طرف دودھ کی نہریں بہادینے کے وعدے کررہی ہیں، بعض سیاسی لیڈر تو آسمان سے تارے توڑ کر ووٹرز کی جھولی میں ڈالنے سمیت بہت ہی سُہانے خواب دکھارہے ہیں۔
ان سطور کے توسط سے سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے امیدواروں سے عرض ہے کہ وہ کوچۂ اقتدار میں گھسنے کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیرون ممالک وطن عزیز کے لیے بدنامی کا باعث بننے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہو تو پہلی فرصت میں ایسا کیا جائے اور پارلیمنٹ کے فلور پر تمام ارکان اس عزم کا عہد کریں کہ ان میں سے کوئی بھی وطن عزیز کے تشخص کو خراب کرنے والوں کی سرپرستی نہیں کرے گا۔
عوام سے بھی التماس کی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنے ووٹ کا استعمال کرتے وقت سوچ بچار کریں، ووٹ کے تقدس کو پامال نہ کریں۔ ایسے امیدواروں اور پارٹی کو منتخب کروائیں جس کے متعلق آپ کو یقین ہو کہ وہ ملک کی عزت، وقار میں مزید اضافے کے لیے کام کریں گے۔ اور ایسے امیدواروں اور پارٹیوں کو لال جھنڈی دکھائیں جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ وطن اور قوم کی بہتری کے لیے کوئی خدمت سرانجام دینے سے قاصر ہیں۔ ان کا مقصد صرف اپنی تجوریاں بھرنا ہے۔
اس کا جائزہ لینا قطعاً مشکل نہیں کہ کون سی جماعت وطن کے ساتھ مخلص ہے اور کون سی پارٹی غیر مخلص، سب ہمارے سامنے ہے، ان کا ماضی دیکھیں سب معلوم ہوجائے گا ۔
 

image

اس عالمِ فنا میں ہر کوئی کچھ باتیں پوشیدہ رکھتا ہے۔ پتا نہیں ہمارے معاشرے کو کیا ہوگیا ہے، یہاں کوئی بات چھپی نہیں رہتی، کسی فرد کی نہ کسی خاندان کی، کسی گھر کی اور نہ کسی ادارے کی۔ یہاں ہر بات عیاں ہوجاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا حکم پردہ داری کا ہے۔ عیبوں سے پاک صرف اﷲ کی ذات ہے، باقی سب کسی نہ کسی گناہ میں آجاتے ہیں۔ کیا کمال ہے کہ ہم ہر وقت اپنی برائیاں کرتے رہتے ہیں، ہمارے الیکٹرونک میڈیا نے ہمارا بیڑا غرق کردیا ہے۔ سیکڑوں ٹی وی چینل بری باتوں پر چلتے ہیں۔ پورا ملک منفی سوچ کا مالک ہوگیا ہے۔ اس میں ٹی وی چینلوں کا قصور ہے۔ ٹی وی پر اچھی باتیں نہیں ہوتیں۔ 
جب ہماری پولیس اچھی نہیں، ہمارے دیگر ادارے اچھے نہیں، کہیں سچ نہیں، کہیں اچھا افسر نہیں، پھر میڈیا بھی تو ہمارا ہے۔ ایک بچی کی زیادتی کے واقعے پر بے شمار مرتبہ کوریج کی گئی، پھر اس کا قاتل گمنام ہوگیا۔ جب اس کا ذکر ہر چینل کررہا تھا، اس وقت متعلقہ ذمے دار ادارہ کہاں تھا۔ پاکستان کی ہر پوشیدہ برائی دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے، پھر ہمارے رشتہ دار باہر سے فون کرکے کہتے ہیں کہ پاکستان کا بیڑا غرق ہوگیا ہے تو ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا۔ 
پولیس کہتی ہے عوام اچھے نہیں، عوام کہتے ہیں پولیس اچھی نہیں۔ دوسری قومیں کہتی ہیں، سب اچھا ہے، ہم کہتے ہیں سب برا ہے۔ہمارے الیکٹرونک میڈیا نے ہماری پوری دنیا میں بدنامی کردی ہے، کوئی اپنی تعریف کرنے کو تیار نہیں۔ ہمارے تمام چینل شام کو اپنے معاشرے کی برائی میں لگے ہوتے ہیں۔ آپ نے کبھی پوری دنیا کا کوئی ایسا چینل دیکھا ہے جو اپنے وطن، اپنے لوگوں، اپنے اداروں کی برائی کررہا ہو۔ شاید ہمارے پاس اچھائی کا فن ہی نہیں۔ ہماری کوئی برائی پوشیدہ نہیں۔ ٹی وی پر ایک ایک خوفناک لڑائی کو ہزاروں بار دکھایا جاتا ہے۔ اوپر سے سوشل میڈیا آگیا ہے، اس میں بھی ہماری بدنامی ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے اہم اداروں کو بھی بدنام کیا جاتا ہے۔ کیا سوشل میڈیا حکومتوں سے بالاتر ہے؟ نہیں، حکومت تو بڑی سے بڑی برائی کو روک سکتی ہے۔ بے شک اس عالمِ فنا میں برائی ازل سے موجود ہے مگر جتنی برائی میڈیا نے بیان کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ 
ایک بات یاد رکھیں۔ ہماری بربادی میں ہمارا ہی قصور ہے۔ کتنے اچھے معاشرے کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ پہلے صرف پی ٹی وی ہوتا تھا۔ اس وقت ریپ کی خبریں بے شمار بار نہیں دکھائی جاتی تھیں، اُس وقت تو بڑی پردہ داری تھی۔ ہم نے تیس برسوں میں کیا ترقی کی؟؟ ہم دن بہ دن بربادی کی طرف جارہے ہیں۔ خدا کے لیے اپنی برائیوں پر پردہ ڈالیں تب ہی اچھا معاشرہ بنے گا ورنہ ہم بدنام ہوتے جائیں گے۔ میرے بچّے فون کرکے کہتے ہیں، پاکستان میں یہ کیا ہورہا ہے۔ میں کیا جواب دوں۔ دہشت گردی کا میڈیا نے اتنا چرچا کیا تھا کہ لوگ فون کرکے پوچھتے تھے، آپ زندہ ہیں؟ بتایا گیا کہ پوری دنیا کے بددیانت لوگ پاکستان میں رہتے ہیں، سارے چور یہاں رہتے ہیں۔ دنیا بھر کے ڈاکو پاکستان میں آباد ہیں۔ بُری پولیس، بُرے عوام اور کیا کیا ہے، کبھی میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی کسی کی تعریف کررہا ہو۔ شاید ہمیں تعریف صرف اپنی ہی کرنی آتی ہے، دوسروں کی کبھی کی، نہ آتی ہے۔ 
اچھے معاشرے وہ ہوتے ہیں جو اپنی برائیوں کو چھپاتے ہیں، عیاں نہیںکرتے۔ کتنا خوبصورت ملک، کتنے اچھے لوگ، کتنے اچھے مسلمان، پوری دنیا سے زیادہ اچھے مسلمان یہاں ہیں، کروڑوں دیانت دار لوگ یہاں بستے ہیں۔ لوگوں کے کام آنے والے، محبت کرنے والے، دوسروں سے ہمدردی کرنے والے، صدقہ خیرات کرنے والے، وطن کے وفادار، ایک آدمی کے جنازے میں ہزاروں لوگ جاتے ہیں، باہر جاکر دیکھیں میت کے لیے آدمی نہیں ملتا، صرف اپنے ہی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ میں اپنے لوگوں سے بہت خوش ہوں۔
ایک ماہ قبل رمضان کا مہینہ گزرا ہے، تمام پاکستانیوں نے روزے رکھے۔ کسی روزے دار نے اﷲ سے چھپ کر کھانا نہیں کھایا۔ اس کو یقین ہے مجھے اﷲ دیکھ رہا ہے۔ رمضان میں پاکستانیوں نے پردہ داری کی انتہا کردی۔ بڑے کمال کے لوگ پاکستان میں بستے ہیں، میں نے ان میں لاتعداد خوبیاں دیکھی ہیں، میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں، ابھی ایک صاحب فوت ہوگئے، محلے والوں نے خود قبر کا بندوبست کیا، خود کھانے کا انتظام کیا، گھر والوں کو پتا ہی نہیں چلا کہ سارے کام کیسے ہوگئے۔ میں نے ایک جگہ کہا، کوئی کام ہیں تو مجھے بتائیں تو کچھ نوجوان کہنے لگے، نہیں انکل ہم جو ہیں بس آپ دعا کریں۔ میں بہت خوش ہوا، یہاں اچھے لوگوں کا سمندر ہے۔ ذرائع ابلاغ کی سب سے زیادہ ذمے داری ہوتی ہے۔ اچھائیوں کا پرچار کریں۔ یہاں برائیاں کم، اچھائیاں زیادہ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تم لوگوں کے عیب چھپائو، میں تمہارے عیب چھپائوں گا۔
دنیا میں ہر بات کی پردہ داری مجبوری ہے
خود رسوا نہ ہو جائو اس لیے ضروری ہے
تم نے کسی کو بے پردہ کیا گر اس جہاں میں
پھر سمجھ لینا تمہاری زندگی ادھوری ہے
دوسروں کے عیب اس طرح چھپالو، جس طرح تم نے اپنے عیب چھپا رکھے ہیں۔ جو شخص اپنے ہی بھائیوں کے عیب عیاں کرتا ہے، اس کے عیب بھی پوشیدہ نہیں رہتے، یہی قانون ہے، یہی مکافاتِ عمل ہے۔
 

image

آج ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں تیزی سے ابھرتی قومی پرستی عالمگیریت کے لئے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ و ہ عالمی ادارے جو کہ موجودہ ورلڈ آرڈر کی بنیاد ہیں، ان پر مسلسل مجرمانہ چڑھائی ہو رہی ہے۔یہ عالمی ادارے امریکا کی عالمی قیادت میں 73سال قبل وجود میں آئے تھے؛ آج ان اداروں کی مخالفت کی حوصلہ افزائی بظاہر کوئی اور نہیں ، امریکا کا صدر کر رہا ہے، البتہ یہ بات درست ہے کہ امریکیوں کی کثیر تعداد اپنے صدر کے اس عمل کی مخالفت کر رہی ہے۔ تاہم ہر چیز کی طرح تبدیلی کا یہ عمل بھی سیاق و سباق سے خالی نہیں۔ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر زور دیتے ہیںکہ امریکا کے یورپی اتحادیوں کو واشنگٹن سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ مغرب کی اجتماعی سکیورٹی کا زیادہ تر بوجھ اٹھائے۔ ٹرمپ نے جوکچھ کہا، اس میں نئی بات کوئی نہیں، کیونکہ نیٹو گزشتہ پون صدی سے اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
دسمبر 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد اس بنیادی خطرے کا وجود ختم ہو گیا جس کیلئے نیٹو کا قیام عمل میں لایا گیاتھا۔ اس کے چند ماہ بعد سات فروری 1992ء میں یورپی یونین کا قیام عمل میں آیا ، جس کی بنیاد میثاق ماسٹرشت کا ڈرافٹ بنا، اس کا مقصد یورپ کو باہم مربوط کرنا تھا ۔بعدازاں یورپی یونین کے تحت مشترکہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی ، کے علاوہ انصاف اور داخلی امور کے شعبوں میں تعاون نے مجموعی منظرنامے کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا۔ان دونوں واقعات نے عالمی سلامتی کا ماحول یکسر بدل کر رہ گیا، اس دوران مستقبل میں نیٹو کا کردار بھی سوالیہ نشان بنا۔ اس مجموعی صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی ایک عشرے کے دوران نیٹو کو ایک ایسے اتحاد کے طور پر دیکھا گیا جسے ایک نئے مشن کی ضرورت تھی۔ 9/11کے سانحہ سمیت بعض دیگر واقعات بھی نیٹو کو ٹھوس سمت دینے میں ناکام رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نئے سکیورٹی خدشات کسی ریاست کی جانب سے نہیں بلکہ غیر ریاستی مسلح عناصر کی جانب سے سامنے آ رہے تھے۔
سوویت یونین کا انہدام جیسے پون صدی کر چکی ہے، اورجس کے ساتھ ہی سرد جنگ کا خاتمہ ہو گیا تھا، کے بعد کی نسلیں جوکہ آج کی سیاست میں پیش پیش ہیں، وہ قوم پرستی، مقبول عوامی نعروں اور فوجی طاقت پر بھروسہ کرنے کی باتیں کر رہی ہیں۔ وہ غیر ملکیوں سے بیزار انہیں اپنے درمیان برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ بریگزٹ اور ٹرمپ ازم دونوں کی نمایاں خصوصیت یہ دکھائی دیتی ہے کہ یہ یورپ کو 1945ء کے قبل کے دور میں لے جا سکتے ہیں جس میں یورپی ریاستوں کے درمیان محاذ آرائی عروج پر تھی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مغربی ریاستوں کے درمیان جاری اس بدنظمی روس کا حوصلہ بڑھا رہی ہے، وہ خود کو زیادہ سے زیادہ منوانے کی کوشش میں ہے۔ دریں اثنا ، مشرق وسطیٰ میں جاری شورش یورپ کی سلامتی کیلئے سنگین خطرات کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
ان حالات میں صدر ٹرمپ کا یورپی اقوام سے مطالبہ کرنا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں؛ ا س سے غیر دانستہ طور پر مغرب کیاجتماعی سکیورٹی کا ڈھانچہ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے؛ جوکہ ابھی تک نیٹو کی صورت میں فعال ہے۔دوسری جانب جبکہ دائیں بازو کی قوم پرستی بتدریج زور پکڑ رہی ہے، ان کی وجہ سے خطرہ یہ بھی ہے کہ یورپی اقوام کہیں اپنے دفاعی بجٹوں میں اس تک اضافہ نہ کر دیں کہ اس کے نتیجے میں تصادم کے خطرات ہی بڑھ جائیں۔ان دونوں خطرات کے خلاف واحد قوت جوکہ ایک مضبوط فصیل کا کام کر سکتی ہے، وہ نیٹو اتحاد ہے۔کیونکہ یہ اتحاد ابھی تک فعال اور اپنا موثر وجود رکھتا ہے۔
نیٹو کا قیام بنیادی یورپ کے دفاع کیلئے عمل میں لایا گیا تھا ، آج بھی نیٹو کا بنیادی مقصد ہر خطرے کو یورپ کی حدود سے دور رکھنا ہے۔ البتہ بڑھتی قوم پرستی اور اسی کی بنیاد پر بننے والی پالیسیوں کی وجہ سے ایک خطرہ یہ ہے کہ نیٹو کا کنٹرول مقبول قوم پرست حکومتوں کے کنٹرول میں جا سکتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیٹو کے قیام کا ایک اور بنیادی مقصد یہ تھا کہ یورپ کو آئندہ کسی نازی حکومت کے قیام سے بچاکر رکھا جائے۔نیٹو کو یہ ذمہ داری یورپ کو جلد کسی انتشار کا شکار بننے سے روک سکتی ہے۔(مضمون نگار واشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کے رکن ہیں)
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: عرب نیوز)

