27 مئی 2018
تازہ ترین
کا لم

 مغربی ممالک میں عام طور پر لیڈر انتخابات جیت کر حلف اٹھانے کے بعد اپنی حکومت کے سو روزہ پروگرام کا اعلان کرتے ہیں مگر عمران خان نے الیکشن شیڈول کے اعلان سے بھی پہلے اپنا ایجنڈا ظاہر کردیا ہے، جو درحقیقت سو روزہ پروگرام سے زیادہ پانچ سالہ پلان اور جامع انتخابی منشور ہے۔ عمران نے گیارہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا اور اب منتخب ہونے کی صورت میں انہوں نے پہلے سو دن کے لیے اپنی حکومت کا جامع منصوبہ پیش کیا۔ دیگر مقاصد کے علاوہ ان اقدامات کا مقصد یہ ظاہر کرنا بھی ہے کہ پی ٹی آئی انتخابات جیت رہی ہے۔ یہ دیگر سیاسی جماعتوں اور خصوصاً (ن) لیگ کے لوٹوں کو ایک پیغام ہے کہ انہیں چھوڑ دو اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائو۔ یہ آئندہ حکمران جماعت ہونے کا تاثر پھیلارہی ہے،  (ن) لیگ نے عمران کے 100 روزہ پروگرام کو وژن 2025 کا چربہ قرار دیا جب کہ پیپلز پارٹی نے شیخ چلّی کی کہانیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ 50 دن میں 100 لوٹے اکٹھے کیے۔
یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ پارٹیاں انتخابات کے موقع پر ایسی باتیں کرتی ہیں، پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں تخلیق کرنے، مینوفیکچرنگ بحال کرنے، چھوٹے اور درمیانے کاروباری شعبوں کو ترقی دینے، 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو سہولتیں فراہم کرنے، سیاحت کو فروغ دینے، ٹیکس اصلاحات کرنے، ریاستی اداروں کی درستی، توانائی کا مسئلہ حل کرنے، سی پیک کو گیم چینجر بنانے اور سرمائے تک رسائی کو آسان بنانے کا عہد کیا ہے۔ اس نے پاکستان کو ایک کاروبار دوست ملک بنانے اور سرمائے تک رسائی کو آسان بنانے کا عہد کیا، ٹیکس اصلاحات کرنے اور 50 لاکھ گھر تعمیر کرنا بھی 10 نکاتی معاشی پالیسی میں شامل ہے۔ پاکستان کے بین الاقوامی کاروبار کو بہتر کرنے کے لیے کاروباری رہنمائوں کی ایک بزنس کونسل تشکیل دی جائے گی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن، پاکستان سٹیل مِل اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے ان اداروں کو فنڈ فراہم کرنے کی خاطر ’’پاکستان ویلتھ فنڈز‘‘ بنائی جائے گی۔ 2018 کے انتخابات کے لیے 11 نکاتی پروگرام 2013 میں پیش کیے گئے ایجنڈے سے زیادہ مختلف نہیں اور یہ کے پی میں زیادہ تر نافذ نہیں ہوسکا۔ تعلیم، صحت، ٹیکس اصلاحات، کرپشن کنٹرول، معاشیات، روزگار، سیاحت، زراعت، وفاقی اور صوبائی اصلاحات، نظام انصاف اور خواتین کے حقوق، یہ وہ شعبے ہیں جن پر عمران نے خاص طور پر زور دیا۔
عام انتخابات میں قریباً دو ماہ باقی ہیں، لیکن کوئی بھی دوسری سیاسی پارٹی ابھی تک اپنا انتخابی منشور عوام کے سامنے پیش نہیں کرسکی جبکہ تحریک انصاف نے الیکشن جیتنے کی صورت میں اپنی حکومت کے پہلے سودن کے 6نکاتی پروگرام کا بھی اعلان کردیا اور اس معاملے میں اپنے سیاسی حریفوں پر سبقت حاصل کرلی۔ پروگرام کی ترجیحات میں طرز حکومت کی تبدیلی، معیشت کی بحالی، زرعی ترقی، پانی کے تحفظ، سماجی خدمات میں انقلاب اور قومی سلامتی کی ضمانت شامل ہیں۔ مجوزہ 6 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان نے دوسری اصلاحات کے علاوہ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی مملکت بنانے، موجودہ ریاستی پالیسیاں تبدیل کرنے، بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنے اور اداروں میں میرٹ لانے کا بھی وعدہ کیا اور کئی اعلانات کیے، مثلاََ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے گا۔ ایک کروڑ نئی نوکریاں دی جائیں گی۔ 60 لاکھ سستے گھر بنا کردیے جائیں گے۔ ایک ارب درخت لگائے جائیں گے۔ خارجہ پالیسی میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں اور ٹیکس کم کیے جائیں گے۔ انکم سپورٹ پروگرام کو 54لاکھ سے بڑھاکر 80 لاکھ خاندانوں تک وسیع کیا جائے گا۔ زرعی ایمرجنسی لگائی جائے گی۔ مشرقی اور مغربی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے ٹھوس کلیہ اپنایا جائے گا۔ پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کو ٹھیک کرکے دکھایا جائے گا۔ دہشت گردوں کو تنہا کردیا جائے گا، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی، عمران نے اپنے انتخابی ایجنڈے پر اقتدار ملنے کی صورت میں پہلے 100 دن میں عمل کا اعلان کیا۔ انہوں نے جن عوامی مشکلات و ضروریات کی بات کی، ان سے کسی کو انکار نہیں، البتہ 11 نکات میں سی پیک، مسئلہ کشمیر، خارجہ تعلقات جیسے موضوعات پر بات نہیں کی گئی، شاید اس کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔ 
