17 اگست 2017
تازہ ترین

عوامی سروے

سوال: آپ کے خیال میں کونسی سیاسی یا مذہبی جماعت صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کی محافظ اور عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے؟

کا لم

In last week’s article we looked at how the Oslo process collapsed amid the rise of the Israeli right wing and the disintegration of unified Palestinian leadership.
In 2002, when the Palestinian cause appeared at its most hopeless, the Arab Peace Initiative — brainchild of late King Abdullah of Saudi Arabia — was unveiled at the Arab League summit in Beirut. Seeking to kill it off, the then Israeli Prime Minister Ariel Sharon coerced the leaders of Egypt and Jordan to stay away, and told Palestinian President Mahmoud Abbas that if he went to Beirut, he would not be allowed to return to Ramallah.
The initiative was remarkably straightforward: Israel would withdraw from the lands it occupied in 1967, and the Arab world would establish normal relations with Israel. This would have transformed Israel from an isolated pariah to a fully integrated state, benefiting from open borders and lucrative trade with wealthy Gulf Cooperation Council (GCC) and other Arab states. Israel’s lurch toward the far right killed off serious debate over King Abdullah’s initiative, with public opinion divided between “those who have never heard of it and those who don’t believe a word.”
There has since been a bewildering array of other initiatives: The stillborn 2003 Geneva Accord; the useless Quartet Committee and its roadmap to nowhere; Sharm El-Sheikh (2005); Annapolis (2007); and John Kerry’s shuttle diplomacy, which was met with a masterclass in obstructionism by Benjamin Netanyahu. Then there were Tony Blair’s anachronistic attempts at peace. Not only was Blair hopelessly biased — and deeply unpopular across the Arab world — but he operated under the delusion that the Palestinian question could be addressed with a purely economic vision.
Circumstances were exacerbated by brutal Israeli military operations. Incursions into Gaza in late 2008 and 2014 resulted in the deaths of over 3,500 Palestinians. Meanwhile, 127 settlements and 100 outposts sought to make a contiguous Palestinian state an impossibility, as the settler population doubled between 2000 and 2017 to over 600,000.
Netanyahu believes that he benefits from the status quo, but demographic trends work against Israel. Recent tensions in Jerusalem are a reminder that Israel sits on a smoking volcano that could erupt at any moment. With corruption allegations closing in around Netanyahu, the Israeli media is speculating that this great survivor’s days are numbered. It seems too much to hope for that Netanyahu could follow his predecessor Ehud Olmert to prison — yet there was a time when Yasser Arafat too seemed a permanent feature of the political landscape.
Israeli intransigence destroyed the Arab Peace Initiative in 2002, but despite a bewildering array of proposals in the 15 years since, it remains the best hope to end the injustice that poisons the soul of the Middle East.
Israel’s peace agreements with Egypt and Jordan (1979 and 1994) did not result in peace at a grassroots popular level because they never resolved the fundamental injustices. To reap the benefits of a future deal, Israel must be seen to do the right thing. The Arab world’s young population mostly wasn’t born at the time of Oslo. If Israel takes brave steps toward peace now, it will soon be engaging with generations across the Middle East who see Israel as a potential ally — just as young people in Northern Ireland moved beyond the ingrained hatreds of their parents’ generations.
Future efforts must not replicate the mistakes of Oslo, with leaders coerced into uncomfortable compromises behind closed doors. Citizens on all sides must be engaged and consulted, not avoided. If concessions cannot be justified to the public, perhaps the problem lies with these concessions and not with the public.
With US President Donald Trump abandoning America’s commitment to two states, there is no longer even a clear roadmap for how a deal could be achieved.
Newcomers tend to assume that a deal can be achieved simply by wringing further concessions from both sides — but the Palestinians have nothing left to give. A demilitarized state — cobbled together from micro-cantons, squeezed between sprawling settlements; with a toehold remaining of their capital city; while Israel deploys its army throughout the Jordan valley; with ironclad restrictions on returning refugees and building homes; and no control over its own borders — is not a state at all. Palestinians will not meekly accept such a farcical solution.
Israeli hard-liners should not bet on the Arab world being distracted by unrest in Syria and elsewhere. Whether it takes 10 years or 10 decades, Palestinians know that history and justice are on their side. Global support for their cause has grown among educated Arabs in the West, well-read publics in Europe and other demographics.
Terrorist entities, such as Daesh, Hezbollah, Hamas, Al-Hashd Al-Shaabi and Al-Qaeda, all have their roots in the sickness emanating from the historic injustices done to the Palestinian nation. There will not be lasting solutions to other regional crises until peace is achieved for Palestine, the mother of all just causes.
(Courtesy : Arab New

image

پاکستان اپنے حدوداربع کے لحاظ سے ایک دُشمن، دو مخالف ملکوں اور چوتھی جانب سمندر سے گھرا ہوا ہے۔ مشرق میں ہمارا بدترین دشمن بھارت ہے، جبکہ شمال مغرب میں افغانستان اور ایران ہیں۔ جنوب میں بحیرۂ عرب اور بحر ہند ہے۔ بھارت نے قیام پاکستان کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا، اس لیے وہ ہمیشہ اسے دنیا کے نقشے سے مٹانے کے درپے رہتا ہے۔ سرحدی تنازعات کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر اور آبی تنازع بھی مسلسل کشیدگی کا سبب ہے۔ بھارت نے اپنی تمام تر توانائی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں لگا رکھی ہے، جس کی وجہ سے بھارتی عوام بھوک، افلاس، بے روزگاری اور صحت کے شدید مسائل سے دوچار ہیں۔ دفاع کے نام پر قومی بجٹ کا بہت بڑا حصہ فوج کو پالنے، اسلحہ اور گولا بارود خریدنے پر خرچ ہوتا ہے۔ چین سے ایک مرتبہ جھڑپ کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی اور تناؤ کی کیفیت ضرور ہے، لیکن محاذ جنگ کبھی گرم نہیں ہوا۔ بھارت کو چین کی قوت کا اندازہ ہے، اس لیے بھی وہ چین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے گریز کرتا ہے۔ پھر اسے یہ بھی معلوم ہے کہ چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان اپنے دیرینہ دوست کی حمایت ضرور کرے گا۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کا معاملہ بالکل مختلف ہے، اول تو وہ پاکستان کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر ایک بار پھر متحدہ ہندوستان کے خواب دیکھ رہا ہے۔ دوسری طرف بھارتی حکومت اپنے داخلی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کا آئے دن سرحدی جھڑپوں میں الجھائے رکھتی ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر دو مسلم ممالک ایران اور افغانستان ہیں۔ افغانستان پر پاکستان کے بڑے احسانات ہیں، لیکن وہاں کی حکومت احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک کو ہر وقت پاکستان کے خلاف حالت جنگ میں رکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان کی فوجی صلاحیت، تربیت اور تجربے کے مقابلے میں افغانستان کو اپنی حیثیت کا خود بھی اندازہ ہے، لیکن امریکا اور بھارت کی پشت پناہی اس کو حاصل ہے، اس لیے وہ کاغذی شیر بن کر پاکستان کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرتا ہے۔ ادھر ایران کے بعض مفادات بلوچستان سے وابستہ ہیں۔ نیز وہ پاک وچین اقتصادی راہداری منصوبے کو اپنے اقتصادی مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔ ایران کی حکومتیں پاکستان کو اپنا مسلکی مخالف بھی تصور کرتی ہیں، حالانکہ پاکستان میں کبھی اور کہیں شیعہ سنی جھگڑا نظر نہیں آتا۔ مشرق وسطیٰ کے دیگر مسلمان پڑوسی ملکوں کو بھی ایران سے یہی شکایت ہے کہ وہ ان پر نظریاتی غلبہ حاصل کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتارہتا ہے۔ باقی رہا پاکستان کے جنوب میں واقع سمندر تو ایک حد سے آگے پاکستان اور بھارت دونوں کی علمداری ختم ہو جاتی ہے اور سمندروں کی گہرائی آس پاس کے تمام ملکوں کا مشترکہ اثاثہ قرار پاتی ہے۔ یہاں بھی بھارت کے اپنے جنگی بیڑے اور امریکا کے طیارہ بردار بحری جہاز پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لیے اکثر گشت کرتے رہتے ہیں۔ پاک وافغان سرحد ڈھائی ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے۔ یہاں سے جنگجوؤں کی آزادانہ نقل وحرکت کے علاوہ منشیات سمیت کئی اشیا کا غیر قانونی کاروبار جاری رہتا ہے، جسے روکنا دونوں ملکوں کی ذمے داری ہے۔ لیکن ایک طرف بھارت اور دوسری طرف افغانستان سے پاکستانی سرحدوں پر آئے دن گولا باری جاری رہتی
 ہے، جس میں شہری شہید ہوتے ہیں۔ اپنے مخصوص ومذموم مقاصد کی خاطر افغان حکومت معصوم شہریوں کی جانیں لے کر اپنی قوت ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہ سب کچھ بھارت اور اس کے مغربی سر پرستوں کے ایما پر ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں افغان فوج نے چمن کے سرحدی دیہات میں مردم شماری پر مامور پاکستانی ٹیموں پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم وبیش پندرہ ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ پچاس سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ بعد میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی حکام میں ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا تو صورت حال قدرے معمول پر آئی۔ افغانستان نے اپنی غلطی اور پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کر لیا۔ حیرت انگیز امر ہے کہ مردم شماری کا عملہ پاکستانی علاقے میں اپنے فرائض انجام دے رہا تھا، جبکہ افغانستان کا مؤقف ہے کہ اس نے پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا کہ سرحدی علاقوں کے دیہات میں مردم شماری نہ کی جائے، ورنہ ان پر حملہ کر دیا جائے گا۔ افغانستان کے خیال میں ڈیورنڈ لائن کے قریب واقع دیہات متنازع ہیں۔ بالفرض افغانستان کا مؤقف درست تسلیم کر لیا جائے، تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ محض اپنی انا یا ہٹ دھرمی کی خاطر معصوم شہریوں کی جانیں لینا کیا بجائے خود دہشت گردی، سفاکی اور شقاوت قلبی نہیں؟ واضح رہے کہ پاکستان میں انیس سال بعد مردم شماری اور خانہ شماری ہوئی تاکہ اس کے ترقیاتی کاموں اور آئندہ عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیاں قائم کر کے ضروری رقوم مختص کی جا سکیں۔ یہ مردم شماری ہر دس سال بعد ہونی چاہیے، لیکن پاکستان میں حکومتوں کے عدم استحکام اور سیاستدانوں کی باہمی چپقلشوں کی وجہ سے اس میں پہلے ہی نو سال کی تاخیر ہو چکی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دنوں سرحدوں کو بند کرنے کی کوشش کی تو افغان حکومت نے اس پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ سرحدوں کو بند کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ دہشت گرد، منشیات فروش، جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے لوگ جس آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہوتے ہیں، اسے روکا جائے۔ افغانستان کو تو خوش ہونا چاہیے کہ اس کی شکایت کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان میں داخل ہو کر وحشیانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغان حکومت اتنی کمزور ہے کہ وہ امریکی چھتری کے بغیر ایک روز بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ پچھلے دنوں افغانستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے ہیں، افغانستان میں جب دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے تو افغان حکام پاکستان کی جانب انگلی اٹھاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان سے آئے ہیں جبکہ پاکستان میں پچھلے دنوں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوئیں، ان میں خودکش حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا، اس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی کھلی ہے اور اس سرحد پر متعدد کراسنگ پوائنٹس ہیں اور لوگ بلا روک ٹوک دونوں ملکوں میں آ جا رہے ہیں۔ ماضی میں پاکستان نے کبھی اس سرحد کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کی جبکہ افغانستان نے بھی اسے کھلا چھوڑے رکھا، اس کوتاہی یا سستی کے نتیجے میں اس سرحد کے آر پار آنا جانا انتہائی آسان رہا، اس رجحان کے باعث پاکستان کے لئے مسائل زیادہ پیدا ہوئے کیونکہ افغانستان میں غربت اور پسماندگی سے اکتا کر روزگار کی تلاش میں سرحد پار کر کے پاکستان آنا تو برسوں سے جاری تھا لیکن افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد کے بعد اور پھر وہاں مجاہدین کے گروہوں کی باہمی لڑائیوں اور پھر طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد لاکھوں افغان باشندے پاکستان میں داخل ہونے لگے، اس صورت حال نے افغانستان کے لئے تو نہیں لیکن پاکستان کے لئے سنگین مسائل پیدا کئے، ان میں دہشت گردی سرفہرست ہے، پاکستان میں دہشت گردی کی اکثر وارداتوں میں افغان باشندے آلہ کار یا سہولت بنے۔ ان حقائق نے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ افغان سرحد کو کھلا رکھنا ملکی مفاد میں نہیں، یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اصلاحات اٹھائے جا رہے ہیں جو وقت کا تقاضا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مفاہمت نہیں کی جانی چاہیے۔ پچھلے دنوں پاک فوج کا ایک وفد لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی قیادت میں افغانستان گیا تھا، وفد نے افغان وزیر دفاع طارق شاہ بہرامی اور آرمی چیف جنرل محمد شریف یفتالی سے ملاقات بھی کی تھی۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک فوج کے وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے افغانستان مزار شریف حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور افغان فورسز وعوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ وفد نے حملے میں زخمی ہونے والوں کے لیے پاکستان میں مفت علاج کی پیشکش بھی کی تھی، ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے فوجی حکام نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، اس موقع پر افغانستان کے فوجی حکام نے کہا کہ افغان فورسزنے پاک افغان بارڈر پر اپنی طرف دہشت گردوں پر مکمل کنٹرول پا لیا ہے اُمید ہے کہ پاکستان اپنی سر زمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، دونوں ممالک نے بارڈر منیجمنٹ بہتر کرنے پر بھی اتفاق کیا، آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے وفد نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ پاکستانی سرحدوں پر پاک فوج نے بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاک فوج کے وفد نے دہشت گردوں کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے انہیں شکست دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے حوالے سے جو شکوک وشبہات اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد پایا جاتا ہے، اسے دور کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ پاک افغان سرحد جتنی زیادہ محفوظ ہو گی دہشت گرد اتنے ہی زیادہ کمزور ہوںگے۔ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت پاکستان میں موجود افغان مہاجرین اور دیگر افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لئے اقدامات کرے۔ دونوں ملک دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کریں تو اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔

image

سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نا اہل قرار دینے کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی برطرفی کے بعد اسلام آباد سے لاہور کے سفر میں متعدد مرتبہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ذکر کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ کی توہین قرار دیا ہے۔ جی ٹی روڈ مارچ کے اختتام پر لاہور پہنچنے پر عسکری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو سخت پیغام دیا گیا ہے۔ جی ٹی روڈ پر جاری رہنے والے چار روزہ سفر لاہور کے  بعد داتا دربار کے باہر عوام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا واضح طور پر کہنا تھا کہ وہ نہ تو ڈرتے ہیں اور نہ ہی انہیں جان کی پروا ہے اور وہ ملک کی تقدیر بدلنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بقول ان کے  پاکستان کے ساتھ پچھلے ستر برسوں میں تماشا کرنے والوں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ 20 کروڑ عوام کا ملک ہے اس پر چند لوگوں کی اجارہ داری ختم ہونی چاہیے۔ نواز شریف نے بڑے دکھ کے ساتھ  ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشرقی پاکستان الگ کر دیا گیا، بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے، کون ہیں جو پاکستان کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں ان کے مطابق اگر ووٹ کی حرمت کا خیال نہ رکھا گیا تو خدا نخواستہ ملک پر پھر آمریت کا راج ہو سکتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ووٹ کی حرمت کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے آئین کو بدلنا ہو گا۔ نواز شریف نے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی پارلیمنٹ کو بالادست بنانے کی تجاویز پر ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ نواز شریف نے عدلیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’یہاں تیس تیس سال سے مقدمے چل رہے ہیں، دادے کا مقدمہ پوتے کو بھگتنا پڑ رہا ہے (یہ سچ بھی ستر برس پرانا ہے)۔ نظام کو بدلنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان  کہنا تھا کہ ہم ایسا نظام لائیں گے جس میں 90 دنوں میں لوگوں کو سستا اور فوری انصاف مل سکے۔‘‘ نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے جلسے کے شرکاء سے پوچھا کیا یہ کسی وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کی مناسب وجہ ہے، لوگوں نے اس پر ناں ناں کے نعرے لگائے۔ جبکہ چودہ اگست کو علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری کے موقع پر ان کی زبان مزید سخت نظر آئی جہاں ان کا میڈیا کے سامنے  کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو گھر بھیجنے والوں کو روکنا ہو گا، پاکستان قائدِاعظمؒ کی قیادت میں جمہوری جدوجہد اور ووٹ کی طاقت سے وجود میں آیا لیکن بدقسمتی سے قائدِاعظمؒ کی وفات اور قائدِ ملت لیاقت علی خانؒ کی شہادت کے بعد ہم نے جمہوریت اور قانون کو نظرانداز کر کے ایک نظریہ ضرورت ایجاد کر لیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قائدِاعظم کا پاکستان ٹوٹ گیا۔ نواز شریف تیس برس  کی حکمرانی کے بعد بھی اس ملک کو قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں انکے بقول  ہم اِدھر اُدھر بھٹکتے رہے اور ہمارے 70 سال ایسے ہی گزر گئے اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو پاکستان پھر کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے جس کا یہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ سابق وزیر اعظم نے 1971ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’افسوس کہ ملک ٹوٹنے سے ہم نے کوئی سبق نہیں لیا، لیکن اب وقت ہے کہ ملک کو اسی راستے پر گامزن کیا جائے جسے قائدِاعظم نے طے کیا تھا۔‘‘
نواز شریف کا لہجہ بتاتا ہے کہ وہ آئندہ عوامی عدالت میں ہر روز ایک نئے انداز سے اپنا مقدمہ پیش کریں گے۔ جو کچھ انہوں نے گزشتہ دنوں فرمایا ہے یہ سورج کی روشنی کی طرح سچ ہے لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ میاں صاحب جب تک ماضی میں کی گئی غلطیوں، کوتاہیوں اور اپنے مخالفین کے ساتھ کی گئی زیادتیوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور عوام سے برملا معافی نہیں مانگیں گے ان کا راستہ آسان نظر نہیں آتا۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی اقتدار سے برطرفی کے بعد پہلے احتجاجی پروگرام میں عوام کی بڑی تعداد میں شمولیت کی وجہ تو سمجھ آتی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا نواز شریف آنے والے دنوں میں اپنا یہ احتجاجی مومنٹم برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں؟ نواز شریف کے جی ٹی روڈ مشن کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف روڈ شو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے دوران نواز شریف پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے، میڈیا کے ذریعے اپنا بیانیہ ووٹرز تک پہنچانے میں تو کامیاب رہے لیکن مبصرین کے مطابق ان کی کامیابیوں کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کتنی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کر پاتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف جیل سے بچنے کے لیے ڈرامہ کر رہے ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ میاں صاحب آپ بتائیں کہ آپ کتنے وزرائے اعظم کو نکالنے کی سازش میں شریک تھے۔ اقتدار کا نشہ اترتے ہی آپ کو گرینڈ ڈائیلاگ یاد آ گیا اب آپ کی چال بازی نہیں چلے گی۔ اگرچہ نواز شریف کی ریلی کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے نواز شریف کے حامیوں اور مخالفوں کی طرف سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں لیکن بعض لوگوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر نواز شریف کی ریلی ناکام تھی تو پھر کیبل آپریٹروں کے ذریعے ٹی وی چینل بند کرانے کی کیا ضرورت تھی۔
میاں صاحب پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لئے آئین اور قانون کو بدلنے کی بات پر بھی زور دے رہے ہیں جس کے لئے وہ ملک بھر میں  رابطہ مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں تک رسائی کے لیے بڑی رابطہ مہم چلانے کی منصوبہ بندی کر لی۔ اس ضمن میں وہ پہلے خیبر پختونخوا کا انتخاب کر سکتے ہیں جیسا کہ اس صوبے میں ان کے حریف عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت قائم ہے۔ سابق وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف جلد ضلع مانسہرہ کا دورہ کریں گے تاکہ یہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے سپورٹرز کو متحرک اور مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر سکیں۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) مانسہرہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں جلسے بھی منعقد کرے گی۔ نواز شریف کے ساتھیوں کے مطابق مانسہرہ کا دورہ ممکنہ طور پر عیدالاضحیٰ سے قبل ہو سکتا ہے تاکہ جی ٹی روڈ ریلی کے تسلسل کو جاری رکھا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عید کے بعد سابق وزیراعظم بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے دیگر علاقوں کے دوروں کا منصوبہ بھی بنا رہے ہیں۔
میاں صاحب کاش ماضی میں کی گئی غلطیوں کے حوالے سے بھی کچھ بیان فرماتے اور اپنے مخالفین کے ساتھ جو سلوک انہوں نے روا رکھا اس پر کھلے دل سے معافی مانگتے تو ان کے سیاسی قد میں اضافہ ہونے کے ساتھ مخالفین کے دلوں میں ان کے لئے ہمدردی پیدا ہو سکتی تھی لیکن چلیں اب بھی وہ اس نظام کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں تو اس کے لئے بھی انہیں صدق دل سے معافی مانگنی ہو گی آگے بڑھنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔ دوسری جانب اس وقت بھی پارلیمنٹ میں ان کی واضح اکثریت ہے وہ بسم اللہ کریں ضیا کی ہر طرح کی باقیات سے جان چھڑائیں۔ نظام کہن سے نجات کی اگر ٹھان لی ہے تو کر کے دکھائیں تاریخ اسی طرح کے لیڈروں کو یاد رکھتی ہے۔