image

مجھے محسوس ہوا میں مر چکا ہوں، شاید ٹھیک ہی ہو کیونکہ جیتے جی تو یہ خواہش پوری ہونی نہیں تھی۔ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ مریخ پر پانی کے آثار پائے جاتے ہیں اب جلد ہی وہاں انسان آباد ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ہمارے محلے میں سارا دن تھڑے پر بیٹھ کر پیشنگوئیاں کرنے والے ’’تایا جی‘‘ اور ایک معروف ماہر فلکیات کی اس بارے میں متضاد آرا نہیں تھیں کہ مستقبل میں اسٹیٹس کی علامت مریخ پر خریدی گئی اراضی ہو گی۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب چھوٹے پراپرٹی ڈیلر ہوں یا بڑے اسٹیٹ ایڈوائزر اپنے دس سالہ منصوبوں کے تناظر میں مریخ پر سکونت کے امکانات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتے تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر محتاط تجزیہ نگاروں یا سیاسی مزاح لکھنے والے ادیبوں کی تحاریر میں مریخ کے ذکر نے ہماری تشنگی بڑھا دی۔ اسی خواہش کو دل میں دبائے بچپن سے لڑکپن پھر عہد شباب سے ہوتے ہو ئے اب عمر کی پختگی کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ہی کچھ خواہشات بھی شدید ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
مریخ ہمارے لیے ایسا ہی یکطرفہ رومانس تھا جو نہ بتایا جائے نہ چھپایا جائے۔ نجانے عالم ارواح سے ہو کر مریخ پر پہنچے تھے یا براہ راست انٹری کی تھی اس بابت کچھ بھی وثوق سے کہنا ممکن نہیں تھا۔ خیر مریخ پر سب سے پہلے ہمیں عدالت نظر آئی جہاں مریخ کے جج صاحب زمینی شان وشوکت کے ساتھ براجمان تھے۔ سیکرٹری صحت قریب قریب ہاتھ باندھے حالت قیام میں جج صاحب کے روبرو ہسپتالوں کی حالت زار پر بیان ریکارڈ فرما رہے تھے۔ وکلا صاحبان کے لیے گول میز کے ساتھ موجود نشستوں کے پیچھے سائلین کے لیے مختص کرسیوں پر مختلف ہسپتالوں کے ایم ایس اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ مریخ پر شاید ہسپتالوں کے دوروں کا رواج ابھی رائج نہیں ہوا تھا اس لیے ہسپتال کے عملے کو عدالت حاضری دینا پڑی تھی۔
عدالت سے نکل کر چہل قدمی کرتے کچھ ہی دور پہنچے تھے کہ ایک متوازن سائز کے بورڈ پر عمدہ طرز تحریر کے ساتھ درج تھا ’’صدر تھانہ مریخ‘‘ کچھ دیر کو رونگھٹے کھڑے ہو گئے، مبادا ابھی دھر لیے جائیں کہ ہاں میاں کہاں منہ اُٹھائے پھر رہے ہو، یہاں تو اپنی جان پہچان بھی کوئی نہیں کون ہمارے لیے ہزاروں میل کا سفر کر کے مریخ آئے گا؟ لیکن جلد ہی یاد آ گیا کہ یہ زمینی جاہ و جلال والا تھانہ تھوڑی ہے۔ جہاں کے ایس ۔ ایچ۔ او صاحب کے اختیارات کا احاطہ کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ ان مفروضوں سے تحریک لیتے ہو ئے اندرونی نظارے کے لیے بلا خوف تھانے میں داخل ہو گئے۔ داخلی دروازے پر کسی نے جامہ تلاشی کے بہانے ہماری جیبوں کا وزن کم کرنے کی کوشش نہ کی۔ تھانے دار کی بڑی بڑی مونچھیں بھی غائب تھیں اور جب اُس نے بڑے سیلقے سے پوچھا ’’جی جناب فرمائیے کیا کام ہے‘‘۔ اس انداز گفتگو کی وجہ سے ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ ہو نہ ہو یہ جعلی پولیس ہے۔ خیر بتایا کہ ہم زمین والے ہیں مریخ کے مطالعاتی دورے پر آئے ہیں۔
تھانے دار صاحب کی غیر روایتی مہمان نوازی سے متاثر ہو کر پھر سے مریخ کے گلی کوچو ں میں مٹر گشت کرنے لگے۔ ابھی تھانے سے چند گلیاں دور ہی گئے ہوں گے کہ ایک جگہ بہت سے لوگوں کو منظم طریقے سے بیٹھے دیکھا۔ کمال خامشی کی فضا میں صرف ایک آواز سنائی دے رہی تھی، کوئی صاحب نہایت شگفتہ انداز میں تقریر فرما رہے تھے۔ پہلا تاثر تو یہی بنا کہ بوجوہ وفات کوئی مذہبی اجتماع ہو رہا ہے، لیکن الفاظ کے معانی واضح ہونے سے یہ عقدہ کُھلا کہ یہ سیاسی جلسہ ہے اور صاحب تقریر امیدوار ہیں۔ تقریر کیا تھی واعظ و نصیحت سے بھرا ایک دکھی سا بیان تھا۔ جس میں نہ گلیوں اور سڑکوں کو پکا کرانے کا وعدہ تھا نہ اپنے شہروں کو ترقی یافتہ شہروں کے ہم پلہ بنانے کی ’’ بڑھکیں‘‘ تھیں۔ ایسا پھیکا سیاسی شو اور امیدوار کا جوش خطابت سے عنقا ہونا دیکھ کر ’’بیس دن میں فن تقریر سیکھئے اور کامیاب سیاست دان بن جائیں‘‘ والی وال چاکنگ ذہن میں آ گئی۔ خیر چلو امیدوار ڈھیلا ہی سہی لیکن سامع بھی تو سیاسی جلسوں کے بنیادی رموز سے نابلد تھے، نہ آوے آوے کی گردان، نہ ڈھول کی تھاپ پر رقص، نہ ہی نعروں میں مبالغہ آمیز استعاروں کا مسالہ۔
ہماری مایوسی دیدنی تھی کیا یہ مریخ ہے اتنا ہومیو پیتھک جس کا ذکر سنتے سنتے اور رومانس میں مبتلا ہوئے تین دہائیا ں گزار دیں۔ اچانک ہی خیال آیا کہ مریخ کے عوام یعنی خلائی مخلوق اتنے بھی سادہ اور بھولے لوگ نہیں ہیں۔ یہی تو ہیں جو زمین کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں بنانے اور توڑنے میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ مافیا ہی تو ہے جو ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں امر مانع ثابت ہوتا ہے۔ یہ خیال آتے ہی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہونے کی وجہ سے ہمیں اس سیارے پر اپنے قیام سے کوفت آنے لگی۔ لیکن جانے سے پہلے اس مخلوق کا وہ شعبہ ضرور دیکھنا چاہتے تھے جہاں بیٹھ کر یہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں مگر باوجود کوشش، اس میں یکسر ناکام رہے۔ قیاس ہے کہ زمین سے لوگوں کی ممکنہ آمد کی وجہ سے انہوں نے سازشیں کرنے والا یہ کام اب مزید خفیہ کر دیا ہے۔
 

image

(17 اکتوبر 1949 ء کی تحریر ) 
علماء کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ بنیادی حقوق کی سفارشات جنہیں دستور ساز اسمبلی نے منظور کرلیا ہے ، اسلام کے مطابق نہیں لیکن اب تو دو یا تین ایکڑ زمین پر اللہ کے صالح بندوں یعنی آئمہ مساجد کا حق تسلیم کرلیا گیا ہے اس سے ہماری رائے میں اعتراض کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ لہٰذا بنیادی حقوق پر نکتہ چینی اور حرف گیری کرنے کے بجائے اب تو منبروں سے یہ صدا گونج اٹھنی چاہیے کہ السلطان السلطان العادل ، ظل اللہ فی الارض اللھم تہع المسلمین بطول حیاتہٖ وضاحف ثواب جمیلہ وحتاتہٖ وار فع درج او دائہہ و ہُ لاتہہ ودمرعلیٰ اعدائہہ و شناتہٖ۔
…………………………
اس سلسلے میں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر زمین کے بجائے آئمہ مساجد کے لئے نقد وظیفہ مقرر ہو جاتا تو بہت چھا تھا۔ آئمہ میں بعض حضرات کا یہ حال ہے کہ نہ چولہے میں آگ، نہ گھڑے میں پانی، ہفتوں چولہا گرم نہیں ہوتا۔ بعض نیک دل لوگ کھانے کو کچھ بھیج دیتے ہیں، اسی پر گزارہ ہوتا ہے، زمین کی کاشت کا بکھیڑا کون کرے گا؟ اور اگر بچارے آئمہ مساجد زمین کی کاشت کے قضیے میں الجھ گئے تو نمازیں کون پڑھائے گا، درس و تدریس کے فرائض کون انجام دے گا؟
…………………………
یورپ کے ایک ملا عبدالرحمن نام غالب و ذوق کے زمانے میں دلی آنکلے تھے حکیم آغا جان عیش دہلوی نے ان کے لئے ہد ہد تخلص تجویز کیا۔ پہلے خود شعر لکھ کے دیئے کچھ عرصے کے بعد وہ خود بھی شعر کہنے لگے۔ اگرچہ سرکار سے کچھ وظیفہ بھی مقرر ہوگیا تھا لیکن انہیں وہ زمانہ نہیں بھولتا تھا، جب وہ کسی مسجد میں پیش امام تھے اور بڑے اطمینان و فراغت سے زندگی بسر کرتے تھے، اسی لئے وہ ایک موقع پر کہتے ہیں ؎
میں کھانے والا نعمت کا اور میرے لئے
فلک کہے ہے مقرر میں باجرا کردوں
دو یا تین ایکڑ زمین پر اگر پیش امام کی معاش کا انحصار ٹھہرا تو بچارے کو یقینا باجرا ہی میسر ہوگا۔
…………………………
(18 اکتوبر 1949 ء کی تحریر ) 
مسلم لیگ کے لیڈروں میں سے بعض حضرات یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ جب سے خان لیاقت علی خان نے زمام صدارت اپنے ہاتھ میں لی ہے، لیگ لوہا لاٹ بن گئی ہے، اسے اپنی جگہ سے کوئی ہلا نہیں سکتا
سیاں بھٹے کوتوال اب ڈر کا ہے کا
لیکن پچھلے دنوں سے جو واقعات ہورہے ہیں، ان سے تو معلوم ہوت اہے کہ یہ بھرا ہوا میلہ اب اجڑنے کو ہے، مولوی عبدالباری گئے، ملک غلام نبی گئے، اس وقت جو حالات ہیں، اگر ان میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو یقین ہے کہ استعفوں کی لین ڈوری بندھ جائے گی اور دولتانہ صاحب ’’یوسف بے کارواں‘‘ ہو کے رہ جائیں گے۔
…………………………
یہ ٹھیک ہے کہ کچھ لوگ جو ٹکٹ کی چاٹ میں لیگ کا دامن تھامے بیٹھے ہیں، لیگ ہی میں رہیں گے۔ کیونکہ ایسے ’’بے ٹکٹ‘‘ لوگوں کے لئے ٹکٹ میں بڑی کشش ہے لیکن اس کے ہرگز بھی یہ نہیں کہ لیگ کو وہی مقام حاصل ہے جو آج سے تین چار برس پہلے حاصل تھا۔ ایک زمانے میں لوگ دوسری جماعتوں سے ٹوٹ ٹوٹ کے لیگ میں شامل ہوتے تھے لیکن کچھ دنوں کے بعد لیگ میں وہی لوگ رہ جائیں گے جن کا کوئی ٹھور ٹھکانہ ہی نہیں اور لیگ سے اس لئے وابستہ ہیں کہ اسے چھوڑیں تو جائیں کہاں؟
…………………………
اخبارات میں مسٹر نسیم حسن سابق مشیر تعلیم کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے:
’’وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لئے جدوجہد کی ، انہیں یہ دیکھ کے بے حد مایوسی ہوئی ہے کہ مسلم لیگ اپنا اقتدار کم کررہی ہے، انہیں مسٹر لیاقت علی خاں کے صدر منتخب ہونے پر امید ہوچلی ہے کہ مسلم لیگ پھر زندہ ہو جائے گی۔‘‘
مسلم لیگ زندہ ہو جائے تو ہو جائے لیکن مسٹر نسیم حسن کو یقین رکھنا چاہیے کہ گورنر پنجاب کی ’’مجلس مشاورۃ‘‘ ہرگز زندہ نہیں ہوگی۔
…………………………