2013ء میں بھی عمران خان نے 90 دن کا ایجنڈا دیا تھا جو 5 سال میں بھی پورا نہ ہوسکا، عمران کے 100 دن کے وژن پر لاگت سالانہ 1600 ارب کہاں سے لائیں گے؟ اس پروگرام کو قابل عمل بنانے سے قبل عمران کو پہلے پانچ سال کی کارکردگی بتانی چاہیے تھی، صرف پی ٹی آئی جانتی ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا پر پانچ سال تک حکومت کی تو کتنی نوکریاں تخلیق کی گئیں۔ نیا صوبہ بنانے پر 50 ارب روپے لگیں گے، 80 لاکھ خاندانوں کی امداد کے لیے 185 ارب روپے لاگت آئے گی، ایک کروڑ نوکریوں کے لیے 140ارب روپے لگیں گے، سالانہ 50 لاکھ گھر بنانے پر 100ارب روپے لاگت آئے گی۔ عمران خان کے پلان پر 5 سال میں 8 ٹریلین لاگت آئے گی، مجموعی خسارہ 4 سے بڑھ کر 8.9 فیصد تک پہنچ جائے گا، لہٰذا چیئرمین تحریک انصاف بتائیں کہ سالانہ 1600 ارب کہاں سے آئیں گے؟ عالمی ادارے سے قرضے نہ لینے کا اعلان کرنے والوں نے 5 سال کے دوران صرف ایک منصوبے کے لیے 41.88 بلین روپے قرضہ لیا لیکن پھر بھی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا، اگر آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف اقتدار میں آتی ہے تو پانچ سال تک روزانہ 5479 نوکریوں کی تخلیق اور 2739 گھروں کی تعمیر ہونا کئی وجوہ کے باعث ایک نامکمل کام ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے دو شعبوں میں ناممکن اور غیر حقیقی ٹارگٹس کا تعین مضحکہ خیز ہے، کیونکہ کوئی بھی حکومت اپنی پارٹی سے قطع نظر ایسا کام نہیں کرسکتی، پاکستان کو سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ پہلے سو دن کے لیے منصوبہ پیش کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے پانچ سال کے دوران تیز رفتاری کے ساتھ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا عہد کیا ہے۔ سرکاری پروجیکٹس میں تاخیر اور تعطل عام بات ہے۔ اعداد شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ سال تک کل 164370 نئی نوکریاں ہر مہینے فراہم کرنا ہوں گی اور سالانہ 20لاکھ نوکریاں تخلیق کرنا ہوں گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو ہر ماہ کل 82170 گھر تعمیر کرنے ہوں گے، ہر سال 10 لاکھ گھر بنانے ہوں گے۔ حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک میں فنڈز کی فراوانی، تکنیکی معلومات، آلات اور مطلوبہ سامان دستیاب ہوتا ہے ،تب بھی اس طرح کے بڑے کام کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ 
انتخابات زیادہ دُور نہیں، اس لیے مناسب ہوگا کہ دوسری سیاسی پارٹیاں بھی عوام کو بتائیں کہ برسراقتدار آنے کی صورت میں وہ ملک اور قوم کے لیے بہتری کے کیا منصوبے رکھتی ہیں۔ مہذب مغربی جمہوریتوں میں انتخابات شخصیات کے بجائے ایشوز پر لڑے جاتے ہیں، تھنک ٹینکس اپنی رائے دیتے ہیں کہ کس امیدوار کا پروگرام قوم کے مستقبل کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ امیدوار اپنے پروگرام پر عمل درآمد کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ پاکستان میں بھی وقت آگیا ہے کہ شخصیات سے زیادہ ایشوز کو اہمیت دی جائے اور عوام اپنی صوابدید استعمال کرکے قیادت کے لیے ان لوگوں کو چُنیں، جو ملک و قوم کی بہتری کے لیے کام کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں، ہمیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور عملی مسائل کو مدنظر رکھنا چاہیے، سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ ملک اور قوم کے حقیقی مسائل کا قابل عمل حل پیش کریں۔ محض ووٹروں کو للچانے کے لیے بلند بانگ دعوے نہ کریں، کیونکہ وہ پورے نہ ہونے سے معاشرے میں مایوسی پھیلتی ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ ہمارے آئندہ پانچ سال گزرے ہوئے پانچ برسوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوں گے اور ملک محفوظ و مستحکم ہوگا اور عوامی مسائل حل ہوں گے۔
 

image

’’بوزنے‘‘ ہیں تو ملے ہم کو ہمارا جنگل
آدمی ہیں تو مداری سے چھڑایا جائے
(عدیم ہاشمی)
کالم لکھنے ہی بیٹھا ہوں کہ بجلی چلی گئی جسے ’’لیگی فرقے‘‘ والے کب کا پورا کر چکے ہیں۔ یہ حال وفاقی دارالحکومت کا ہے۔ یہ 69 کروڑ روپے کا نیلم جہلم میں ایک میگاواٹ بناتے ہیں۔ ان سے بجلی اور ہوس پھر بھی پوری نہیں ہوتی۔ کبھی اربوں روپے تندور میں جھونک دیتے ہیں کبھی 56 نئی کمپنیاں بنا کر صفر کارکردگی پیش کرتے ہیں۔ اربوں روپے تنخواہوں، لگژری گاڑیوں اور مراعات میں ڈکار جاتے ہیں۔ میں جب لوگوں کی رائے سنتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں۔ مجھے کفن چور والا لطیفہ یاد آ جاتا ہے۔ اس کے باپ نے کہا کہ کچھ ایسا کرنا کہ مجھے لوگ اچھے لفظوںسے یاد کریں۔ باپ صرف کفن چراتا تھا بیٹے نے کفن کے ساتھ ڈنڈے کا فریضہ بھی نبھایا۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اس سے تو اس کا باپ ہی اچھا تھا، صرف کفن چراتا تھا ڈنڈے والی حرکت تو نہیںکرتا تھا۔
جہاں معاشروں میں سوچ اور موازنہ کی یہ سطح ہو وہاں پر ’’نیا پاکستان‘‘… بس اللہ رحم کرے۔
میں آج صحافیوں کے دکھوں اور تکالیف پر لکھنا چاہتا تھا۔ چند ’’اشرافی صحافیوں‘‘ کے علاوہ مظلوموں کی ایک طویل قطار ہے جو مجھ سمیت اپنے دکھوں، تکالیف کے مداوے کے بجائے گفتار کے غازی بنے ہوئے ہیں۔ اپنے لیڈروں کو دیکھتا ہوں تو ہنسی آتی ہے قومی اور صحافی لیڈروں میں کیا فرق ہے۔ لیڈر پیدا ہی خوشحال ہوتا ہے جب تک وہ لیڈر نہ بنے دھکے کھاتا ہے۔ لیڈر بن جائے تو دھکے دیتا ہے۔ صحافی تمام عمر بڑی بڑی خبریں ڈھونڈتا ہے، لاتا ہے، انہیں عوام تک پہنچاتا ہے۔ لیڈ سٹوری تخلیق کرتا ہے اور پھر ایک روز خود سنگل کالم خبر میں گم ہو جاتا ہے۔ سید تنویر عباس نقوی، سہیل ظفر اور عباس اطہر صاحب کی طرح سے۔ کیا خوب صورت لوگ تھے جو آج صرف یادوں میں زندہ ہیں۔ کسی روز اس پر بھی لکھوں گا۔
اسے پسند ہیں بہت تتلیاں جگنو
اب گیا تو پرندوں کے پر بھی لاؤں گا 
(عدیم ہاشمی)