image

سابق وزیراعظم نواز شریف کو 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ کورٹ کے پورے فیصلے کو مدنظر رکھے بغیر صرف ’’اقامہ‘‘ کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور دل کو تسلی دی جارہی ہے کہ نواز شریف میگا کرپشن کی بنا پر نااہل نہیں ہوئے۔ کم وبیش وہی ماحول پیدا کیا جارہا ہے جیسا جے آئی ٹی کی تشکیل کے وقت کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کرپشن کیسز کو نیب کی طرف منتقل کردیا، تاکہ ٹرائل کورٹ میں ناصرف پاناما بلکہ دیگر قانونی اور مالی معاملات بھی زیر تفتیش لائے جاسکیں۔ بالفرض اگر ہم مان بھی لیں کہ نواز شریف کو کرپشن کیس پر نہیں بلکہ صرف ’’اقامہ‘‘ پر فارغ کیا گیا ہے، تب بھی توجہ طلب بات ہے کہ انہیں اور ان کے وزراء کو ’’اقامہ‘‘ جیسی سہولت کیوں درکار تھی۔  جب پاکستان کے پبلک سیٹ ہولڈرز اپنی بلیک منی کو دنیا کے مختلف گوشوں (بالخصوص سوئس بینکوں) میں چھپاتے ہیں تب وہ بھرپور احتیاط کرتے ہیں کہ اگر کبھی اُن کے اثاثوں کی تفتیش کی جائے تو انہیں پاکستانی قومیت کی بنیاد پر تلاش نہ کیا جاسکے۔ ’’اقامہ‘‘ اُنہیں ایک دوسرے ملک کا حفاظتی دائرہ فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے قوانین پر عمل درآمد کرنے کے مجاز نہیں ہوتے۔ 
اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ میاں صاحب کی مذکورہ فرم ان کے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے کاروبار کے لیے ایک سینٹرل حب کا کام کرتی ہے۔ قوم سے خطاب، اسمبلی میں تقریر اور شریف خاندان کے مختلف ادوار میں دیے گئے بیانات ایک دوسرے سے اس قدر متضاد نظر آنے کے باوجود میاں صاحب کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے اتنے مواقع فراہم کیے گئے جس کا کوئی شمار نہیں۔ 
ہم ایک لمحے کے لیے یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ میاں صاحب کے خلاف واقعی سازش ہوئی ہے۔ تب بھی کیا سابق وزیراعظم ایسا شکوہ کرنے میں حق  بجانب ہیں، جن کی اپنی ساری سیاسی زندگی گٹھ جوڑ اور سازشوں کے نتیجے میں ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے میں گزری۔ پاکستان کے تین وزرائے اعظم کو غیر جمہوری طریقے سے  اتارنے میں میاں صاحب کا کردار کھلی کتاب کی طرح ہے۔ ساری زندگی سازشی تانے بُننے والے اپنے خلاف ’’خودساختہ‘‘ سازش کا شکار ہوکر کیوں بوکھلائے ہوئے ہیں؟ قدرت کا اصول ہے ’’مکافات عمل‘‘، جو بویا ہے وہ کا ٹنا بھی پڑے گا۔ خاکسار کی نظر میں جتنے مواقع میاں صاحب کو قدرت نے دیے، شاید ہی کسی کو ملے ہوں، لیکن اُن کو داد  دینے کو بھی دل چاہتا ہے کہ تین دفعہ وزیراعظم رہنے ہونے کے باوجود ملک کو اندھیروں سے نکال سکے نہ بدامنی اور مہنگائی پر قابو پاسکے، خارجی اُمور میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرسکے اور نہ اپنے حق میں عوام کی رائے کو سنوار سکے۔ بدقسمتی سے میاں صاحب کو قوم کے سسکتے بچوں کا مستقبل تو نظر نہیں آیا لیکن اپنی آل اولاد کی سات نسلوں کے لیے اتنا انتظام ضرور کردیا کہ قوم کے پیسوں سے عیش و عشرت والی زندگی گزار سکیں۔ آج بھی آپ اور آپ کی ٹیم جس طرح سپریم کورٹ اور سیاسی مخالفین کی کردار کشی پر تُلی ہوئی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ابھی بھی 90ء  والی سیاست پر ہی یقین رکھتے ہیں، دوسروں کو کنٹینر سیاست کے طعنے دینے والے آج خود سڑکیں ماپنے پر مجبور ہیں۔ 
نااہلی کے فیصلے کے بعد میاں صاحب نے جس مظلومیت کی تصویر پیش کی اور کہاکہ انہیں پاکستان کو ترقی کی راہ  پر لے جانے کی وجہ سے سزا دی گئی ہے تو یقین کریں کہ بہت سے ایسے لوگ جو حب الوطنی کے چکر میں اُن کی نااہلیت پہ خوش تھے، یکدم افسردہ ہوگئے۔ اس سے پہلے کہ اُنہیں بھی میاں صاحب کے  ساتھ ہونے والی  ’’ناانصافی‘‘ پر یقین آتا، اچانک ہی میاں صاحب  کے منہ سے نظریاتی ہونے کا دعویٰ بھی نکل گیا۔ اگر 1999 تک کے اعمال کو سیاسی بلوغت سے پہلے کا درجہ بھی دے دیا جائے تو اس کے بعد کی سیاست بھی ’’نظریہ ذاتی ضرورت‘‘ کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتی۔ میاں صاحب اگر آپ واقعی خود کو ایک نظریا تی لیڈر کہلوانا چاہتے ہیں تو… آپ نے آج تک ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کوئی تسلی بخش اقدامات کیوں نہیں کیے؟ آپ نے آج تک بااثر افراد بشمول بیوروکریٹس، صحافیوں، اور دیگر سیاستدانوں کی کرپشن کے خلاف کبھی کوئی قدم کیوں نہیں اُٹھایا؟ یقین کریں اگر آپ اُس وقت عوام کی عدالت میں اپنا کیس رکھتے تو پہلے سے زیادہ پذیرائی اور اختیارات ملتے۔ آپ نے کیوں دوسرے سیاستدانوں کی کرپشن پہ خاموشی سادھے رکھی؟  
آپ نے کیوں اپنے ہی وزراء کے آن ریکارڈ ثبوتوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی؟ قصور میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات کے ذمے داران آج بھی آزادی سے گھومتے پھر رہے ہیں۔ آپ کے مشہور زمانہ صوبائی وزیر تعلیم کی ویڈیو ابھی بھی انٹرنیٹ پر پڑی ہے۔ آپ کب تک ایسے بے شمار اسکینڈلز سے منہ چھپائے بیٹھے رہنا چاہتے تھے؟
نندی پور پاور پلانٹ، قائداعظم سولر پارک، ایل این جی پروجیکٹ، سستی روٹی پروجیکٹ، دانش اسکول، منی لانڈرنگ اور میڈیا پر ذاتی تشہیر کے لیے استعمال ہونے والے قومی وسائل تو صرف خلاصہ داستاں ہیں۔ کیا یہی ہیں وہ قومی نظریات جن کا دعویٰ تو آپ ببانگ دہل کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے متضاد ہے اور آپ کے نظریات ’’مطلب پرستی، ذاتی مفاد اور انتقام‘‘ سے بڑھ کر کچھ دکھائی نہیں دیتے۔  اسی قسم کے’’ نظریہ انتقام‘‘ نے آپ کو تاریخ کے اُس دوراہے پر لاکھڑا کیا، جہاںسے آپ نے نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور جمائما خان کی کردار کشی کی تھی۔ شاید آپ کو یقین نہیں آرہا کہ آپ اس دفعہ بُری طرح سے گِھر چکے ہیں۔ 
میاں صاحب!  خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اور ہر اُس بندے کو اس کی چوٹ سہنی پڑتی ہے جو جھوٹ، ناانصافی کا مرتکب ہو۔ جس انکساری اور عاجزی کا مظاہرہ آپ اور آپ کے اہل خانہ آج کل کررہے ہیں، کاش یہی رویہ پچھلے چار سال بھی اختیار رکھتے لیکن شاید اب پانی سر سے گزر چکا، کیونکہ مکافات عمل شروع ہوچکا ہے۔

image

لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی منشا تھی کہ ہمیں آزادی 14 اگست کو ملے، کیوںکہ اس دن ہجری تقویم کے مطابق لیلۃ القدر تھی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شب قدر کو یوم آزادی اس لیے دی، کیوںکہ ہم نے اس سے یہ مملکت اسلام کے نام پر مانگی تھی۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا تھا کہ آزادی کے ملنے کے بعد تم کیا کرتے ہو۔ ایک طویل عرصے تک فرنگیوں کی غلامی میں رہنے کے نتیجے میں غلامی ہمارے ذہنوں میں راسخ ہوچکی تھی، لہٰذا ہم ان سے آزادی حاصل کے بعد بھی اور تاحال بجائے ہجری تقویم کے شمسی تقویم ہی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ 
لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قانون ساز اسمبلی میں اللہ کی حاکمیت کے اعتراف کے ضمن میں قرارداد مقاصد منظور کرکے ایک مثبت اقدام کیا، لیکن اس کو غیر موثر کرنے کے لیے اسے آئین میں صرف دیباچے کے طور پر شامل کیا۔ اس کے باوجود کہ بعد ازاں اسے آئین کا عملی حصہ قرار دیا گیا لیکن درحقیقت آج تک ملک میں اللہ کی حاکمیت قائم نہیں ہوئی۔ اگر ایسا ہوتا تو یہاں اسلام کا نظام عدل اجتماعی قائم ہوتا اور شرعی قوانین نافذ ہوتے۔ ہم کیوں آج بھی قرآن وسنت کی بالادستی کے بجائے پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں کرتے ہیں؟ اس کا جواب بھی ہمارے پاس ہے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں۔ ہم جیسا نظام مملکت چاہیں۔ ہم نے پارلیمانی جمہوریت کو اس لیے اختیار کیا ہوا ہے کہ ملک اسی پروسیس کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔
لوگ کہتے ہیں کہ اگر ملک میں پارلیمانی جمہوریت ہی نافذ کرنی تھی تو بار بار مارشل لا کیوں لگایا جاتا رہا؟ آمر بھی جمہوریت کا ہی سہارا کیوں لیتے رہے؟ بلکہ وہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں نہ کبھی حقیقی معنوں میں پارلیمانی جمہوریت رہی اور نہ ہی آمریت۔ 
آمر تو آمر ہوتے ہیں، ہمارے سول حکمرانوں نے بھی آمرانہ رویے اختیار کیے رکھے ہیں۔ نام نہاد جمہوریت اور آمریت کے ملغوبے کے نتیجے میں ہمیں کبھی سیاسی استحکام حاصل نہیں ہوا۔ سیاسی حکومتیں اپنے ادوار میں آمریتوں سے خائف رہیں اور آمر اپنی مطلق العنانیت کے باوجود اپنے غلط اقدامات کو تحفظ دینے کے لیے سیاسی لوگوں سے Idemnity لیتے رہے۔ ہماری قوم میں ایسی سیاسی قیادتیں بھی رہیں جو آمروں کو اپنا کندھا پیش کرتی رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ 
لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب ہم نے اس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا تو ہمیں یہاں فوری اسلام کا نظام عدل اجتماعی قائم کرنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے اپنے سابق آقائوں کے نظام کو اب تک سینے سے لگا رکھا ہے۔ ہم گزشتہ 70 سال سے اس نظام کو مسلمان بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن اب تک اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوسکے اور ہوتے بھی کیسے؟ کیا ٹاٹ پر مخمل کا پیوند لگاکر اسے مخملی بنایا جاسکتا ہے؟ متعدد مذہبی سیاسی جماعتیں میدان سیاست میں ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ نفاذ شریعت کے یک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوکے ایک زبردست پُرامن تحریک چلائیں، لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں، البتہ جمہوری نظام کو تلپٹ ہونے سے بچانے کے لیے وہ مختلف تحریکیں چلاتی رہی ہیں۔ ایک طرف ان کا دعویٰ ہے کہ وہ وطن عزیز میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہیں، دوسری جانب وہ موجودہ گلے سڑے نظام کا حصہ بنی 
ہوئی ہیں۔ دنیا میں کبھی جاری نظام کے ساتھ وابستہ رہ کر کوئی جماعت انقلاب نہیں لاسکی۔ آخر اتنی موٹی سی بات ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ جب تک جاری نظام کو ختم نہ کیا جائے، کوئی انقلاب لانا ممکن نہیں۔ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ وہ جماعتیں اپنے پالیسیوں اور اقدامات میں آزاد ہیں۔ انہیں اس کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
میڈیا کے بارے میں لوگ اکثر شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ وہ ملک میں عریانی و فحاشی پھیلانے میں مصروف ہے۔ معاملہ اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ ایک نجی ٹیلی وژن کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ لڑکیوں کو دبئی میں مقابلۂ حسن میں شرکت کے لیے آمادہ کرنے میں مصروف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بھائی ٹی وی کاروبار کے لیے قائم کیے جاتے ہیں اور وہ آپسی مسابقت میں اس قسم کے کام کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے پیش نظر پیسہ کمانا ہے۔
قارئین اگر ہم غور کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان ساری خرابیوں کی بنیادی وجہ ہے کہ ہم آزادی کا مطلب نہیں سمجھتے۔ ہمیں ایک آزاد قوم بنے قریباً پون صدی ہوچکی ہے لیکن ہم اب تک غلامی سے نجات حاصل نہیں کرسکے۔ ہم سیاسی اور معاشی طور پر تو غلام بن ہی چکے ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اب تک ذہنی طور پر غلام ہی ہیں۔ ہم بھی اپنے سابق آقائوں کی طرح مادر پدر آزادی کے راستے پر گامزن ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ (آمین)

image

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا مقام عطا فرمایا ہے۔ انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ جب انسان تہذیب و شائستگی کا دامن چھوڑ دے تو وہ بہت نیچے گر جاتا ہے۔ وطن عزیز میں آج کل عجیب ماحول پیدا کر دیا گیا ہے، جو تباہ کن اور بھیانک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انسان کے اخلاق و کردار کو گھن لگ جائے تو اس کا علاج بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔ زبان کا غلط استعمال ایسے زخم لگاتا ہے، جو کبھی مندمل نہیں ہوتے۔ ہمارا دشمن ہر جانب سے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے اور ہم پاکستانی ہر طرف سے آنکھیں بند کرکے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں محو ہیں۔ آج کل کا دور میڈیا کا دور ہے۔ وقتِ حاضر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے کہیں وسیع تر سوشل میڈیا کا میدان ہے۔ 
سیاسی شخصیات کے آپس میں اختلافات فطری طور پر ہوتے ہیں۔ ان کے اظہار کے لیے مہذب طریقے پوری دنیا میں رائج ہیں۔ سیاسی میدان میں مہذب قومیں شفاف طریقے سے انتخابات کا اہتمام کرتی ہیں اور عوام الناس کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے جسے چاہیں ووٹ کے ذریعے منتخب کرلیں۔ منتخب ہونے والا اور شکست کھانے والا دونوں امیدوار اور دونوں پارٹیاں نتیجہ سننے کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور نتائج کو تسلیم کرتے ہیں۔ اگر کسی بے ضابطگی کا خدشہ اور امکان نظر آئے تو اس کے لیے متاثرہ فریق ادارتی نظام سے رجوع کرسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ عوام اپنی آزادانہ رائے کا استعمال نہیں کرسکتے۔ اسی عامل نے ہمارے ہر شعبۂ زندگی کو اپاہج کر دیا ہے۔ تمام سیاسی قوتوں کو اس جانب مثبت انداز میں سوچ بچار کرکے پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے۔ 
اگر آپ کسی شخصیت سے اختلاف رکھتے ہیں تو بھی اس کے انسانی حقوق اور معاشرتی احترام کو مجروح نہیں کیاجاسکتا۔ اب کسی اخبار کو اٹھا کر طائرانہ نگاہ سے دیکھ لیں یا کسی چینل کے سامنے چند لمحے بیٹھ جائیں، آپ پریشان ہوجائیں گے کہ سارا تالاب ہی گندا نظر آتا ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں تو ہر لمحے آپ کے واٹس ایپ، ٹوئٹر اور موبائل پر ایسی چیزیں کثرت اور تسلسل کے ساتھ آتی ہیں کہ آپ سوچتے ہیں کہ اس ذہنی عذاب سے نجات کیسے ممکن ہے۔ مرد و خواتین کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے حدود متعین کیے ہیں۔ عصمت و عفت اور شرم و حیا اسلام کی پہچان ہے۔ سیاسی سکینڈل کے ساتھ ساتھ اخلاقی سکینڈلز کی میدانِ زندگی میں ایک دوڑ لگ گئی ہے۔ ’’ایسے کو تیسا‘‘اور ’’اینٹ کا جواب پتھر‘‘ کا اصول اپنا کر آستینیں چڑھائے سیاسی قائدین و کارکنان نے وہ ہا ہا کار مچا دی ہے کہ خدا کی پناہ! الزام لگتے ہیں پھر انہیں بہت برے انداز میں پورے معاشرے میں اچھالا جاتا ہے۔ ان کی حقیقت کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ 
سیاسی اور سماجی رہنماؤں ، دینی و مذہبی قائدین، ذرائع ابلاغ میں مصروفِ عمل شخصیات، سبھی کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اگر ان کے اخلاق و کردار اور زبان و بیان سے شائستگی رخصت ہوجائے گی تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ جو بھی کسی پر الزام لگائے، اُسے ثابت کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جس پر الزام لگے، اسے دفاع کا حق دیے بغیر مجرم قرار دینا اسلام اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اس وقت ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ دیگر سیاسی دھڑوں کے قائدین بھی عدالتوں سے نکل کر چوکوں، چوراہوں میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ نہلے پر دھلا کی یہ جنگ انتہائی بدبودار اور گھناؤنی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ راتوں رات یہ سارے کیس بازار میں آگئے ہیں۔ ہمارا دشمن ہر طرح ہمارے خلاف سازشیں کرتا ہے اور ہم باہمی اتحاد و اتفاق کے بجائے مخالفانہ بیان بازی، کردار کشی اور گالم گلوچ کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔
مال و دولت کی تباہی اور کرپشن بھی انتہائی نقصان دہ ہے، مگر اخلاق و شائستگی کا جنازہ نکل جانا تو بہت بڑا المیہ ہے۔ جب لیڈر اس سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو ان کے کارکنان کیوں پیچھے رہیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں ہر بڑی سیاسی قوت کے چاہنے والے اینکرز بھی موجود ہیں اور مالکان بھی۔ وہ اس جنگ میں ایک دوسرے کو چت کرنے کے لیے جو طریقے اپناتے ہیں، وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ صحافت میں دیانت نہ ہو اور تحریر و تقریر میں اخلاقی اقدار اور انسانی شائستگی غائب ہوجائے تو انسان جانوروں سے بدتر ہوجاتا ہے۔ ہمارا دشمن ہمیں ہر جانب سے گھیرے میں لے رہا ہے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میاں نواز شریف کے استعفے سے قبل پریس کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ ملک و قوم کو تباہ کرنے کے لیے کئی عالمگیر سازشیں سرگرم عمل ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک باخبر سیاستدان کی وارننگ تھی، جسے نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ 
ملکی سیاست و معاملات کے اس نازک موڑ پر تمام ابنائے اسلام اور دخترانِ ملت سے درخواست ہے کہ وہ یہ طرزِ عمل ترک کردیں۔ جن لوگوں نے واقعتا زیادتیاں کی ہیں، وہ متاثرہ فریق سے معافی بھی مانگیں اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کا معاوضہ بھی دیں۔ اگر جرم ایسا ہے جو قابل تعزیر ہے تو اس پر بھی قانون و انصاف کے تقاضوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ اس کے ساتھ لازمی ہے کہ غلط الزام لگانے والوں کا بھی آڈٹ کیا جائے اور حقائق کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ آج کے بچے اور نوخیز نسل کل کے حکمران اور ارباب حل و عقد ہوں گے۔ اس پر تعفن ماحول میں پروان چڑھنے اور میڈیا کے زہرناک شور ہنگامے میں سانس لینے والی یہ نسل کیا اخلاق و کردار لے کر میدان میں آئے گی۔ خدا کے لیے اپنی آنے والی نسلوں کو تباہی کے سمندر میں دھکیلنے سے اجتناب کیجیے۔ حضور پاکؐ جن کا ہم سب کلمہ پڑھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ مومن جھوٹا اور فحش گو نہیں ہوتا۔ اہلِ ایمان! ذرا سنجیدگی کے ساتھ اس عاجزانہ استدعا پر توجہ فرمائیے۔

image

جدوجہد آزادی کے دوران مختلف مواقع پر قائد اعظم نے جس طرح پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس سے ان کا تصور پاکستان نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ قائد اعظم کا پاکستان حریت، مساوات اور اخوت کے اسلامی اصولوں کا عملی مظہر مملکت ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں اسلام کی وہ تعلیمات جو صدیوں کی ملوکیت کے باعث دھندلا گئی تھیں، پاکستان ان تعلیمات کو عملاً زندہ اور نافذ کرنے کا نام ہے۔ علامہ نے فرمایا:
ہو چکا اس قوم کی شان جلالی کا ظہور
ہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
پاکستان کا قیام مسلم قوم کی شان جمالی کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا۔ اسی لیے قائد اعظم نے جب بھی یہ کہا کہ وہ اسلام کے اصولوں کے عملی نفاذ کو ممکن بنانے کے لیے ایک الگ مسلم مملکت کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں تو اس سے ان کی یہی مراد تھی۔ پہلے یکم فروری ۱۹۳۸ء کو گیا (بہار) کے مسلمانوں کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا: بہت سے لوگوں کو خصوصاً ہمارے ہندو دوستوں کو، اس وقت بہت پریشانی ہوتی ہے جب ہم اسلام کا ذکر کرتے ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کا پرچم اسلام کا پرچم ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم سیاست میں مذہب کا عنصر داخل کر رہے ہیں۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اسلام محض مذہب نہیں بلکہ ہمیں مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔ اسلام محض مذہب نہیں بلکہ یہ قانون، فلسفہ اور سیاست سب کچھ ہے۔ دراصل اسلام اس سب کا نام ہے جس سے ایک عام آدمی کو صبح سے شام تک واسطہ پڑتا ہے۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہم اس ہمہ گیر نظام حیات کی بات کرتے ہیں۔ ہم اس سے منفی معنوں میں مذہب مراد نہیں لیتے۔ اسلام کے نظام زندگی ہونے سے ہماری مراد حریت، مساوات اور اخوت ہے۔
تاہم پاکستان کے اسلام کے اصولوں پر مبنی مملکت ہونے سے قائد کی یہ ہرگز مراد نہ تھی کہ یہ کوئی مذہبی ریاست ہو گی جہاں مذہبی لوگ یا محض مذہبی نمائندے ہی اقتدار میں ہوں گے۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۴۷ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کراچی کے اجلاس سے کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا کہ ہمیں یہ بات واضح طور پر معلوم ہونی چاہیے کہ پاکستان اسلام کی تعلیمات پر مبنی اسلامی ریاست ہو گی تا ہم یہ کسی طور پر بھی کوئی مذہبی یا ملائی ریاست نہیں ہو گی۔
اسلام کا ذکر کرنے پر دوسرے مذہبی طبقات اگر کسی طرح کے تحفظات کا شکار ہو سکتے تھے تو قائد اعظم نے اس کا بھی انہوں نے مختلف مواقع پر ازالہ کیا۔ قائد اعظم نے ۱۹ فروری ۱۹۴۸ء کو آسٹریلیا کے ایک نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ ہم سب اسلام کی عظیم برادری کے افراد ہیں جو سب حقوق، عزت و احترام اور عزت نفس میں مساوی ہیں۔ سو ہم میں وحدت کا خاص اور بہت ہی گہرا احساس موجود ہے۔ تا ہم یہاں آپ کو کسی مغالطے کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کسی بھی صورت میں کوئی مذہبی ریاست نہیں۔ اسلام ہم سے دوسروں کے عقیدے کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ اور ہم یہاں ان سب کے قریبی تعاون کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی عقیدے سے ہو جو پاکستان کے سچے اور وفادار شہری کے طور پر برضا و رغبت اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
بمبئی میں اسماعیل یوسف کالج میں یکم فروری ۱۹۴۳ء کو قائد اعظم نے فرمایا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہو گی جسے اسلام کے اصولوں کے مطابق چلایا جائے گا۔ اس کے ثقافتی، سیاسی اور معاشی نظام کی بنیاد اسلام کے اصول ہوں گے۔ پاکستان میں غیر مسلموں کو ہرگز خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ انہیں یہاں مکمل انصاف حاصل ہو گا۔ یہاں ان کے ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور معاشی حقوق کو پورا تحفظ حاصل ہو گا۔ فی الاصل دنیا میں رائج نام نہاد پارلیمانی جمہوری نظام کی نسبت وہ پاکستان میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں گے۔
یہ مملکت جمہوری روح کی نمائندہ مملکت ہو گی۔ اس کا دستور، آئین اور قانون اسلام کے آفاقی ضابطوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہاں کے عوام طے کریں گے۔ قائد اعظم نے ۲۴ اپریل ۱۹۴۳ء کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس دہلی میں اپنے صدارتی خطبے میں ارشاد فرمایا کہ پاکستان کے آئین کی تشکیل صرف اس کے عوام اور ملت ہی کر سکیں گے۔ قائد کے اس فرمان میں ملت کا لفظ اس تمام معنویت اور تقاضوں کو بیان کر رہا ہے جو ایک اسلامی آئین کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
بمبئی میں میمن چیمبر آف کامرس کے استقبالیہ سے ۲۷ مارچ ۱۹۴۷ء کو خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے اس تصورکی وضاحت کی کہ اس نو زائیدہ مملکت کا معاشی نظام کیا ہو گا۔ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان میں آپ کو اپنی حکومت میں سماجی انصاف کے قیام کے لیے بہت کچھ کرنے کا موقع میسر ہو گا، سماجی انصاف جسے میں شاید سوشلسٹ حکومت کا نام دوں۔ سماجی انصاف اسلام کے بنیادی اصولوں میں ایک کلیدی اصول ہے۔ کسی بھی ریاست کا یہ بنیادی فریضہ ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ وہ معاشی اور سماجی انصاف پر یقین رکھتی ہے۔
روزنامہ ڈان کی ۱۰ مارچ ۱۹۴۴ء کی اشاعت کے مطابق اس سوال، کہ ہم پاکستان کیسے حاصل کریں گے، کہ جواب میں قائد اعظم نے فرمایا کہ پاکستان صرف باتوں سے، بھیک مانگنے سے اور محض دعاؤں سے نہیں حاصل ہو گا۔ بلکہ اس کے لیے اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے عملی جدوجہد کرنا ہو گی۔ بایں طور ان شاء اللہ پاکستان آپ کے ہاتھوں میں ہو گا۔ 
قائد اعظم کی نگاہوں سے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا مستقبل بھی اوجھل نہ تھا۔ ان کے پیش نظر ان مسلمانوں کے مستقبل کا تحفظ بھی تھا جو پاکستان بننے کے بعد بھارت میں اقلیت کے طور پر رہ گئے تھے۔ ۱۷ اپریل ۱۹۴۶ء کو مسلم لیگ کنونشن، دہلی میں خطاب کرتے ہوئے قائدا عظم نے فرمایا اگر بھارت ہماری اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی کرے، ان کو ستائے تو پاکستان ایک خاموش تماشائی نہ بنے گا۔ اگر گلیڈسٹون کے زمانے میں برطانیہ اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر امریکا میں مداخلت کر سکتا ہے اگر ہندوستان میں ہماری اقلیتوں پر مظالم کیے گئے تو ہمارا مداخلت کرنا کیونکر حق بجانب نہ ہو گا۔
پاکستان کے ۷۰ ویں یوم آزادی کے موقع پر ہماری ذمہ داری ہے کہ اس آزاد مملکت میں ہم بانی پاکستان کے دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی وژن کو عملی شکل دینے کی کوشش کریں۔ اسی سے ہم پاکستان میں ایک مثالی فلاحی معاشرہ قائم کر سکیں گے اور بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خاتمے کا بھی کو ئی امکان پیدا ہو گا۔