image

تو نے دیکھی ہے عشق کے قلندر کی دھمال
پاؤں پتھر پہ بھی پڑ جائے تو دھول اڑتی ہے
سراج رئیسانی کو ’’پاکستان کے سپاہی‘‘ کے خطاب کے ساتھ زمین کے سپرد کر دیا گیا۔ شہادتیں ایک سو تیس سے اوپر جا پہنچی ہیں۔ ملک بھر میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہوئی ہے۔ مکار دشمن چھپ کر وار کر رہا ہے۔ سراج درانی کو پاکستان سے عشق تھا۔ عشق پھر سر ہی مانگتا ہے۔ عشاق ہیں کہ ہنسی خوشی پائے یار پر قربان ہونے کو مچلتے ہیں۔
جان لٹا ہی دی جگر نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
جب بلوچستان میں سی آئی اے اور ’’را‘‘ نے پاکستانی جھنڈا لہرانے کو جرم بنا دیا تھا۔ سراج رئیسانی نے یہ جرم بار کیا۔ ہر روز کیا۔ اس نے دشمن کا جھنڈا پاؤں کے نیچے روند کر پیغام دیا کہ ’’ابھی ہم زندہ ہیں‘‘۔ پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ تصاویر اس کا جنون تھا۔ آپ سراج رئیسائی کی تصاویر دیکھیں۔ وہ آپ کو شیر کی طرح کھڑا نظر آئے گا۔ اس کی آنکھوں کی چمک اور چہرے پر لکھے عزم نے ’’دشمن‘‘ کو بے چین کیا ہوا تھا۔ رئیسانی خاندان نے ایک بار پھر قربانی دی ہے۔ پہلے بھی بیٹے کی قربانی دی۔ یہ اپنی جگہ سے ہلے  نہیں۔ آج ایک بار پھر اس مٹی میں مٹی ہو گئے۔ مگر لغزش نہیں آئی۔ سپہ سالار مستونگ سانحے کے بعد کوئٹہ جنازے میں خصوصی طور پر پہنچے۔ شہید کے بیٹے کو گلے لگایا۔ عجیب منظر ہے۔ ہارون بلور کے خاندان اور رئیسانی کے ورثا سے، جس انداز میں جنرل باجوہ نے ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ چہرے سے درد عیاں ہو رہا تھا۔ یہ زندگی عارضی ہے۔ مگر شہید تو زندہ ہے۔ یہاں تو واریاں لگی ہوئی ہیں۔ کوئی پہلے، کوئی بعد میں، جانا سب ہی کو ہے۔ رامؔ ریاض نے اپنے والد کے انتقال پر کہا تھا
لہو سجا کے ذرا بن سنور کے آؤں گا
کہ تو چل، میں ابھی دیر کر کے آؤں گا
تمام رات کواڑوں کو تم۔۔۔ کھلے رکھنا
میں کسی روز آسماں سے اتر کے آؤں گا
اصل بات یہ ہے کہ جب آپ دنیا سے جاتے ہیں تو اللہ کی خلق کیا کہتی ہے۔ آج ایک طرف لہو میں تر چہرے ہیں۔ دنیا انہیں سلام کر رہی ہے۔ دوسری طرف وہ چہرے ہیں، جن کے چہروں پر لوٹ مار کے مال کی سرخی ہے۔ دنیا لعنتیں کر رہی ہے۔
بات تو کردار کی ہوتی ہے وگرنہ
قد میں انسان سے سایہ بھی بڑا ہوتا ہے
عمران خان نے ہارون بلور کی سیٹ سے اب تحریک انصاف کا بندہ نہ کھڑا کرنے کا اعلان کر کے، اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا ہے۔ میں ان سے اتنی عقلمندی اور جذبے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ بلوچستان سے بھی اسی قسم کا جواب آنا چاہیے۔ کردار کی اتنی رمق تو ’’سیاسی اشرافیہ‘‘ کو دکھانی چاہیے۔ روایات بھی کوئی چیز ہیں۔ گورے جس کو ہم بُرا کہتے ہیں اس کا آئین دیکھ لیں۔ زیادہ تر روایات ہیں۔ تحریری آئین کم ہے۔ وہ اپنی روایات کے لیے پاگل ہیں۔ ہم جن کو خطے اور مذہب دونوں طرف سے سنہری روایات ملی تھیں۔ آج بھٹکتے پھر رہے ہیں۔
ہمارے ہاں سیاست دانوں کی اکثریت خود غرضی اور بے حسی کے نئے باب لکھنے میں مصروف ہے۔ انہیں ذات سے آگے نظر نہیں اتا۔ عام انتخابات میں جب مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سمیت ان کے پیاروں کو شکست نظر آ رہی ہے تو واویلا شروع کر دیا ہے۔ میں عمران خان کا قطعاً حمایتی نہیں ہوں۔ میں تو ’’نیوٹرل آبزرور‘‘ (غیر جانبدار مبصر) ہوں۔ میرا قلم تو امانت ہے، میرے لوگوں کی۔ آج (ن) لیگ، پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمٰن اور دوسروں کو اس مقام تک ان کی اپنی کرتوتوں نے پہنچایا ہے۔ یہ قدرت کے نظام اور عوام کے انتقام کو اہمیت ہی نہیں دیتے تھے۔ ان سب نے ایک مذاق بنایا ہوا ہے۔ یہ لوگوں کو اندھا سمجھتے ہیں۔ ان کو خوش ہونا چاہیے کہ عوام ابھی اس مکروہ نظام اور اس کے نمائندوں کو ایک چانس اور دے رہے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہے، تباہی ہے۔ جس فوج کو آج یہ لوگ باقطار بُرا کہہ رہے ہیؒں۔ اس نے جب بھی عوام کی ناراضگی کو دیکھا اور سمجھا ہے، وہ پیچھے ہٹ گئی۔ اس سے بھی پہاڑ جیسی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ایک وقت تھا۔ شوکت سلطان آئی ایس پی آر کے ڈی جی تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ مغربی بارڈر پر باڑ نہیں لگ سکتی۔ آج کا ڈی جی آئی ایس آئی آصف غفور کہہ رہا ہے کہ باڑ ہر صورت میں لگے گی۔ پوزیشن تبدیل ہوتی ہے۔ چلیں فوج نے ادراک تو کیا۔ مگر حضور آج آپ کہاں کھڑے ہیں۔ جن محلات بنانے کا آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ برطانوی اخبارات نے آپ کو ننگا کر دیا ہے۔ لاہور میں جو کچھ آپ، آپ کے بچے، بھتیجے کرتے رہے۔ ہر آدمی کو پتا ہے۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کو آپ نے ’’لونڈی اور غلمان‘‘ سمجھ لیا ہے۔ ’’ایان علی‘‘ متحدہ عرب امارات میں کیا ہم 22 کروڑ لوگوں کے پیسے لیکر جاتی تھی۔ سب ملے ہوئے ہیں، چور سپاہی کا گٹھ جوڑ ہے۔ اچانک ایک دن وقت کے وزیر داخلہ کو خوش کرنے کے لیے، ایک کسٹم انسپکٹر حماقت کر بیٹھا۔ پھر کیا ہوا۔ سب کو پتا ہے آصف زرداری کا پیغام دو حوالوں سے تحریک انصاف کو پیارے ہو جانے والے ندیم افضل چن نے میاں نواز شریف کو پہنچایا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میں چودھری نثار سے بات کرتا ہوں۔ کچھ دنوں کے بعد میاں صاحب نے پیغام بھجوایا کہ چودھری نثار نہیں مانتا۔ ندیم افضل چن کو کہو کہ وہ چودھری نثار سے بات کرے۔ ان کی خود بہت اچھی یاد اللہ ہے۔ دوست بتاتے ہیں معاملہ ایان اور ای او بی والے گوندل کا تھا۔ آج جب یہ تحریک انصاف سے جیت جائیں گے تو پھر کیا ہو گا۔ ’’امی‘‘ ایان تو خیر سے چلی گئی ہیں۔ ظفر گوندل باعزت بری ہو جائیں گے۔ ای او بی آئی کے پیسے بچانے والے مزید رسوا ہوں گے۔ یہی اس ملک کا اصول ہے۔ جب آصف علی زرداری نے خود اپنے اثاثہ جات میں زرداری گروپ کے 1 لاکھ پچھتر ہزار حصص تسلیم کیے ہیں، تو پھر ان کے لیے رعایت ملنا پورے عمل کو مشکوک کر رہا ہے۔ اب تو لوگ میاں مصباح الرحمٰن کی تعلق داری پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر پتا ہے کہ میاں مصباح الرحمٰن کتنے محتاط آدمی ہیں۔ مگر کسی کی زبان اور انگلی آپ کیسے روک سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کو اگر فاروق نائیک نے گمراہ کیا ہے تو اس کا ازالہ کون کرے گا۔ سرے محل کی ملکیت کس نے تسلیم کرنے سے انکار کیا اور پھر کس نے اس کا اقرار کر کے بیچ دیا۔ کوٹیکنا ریفرنس میں واجد شمس الحسن کس دیدہ دلیری سے تمام ثبوت لے گئے۔ دن دیہاڑے، کیمروں کے سامنے، کیا واجد شمس الحسن میرے دست راست تھے۔ اس ملک میں ایوان صدر سے لیکر وزیراعظم ہاؤس، سندھ ہاؤس اور لاہور کے پوش علاقوں میں کون کون ڈیلز کر رہا تھا۔ یہ کس کو نہیں پتا ہے۔ تمام قومیں اور معاشرے ایسے ہی سفر طے کرتے ہیں اور سبق حاصل کرتے ہیں۔ وقت نے گزرنا ہوتا ہے اور کسی بے رحم وقت نے آنا بھی ہوتا ہے۔ بہرحال سسٹم ہچکیاں لے رہا ہے۔ عمران خان متوقع طور پر اس سسٹم کا آخری حکمران ہو گا۔ فرسودہ نظام اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ آپ لوگوں کو مزید غلام نہیں رکھ سکتے۔ ان کی رگوں سے مزید خون نہیں نچوڑ سکتے۔ آپ نے تو ان کے مقدر تک کشید کر لیے ہیں۔ بہرحال ایک قدرت کا بھی نظام ہے۔ آپ دیکھ لیں۔ آج پورا شریف خاندان اڈیالہ میں ایک دوسرے سے مل کر رو رہا ہے۔ 
یہ وہی اڈیالہ ہے جہاں ممتاز قادری کو راتوں رات بزدلوں کی طرح پھانسی دی گئی تھی۔ اگلے روز لاکھوں افراد اس کے جنازے میں تھے۔ راولپنڈی نے کبھی اتنا بڑا جنازہ نہیں دیکھا۔ ایک پتا تک نہیں ٹوٹا۔ اسی شہر میں شریف لاہور واپسی سے لیکر اڈیالہ واپسی تک رسوا ہوئے۔ انہیں پھر بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ اور نہ ہی دوسروں کو سمجھ آ رہی ہے کہ ملک پر اللہ کا کب سے قانون نافذ ہو چکا ہے۔ اب تم بچ سکتے ہو تو بچ کے دکھا دو۔ ہم اس سے معافی، درگزر، عافیت اور تندرستی کے طلب گار ہیں۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر توبہ وہی کریں گے۔ جن کے دل، دماغ، کانوں اور آنکھوں پر قفل نہ پڑ گئے ہوں۔ میں، اپنے اور 22 کروڑ لوگوں کے لیے اللہ سے معافی، تندرستی اور عافیت کا طلب گار ہوں۔ اشرافیہ جانے اور رب جانے۔
میں صابروں کے قبیلے سے ہوں مگر میرا رب
وہ محتسب ہے کہ سارے حساب رکھتا ہے
(افتخار عارف)
محاسبہ
 

image

لعنت ہے ایسی انتخابی سیاست پر!
 راستے ہموار کرنے کیلئے انسانوں کے چیتھڑے اڑا دیے جاتے ہیں، کہیں کوئی ندامت ہے نہ افسوس، نہ کہیں ضمیر کی ملامت۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔
اقتدار کے بت خانوں میں صرف پتھر کے تراشے ہوئے مجسمے ہوتے ہیں۔ یہ شہر طلسمات ہے جو ہر کسی کو پتھر بنا دیتا ہے، جو کوئی بھی اس میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی پتھر کا بے جان مجسمہ ہو جاتا ہے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ پہلے پتھر کا ہو اور پھر اس شہر طلسمات کے دروازے پر دستک دے۔
یہاں زندگی کی کوئی اہمیت ہے نہ کسی انسان کی۔ سب مہرے ہیں سب چلتے پھرتے لاشے ہیں۔
زندہ رہیں تو کیا مر بھی جائیں تو کیا
بشیر بلور جیسا بہترین اور وضع دار انسان بھی راستے کی ہمواری کیلئے چیتھڑوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس کے جسم کے ٹکڑے بھی فضائوں کو خون آلود کر گئے تھے۔ پھر کیا ہوا، سیاسی جدوجہد کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ کھڑی ہو گئی تھی وہ جو سینہ تان کر سیاسی میدان میں کھڑے تھے، ان کے بڑھتے ہوئے قدم خوف کی زنجیروں میں جکڑے گئے تھے، دور تک میدان خالی ہو گیا تھا۔
بات صرف بشیر بلور شہید کی نہیں۔ ہمارے دیرینہ دوست اور فکری ساتھی میاں افتخار حسین کی بھی ہے، اس کی واحد نرینہ اولاد کو بھی لقمہ اجل بنا دیا گیا تھا تاکہ وہ عبرت حاصل کرے، شکست قبول کرے اور جنون سے باز آ جائے، سیاسی انقلابی روش سے دور ہو کر اس ملک کے کروڑوں مجبور اور لاچار انسانوں کی طرح اپنی اپنی ذات کی پناہ گاہوں میں ’’پُرسکون‘‘ زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ لیکن!
اس نے اس خواہش اور کوشش کا احترام نہیں کیا، پناہ گاہوں کی زندگی گزارنے کی جبری خواہش قبول نہیں کی، اس سانحے کو اپنے جسم کا حصہ نہیں بنایا۔ اس اندوہناک سانحے اور حادثے سے حوصلہ افزائی لی اور میدان عمل میں ساتھیوںکا ہم قدم ہوا۔ یہ سفر جاری رہا، اس سے رہنمائی بھی کشید ہوتی رہی، ساتھی کارکن اس سے فیض بھی حاصل کرتے رہے۔ 
یہی وہ فیض تھا جس سے بشیر بلور کے صاحبزادے نے رہنمائی حاصل کی، باپ کی شہادت کو نظرانداز کر کے صداقت کا علم ہاتھوں میں اٹھایا اور سفاک سیاست کے لق و دق صحرا میں سفر کا آغاز کیا۔ باپ کے سیاسی ورثے کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا اور اسی جنون کے ساتھ آگے بڑھنے لگا۔ لیکن بھول گیا کہ اس شہر طلسمات میں پتھریلے ذہنوں کے ساتھ کٹھ پتلیوں کی طرح انگلیوں کے اشاروں پر ناچنے والوں کی ضرورت بھی اور افادیت بھی۔
سچی بات ہے پشاور کے اس سیاسی خاندان کے ساتھ مجھے دلی ہمدردی ہے لیکن میری ہمدردی سے کسی کی سنگدلی میں تو کوئی کمی نہیں آ سکتی، وہ جو اس خاندان کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اس کی فکر اور سوچ کو تو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ ہاں مگر مجھے اس سیاسی خاندان کے سب سے بڑے حاجی غلام احمد بلور پر ترس بھی آتا ہے اور رحم بھی۔ اس جیسا مہربان اور مشفق انسان اس شہر ناپُرساں میں غنیمت ہے۔ ہم جب پشاور میں تھے ان سے اکثر ملاقاتیں ہوتی تھیں، یہ ملاقاتیں اکثر ان کے گھر میں ہوتیں۔ یہیں بشیر بلور بھی آیا کرتے تھے۔ وہ زیادہ تر علاقائی صورتحال، افغانستان اور وسطی ایشیا میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گفتگو کرتے۔ ہم تو لاہور آ گئے مگر ان سے ٹیلی فون پر رابطہ رہتا۔ وہ وزیر بھی ہو گئے مگر انہوں نے یہ تعلق برقرار رکھا۔ خیریہ بات تو اس خاندان کے سب سے بڑے حاجی غلام احمد بلور کی ہے۔ ان کا اپنا اکلوتا بیٹا بھی انتخابی مہم کے دوران موت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ وہ خود تو زخم خوردہ ہیں پھر بھی انہوں نے بھائی کی شہادت اور اب اپنے بھتیجے، شہید کے بیٹے کا رخم بھی اپنے سینے پر برداشت کیا ہے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کو حوصلے اور قوت برداشت کی داد دوں یا پھر ایک اور زخم پر مرہم رکھنے کو ان سے تعزیت کا اظہار کروں یا پھر انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کروں کہ راستے ہموار کرنے کیلئے رکاوٹوں کو ہٹانا ضروری ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی بچ جاتا ہے تو یہ اس کی قسمت اور قدرت کی مہربانی ہوتی ہے لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ قدرت کی مہربانی اس خاندان کے ساتھ منسلک کیوں نہیں رہی؟؟ یا پھر اس خاندان کو ہی پشاور اور پختونخوا کی سیاست میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ کر ہٹانا کیوں ضروری سمجھا جاتا ہے؟؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاندان اور اس کا سیاسی ورثہ، باچا خان کی سیاست اور سیکولر نظریات کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ اسی خاندان کی وجہ سے قوم پرستی کا چراغ، انتہا پسندی اور تنگ ذہنی کی تاریکی میں ابھی تک روشن ہے۔ اندھیروں کے محافظ اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اس لیے وہ دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شاید کوئی اور ایسا سیاسی خاندان نہیں ہوگا جس پر اتنے دہشت گرد حملے ہوئے ہوں گے، اسے خراج پیش کیا جائے، سلام پیش کیا جائے یا پھر اس کے بڑے بزرگ حاجی غلام احمد بلور سے اظہار تعزیت کیا جائے، میری ذہنی حالت کسی دکھ کے اظہار کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ ایک المیہ ہے جو رگوں میں زہر کی طرح سرایت کر گیا ہے۔ کاش میرا ذہن اس زہر کو سمیٹ سکتا اور میں اپنی اس کیفیت کو پوری طرح بیان کر سکتا۔ اسی لیے تو یہ اخباری کالم نہیں، ایک المیہ بن گیا ہے جو کسی اور کیلئے نہیں خود اپنی ذات کا اظہار بن گیا ہے۔ خدا کرے کوئی اور کبھی اس کیفیت کی زد میں نہ آئے۔
 