میرے سامنے تین مختلف خبریں ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے حلوائی کی دکان پر نانا کی فاتحہ خوانی کا انتظام کیا ہوا ہے، بلکہ کر دیا ہے۔ تمام وفاقی ملازمین کو تین ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور بونس، انعام یا رشوت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔گیارہ لاکھ سے زائد اس وقت وفاقی سرکاری ملازمین ہیں اس پر محتاط تخمینہ 26 ارب روپے سے زائد کا لگایا گیا ہے جبکہ (ن) لیگ کے محبوب ٹی وی چینل پر رات 60 ارب سے زائد کے اعداد و شمار چلتے رہے۔ دوسری جانب شہبازشریف نے پنجاب میں 81 اہم ترین افسران پر انعامات کی بارش کر دی ہے لاکھوں روپے فی کس انعامات ہیں۔ جن پر میاں صاحبان کی وجہ سے انکوائریاں ہیں، وہ ذاتی وفاداران کو نہیں بھولے۔ یہ شروعات اور نابغہ روزگار آئیڈیا ماشاء اللہ سے ’’نئے پاکستان‘‘ کے معماروں کی جانب سے آیا تھا پھر عملی جامہ بھی انہوں نے پہنایا۔ انہوں نے اسے ایگزیکٹو الاؤنس کا نام دیا تھا۔ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے افسران کو لاکھوں روپے اضافی دینے کی منظوری دی گئی۔ اس کے بعد پورے ملک کی بیورو کریسی میں شور پڑ گیا، دوسری مخالف حکومتوں پر دباؤ آنا شروع ہو گیا کہ آپ بھی حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ کیوں نہیں کراتے۔ آپ کی اپنی جیب سے کیا جائے گا۔ یہ ٹیکسوں کے پیسے عوام پر خر چ کرنے کیلئے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کراچی میں کارساز والے گھر میں صبح اپنے بیڈ روم سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے اے ڈی سی حامد خان کو کہا کہــ’’ بیٹا رات نیند نہیں آئی، اے سی کام نہیں کر رہا اس کی مرمت کرا دو۔‘‘ یہ واقعہ مجھے حامد خان صاحب نے خود سنایا۔ حامد خان کہتے ہیں کہ میں ہدایات جاری کر کے آ گیا۔ اگلی بار جب ہم کراچی گئے تو وزیراعظم جونیجو نے کہا کہ’’ حامد بیٹا رات تو کمال ہو گیا کیا خوب نیند آئی۔ ایئرکنڈیشنڈ نے تو کمال ٹھنڈک کی‘‘، ساتھ ہی کہا کہ’’ مرمت کا بل لے آؤ اور مجھ سے پیسے لے لو‘‘۔ حامد خان واپس آئے تو انہوں نے وزیراعظم کو کہا کہ جناب ایک گڑبڑ ہو گئی ہے۔ اے سی کی مرمت نہیں ہوئی بلکہ نیا ’’اسپلٹ یونٹ‘‘ لگا دیا گیا ہے اس پر محمد خان جونیجو نے کہا کہ  ’’بابا میں تو اتنا مہنگا یونٹ افورڈ نہیں کر سکتا‘‘۔ حامد خان پھر گویا ہوئے، ایک اور گڑبڑ بھی ہوئی ہے۔ پی ڈبلیو ڈی والوں نے اسپلٹ یونٹ عباسی شہید ہسپتال سے اتار کر یہاں لگایا ہے، محمد خان جونیجو طیش میں آ گئے انہوں نے پی ڈبلیو ڈی کے ڈی جی کو سروس سے برخاست کر دیا۔ پیر پگارو نے محمد خان جونیجو کو ڈی جی بحال کرنے کی سفارش کی لیکن جونیجو نے منع کر دیا۔ پیر پگارو پہلی بار جونیجو سے اس مسئلہ پر ناراض ہوئے تھے۔ ضیاء الحق کو مداخلت کرنا پڑی انہوں نے حامد خان کو کہا کہ بیٹا اس کا مطلب ہے تمہارے صاحب آدمی ٹھیک ہیں۔ بعدازاں محمد خان جونیجو اس بات پر بمشکل راضی ہوئے کہ یہ ڈی جی اب کبھی سندھ نہیں آئے گا، وہ ہمیشہ کے لیے صوبہ سرحد بھیج دیا گیا۔یہاں محمد خان جونیجو کے حوالے سے ایک اور حقیقت بتاتا چلوں کہ جب تک وہ وزیراعظم رہے ان کے گھر کا کوئی فرد وزیراعظم ہائوس میں نہیں آیا جبکہ یہاں پر کیا حال ہے۔ جاتی امرا کی تزین و آرائش سرکاری خرچ پر ہوتی ہے کیونکہ وہ وزیراعظم ہاؤس ڈکلیئر ہو جاتا ہے۔ بلاول ہاؤس صدارتی گھر ڈکلیئر ہو جاتا ہے۔ جاتی عمرہ پر ساڑھے تین سو ایلیٹ فورس کے اہلکار سکیورٹی کیلئے کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ ابھی پانچ ہزار سے زائد پولیس والے گارڈز کی ڈیوٹیوں سے واپس آئے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ حکم نہ دیتی تو کس نے واپس آنا تھا۔ سرکاری ملازم تنخواہ سرکار سے لیتے ہیں کام اپنے صاحبوں کے کرتے ہیں۔ ایک طرف محمد خان جونیجو جیسے وزیراعظم تھے ایک طرف خاقان عباسی، شہباز شریف اور پرویز خٹک جیسے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ ہیں۔ یہ سب حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ کرا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرکاری ملازم ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، یہ سرکار کی آنکھیں ہیں، ہاتھ ہیں۔ ان کو پانچ سال آپ اپاہج رکھتے ہیں بلکہ 1980ء کے بعد سے 38 سال ہو گئے ہیں۔ ضروریات، مہنگائی اور تنخواہ کا توازن ہی بگڑ گیا ہے۔ آپ نے اگر تبدیلی لانی ہے تو ان کے بنیادی سٹرکچر میں لیکر آئیں۔
 اسلام آباد کے مین سیکٹرز میں گھر جس کے تین بیڈ روم ہوں، میرا مطلب ہے پورشن ستر ہزار روپے سے کم نہیں ملتا، آپ اس کو ہاؤس رینٹ یا سیلننگ کیا دے رہے ہو۔ بچوں کی پڑھائی، علاج معالجہ، سواری کیلئے کیا ہے کچھ نہیں ہے۔ اگر وہ سرکاری ملازم این ایچ اے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، قومی اسمبلی یا سینیٹ میں چلا جائے تو تنخواہ اور مراعات ڈبل ہو جاتی ہیں، بھائی آخر کیوں؟ کیا اس میں سرخاب کے پر لگ جاتے ہیں۔ سیکرٹری مواصلات اور سیکرٹری پٹرولیم جس کے نیچے امیر ترین محکمے ہیں، اس کی اپنی تنخواہ کیا ہے۔ اس کے ماتحت کی تنخواہیں ساٹھ لاکھ تک ہیں۔ ایک کروڑ تک ہیں یہ تفاوت کیوں ہے۔ پھر لوگ سفارش کرا کر رشوتیں دے کر خوشحالی کیلئے ان محکموں میں جاتے ہیں، پھر وہاں وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ جائز سمجھتے ہیں۔