image

نجی محفل تھی۔ نااہل کردہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی متنازع ریلی اسی روز اختتام کو پہنچی تھی۔ وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ نمائندے زور دے رہے تھے بات جو بھی ہو کہا یہ جا رہا ہے کہ اس ریلی سے نواز شریف کی مقبولیت بڑھی ہے۔ اپنی کہی بات کو مستند کرنے کی غرض سے وہ نون لیگ سے متعلق اچھے الفاظ بھی استعمال کر رہے تھے۔ بالآخرایک مبصر کو یہ کہہ کر ٹوکنا پڑا کہ اس ریلی میں خود نون لیگ کے زعماء شامل نہیں رہے۔ عین ممکن ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اس طرح منہ کھول کر باتیں کرنے سے نواز شریف کو کسی افتاد کا سامنا کرنا پڑے۔ کچھ لوگوں نے جب اس جانب توجہ دلائی کہ میاں نواز شریف نے عدالت عالیہ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے باوجود اپنی ریلی میں حکومت پنجاب کے بے تحاشا وسائل استعمال کیے تو اس پر کہا گیا کہ یہ معمولی بات ہے۔
ایک اور محفل میں کسی نے نوید سنائی کی شریف فیملی کی سیاست تمام ہو چکی۔ ساتھ ہی پوچھا کیا وجہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا ہے؟ عرض کی کہ حضور اراکین اسمبلی کی رائے دہی سے بنے ہیں۔ بولے واہ ایسے ہی، بھئی قطر نے کہا ہے جو بھی ہو جائے ہمارے ساتھ کیا گیا ایل این جی کی خرید کا معاہدہ متاثر نہیں ہونا چاہیے، چونکہ اس معاہدے پر وزیر برائے توانائی کی حیثیت سے شاہد خاقان عباسی کے دستخط تھے اس لیے قطر کے دباؤ کے باعث انہیں وزیر اعظم منتخب کرایا گیا ہے۔ ایک اور باخبر محکمے کا اہلکار بولا ویسے تو ایل این جی لائسنس کیس میں ان کا نام ہے تاہم قطر مدد کرے گا۔ ساری بات اس لیے اوپر سے گزر گئی کہ سعودی قطر مخاصمے بارے سب آگاہ ہیں۔ یمن میں فوج نہ بھیجے جانے سے میاں نواز شریف کے اغماض سے بھی لوگ ناآگاہ نہیں۔ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی مشترکہ فوج کی سربراہی بھی عیاں ہے۔ سعودی عرب جس نے باقی عرب ملکوں کے ساتھ مل کر قطر کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچانے کی کارروائیاں کی ہیں کیا وہ چاہے گا کہ قطر ایل این جی کی فروخت سے آمدنی حاصل کرتا رہے، ایسا کیوں ہو گا؟ ویسے بھی بین الاقوامی تجارتی معاہدے حکومتوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوا کرتے۔جس کے منہ میں جو آتا ہے کہے جاتا ہے۔ وزارت خارجہ سے وزارت داخلہ تک، وزارت دفاع سے وزارت عوام تک سبھی سیاست پر رائے دینا اپنا فرض اولیں خیال کرتے ہیں۔ کرنے کو کچھ ہے نہیں تو سیاست میں منہ ماری کرتے رہو۔
کوئی بھی فیصلہ ہونے کے بعد سزا یافتہ کا حق ہوتا ہے کہ وہ ہونے والے فیصلے کو سمجھے تو غلط کہے۔ اپیل کی شکل میں کہے یا ببانگ دہل کہے۔ عدالت چاہے عظمیٰ ہو یا عالیہ غلطی سے مبرا نہیں ہوتی۔ دوسرا عدالتوں کو شہادتوں پر فیصلے دینا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات وکلائے صفائی یا تو مشاق نہیں ہوتے یا اضمحلال کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ملزم مجرم ثابت ہو جاتا ہے۔ انتہا تو یہ ہو گئی کہ خبر کے مطابق کسی نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر دی ہے کہ میاں نواز شریف کو غدار قرار دیا جائے۔ دلیل یہ ہے کہ آئین اور عدلیہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر وہ سرعام کہتے پھر رہے ہیں اور مزیدار بات یہ کہ اپیل سماعت کے لیے منظور بھی کر لی گئی ہے۔ آئین پر اعتراض نہ ہوں تو آئین میں ترامیم کیسے اور کیونکر ہوں۔ عدالتوں کے فیصلوں اور منصفین کے اطوار پر انگلی نہ اٹھائی جائے تو دونوں کی اصلاح کیسے اور کیونکر ہو سکے۔ آئین اور انصاف پر اعتراض صرف وہاں نہیں اٹھائے جا سکتے جہاں مطلق العنانیت ہو۔کیا پاکستان میں غیر اعلان شدہ مطلق العنانیت تو نہیں؟
 میاں نواز شریف کو چاہے ’’جھگڑا مول لینے‘‘ کا شوق ہو یا کہنے والوں کے بقول انہیں اقتدار میں رہتے ہوئے جمہوریت یاد نہیں آئی مگر نااہل ہوتے ہی یاد آ گئی، مگر اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ماہیت قلبی ہو سکتی ہے۔ مولانا روم کئی دنوں شمس تبریز سے گفتگو کرنے کے بعد یکسر بدل گئے تھے۔ زرکوب کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ چاہے میاں نواز شریف کا روحانیت سے کوئے تعلق نہ ہو لیکن انسان کو بدلنے میں کیا دیر لگتی ہے۔ اگر جو وہ کہہ رہے ہیں محض انتخابات کے لیے لائحہ عمل نہیں بلکہ ان کی تبدیل شدہ حکمت عملی ہے تو ان کے کہے کا خیر مقدم کرنا چاہیے مگر ہمارے ہاں ریت رہی ہے کہ کوئی کسی کے سر کلاہ برداشت نہیں کرتا۔ اس سے بشمول پی پی پی اور اے این پی کے کوئی بھی مبرا نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ نون لیگ سمیت سب ایک دوسرے کے سر پر کلاہ رکھتے ہوں، یہ کلاہ رکھنا فارسی زبان کے محاورے ’’کلاہ میذاری‘‘ والا ہے یعنی احمق بنانا ، دھوکہ دینا وغیرہ۔
اگر نواز شریف فی الواقعی حکومت کلی طور پر سیاستدانوں کے ہاتھ میں دیے جانے کا قصدکیے ہوئے ہیں تو اس سے اچھی بات کوئی نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ نہ شاہد خاقان عباسی کو قطر کے دباؤ پر وزیر اعظم بنایا گیا ہے اور نہ میاں نواز شریف اتنے بھلڑے ہیں کہ وہ کوئی انقلاب ونقلاب لائیں گے۔ وہ صرف اپنے ووٹ بینک کو قائم رکھنے کی سعی کر رہے ہیں۔
 

image

یوں تو پاکستان کو معرض وجود میں آئے ستر سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن آج بھی وہ ترقی سے کوسوں دُور ہے۔ تحریک پاکستان کی قیادت برصغیر کے بہترین رہنما قائداعظمؒ نے کی اور انہی کی رہبری کی بدولت وطن عزیز کا قیام یقینی ہوسکا۔ دو قومی نظریے کی بنیاد پر بننے والے اس ملک کے بانی کی جلد رحلت نے اب تک اس کو اس کیفیت سے باہر ہی نہیں آنے دیا۔ سات دہائیاں بیت چکی لیکن آج بھی یہ ملک ایک قوم اور مخلص قیادت کی تلاش میں ہے، اس ملک کو اگر قائداعظمؒکے بعد ان جیسی قائدانہ صلاحیتوں کی حامل شخصیات مل جاتیں تو اس کو رب کائنات نے ایسی ایسی نعمتیں اور انعامات عطا کر رکھے ہیں کہ وطن عزیز دنیا میں اگر سپرپاور نہیں تو کسی سپرپاور سے کم بھی نہ ہوتا، لیکن ملکی تاریخ میں حکمرانوں نے ایسا کردار ادا کیا جو اس کو آگے کی طرف لے کر جانے کے بجائے پیچھے ہی لے کر جاتا رہا ۔ مقام افسوس تو یہ ہے کہ دنیا کی ترقی کے اس کمپیوٹرائزڈ دور میں بھی ہمارے ملک کے اداروں کو اس کا ادراک نہیں ہوسکا جو اس ملک کی بدقسمتی نہیں تو پھر اور کیا ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار اس کے مضبوط اداروں کا ہوتا ہے اور ان میں کسی بھی جمہوری ملک میں اس کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں سب سے کلیدی کردار جمہوری ادارے کا ہی ہوتا ہے۔ اگر ہم اس طرح دیکھیں کہ فوج اور جمہوریت ایسے ادارے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جس ملک میں ان دو اداروں کی صورت میں یہ دونوں بنیادیں مضبوط ہوں گی پھر اس ملک کو پنپنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس لیے کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ان دونوں اداروں کا کردار نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے۔ 
ایک جمہوری ملک ہونے کے ناتے اس میں سب سے زیادہ اہم جمہوری ادارے کو ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہے؟اگر ہم تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو اس میں زیادہ قصوروار ہماری سیاسی قیادت نظر آتی ہے، کیونکہ کسی بھی جمہوری ملک کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو علم ہوجائے گا کہ جمہوریت کا وارث ہمیشہ سے جمہور ہی ہوتا ہے ناکہ کوئی خاندان۔ لیکن پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سیاست کے نام پر 
بادشاہت قائم کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ ہمارے سیاسی لیڈروں نے سیاسی پارٹی کو ہمیشہ ایک خاندان کی ملکیت کی طرح ہی سمجھا ہے اور ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ اس کی قیادت اسی خاندان کے پاس رہے۔ ان کی اسی روش کی وجہ سے پاکستان میں جمہوری ادارہ اب تک ایک ادارے کی صورت کیوں اختیار نہیں کرسکا، کیوںکہ جمہوریت میں اگر اصل طاقت جمہور ہوتی ہے تو پھر کسی بھی سیاسی پارٹی کے کسی سربراہ کو یہ حق نہیں کہ وہ اس کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے اپنے بعد اپنے خاندان کے ہی کسی فرد کو مسلط کرنے کی کوشش کرے۔
اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے موروثیت کو ترک کرنا پڑے گا۔ آج ہم اگر اپنی پاک فوج کی مثال دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ایک ایسی فوج ہے جس کو دنیا کے بہترین فوجی ادارے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔ ستر سالہ ملکی تاریخ میں پاکستان کے اس قابل فخر ادارے میں ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی، جس میں اس ادارے کے کسی سربراہ نے اپنے کسی فیملی ممبر کو اپنے بعد 
براجمان کرانے کی کوشش کی ہو۔ اس ادارے میں ہمیشہ میرٹ کو ہی پیش نظر رکھا جاتا ہے اور جس ادارے میں میرٹ کو سامنے رکھتے ہوئے صرف اہلیت کی بنیاد پر اہم عہدوں پر رکھا جاتا ہو، اس کی ترقی کو کوئی کیسے روک سکتا ہے۔ 
آج اگر پاکستانی افواج اور اس کے ذیلی ادارے آئی ایس آئی کو دنیا کی بہترین فوج اور ایجنسی کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے تو وہ بلاشبہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ آج ہمیں دنیا کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے اپنے جمہوری ادارے کو مضبوط ترین ادارے کی شکل دینے کے لیے موروثی سیاست کے بجائے جمہور کی سیاست اپنانی ہوگی اور اس کے لیے میرٹ کو ترجیح دینی ہوگی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جمہوریت چاہے جتنی بھی بری ہو، آمریت سے بہت بہتر ہوتی ہے، لیکن جمہوریت کے نام پر اب تک کی پاکستان کی تاریخ میں جس طرح ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ کسی بھی آمریت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے اور اگر ہم حقیقت حال کا جائزہ لیں تو ہمارے سیاسی لیڈروں کی اسی روش  نے ہمارے اس جمہوری ملک میں جمہوریت کو ایک مضبوط ادارہ نہیں بننے دیا۔ ہمیں اپنے ملک کو ترقی کی اوج پر پہنچانے کے لیے اس طرز عمل کو ترک کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان میں ادارے مضبوط ہونے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا اور محض خواب ہی رہے گا۔

image

’’تالی‘‘ کئی روز کے بعد آئی تھی۔
وہ میرے گھر ایک سال تک ملازمہ رہی تھی کوئی تیس کے پیٹے میں ہو گی۔
’’سلام صاب‘‘(صاحب)
’’وعلیکم السلام ‘‘
’’تالی‘‘ کے زرد چہرے پر عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی آنکھیں ویران اور زندگی سے محروم دکھائی دے رہی تھیں۔
’’بھئی خیریت ہے آج صبح ہی صبح؟‘‘
’’آپ سے چٹھی (خط) لکھوانی تھی‘‘۔
’’کس کے نام ؟‘‘
’’اپنے کھاوند(خاوند) کے نام ‘‘۔
بتاؤ کیا لکھنا ہے؟
صاحب ’’ناجو کے ابا کو لکھ دیں ’’ناجو‘‘ فوت ہو گئی ہے۔
’’ناجو‘‘ جو ’’تالی‘‘ کی پانچ سال کی انتہائی خوبصورت اور معصوم بچی تھی کی موت کا سن کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔
میں نے ہمدردی اور اپنائیت سے کہا ’’تالی‘‘ کھڑی کیوں ہو صو فے پر بیٹھ جاؤ۔
نہیں صاحب نیچے ہی ٹھیک ہوں۔ میرے کپڑے میلے ہیں صوفے گندے ہو جائیں گے۔
ارے نہیں کچھ نہیں ہوتا ان کو بیٹھ جاؤ۔ میرے بار بار اصرار کے بعد ’’تالی‘‘ سمٹ کر صوفے پر بیٹھ گئی میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ صدیوں سے بیمار ہے۔ چہرے پر غربت اور پریشانی کے آثار بخوبی دیکھے جا سکتے تھے وہ اپنی عمر سے کوئی بیس برس بڑی لگ رہی تھی۔
میں نے ’’تالی‘‘ سے پوچھا ’’ناجو‘‘ کے ابا کو پہلے اطلاع کیوں نہیں دی۔
اس کی آنکھوں میں ساون کی جھڑی لگ گئی صاحب کیسے اطلاع دیتی ابھی تنخواہ نہیں ملی تھی فون اور خط کے واسطے پیسے کہاں سے لاتی؟
مجھے کہہ دیا ہوتا۔
سب سے پہلے آپ ہی کے یہاں تو آئی تھی مگر آپ نے میری بات سنے بغیر کہہ دیا تھا کہ اتوار کو آنا اب جلدی میں ہوں۔
اس لمحے مجھے یوں لگا جیسے میرے اندر کچھ ٹوٹ رہا ہے۔ اندر ہی اندر اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا کہ میری وجہ سے ایک باپ اپنی بیٹی کا منہ نہ دیکھ سکا۔ اگر اس وقت اس مظلوم عورت کی بات سن لیتا تو کون سی قیامت آ جاتی!!!
میں بڑبڑائے چلا جا رہا تھا محسوس یوں ہو رہا تھا کہ میں ہی اس ’’آسیب زدہ‘‘ چہرے والی غریب الوطن کا مجرم ہوں۔ شرم کے مارے آنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا۔ تسلی دینے کیلئے مناسب الفاظ کا انتخاب مسئلہ بنا ہوا تھا۔
بس ’’تالی‘‘ روؤ مت صبر کرو ’’ناجو‘‘ تو بہت پیاری بچی تھی اور اللہ اپنے پیاروں کو اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ میں نے ندامت سے کہا ’’تالی‘‘ میری بات سمجھی یا نہیں لیکن سر اثبات میں ہلا دیا۔ میں نے ’’تالی‘‘ کے آبدیدہ چہرے کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ بتاؤ ’’ناجو‘‘ کو کیا ہوا تھا۔
صاحب ہونا کیا تھا جس گھر میں کام کرتی ہوں وہاں سے رات کو سالن لائی تھی بیگم صاحبہ نے غلطی سے باسی سالن دے دیا تھا بچی نے باسی سالن کھا لیا آدھی رات کو پیٹ میں درد شروع ہو گیا ساتھ دست اور قے بھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا بچی کی ٹانگیں دبائیں اس کے سر پر رومال باندھا اور نمک والا پانی دیا لیکن ’’ناجو‘‘ کو بالکل فرق نہیں پڑا۔
’’تالی‘‘ نے مزید بتایا کہ صاحب صبح سویرے ’’ناجو‘‘ کو اٹھا کر بیگم صاحبہ کے گھر گئی لیکن چوکیدار نے روک دیا۔ کہا کہ بیگم صاحبہ ابھی نہیں مل سکتیں وہ آرام کر رہی ہیں میں نے چوکیدار کے آگے ہاتھ جوڑے منت سماجت کی اس نے بڑی مشکل سے بیگم صاحبہ کو اطلاع دی۔ بیگم صاحبہ نے پیغام بھجوایا کہ ’’ تالی‘‘ سے کہو ابھی باہر ہی رکے مجھے شدید نیند آ رہی ہے۔
میں نے تجسس کے ساتھ ’’تالی‘‘ سے پوچھا پھر کیا ہوا؟ صاحب چوکیدار نے بچی کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھی تو ایک مرتبہ پھر بیگم صاحبہ کو نوکرانی کے ذریعے اطلاع دی جواب آیا بیگم صاحبہ دو گھنٹے بعد اٹھیں گی۔ وہ سو رہی ہیں رات کو دیر سے آئی ہیں۔
مرتی کیا نہ کرتی صبر کر کے بیٹھ گئی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا بچی کی حالت غیر ہونے لگی۔ روئی پیٹی، شور مچایا مگر کوئی میری مدد کو نہ آیا۔
چوکیدار نے کہا ڈیفنس والے شور شرابے پر بالکل دروازے نہیں کھولتے۔
میں نے کہا ’’تالی‘‘ یہاں تو احساس کے دروازے بھی بند ہیں۔
’’تالی‘‘ نے روتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی دن چڑھے بیگم صاحبہ نہا دھو کر نکلیں بچی کو دیکھا جو جان کنی کے عالم میں تھی۔
معاف کرنا ’’تالی‘‘ رات کو ایک کچی آبادی کے ’’آزادی سیمینار‘‘ میں گئی تھی دیر سے لوٹی اس لئے آنکھ نہیں کھل رہی تھی۔ بیگم صاحبہ نے کہا۔ تم ایسے کرو بچی کو لے کر فوراً ’’پنج ستارہ‘‘ ہوٹل پہنچو مجھے وہاں فوری طور پر ’’بچوں کے حقوق‘‘ کے متعلق ایک کانفرنس میںپہنچنا ہے۔ اس کے بعد تمہاری بچی کو ہسپتال لے جاؤں گی۔
بیگم صاحبہ گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئیں میں نے چوکیدار سے پچاس روپے ادھار لئے اور ہوٹل پہنچ گئی ہوٹل کے باہر کھڑے بندوق والے افسر نے مجھے اندر جانے نہ دیا۔ اس نے کہا پروگرام ختم ہو گا تو بیگم صاحبہ باہر نکلیں گی پھر مل لینا۔
دو تین گھنٹے بعد بیگم صاحبہ باہر نکلیں میری طرف دیکھا اور کہا ’’تالی‘‘ گاڑی میں بیٹھو۔ ہسپتال چلتے ہیں ’’ناجو‘‘ خاموشی سے سوئی ہوئی تھی شاید اب اس کا درد تھم گیا تھا خدا خدا کر کے ڈاکٹر ملا اس نے ’’ناجو‘‘ کو ’’ٹونٹی‘‘ (سٹیتھو اسکوپ) لگائی بیگم صاحبہ کو مخاطب کر کے کہا بچی کو فوت ہوئے تو دو گھنٹے ہو چکے ہیں۔ آپ اتنی تاخیر سے پہنچی ہیں۔ مجبوری تھی دراصل ڈاکٹر صاحب ’’بچوں کے حقوق‘‘ کے حوالے سے آج میری تقریر تھی اس میں دیر ہو گئی۔