image

آج کل چونکہ نگران حکومت ہے، اس لیے ہم بھی کالم لکھتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ فلاں بات لکھنی چاہیے یا نہیں۔ فلاں بات لکھنے سے کہیں حکومت یا اپوزیشن ناراض نہ ہو جائے، وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ ’’جہان پاکستان‘‘ میں ہمارے روزانہ چھپنے والے کارٹون میں زیادہ کارٹون وہی مقبول ہوتے ہیں جن میں سیاسی پہلو ہو۔ عوام میں زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ تعلیم، صحت اور پانی کے مسائل پہ بنے معاشرتی کارٹون پہ نظر رکھتے ہیں اور ان پر تجزیہ بھی کرتے ہیں اور مشورے بھی دیتے ہیں۔ عوام صرف سیاسی طنزو مزاح پسند کرتے ہیں۔ اس کی یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ شاید وہ مسائل حل کرنے کے جھوٹے حکومتی وعدوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔ جب ہم فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں پڑھاتے  تھے تو وہاں پاکستان کے بارے میں نوجوانوں کے رائے بڑی مثبت ہوتی تھی اور ان میں اس ملک میں سے غربت اور کرپشن دور کرنے کا جذبہ پایا جاتا تھا۔ ہم نے ان نوجوانوں کو یہ بتایا کہ قدر اس کی کرو جو پاکستان کے لیے مثبت کام کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، وردی والا ہو یا بغیر وردی والا۔ یہ بھی بتایا کہ دنیا اُسی کو یاد رکھتی جس نے اپنے ملک و قوم کے لیے کوئی ایسا کام کیا ہو جو مفاد عامہ کا ہو اور جس سے عام بندے کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں۔ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے ہم اپنے لیڈروں کو پہلے کندھوں پہ بٹھاتے ہیں اور جب وہ ہماری سادگی کے کندھوں پہ بیٹھا انجائے کرنے لگتا ہے، تو ہم اسے کندھوں سے بلکہ نظروں سے بھی گرا 
دیتے ہیں۔ بہت پہلے کی بات ہے ہم نے اپنے ایک کالم میں صدر ایوب کے اس کام کی تعریف کی کہ انہوں نے تربیلہ ڈیم بنایا تو ہمارا کالم چھپتے ہی اس کی حمایت اور مخالفت میں لوگوں کی ای میل آنا شروع ہو گئیں۔ ان میں ایک ای میل ایسی تھی جس پہ ’’انٹرنیشنل پروفیسر‘‘ لکھا ہوا تھا۔ ہمیں یاد آیا کہ اس عنوان سے اخبارات میں ہمارے پسندیدہ کالم چھپتے ہیں جن کے آخر میں ’’ارتھ مین‘‘ کا فرضی نام درج ہوتا ہے۔ ہم نے کئی بار یہ سوچا کہ اتنا اچھا لکھنے والا یہ بندہ اپنا نام اور پتا کیوں چھپاتا ہے؟ اپنی ولولہ انگیز فکر اخبار کے قارئین سے شیئر کیوں نہیں کرتا؟ اس کا جواب ہمیں ان کی طرف سے ملنے والی ایک ای میل سے ملا۔ ہمارے پچھلے کسی کالم، جس کا عنوان ’’دتہ کے کارنامے‘‘ تھا اور جس میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ تھیٹر پہ مجرا کرنے والوں کے بجائے مجرا کرانے والے ذمہ دار افراد اور اہلکاروں کو پکڑیں۔ اس کالم میں ہم نے وزیر اعلیٰ صاحب کی شخصیت کی تعریف بھی کی (جسے ہم ذاتی پسند بھی کہہ سکتے ہیں)، اسے پڑھ کر ہمارے پسندیدہ تجزیہ نگار ’’ارتھ مین ‘‘ صاحب کو دکھ پہنچا اور 
انہوں نے ہمیں ای میل کے ذریعے اپنی ناراضگی کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ای میل کا عنوان ’’لفافہ مبارک‘‘ 
لکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ ای میل کا بقیہ متن کچھ یوں تھا۔ ’’ڈیئر انکل سرگم، وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعریف میںکالم لکھنے کے عوض ’’لفافہ‘‘ وصول کرنے پہ مبارک ہو۔ آپ کو اس کام کی کتنی رقم ملی؟ یاد رہے کہ آنے والی حکومت جب آپ سے اس کا حساب لے گی تو آپ سے یہ رقم ہضم نہیں ہو گی‘‘۔ ہمیں ایک اچھے تجزیہ نگار کی اپنے بارے میں اس غلط فہمی پہ بڑا دکھ پہنچا کہ انہوں نے اگر ہمارے بارے میں ایسی الزام تراشی کی ہے تو ان کے اگلے پچھلے سارے تجزیے بھی ایسے ہی محض بہتان آمیزی کی بنیاد پہ ہی لکھے گئے ہوں گے۔ ہم اس کالم 
کے ذریعے اپنے فاضل تجزیہ نگار کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم تو روزانہ ایسے کئی ’’لفافے‘‘ وصول کرتے ہیں مگر ان میں کرنسی والی رقم کے بجائے ہم جیسے عام لوگوںکے مسائل اور دکھ درد رقم ہوتے ہیں۔ جن لفافوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ لفافے تو ضمیر فروش اور ایمان فروش وصول کرتے ہیں۔
ہم ایسے ہوتے تو آج ہم بھی کسی سرکاری ٹی وی کے ایم ڈی یا چیئرمین ہوتے، کسی آرٹس کونسل کے سربراہ ہوتے، کسی سیاسی پارٹی میں میڈیا کے ہیڈ ہوتے۔ ہم تو آج بھی وہی کام کرتے ہیں جو ہمیں آتا ہے اور جس سے حلال کی روزی کماتے ہیں۔ اب ہم آتے ہیں اپنے کام کی طرف کہ جس کے لیے ہمیں اپنے قارئین کی طرف سے محبت بھرے لفافے ملتے ہیں۔
آج کے کالم میں انکل سرگم نے ’’الیکشن‘‘ کے موقع پہ سیاسی لیڈروں کے جانب سے اپنے عوام و خواص کو پیغامات دینے کے لیے منظوم مشورے دیے ہیں جنہیں کوئی بھی کسی کے لیے بلا اجازت استعمال کر سکتا ہے۔
آصف علی زرداری کا پیغام، جیالوں کے لیے
آنے والا ہوں، یہی شور مچائے رکھنا
میری آمد سے مخالف کو ڈرائے رکھنا
 پیغامِ نواز برائے عدالت عظمیٰ
نااہل کر کے مجھے جیل میں ڈالا تُو نے
مجھے بس اتنا بتا دے مجھے کیوں نکالا تُو نے 
 پیغام عمران برائے عوام
سیاست میں امتحان میرا کبھی لے کر دیکھو
چندے کی طرح مجھے ووٹ بھی دے کر دیکھو
پیغامِ سراج الحق برائے عام ووٹر
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ الیکشن میں کیا نہیں ہوتا؟
پیغامِ کشمیر برائے کشمیری
یہاں سے نکلا تو کہیں اور بکھر جائے گا
مسئلہ کشمیر کا ہے، کشمیر کدھر جائے گا؟
پیغام حقانی برائے اﷲ میاں
میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں امریکا میں رہتا ہوں اسکو گھر کر دے
پیغام نواز برائے مشرف
بگڑا نہ کچھ بھی تیری کاری ضرب سے میرا
پہلے ارب پتی تھا اب یو اے ای بھی ہے میرا
پیغام سابق وزیر اعظم گیلانی برائے حکومت
نامہ تو میرا نہ تھا، اُن سارے معافی ناموں میں
ہوں کیوں آزاد پھرتا میں گرمیوں کی شاموں میں
پیغام سیاستدان برائے الیکشن کمشن
تُجھ کو آتے ہیں نا اہلی کے بہانے جتنے
تُو سیاست سے نکالے گا پُرانے کتنے؟
پیغام فاروق ستار بنام عوام
میں تو قفل ہوں کسی اور کا
مجھے توڑتا کوئی اور ہے
میں کسی کو بھی نہیں چھوڑتا
مجھے چھوڑتا کوئی اور ہے
 

image

میاں نوازشریف کو مطلع سیاست پر طلوع ہوئے تقریباً 35 برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ساڑھے تین دہائیوں پر مشتمل ان کی سیاسی زندگی کا یہ دور کامیابیوں، ناکامیوں، جدوجہد، مخالفت و مخاصمت، مفاہمت اور خود ساختہ جلا وطنی کے نشیب و فراز کا مرقع ہے۔ تاہم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر تین مرتبہ وزیراعظم بننے کا اعزاز ان کے پاس ایسا ہے جس کی کم از کم ہمارے ہاں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انہیں یہ امتیاز، اعزاز اور افتخار بھی حاصل ہے کہ وہ بحیثیت وزیراعظم پاکستان ایک مرتبہ بھی اپنی مدت اقتدار پوری نہیں کرسکے۔ ہماری عمومی زندگی میں کوئی بھی شخص عام طور پر اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا، اسی کے مصداق جناب نوازشریف بھی یہ تسلیم کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوئے کہ وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ سے یکے بعد دیگرے ’’مبلغ‘‘ تین مرتبہ ان کی معزولی اور محرومی کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایک آدھ مرتبہ تو ضرور ان کی اپنی غلطی ہوگی۔ وہ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ تو ایک حقیقت ہے ناں کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ کی مدت پوری کئے بغیر معزولی اور محرومی کی ہیٹ ٹرک مکمل کی ہے تو یہ کیونکر ضروری اور عملی طور پر حقیقت ہو گی کہ ہر مرتبہ وہی حق سچ پر تھے۔ چلئے یہ بھی مان لیتے ہیں کہ یہ نقطہ نظر اپنے طور پر درست ہو سکتا ہے مگر ماہرین سیاسیات کے نزدیک سیاست خصوصاً اقتدار کی سیاست غیر معمولی ذہانت، فطانت، متانت اور صلاحیتوں کا تقاضہ کرتی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ مخالفت، مخاصمت اور بدترین محاذ آرائی کے سمندر سے گزر کر تین مرتبہ وزارت عظمیٰ سے فیض یاب اور ہم رکاب ہونے والا شخص و سیاستدان متذکرہ بالا صلاحیتوں اور خصوصیات سے بہرہ مند اور مالامال نہ ہو، مگرعملاً صورتحال کیا ہے؟ واقفان حال خصوصاً نوازشریف صاحب کی محفلوں اور رفاقت سے فیض یاب ہونے والے بتاتے ہیں کہ نوازشریف ہرگز ہرگز کوئی ایکسٹر آرڈینری Genious آدمی اور سیاستدان نہیں، بلکہ عرف عام میںایک عام سی ذہنی استعداد کے حامل روایتی سیاستدان ہیں۔ اگر وہ غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں اور استعداد کے حامل ہوتے تو اپنے ساڑھے تین دہائیوں سے زائد عرصہ سیاست میں مسلسل سرگرم رہنے کے باعث سیاستدان سے ایک States man اور مدبرو معاملہ فہم رہنما بن چکے ہوتے۔ ممکن ہے کہ گزشتہ سطور میں ظاہر کی گئی رائے سے محبان نوازشریف کو اذیت اور اختلاف ہوا ہو مگر وہ میری نہیں سیاسی پنڈتوں کی رائے تھی، جو میں نے قارئین کی نذر کر دی، وگرنہ آج ان سطور میں میرا ارادہ تو نوازشریف صاحب کے حوالے سے ہلکی پھلکی، لطیف اور کٹھی میٹھی باتیں آپ کی نذر کرنے کا ہے جس کا مقصود سیاسی تلخی، گرماگرمی اور انتخابی چپقلش کے ماحول میں ایک تو آپ کو ’’ٹھنڈا ٹھار‘‘ رکھناہے اور دوسرا مقصد آپ کو ایسے نوازشریف سے ملوانا ہے جو بیک وقت چالاک، ہوشیار، معصوم، بھولا بھالا، دل میں نفرت و کینہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ہنسی مذاق کرنے اور معاف کر دینے کی صلاحیت و ذوق کا حامل ہونے کے علاوہ فن و ثقافت اور محفل آرائیوں کا دلدادہ و کھابوں، سیر سپاٹوں کا بے حد شوقین ہے۔ گزشتہ دنوں جب نوازشریف صاحب اپنی شہزادی بیٹی کے ہمراہ وطن لوٹے تو ان کے سپاٹ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ عمومی طور پر ان کاچہرہ مثبت و منفی تاثرات سے بے نیاز ہوتا ہے مگر اس روز ان کی پریشانی چہرے سے واضح طور پر پڑھی جا سکتی تھی۔ مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ جب نوازشریف پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم بن کر پہنچے تھے تو بھی ان کے چہرے کا یہی ’’منظر‘‘ تھا اور اس کیفیت کو اخبارات نے محتاط انداز سے سنجیدگی کانام دیتے ہوئے جھلکیوں میں بطور خاص اس کا تذکرہ کیا تھا۔ آپ اس روز کے اخبارات کی ورق گردانی کر کے اس ا مر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ نوازشریف صاحب کے چہرہ کی اس کیفیت کا تذکرہ آیا ہے تو ان کے چہرہ مہرہ اور انداز ’’دلربائی‘‘ کے تناظر میں گورنمنٹ کالج میں ان کے استاد محترم مرحوم پروفیسر مشکور حسین یاد کا بیان کردہ یہ واقعہ ملاحظہ کیجئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے کمرہ نمبر 29 میں وہ ایف اے میں دو سال ان کے شاگرد رہے۔ وہ کہتے تھے، اپنے رنگ و روپ کی وجہ سے یہ کلاس کے نمایاں ترین طالب علم تھے۔ ویسے تو یہ بہت ادب کے ساتھ کلاس میں بیٹھتے اور توجہ سے لیکچر اٹینڈ کرتے تھے لیکن ان کے چہرے پرکھلتی ہوئی مسکراہٹ مجھے خاصا ڈسٹرب کرتی تھی، چنانچہ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ایک دو بار میں نے خفگی کے اندازمیں انہیں کھڑا کر کے پوچھا کہ ’’مسٹر، آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟‘‘ سر میں ہنس تو نہیں رہا ہوں، میری صورت ہی ایسی ہے۔ اچھا اگر یہی بات ہے تو بیٹھ جائو اور اپنی مسکراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کرو۔
نوازشریف کے بارے میں مشہور اور یہ تاثر عام ہے کہ اگر وہ ایک مرتبہ کسی سے ناراض ہو جائیں ، کوئی شخص ایک مرتبہ ان کے دل سے اتر جائے تو پھر وہ اسے دوبارہ پہلی سی محبت اور پذیرائی دینا تو دور کی بات ہے، نزدیک بھی پھٹکنے نہیں دیتے۔ مگر موڈ آ جائے تو بدتمیزی بھی ہنس کے ٹال جاتے ہیں۔ 2000ء میںلاہور سے سید شرافت حسین کی ایک کتاب شائع ہوئی’’نوازشریف کا مقدمہ‘‘ اس میں صفحہ 19 پر انہوں نے نوازشریف کے معاف کر دینے اور دریا دلی کے حوالے سے یکے بعد دیگرے دو واقعات لکھے ہیں۔ پہلا واقعہ ان کے استاد مرحوم پروفیسر مشکور حسین یاد کا بیان کردہ ہے۔ وہ کہتے ہیں، نوازشریف 1967ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے بی اے فائنل کے طالب علم تھے۔ایک روز میں ان کے ساتھ تھا ، ایک چوک پر اشارہ بند ہونے کے باعث ہماری کار رکی تو یکایک پیچھے سے کسی کی گاڑی میاں صاحب کی کار سے ٹکرائی، میاں صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا، ہلکے سے مسکرائے اور React یا غصہ کیے بغیر اشارہ کھلنے پر آگے بڑھ گئے، لیکن یہ رویہ ان کا صرف زمانہ طالب علمی تک محدود نہ رہا۔ وزیراعظم بننے کے بعد ایک رات جب وہ خود گاڑی ڈرائیور کر کے مزنگ لاہور کی مشہور دکان سے نان کباب کھانے پہنچے تو انہوں نے جہاں گاڑی پارک کی وہاں ایک انکم ٹیکس آفیسر کا مکان تھا۔ مالک مکان نے اندھیرے میں پہچانے بغیر انہیں سخت لفظوں میں گاڑی ہٹانے کیلئے کہا اور میاں صاحب نے بغیر چوں چرا گاڑی وہاں سے ہٹانے کیلئے سٹارٹ کی تو روشنی ہوتے ہی مالک مکان گھبرا کر تقریباً بدحواس ہو گیا، اس نے وزیراعظم کو پہچان لیا تھا اور اپنی بدتمیزی و بدتہذیبی پر سخت پشیمان تھا مگر میاں صاحب نے سب بھانپ کر اسے ہاتھ کے اشارے سے سب اچھا اور ڈائونٹ وری کا سگنل دیا۔ اس واقعہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ میاں صاحب چھوٹے موٹے واقعات کو دل میں نہیں رکھتے اور موقع پر ہی بھول جانے کو ترجیح دیتے ہیں مگر ہمارے دوست سابق رکن اسمبلی میاں محمود احمد کا بیان کردہ یہ واقعہ ملاحظہ کیجئے، اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ میاں صاحب معاف کر دینے اور بھول جانے کے الفاظ ہی سے آشنا نہیں۔ میاں محمود صاحب بتاتے ہیں کہ جب نوازشریف صاحب پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تب میں بھی شاہدرہ لاہور راوی پار علاقہ سے صوبائی اسمبلی کا رکن بنا۔ وزارت اعلیٰ کیلئے جوڑ توڑ شروع ہوا تو نوازشریف اور شہبازشریف دونوں بھائی بریف کیس لے کر میرے ہاں آئے اور مجھے دو لاکھ روپے نقد آفر کرتے ہوئے ووٹ دینے کو کہا تاکہ وہ وزیراعلیٰ منتخب ہو سکیں۔ مجھے میاں صاحبان کا یہ انداز اچھا نہ لگا، چنانچہ میں نے کہا میاں جی! اگر وزیراعلیٰ بننے کیلئے آپ میرے ووٹ کی دو لاکھ روپے قیمت لگا رہے ہیں تو اسی ریٹ پر اسی منصب کیلئے میں بھی آپ سے ووٹ کا طلبگار اور خریدار ہوں۔ میاں محمود بتایا کرتے ہیں کہ میرے منہ سے یہ الفاظ ادا ہونے تھے کہ دونوں برادران کے چہرے اتر اور لٹک گئے۔ مختصر یہ کہ بعدازاں وہ وزیراعلیٰ بن بھی گئے، کئی دوستوں اور ارکان اسمبلی نے بہت کوشش کی کہ وزیراعلیٰ میاں نوازشریف کو مجھے معاف کر دینے پر آمادہ کر لیں مگر کبھی کوئی ایسی کوشش بارآور نہ ہوئی اور میاں صاحب مجھ سے ہمیشہ ناراض ہی رہے۔ یوں میں پیر پگاڑا کی مسلم لیگ (تب) سے وابستہ چودھری پرویز الٰہی گروپ کا رکن بنا رہا۔
یقینا میرے بہت سے قارئین آگاہ ہیں کہ ان سطور کا یہ راقم پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ رہا ہے۔ میں کسی بڑے انتظامی عہدے پر نہیں تھا بلکہ شعبہ حالات حاضرہ کا ایک پروڈیوسر تھا، جس کے فرائض میں صدر اور وزیراعظم کی سرگرمیوں کی ریکارڈنگ کرنا بھی شامل رہا ہے۔ یوں میں نے عرصہ ملازمت کے دوران میاں نوازشریف صاحب کے لاتعداد پروگرامز اور تقاریر و خطابات ریکارڈ کیے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب نوازشریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو یہ ہر ہفتہ کے دن یعنی Satarday کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر براہ راست عام لوگوں کے فون سنا کرتے تھے۔ حسن اتفاق روز اول سے یہ ایونٹ میری منصبی ذمہ داری میں آیا۔ یہاں میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ نوازشریف صاحب کی متعدد بار کوریج کرنے کے باوجود میں ان کے قریبی اور ذاتی حلقہ کا کبھی حصہ نہیں رہا، گویا میری حیثیت محض ایک پی ٹی وی پروڈیوسر ہی کی تھی۔ اس تفصیل کے بعد آیئے اب میں آپ کو میاں صاحب کی سادگی کا ایک قصہ سنائوں۔ ایک مرتبہ میں ٹیلی فونز والی ریکارڈنگ کرنے میاں صاحب کے ہاں پہنچا اور اپنا سیٹ اپ وغیرہ لگوا رہا تھا کہ میاں صاحب شب خوابی کے لباس میں اس کمرہ میں آ گئے جہاں ہم ریکارڈنگ کرتے تھے۔ خاموشی سے سامان کی تنصیب کا عمل دیکھتے رہے، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے آیئے آپ کو ایک بڑی یونیک چیز دکھاتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے وہ مجھے اپنی کوٹھی کے رہائشی حصہ کی طرف لے گئے جہاں سفید رنگ کی ایک بہت بڑی لش پش کار کھڑی تھی۔ میاں صاحب نے ملازم سے کہہ کر اس کی چابی منگوائی اور پھر آگے پیچھے کے دروازے کھول کر اسے سٹارٹ کیا اور مجھے بتایا کہ یہ ہینڈ میڈ گاڑی ہے،
 ایک میرے پاس ہے اور دوسری پاکستان میں بلوچستان کے ایک سردار کے پاس ہے۔ میں میاں صاحب کے پہلو میں چپ چاپ حیران کھڑا تب بھی سوچ رہا تھا اور اب بھی جب کبھی خیال آتا ہے، سوچتا ہوں کہ میاں صاحب وزیراعظم پاکستان کو یہ شان و شوکت اور جاہ و جلال والی بات پی ٹی وی کے ایک کم ترین بے چارے پروڈیوسر کو بتانے کی آخر کیا ضرورت تھی؟؟ مگر شاید وہ جو چالاک ہوشیار نوازشریف کے اندر ایک سیدھا سادا بھولا بھالا بچہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، وہ اپنی سادگی اور دکھلاوے کا اظہار کرنا چاہ رہا تھا۔ کالم کی تنگ دامنی آڑے آ رہی ہے، انشاء اللہ یار زندہ صحبت باقی، پھر سہی۔
باعث افتخار
 