آپ کو تو یہ کام پہلے دن سے کرنا چاہیے تھا ۔بجٹ میں تو آپ تنخواہوں میں صرف ایڈہاک ریلیف دیتے ہیں 15فیصد بنیادی تنخواہ کا ٹھپہ آپ سب نے پکڑ رکھا ہے، اسے لگا دیتے ہیں۔ اب الیکشن قریب آیا ہے تو آپ کو سرکاری ملازم یاد آ گئے ہیں۔ آپ لوگوں نے پورا سسٹم تباہ کر دیا ہے۔ بادشاہ سلامت کے بیربل فواد حسن فواد کی خوشنودی کے بغیر آپ ترقی اور پوسٹنگ لیکر دکھا دیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خواجہ سرا بنا دیا گیا ہے جس نے بیورو کریسی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے ان کی نگرانی ان کی تربیت ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہوتا ہے۔ ان میں سے اعلیٰ منتظم اور اعلیٰ لوگ اوپر لیکر آنا ہوتے ہیں۔ ان کی فلاح کیلئے  بناویلینٹ فنڈ سے لیکر اور دوسرے ادارے تشکیل دینا ہوتے ہیں مگر اس اینڈ پر کچھ نہیں ہے۔ ایک ڈاکخانہ ہے اور بس، اور اس ڈاکخانہ پر بھی ایک مافیا کا قبضہ ہے۔ سیکرٹریٹ گروپ سے البتہ وہاں چند مشقتی بھی ہیں، خاقان عباسی ہوں کہ شہبازشریف یا پرویز خٹک انہوں نے سرکاری خزانہ سے الاؤنسز کی جو امتیازی مہم شروع کی ہے یہ انتہائی قبیح ہے۔ ناانصافی پر مبنی ہے لوگوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔ باقی چیزوں کو چھوڑیں کیا 22 کروڑ  لوگوں کو پینے کا صاف پانی مل گیا ہے، بلکہ پانی مل گیا ہے۔ یہ بنیادی ضرورت اور حق ہے میں تعلیم، علاج، روزگار اور حق زندگی کی بات نہیں کر رہا جو بنیادی حقوق ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اور دوسری عدالتیں بنیادی حقوق کی محافظ ہیں، میرا بنیادی حقوق کے محافظ معزز جج صاحبان سے سوال ہے کہ وہ ایسے حالات میں ’’عباسی پیکیج‘‘ سے مستفید ہوں گے کیونکہ آپ کی تنخواہ بھی وفاقی خزانے سے بذریعہ اےجی پی آر آتی ہے اور آپ بھی ایک طرح سے وفاقی ملازمین کی تعریف میں آتے ہیں۔
ہم ایک لاکھ تھے ہم نے تو سر جھکا ڈالے
حسینؒ تیرے بہتر سروں پہ لاکھ سلام
(عدیم ہاشمی)
 

image

تبدیلی کا نعرہ خوش کن ہو سکتا تھا اگر اسے لگانے والے کا اپنا کردار کوئی قابل رشک اور اس کی زنبیل میں واقعتاً انسانی دکھوں کا علاج ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہاں نعرہ لگانے والے ’’مفاداتی کلب‘‘ کے ممبر ہیں جن کے مفاد اسی مکروہ نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی تبدیلی کا راستہ روک رہے ہیں جنہیں ہٹائے بغیر تبدیلی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ سوال تبدیلی اور ارتقا کا نہیں۔ سوال استحکام اور بقا کا ہے۔ اسی سوال پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ سوال کیا ہے؟ اصل سوال تبدیلی اور ارتقا کا نہیں، بھوک اور محرومی کا ہے۔ اصل سوال اپنے جھگڑوں سے اس طرح نمٹنے کا ہے کہ انسانی جان ارزاں نہ ہو، اس کا مال اور وسائل ختم نہ ہوں، اس کا گھر نہ لٹے، اس کی عزت کا سودا نہ ہو، اس کی نسل معدوم نہ ہو۔ سوال انسانی اطمینان اور خوشی کا ہے، اس کی ضروریات کے پورے ہونے کا ہے۔ آج ہم انسان کی ایسی بنیادی ضرورت(پانی)، جس کے بغیر انسان زندہ رہنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا، پر بات کریں گے جو ہماری سیاسی جماعتوں کے منشور میں کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔
خان صاحب نے بمع اپنے جملہ احباب و کارکنان اور ’’کمک‘‘ کے ساتھ جتنے دھرنے اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے دیے ہیں، ان میں سے آدھے وقت کے لیے بھی ایک ہی دھرنا اس ملک کے ’’دیرینہ اور موذی‘‘ امراض جن میں ایک بہت ہی اہم مسئلہ پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے دے دیتے تو آج خان صاحب کو لوٹے اکٹھے کرنے کی جگ ہنسائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ چلیں اب بھی وقت نہیں گزرا اب بھی وہ اس اہم مسئلے کو اپنے منشور کا حصہ بنا لیں تو شاید عوام ان کی خواہش کو پورا کرنے میں معاون بن ہی جائیں۔
بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ زمین کا دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے لیکن اس کا صرف تین فیصد حصہ پینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب پینے کے پانی کی قلت میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں دو ارب لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق لاہور اور لاہور کے نواح میں قائم 90 فیصد فیکٹریاں اپنا صنعتی فضلہ باقاعدہ طور پر ٹھکانے لگانے کے بجائے کھلے نالوں میں پھینک دیتی ہیں، جس سے پینے کا پانی زہریلا ہو رہا ہے۔
 مقامی میڈیا نے ایک دہائی قبل پہلی مرتبہ ایک گاؤں میں زہریلے پانی کے مسئلے کو اجاگر کیا تھا، تاہم دس برس سے زائد عرصہ بیت جانے کے باوجود حکومتی عہدیدار اور پانی سے متعلق ماہرین اس علاقے کے دورے تو کرتے رہے، تاہم کوئی خاطر خواہ حل سامنے نہیں آیا۔ اس علاقے میں بہت سے نئے کنوئیں تو کھودے گئے ہیں تاہم ان سے حاصل ہونے والا پانی اور زیادہ آرسینک کا حامل ہے۔ اس دوران اس علاقے کے رہائشی ایک بھاری قیمت چکا چکے ہیں۔ 