image

بھارت کے وزیراعظم کا ’’فرمانا‘‘ ’’بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘ کی عملی تصویر ہے۔ وزیراعظم بھارت یعنی نریندرامودی نے کل بھارت کے یوم آزادی پر لال قلعہ دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کیا جس میں موصوف نے اور باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گالی سے حل ہوگا اور نہ گولی سے کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے حل ہوگا۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ہم کشمیر کی جنت کو دوبارہ محسوس کرسکیں۔
پڑھ لیا آپ نے نریندرا مودی کا بھاشن۔ ہے نا یہ بغل میں چھری والی بات۔ ایسا لگتا ہے کہ گلے لگانے والی بات کرتے ہوئے وہ شرم نام کی چیز کو ساتھ لانے کی بجائے گھر رکھ آئے تھے تاکہ شرم ساتھ ہو اور نہ وہ آسکے۔ لیکن گلے لگانے والے معاملے کو دوسری طرح سے بھی لیا جاسکتا ہے بلکہ ہمارے خیال میں یہی معاملہ ہے کہ ایک ہاتھ میں چھری پکڑیں اور اسے اپنے پیچھے چھپا لیں اور دوسرے ہاتھ کو آگے بڑھا کر گلے لگالیں۔ جب شکار شکنجے میں آجائے تو چھری والا ہاتھ نکالیں اور دھڑا دھڑ وار شروع کردیں۔ بندہ ہی نہ رہا تو اس کی ’’سرکشی‘‘ کہاں رہ جائے گی۔
مودی سرکار کیا، اس سے پہلے کی سرکاریں بھی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یہی کچھ کرتی رہی ہیں۔ مودی سرکار نے اس معاملے کو ذرا تیز کردیا ہے اور اپنے ہی طریقے پر گلے لگانے کا عمل بڑھادیا ہے … گولی سے بھی مسلسل کام لیا جارہا ہے… روزانہ اٹھنے والی لاشیں، روزانہ بہنے والا خون… روزانہ یتیم ہونے والے بچے، روزانہ بیوہ ہونے والی سہاگنیں، روزانہ اپنے جگر گوشوں سے محروم ہونے والی مائیں … یہ سب گلے لگانے کی پالیسی کی وجہ سے ہی ہے۔
لگتا ہے کہ مودی سرکار نے نئی ڈکشنری تیار کی ہے جس میں گالی اور گولی کی نئی تعریف رقم کی گئی ہے… دنیا بھر میں یہ اصول رہا ہے اور اقوام متحدہ کا چارٹر بھی حق دیتا ہے کہ انسان غلامی کی زنجیریں توڑنے اور اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کا حق رکھتا ہے مگر بھارت اور اس کا نیا دوست امریکہ اسے ماننے کیلئے تیار نہیں۔ ان کے نزدیک جذبہ حریت اور آزادی کی جدوجہد دہشت گردی ہے۔ وہ بھی اس صورت میں جب یہ مسلمانوں کی طرف سے کی جائے۔ دوسرے مذاہب کے لوگ مطالبہ کریں تو انہیں فوراً آزادی کا حق مل جاتا ہے۔ عصر حاضر میں ایسٹ تیمور اس کی زندہ مثال ہے مگر دنیا میں جہاں کہیں مسلمانوں کی جدوجہد آزادی جاری ہے، اسے دہشت گردی کا نام دیدیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ جدوجہد ایک دو نہیں کئی جگہ ہورہی ہے مگر کشمیر اور فلسطین اس کی سب سے بڑی اور دردناک مثالیں ہیں جس کے مظلوم و محکوم انسان جدید ترین ہتھیاروں کا مقابلہ غلیلوں اور پتھروں سے کررہے ہیں… وہ سینے پر گولیاں کھاتے ہیں۔ اپنی دھرتی کو خون سے سینچتے ہیں مگر ان کا جذبہ سرد نہیں ہوتا۔ ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آتی … آزادی کیلئے ان کی امنگ اور تڑپ برقرار ہے … برقرار ہی نہیں وہ اسے بروئے کار بھی لارہے ہیں۔
ہمارے خطے میں ستر برس سے کشمیریوں کے ساتھ آگ اور خون کا کھیل کھیلا جارہا ہے… ستر برس بھی کہاں! اس سے پہلے ہری سنگھ کے دور میں بھی ان کے ساتھ یہی کچھ ہورہا تھا۔ ہری سنگھ اس لیے کشمیر کا راجہ تھا کہ اس کے اجداد میں سے گلاب سنگھ نے کشمیر کو انگریزوں سے خرید لیا تھا… اس خوبصورت وادی کے مسلمان راجہ ہری سنگھ کے ظلم کے شکنجے سے آزاد ہوئے تو انہیں بھارت نے دبوچ لیا … یہ لوگ قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ اب بھی دے رہے ہیں اور اس وقت تک دیتے رہیں گے جب تک یہ آزادی کی نعمت سے بہرہ ور نہیں ہوجاتے … اب تو ان پر ظلم کی انتہا ہوگئی ہے۔ ساڑھے سات لاکھ فوج ہے جو کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچلنے میں مصروف ہے … فوج نے وہ کون سا ستم ہے جو ان پر نہیں توڑا۔ ایسا لگتا ہے کہ چنار کے پھولوں نے سرخ رنگت شہید ہونے والے لاکھوں کشمیریوںکے خون سے حاصل کی ہے۔ زمین میں جذب ہوجانے والے اس خون کو چنار کے پودوں نے وہیں سے حاصل کیا ہے بلکہ اس طرح محسوس ہوتا ہے کہ ان پودوں کی آبیاری ہی اس خونِ ناحق سے ہوئی ہے جو بھارت کے ظلم کی نشانی کے طور پر ٹپک رہا ہے۔ مودی کے الفاظ کی گونج ابھی باقی تھی کہ کشمیر میں گولی کی آواز گونجنے لگی۔ بھارتی فوج مظلوم کشمیریوں پر آنسو گیس برسانے لگی اور گلے لگانے والی بات ہوا ہوگئی۔میرے مظلوم اور مجبور کشمیری بھائیو! تم مودی کے اس دام فریب میں مت آجانا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے حل ہوگا … یہ خالصتاً دھوکہ ہے۔ دکھاوے اور ظاہر داری کی باتیں، دنیا کے آنکھوں پر ڈالنے کیلئے ایک پردہ ہے … وہ گلے ضرور لگائیں گے مگر ساتھ ہی کمر میں خنجر بھی گھونپ دیں گے جو انہوں نے اسی مقصد کیلئے چھپا رکھے ہیں … ایسا لگتا ہے کہ اب تو مالکِ ارض و سما کو بھی تمہاری حالت پر رحم آنے ہی والا ہے کیونکہ بڑھتا ہوا ظلم اسی امر کی نشانی ہے کہ وہ بس مٹنے کے قریب ہے … لگتا ہے ظلم کے منحوس سائے اب چھٹنے والے ہیں اور صبح امید طلوع ہونے ہی والی ہے جو صبح آزادی کی پیامبر ہوگی۔
نریندرا مودی بھارت میں درگا کی شکل بن کر اٹھا ہے۔ اس سے پہلے اندراگاندھی اور کچھ دوسرے بھارتی حکمرانوں نے یہ روپ دھارا تھا۔ انہوں نے کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی تھی اور اب مودی مسلمانوں کو زندہ درگور کردینے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا ہے… اس کی باتیں سب فریب ہیں، ہمارے پیشِ نظر تو اس کا عمل ہے… اور عمل یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا وجود مٹائو اور کشمیر میں بھی نسل کشی کے ذریعے ان کا خاتمہ کردو۔
اور اب نواز شریف صاحب کیا کہیں گے۔ ان کے دوست نریندرا مودی نے تو ان کے فلسفے کی تردید کردی ہے۔ نااہلی سے اب تک نواز شریف ووٹ کی حرمت کا بار بار ذکر کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹ کا تقدس بحال کرائیں گے مگر مودی نے تو اپنی اسی تقریر میں کہہ دیا کہ جمہوریت ووٹ تک محدود نہیں یعنی جمہوریت میں ووٹ ہی سب کچھ نہیں اور بھی بہت کچھ ہے اور ووٹ محض اس کا  ایک جزو ہے۔ ہم یقینا مودی سے متفق نہیں کیونکہ ووٹ جمہوریت کا حسن ہے مگر میاں صاحب اپنے دوست کو بتائیں کہ وہ کیوں آپ کی فلسفے سے پہلو تہی بلکہ اس کی نفی پر تلا ہوا ہے۔ اس پر ہم بات نہیں کرتے۔ آپ جانیں اور آپ کا دوست … لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنے جانشین کو اس بارے میں سمجھا کر نہیں گئے یا اس نے آپ کی بات پر کان نہیں دھرے کہ آپ کے برعکس شاہد خاقان عباسی تو کھل کر بھارتی مظالم کا ذکر کررہا ہے اور وہ کشمیریوں کی حمایت کا اعادہ بھی کئے جارہا ہے… ہمارے نزدیک آپ کو نااہل قرار دینے کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ آپ بھارت کے بارے میں خاموشی کے فارمولے پر عمل پیرا تھے اور ایسا لگتا ہے کہ باری تعالیٰ کو آپ کی یہ بات پسند نہیں آئی کہ اللہ تو مظلوموں کی دستگیری کرتا ہے۔اگرچہ آپ کو کسی اور وجہ سے نااہل قرار دیا گیا ہے مگر ہم انسان اللہ کے فیصلوں کو نہیں سمجھ پاتے۔
آپ کی طرف سے ووٹ کی طاقت سے آنے والے کو محض پانچ ججوں کی طرف سے نااہلی اور برطرفی کا پروانہ پکڑا دینے پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اسی حوالے سے ایک دلچسپ پوسٹ دیکھنے کو ملی جو دراصل آپ کے اس موقف پر ایک طرح سے طنز ہے۔ اگرچہ ہم اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتے تاہم محض تفننِ طبع کی خاطر اسے دے رہے ہیں۔
پوسٹ اس طرح سے ہے کہ کلبھوشن نے بھی عوامی عدالت میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کہتا ہے مجھے سوا ارب لوگوں نے بھیجا ہے یہ ایک جج کیسے مجھے قصوروار ٹھہرا کر موت کی سزا دے سکتا ہے۔کیا خیال ہے میاں صاحب آپ کا اس طنز کے بارے میںآپ تو پھر انہی ججوں کے پاس چلے گئےآپ نے انہی کے پاس نظرثانی کی اپیل دائر کردیانہی سے دوبارہ انصاف طلب کررہے ہیںانہی کو بتارہے ہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہےآپ تو کہہ رہے تھے کہ آپ اپیل نہیں کریں گے مگر اب …!

image

پاک بھارت تاریخ میں شاید 70سال کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی حکومت کو یہ روز بد دیکھنے کو ملا ہے جب بھارت کی تمام اقلیتوں نے 15اگست کو بطور یوم سیاہ منایا ہے ان میں سکھ پیش پیش ہیں، اب تک کی اطلاعات کے مطابق پنجاب اور ہریانہ کے پندرہ شہروں میں جن میں پنجاب کا دارالحکومت چندی گڑھ بھی شامل ہے۔ سکھوں نے بھارتی ترنگا جلا کر بھارتی حکومت سے اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ یہ صرف بھارت ہی نہیں برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، سکنڈے نیویا، آسٹریلیا غرض دنیا کے ہر قابل ذکر ملک میں جہاں سکھ آباد ہیں اور وہاں کے قوانین انہیں آزادی رائے کا حق دیتے ہیں سکھوں نے بھارتی ترنگا جلاکر، اسے جوتوں سے مسل کر اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کیا ہے جبکہ دیگر اقلیتوں نے سیاہ پرچم لہرائے اور چوری چھپے بھارتی ترنگا بھی جلایا کیونکہ اس کے بغیر بھی ان کی زندگی جہنم بن چکی ہے اور ان حالات میں اگر یہ عمل سکھوں کی طرح وہ میڈیا کے سامنے دھراتے تو اس کی قیمت انہیں مکمل نسل کشی کی شکل میں ادا کرنی پڑتی۔
بھارتی حکومت کا جھوٹ بنگال کے جادو کی طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ 1984ء سے اب تک یعنی 33سال بعد بھی سکھوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو فراموش نہیں کیا بلکہ آئے روز ان کی بھارتی حکومت خصوصاً براہمن سامراج سے نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آج بھارتی سوشل میڈیا میں آپ کو جوتوں پر بنے بھارتی ترنگے، سیاہ ماتمی پرچم جگہ جگہ لہراتے دکھائی دیں گے۔ پنجاب کے درودیوار ’’ریفرنڈم خالصتان 220، 15اگست یوم سیاہ، خالصتان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے بھرے دکھائی دے رہے ہیں جس پر کیپٹن امریندر سنگھ سرکار کے لیے مرکزی حکومت کو اپنی صفائی پیش کرنا ممکن نہیں رہا۔
’’را‘‘ کی طرف سے افغانستان میں قائم کردہ پراپیگنڈہ سیلز کی طرف سے پاکستانی میڈیا میں بے پناہ زہر پھیلانے ، بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی مجرمانہ سرگرمیوں کو ہوا دینے کے باوجود الحمد للہ آج پاکستانی اقلیتیں مطمئن اور مسرور ہیں جب وہ خصوصاً بھارت میں غیر براہمن اقلیتوں کے احوال سے آگاہ ہوتے ہیں تو شکر کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں۔ آج آپ کو بھارت اور غیر ممالک میں رہنے والے سینکڑوں سکھوں اور چھوٹی ذات کے ہندوئوں کی وہ پوسٹیں دکھائی دیں گی جن میں وہ پاکستان میں اپنے بزرگوں کی گزری زندگی کے واقعات بیان کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں اور بہت دکھی دل سے یہ بات لکھ رہے ہیں کہ کاش وہ بھارت کے بجائے پاکستان کے شہری ہوتے۔ براہمن سامراج جو آر۔ایس۔ایس اور شیوسینا کے روپ میں آج بھارت کے کونے کونے میں موجود اور اپنی اصلیت مکمل بے نقاب کر چکا ہے برصغیر کے ہر باشعور انسان کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ قائداعظمؒ نے 23مارچ 1940ء کو جو فیصلہ کیا تھا اس نے مسلمانوں کو سپین جیسے بڑے سانحے سے بچا لیا۔ 2017ء میں یہ بات تاریخ کا ہر طالب علم کہنے پر مجبور ہے کہ اگر پاکستان کا قیام عمل میں نہ آتا تو خدانخواستہ ہمارا اس خطے سے نام و نشان ہی مٹ جاتا۔ بھارتی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو محض بگاڑنے کے لیے اسے پاکستان اور بھارت کے بجائے عالمی مسئلہ بنا کر اپنی دانست میں اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ مقبوضہ کشمیر میں ہر نیا دن کشمیری مسلمانوں کی طرف سے آزادی کی نئی امنگ اور ترنگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور بھارتی مقبوضہ فوج کے خلاف کشمیریوں کی نفرت میں بے پناہ مظالم کے باوجود زیادہ شدت آتی جا رہی ہے۔
14اگست کی تقاریب آزادی میں حصہ لینے کے لیے چینی نائب وزیراعظم کی پاکستان آمد اس بات کا اعلان ہے کہ چین کی دوستی پاکستانی حکمرانوں کے نہیں عوام اور ریاست کے ساتھ ہے اور کسی کے آنے یا جانے سے گوادر منصوبے پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اقتصادی راہداری پہ بھارت کی جانب سے کیا جانے والا پہلا اعتراض ہی یہ تھا کہ یہ تجارتی گزرگاہ اس متنازعہ علاقے سے گزرے کی جو درحقیقت ہندوستان کا حصہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کی ایک پیچیدہ جہت یہ بھی ہے کہ ہمارے شمالی علاقہ جات گلگت و بلتستان بشمول سیاچن گلیشئر کے علاوہ بھارت میں واقع لداخ کے پہاڑی سلسلے بھی متنازعہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ معاملہ محض لداخ تک محدود نہیں۔ بھارت، اکسائی چن کے علاقے پہ بھی دعوے دار ہے۔ اکسائی چن اس وقت چین کا حصہ ہے۔ 1962-63ء میں طے پانے والے پاک چین سرحدی معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اس خطے میں سرحدوں کے متعلق پائے جانے والے ابہام کو پر امن طریقے سے طے کر لیا تھا۔ بھارت کواس معاہدے پہ اعتراض رہا ہے اور وہ چین کے زیر انتظام لداخ اور اکسائی چن کے علاقوں کا دعوے دار ہے۔ معاملہ یہیں پہ ختم نہیں ہوتا۔
تبت کے معاملے پہ بھارت کا سازشی موقف اور دلائی لامہ کی کھلم کھلا پشت پناہی کوئی راز کی بات نہیں۔ یہاں یہ امر نہایت قابل غور ہے کہ تبت کے وسیع و عریض علاقے کا ایک حصہ اکسائی چن سے ملحق ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جس پہ قبضے کی کوشش میں بھارت چین کے ہاتھوں 1962ء کی جنگ میں ہزیمت اٹھا چکا ہے۔ حالیہ بھارت چین سرحدی تنازعہ کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے درج بالا حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ اہم نکات پہ غور کرنا بے حد ضروری ہے۔ اول ڈوکلم کا علاقہ دراصل چین اور بھوٹان کا دو طرفہ سرحدی معاملہ ہے۔ بھارت اس معاملے میں تیسرے فریق کی حیثیت سے ٹانگ اڑا رہا ہے۔ دوئم، جس سڑک کی تعمیر پہ بھارت نے اعتراض اٹھایا ہے وہ مستقبل میں تبت کے ذریعے اکسائی چن سے زمینی رابطہ استوار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سوئم، ڈوکلم پہ سڑک کی تعمیر سے چین ان بلند و بالا علاقوں تک رسائی حاصل کر لے گا۔ جو شمال مشرقی علاقوں میں تعینات بھارتی افواج پر نظر رکھنے اور حربی برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ شمالی مشرقی بھارت میں آسام، اور ناگا لینڈ سمیت بیشتر علاقوں میں علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں۔ چہارم، بھارتی صحافی روہت وائس کے مضمون 
(Truth mapped out- India can not afford to have china controling dokalam plateau)
کے مطابق چین سے سرحدی تنازعہ میں الجھنے والی بھارتی فوج کا کیمپ بھوٹان میں واقع ہے۔ مصنف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ڈوکلم چین کے زیر انتظام وادی چمبی، بھوٹان اور بھارت کے زیر انتظام سکم کے سرحدی علاقوں کی واضح حد بندی ظاہر کرنے والا کوئی نقشہ دستیاب نہیں۔ خود مصنف نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے گوگل میپ اور سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر پہ اپنی من مانی لکیریں کھینچ کے بھارتی موقف کو بیان کیا ہے۔
اس معاملے میں دو باتیں نہایت قابل غور ہیں۔ اول، بھارت کی افواج بھوٹان کے علاقے میں کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں۔ دوئم، سرحدی تقسیم کو ظاہر کرنے والا کوئی مستند نقشہ دستیاب نہیں۔ خطے میں جاری کشمکش کو سمجھنے کے لیے اس تاریخی حقیقت کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ برصغیر پہ برٹش راج کے دوران کئی مرتبہ چین کے علاقوں پہ قبضہ کیا گیا۔ اس روش سے جنم لینے والے سرحدی تنازعات کو سلجھانے کے لیے 1846ء سے 1947ء تک کئی مرتبہ دو طرفہ کاوشیں ہوئیں۔ جن کے نتیجے میں سرحد بندی کے لیے جانسن لائن، میکارٹنی، میکڈونلڈ لائن اور میک موہن لائن کو اختیار کیا جاتا رہا۔ 1947ء میں برطانیہ تو رخصت ہو گیا لیکن اس کے چھوڑے ہوئے سرحدی تنازعات اور توسیع پسندی کی پالیسی کو نہرو نے گلے لگا لیا۔ نہرو نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو جس منفی ڈگر پہ ڈالا آج پورا خطہ اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ گرداسپور، حیدر آباد دکن اور مونا بائو کی صورت ریڈ کلف ایوارڈ پہ پاکستان سے ہونے والی نا انصافی کا ذکر فی الحال میں نہیں کر رہا کسی اگلی نشست میں عرض کروں گا۔     (جاری 

image

عوام کی عدالت میں جانے سے روکنے والوں کی زبان بندی کیلئے ہی جب نظرثانی کی درخواست کا عندیہ دیا گیا تو نواز شریف نے کہا تھا کہ اُس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پھر یہی لوگ تھے جنہوں نے موٹروے سے لاہور جانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن ظاہر ہے جی ٹی روڈ کی جماعت اور جی ٹی روڈ کا وزیراعظم بھی کہلایا اور جی ٹی روڈ پر سفر بھی نہ ہو تو پھر کیسی عوامی عدالت؟
اب ذرا کچھ باتیں وقت اور حالات کے جبر میں بھی دیکھنی چاہئیں لاہور کے سفر کا عزم ہو رہا تھا تو ریفرنسز کی تیاری کی خبر بھی آ گئی مانیٹرنگ جج صاحب اور اُن کے متبادل کا نام بھی آ گیا۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی ملاقات بھی ہوئی اور پھر آرمی چیف کی وزیراعظم خاقان عباسی سے ملاقات بھی ہوئی۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ ون ٹو ون ملاقاتوں میں کیا گفتگو ہوئی جو ایسا کچھ جانتے اور بیان کرتے ہیں وہ محض فنطنیاں ہیں۔۔۔ ہم تو صرف ان واقعات و حالات میں وقت کو دیکھ رہے ہیں۔۔۔
ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اور یہ منظر دیکھتے ہیں نواز شریف پنجاب ہاؤس میں مقیم ہیں 9بجے روانگی کا وقت ہے روڈ مارچ کے بارے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کا فیصلہ بھی آنا ہے جو غیر متوقع بھی ہو سکتا تھا وزیراعظم خاقان عباسی پنجاب ہاؤس آتے ہیں ملاقات بھی ہوتی ہے اور۔۔۔۔ پھر انہیں لاہور کی طرف روانہ کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی۔۔۔ کہتے ہیں نواز شریف ہی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں عدالت کا فیصلہ عوام نے قبول نہیں کیا۔۔۔ خوشی خوشی ہونے والی اس الوداعی ملاقات کے اثرات چہروں پر نمایاں تھے، باڈی لینگویج میں بھی بہت ساری کپکپاہٹیں تھیں پھر بھی نواز شریف نے ’’گھر بھیجا گیا ہوں گھر جا رہا ہوں‘‘ کہہ کے تمام پیغام کی وصولی اور اُن پر صاد کرنے کا عندیہ دیا۔۔ تو دوسری طرف یہ بھی واضح کر دیا کہ۔۔۔ شہباز شریف پاکستان کی شان اور پنجاب کی جان ہیں انہیں ابھی بہت سے کام کرنا ہیں۔۔
ایک اور منظر نامہ بھی دیکھئے۔۔۔ نون لیگ میں جرنیلی سیاست کے مؤثر اور محرک نمائندے، فوجی خاندان کے ایک فرد ہونے پر فخر کرتے لاہور مشن میں شامل نہیں ہوتے۔۔۔ اپنی رہائش گاہ پر ہی آرام کو ترجیح دیتے ہیں، کچھ لوگ اس پر بضد ہوتے ہیں کہ وہ کمزوری کی وجہ سے طویل اور تکلیف دہ سفر نہیں کر سکتے اس لئے۔۔۔۔۔ لیکن اگلے دن جب لاہور مشن پنجاب ہاؤس راولپنڈی سے جہلم کی طرف تیزی سے روانہ ہوتا ہے تو مذکورہ شخصیت قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی پہنچ جاتی ہے اور پھر ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتی ہے کہ۔۔۔ میں نے کب جانے کا کہا تھا 99فیصد سینئر ارکان ہیں جو اس لاہور مشن میں 
شامل نہیں، ایسے میں ایک اور خبر بھی آئی جس کی تردید ہو گئی کہ شہباز شریف کی بھی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کوئی بھی ہو دروغ برگردن راوی، شہبازشریف کی ملاقاتیں چکری شہزادے کے توسط سے ہوتی رہی ہیں جن سے ہر دو حضرات کی فکری سانجھ کی نشاندہی بھی ہوتی رہی اور انہیں متنازع اور مشکوک بھی بنایا جاتا رہا۔۔۔ ابھی یہ کہانیاں گردش میں تھیں کہ، مائی فیوڈل لارڈ جیسا شاہکار تخلیق کرنے والی جرنیل زادی جو آج کل سی ایم ہاؤس کی پناہ گاہ میں ہیں اُن کا ایک بیان بھی سامنے آیا کہ۔۔۔ نواز شریف بھائی کے لئے مشکلات پیدا نہ کریں۔۔۔ اب بھی اگر کوئی خوش فہمی کا اسیر ہے تو ہم اس کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔ دوستو یہ کوئی نئی بات نہیں بہت پرانا کھیل ہے جو اقتدار کے حصول میں لازم ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ نواز شریف کو دارا شکوہ اور شہباز شریف کو اورنگزیب کی صورت میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں، ہو سکتا ہے کہ جرنیل زادی بھی ملکہ ظالم کہلانے یا پھر نورجہاں کی طرح ’’عدل جہانگیری‘‘ میں اہم اور مؤثر کردار ادا کرنے کے خواب دیکھ رہی ہوں لیکن ’’ہنوز دلی دور است‘‘۔
بہرحال واپس اُسے موڑ پر چلتے ہیں راولپنڈی تک کا آدھے گھنٹے کا سفر دس گھنٹے میں طے ہونے میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا اگلے دن بہت تیزی سے جہلم کا سفر ہوا راستے میں صرف دینہ میں خطاب ہوا جہاں سے آزاد کشمیر کی طرف ایک راستہ جاتا اور بہت سارے پیغامات اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ دینہ اور جہلم کے عوامی اجتماعات اور خطابات راولپنڈی کے لب و لہجہ سے کچھ اور آگے تھے، 70سال سے جاری تماشا بند کرانے کے لئے عوام کو ساتھ چلنے کو کہا گیا۔۔۔
عدلیہ کے کردار پر براہ راست حملے کئے گئے اور انقلاب کی طرف بڑھنے کا عندیہ بھی دیا گیا۔۔۔ لیکن کیسے اس کیلئے بہت سارے سوال معروضی صورت حال میں گردش کرتے نظر آتے ہیں۔۔ خاندانی مشکلات کے ساتھ پارٹی کی وراثت میں گروہی کشمکش تو اب کسی مصلحت کا شکار نہیں رہی اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ  ووٹ بینک کسی چکری شہزادے کا ہے نہ بہت اونچا اڑنے والے شہباز کا ہے۔۔۔ یہ ملکیت اور مقبولیت ہنوز نواز شریف کی ہے، اُسی کا جی ٹی روڈ پر مظاہرہ ہوا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ انتخابات سے پہلے جرنیلی سیاست کے صادق اور امین ابھی اپنے بے شمار رنگ و روپ دکھائیں گے۔۔ نواز شریف کے لئے موجودہ اور نوجوان ٹیم کے ساتھ آگے بڑھنا کچھ ایسا آسان اور سہل بھی نہیں ہو گا۔۔۔ اس پس منظر  میں کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ضیاء الحقی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے تو وہ ورثہ رکھنے کی بھی کیا ضرورت ہے اگر نواز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پر چلنا شروع کر دیا ہے تو اُسے زمینی حقائق کے ساتھ اپنا سیاسی قافلہ بھی مصلحت کوشوں کا نہیں ذہنی اور فکری انقلابیوں کا بنانا چاہئے۔۔۔ مگر اس سے پہلے خود نواز شریف کو بھی انقلابی شعور کی ضرورت ہے۔ یہ کام بے چارا تنہا پرویز رشید تو نہیں کر سکتا کچھ اور ایسے جنونیوں کی ضرورت ہے۔۔۔ مگر ہمارے دوست اور فکری راہنما علامہ فکر گنگولوی اپنی اس بات پر بضد میں کہ انقلاب کے لئے عزم، حوصلے اور یقین کے ساتھ صبر، ضبط اور برداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے، سرمایہ داری نظام کے نمائندوں اور کارندوں میں بدقسمتی سے استقامت نہیں ہوتی اُن کا پیمانہ بہت جلد لبریز ہو جاتا ہے اور چھلکنے لگتا ہے۔۔۔
 