image

خیر کی خواہش عموماً اس کے لیے کی جاتی ہے جس کی سلامتی کے متعلق تشویش کی گنجائش موجود ہو۔ سردست پاکستان کی سلامتی کو تو کوئی خطرہ نہیں مگر پھر بھی یہ برملا کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ’’عافیت‘‘ ناپید ہے۔ جہاں عافیت ناپید ہو اس مقام، خطے اور ملک کے لیے بھی خیر کی خواہش کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ جس ملک میں انتخابات سر پہ ہوں اور الیکشن میں حصہ لینے والے کچھ لوگوں سمیت مختلف حلقوں کی ترجیح انتخابات کے انعقاد سے قبل دیگر امور کی انجام دہی بن جائے تو وہاں عافیت کا احساس کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ افسوس کہ جہاں انتخابات کے انعقاد کے بجائے مختلف ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے وہاں دہشت گردوں نے بھی اپنی کارروائیوں شروع کر دی ہیں۔ جہاں دہشت گردی ہو وہاں خیر وعافیت کا احساس کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ انتخابات کے دوران سیاسی سرگرمیوں سے زیادہ اہم کچھ اور نہیں ہو سکتا مگر جب سیاسی سرگرمیوں کے دوران پے درپے دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہوں تو پھر بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے بے گناہ لوگوں کا احوال بیان کرنے سے زیادہ اہم کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ شاید مختلف قسم کے لوگ ہونے کی وجہ سے ہم اس طرح کی حساسیت سے عاری ہیں اور شاید اسی وجہ سے ہم نے 13 جولائی کو مستونگ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی بجائے میاں نواز شریف کی وطن واپسی، استقبالیہ ریلی اور گرفتاری کو زیادہ اہم سمجھتے ہوئے اپنی توجہ اسی طرف مبذول رکھی۔
عدالت سے سزائے قید کے فیصلے کے بعد میاں نوازشریف لندن میں سیاسی پناہ کے لیے کوشش کرنے کے بجائے اپنی بیٹی محترمہ مریم سمیت وطن واپس آئے اور ملکی قانون کے مطابق ان کی سزا پر عملدرآمد کا آغاز ہوا۔ میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر مختلف قسم کے تبصرے سننے کو مل رہے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی پناہ لینے کے امکان کے باوجود میاں نوازشریف نے جس جرأت مندی سے وطن واپسی کا فیصلہ کیا وہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ اس موقف کے برعکس کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف فطرتاً سیاستدان سے زیادہ ایک بزنس مین ہیں۔ کوئی بزنس مین گھاٹے کا سودا کر ہی نہیں سکتا۔ اگر میاں نواز شریف نے مختلف آپشنزمیں سے وطن واپس آنے اور خود کو قانون کے حوالے کرنے کا آپشن چنا تو اسی میں انہیں اپنا سب سے زیادہ فائدہ نظر آیا ہو گا۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وطن واپسی سے میاں نوازشریف کو کس قدر فائدہ حاصل ہوا۔
عدالت سے سزا پانے کے باوجود ابھی تک میاں نوازشریف کے لیے فائدہ حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں مگر جو لوگ ہارون بلور، سراج رئیسانی اور اکرم درانی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملوں کے دوران شہید ہوئے وہ ہر قسم کے دنیاوی فائدے و نقصان کے حصول سے مبرا ہو چکے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران دہشت گردوں کے حملوں میں ہلاک و زخی ہونے والوں کیلئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ کسی لالچ کے بغیر سیاسی عمل کا حصہ بنے تھے۔ یہ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس ملک میں سیاسی عمل کا تسلسل چاہنے والوں میں سے تھے۔ ان مرنے والوں کو شہید کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان شہیدوں کو جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کے دوران رونما ہونے والے دہشت گردی ان واقعات نے نہ جانے کیوں اسفند یار ولی پر ہونے والے اس خود کش حملے کی یاد تازہ کر دی ہے جس میں خوش قسمتی سے وہ خود محفوظ رہے تھے۔ یہ خود کش حملہ اس لیے یاد آ رہا ہے کہ جب 2 اکتوبر 2008ء کو دہشت گردی کا یہ واقعہ رونما ہوا، ان دنوں جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد مرحوم خیبر تا کراچی ٹرین مارچ میں مصروف تھے۔ اس خود کش حملے کے بعد اسفند یار ولی کو تو یہ باور کرایا گیا کہ ان پر دہشت گردی کے اس طرح کے مزید حملوں کا امکان موجود ہے، لہٰذا وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر دیں، مگر قاضی حسین احمد کو ٹرین مارچ جاری رکھنے سے کسی نے نہ روکا اور حیرت انگیز طور پر وہ ہر قسم کی دہشت گردی سے محفوظ بھی رہے۔ اس وقت سے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ دہشت گرد اپنی کارروائیاں اس قدر ’’چن چن‘‘ کر کیوں کرتے ہیں۔ یہ دہشت گرد اپنی دھن کے اتنے پکے ہیں کہ انہوں نے ’’چن چن‘‘ کر کارروائیاں کرنے کا سلسلہ رواں الیکشن میں بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے ان پے درپے واقعات کے باوجود ابھی تک الیکشن مقررہ تاریخ پر ہی ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، مگر خدانخواستہ اگر دہشت گرد اس طرح کی مزید کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو گئے تو انتخابات کے التوا کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائیوں کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو گئے تو یہ امر پاکستان میں سیاسی عمل کے تسلسل کے لیے انتہائی منفی اور نقصان دہ ثابت ہو گا۔
دہشت گردی کے واقعات 
کی وجہ سے انتخابات کا التوا ایک ایسا امکانی نقصان ہے جس کا ذکر کئی تجزیہ نگار اپنی تحریروں اور بیانات میں کر چکے ہیں، مگر یہ واقعات بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا ذکر کم ہی سننے کو ملا ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس فروری میں پیرس میں منعقد ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو ان خدشات کی وجہ سے گرے لسٹ میں یا زیر نگرانی رکھ لیا گیا تھا کہ یہاں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے سازگار حالات موجود ہیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے جون میں ہونے والے اجلاس میں سخت کوششوں کے باوجود پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے بجائے بدستور زیر نگرانی رکھا گیا۔ انتخابات سے قبل دہشت گردوں نے جو پے در پے خود کش بم دھماکے کیے ہیں، یہ خاطر خواہ مالی وسائل کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتے تھے۔ ان بم دھماکوں سے بیرونی دنیا میں اس شک کا اضافہ ہو گا کہ اب بھی یہاں کسی نہ کسی سطح پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کا سلسلہ جاری ہے۔
دہشت گردی کے موجودہ واقعات سے بیرونی دنیا جو بھی پیغام لے، مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے بعد یہاں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی۔ دہشت گردی کے واقعات میں یہ کمی سکیورٹی اداروں کی دہشت گردی کے خاتمہ پر تمام تر توجہ مبذول کرنے کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔ اب بھی یہ بات فراموش نہ کی جائے کہ پاکستان کی خیر سکیورٹی اداروں کی  تمام تر توجہ دہشت گردوں کے خاتمے پر مرکوز رہنے میں ہی ہے۔
لعل و گہر
 