سماجی کارکنوں کے مطابق 2000ء سے اب تک اس گاؤں کے تقریباً دو سو بچے ہڈیوں اور دانتوں کی کمزوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس عرصہ میں یہ افراد بالغ ہو چکے ہیں، تاہم گھر تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کی ہڈیاں گلی ہوئی ہیں۔ ان بچوں کی دونوں ٹانگوں کی لمبائی میں نمایاں فرق ہے اور دانت انتہائی پیلے اور کم زور ہیں، جب کہ انہیں چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ یہ صرف ایک گاوں کا قصہ نہیں، یہ کہانی بڑی دلدوز ہے۔
زہریلا پانی، پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے ہزاروں شہری پاکستان میں انتہائی آلودہ پانی کے استعمال پر مجبور ہیں اور ان کے سبب لاحق ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ بمشکل 15 دن کی ایک بچی کنزہ، اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں ڈائریا اور خون میں انفیکشن کی وجہ سے داخل رہی ہے۔ اس ننھی سی بچی کا شمار ان ہزاروں افراد میں ہوتا ہے جو آلودہ پانی کے استعمال کے باعث بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔
 اسلام آباد کے قریب میں بہتی جس ندی کا پانی لوگ پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ گندگی سے بھرپور ہے اور صرف اس پانی کو ابالنے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں دو تہائی گھروں میں آلودہ پانی پیا جاتا ہے جس کے باعث سالانہ 53 ہزار بچے ڈائریا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
 ملک میں ٹائیفائیڈ، ہیضے، اسہال اور ہیپاٹائٹس کی بیماریاں قابو سے باہر ہیں۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں بیماریوں سے ہونے والی 30 سے 40 فیصد اموات، آلودہ پانی کے باعث پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس ملک میں جہاں ماحولیات کو سیاسی ایجنڈے میں ہی شامل نہیں کیا جاتا وہاں اس آلودہ پانی کی ٹریٹمنٹ کے پلانٹ نہ ہونے کے برابر ہیں، جو لوگ بازاروں سے پانی کی بوتل خریدنے کی سکت رکھتے ہیں وہ تو خرید رہے ہیں لیکن جو یہ سکت نہیں رکھتے، ان کا کیا ہو گا؟
صرف پنجاب ہی نہی بلکہ سندھ خصوصاً کراچی میں بھی آلودہ پانی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے دونوں صوبوں میں چند اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاہم یہ کوششیں کس حد تک اثر انداز ہو سکیں گی، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
 ’’سائنس جرنل‘‘ میں شائع ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں زیر زمین پانی میں زہریلے مادے سنکھیا کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ پائی گئی ہے۔ ملک میں قریب پانچ کروڑ افراد یہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ سائنسی تحقیقی اداروں نے ایک جامع منصوبے کے تحت تحقیقات کے بعد پہلی بار یہ پتا لگایا ہے کہ پاکستان بھر میں زیر زمین پانی میں آرسینک کہاں کہاں شامل ہے۔ اس سے قبل کیے گئے کچھ تحقیقی مطالعوں میں پاکستان کے صرف چند ہی علاقوں میں آرسینک کے پانی میں تناسب کے حوالے سے تجربات کیے گئے تھے۔
 محققین کا کہنا ہے کہ آرسینک یا سنکھیا سے آلودہ پانی کے استعمال سے انسانی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے دوران پاکستان کے بارہ سو مختلف مقامات سے زیر زمیں پانی کے نمونے جمع کیے گئے۔ ان نمونوں کی جانچ سے پتا چلا ہے کہ پاکستان بھر میں پانی میں سنکھیا کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے مشرقی حصوں خصوصاً لاہور اور اس کے علاوہ سندھ میں حیدرآباد کے زیر زمین پینے کے پانی میں سنکھیا کی مقدار زیادہ ہے۔
 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دریائے سندھ کے قریبی گنجان آباد میدانی علاقوں میں آرسینک کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائن میں بیان کی گئی دس مائیکرو گرام فی لٹر کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ بیشتر پاکستانی علاقوں بالخصوص جنوبی علاقہ جات کے زیر زمین پانی میں آرسینک کی مقدار دو سو مائیکرو گرام فی لٹر تک پائی گئی ہے، جو ایک خطرناک امر ہے۔ سائنسی تحقیقی رسالے کے مطابق پاکستان میں تقریباً پانچ سے چھ کروڑ افراد سنکھیا ملے اس زہریلے پانی کو پینے پر مجبور ہیں۔ 
پاکستان میں زیر زمین پانی میں شامل سنکھیا یا آرسینک کی مقدار پچاس مائیکرو گرام ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسے دس مائیکرو گرام فی لِٹر ہونا چاہیے۔ رپورٹ کے مرکزی مصنف اور آبی سائنس اور ٹیکنالوجی کے سوئس فیڈرل انسٹیٹیوٹ کے سربراہ جول پڈورسکی کی تحقیق کے مطابق وادی سندھ میں تمام کنوؤں کے پانی کی پڑتال کی ضرورت ہے، جبکہ حالیہ نتائج بہت پریشان کن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سنکھیا ملے اس پانی کے طویل عرصے تک استعمال سے پھیپھڑوں کی کینسر، دل کے امراض اور جلدی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
 سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ پاکستان میں زیر زمین پانی میں سنکھیا کی مقدار کیوں بڑھ رہی ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ کاشت کاری کے لیے پانی کا زیادہ استعمال ہے جس سے زیر زمین سنکھیا میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ محققین کی رائے میں اس حوالے سے پاکستان میں نئے کاشتکاری کے اصولوں کو اپنانا ہو گا تاکہ زہریلے مادوں کے زیر زمین جذب ہونے کے باعث زہریلے مادوں کو پانی میں شامل ہونے سے روکا جا سکے۔ سوال تو موجود ہے مگر اس سوال جواب کون دے گا؟
 