image

پاکستان پیپلز پارٹی اپنی ہی جماعت کے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی ریاستی اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے حکومت کے سربراہوں کے عدالتی احتساب کی راہیں مسدود کرنے کیلئے ممکنہ آئینی ترمیم کی حمایت نہ کرنے کے فیصلے موجودہ صورتحال میں انتہائی مستحسن ہیں۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے گزشتہ جمعہ کو ریاست کے تین اہم اداروں حکومت، فوج اور عدلیہ کے مابین ادارہ جاتی مکالمے کی تجویز دی تھی جس کی اگلے ہی روز اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے سابق وزیراعظم نے غیر مشروط حمایت کا اعلان کر کے اسے ’’ٹاک آف دی ٹاؤن‘‘ بنا دیا تھا۔ جی ٹی روڈ کے ذریعے چار دنوں میں اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے سابق وزیر اعظم نے نا صرف چیئرمین سینیٹ کی تجویز کی غیر مشروط حمایت کی بلکہ مستقبل میں حکومتی سربراہوں کے عدالتی احتساب کی راہیں مسدود کرنے کے لئے آئینی ترمیم لانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ سابق وزیراعظم کی چیئرمین سینیٹ کی تجویز کی غیر مشروط حمایت کے بعد عوامی و سیاسی حلقوں میں پیپلز پارٹی کی مفاہمانہ سیاست کے اعادے کی باز گشت سنائی دی جانے لگی تھی کہ اس کے اگلے روز پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اعتزاز احسن نے رضا ربانی کی گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کو پارٹی مؤقف کے بجائے ذاتی رائے قرار دیکر اس مخمصے کو دور کر دیا۔ رہی سہی کسر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ کہہ کر پوری کر دی کہ موجودہ نازک حالات میں انکی جماعت آئین میں ترمیم کیلئے (ن)لیگ کا کسی بھی صورت ساتھ نہیں دے گی۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ چار سال میں پیپلزپارٹی نے کئی ایک مشکل حالات میں (ن)لیگ کا باامر مجبوری یا اصولی بنیادوں پر ساتھ دیا لیکن نواز شریف کی نااہلی کے بعد وہ نواز شریف یا ن لیگ کو کسی بھی قسم کی رعایت دیتی نظر نہیں آ رہی۔ رضا ربانی کے علاوہ پیپلز پارٹی کے تقریباً سبھی سینئر رہنماؤں نے نواز شریف کی نااہلی کو عدلیہ یا اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے جوڑنے کے بجائے قانون کے عین مطابق قرار دیا۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کی 9اگست کی تفصیلی پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کا نقطہ نظر بڑی وضاحت سے پیش کیا گیا۔ انہوں نے نواز شریف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’آپکو 5 ججوں نے متفقہ طور پر گھر بھیجا، اب آپ اور آپ کے خاندان کے خلاف ریفرنسز دائر ہونے جا رہے ہیں تو آپ ریلی نکال کر اداروں پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔‘‘ اگرچہ سوشل میڈیا پر بعض اینٹی اسٹیبلشمنٹ حلقوں نے قمر زمان کائرہ سمیت پیپلز پارٹی کے مؤقف پر کڑی تنقید بھی کی لیکن زیادہ تر حلقوں میں اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ماضی میں (ن) لیگ کی حمایت نے پیپلز پارٹی کا امیج عوامی و سیاسی حلقوں میں بہت حد تک متاثر کیا۔ اس کے علاوہ زرداری صاحب نے اپنے ’’survival‘‘ کے چکر میں بلاول کو کافی لیٹ ’’grow‘‘ کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے  پنجاب اور خیبرپختون خوا میں پارٹی کی مقبولیت اور ووٹ بینک کافی حد تک متاثر ہوا۔
تقریباً دو ماہ پہلے فردوس عاشق اعوان، نذر محمد گوندل اور امتیاز صفدر وڑائچ ایسے الیکٹیبلز کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بقا کو شدید قسم کے خطرات لاحق ہو گئے تھے لیکن اس کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنی وکٹیں بچاتے ہوئے پلٹ کر جوابی باؤنسرز سے ملتان اور سندھ میں پی ٹی آئی کی وکٹیں اکھیڑ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ سیاسی منظر نامے پر پیپلز پارٹی کے گم سم رہنے کی ایک بڑی وجہ انکی کمزور میڈیا (باقی صفحہ 13پر)
 

image

انگریزوں نے 1901ء میں پشاور، ہزارہ اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنوں کو صوبہ پنجاب سے الگ کر کے شمال مغربی سرحدی صوبہ (NWFP) تشکیل دیا تھا جسے عموماً صوبہ سرحد کہا جاتا تھا۔ 1946ء کے صوبائی انتخابات میں صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کے مقابلے میں سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کی جماعت ’’خدائی خدمت گار‘‘ نے خاصی نشستیں حاصل کر لیں اور پھر کانگرس کے ساتھ مل کر صوبائی وزارت تشکیل دی جس کے سربراہ عبدالغفار خان کے بھائی عبدالجبار خان عرف ڈاکٹر خان صاحب تھے۔ عبدالغفار خان نے کانگرسی ہندو لیڈر موہن داس کرم چند گاندھی کی سیاسی قربت حاصل کر کے ’’سرحدی گاندھی‘‘ کا لقب پایا تھا۔ جہاں خان عبدالقیوم خاں جیسے سرحدی لیڈر کانگرس سے نکل کر مسلم لیگ میں چلے آئے تھے، عبدالغفار خان مسٹر گاندھی اور پنڈت نہرو کے دامِ فریب سے باہر نہ آ سکے چنانچہ جب 3 جون 1947ء کے اعلان سے قیام پاکستان یقینی ہو گیا اور بھاری مسلم اکثریت کے صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کا اعلان ہوا تو سرحدی گاندھی نے کانگرسی لیڈروں سے کہا کہ اگر سرحد کے عوام کو رائے دینا پڑی تو ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے کیونکہ ہندو مسلم کا سوال ہے، البتہ ایک تیسرا سوال صوبہ سرحد کے بالکل آزاد رہنے کا اٹھایا جائے تو ممکن ہے کہ لوگ اس کی آزادی  کے لیے ووٹ دیں، جسے سرحدی گاندھی پختونستان کا نام دے رہے تھے۔
انہی دنوں مرکزی وزیر سردار عبدالرب نشتر کی جامعہ ملیہ (دہلی)  میں ڈاکٹر ذاکر حسین کے ہاں عبدالغفار سے ملاقات ہوئی تو سردار صاحب نے انہیں بہتیرا سمجھایا لیکن اس نے پختونستان کا سٹنٹ کھڑا کیا ہوا تھا لہٰذا اصرار کیا کہ پہلے صوبہ سرحد کی آزادی تسلیم کی جائے، پھر ہم ریاستوں کی طرح پاکستان سے معاہدہ کر کے الحاق کریں گے۔ دراصل یہ صوبہ سرحد کو بھارت میں شامل کرنے کی کانگرسی سازش تھی جس کا بارڈر ریاست جموں و کشمیر سے ملتاتھا اور کانگرس کی سکیم یہ تھی کہ ڈوگرہ ہندو مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست جموں و کشمیر کو بھارت میں شامل کر کے آسانی سے پختونستان کو بھارت کا حصہ بنا لیا جائے گا۔ پھر مسٹر گاندھی کی وائسرائے مائونٹ بیٹن سے ملاقات ہوئی اور بحث میں صوبہ سرحد کی رائے شماری کا سوال اٹھا تو یہ ذکر آیا کہ اگر عبدالغفار خان اور قائد اعظم آپس میں ملیں تو ممکن ہے کہ سمجھوتا ہو جائے اور رائے شماری کی ضرورت نہ پڑے، چنانچہ قائد اعظم کو بلایا گیا۔ وہ بخوشی عبدالغفار خان سے ملنے کو تیار ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم دونوں مسلمان باہم تصفیہ کرنا چاہتے ہیں تو وائسرائے کے گھر کیوں گفتگو کریں۔ جیسا بھی فیصلہ ہو میرے گھر ہی میں ہو۔ عبدالغفار خان قائد اعظم کے گھر چلنے کومان گئے۔ سردار عبدالرب نشتر کہتے ہیں:
’’میں اور قائد اعظم حسب معمول مشورے کے لیے عصر کے وقت ان کے گھر میں جمع ہوئے۔ شام کو مقررہ وقت پر عبدالغفار خان آئے۔ میں باہر گیا تو ان کے ساتھ میاں جعفرشاہ اور عبدالغفار خان کے داماد یحییٰ خان تھے۔ قائد اعظم باہر تشریف لائے اور بڑی محبت سے عبدالغفار خان کو اپنے کمرے میں لے گئے۔ میں میاں جعفر شاہ اور یحییٰ خان کے ساتھ پاس والے کمرے میں بیٹھا رہا۔ ایک گھنٹہ قائد اعظم اور عبدالغفار خان علحدگی میں باتیں کرتے رہے،۔دونوں باہر نکلے تو قائد اعظم خان صاحب کو اپنے گھر کے دروازے تک رخصت کرنے آئے۔ نامہ نگاروں کے پوچھنے پر 
قائداعظم نے فرمایا کہ ہماری دوستانہ گفتگو ہوئی اور عبدالغفار خان اپنے رفقا سے گفتگو کر کے مجھے جواب دیں گے۔ عبدالغفار خان اور ان کے ساتھی چلے گئے تو قائد اعظم نے مجھے بحث کا خلاصہ بتایا۔ قائد اعظم نے ان سے کہا تھاکہ جو کچھ ماضی میں ہوا ہے اسے بھلا دینا چاہیے۔ اب جب کہ پاکستان کا فیصلہ ہو چکا ہے تو یہ ہمارا اور آپ کا مشترکہ وطن ہے۔ ہمیں مل کر اس کی مضبوطی اور ترقی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ عبدالغفار خان نے کہا کہ یہ سب باتیں درست ہیں مگر میں باقی لوگوں کو کس طرح راضی کروں۔ قائد اعظم نے فرمایا کہ اگر میں اور آپ متفق ہیں تو ہم ان لوگوں کے پاس جو پختونستان کے حامی ہیں، جائیں گے اور جلسۂ عام کریں گے۔ ان کی غلطی سے انہیں آگاہ کریں گے۔ چونکہ یہ( پختونستان) فضول بات ہے اس لیے ان کی تسلی کرنا مشکل نہ ہو گا۔ عبدالغفار خفار خان نے کہا کہ یہ چیز عام لوگو ں میں نہیں، صرف میرے چند رفقا ہیں ، جن سے مل کر ہم اس غلط فہمی کو دور کریں گے۔ بہتر ہو گاکہ میں اپنی جماعت  کے سامنے بنوں والے اجلاس میں یہ معاملہ پیش کروں۔ ‘‘ (سردار عبدالرب نشتر کی سوانح عمری، آغا مسعود مبین)
دوسرے دن سردار عبدالرب نشتر کو میاں جعفر شاہ کا فون آیا کہ وہ قائد اعظم کو عبدالغفار خان کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ اپنے خط میں عبدالغفار خان نے ڈان اخبار کے مضمون کے خلاف شکایت کی تھی جس میں ان کے خلاف برا بھلا لکھا تھا۔ دوسری طرف اسی شام گاندھی جی نے اپنی پرارتھنا میں یہ کہا کہ عبدالغفار خان کی ملا قات تو قائد اعظم سے ہو گئی ہے مگر امید نہیں کہ اس بات چیت کا مفید نتیجہ نکلا ہو گا اور مسلم لیگ کو پختونستان مان لینا چاہیے ۔ سردار نشتر کے بقول اس سے اندازہ ہو گیا کہ عبدالغفار خان کیا کرنے والے ہیں۔ دوسرے دن علی الصبح انہوں نے نشتر صاحب کو فون کیا کہ قائد اعظم سے کہیں کہ وہ صوبہ سرحد کی آزادی مان لیں، پھر ہم صوبہ سرحد کی طرف سے پاکستان کے ساتھ ملنے کا اعلان کریں گے۔ چند دن بعد بنوں میں عبدالغفار خان اور ان کی جماعت کا اجلاس ہوا، تو انہوں نے وہی پختونستان کی رٹ لگائی اور خان صاحب نے قائد اعظم سے ملاقات کا ذکر بہت افسوسناک الفاظ میں کیا۔ چونکہ ان کو رائے شماری کا نتیجہ معلوم تھا، اس لیے اعلان کیا کہ وہ رائے شماری کا بائیکاٹ کریں گے چنانچہ جب رائے شماری ہوئی تو اس میں 50 فیصد سے زائد لوگوں نے رائے دی اور ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ نے پاکستان میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دیا۔ 
چودھری محمد علی جو1956/1955ء میں وزیر اعظم پاکستان تھے ، ’’ظہورِ پاکستان ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’تقسیم ہند کے مرحلے پر گاندھی نے جس شخص کو بالخصوص نمایاں کرنے کی کوشش کی وہ شمال مغربی سرحدی صوبے کا سرخ پوش لیڈر عبدالغفار خان تھا۔ گاندھی اسے پیار سے بادشاہ خان کہتا تھا۔ گاندھی کا مقصد صوبہ سرحد کو پاکستان سے علیحدہ رکھنا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس صوبے میں کانگرسی وزارت کے پائوں اکھڑ رہے ہیں اور مسلم لیگ روز افزوں طاقت حاصل کر رہی ہے ۔ صوبے میں مسلمانوں کا تناسب 92 فیصد تھا اور اگر بھارت کا سیدھا مقابلہ پاکستان سے ہوتا تو عوام کو پاکستان ہی کی حمایت کرنا تھی۔ اس لیے گاندھی نے پختونستان کا شوشہ چھوڑ دیا تاکہ بعد میں جب ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں ہندوانہ عزائم برائے کار آئیں تو پھر صوبہ سرحد کو جو کشمیر سے متصل تھا، انڈین یونین میں دوبارہ شامل کر لیا جائے۔ وقتی طور پر گاندھی کی ساری توجہ پختونستان کی سکیم اور بادشاہ خان پر مرکوز تھی جس کا ذکر وہ اپنی روزانہ پرارتھنا کی مجلسوں میں بڑے سوز و گداز سے کرتا تھا۔ ‘‘
ایک واقعہ ہندو مصنف پیارے لال نے لکھا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ گاندھی سرخ پوشوں میں کس قسم کے جذبات کی آبیاری کر رہا تھا۔ 6 مئی 1947 ء کی میٹنگ میں عبدالغفار خان نے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ کہا ’’بہت جلد ہم ہندوستان میں اجنبی بن جائیں گے۔ آزادی کے لیے ہماری طویل جد و جہد کا خاتمہ پاکستان کی محکومی کی صورت میں نکلے گا۔ ہم باپو (گاندھی)اور آپ سب سے دور ہو جائیں گے۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں ہمارا کیا حشر ہونے والا ہے۔‘‘ گاندھی نے یہ سن کر کہا ’’بادشاہ خان !تو سچ مچ فقیر ہے۔ آزادی تو آئے گی لیکن بہادر پٹھان اپنی آزادی کھو بیٹھیں گے۔ وہ بہت ہی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں لیکن بادشاہ خان! تو مردِ خدا ہے۔‘‘ 
گاندھی کا یہ ’’فقیر‘‘ شمال مغربی سرحدی صوبے کے امیر ترین زمینداروں میں سے تھا۔ اس کا بھائی ڈاکٹر خان وزیر اعلی تھا اور دوسرا مسلمان وزیر اس کا رشتہ دار تھا۔ کیا ستم ظریفی تھی کہ گاندھی کے بقول بہادر پٹھان ہندوئوں کے تحت ہندوستان میں تو آزادی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے لیکن مسلم پاکستان میں آزادی سے محروم ہو جائیں گے۔

image

سابق وزیراعظم نوازشریف کا اسلام آباد سے رائے ونڈ لاہور کا سفر اگر تاریخی نہیں تھا تو اسے ناکام بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس کارواں میں، لاکھوں نہیں تو ہزاروں لوگ ضرور موجود تھے۔ نوازشریف کو اب چند دن سانس درست کرنے کا موقع ملے گا اس کے بعد انہیں نیب کیسز کی صورت میں ایک نئے دریا کا سامنا ہو گا۔ نوازشریف ایک نئے انقلاب اور نئے آئین کا خواب دیکھ رہے ہیں جس طرح عمران خان نئے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کس کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا ہے۔ کسی معاشرے میں انقلاب لانا، نظام تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں۔ نواز شریف ضرور نظریاتی ہو گئے ہیں لیکن ان کے کارکن اور اراکین اسمبلی ابھی تک غیر نظریاتی ہیں۔ انقلاب لانے کے لیے انقلابی پارٹی کو جن نظریاتی اور تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہے وہ مسلم لیگ ن میں موجود ہی نہیں۔ اس زبانی جمع خرچ کا انہیں نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔ جس وقت وہ انقلاب لانے کی باتیں کر رہے ہیں تو ان کی حفاظت کے لیے پنجاب پولیس کے کمانڈوز، سپیشل فورس کے ہزاروں جوان موجود ہیں۔ نوازشریف کی تمام تقاریر کا تجزیہ کیا جائے تو ایک بات واضح ہوتی ہے، انہوں نے خود کو اور پاکستان کو لازم وملزوم کر لیا ہے، ان کے خیال میں انکے بغیر پاکستان کی ترقی ناممکن ہے، سی پیک بھی ان کی بدولت ہے۔ انسان کو زندگی میں بہت سی غلط فہمیاں ہوتی ہیں، نوازشریف بھی ان غلط فہمیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ نوازشریف کی واپسی ممکن ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے قانون کی کوئی موٹی کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا جواب خود نوازشریف کی تقریروں میں پوشیدہ ہے، وہ بار بار کہہ رہے ہیں انہیں سازش کے تحت نکالا گیا۔ اب جنہوں نے اتنا بڑا کھیل، کھیل کر انہیں نکالا ہے کہ تو کیا وہ اتنی آسانی سے انہیں واپس آنے دیں گے؟ 2018ء کے انتخابات میں ابھی کافی وقت ہے۔ اس وقت تک بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہو گا۔
ہمارے یہاں اقتدار میں صرف عوام کے ووٹوں اور سپورٹ سے نہیں آیا جا سکتا، اس کی اور بھی بہت سی وجوہات اور محرکات ہیں۔ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں تو نتائج 1970ء جیسے آ سکتے ہیں، اس لیے ایسا الیکشن اب ممکن نہیں۔ کراچی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ شاید قارئین کو یاد ہو سندھ میں پیپلزپارٹی کی ہمیشہ اکثریت رہی ہے، لیکن ایک دور ایسا بھی تھا جب سندھ کی زمین پیپلز پارٹی کے لیے تنگ کر دی گئی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کو جام صادق کی شکل میں ایک غدار مل گیا تھا، جس نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین کو بھی خرید لیا۔ اسی طرح پنجاب میں وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کی حکومت تھی جو نوازشریف کے وفادار تھے لیکن مسلم لیگ چٹھہ گروپ کے منظور وٹو نے علم بغاوت بلند کیا اور راتوں رات غلام حیدر وائیں کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، منطور وٹو پیپلز پارٹی کی سپورٹ سے وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے۔ یہ قربتیں بڑھیں تو باقاعدہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ کبھی حامد ناصر چھٹہ بھی پیپلز پارٹی کی آنکھوں کا تارا تھا، اب کہاں ہیں، کسی کو معلوم نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو ان کی ضرورت نہیں رہی۔ تین سال کے لیے آنے والے دس سال کا پروگرام بناتے تو ہیں لیکن نئے آنے والے اس میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کر دیتے ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق احمد نے الطاف حسین کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، وہ بھی کسی کی آنکھوں کا تارا تھے، آج ان کی جگہ مصطفیٰ کمال اور انکی پاک سرزمین پارٹی نے لے لی ہے۔ آفاق احمد اور ڈاکٹر فاروق ستار میں خفیہ رابطے موجود ہیں اور ایک دوسرے کی سپورٹ بھی کر رہے ہیں، سیاست میں دوست اور دشمن بنتے دیر نہیں لگتی۔ نوازشریف یہ بات نہیں سمجھ رہے۔
چودھری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ نوازشریف وزیراعظم نہیں رہے تو وہ انکی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن اب ایسا نظر نہیں آ رہا، الٹا وہ شکوہ کر رہے ہیں کہ ریلی میں نہ جانے پر ان پر کیوں تنقید کی جا رہی ہے، نوے فیصد سینئر قیادت ریلی میں شریک نہیں ہوئی۔ بات ان کی درست ہے۔ راجہ ظفرالحق سمیت کئی سینئر رہنما اس ریلی میں نظر نہیں آئے، زیادہ تر نوجوان قیادت تھی۔ اب یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ نااہلی کے فیصلے کے بعد لائن آف ایکشن پر نوازشریف اور شہباز شریف کی سوچ مختلف ہے، گو کہ شہبازشریف نے لاہور کی ریلی میں شرکت بھی کی اور نوازشریف کی حمایت میں تقریر بھی کی۔ شہبازشریف اور چودھری نثار علی خان سمیت بہت سے مسلم لیگی رہنما نہیں چاہتے کہ مزاحمت کو اس حد تک لے جایا جائے کہ واپسی اور معافی تلافی کی گنجائش ہی نہ رہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں، جے آئی ٹی کے ارکان پر مسلسل تنقید، ایک ادارے کا نام نہ لے کر اس پر تنقید اور عوام کو اس کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش۔ یہ سب باتیں اس چیز کا اشارہ ہیں کہ آپ اس ادارے سے لڑنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ آپ میں اتنی جرأت تو نہیں کہ اس کا نام بھی لیں، تو پھر لڑنے کا فائدہ؟ بہتر ہے صلح کی کوشش کی جائے تا کہ واپسی کی امید باقی رہے۔
عوامی دباؤ ڈال کر سپریم کورٹ کا فیصلہ تبدیل کرانے کی خواہش کو بچوں کی چاند توڑ کر لانے کی خواہش ہی کہا جا سکتا ہے۔ جہلم میں اپنے خطاب میں نوازشریف کا کہنا تھا کہ ’’ستر سال سے قوم کی توہین ہو رہی ہے، آپ نے مجھے اسلام آباد بھیجا، انہوں نے مجھے گھر بھیج دیا‘‘۔ سابق وزیراعظم کی ریلی میں بہت سے ایسے کارکن اور لیڈر شریک تھے جو اس سے پہلے چودھری پرویز الٰہی اور جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں نکلنے والی ریلیوں میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ انہیں بریانی کھانے سے مطلب ہے، پکانے والا اور کھلانے والا کوئی بھی ہو۔
سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنی پارٹی اور اپنے وفاداروں کو ہی مشکل میں ڈال دیا ہے، ان کے ساتھ بہت سے چوری کھانے والے ’’وفادار‘‘ ہیں، جو بُرا وقت آتے ہی ایک مرتبہ پھر انہیں چھوڑ کر کسی نئی مسلم لیگ میں شامل ہوں گے۔ کچھ سینئر رہنماؤں نے نوازشریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مشیروں کو بدلیں، موجودہ حالات تک پہنچانے والے یہ جوشیلے مشیر ہی ہیں، جو ہوش کے بجائے جوش سے زیادہ کام لیتے ہیں۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ نوازشریف کی ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں اور بہت سے دوسرے محکموں کے ملازمین کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ ریلی میں پہنچیں۔ پنجاب حکومت نے بھی سابق وزیراعظم نوازشریف کو مکمل پروٹوکول، سیکورٹی اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ اس ریلی کو انتظامیہ کی مکمل مدد اور سپورٹ حاصل تھی، ریلی کے شرکاء کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے سابق وزیراعظم اور ان کے مشیروں کی مکمل اطاعت کر رہے تھے۔ بلاول بھٹو کی یہ بات درست ہے کہ ’’پاناما کیس میں اسٹیبلشمنٹ کا کیا قصور ہے‘‘۔ اپنی غلطیوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر لگانا درست نہیں۔
دوسری طرف نوازشریف اور شہبازشریف کے سیاسی حریف ڈاکٹر طاہرالقادری شریف خاندان کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کی خواتین نے ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونیوالے چودہ افراد کے خون کا حساب لینے کے لیے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ یہ دھرنا مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔ سابق وزیراعظم کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ نیب کے کیسز میں فیصلہ شریف فیملی کے خلاف آ سکتا ہے بلکہ فیصلے سے قبل ان کی گرفتاری بھی ممکن ہے۔ سپریم کورٹ کے معزز جج نیب میں چلنے والے کیسز کی نگرانی کریں گے اس لیے وفاقی یا صوبائی حکومت کا کیسز پر اثرانداز ہونا ممکن نہیں ہے۔ نوازشریف کی مشکلات کم نہیں ہوئیں بلکہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ اس امتحان میں نوازشریف کا ثابت قدم رہنا اور مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک بات طے ہے نوازشریف کی واپسی جی ٹی روڈ کی سیاست اور کسی انقلاب کے ذریعے ممکن نہیں، اگر وہ دوبارہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں تو انہیں مفاہمت ہی کرنا پڑے گی۔ وزارت عظمیٰ کا حصول کسی انقلاب کے ذریعے ممکن نہیں۔
 