image

عمرانیات اور نفسیات کے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ انسان ایک معاشرتی جانور ہے یعنی وہ اکیلا اپنی زندگی بسر نہیں کر سکتا اور اس کی فطرت میں اکٹھے اور مل جل کر رہنا شامل ہے۔ سماجی فلسفہ پر مبنی یہ تصور اپنی جگہ درست سہی لیکن یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ ’’معاشرتی جانور‘‘ ایک دوسرے کا خون بہانے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے سلسلے میں یہ جنگل کے جانوروں سے بھی بدتر، ظالم اور سفاک واقع ہوا ہے۔ اس سلسلے میں روزانہ شائع ہونے والے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی ’’بھیانک بریک نیوز‘‘ ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میرے اس خیال اور احساس کا سبب یہ خبر بنی کہ چکوال میں تھانہ نیلہ کے علاقے منڈے میں ایک وحشی باپ نے اپنے کمسن بیٹے اور بیٹی کو ہتھوڑے مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔ بتایا گیا کہ 45 سالہ جاوید نے 7 سالہ بیٹے محمد ابراہیم اور 9 سالہ بیٹی سائرہ غزل کو کمرے میں لے جا کر ہتھوڑے سے وار کرکے شدید زخمی کیا اور باہر سے تالا لگا کر فرار ہوگیا۔ بچوں کی ماں نے ہمسایوں کی مدد سے دونوں بچوں کو شدید زخمی حالت میں کمرے سے باہر نکالا اور ہسپتال منتقل کیا لیکن دونوں بچے راولپنڈی ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔
اسی طرح گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ کے علاقہ راہوالی میں 20 سالہ نوجوان رحمان علی کو اس کے اپنے ہی ہمسایہ دوستوں نے محض موبائل چھیننے کی خاطر اینٹیں مار کر نا صرف بے دردی سے قتل کر ڈالا بلکہ اپنے جرم کو چھپانے کے لیے قتل کے واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کے لیے نعش کو ریلوے لائن کی پٹڑی پر پھینک دیا اور گاڑی اوپر سے گزر گئی۔اخباری اطلاع کے مطابق 27 جون 2018ء کو بوقت 8:30 بجے رات امجد پرویز اپنے چچا زاد بھائی ناصر علی نواز کے ہمراہ اپنے بیٹے رحمان علی کی دکان پر بیٹھا تھا اس کے بیٹے رحمان علی کے دوست عقیل اور ذیشان دکان پر آئے اور رحمان علی کو اپنی موٹر سائیکل پر اپنے ساتھ لے گئے، جب کافی دیر گزر گئی اور رحمان علی واپس نہ آیا تو اس کے والد اور اہل خانہ کو تشویش لاحق ہوئی جس پر امجد پرویز نے اپنے کزن ناصر علی کے ساتھ مل کر رحمان علی کی تلاش شروع کر دی۔ اس دوران رحمان علی اور اس کے دوستوں عقیل اور ذیشان کے موبائل فون پر کال بھی کرتے رہے مگر تینوں کے ٹیلی فون نمبر بند جا رہے تھے۔ رات ساڑھے 12 بجے قریب چن داقلعہ کے رہائشی محمد حنیف اور ظہیر گھر پر آئے اور بتایا کہ بوقت قریب 11 بجے رات ہم نے دیکھا کہ میرج ہال کی بیک سائیڈ پر 3 نامعلوم ملزم ذیشان رحمان علی کے سر پر اینٹ سے وار کر رہے تھے جبکہ عقیل، رحمان علی کے گلے میں چادر سے پھندا دے رہا تھا۔ واقعہ کی اطلاع سنتے ہی رحمان علی کے اہل خانہ جائے وقوعہ میرج ہال کی بیک سائیڈ پر پہنچے تو وہاں پر رحمان علی کی لاش موجود نہ تھی البتہ بوقت قریب 8 بجے دن میرج ہال کے گن مین نے بتایا کہ لاش گکھڑ منڈی پولیس ٹرین کے نیچے آنے کی اطلاع پر لے گئی ہے جس کے بعدرحمان علی کے لواحقین تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال وزیر آباد گئے لیکن لاش نہ مل سکی۔ بعدازاں تھانہ گکھڑ منڈی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ لاش سول ہسپتال کے مردہ خانہ میں پڑی ہے۔ رحمان علی کو قتل کرنے والے اس کے دوست عقیل کو پولیس نے گرفتار کر لیا ۔ ملزم نے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے رحمان علی کو رات کے وقت اینٹیں مار کر قتل کر دیا تھا اور مقتول کی لاش 2 کلو میٹر کے فاصلہ پر ریلوے لائن پر پھینک دی تھی۔ متوفی کے پاس ڈیڑھ لاکھ روپے مالیت کا موبائل فون تھا جو اس سے چھیننے کی کوشش کی گئی تھی۔ ملزم کے مطابق وہ رحمان علی کی ترقی سے حسد کرتا تھا۔ 
سرگودھا کے مضافاتی تھانہ میانی کی حدود چک سیداں کے قریب نہر شاہ پور برانچ سے 8 مئی 2018ء کو ایک خاتون کی لاش برآمد ہوئی تو علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تھانہ میانی پولیس کو اطلاع ملی کہ نہر میں ایک خاتون کی لاش سرکنڈوں میں پھنسی ہوئی ہے جس پر ایچ آئی یو کے انویسٹی گیشن آفیسر اور دیگر پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیم موقع پر پہنچ گئی، ریسکیو کرکے لاش نہر سے باہر نکالی گئی جس کے جسم اور گلے پر لگے نشانات سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اسے تشدد کے بعد گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا، لاش کو پوسٹمارٹم کے لئے ہسپتال پہنچایا گیا۔ اس سلسلہ میں انکشاف ہوا کہ وہ اپنے شوہر اور بھائیوں کے ہاتھوں غیرت کی بھینٹ چڑھ گئی جس پر پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرکے ایف آئی آر میں غیرت کے نام پر قتل کی دفعہ 311 بھی شامل کرلی، پولیس کو ابتدائی تفتیش کے دوران ایسے شواہد مل گئے جس کی بنیاد پر پولیس ٹیم کو کچھ امید بندھی اور انویسٹی گیشن آگے بڑھی، ہوا یوں کہ نہر سے لاش ملنے کی خبر پھیلی تو مویشی فروخت کرنے والے دو بیوپاریوں سے پولیس کو پتا چلا کہ گزشتہ شام تین افراد ایک خاتون کو نہر کے کنارے تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے جس پر وہ انہیں منع کرنے کے لیے آگے بڑھے تو ان میں سے ایک نے دونوں بیوپاریوں پر اسلحہ تان لیا جس کے باعث وہ چلے گئے۔
 اسی دوران ایک اور شخص نے خاتون کی مردہ حالت کی تصویر دیکھ کر شبہ ظاہر کیا کہ وہ قریب ہی واقع نواحی گائوں ’’میان دابنہ‘‘ کی جعفر کالونی کی رہائشی نازیہ لگتی ہے جس پر پولیس نے خفیہ طور پر معلوم کرایا تو اس امر کی تصدیق ہوگئی وہ نازیہ ہی کی لاش تھی جو فاروق نامی شخص کی بیوی تھی اور کچھ روز سے غائب تھی جس پر گائوں کی ریکی بڑھا دی گئی تو معلوم ہوا کہ نازیہ کی شادی 15 سال قبل فاروق سے ہوئی اور اس کے چار بچے حیات ہیں، پولیس نے فاروق، نازیہ کے بھائی الطاف اور صدام کو حراست میں لے لیا۔ تینوں ملزمان کی مجسٹریٹ کے سامنے متذکرہ بیوپاریوں کو بلا کر شناخت پریڈ کرائی گئی جنہوں نے ملزمان کو شناخت کر لیا کہ یہ تینوں وہی ہیں جو خاتون کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔ اس پر تینوں گرفتار ملزمان نے اعتراف کر لیا کہ انہوں نے ہی نازیہ کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عنصر نامی شخص کو پسند کرتی تھی جسے شوہر کے علاوہ بھائیوں نے بھی متعدد مرتبہ منع کیا۔بقول فاروق ’’قتل سے چند روز قبل نازیہ نے اسے دھمکی دی تھی کہ وہ اس سے طلاق لے کر عنصر سے شادی کر ے گی‘‘ ۔اس پر نازیہ کے شوہر فاروق اور بھائیوں الطاف و صدام نے اس کے قتل کا منصوبہ بنایا، جس کے تحت فاروق اسے نہر شاہ پور برانچ کی پٹڑی پر لے آیا، جہاں صدام اور الطاف پہلے سے موجود تھے۔ وہاں پر نازیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعدازاں گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار کر ملزمان نے نعش نہر میں پھینک دی تاکہ وہ پانی میں بہتے ہوئے کسی دوسرے علاقے میں چلی جائے اور ان کا جرم چھپ سکے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اسی رات وارہ بندی کے سلسلے میں نہر بند کر دی گئی اور پانی اترنے کے سبب نازیہ کی لاش آگے نہ جا سکی اور سرکنڈوں میں پھنس گئی ۔ 
یہ واقعات ناصرف ہمارے معاشرتی انحطاط کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ یہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ عمرانیات اور نفسیات کے ماہرین کے بجائے وہ رومان پسند شاعر(مصطفی زیدی) زیادہ آدم شناس تھا جس نے کہا تھا :
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

image

صدر ٹرمپ کا دورہ یورپ ان کے ناقدین اور وہ انقلابی قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اکیلے حیرت انگیز طور پر نیٹو ارکان کو اپنے دفاعی اخراجات میں اضافے کیلئے قائل کیا۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ انہوں نے اکیلے مغربی اتحاد کو کاری ضرب لگائی، امریکا کے انتہائی قریبی پارٹنرز کے مابین شک و شبہات کی بیج بو دیئے۔ دونوں کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔ ٹرمپ کے مطالبات میں نئی کوئی بات نہیں؛  امریکیوں کی بڑی تعداد یہ مطالبات کرتی رہی ہے۔ صدر باراک اوباما نے نیٹو اتحادیوں سے کئی مرتبہ یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ ان کے پہلے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اپنی مدت ختم ہونے سے چند ہفتے قبل الوداعی خطاب کیلئے یورپ کا انتخاب کیا، جس میں انہوں نے اسی مسئلے پر بات کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ایسے اتحادیوں کیلئے قیمتی فنڈز میں اضافے پر امریکی عوام کے تحفظات کا ذکر کیا جوکہ اپنے ہی دفاع سے متعلق غیر سنجیدہ اور بظاہر دفاعی صلاحیت سے بھی عاری ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کی امریکی رہنما جوکہ سرد جنگ کے دور کا تجربہ نہیں رکھتے، شاید وہ نیٹو اخراجات کی صورت میں امریکی سرمایہ کاری کی اہمیت قابل غور نہ سمجھیں۔
ٹرمپ کا جرمنی پر واشگاف الزام کہ وہ روس کی قدرتی گیس کا بہت زیادہ محتاج ہو چکا ہے، قابل غور ہے۔ جرمنی نے روس کیساتھ توانائی کے معاہدوں پر جس طرح دستخط کئے، اسٹریٹجک نقطہ نظر سے خطرناک اقدام ہے۔ تاہم ٹرمپ کی پوری بات درست نہ تھی۔ معاملہ صرف روس سے بھاری مقدار میں قدرتی گیس خریدنے کا نہیں، یا یہ کہ جرمنی بلیک میل کیا جا سکتا ہے؛ بلکہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جرمنی سے ملنے والے کیش پر روس بھی بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ نئی پائپ لائنوں کی وجہ سے روس کو موقع ملے گا کہ مشرقی یورپی ممالک کو گیس کی فراہمی روک   دے، یا پھر قیمتیں بڑھا دے۔ ماسکو ماضی میں انرجی کارڈ کئی بار کھیل چکا ہے۔ ٹرمپ آج جو شکایت کر رہے ہیں، اوباما انتظامیہ کئی مرتبہ اس پر آواز اٹھا چکی ہے۔ ابھی تک ایسا کچھ سامنے نہیں آیا جو ظاہر کرے کہ ٹرمپ کا جارحانہ انداز نتائج دے رہا ہے۔ ماسوائے اس کے کہ یورپی اتحادیوںنے محسوس کیا کہ انہیں دبایا جا رہا ہے۔ اسی لئے جرمن وزیر خارجہ نے ٹرمپ کو باور کرایا کہ جرمنی امریکا یا روس میں سے کسی کا محکوم نہیں۔
البتہ اصل انقلاب وہ ہے جوکہ ٹرمپ امریکی خارجہ پالیسی کیساتھ کر رہے ہیں۔ وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ریپبلکن پارٹی کی ازسرنو تشکیل کا اپنا منصوبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔وہ نئی ریپبلکن خارجہ پالیسی کی تخلیق کے منصوبے پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں جوکہ اس کی تاریخی اساس کے بہت قریب ہے؛یعنی غیر ملکیوں ، اتحادیوں اور معاہدوں سے بدگمان رہنا، اور بعض معاملات میں بالکل غیر جانبدار ہو جانا۔ اپنی ریلیوں سے خطاب میں انہوں نے امریکا کے قریب ترین اتحادیوں کو ’’بدترین دشمن‘‘ قرار دیا اورکہا کہ وہ سلامتی اور تجارت دونوں شعبوں میں ہمیں ’’ ہلاک ‘‘ کر رہے ہیں۔ نیٹو اور یورپی یونین کیساتھ امریکا کے معاملات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی نامعقول ہیں۔
نیویارک میگزین میں جوناتھن کیٹ لکھتے ہیں ،’’ ٹرمپ اپنی پارٹی کو نیٹو سے نفرت اور پیوٹن کو پسند کرنے کی تربیت دے رہے ہیں‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اس کوشش میں شاندار کامیابی حاصل کر چکے ہے: 51فیصد ریپبلکن اب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نیٹو اتحادیوں کا امریکا کو اس وقت تک دفاع نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرتے۔ حیران کن حد تک ٹرمپ روس اور روسی ڈکٹیٹر ولادی میر پیوٹن کے بارے ریپبلکن سوچ تبدیل کر چکے ہیں۔ ایک حالیہ ریلی میں ٹرمپ نے کہا ،’’ آپ کو معلوم ہے، پیوٹن ایک نفیس آدمی ہیں، ہم بھی نفیس لوگ ہیں‘‘۔ آج کے ریپبلکن ارکان ڈیموکریٹس کے مقابلے میں پیوٹن سے متعلق مثبت رائے دینگے، 56فیصد ریپبلکن روس کیساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کی آئیڈیالوجی انتہائی لچک دار رہی ہے۔ اس پارٹی کی لاء اینڈ آرڈر کمیٹی ایف بی آئی پرسخت عدم اعتماد کرنے لگی ہے۔ آزاد تجارت سے متعلق پارٹی کی رائے بھی ڈیموکریٹس کے مقابلے میں یکسر مختلف ہو چکی ہے۔ رونالڈ ریگن کے دور میں تارکین وطن سے متعلق جو پارٹی انتہائی مثبت رائے رکھتی تھی، آج بغیر دستاویزات کے آنیوالے تارکین کے خلاف قانونی کارروائی ، بچے خاندان سے علیحدہ کرنے کی حمایت کر رہی ہے۔ٹرمپ اپنی سیاسی بصیرت سے جان چکے ہیںکہ پارٹی میں نظریاتی انقلاب کیلئے ماحول انتہائی ساز گار ہے؛ اعلیٰ سطح پر ریگن فارمولے کی توثیق کرنیوالے اگرچہ موجود ہیں مگر نچلی سطح پر اسے قبول کرنے والے بہت کم ہیں۔5 سال قبل ریپبلکن اسٹیبلشمنٹ سے کسی نے لکھا کہ ریپبلکن پارٹی میں تنہائی پسندی کا عفریت چکر کاٹ رہا ہے۔۔۔۔ مگر یقین نہیں کہا جا سکتا کہ تنہائی پسندی کا عنصر چھا جائے گا۔ یہ ضروری ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی قومی سلامتی کمیٹی جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ان کا مناسب جواب دے تاکہ پارٹی میں ربط بحال اور نئی تنہائی پسندی کا رجحان ختم ہو سکے‘‘۔ 
یہ الفاظ جان بولٹن کے تھے، جوکہ آج ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی ہیں۔ لگتا ہے کہ بولٹن بھی ٹرمپ کا انقلاب قبول کر چکے ہیں۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ڈیلی واشنگٹن پوسٹ)