image

ملائیشیا پاکستان سے 10برس بعد یعنی 31اگست 1957 ءکو برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرنے والاملک ہے ،جوچھوٹی چھوٹی بادشاہتوں یعنی ( States  Princely ) پر مشتمل 13ریاستوں کا وفاق ہے، 1961ء میں یہ ملایا سے ملائیشیا بن گیا۔یہاں کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر ڈاکٹر مہاتیر بن محمد جیسا محب وطن اور محسن وزیر اعظم عطا فرمایا۔
10 مئی 2018ء کو ایک بار وہ پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے ہیں ، ڈاکٹر مہاتیر محمد 10 جولائی 1925کو ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ  زمانہ تھا جب ملائیشیا پر برطانوی راج بری طرح اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھا۔کچھ عرصہ بعد ملائیشیا پر جاپان نے قبضہ جمایا اور ظلم کی نئی داستان رقم کی۔ مہاتیر محمد اپنی قوم کی حالت دیکھتے تو بہت افسردہ ہوتے، کڑھتے اور ظالم قوم سے آزادی کی جدوجہد کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ، یہی وجہ ہے کہ ملائی قوم نے جب تحریک آزادی شروع کی تو وہ اس تحریک کا ہراول دستہ بن کر آگے آگے رہے ، گلی گلی ظالم قوم کے خلاف انقلاب انگیز تقاریر کرتے ، تحریک اپنا سفر طے کرتی رہی اور قربانیوں کے بعد بالآخر 1951ء میں ملائیشیا  ایک آزاد ملک بن گیا انہی ایام میں مہاتیر بن محمد بھی ایک کامیاب فزیشن ڈاکٹر  بن گئے۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا ، سیاسی اتار چڑھائو آتے رہے ، عوام کی خدمت ان کا جنون تھا ،یہی جنون انہیں ایوان سلطنت تک لے آیا ، وہ 1964ء کو 39 سال کی عمر میں پہلی بار رکن پارلیمنٹ بنے۔1974ء میں مہاتیر محمد دوبارہ رکن پارلیمنٹ بنے اور تعلیم کی وزارت انہیں سونپی گئی۔ 4 سال کے اندر ہی مہاتیر محمد سب کو پیچھے دھکیل کر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بن گئے ،بے لوث عوام دوستی اور سیاسی تدبر کی بدولت 1981ء میں پہلی بار مہاتیر محمد وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس دور میں مہاتیر محمد نے ملائیشیا کو جاپان کی طرز پر صنعتی ملک میں ڈھالا۔ یہ عالمی سطح پرانتہائی مشکل معاشی دور تھا۔ معاشی بحران کی وجہ سے تیل کی قیمتیں اور شرح سود بلند ترین سطح پر تھی۔ مہاتیر محمد نے اقتدار سنبھالنے کے بعد معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا، ریاست کی ملکیت اداروں پر نگرانی بڑھائی ، صنعتی ترقی خوب ہوئی۔ مہاتیر محمد کی حکومت کا دوسرا معاشی دور 1986ء سے 1997ء پر محیط ہے۔ اس دور میں ایک بار پھر اکنامک لبرلائزیشن کی پالیسی اپنائی گئی۔ جزوی نجکاری ہوئی اور محدود شعبوں میں اقتصادی اور ثقافتی ڈی ریگولیشن کی اجازت دی گئی۔ انڈسٹریل کوآرڈینیشن ایکٹ 1986ء کی وجہ سے برآمدی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے کا رجحان پیدا ہوا۔ سرمایہ کاری کے نئے قوانین سے ویلیو ایڈڈ انڈسٹری نے فروغ پایا، ملک میں ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن ہوئی۔
1985ء میں G-7 ممالک نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قیمت بڑھانے پر اتفاق کیا جس سے ملائیشیا کے قرضے دوگنا ہوگئے۔ ملائیشیا کے مرکزی بینک نے اس کے جواب میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں رنگٹ کی قیمت کم کردی۔ زر کی قدر میں اس کمی سے ملائیشین معیشت کو کچھ سہارا ملا۔ جاپانی ین کی قیمت میں اضافے سے جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا کی صنعتیں چین اور جنوب مشرقی ایشیاء کی طرف منتقل ہوئیں اور ملائیشیا کو بھی اس سے فائدہ ہوا اور صنعت کاروں نے وہاں کا رخ کیا۔1997ء میں جنوب مشرقی ایشیا کے معاشی بحران نے ایک بار پھر براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری اور تیزی سے ترقی کرتی معیشت کو نقصان پہنچایا۔جس کے ملائیشیا پر برے اثرات مرتب ہوئے ان مشکلات کے حل کے لیے ایک بار پھر معاشی آزادی کی پالیسی اپنائی گئی اور اسٹاک مارکیٹ کے فروغ پر توجہ دی گئی۔ لیکن ایک بار پھر شدید معاشی بحران پیدا ہوا  اورکوالالمپور اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کھینچ لیا۔ نومبر 1997ء میں صرف 3 دن کے اندر کوالالمپور اسٹاک مارکیٹ سے 70 ارب ملائیشین رنگٹ نکل گئے۔ اسی معاشی بحران نے مہاتیر محمد اور ان کے نائب وزیرِاعظم کی راہیں جدا جدا کر دیں۔انہوں نے ملک سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کردیا، لوگ رشوت کے بغیر کام کرانے لگے۔ ترقی پذیر ملائیشیا کی ترقی کو پہیے لگ گئے۔2003 میں ڈاکٹر مہاتیر نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی مگر ان کے جانے کےبعد ملائیشیا کے حالات مایوس کن سطح تک پہنچ گئے۔ ملک میں دوبارہ کرپشن آگئی۔ کرپشن کے چرچے عام ہوئے تو صرف دوسال پہلے مہاتیر محمد نے نئی سیاسی جماعت بنائی، جس نے
 موجودہ انتخابات میں پارلیمنٹ کی 222 سے 120 نشستیں جیتیں اور وہ وزیراعظم بن گئے۔