image

(آخری حصہ)
شبیر احمد عثمانی جنہوں نے قائداعظم کی نماز جنازہ کی امامت بھی کی تھی نے کہا کہ ہندوستان نے اورنگزیب عالمگیر کے بعد اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس نے مسلمانانِ ہند کی بربادی اور مایوسی کو فتح میں بدل دیا ۔ مجلسِ احرار کے سربراہ سید عطا اللہ شاہ بخاری جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد لاہور کے ایک جلسہ عام میں یہ کہہ کر اپنی جماعت توڑنے کا اعلان کیا تھا کہ متحدہ ہندوستان کی حمایت اُن کی غلطی تھی، قائداعظم کی وفات پر اُنہوں نے کہا کہ قائداعظم ایک عہد آفریں شخصیت تھے ، اسلامی تاریخ میں اُنہوں نے بیش بہا اضافہ کیا ہے جوپاکستان کے نام سے رہتی دنیا تک یادگار رہے گا ۔ خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ مشرقی نے کہا کہ قائداعظم کا عزم پائندہ اور راسخ تھا ، وہ بہادر اور بیباک سپاہی تھے جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے ۔ مشہور ہندوستانی سیاسی دانشور مسز سروجنی نائیڈو کا کہنا تھا کہ جناح کی جسمانی ناتوانی کے پیچھے ذہن اور کردار کی غیر معمولی قوتیں پوشیدہ تھیں ۔سروجنی نائیڈو نے تقسیم ہندوستان سے قبل بمبئی کے ایک اجتماع میں کانگریسی مسلمان لیڈر کی جانب سے قائداعظم کو انگریزوںکا زر خرید کہنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے ، میرے دوست تم بک سکتے ہو ، میں بک سکتی ہوں ، گاندہی جی اور جواہر لال نہرو کا سودا بھی شاید ہو سکتا ہے مگر جناح کو خریدا نہیںجا سکتا ۔ جواہرلال نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈٹ نے کہا کہ جناح ناقابل شکست تھے ، اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندہی ہوتے لیکن کانگریس کے پاس صرف ایک جناح ہوتا تو پاکستان کبھی نہیں بنتا ۔ سر فرانسس موڈی سابق انگریز گورنر پنجاب نے کہا کہ جناح کا مقابلہ محض ہندوئوں کی دولت اور قابلیت سے ہی نہیں تھا بلکہ تمام انگریز حکام او برطانیہ کے اکثر سیاستدان بھی اُن کے خلاف تھے لیکن اُنہوں نے دبائو کے باوجود اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ۔ مشہور ہندو ایڈیٹر جگت نارئین لال نے لکھا کہ جناح کسی بھی طاقت کے آگے جھکنا نہیں جانتے تھے ، اُنہوں نے ہر محاذ پر ہندوئوں اور انگریزوں کا مقابلہ کیا اور اُنہیں شکست دی ۔ مشہور دانشور اور انگریز مصنف پروفیسر سٹینلے والپرٹ نے جناح کو دنیا بھر میں سیاسی و سماجی رہنمائوں کے مقابلے میں ممتاز ترین لیڈر قرار دیتے ہوئے لکھا: "Few individual significantly altered the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Muhammad Ali Jinnah did all three".ـ ۔ ہندوستانی اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبیڈکر جو ہندوستان کے سیکولر آئین کے بانی تھے نے کہا کہ جناح اپنے ارادوںاور رائے میں پختہ تھے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہو ں کہ جناح کسی قیمت پر بھی انگریز کے آلہ کا ر نہیں بنے ۔ برطانیہ کے آخری اور متنازع وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن جو جواہر لال نہرو کی ایما پر بھارت کے متنازع گورنر جنرل بن گئے تھے نے کہا کہ جناح چٹان کی طرح اٹل اور مستحکم مگر انتہائی ٹھنڈے دل و دماغ کے انسان تھے اور میرے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہو سکا کہ میں اُن کے سینے کی گہرائیوں میں اُتر سکوں اور اُنہیں متحدہ ہندوستان پر قائل کر سکوں ، بلاآخر مجھے جناح کے موقف کے سامنے جھکنا پڑ ا ۔ اندریں حالات، حامیوں اور مخالفوں کے اتنے سنہرے کلمات کی روشنی میں یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قائداعظم پاکستان میں میثاق مدینہ کی بنیاد پر اقلیتوں کو برابری کے سیاسی حقوق دینے کے ضرور حامی تھے کسی پہلو سے سیکولر نہیں بلکہ مسلم تمدن کے احیأ کیلئے ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد تھے۔ فروری 1948 میں قائداعظم نے امریکی عوام کے نام ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ دستور ساز اسمبلی کو ابھی پاکستانی آئین کی تشکیل کرنی ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ آئین جمہوری نوعیت کا ہوگااور اِس میں اسلام کے بنیادی اصول شامل ہونگے جو آج بھی اِسی طرح قابل عمل ہیں جیسے تیرہ سو سال پہلے تھے ۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت کا درس دیا ہے اور انسانوں کیساتھ مساوات اور انصاف کا سلوک کرنا سکھایا ہے۔ پاکستان کا آئین اِنہی زریں اصولوں پر مبنی ہوگا۔ قائداعظم آج اِس دنیا میں نہیں ہیں لیکن اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا اِس سے بہتر کوئی اور عمل نہیں ہوسکتا کہ ہم قومی یکجہتی کے حوالے سے اُن کی تعلیمات پر عمل کرکے پاکستان کو کرپشن ، بدانتظامی اور بدعنوانی کے موجودہ بحران سے نکال کر ایک عظیم تر مملکت بنا دیں ۔
فکر قائد اعظم اِسی اَمر کی غمازی کرتی تھی کہ امن عالم کی خدمت صرف اِس طرح ہی ممکن ہے کہ ہم اُن لوگوں کو جو ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر حملہ کرنے یا چھا جانے کی نیت رکھتے ہیں اُنہیں موقع ہی نہ دیں ۔ یہ صرف اُس وقت ہو سکتا ہے جب ہم اتنے مضبوط ہو جائیں کہ کسی کو ہماری طرف بری نیت سے دیکھنے کی جرأت نہ ہوسکے ۔ قائداعظم کے قول اور اللہ تبارک تعالیٰ کی رحمت سے پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے چنانچہ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ملکی معاملات کی درستگی کیلئے قائداعظم کی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے ۔ میں اِس ریسرچ کالم کو شاعرہ نرگس شیخ کے اِن اشعار کیساتھ قارئین کی نظر کرتا ہوں ..........   ؎  
پھولوں کی مہک  میں بھی  ڈھلے  قائداعظم
اور سطوتِ طوفاں میں  بھی رہے  قائداعظم
جب چھائے تھے مایوسی کے گھنگھور اندھیرے
اک عزم جواں  لے کے  اُٹھے  قائداعظم
دیتے  ہوئے  اک  ولولہ ٔ  تازہ  دلوں  کو 
ملّت  کا  علم  لے کے  بڑھے  قائداعظم
وہ خواب جو اقبال کے شعروں میں  ڈھلا تھا
 

image

جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی آرٹیکل 62 ،63 کے تحت نااہلی کے بعد اپنے طور پر انسداد بد عنوانی مہم شروع کر دی ہے اور باقائدہ سیاسی جماعتوں کا نام لے کر کہنا شروع کر دیا ہے کہ ان کی قیادتوں کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ سراج الحق صاحب نے بد عنوانی کے خلاف وسیع تر آپریشن پر تو زور دے دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ گنتی شروع کہاں سے ہونی چاہیے۔ ویسے ضیا دور کے بعد ہونے والی کرپشن کی گنتی کے ابتدائی نمبروں میں نمایاں ترین نام مہران بنک سکینڈل کا بھی ہے۔ یہ وہی سکینڈل ہے جس میں جماعت اسلامی کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد کا نام بھی مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ یاد رہے سپریم کورٹ کے فیصلے میں دیے گئے حکم کے باوجود ابھی تک مہران بنک سکینڈل کے لیے نہ تو کوئی جے آئی ٹی بنی اور نہ کسی دوسری سطح پر انکوائری ہو سکی۔ انکوائری کی صورت میں قاضی صاحب مرحوم یا کسی بھی دوسرے مشتبہ فرد پر شک درست یا غلط ثابت ہو سکتا ہے اس لیے کیا ہی بہتر ہو کہ دوسری سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کا نام لینے سے قبل جناب سراج الحق اس مہران بنک سکینڈل سے کسی بھی انسداد کرپشن کارروائی کے آغاز پر زور دیں جس میں ان کی اپنی جماعت اور اس کے سابق امیر کا نام بھی مشتبہ افراد اور جماعتوں کی فہرست میں شامل ہے۔
ویسے یہاں جماعت اسلامی سمیت ہر فرد اور ادارہ اپنا منصف خود بن کر اپنی بے گناہی کا فیصلہ صادر کرتا رہتا ہے۔ کسی دوسرے کی بات کیا کی جائے تازہ ترین مثال میاں نواز شریف کی ہے جنہیں عدالت نے صادق و امین تسلیم نہ کرتے ہوئے نااہل قرار دیا مگر اس کے باوجود وہ خود ہی اپنی بے گناہی کا فیصلہ شاہراہوں اور چوراہوں پر سناتے پھر رہے ہیں۔ یہاں بذات خود اور اپنے حواریوں کی نظروں میں ہر فرد اور ادارہ بے عیب، بیگناہ اور معصوم ہے۔ اپنے تئیں اپنی معصومیت کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ ہر کوئی یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہاں بد عنوانی اپنے عروج پر ہے لہٰذا اس کی ذات کو معصوم تصور کرتے ہوئے دیگر تمام کو کسی بھی کارروائی کے بغیر الٹا لٹکا دیا جائے۔ یہاں جس قدر کرپشن موجود ہے اور جس حد تک لوگ اور ادارے خود کو معصوم قرار دیتے ہیں اس سے تو بادیٔ النظر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کو کچھ علم ہی نہیں کہ کرپشن ہوتی کیا ہے اور اس کی کتنی انواع و اقسام ہیں۔
یاد رہے پوری دنیا میں کرپشن کی تعریف سادہ سے پیچیدہ اور وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ ماضی کی کرپشن کی تعریف کے مطابق اختیارات کے حامل افراد کی بے ایمانی، دھوکہ دہی اور رشوت خوری کو کرپشن کہا جاتا تھا۔ پھر کرپشن کے عمل کے ہر شعبہ زندگی پر محیط ہونے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا گیا کہ ایسا ہر وہ طریقہ کار بد عنوانی کے زمرے میں شمار ہو گا جس میں الفاظ اور اظہار کو ان کے حقیقی معنوں کے بجائے ایسے مجاز میں تبدیل کر دیا جائے جس سے غبن، غلطی اور ضابطوں کی خلاف ورزی چھپ کر رہ جائے۔ کرپشن کی اس جامع تعریف کے بعد مختلف شعبوں میں اس کی شاخوں اور اقسام کی بھی وضاحت کی گئی تاکہ عام لوگوں کو اپنی حدود سے آگاہی کے ساتھ حد کی خلاف ورزی کرنے والے کی گرفت بھی ممکن ہو سکے۔ کرپشن کی اقسام میں سرفہرست استحصال(Extortion) ہے۔ استحصال ایسی کرپشن ہے جس میں طاقت اور اختیار کے زور پر کسی بھی فرد یا ادار ے سے کوئی دوسرا فرد یا ادارہ جبراً دولت، جائیداد یا خدمات حاصل کرے اور جائز مفادات سے بھی محروم رکھے۔ احباب داری (Cronyism)، بدعنوانی کیہی قسم ہے جس میں خاص طور پر سیاسی اور سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کسی ایسے دوست، عزیز یا ساتھی کو مراعات دی جائیں جو ان کے حصول کی نا قابلیت رکھتا ہو اور نا ہی اہلیت۔ پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتیں اس کرپشن میں سب سے زیادہ ملوث پائی جاتی ہیں۔ اقربا پروری یا Nepotism ایسی بد عنوانی ہے جس کا ذکر قیام پاکستان کے وقت قائد اعظمؒ نے اپنی تقریروں میں کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ترقی کے لیے زہر قاتل قرار دیا تھا۔ یہ ایسی بد عنوانی ہے جس سے یہاں نہ مذہبی اور نہ ہی غیر مذہبی لوگ محفوظ ہیں۔ علاقائی عصبیت (Parochialism) بھی اس وقت ناپسندیدہ فعل سے قابل گرفت بدعنوانی بن جاتی ہے جب علاقائی تعصب کی بنیاد پر کسی کی حق تلفی کی جائے یا کسی کو ناجائز فائدہ پہنچایا جائے۔ ناجائز دستگیری (Undue Patronage) ایسی بدعنوانی ہے جس میں کسی فرد یا ادارے کی غیر واجب حوصلہ افزائی، مالی معاونت اور حمایت کی جائے یا اسے ایسا استحقاق دیا جائے جس کا وہ مستحق نہ ہو۔ اس قسم کی بد عنوانی کی تازہ ترین مثال گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں ملتی ہے جہاں دوسرے شعبوں کے ساتھ اردو ڈیپارٹمنٹ میں بھی پروفیسر کی خالی آسامی کے لیے انٹرویوکی تاریخ مقرر کی گئی ۔ دیگر تمام شعبوں میں تو انٹرویو بھی ہوئے اور پروفیسر تعینات بھی ہو گئے مگر اردو ڈیپارٹمنٹ میں ایسا ہونے کے بجائے بغیر کسی اطلاع کے امیدواروں کے انٹرویو ملتوی کر دیے گئے کیونکہ جس بندے کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا وہ کم تجربے کی وجہ سے اہل نہیں تھا اس لیے اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ آئندہ اردو ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں پروفیسر کی آسامی کے لیے انٹرویو اس وقت ہونگے جب ناجائز دستگیری کے لیے پہلے سے منتخب شخص مطلوبہ تجربہ کا حامل ہو جائے گا۔
کرپشن کی ایک قسم گرافٹ (Graft) بھی ہے۔ یہ اصطلاح امریکا سے برآمد ہوئی ہے۔ اس کرپشن پر امریکا میں تو کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے مگر خاص طور پر پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں اسے کرپشن تصور ہی نہیں کیا جاتا۔ اس قسم کی کرپشن میں حکمران سیاستدان اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کسی ایک شعبے یا علاقے کے لیے مختص فنڈز خاص مقاصد کے تحت دوسرے شعبوں یا علاقوں کو اس طریقے سے منتقل کر دیتے ہیں کہ ان کی یہ کرپشن اور واردات اس وقت منظر عام پر آتی ہے جب وہ اپنی حکمرانی کی مدت پوری کر چکے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں چھوٹے صوبے وفاق کے ہاتھوں اس قسم کی کرپشن کا اکثر شکار رہتے ہیں۔
ہمارے ہاں دیگر تمام قسموں کی بدعنوانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف مالی غبن کو ہی کرپشن تصور کیا جاتا ہے۔ اس کرپشن کے لیے بھی پسند اور ناپسند کا اصول مقدم رکھا جاتا ہے۔ جو ناپسند ہو اس کے خلاف تو سچ کے ساتھ جھوٹے الزامات کی بھی بارش کر دی جاتی ہے اور منظور نظر کو کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے مگر جب کوئی منظور نظر نہ رہے تو پھر اس کی دہائیوں تک نظر انداز کی گئی کرپشن کی ہر قلعی کھول کر رکھ دی جاتی ہے۔ لہٰذا محترم سراج الحق صاحب کرپشن کے خلاف مہم ضرور چلائیں مگر یہ ضرور یاد رکھیں کہ کرپشن کی 

image

3مئی 1923ءکی تحریر
موسم گرما کی شدت میں پانی کی ضرورت پیش آتی ہے اور انہی دنو ں میں بلدئہ لاہور کے محکمہ بہم رسانی آب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ماسوائے باغ کے کنوئوں میں پانی کم ہوجاتا ہے۔ اس سال تو کنویں تقریباً سوکھ ہی گئے ہیں جس کی وجہ سے میونسپل انجینئر صاحب فرماتے ہیں کہ صرف تین گھنٹہ صبح اور تین گھنٹہ شام کے وقت پانی باہم پہنچایا جا سکے گا۔ اس لئے ساڑھے پانچ بجے صبح سے ساڑھے آٹھ بجے تک اور پانچ بجے شام سے آٹھ بجے شام تک کا وقت مقرر کیا جائے۔
سول اسٹیشن میں تین کنویں ہیں جن سے پانی حاصل کیا جاتا ہے، وہ بھی کام میں لائے جا سکتے ہیں لیکن ان سے بھی ضروریات کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ تشویش روز افزوں ہے۔ محکمہ کے ذمہ دار اصحاب اس طریقِ عمل سے مطمئن نہیں ہیں اس لئے میونسپل کمیٹی کے ارکان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ بہم رسانی آب کے اہم مسئلہ پر بہت جلد غور فرمائیں۔ بلدئہ لاہور کے معززز ارکان کا فرض ہے کہ باشندگان لاہور کی تکالیف رفع کریں۔ پانی کی بہم رسانی تو اشد ضروری فرض ہے۔ اگر تین گھنٹہ صبح اور تین گھنٹہ شام ہی پانی مل سکا تو گرمیوں کے دنوں میں باقی اٹھارہ گھنٹے کیسے گزریں گے۔ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ ان اٹھارہ گھنٹوں کیلئے پانی بھر کر رکھ لیا جائے کیونکہ ان چھ گھنٹوں میںبھی پانی بہت کم میسر آ سکے گا۔ نمک پر حکومت نے محصول بڑھا دیا ہے۔ اگر بلدئہ لاہور نے پانی یک بہم رسانی کا انتظام نہ کیا تو لاہور کے باشندے آب و نمک سے محروم ہوتے نظر آئیں گے۔ اس وقت باشندوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا اور عوام ارکان بلدہ سے بددل ہو جائیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ارکان بلدہ حتیٰ الامکان بہت جلد اس مصیبت کا خاتمہ کر دیں گے اور جمہورِ لاہور کے آرام کیلئے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔
حضرت امام الہند کاخطبہ جمعہ
ہمارے بعض ہندو معاصرین کی یہ حالت ہے کہ انہیں کسی غلط یا صحیح اطلاع کی بنا پر کسی محترم و معزز مسلمان رہنما پر الزام عائد کرنے کا موقع مل جائے پھر وہ اصل حالات کی تحقیق و تفتیش سے بے پروا ہوکر اپنی بے قانون راگنی شروع کر دیتے ہیں اور شب و روز لاحاصل اپنے گلے پھاڑتے رہتے ہیں، حالانکہ اگر ان کے دل میں انصاف کا خفیف سا مادہ بھی موجود ہو اور ان کے پہلو، عدل کے ہلکے سے احساس سے بھی بہرہ ور ہوں اور واقعات و حقائق کی تحقیق کر لیا کریں تو ان کے دامن کم از کم اس قسم کی ننگِ عدل و انصاف حرکات کے داغوں سے تو محفوظ رہیں۔
نامہ نگار سیاست نے حضرت امام الہند کے خطبہ جمعہ کی روئداد مرتب کرنے میں اس قدر اختصار سے کام لیا تھا کہ خطبہ کی عبارت بعض حضرات کی نظروں میں غلط فہمیوں کا موجب بن گئی تھی۔ حضرت ممدوح نے اخبار نویسانِ لاہور کے جلسہ میں اپنے ان فقرات کی پوری شد و مد کے ساتھ تردید فرما دی تھی۔چنانچہ جس قدر اصحاب اس مجلس میں شریک تھے ان سب کو حضرت ممدوح کی تردید سے کامل اطمینان ہو گیا تھا لیکن ملاپ خوشحال چند خورسند ملیبار والے خوشحال چند خورسند کا ملاپ اس وقت تک حضرت ممدوح کی تردید سے غیرمطمئن ہے۔
وہ لکھتا ہے کہ نامہ نگار سیاست کی مرتبہ روئداد کے مطابق حضرت ممدوح نے فرمایا تھا کہ:
’’مسلمان ہندوستان میں غالب اور فاتح بن کر رہ سکتے ہیں مغلوب بن کر نہیں رہ سکتے۔ اس کے متعلق مولانا صاحب نے سب سے بڑی تردید جو کی ہے وہ یہ ہے کہ سیاست کے رپورٹر نے پہلے فقروں کو پیچھے اور پچھلے فقروں کو پہلے کردیا ہے۔ اس تردید سے یہی مطلب نکالا جا سکتاہے کہ مولانا صاحب نے یہ فرمایا ہوگا کہ مسلمان ہندوستان میں مغلوب اور مفتوح بن کر رہ سکتے ہیں، غالب اور فاتح بن کر نہیں۔‘‘
اصل بحث کو تھوڑی دیر کیلئے نظرانداز کر کے غور فرمایئے کہ جن اخبارات کے علم و نظر کی یہ حالت ہو کہ وہ فقروں کی تقدیم و تاخیر کا وہ مطلب سمجھیں جو ملاپ نے متذکرہ صدر عبارت میں سمجھا ہے تو پھر اخذ و فہمِ مطالب کا جس قدربھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ قواعدِ اردو کی تاریخ میں ملاپ غالباً پہلا پرچہ ہے جس نے ’’غالب و فاتح‘‘ اور ’’مغلوب و مفتوح‘‘ کو فقرات قرار دیا اور حضرت مولانا کے ارشادِ تقدیم و تاخیرِ فقرات کو سن کر مسلمانوں کے ہندوستان میں غالب و فاتح بن کر رہنے کو ’’مسلمانوں کے ہندوستان میں مغلوب و مفتوح بن کر رہنے‘‘ سے بدل دیا۔ خدائے ایزد و متعال مہارتِ لسانی کے اس رشتہ کو جس قدر جلد کوتاہ کرے اتنا ہی اچھا ہوگا۔
 