image

کشمیری مسلمانوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب نہتے کشمیری مسلمانوں کی عزتیں و حقوق پامال نہ ہوتے ہوں اور ان کی جائیدادوں و املاک کو تباہی سے دوچار نہ کیا جاتا ہو۔ 8 لاکھ بھارتی فوج آئے دن نت نئے مظالم ڈھانے میں مصروف ہے۔ جگہ جگہ سے اجتماعی قبریں برآمد ہورہی ہیں۔ سرگرم کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر فرضی جھڑپوں میں شہیدکرنا معمول بن چکا ہے۔ لاکھ سے زائد مسلمان شہید کیے جاچکے، ہزاروں کشمیری نوجوان تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش میں ان کے اہل خانہ خاک چھانتے پھرتے ہیں، اس کے باوجود حریت پسند قیادت اور عوام نے غاصب بھارتی فوج کے مقابلے میں وہ لازوال قربانیاں پیش کی ہیں کہ انہیں سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔ 
اسی حوالے سے 13جولائی 1931ء کشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل دن ہے۔ گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی یہ یوم انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا، اس روز سری نگر کی سینٹرل جیل کے باہر ڈوگرا فوج نے بدترین ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23 افراد کو فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔ اس واقعے سے قبل 19 اپریل 1931ء کوجموں کی جامع مسجد کے امام مفتی محمد اسحٰق میونسپل باغ کمیٹی میں عیدالاضحیٰ کا خطبہ دینے کے لیے موجود تھے کہ ڈوگرا پولیس کے انتہائی متعصب ڈی آئی جی چوہدری رام چند نے انہیں خطبہ دینے اور نماز کی ادائیگی سے روک دیا، جس پرمقامی مسلمانوں نے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور پورے جموں میں زبردست احتجاجی لہر چھڑ گئی۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ جموں میں ہی 4جون 1931ء کوایک ہندو پولیس انسپکٹر لبھو رام نے (نعوذ بااللہ) قرآن پاک کی بے حرمتی کی، جس پر کشمیری مسلمانوں کے جذبات مزید مشتعل ہو گئے اور 
پوری ریاست میں احتجاج کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان واقعات کے خلاف 25 جون کو ریڈنگ روم پارٹی کی جانب سے سرینگر میں بہت بڑا جلسہ کیا گیا، جس میں شیخ محمد عبداللہ سمیت کئی لیڈروں نے ڈوگرا راج کے خلاف تقریریں کیں۔ اسی جلسے میں عبدالقدیر نامی نوجوان نے آگے بڑھ کر ڈوگرا حکمرانوں کے خلاف قرآن و حدیث کی روشنی میں ایسی زبردست تقریر کی جس نے لوگوں کا خون گرماکر رکھ دیا۔ ان کے اس خطاب کے فوری بعد انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ 5 جولائی کو اس کیس کی سماعت سینٹرل جیل سری نگر میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے خلاف 12جولائی کو پورے شہر میں تاریخی ہڑتال کی گئی۔ 
13 جولائی کو سینٹرل جیل میںکیس کی سماعت ہونا تھی۔ اس دن صبح سے ہی سری نگر اور گردونواح سے قافلوں نے جیل کے باہر پہنچنا شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ یہ تعداد اس قدر بڑھی کہ دُور دُور تک لوگوں کا سمندر نظر آتا تھا جو اپنے اس بھائی کو جیل میں ڈالے جانے کے خلاف احتجاج کرنے اور اس کیس کی کارروائی سے متعلق آگاہی کے لیے یہاں پہنچے تھے۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ نماز ظہر کا وقت آن پہنچا اور لاکھوں کشمیریوں نے نماز کی تیاری کا آغاز کردیا۔ اس دوران ایک نوجوان اذان کہنے کے لیے آگے بڑھا اور ابھی اس نے اللہ اکبر ہی کہا تھا کہ ڈوگرا فوجیوں نے گولی چلائی جو اس کے سینے پر لگی اور وہ موقع پر شہید ہوگیا۔ ڈوگرا فوجیوں کی یہ حرکت پورے مجمع کے لیے چیلنج تھی۔ پہلے نوجوان کی شہادت کے بعد دوسرا آگے بڑھا، اس نے بھی ابھی اللہ اکبر ہی کہا تھا کہ اسے بھی گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ جیل کے باہر موجود کشمیری اس قدر پُرعزم تھے کہ ہر شخص آگے بڑھ کر اذان کہتے ہوئے شہادت حاصل کرنے کا متمنی تھا۔ کسی کو گوارا نہ تھا کہ جس نماز کی نیت سے اذان کہی جارہی ہے، وہ مکمل نہ ہوسکے۔ غیور کشمیری آگے بڑھتے اور اذان کہتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے رہے۔ یوں پوری دنیا کی تاریخ میں یہ منفرد اذان تھی جسے مکمل کرنے کے لیے  23افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 
سینٹرل جیل کے باہر نہتے کشمیریوں پر گولیاں برسانے کی خبر جب وادی کے اطراف و کناف میں پھیلی تو ہر طرف طوفان بپا ہوگیا اور ڈوگرا حکمرانوں کے خلاف نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا۔ جگہ جگہ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج شروع کردیا جو کئی ماہ تک جاری رہا۔ 15 جولائی سے 24 ستمبر تک کشمیر کے چپے چپے میں ڈوگرا فوجیوں نے احتجاج کرنے والوں کا زبردست قتل عام کیا اور اس دوران کثیر تعداد میں مزید کشمیری شہید کردیے گئے۔ 17جولائی 1931 کو جمعہ تھا۔ چار دن پہلے سینٹرل جیل کے باہر ہونے والے قتل عام کے باعث پوری وادی غم واندوہ میں ڈوبی تھی۔ ڈوگرا حکمرانوں کے خلاف کشمیری مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت شعلوں میں تبدیل ہوچکی تھی۔ ہر سو لوگ سراپا احتجاج تھے۔ نماز جمعہ کے بعد پوری وادی میں احتجاج کا پروگرام تھا۔ لوگ قطار اندر قطار مساجد کا رخ کررہے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے تمام راستے مساجد کو جاتے ہوں۔ بھاری تعداد میں ڈوگرا فورسز تعینات تھیں، کسی کو معلوم نہ تھا کہ آج خون کی ایک اورہولی کھیلی جائے گی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جب احتجاجی جلوس نکالا گیا تو وہاں ڈوگرا فوجیوں نے ایک بار پھر بندوقوں کے دہانے کھول دیے اور دیکھتے ہی دیکھتے چھ کشمیری شہید کردیے گئے۔ لوگوں کے جذبات اس قدر مشتعل تھے کہ غلام محمد خان نامی ایک نوجوان جس کی شادی انہی دنوں ہوئی تھی، نے جب جلوس پر گولیاںچلتے دیکھیں تو اس نے اپنی دکان میں جلنے والے چولہے سے ایک جلتی لکڑی نکالی اور پولیس اہلکاروں پر ٹوٹ پڑا جنہوں نے جواب میں تھری ناٹ تھری بندوق سے اس کے سینے میں کئی گولیاں پیوست کیں اور وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کرگیا۔ اس کے بعد کرفیو نافذ ہوا اور تین روز تک لاشیں جامع مسجد بھی پڑی رہیں۔ بعد میں مقامی لوگوں نے ان تمام نعشوں کو ایک ہی جگہ دفن کیا جو مزار شہدا1931کے نام سے موسوم ہے۔
آج اس واقعہ کو 87برس گزر چکے ہیں لیکن ان شہداء کی قربانیوں کو آج بھی اسی طرح یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے اُس وقت اپنے آج کو کشمیری قوم کے کل کے لیے قربان کردیا۔ 13جولائی کے شہداء کا مشن آج بھی ادھورا ہے۔ غاصب بھارتی فوج کے خلاف قربانیاں پیش کرنے والے کشمیریوں نے ثابت کیا کہ انہوں نے اپنے اس مشن کو فراموش نہیں کیا۔ کشمیر میں اگر اس وقت لوگ اپنے بچوں کے جنازوں کو کندھا دیتے تھے تو آج بھی اس جیسے واقعات پیش آرہے ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہدآزادی پوری قوت سے جاری ہے اور وہ ایک دن ضرور سرخرو ہوں گے۔
 

image

US President Donald Trump is on a visit to Europe. He met with NATO leaders and the military brass in Brussels, is visiting England — for consultations with Her Majesty’s government and tea with Queen Elizabeth II — and Scotland, for a round or two of golf. Then it is time for his long-awaited summit with Russian President Vladimir Putin.
And, as always, where President Trump goes, controversy follows.
The headlines of his interview with UK tabloid The Sun, in which he lambasted his host Theresa May for her attitude toward Brexit, have overshadowed the perhaps-more-significant upset at NATO.
Trump has long had a bee in his bonnet over the defense spending of his European allies. While the US spends 3.5 percent of its budget on defense, European nations spend less. Some much less. Only the UK, Greece, Estonia, Latvia and Poland spend 2 percent or more of their GDP on defense. Germany stands at a deplorable 1.2 percent, but has budgeted an 80 percent increase until 2024, which will bring it in line with NATO guidelines. The alliance is working toward having 30 ships, 30 land battalions, and 30 warplane squadrons deployable at 30 days’ notice.
The president has a point when he asks his allies to share the financial burden more equitably. However, most member states — especially Germany — “got the memo” and are working toward that goal. The former First Sea Lord (head of the UK Navy) and former Parliamentary Undersecretary of State at the Home Office, Adm. Lord West, said: “President Trump’s way of doing business is unusual, but he has an uncanny ability to speak truth to power. We all have known for a long time that continental European allies have not been investing sufficiently in their armed forces, except for France. If he (Trump) gets them to move on this issue he has achieved something.”
Trump’s meeting with his NATO colleagues was tumultuous to say the least. He lambasted spending. He attacked Germany, in particular, for importing a lot of its oil and gas from Russia. According to newspapers, he quipped: “It certainly doesn’t seem to make sense that they paid billions of dollars to Russia and now we need to defend them against Russia.”
According to Eurostat, Germany imports roughly 50 percent to 75 percent of its natural gas and 25 percent to 50 percent of its crude oil from Russia. The new South Stream pipeline is a particular thorn in the president’s side. It will transport Russian gas via the Baltic Sea to Germany, circumventing the traditional transit countries of Poland and Ukraine.
The US has every interest in the prosperity of its allies, especially when it demands they spend 2 percent of their GDP on defense. These economies cannot function without reliable supplies of energy. Natural gas other than LNG is a regional resource and proximity to markets is pivotal. Therefore, Russia, which boasts the world’s largest natural gas reserves, has been and will remain a logical point of origin for German gas supplies. Gazprom actually started exporting gas to Germany and Western Europe during the “Ostpolitk” of Willy Brandt in the 1970s — the height of the Cold War.
Wednesday’s meetings were 
tumultuous. Still, in the end NATO issued a communique which acknowledged a “dangerous, unpredictable and fluid security environment.” It went on to mention “Russia’s aggressive actions” and state that “instability and continuing crises across the Middle East and North Africa are fueling terrorism.” The allies also “reaffirmed unwavering commitment to all aspects of the Defense Investment Pledge agreed at the 2014 Wales Summit.” (Read spending 2 percent of GDP on defense.)
 

image

عام انتخابات 2018 کا پہلا نتیجہ آ گیا۔ سندھ کے شہر کشمور کے حلقہ پی ایس 6 سے پیپلزپارٹی کے میر شبیر علی بجارانی بلامقابلہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہو گئے۔ وہ حال ہی میں انتقال کرنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما میر ہزار خان بجارانی کے بیٹے ہیں۔ اس حلقے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار عبدالقیوم کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے۔
(ق) لیگ، عوامی مسلم لیگ، مجلس وحدت المسلمین اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس سے پی ٹی آئی کا انتخابی اتحاد قائم ہو چکا ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ راولپنڈی سے دو حلقوں، سندھ میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس سے10 حلقوں جب کہ مجلس وحدت المسلمین سے بھکر کی نشست پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ق) اور عوامی مسلم لیگ کے مابین سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے 6 اور صوبائی اسمبلی کے 15حلقوں سے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری نہیں کیے۔ مسلم لیگ (ق) اور عوامی مسلم لیگ قومی اسمبلی کے ان حلقوں میں شامل صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پی ٹی آئی امیدواروں کو سپورٹ کرے گی۔ (ق) لیگ کے کئی رہنما بھی اپنے حلقوں میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کریں گے، اٹک میں مسلم لیگ (ق) پی ٹی آئی کے میجر (ر) طاہر صادق سمیت شیخوپورہ، سرگودھا، قصور، فیصل آباد، سیالکوٹ، رحیم یارخان، مظفرگڑھ، وہاڑی، پاکپتن، ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔
ووٹرز کی ناراضی اور امیدواروں کو کھری کھری سنانے کے واقعات نے سیاستدانوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ اکثر امیدواروں نے عوام سے براہ راست رابطوں کے بجائے حکمت عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب کارنر میٹنگز اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کے بجائے ریلیاں اور جلسے ہوں گے۔ تمام سیاسی جاعتوں کو اس 
وقت عوام کی طرف سے کئی سوالات کا سامنا ہے، اس باعث وہ لوگوں سے ملاقاتوں سے کترا رہے ہیں۔ کئی امیدوار اپنی انتخابی مہم پمفلٹ کی تقسیم سے چلا رہے ہیں، جس کے لیے بیروزگار نوجوانوں اور خواتین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کئی امیدوار سکیورٹی گارڈز رکھنے کے لیے نگراں حکومت سے رابطے میں ہیں۔ کراچی میں بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر پتھراؤ نے پیپلزپارٹی کے لیے بھی الارمنگ صورت حال پیدا کر دی، جس کے بعد پیپلزپارٹی کی طرف سے جلسوں کے بجائے انتخابی مہم کے لیے ریلیوں کا امکان ہے۔ ریلیوں سے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر پارٹی رہنما خطاب کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کو جنوبی پنجاب میں بڑا جھٹکا لگا ہے، 11حلقوں کے 9 امیدواروں نے عین آخری وقت پر پارٹی کا ٹکٹ واپس کر کے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔ راجن پور کے حلقہ این اے 193 اور پی پی 293 سے سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی شیرعلی گورچانی، پی پی 294 سے شیر گورچانی کے والد پرویزگورچانی، این اے194 سے امیدوار حفیظ الرحمان دریشک اور پی پی 296 سے یوسف دریشک 
نے (ن) لیگ کا ٹکٹ واپس کر کے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان امیدواروں کو جیپ کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا۔ ڈیرہ غازی خان کے حلقہ این اے 190 سے (ن) لیگ کے امیدوار سردار امجد فاروق کھوسہ جبکہ دو صوبائی حلقوں پی پی 287 اور پی پی 288سے سردار محسن عطا کھوسہ نے بھی (ن) لیگ کا ٹکٹ واپس کر دیا، ان امیدواروں کو شیر کا انتخابی نشان بھی مل چکا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے بالٹی یا جیپ کے نشان کے حصول کے لیے ریٹرننگ افسر کو درخواست دی اور انہیں بالٹی کا نشان الاٹ کر دیا گیا۔ مظفرگڑھ میں حلقہ این اے 181 سے (ن) لیگ کے امیدوار ملک سلطان محمود ہنجرا نے بھی ٹکٹ ملنے کے باوجود آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے جیپ کا انتخابی نشان حاصل کر لیا۔ وہاڑی سے سابق صوبائی وزیر نعیم خان بھابھہ نے صوبائی حلقہ 233 میں (ن) لیگ کا ٹکٹ واپس کر دیا، اب اس حلقے میں شیر کے نشان پر کوئی امیدوار الیکشن نہیں لڑ رہا۔ نعیم بھابھہ آزاد پینل تشکیل دے کرپی پی 233 سے سعید منہیس جبکہ پی پی 234 سے رانا فخراسلام کو میدان میں لائے ہیں، جنہیں انتخابی نشان مٹکا الاٹ کر دیا گیا۔ نعیم بھابھہ خود این اے 164 میں (ن) لیگی امیدوار تہمینہ دولتانہ کے مقابلہ میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ صوبائی حلقہ پی پی 235 سے ان کے بیٹے آصف سعید منہیس ن لیگ کے امیدوار ہیں۔
جھنگ سے مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر خالد غنی نے صوبائی حلقہ کا ٹکٹ واپس کر کے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے شیر کے بجائے مرغی کا انتخابی نشان لیا ہے۔ توہین عدالت کیس میں نااہل قرار دیے گئے دانیال عزیز کی جگہ ان کی اہلیہ این اے 77 شکرگڑھ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں لیکن دانیال عزیز کے والد انور عزیز (ن) لیگ کے امیدوار کے خلاف حلقہ پی پی 48 سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
جیسے جیسے پولنگ کا دن قریب آ رہا ہے، (ن) لیگ کی طرف سے پری پول انجینئرنگ کے الزامات میں شدت آ رہی ہے۔ انتخابی حلقوں میں پُرتشدد واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ اگر تشدد ختم نہ ہوا تو کشیدگی میں اضافہ خطرناک ہو گا۔ امیدواروں کی طرف سے انتخابی مہم پُرجوش کے ساتھ جارحانہ ہونے کے امکانات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کے مابین حالات سنگین صورت حال اختیار کر سکتے ہیں۔ (ن) لیگ نے جاوید ہاشمی کو ٹکٹ نہیں دیا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب جنوبی پنجاب میں پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ (ن) لیگ کو اس وقت بھی بڑا دھچکا پہنچا، جب لیگی رہنما چوہدری عبدالغفور اور پارٹی ترجمان زعیم قادری ساتھ چھوڑ گئے۔ شہباز شریف کی طرف سے قومی حکومت کی تشکیل کے حق میں بیان سے پارٹی کے سینئر رہنما حیرت زدہ ہیں، ان کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف نے اپنے بیان سے قبل اعلیٰ قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا، (ن) لیگ کے پارٹی سربراہ کا قومی حکومت کا بیان ظاہر کر رہا ہے کہ اس جماعت کو عام انتخابات میں کامیابی کی امید کم ہے اور وہ قومی حکومت اور شراکت اقتدار کی تجویز پیش کر کے دوسری پارٹیوں کی حمایت حاصل کر رہی ہے۔
 