 ڈاکٹر مہاتیر محمد کی کتاب کا اردو ترجمہ ’’ایشیا کا مقدمہ‘‘ شائع ہوچکا ہے ، جس میں ان کے منشور کے گیارہ نکات، ملائی عوام کے مسائل کا حل، عالمی معیشتوں کا تصادم، اْبھرتا ایشیا اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان گیارہ نکاتی فارمولے میں کرپشن کا خاتمہ ، احتسابی عمل کی مضبوطی ، عوام دوستی ، اندرونی خلفشار بالخصوص قومی و علاقائی اور نسلی تعصبات کا خاتمہ ، ٹیکنالوجی میں ترقی اور ایک خوش حال سوسائٹی کا قیام، جس کی معیشت ہر اعتبار سے مضبوط ہو، تاکہ وہ عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرسکے،شامل ہے۔ 92 سالہ دنیا کے تمام ممالک میں سب سے معمر ترین سربراہ مملکت کا اعزاز حاصل کرنے والے ڈاکٹر مہاتیر محمد کو ملائیشیا کے عوام نے ایک بار پھر منتخب کر کے ملائیشیا کو مضبوط معاشی و سماجی بنیادوں پر کھڑا کر دیا ہے ، جس پر وہ صد مبارکباد کے مستحق ہیں اور ڈاکٹر مہاتیر محمد بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جن کے حصے میں ایک بار پھر عوام کی خدمت جیسی عبادت آئی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی کامیابی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے عوام اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتے۔ اے کاش آنے والے انتخابات میں ہمارے عوام بھی کسی قابل ، ایماندار ، عوام دوست ، محب وطن اور زیرک قیادت کا انتخاب کر سکیں ، تاکہ پاکستانی قوم بھی ملائیشین بھائیوں کی طرح خوشگوار زندگی کے خوابوں کی تعبیر پا سکے۔ 

image

لوگ تو انہیں وزیراعلیٰ پنجاب، سپیکر پنجاب اسمبلی، وزیر مشیر اور سیاستدان کی حیثیت سے جانتے پہچانتے تھے لیکن وہ ہمارے لیے ایک صحافی، ادیب، دانشور اور بہترین مصور تھے۔ ہمارا ان سے رابطہ پیپلزپارٹی کے اس ابتدائی دور میں ہوا تھا جب وہ ’’مساوات‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ ہمارے ذہن میں ان کی کتاب ’’دُب اکبر‘‘ تھی۔ خدائے بزرگ و برتر انہیں اپنی پناہ میں رکھے۔
ان سے بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں، بہت ساری باتیں بھی ہوتیں۔ ان سے رہنمائی بھی حاصل ہوتی۔ ان سے آخری ملاقات اس وقت ہوئی جب ہم نے ’’انسان اور کتا‘‘ لکھی تو اس کا فلیپ لکھوانے ان کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے بیماری کے باوجود کرم فرمائی کی۔ اس ملاقات کے دوران میں شکوہ بھی کیا کہ جب اقتدار و اختیار کی قربت حاصل تھی تو آپ کبھی نظر نہیں آئے تو ہم نے ان سے کہا، ایسے ادوار کچھ اور لوگوں کیلئے اہم ہوتے ہیں، ہمارا تعلق ہمارا رشتہ کچھ اور ہے۔ یہ آپ کی محبت اور شفقت ہے جو ہم کو درکار ہے وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ اس پر وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور دھیمے لہجے میں ’’انسان اورکتا‘‘ کے مکالمہ پر ہم کو داد بھی دینے لگے اور کچھ ’’املا‘‘ کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی اور کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں یہ کوئی ہماری مادری زبان نہیں۔ یہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے، جن میں محبت اور عقیدت کے ساتھ کچھ اعتراض بھی تھے، اسی کا نام تعلیم ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان میں جمہوریت مشرف بہ پرویز ہو کر پرویزی جمہوریت کہلاتی تھی، ہم نے باتوں باتوں میں کہا کہ یہ  ملک تو جمہوریت کے نام پر بنا تھا اور اس کیلئے عوام کی رائے حاصل کی گئی تھی لیکن پھر کیا ہوا کہ اس ملک میں جمہوریت کا چراغ کبھی روشن نہیں ہو سکا۔ اسے طوفانی تھپیڑوں کا ہی سامنا رہا۔ کبھی ایوبی جمہوریت تو کبھی یحییٰ خانی جمہوریت، کبھی اسلام کے نام پر ضیاء الحقی جمہوریت تو کبھی سیکولرازم کے نقاب میں لبرل جمہوریت کا دعویٰ، مگر وہ کچھ نہیں جس کو عوامی جمہوریت کہا جا سکتا ہے۔ رضیہ آخر کب تک غنڈوں میں پھنسی رہے گی؟؟ رامے صاحب حسب روایت ہماری بات کو سنتے ہوئے مسکراتے اور ہنستے رہے لیکن جب ہم نے ’’بے چاری رضیہ بی بی‘‘ کا نام لیا، وہ بے اختیار بہ آواز بلند ہنسنے لگے۔ یہ قہقہہ بھی ان کی شخصیت کی طرح دبا دبا اور محدود تھا۔ بالآخر انہوں نے کہا تھا یہ صرف دشمن کی بات نہیں ہے رضیہ کو تو اپنوں کی بھی منافقت کا سامنا ہے۔ وہ بھی تو اس کے ساتھ باوفا نہیں، ہر کوئی اس سے محبت، تعلق اور قربت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس دعوے کی پوری صداقت کسی کے پاس نہیں۔ شاید اس لیے کہ دار و رسن کو پوری سچائی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کو خود تلاش کر لیتی ہے اور پھر:
جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
والی حقیقت سامنے آتی ہے، جو آج تک زندہ ہے۔
ظاہر ہے زہر خورانی ہر کسی کا ظرف نہیں، اس کیلئے پوری سچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر کوئی ہاتھ خود پیالہ اٹھا کر ہونٹوں تک لے جاتے ہیں ورنہ مصلحت اور مفاہمت کو ہی بہترین راستہ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ دونوں طرح کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایک طرف جبر کا پہلو بھی ہے تو دوسری طرف جبر کا خوف بھی ہے لیکن دونوں کے پیچھے ایک خاص قسم کی ضرورت ہے جو ناگزیر ہے۔
کردار تو دونوں طرف ایک جیسا ہی ہے۔یہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ کل بھی یہی تھا آج بھی یہی ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گا۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ ملکیت کے جس تصور نے ملوکیت کو جنم دیا تھا اسی میں سے املاک اور ملک برآمد ہوئے تھے، اسی نے غلبہ اور تسلط کی ان خواہشوں کو جنم دیا تھا جو ہمیشہ اس جگہ غالب رہی ہیں جہاں طاقت اور اختیار بھی ہوتا ہے۔