image

There is no doubt that what the Egyptian army is fighting now in Sinai, unconventional as it may be, is a real war. And while terrorism knows no borders, it appears that combating it does. In Sinai, the world has left Egypt to fight alone.
The Egyptian army, accustomed to conventional warfare, is engaged there in a guerrilla battle with extremist groups, some of whom will exploit any “victory” to announce the extension of Daesh in Sinai. It is also fighting other jihadist terrorists who infiltrated Egypt amid the chaos that followed the events of January 2011 and the rise of the Muslim Brotherhood. Some observers believe the number of mercenaries and non-Egyptian extremists to be about 3,000. The militants also have massive logistical and financial support coming through the border with Gaza from radical groups. Then there is the direct and indirect support of Qatar, whether by supplying extremist groups in Libya, Syria and Sudan with weapons that reach terrorist groups in Sinai, or through providing them with media platforms to spread their poison.
Other than militarily, there is a way for Egypt to defeat the terrorists in Sinai, and that is by winning over the people of the peninsula. The state must take steps to restore their sense of nationhood, and all the rights and obligations that come with it.
When we talk about Sinai and what Sinai needs, we must first talk about the price paid by its people, and not only after the Israeli occupation in 1967, or the war of attrition between 1969 and 1972, or the victory of October 1973, or even the years that followed. We heard only talk about the development of Sinai without seeing real results, and without giving the people of Sinai the appreciation they deserve. Despite the heroics of the armed forces, the people of Sinai continue to pay that price. Realizing this is the first step toward solving the problem.
Sinai desperately needs economic development to eliminate ignorance, terrorism and poverty, and the path to that development must be laid by the state. The people of Sinai have been told for the past 40 years that this development is coming, and they are still waiting. They no longer believe the promises of major projects, factories and jobs. These people must no longer be treated simply as numbers in government files.
The peninsula’s people have for decades felt disconnected from the rest of Egypt, which has fueled poverty and bred terrorism. The solution lies in promoting economic development through small and medium-sized enterprises.
The ideal solution is small and medium-sized enterprises. This will achieve real development that will immediately be felt by the people of Sinai. Small businesses cost less than mega projects, they will not be concentrated in a specific area, and they will not be controlled by a limited number of big companies who employ a relatively small number of local people.
To encourage small businesses, Egypt must discourage the view that Sinai is no more than a site for military action, or a buffer zone between Egypt and its enemies. Sinai is Egyptian land with Egyptian people, and needs to be treated as such. Its people must be made to feel that they are citizens of Egypt, not just citizens of Sinai.
Building a new Sinai economy with small and medium-sized businesses cannot rely solely on individual initiatives. It must be the direction of a country that understands how its economy is reviving. It should work on real development that reaches citizens, and encourages banks to expand the financing of this vital sector that drives economic growth. Achieving sustainable development and providing job opportunities to end unemployment can solve other problems caused by unemployment, most importantly involvement in terrorism.
The complete solution to the Sinai problem lies not only in one project, and development requires a real effort by the state, reaching its beneficiaries and achieving its purpose. But targeted investment would be a huge step in the right direction of reducing terrorism, creating jobs and giving the people of Sinai the feeling that they belong to Egypt.
(courtesy : Arab News)

image

کسی بھی قوم کے لیے آزادی بڑی نعمت ہوتی ہے۔  ہمیں یہ نعمت 14 اگست 1947ء کو نصیب ہوئی، جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ یوں ایک تہوار اور جشن کے طور پر قوم پورے جوش و خروش سے اس دن کو مناتی ہے۔ 
قوموں کے لیے آزاد ہونا کافی نہیں ہوتا۔  آزادی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا بھی پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے اپنی قومی آزادی کے بارے میں ہمارا رویہ شعوری طور پر غیر سنجیدہ رہا ہے۔ ہم نے کبھی غور نہیں کیا کہ ہم ایک تبدیل شدہ دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جو ہر لمحے تبدیلی کے عمل سے دوچار رہتی ہے۔ تیزی سے بدلتی اس دنیا میں پاکستان کا آئین، معاشیات، معاشرتی اور سماجی اقدار، عسکری اور تعلیمی نظام کیسا ہونا چاہیے۔ ہندوؤں کی بالادستی سے تو ہم نے نجات حاصل کرکے اپنے لیے علیحدہ وطن بنا لیا، لیکن  اقتصادی غلبے کے حوالے سے   معاشی غلامی، مالیاتی محتاجی اور خارجی بالادستی سے نجات حاصل نہ کرسکے۔
اگر ہمیں آزادی کے گزشتہ 70 برسوں کی تاریخ کا جائزہ لینا پڑے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم نے اس دوران ایسی کسی بھی صلاحیت اور کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس پر آج فخر کرسکیں اور نہ ہی ہم وطن عزیز کو اس تعبیر سے ہم آہنگ کرسکے، جس کا خواب ہمارے اکابر نے دیکھا تھا۔ قیام پاکستان کے وہ لمحے انتہائی کربناک اور المناک ہیں، جن میں قوم کو ایک تاریخی ہجرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ہجرت میں لاکھوں زندہ انسانوں کو بیدردی سے ذبح کردیا گیا، یہ بے مثال قربانیاں ہیں، جن سے گزر کر ہم نے قیام پاکستان کی منزل کو پایا، لیکن اسے ہم قوم کی بدنصیبی کہہ سکتے ہیں کہ 70 سال گزر جانے کے بعد ابھی تک ہم استحکام پاکستان کی جانب قدم  بڑھانے میں ابہام کا شکار ہیں۔ ہم نے بلاشبہ ملک حاصل کرلیا، لیکن ہمارا سفر رکا ہوا ہے۔ پاکستان کو ایک علیحدہ ملک کے طور پر 
دنیا کے نقشے پر لانے کا مقصد ایک فلاحی ریاست کا قیام تھا، جو ہمارے اکابر کے ذہنوں میں تھا، لیکن ہم اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔  ہم عصر قوموں کے مقابل ہم دن بہ دن پس ماندگی کا شکار رہے اور پاکستان کو ترقی کی معراج اور اقوام عالم میں سربلندی کے اس منصب تک پہنچانے کے لیے ابھی پہلا قدم بھی نہ اٹھا سکے، جس کا ہدف ہم نے اپنی آزادی کے استحکام سے مشروط کیا تھا۔ اس کے بجائے ہماری اجتماعی ترجیحات پر انفرادی ترجیحات غالب آگئیں۔ اقربا پروری، رشوت، کرپشن نے میرٹ اور انصاف کا چہرہ بگاڑ دیا۔ ڈنگ ٹپاؤ اور ایڈہاک پالیسیوں نے ملک کو اقتصادی طور پر بحرانوں کا شکار کردیا۔ عدم استحکام سے دوچار اقتصادی صورت حال نے ریاستی اداروں کو بھی غیر مستحکم کرکے رکھ دیا، جس کے بھیانک اثرات کے سبب ہر ریاستی ادارے کو اس کی بقا کے مسائل درپیش ہیں۔ 
موجودہ حالات میں ملک قومی اداروں کی باہمی ترجیحات اور مفادات کی چھینا جھپٹی کی تصویر بنا ہوا ہے۔  ہم ناصرف اپنے ایک بازو سے محروم ہوچکے بلکہ ملکی تاریخ کا نصف سے زائد عرصہ طالع آزماؤں کے زیر تسلط رہا۔ ہماری قومی تاریخ کا بڑا المیہ یہ رہا کہ 1973 تک وطن عزیز آئین سے ہی محروم رہا۔ آئین بنا اور ریاست کی تمام اکائیوں کے حقوق کا تعین کردیا گیا اور سمجھ لیا گیا کہ اس کے قرار و نفاذ کے بعد سیاسی ادارے مستحکم ہوجائیں گے، لیکن آئین کے نفاذ کے چار سال بعد ہی ایک منتخب، آئینی  اور قانونی حکومت کے خلاف بغاوت کرکے ناصرف اسے برطرف کردیا گیا بلکہ منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے کے حوالے کردیا گیا، اس صورت حال نے  قومی سیاسی استحکام کے لیے مسائل پیدا کردیے، جن سے آج تک ہم نجات حاصل نہیں کرسکے۔ آمروں نے آئین کا حلیہ بگاڑنے کی روش اپنائی اور عام آدمی کی سیاسی اور شخصی آزادیوں کو غصب کرنے کے لیے اس میں ترامیم کیں۔ اقتدار پر تسلط کے جنون میں قومی اقتصادی اہداف اور اقتصادی ارتقا کے عمل کو جس طرح نظرانداز کیا گیا، نتیجتاً قومی پیداواری کلچر کی نمو کے امکانات ہی ختم ہوگئے۔ صنعتی فروغ کے بجائے کنزیومرازم کو فروغ  حاصل ہوگیا۔ قومی پیداواری عمل کے خاتمے کے باعث ہمارا ملک ہمسایہ ملکوں  کی منڈی بن گیا۔ برآمدات اور درآمدات کے غیر متوازن ہونے سے قومی آمدنی کا مکمل انحصار قرضوں کی معیشت پر چلاگیا ہے۔ غیر ملکی قرضوں کے باعث ہماری معیشت پر غلبے کے اثرات نے ہماری قومی پیداواری صلاحیت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ 
موجودہ صورتحال کے پس منظر میں قومی آمدنی کے تمام ذرائع کم و بیش غیر مؤثر ہوچکے ہیں۔  معاشی احتیاج میں ریاستی بے بسی کی صورتحال نے کاروبار مملکت چلانے میں مشکلات پیدا کردی ہیں۔ غیرملکی قرضوں کے حصول کو حکومتی عہدیداروں کے کارناموں اور کامیابیوں کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ ایسے میں ایک فلاحی 
ریاست کا تصور اور عام آدمی کو ریلیف تو دور، جب ریاست خود ہی اقتصادی اور مالیاتی محتاجی کے باعث قرضوں پر انحصار کررہی ہو۔ تقسیم سے قبل ہندوستان کی اقتصادی، تجارتی اور مالی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس پر ہندو کی اجارہ داری تھی۔ بڑے مقاصد میں ہندوستان کے مسلمانوں کو اقتصادی اور کاروباری طور پر ہندو کی اجارہ داری سے نجات دلانا بھی تھا کہ اپنے علیحدہ وطن میں آزادی سے اپنی کاروباری، تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوںکا آغاز کرسکیں، لیکن جب ہم اپنی تاریخ اور اپنی قومی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مایوسی ہوتی ہے۔ بلاشبہ کسی بھی قوم کی سلامتی اس کی عسکری صلاحیتوں اور دفاع کی مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، لیکن اقتصادی پسماندگی اور قومی محتاجی، قومی غلامی کا دوسرا نام ہے، یہ ایک ہلاکت خیز عمل ہے۔ حب الوطنی کے تقاضوں میں اقتصادی استحکام کو قومی ترجیحات میں بالادستی دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے قومی پیداواری عمل اور صنعتی کلچر کے فروغ سے جڑا ہوا ہے۔ موجودہ دور اقتصادی فتوحات اور بالادستی کا دور ہے۔ جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آگیا، قوم کو قیام کے بعد استحکام پاکستان کی جدوجہد میں شامل ہونا ہے جو اقتصادی اور معاشی آزادی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ 14 اگست کو آزادی کے یادگار دن کے طور پر مناتے ہوئے جہاں ہم قومی سلامتی کی دعائیں کررہے ہیں، وہیں ہمیں قومی معیشت کو مستحکم کرنے والی اقتصادی پالیسیوں کا ازسرنو تعین کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

image

پاکستان کی بدقسمتی کہ اسے ابتدائی چند برس کے بعد ایسی قیادت ملی، جو نااہلی اور عاقبت نااندیشی کے ساتھ کردار کی شفافیت سے بھی محروم تھی۔ صدیوں سے بحث جاری ہے کہ حکمرانوں کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں؟ کیا حکمران ایک ذہین فطین شخص کو ہونا چاہیے یا کسی عالم فاضل کو؟، کسی ملک کا سربراہ کوئی سائنسدان ہو یا کوئی ارب پتی کاروباری شخصیت؟، کیا حکومت کسی جاگیردار کو دیدی جائے یا اس کا سربراہ ورکنگ کلاس کا کوئی اوسط ذہن کا مالک ہونا چاہیے؟ تاریخ کی ورق گردانی سے ایسا دور بھی سامنے آتا ہے جب دنیا میں قائم سب سے بڑی سلطنت کے حکمران صحرا نشین اور شتربان تھے، تاہم دو صفات سے وہ متصف تھے، دیانت داری و حب الوطنی اور پرہیزگاری۔ 
ہم ستر برس سے کلمہ گو حکمرانوں کی رعایا چلے آرہے ہیں۔ یہ حکمران کن دروازوں سے اقتدار تک پہنچے، اس کی تاریخ سے ہی ان کے کردار اور ہوس اقتدار کا پتا چل جاتا ہے۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے، جو حرام کھاتے اور بدکرداریاں کرتے رہے۔ کچھ حکمرانوں کو سزا بھی ملی لیکن ان کے انجام سے بعد میں آنے والوں نے عبرت نہ پکڑی۔ ایک دوسرے کی کردار کشی میں اخلاقیات کو پامال کرنا ان کے نزدیک کوئی برائی نہیں۔ اب یہ حکمران نجات دہندہ اور مسیحا کے بجائے  قوم کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ ہم اس شخص کے احسان مند ہوں گے جو موجودہ سیاسی حکمرانوں میں ایک خوبی گنوا دے جو ان کے جائز حکمران ہونے پر دلالت کرتی ہو۔ پھر ان کے جانے یا پس زندان ہونے پر کفِ افسوس ملنا انتہا درجے کی بے و قوفی نہیں تو اور کیا ہے۔
پاکستان میں کاروبار سلطنت چلانے کے لیے ایک دستاویز موجود ہے جسے آئین کہا جاتا ہے۔ سول اور ڈکٹیٹر حکمرانوں نے اسے کتنی بار منسوخ و معطل کیا، اس سے روگردانی کی۔ قائداعظمؒ نے ارکان اسمبلی کے اشتراک و تعاون کی بات کی تھی جسے ضیاء الحق نفرت اور حقارت سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے 62،63 میں ایک شرط صادق اور امین کی شامل کی، جس کی خلاف ورزی کے خود مرتکب ہوئے۔ 
موجودہ صورت حال میں سیاستدانوں، خصوصاً ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت حد تک پہنچ چکا ہے جو خود کو اصول  پسند اور سیاسی فہم و فراست کا پیکر کہلواتے ہیں۔ پارلیمان کے قریباً تمام ارکان آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کی تمام شقوں کا علم رکھتے ہیں، تاہم اس کی زد میں بھی آتے ہیں، لیکن چند ارکان کے خلاف کارروائی سے وہ ان کی بے گناہی میں یوں رطب اللسان ہیں، گویا کسی مقدس شے کو چھیڑ دیا گیا ہے۔ حالانکہ سابق وزیراعظم نے آخری لمحات تک عدالت، عوام اور حتیٰ کہ اپنے وکلاء کو اندھیرے میں رکھا اور ایک سازش کے تحت بوگس دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھیں، تاکہ اپیل کا حق باقی رہے اور فاضل جج صاحبان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کمیٹی میں ریفرنس دائر کرادیے جائیں۔ لیکن عدالت نے یہ سازش ناکام بنادی اور آئین کے آرٹیکل (62) 1( ایف) کے تحت انہیں تاحیات نااہل قرار دیدیا، جس کے خلاف اپیل دائر نہیں ہوسکتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے  ایوان بالا کے چیئرمین نے فرمایا کہ ’میں سپریم کورٹ کو پارلیمان پر حاوی ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں‘۔ انہوں یہ نہیں کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہونی چاہیے، بدعنوانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے، انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں جس سے کوئی معاشرہ دائمی استحکام حاصل کرسکتا ہے۔
ان حالات میں ریاست اقتدار کے خواہشمندان کے پنجرے میں بند نظر آتی ہے، جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اپنی اپنی سیاست چمکانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا عمل جاری ہے۔ محاذ آرائی سے ملک اور قوم کا نقصان ہورہا ہے جبکہ سیاستدانوں کو وہ کچھ عزیز ہے جس کا عوام سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔ حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ اقتدار عارضی امانت ہے جس میں غفلت کا ارتکاب اللہ کے حضور احتساب کا سبب بنے گا۔ ایک مرتبہ خلیفہ دوم حضرت عمرؓ چند اصحاب کے ساتھ کسی کام کے سلسلے میں جارہے تھے کہ سامنے سے لاٹھی کے سہارے چلتی ہوئی ایک بڑھیا ملی۔ اس نے حضرت عمرؓ سے کہا، ’’ٹھہر جائو۔‘‘ آپؓ ٹھہر گئے۔ بڑھیا نے لاٹھی کے سہارے کھڑے ہوتے ہوئے کہا، ’’اے عمرؓ میرے سامنے تیرے اوپر تین دور گزر چکے ہیں، ایک دور وہ تھا کہ تُو سخت گرمی میں اونٹ چراتا تھا اور وہ بھی تجھ سے صحیح طرح نہیں چرتے تھے، جس پر تجھے خطاب کی مار پڑتی تھی۔ تمہارے سر پر اس وقت ٹاٹ کا ٹکڑا ہوا کرتا تھا اور ہاتھ میں پتے جھاڑنے کا آنکڑا۔ دوسرا وہ بھی آیا کہ لوگوں نے تمہیں عمیر کہنا شروع کیا، کیوںکہ 
ابوجہل کا نام بھی عمر تھا، جس نے اپنے نام پر نام رکھنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ بدر میں ابوجہل کے قتل کے بعد تمہیں عمر کہا جانے لگا۔ اب تیسرا دور میں نے دیکھا ہے کہ تمہیں نہ کوئی عمیر کہتا ہے نہ عمر، بلکہ امیرالمومنین کہہ کر پکارے جاتے ہو۔‘‘  اس تمہید کے بعد بڑھیا نے کہا، ’’رعایا کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، امیر المومنین بننا آسان مگر حق والے کا حق ادا کرنا مشکل ہے، کل حقوق کے بارے میں بازپرس ہوگی، لہٰذا ہر حق دار کا حق ادا کرو۔‘‘ عمرؓ یہ سن کر زارو قطار رونے لگے، یہاں تک کی داڑھی مبارک بھیگ گئی اور آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔ صحابہ ؓ نے بڑھیا کی طرف اشارہ کیا کہ تشریف لے جائو مگر عمرؓ نے اشارے سے منع کردیا اور فرمایا، ’’ان کو کہنے دو جو کہنا چاہتی ہیں‘‘ جب وہ چلی گئیں تو صحابہؓ نے پوچھا، یہ بڑھیا کون تھیں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا، ’’اگر یہ یہاں ساری رات کھڑی رہتی تو عمرؓ یہاں سے سرکنے والا نہیں تھا، بجز فجر کی نماز کے، یہ بی بی صاحبہ خولہ بنت ثعلبہ ہیں جن کی بات کی شنوائی ساتویں آسمان پر ہوئی اور حق تعالیٰ نے فرمایا،  ’’بالیقین اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کے آگے جھینگ رہی تھی‘‘ فرمایا، ’’عمرؓ کی کیا مجال کہ ان کی بات نہ سنے جن کی بات ساتویں آسمان پر سنی گئی۔‘‘ یہ تھے وہ حکمران جن کی مثالیں آج غیر مسلم مورخ بھی دیتے ہیں۔
 

image

تک دس ہزار میگاواٹ 
بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی
موجودہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی مسلسل جدوجہد سے ہزاروں میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں آچکی ہے اور مزید آنے کے لیے پرتول رہی ہے۔ حالیہ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کے وہ حالات نہ تھے، جو پہلے ہوتے تھے، اس سے لگتا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ قریب ہے۔ (ن) لیگ کی حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے کی پالیسی پر گامزن رہی، نئے پروجیکٹ ان چار برسوں میں لگائے گئے، جن کے باعث لوڈشیڈنگ کا دورانیہ قلیل ہوچکا ہے اور اگر اس سال کے آخر تک مزید دس ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوتی ہے تو یقیناً اس سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔
………………………
ینگ ڈاکٹرز کی چھٹے روز بھی ہڑتال
ہمارے ہاں 25 سے لے کر چالیس سال تک کے ڈاکٹرز شاید ینگ کہلاتے ہیں۔ کہنے کو تو انہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی ہے مگر  عملی طور پر وہ احتجاج کے ماہر ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم کے برعکس پالیسی اپنا رکھی ہے۔ مریضوں کی دیکھ بھال تو چند روز کرتے ہیں، مگر ان کا زیادہ عرصہ ہڑتال اور احتجاجی کیمپوں میں گزرتا ہے۔ کہنے کو تو یہ ڈاکٹرز ہیں مگر خود کو اسٹریٹ پاور کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اب تو توقع کی جانی چاہیے کہ ینگ ڈاکٹرز ایک جماعت بناکر عملی سیاست میں قدم رکھیں گے اور احتجاج کی دنیا کو نئی جہت دیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے احتجاج اور جدوجہد کے نتیجے میں کبھی ان کو حکومت بھی حاصل ہوجائے اور تب ینگ ڈاکٹرز اپنی حکومت کے خلاف ہی احتجاج کرتے نظر آئیں۔
………………………
کچھ قوتیں بھیس بدل کر پارلیمنٹ 
پر حملہ کررہی ہیں، احمد محمود
سابق گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ کچھ قوتیں بھیس بدل کر پارلیمنٹ پر حملہ آور ہورہی ہیں، حالانکہ کچھ طاقتیں سرعام پارلیمنٹ اور اپنے ہی نظام پر حملہ آور ہیں اور اپوزیشن کے بجائے ولن کا کردار ادا کررہی ہیں۔ اُن کا فرمانا ہے کہ پیپلز پارٹی اس کا دفاع کرے گی حالانکہ خود بلاول بھٹو جمہوری حکومت پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں۔ اب ان کی تقریر میں روانی آتی جارہی ہے اور حکومت پر زوردار طریقے سے تنقید بلکہ ڈرون حملے کررہے ہیں اور حکومت  گرانے کے لیے بے چین اور بے قرار نظر آرہے ہیں۔ اگرچہ احمد محمود صحیح معنوں میں جمہوریت چاہتے ہیں۔
………………………
انکم ٹیکس جمع کرانے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ
بیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں بارہ لاکھ ٹیکس جمع کرانے والوں کی تعداد پر فخر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ملک تو چلتے ہی ٹیکس کی آمدن پر ہیں، ہمارا کلچر تو ٹیکس بچانا ہے، ملک چلانا نہیں۔ ٹیکس وسیع نہ ہو تو خسارہ بڑھ جاتا ہے اور قرضوں کی صورت حال کہ ہر پیدا ہونے والے بچے پر قرض کا بوجھ سوا لاکھ کے قریب ہے۔ اب بچّے پیدا ہوتے وقت روئیں نہیں تو کیا کریں۔ آخر کوئی نومولود اتنا بوجھ کیسے اٹھاسکتا ہے۔ اب چاہیے تو یہ کہ تمام لوگ خود آگے آئیں جو ٹیکس نہیں دیتے اور ٹیکس نیٹ میں شامل ہوکر ہمارے نومولودوں کو قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرائیں۔
………………………
انکوائری کمیٹی نامنظور، گلالئی کے پیچھے 
(ن) لیگ ہے، شفقت محمود
اپنی ہی جماعت کی رکن قومی اسمبلی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات پر بننے والی انکوائری کمیٹی کو نامنظور کیا جارہا ہے، جو سابق وزیراعظم کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کررہے تھے، دوسروں پر الزامات کی گٹھری لادنے والوں کی اس ادا کو تبدیلی کہیں یا خود پر لگنے والے الزامات سے بھاگنے کو تبدیلی گردانیں۔ کبھی آپ منصف بن کر فیصلے دیتے ہیں اور کبھی الزامات سے بھاگتے ہیں۔ تبدیلی تو لانہیں سکتے، البتہ اپنی اداؤں اور عادات میں ہی تبدیلی لے آئیں۔ 
………………………
سیاست عزت اچھالنے کا  نام ہے، آفریدی
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مایہ ناز کرکٹر شاہد خان آفریدی سیاست کی بھول بھلیوں میں قدم رکھنے کو تیار تھے اور کرکٹ کے بعد انہوں نے سیاست میں چھکا لگانے کا ارادہ کر رکھا تھا، مگر سیاست میں عزت اچھالنے کا کام انہیں کرکٹ میں عزت بنانے سے قدرے مختلف لگا اور وہ سیاست کی گولی نگلنے سے باز رہنے کا سوچ رہے ہیں۔ آفریدی بلا گھمانے کے ماہر ہیں۔ اگرچہ وہ کرکٹ کے میدان میں بھی خاصے تندوتیز بادلوں کے عادی رہ چکے ہیں، مگر سیاست میں جو ذاتیات کھنگالی جاتی ہے، اس پر خاصے بے چین ہیں کہ سیاست میں آنے کو دل بھی کرتا ہے مگر یہ عزت وغیرہ اچھالنا ان کو نیا لگ رہا ہے۔
………………………
نظام کو کچھ ہوا تو ذمے دار نواز شریف 
ہوںگے، حکومت کا آخری سال ہے، شیخ رشید 
شیخ رشید اگر ماہر نجوم ہوتے تو ان کے دفتر کو جلد تالا لگ جاتا، کیوںکہ ان کی پیش گوئیاں یا تو پوری نہیں ہوتیں یا پھر عجیب و غریب ہوتی ہیں۔ اب فرمارہے ہیں کہ حکومت کا یہ آخری سال ہے تو یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جمہوری حکومت پانچ سال کی ہوتی ہے اور یہ (ن) لیگ حکومت کا آخری سال ہے۔ اب انتخابات ہونے جارہے ہیں اور موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی تو شیخ رشید فرمائیں گے، میں نے تو کہہ دیا تھا کہ یہ حکومت کا آخری سال ہے۔ واہ شیخ صاحب شکر ہے کہ آپ عام لوگوں کے بارے میں پیش گوئیاں نہیں کرتے ورنہ سب سے زیادہ احتجاج تو آپ کے خلاف ہورہا ہوتا۔