image

تیل اور اسلحے کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا منافع بخش کاروبار منشیات کا ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں بے روزگاری اور غربت نے زندگی کا مزا ہی چھین لیا ہے، منشیات کے عادی افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ روزانہ سات سو افراد منشیات کے استعمال کی وجہ سے دم توڑ جاتے ہیں۔ یہ تعداد سالانہ 2 لاکھ 55 ہزار بنتی ہے۔ یہ مسئلہ دہشت گردی سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردی سے لوگ نہیں مرے۔ منشیات کی روک تھام ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں... اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  نشے کے عادی پاکستانیوں کی تعداد اس وقت نوے لاکھ کے قریب ہے اور اگر بات کریں غیرسرکاری تنظیموں کی تو ان کے خیال میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی منشیات استعمال کرتے ہیں۔ ملک میں بھنگ، شراب، ہیروئن، گانجا، گردا، افیون، کرسٹل جیسے بڑے نشوں سمیت سگریٹ، نسوار، پان، گٹکا، کھینی جیسے چھوٹے نشے کا حصول نہایت سہل ہے۔ سب سے عام اور مقبول نشہ چرس ہے۔ برصغیر میں بھنگ اور چرس قدیمی اور مقامی نشہ ہے تاریخ میں صدیوں سے ان دونوں نشوں کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔ 
چرس و بھنگ برصغیر کی تہذیب و ثقافت کا اک جزو سمجھے جاتے ہیں، چند دہائیاں قبل تک بھنگ کے عادی افراد کی تعداد زیادہ تھی مگر پچھلے کچھ عرصے سے بھنگ کی سبز پتیوں سے بنے سوم رس سے مستی کشید کرنے والوں کی تعداد میں کمی جبکہ فکر و غم کو چرس کے دھوئیں میں اڑانے والوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، حتیٰ کہ اب ہمارے تعلیمی ادارے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں رہے، یونیورسٹیوں میں چرس پینا جیسے فیشن بن چکا ہے، کیا عورت کیا مرد سب دھوئیں کے مرغولے 
اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ اسّی کی دہائی ہی سے افغانستان میں لڑاکا گروہوں کی معیشت کا ایک سہارا پوست کی کاشت اور تجارت بھی رہی ہے۔ طالبان حکومت کے ایک مختصر سے دور کے علاوہ پوست کی کاشت آج تک افغان معیشت کی اہم ترین ذرائع آمدن شمار ہوتی ہے۔ 2004 میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پوست کا افغان جی ڈی پی میں حصہ 61 فیصد تھا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا ہر صوبہ مقامی منشیات بنانے میں خودکفیل ہوچکا ہے مگر چونکہ اس کی مانگ اس قدر ہے کہ ہزاروں ٹن سالانہ پیداوار کے باوجود افغانستان سے درآمد کرنا پڑتی ہے۔2017 میں افغانستان میں ریکارڈ 9200 ٹن پوست کاشت ہوئی تھی جس کا 40 فیصد یعنی کوئی 3700 ٹن پوست یا اس سے کشید کردہ مادے پاکستان پہنچے، جہاں یہ چالیس لاکھ مقامی ہیروئنچیوں کی طلب پوری کرنے کے بعد باقی دنیا 
کو برآمد بھی کیے گئے۔ گلگت کے علاقے بروغل کی وادی سردیوں میں جب چار ماہ کے لیے پوری دنیا سے کٹ جاتی ہے تو وہاں کے بوڑھے، بچے، جوان، مرد و زن ہڈیوں میں اترتی سردی کا مقابلہ چرس سے کرتے ہیں۔ پورے ملک میں چرس کا حصول اور استعمال آسان ہے۔ یہ پورا سال باافراط اور نہایت مناسب نرخوں پر دستیاب رہتی ہے۔ 
1979 میں پاکستان میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد صفر تھی۔ 1980 میں یہ بڑھ کر پانچ ہزار ہوگئی۔ پھر افغان جہاد کی بدولت نوے کی دہائی آتے آتے یہ کئی سو گنا بڑھ کر بارہ لاکھ تک پہنچ گئی۔ 1984 میں امریکی مارکیٹ میں ہیروئن کی 60 فیصد اور یورپ کی 80 فیصد ڈیمانڈ پاکستان پوری کررہا تھا۔ چرس اور ہیروئن کے علاوہ ایل ایس ڈی، کوکین، کرسٹل میتھ وغیرہ بھی چھوٹی مگر مضبوط مارکیٹ رکھتے ہیں۔ دو تین برس سے آئس بہت  تیزی سے  ایل ایس ڈی اور کوکین کی مارکیٹ کیپچر  کررہی ہے۔ یہ پڑھے لکھے  اور نسبتاً خوشحال پاکستانیوں کے شوق ہیں، اس لیے ان دواؤں کے ڈیلرز بھی زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جیسا کہ میڈیکل سٹورز کی ایک معروف چین۔ پاکستان میں منشیات کی دن دگنی، رات چوگنی ترقی کرتی متوازی معیشت کا حقیقی حجم تو کوئی نہیں جانتا، تخمینہ چار سے پانچ ارب ڈالرز کا بتایا جاتا ہے۔ نارکو انڈسٹری کروڑوں افراد کی ضرورت پوری کررہی ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کررہی ہے۔ اس سے حاصل آمدنی ہماری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لیے تازہ خون کی حیثیت رکھتی ہے۔
اب نشہ کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد اور اس میں روز بروز نئے شامل ہونے والے عادی افراد کے لیے ریاست کے اقدامات کی بات کریں تو وہ ناکافی نظر آتے ہیں۔ ری ہیب کے نام پر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں حکومت نے اک آدھ وارڈ تو مختص کردیے مگر وہاں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، اسی طرح اے این ایف اینٹی نارکوٹکس فورس کا ضلع کی سطح  پر سینٹر بنانے کا منصوبہ آیا تھا مگر پورے پاکستان میں پانچ سینٹر ہی سامنے آئے ہیں، اس کا علاج مہنگا اور لمبا ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔ نجی ری ہیب سینٹرز اک تو لاکھوں روپے چارج کرتے ہیں، دوسرا اک دو کے علاوہ باقی تمام سینٹرز میں میڈیکل اسسٹینس کے پروفیشنلز نہیں رکھے ہوتے۔ مریض کو باندھ کر، تشدد کرکے اور اپنے حال پر چھوڑ کر علاج کیا جاتا ہے۔ 
نئی زندگی چیریٹی نام کا اک فلاحی ادارہ ہے جو تمام سہولتوں کے ساتھ معیار پر سودا نہیں کرتا، مگر مریضوں کی بہت بڑی تعداد کے پیش نظر انہوں نے خود کو ایڈز کے مریضوں تک محدود کردیا ہے۔ یہ بھی اک غنیمت ہے اک ایسا ملک جہاں عام مریضوں کے لیے بھی صحت کی ناکافی سہولتیں ہیں، وہاں ایڈز کے مریضوں کو ڈاکٹرز چھونا بھی پسند نہیں کرتے، ایسے میں نئی زندگی چیریٹی ٹرسٹ ناصرف ان کا علاج کرتا ہے بلکہ معیاری سہولتیں بھی مہیا کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت منشیات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے ساتھ نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے ہسپتال اور سینٹرز بنائے اور منشیات کے خلاف شعور دینے کے لیے بھی تشہیری مہم چلائی جائے۔
 

image

(13 اکتوبر 1949 ء کی تحریر ) 
لاہور کارپوریشن ان دنوں پبلسٹی آفیسر کے تقرر کے مسئلہ پر غور کررہی ہے، ہمارے خیال میں پبلسٹی آفیسر پر روپیہ خرچ کرنا اسراف بیجا ہے۔ اگر کراچی کارپوریشن نے کوئی پبلسٹی آفیسر مقرر کر رکھا ہے تو اس سے لاہور کارپوریشن کی پبلسٹی کا کام بھی لیا جاسکتا ہے اور اگر بلدیہ کراچی نے ابھی تک کوئی پبلسٹی آفیسر مقرر نہیں کیا تو اسے اب اس طرف ضرورت توجہ کرنی چاہیے، یا پھر کچھ دنوں انتظار کیا جائے، جب خان لیاقت علی خان کراچی کارپوریشن کے صدر منتخب ہوں گے تو یہ ساری الجھنیں خود بخود دور ہو جائیں گی۔
…………………………
آپ کہیں گے کہاں خان لیاقت علی خان کہاں بلدیہ کراچی کی صدارت لیکن ہمیں امید ہے کہ زو دیا بدیر کراچی کی صدارت کا قرعہ فال بھی انہی کے نام پڑے گا کیونکہ ہمارے ہاں لے دے کے خان لیاقت علی خان ہی تو ایک ایسے شخص ہیں جو اس قسم کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہوسکتے ہیں۔ اگر وہ بلدیہ کراچی کی صدارت کا بوجھ اٹھانا منظور کرلیں … اور انہیں یقینا کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے، جہاں وزارت عظمیٰ اور صدارت عظمیٰ کے بڑے بڑے گٹھڑان کے کندھوں پر ہیں، وہاں ایک بُقچہ بھی سہی… تو اس صورت میں لاہور کارپوریشن کا تمتہ بنا دینا چاہیے، یہ صورت ہو جائے تو لاہور کارپوریشن کے لئے نہ میئر کی ضرورت نہ کونسلروں کی حاجب ، نہ پبلسٹی آفیسر کا بکھیڑا ، بس وہی مضمون ہے کہ 
’’سن توشدم تو من شدی ، ہن تن شدم تو جاں شدی‘‘
…………………………
بعض حضرات شاید لاہور کارپوریشن کے یوں ’’نتھی الف‘‘ بن جانے کا قضیہ سن کے کہیں کہ ’’سند باد جہازی‘‘ یہ کیا بہکی بہکی باتیں کررہا ہے ۔ لاہور کارپوریشن کو کراچی کارپوریشن کا تمتمہ کیونکر بنایا جاسکتا ہے؟ لیکن ان دنوں ہماری سیاست میں جو رنگ اچھل رہا ہے اس پر ذرا غور کیا جائے تو بلدیہ لاہور کا بلدیہ کراچی کے ’’توابع ‘‘ میں شامل ہو جانا چنداں عجیب معلوم نہیں ہوتا۔ آخر مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمنٹری بورڈ نے جس کا مرکز کراچی ہے پنجاب اسمبلی کے لئے امیدوار نامزد کرنا بھی تو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ پھر لاہور کارپوریشن کو تتمہ تصور کرلیا جائے تو اس میں قباحت ہی کیا ہے؟
…………………………
ہماری تجویز مان لی جائے توی ہ صورت ہو جائے گی کہ وزیراعظم بھی خان لیاقت علی خان ، وزیر دفاع بھی خان لیاقت علی خان، مسلم لیگ کے صدر بھی خان لیاقت علی خان اور کراچی کارپوریشن کے صدر بھی خان لیاقت علی خاں، پارلیمنٹری بورڈ وہی ، پنجاب اسمبلی کے امیدوار نامزد کرنے والے بھی وہی ، گویا
یک چراغ اسست کہ ازپر قو آں
ہر کجا انجمنے ساختہ اند
…………………………
(17 اکتوبر 1949 ء کی تحریر ) 
 سنا ہے ، حکومت کی طرف سے مسجدوں کے پیش اماموں کو دو یا تین ایکڑ زمین دی جائے گی۔ پیش امام مسجدوں میں پانچ وقت نماز پڑھاتے ہیں، اس لئے حکومت کو چاہیے تھا کہ ان کے لئے کم از کم پانچ ایکڑ زمین منظور کرتی، تاکہ فی نماز ایک ایکڑ زمین توحصے میں آتی۔
…………………………
قرآن کریم میں آیا ہے کہ ’’زمین اللہ کی ہے اور اس کے وارث ہوں گے، اللہ کے صالح بندے‘‘۔ اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں۔ علامہ مشریق نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے کہ یورپ کے لوگ جنہوں نے بڑے بڑے وسیع ممالک پر قبضہ کرلیا ہے۔ اللہ کے صالح بندے ہیں، اسی لئے خدا نے انہیں زمین کا وارث بنایا ہے، مودودی صاحب کے نزدیک اگرچہ صالحہ کی تعریف کچھ اور ہے لیکن اس بات سے تو انہیں بھی انکار نہیں ہوگا کہ مساجد کے پیش امام جن میں سے بعض کو دو ایکڑ اور بعض کو تین ایکڑ زمین مل گئی ہے، یقینا اللہ کے صالح بندے اور اس آیہ کریمہ کے صحیح مصداق ہیں۔
…………………………
فاتمی خلیفہ معز الدین اللہ نے زمام حکومت ہاتھ میں لینے کے بعد ایک محفل منعقد کی جس میں مصر کے علما کو بلا کے اپنی خلافت کی تائید توثیق چاہی۔ بعض لوگوں کو خلیفہ کے حسب و نسب کے بارے میں شکوک تھے اور عام طور پر یہ بھی مشہور تھا کہ عبداللہ المہدی پہلا فاتمی خلیفہ دراصل ایک مجہول النسب شخص تھا، اس لئے انہیں معز کی خلافت کی تصدیق کرنے میں تامل ہوا۔ معز نے تلوار کھینچ لی اور گرجتی ہوئی آواز میں کہا ’’یہ میرا نسب ہے‘‘ ساتھ ہی غلاموں نے اس کے اشارے سے اہل محفل کے قدموں میں اشرفیوں کے بدرے ڈال دیئے اور آواز آئی ’’یہ میرا حسب ہے‘‘ یہ دونوں دلائل ایسے قاطع تھے کہ کسی کو مجالِ اعتراض نہ رہی۔
…………………………

image

عوامی سروے

سوال: الیکشن 2018 کیلئے کونسی جماعت آپکی فیورٹ؟