image



کسی ملک میں تین موسم ہوتے ہیں تو کسی میں چار۔۔۔ لیکن پاکستان میں چھ موسم ہیں۔۔۔ کہیں گرمی ہے تو کہیں سردی۔۔۔ کسی جگہ بہار رنگ دکھا رہی ہے تو کہیں خزاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔۔۔ کہیں برف گرتی ہے تو کہیں مون سون چھاجوں بارش  برساتا ہے۔۔ اور ایک ساتواں موسم بھی ہے۔۔ وہ ہے دل کا موسم۔۔۔ اور یہ دل کا موسم اصل میں پیار کا موسم ہوتا ہے۔۔
مجھے سارے موسم پسند ہیں۔۔ گرمی آتی ہے تو اپنے ساتھ خوش ذائقہ آم، قیمہ کریلے اور پہاڑوں کی سیر کا موقع لے کر آتی ہے۔ جونہی گرمی بہار کو الوداع کہتی ہے تو پہاڑوں سے برف پانی بن کر کہیں دریائے کنہار تو کہیںدریائے سندھ بناتا ہے۔۔۔ اس بار پھر شمالی علاقوں کی سبز پوش وادیوں نے بلاوا بھیجا۔۔۔ جنت کے نقشے کے مطابق بنائے جانے والے ان پہاڑوں نے آواز دی تو میں نے بھی نقشہ سامنے پھیلا لیا۔۔ گیتی نے بتایا کہ اس بار خنجراب کے پہاڑوں کا بلاوا ہے۔۔۔
ڈرائینگ روم میں پنکھا پوری رفتار سے گرمی پھینک رہا تھا۔ سر سے پسینے کی دھار ایڑی تک آتی تھی۔ یہ مکئی کے دانے کی طرح پھولا ہوا دن تھا۔ ہم دونوں سامنے میز پر نقشہ پھیلائے، پنسل ہاتھ میں تھامے روٹ بنا رہے تھے۔۔ کہاں کہاں سے گزرنا ہے۔۔۔ کہاں قیام ہے۔۔ اور کہاں سفر۔۔۔ نقشہ بتا رہا تھا کہ گلگت کو دو راستے جاتے ہیں۔ ایک تو لاہور سے پنڈی، پھر مری، نتھیا گلی، ہرنو سے ہو کر ایبٹ آباد۔۔۔ جبکہ دوسرا پنڈی سے ٹیکسلا، ہری پور حویلیاں، ایبٹ آباد اور مانسہرہ تک جاتا ہے۔۔۔ یہاں سے پھر دو راستے ہیں، ایک مختصر اور دوسرا طویل۔۔۔ مختصر راستہ تب استعمال کیا جاتا ہے، جب بابو سرٹاپ کا راستہ کھلا ہو۔۔۔ یہ سہولت چار ماہ تک دستیاب ہے۔ پھر اس راستے کو برف ڈھانپ لیتی ہے۔ اس راستے سے جاتے ہوئے آپ  مانسہرہ سے بالاکوٹ کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ پھر کیوائی، پارس، جرید، مہانڈری، کاغان، ناران، بٹہ کنڈی، جل کھڈ، گیتی داس اور پھر بابوسر ٹاپ۔۔۔ بابوسر ٹاپ سے چلاس، گونر فارم، رائے کوٹ، جگلوٹ، گلگت، نلت، مرتضیٰ آباد، علی آباد، کریم آباد، بلتت، علی آباد، گلمت، سوست، دیہہ اور خنجراب۔۔۔ یہاں سے یہ پہاڑی راستہ ہمسایہ ملک چین داخل ہو جاتا ہے۔ یہ سڑک پاک چین دوستی کا ایک زندہ شاہکار ہے۔ راستے میں کئی قبرستان آتے ہیں ان میں وہ شہداء دفن ہیں، جو یہ سڑک بناتے ہوئے ڈائینامیٹ یا کسی تودے کی زد میں آ کر یا پتھر لگنے سے شہید ہوئے۔۔۔ یہ وہ شہید ہیں جن کی وجہ سے سفر گلگت اور سفر چین نہایت آسان ہو گیا۔
دوسرا راستہ جو نسبتاً طویل ہے لیکن سارا سال کھلا رہتا ہے۔۔ یہ پورا راستہ شاہراہ قراقرم یعنی ’’شاہراہ ریشم‘‘ ہے۔ یہ مانسہرہ سے شنکیاری، بٹل، بٹ گرام، تھاکوٹ، بشام، دوبیر، پٹن، داسو، بسرین، شیتال، ہربن بھاشا اور پھر چلاس پہنچ جاتا ہے۔۔۔ دونوں سڑکیں انتہائی شاندار ہیں اور سفر کے لئے سو فیصد محفوظ۔۔۔ کوئی چوری ڈکیتی نہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ ہیں اور ساتھ ساتھ چلنے والے پہاڑ ہیں یا پھر پہاڑی دریا۔۔ جو آپ کو اکیلا نہیں چھوڑتے۔۔۔ راستے میں چشمے، آبشاریں، ندی، نالے، وادیاں، درخت، سبزہ، پھلدار پودے سب بہتات میں ہیں۔

ناران، کاغان اور دوسرے علاقوں کی طرف جانے کا بہترین موسم جون، جولائی اور اگست ہے۔۔۔ اگر بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچنا ہے تو پھر جون میں جائیں۔ سیاحت کیلئے جون سب سے بہتر ہے۔۔ لیکن عید کی چھٹیوں میں سیاحتی مقامات پر نہ جائیں۔۔۔ بلکہ میں کہوں گا کہ عیدکی چھٹیوں میں ناران، کاغان، کشمیر، مری، خانس پور، نتھیا گلی اور گلگت کی طرف جانے کا خطرہ مت مول لیں۔ کیونکہ ان دنوں میں رش اور مہنگائی منہ پھاڑے آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔۔۔۔ خطرہ ان معنوں میں کہ عید کی چھٹیوں میں یہاں اتنا رش ہوتا ہے کہ خدا کی پناہ۔۔۔ دو سال پہلے عید کی چھٹیوں میں عید کی نماز کے بعد گاڑی کا رخ ناران کی طرف کیا تو لاہور سے بارہ گھنٹے میں ناران پہنچے۔۔۔۔ ابھی رش نہیں تھا اس لئے۔۔۔ جلد پہنچ گئے۔
جہاں سے ناران شروع ہوتا ہے وہاں دائیں طرف ایک اونچے پہاڑ پر یوتھ ہوسٹل واقع ہے۔۔۔ لگ بھگ دو سو سیڑھیاں چڑھنے کے بعد یوتھ ہاسٹل کی شکل نظر آتی ہے۔۔ اگر آپ عید کے دوسرے روز سفر کا آغاز کرتے ہیں تو آپ بیس گھنٹے میں ناران پہنچ پائیں گے۔۔۔ اگلے روز یوں لگ رہا تھا کہ سبھی گاڑیوں نے ناران کی طرف رخ کر لیا ہے۔ یہاں چار چار کلومیٹر طویل قطار لگ جاتی ہے۔ ناران میں اگر عید کی چھٹیوں میں آپ کو کسی ہوٹل میں کمرہ مل جائے تو آپ خوش قسمت ٹھہریں گے۔ ورنہ خیمہ کرائے پر لینا پڑے گا۔۔۔۔ چار افراد کے رہنے کے لئے ایک رات کا خیمے کا کرایہ بیس ہزار روپے بھی ہو سکتا ہے۔ جی ہاں یہ پرنٹنگ کی غلطی نہیں میں نے بیس ہزار ہی لکھا ہے۔۔۔ ان دنوں اپنی گاڑیوں میں شب بسری کے بعد زیادہ تر سیاح توبہ کرتے ہیں اور دوبارہ ناران نہ آنے کی قسم کھاتے ہیں۔ لیکن اگلے سال رش پھر اتنا ہی ہوتا ہے۔۔ یہ نئے سیاح ہوتے ہیں۔ اور اس طرح ناران والوں کو عید پہ ہر سال اپنے حصے کے نئے بے وقوف سیاح مل جاتے ہیں۔ ناران میں ہوٹل نہ ملنے پر مایوس لوٹنے والے سیاح جب گاڑیاں واپس موڑتے ہیں تو انہیں دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔ ایک تو راستے بند ہیں۔۔۔۔ دوسرا کہیں بھی پٹرول دستیاب نہیں۔۔۔ ہوٹلوں میں کمرے ختم، ریستوران سے کھانا ختم، پٹرول پمپوں سے تیل ختم۔۔۔۔ ڈرائیوروں کی برداشت ختم، ایک لین کے بجائے کئی کئی قطاریں۔۔۔۔ انسان نے سب کچھ سیکھ لیا لیکن مشرق کے انسان نے ابھی قطار بنانا نہیں سیکھا۔۔۔ اس بے صبری کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے۔ عید کی چھٹیوں کے بعد پلان بنائیں تو پھر مہنگائی کے علاوہ سب نارمل ہے۔۔۔۔ مہنگائی کو اس لئے نہیں کوسنا چاہیے کہ یہ لوگ سیزن میں ہی تو کماتے ہیں۔۔ ان کی کمائی صرف چار مہینے ہے۔۔۔۔ عید کی چھٹیوں اور چودہ اگست کی چھٹیوں میں ذرا صبر کر لیں۔ ان دنوں کے علاوہ آپ ان سیاحتی مقامات پر جائیں تو آپ خوب لطف لیں گے۔ ورنہ ہفتے بھر کی تھکاوٹ لے کر واپس آئیں گے۔۔۔
ویسے تو سارے ہی شمالی علاقے خوبصورت ہیں لیکن ہم شروع کرتے ہیں ناران اور کاغان سے۔۔۔۔ اس وادی کی شہزادی جھیل سیف الملوک ہے۔۔۔۔ یہ ہماری پوسٹرگرل ہے۔۔۔ جسے ہم دنیا کو دکھا دکھا کر سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ جھیل کو جانے والا راستہ کسی ایڈونچر، جنون اور جوش سے کم نہیں۔ بعض من چلے تو ناران سے پیدل ہی جھیل کی طرف چل پڑتے ہیں۔ ناران سے جھیل کا فاصلہ صرف آٹھ کلومیٹر ہے۔۔۔ اگر آپ پیدل نہیں جانا چاہتے تو پھر جیپ حاضر ہے۔۔۔ جیپ کا سفر ہو یا پیدل۔۔۔ آپ کی زبان پہ بار بار ایک ہی آیت آتی ہے۔۔۔ ترجمہ: اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔۔۔ یہاں جیپ کا ایک ٹائر پہاڑ کے بالکل سا

ہے دوسرا ٹائر سڑک کے بالکل کنارے پر ہے۔۔ ٹائر ذرا پھسلا نہیں اور آپ سیکڑوں فٹ نیچے کھائی میں گرے نہیں۔۔۔۔۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔۔۔ کچھ لوگ تو سارا راستہ آیت الکرسی اور دوسری سورتیں پڑھ کر گزارتے ہیں۔ کلثوم بھی سارا راستہ تلاوت کرتی رہتی ہے۔ وہاں جا کر بعض اوقات فون کے سگنل نہیں آتے۔ آج کل کی مصروف زندگی میں فون کے سگنل نہ آنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ آٹھ کلومیٹر اوپر نیچے، دائیں بائیں ہچکولے کھاتے گزرتے ہیں۔ راستے میں دو گلیشیئر بھی پڑتے ہیں۔ جن کی شفاف برف سے بعض من چلے گولے بنا کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ جھیل پر نظر پڑتے ہی ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔۔۔۔ وسیع، خوبصورت، نیلی جھیل۔۔۔۔ اور جھیل کے پار ملکہ پربت۔۔۔۔ کئی لوگ جہاں جھیل کا پاٹ کم ہے اسے عبور کر کے دوسرے پار اتر جاتے ہیں۔۔۔ ہم بھی گئے۔۔۔۔ یخ ٹھنڈا پانی، انتہائی تیز، شفاف۔۔۔ پاؤں رکھیں تو گویا پاؤں چیرے گئے ہیں۔ ٹانگیں تک سن ہو جاتی ہیں۔ بچے پانی کی روانی دیکھ کر جوش سے چیخنے لگے۔۔۔ زینی، گیتی بضد تھیں کہ جو بھی ہو اس پاٹ کو پیدل عبور کریں گے۔۔ لیکن میں نے انہیں ایک گھوڑا لے دیا۔ دونوں گھوڑے پر بیٹھ گئے۔ جبکہ ہم دونوں نے پیدل ہی پاٹ عبور کیا۔۔۔۔ ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈالے تو اسکی تاثیر دماغ تک پہنچ گئی۔۔۔ چھوٹا سا پاٹ عبور ہی نہیں ہو رہا تھا۔ لگ رہا تھا کہ کتنا ہی زمانہ ہو گیا اس دریا کو عبور کرتے۔۔۔۔۔ کنارے پر پہنچے تو ملکہ پربت اور بھی قریب آ چکی تھی۔ اس نے اپنی ساری خوبصورتی ہم پہ عیاں کر دی۔ کچھ بھی چھپا کر نہ رکھا۔۔۔۔۔ جھیل سیف الملوک واقعی ایک شہزادی جھیل ہے۔۔۔

image

 ہمیں اب تک قطعی یقین نہیں آ رہا کہ کانوں سے جو سن رہے ہیں وہ تین بار وزیر اعظم رہنے والے میاں نوازشریف کی زبان سے نکلے الفاظ ہیں۔ جی ٹی روڑ ریلی میں ان کا ایسا لب و لہجہ اور غم سے نڈھال سرخ و سفید چہرہ ہم نے ماضی میں کبھی نہیں دیکھا اور جو باتیں وہ پنجاب ہاؤس سے نکلنے کے بعد لاہور پہنچنے تک کرتے رہے اور ان کے مستقبل کے عزائم سن کر یقیناً ان لیگی کارکنوں کی روح بھی کانپ گئی ہو گی جو میاں صاحب کے حقیقی خیر خواہ ہیں لیکن ان کے مخالفین کی خوشی بھی دیدنی ہو گی کہ نواز شریف ہمارے ایجنڈے کی تکمیل ہی کر رہے ہیں کہ ایسے بیانات سے مسلم لیگ (ن) سیاسی لحاظ سے کمزور اور سیاست سے آؤٹ ہونے کے قریب ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ میاں نوازشریف کو اس نازک صورتحال اور حالات کا ادراک نہ ہو۔ جس تیزی سے میاں نوازشریف نے سیاست کی منازل طے کی ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی لیکن جس زیرک کاروباری ذہن کے استعمال سے میاں نوازشریف ماڈل ٹاؤن سے جاتی امراء اور پھر لندن فلیٹس تک پہنچے ہیں اس کی مثال بھی نہیں ملتی۔ آج میاں صاحب جی ٹی روڈ ریلی میں سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے مجھے وزیر اعظم ہاؤس سے کیوں نکالا گیا؟ ظاہر ہے سپریم کورٹ کو لندن فلیٹس کی منی ٹریل دے دی جاتی اور جھوٹ کا سہارا نہ لیا جاتا تو آج میاں صاحب جی ٹی روڈ پر نہیں وزیر اعظم ہاؤس میں ہی ہوتے۔
جس طرح ہر گزرتے دن کیساتھ انسان کی زندگی گھٹتی ہے بالکل اسی طرح عروج کے بعد زوال کا سفر بھی شروع ہوتا ہے لیکن انسان نہ تو گھٹتی زندگی کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی ذہنی طور پر اپنے زوال کا سفر مانتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ذہن دل کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور انسان بہار کے موسم میں صحرا میں بھٹکنے لگتا ہے۔ پاکستان کے عوام نے جتنی مرتبہ نواز شریف پر 5 سال کے لئے اعتماد کیا، وہ ہر بار اپنی ضد، جھوٹی انا اور اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کی وجہ سے وزیر اعظم ہاؤس سے نکالے گئے۔ ہاں یہ بھی درست ہے کہ دو تہائی اکثریت لے کر ریاست پر راج کرنے والے کو سڑک پر لاکھڑا کیا جائے تو یقیناً اسے بہت بڑا صدمہ پہنچتا ہے اور یہ قدرتی امر ہے کہ انسان کو جب ناقابل برداشت حد تک دھچکا لگے تو اس وقت خاندان اور ساتھیوں کی طرف سے بھی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی ہو تو تکلیف مزید بڑھ جاتی ہے اور وہ ویسی ہی ’’باغیانہ‘‘ گفتگو شروع کر دیتا ہے جیسی آج کل میاں صاحب کر رہے ہیں کیونکہ وہ ابھی تک وزارت عظمیٰ چھن جانے کے صدمے سے باہر نہیں نکل پائے اور نہ ہی وہ اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ ذہنی طور پر قبول کرنے کو تیار ہیں۔ وہ اور انکے نااہل مشیر یہ سمجھتے تھے کہ ماڈل ٹاؤن سانحہ، دھرنوں اور ڈان لیکس جیسے مشکل معاملات سے وہ نکل سکتے ہیں تو پاناما چیز ہی کوئی نہیں مگر یہی پاناما کیس ان کے گلے پڑ گیا۔ اس میں غلطی یا سازش کسی ادارے کی نہیں بلکہ یہ اللہ کی طرف سے کھینچی گئی رسی ہے جسے مسلسل ڈھیل دی جا رہی تھی مگر شاید میاں صاحب نے نظام قدرت کے برعکس اپنے ذہن پر دو تہائی اکثریت کو مسلط کیے رکھا۔ شاید وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ عوام کے شعور میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا واضح ثبوت تحریک انصاف کی پذیرائی ہے۔ جس میں وہ لوگ شامل ہیں جو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مفاہمتی پالیسیوں سے متنفر ہیں مگر یہ دونوں جماعتیں حالات کی تبدیلی کو سمجھنے اور سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں۔ نواز شریف ریلی کے ہر خطاب میں حکومتی اداروں سے سوال کرتے نظر آتے ہیں لیکن عوام بھی میاں نواز شریف سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آپ نے عوام کو چار سال میں کیا ڈلیور کیا؟ اشیائے ضروریہ، جانی و مالی تحفظ فراہم کرنا تو آپ اور آپ سے پہلے اقتدار کے مزے لینے والوں کا بنیادی فرض تھا ہی، جو آپ سے پورا ہوا نہ ہی اُن سے جو پہلے تھے، اس کے سوا بتائیں کہ آپ نے عوام کو دیا کیا ہے جو وہ آپ پر مر مٹیں۔ پیپلز پارٹی والے تو ان دنوں اپنا بویا کاٹ ہی رہے ہیں اور آپ کے حالات بھی کچھ ایسے ہی نظر آ رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے اور بینظیر بھٹو کو شہید کرنے کے مواقع پر جو سخت عوامی ردعمل تواتر کے ساتھ سامنے آیا۔ ایسا آپ کا اقتدار ختم ہونے پر نہیں ہوا کیونکہ بھٹو خاندان میں کچھ تو ایسا تھا جو عوام خود سڑکوں پر نکلے۔ کچھ تو کمی آپ میں ہے جو آپ عوام کو منت سماجت سے جی ٹی روڈ پر لانے کی کوششیں کرتے رہے۔ 
محترم میاں صاحب! آپ جی ٹی روڈ کی ریلی میں ووٹ کے تقدس کی بات تو کرتے ہیں لیکن کیا عوام کو بتائیں گے کہ ووٹ کے تقدس اور پرچی سے بننے والی بینظیر بھٹو کی حکومتوں کے خلاف سازشوں کا حصہ آپ کیوں بنتے رہے؟ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے حامی کیوں رہے؟ عاشق رسول ؐ غازی علم دین شہید کو تو انگریزوں نے پھانسی پر لٹکایا، ممتاز قادری سے آپ کی عداوت کیا تھی؟ مشرقی بالخصوص پاکستانی روایات کے خلاف اقدامات کیوں کیے؟ سفید پوش عوام سے جینے کا حق کیوں چھینا؟ پاک فوج کے خلاف محاذ آرائی کس کے کہنے پر اور کیوں کی؟ ماڈل ٹاؤن میں 14لاشیں گریں، ورثا کو اب تک انصاف کیوں نہیں دیا؟ اپنی ملوں میں ’’را‘‘ کے ایجنٹ کیوں لائے؟ جی روڈ ریلی میں آپ جج صاحبان کی جس طرح سے تضیحک کر رہے ہیں یہ کس کے ایجنڈے کی تکمیل ہے؟ آپ سے پوچھنے کیلئے عوام کے پاس سوالات کی فہرست بہت طویل ہے مگر آپ کے پاس ان کے جواب نہیں ہوں گے کیونکہ فی الحال آپ وزارت عظمیٰ چلے جانے کے صدمے سے باہر نکل نہیں پائے۔ دوسرا صدمہ آپ کی پارٹی کے اندر آپ ہی کی پالیسیوں کیخلاف وجود میں آنے والا دھڑا ہے جو جی ٹی روڈ یاترا میں آپ کے ساتھ نہیں تھا۔ تیسرا صدمہ آپ کے خاندان کے اندر اختلافات کا ہے جو ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ چوتھا بڑا صدمہ نیب میں سپریم کورٹ کے حکم پر بھیجے گئے وہ کیس ہیں جن میں بچنا ممکن نہیں اور پانچواں بڑا صدمہ وہ سب مال و زر چھن جانے کا خوف ہے جو آپ نے اندرون و بیرون ملک جمع کر رکھا ہے۔ 
 انسان خطا کا پتلا ہے لیکن آپ کی سب سے بڑی غلطی ابھی تک آواز خلق کو نقارہ خدا نہ سمجھنا ہے، آپ نے عوام کو فکر معاش سے آزاد کیا ہوتا، ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے قرضوں سے نجات دلائی ہوتی تو جس طرح ترکی میں لوگ ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے تھے آپ کا اقتدار ختم ہونے پر بھی پورا ملک سڑکوں پر اُمڈ آتا لیکن اس کے برعکس ایسا کچھ نہیں ہوا، آپ کی ریلی کو کامیاب بنانے کیلئے جس طرح سرکاری ملازمین کی جی ٹی روڈ پر حاضریاں لگائی گئیں، کھیت کھلیان میں کام کرنیوالے کسانوں اور مزدوروں کو بریانی کے ڈبے اور خرچہ دے کر سڑکوں پر لایا گیا، پولیس ملازمین کو سفید کپڑے پہنا کر بازوؤں پر پٹیاں باندھ کر مبینہ طور پر افواج پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف نکالی گئی ریلی میں استعمال کیا گیا؟ یہ آپ کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس بار آپ نے بینظیر بھٹو شہید یا عمران خان کے خلاف محاذ نہیں کھولا بلکہ اس دفعہ آپ کا ہدف پاک فوج اور اعلیٰ عدلیہ ہیں لیکن عوام ان دونوں اداروں کے خلاف آپ کی ’’بغاوت‘‘ کا حصہ بننے والے نہیں ویسے بھی پاک فوج نے ماضی کے ڈکٹیٹروں کی غلطیوں سے سیکھ کر اور دہشت گردی کے عفریت سے ملک کو بچا کر قوم کے سامنے اپنا مقام مزید بلند کر دیا ہے اور عدلیہ نے بھی اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ مفاد پرست ٹولہ ہر ایک کی قیمت لگا کر اُسے خرید سکتا ہے، اب آپ بھی مان لیں کہ ہر مال بکاؤ نہیں ہوتا۔ لہٰذا جیسے کو تیسا، عروج کو زوال اور جیسی کرنی ویسی بھرنی جیسی مثالیں نہ بھولیں۔

image