لیکن زندہ تو وہی رہتے ہیںجو اندھیروں میں چراغ روشن کرتے ہیں۔
ہاں مگر وہ جو تاریخ پر قابض ہوتے ہیں وہ اسے اپنی سمت دے کر نصاب کا حصہ بنوا کر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ذہنوں کے ساتھ دلوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ یہی غلط فہمی ہے جو کل بھی تھی اور آج بھی ہے، شاید آئندہ بھی رہے گی۔یہ کام ہر بادشاہ کرتا ہے۔ اورنگزیب نے بھی کیا تھا اور ضیاء ء الحق نے بھی کیا، لیکن تاریخ کا سفر جاری بھی رہتا ہے اور وہ  اپنے راستے خود بناتا چلا جاتا ہے۔تاریخ کا عمل بھی بہتے ہوئے دریا کی طرح ہوتا ہے اس کے آگے بندھ نہیں بنائے جا سکتے۔البتہ ڈیم بنا کر ان کا پانی ضرورت کے مطابق محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
ایسا تو ہے مگر جب آسمان برہم ہوتا ہے تو یہ ڈیم اچھلنے اور ٹوٹنے کا خطرہ ہو تو اس کے دروازے کھولنا مجبوری بن جاتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی ایسی ہی مجبوری تھی اس لیے اس کی شکل و صورت بھی ضرورت کے مطابق تھی۔پاکستان میں سچی جمہوریت تو پھر کبھی نہیں آ سکتی۔بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔ بدقسمتی کہ ہمارے حکمران جمہوریت کو اس خطے کے مجموعی عوامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں سمجھتے اسی لیے تو ان کے ہمنوا اسے کفر قرار دیتے ہیں۔لیکن ایک بات بہرحال حتمی اور فیصلہ کن ہے شیخ صاحب، جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات دوستانہ اور خوشگوار نہیں ہوتے پاکستان میں سچی عوامی جمہوریت نہیں آ سکتی۔
دونوں کے درمیان مسئلہ کشمیر بھی تو ہے۔یہ دونوں طرف کے حکمران طبقوں کی ضرورت ہے اسی تنازع کی وجہ سے دونوں طرف ان کی سیاسی بالادستی قائم ہے اور وہ اپنی حاکمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ وہ باتیں ہیں جو بہت عرصہ کے بعد ہماری یادداشتوں میں چراغوں کی طرح روشن ہوئیں اور ہم کو اپنے ارد گرد پھیلے سیاسی اندھیروں میں سامنے آنے والے کچھ ’’بیانیے‘‘ واضح دکھائی دیے۔ ہم ان بیانیوں کے وہ حقائق جاننے کی کوشش کرنے لگے جن کے وہ مقاصد نہیں جو اس مکالمہ میں سنائی دیتے ہیں۔
 

image

کشن گنگا ڈیم کے افتتاح کے بعد ورلڈ بنک کے سامنے اس ڈیم کی تعمیر پر ظاہر کیے گئے پاکستان کے تحفظات پر بات آگے نہیں بڑھ سکی کیونکہ عالمی بنک کے حکام نے اس معاملے میں اپنے کردار کی ادائیگی کی گنجائش کو محدود قرار دے دیا ہے۔ اس معاملے میں پاکستان کے لیے امید کی کرن کس حد تک موجود ہے، اس کا اندازہ اس بات سے ہو جانا چاہیے کہ عالمی بنک کے معذرت خواہانہ رویہ کے بعد پاکستان نے اشارے کنایوں میں اس کے  حکام پر انڈین لابی کے زیر اثر ہونے کا شبہ ظاہر کر دیا ہے۔ کشن گنگا ڈیم کے حوالے سے تو شاید ہمارے لیے اب مزید کرنے کو کچھ نہیں بچا مگر اس کے باوجود ہمارے لیے ان غلطیوں کو تلاش کرنے کی گنجائش ضرور موجود ہے جن کی وجہ سے اس معاملے میں ہمارے موقف کو خواہش کے مطابق پذیرائی نہ مل سکی۔ کشن گنگا ڈیم کے معاملے میں جس بھی حکمت عملی کے تحت ہم نے جو بھی موقف پیش کیا، اس کے متعلق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ غلطی ہم میں، ہماری پالیسی یا ہمارے موقف میں نہیں بلکہ ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ کے متن میں ہے، جس کی وجہ سے ہم اپنے جائز موقف کا دفاع نہ کر سکے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب سندھ طاس معاہدے میں ایسی ترامیم ضرور ہونی چاہئیں جن سے ہمارے حصے کے پانی کے حق کو تحفظ مل سکے۔ اس سلسلے میں بعض پاکستانیوں کا تو یہاں تک اصرار ہے کہ ہمیں مکمل طور پر سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔
حیرت کی بات ہے کہ ایسے پاکستانیوں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خیالات میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ نریندر مودی نے کوئی ایک برس قبل سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہو کر بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری ہر لحاظ سے انتہا پسندانہ رویہ ہے جو پاکستان کے لیے کسی طرح بھی خود کشی سے کم نہیں تصور نہیں کیا جا سکتا، البتہ بھارت کے لیے اس طرح کا اقدام ہر طرح سے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے میں ترمیم کو بھی آنکھیں بند کر کے تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ترمیم کے معاملے پر بات آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ہر لحاظ سے غور کرنا ہو گا کہ اس میں کس حد تک بہتری اور کس حد تک مزید ابتری کے امکانات موجود ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت پانی کی تقسیم کے اہم معاملے کو اس طرح نظر انداز کیا گیا تھا کہ اس کام کے لیے کوئی علیحدہ اور خود مختار کمیشن قائم کرنے کے بجائے  اسے ضمنی طور پر سرحدوں کے تعین کے لیے مقرر کیے گئے باؤنڈری کمیشن کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ متحدہ ہندوستان میں سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملات حل کرنے کے لیے سندھ پنجاب ڈافٹ ایگریمنٹ طے ہونے کے بعد یہ بات متحدہ ہندوستان کے تمام سیاسی گروہوں کے مشاہدے اور کسی حد تک تجربے میں بھی آ چکی تھی کہ پانی کی تقسیم کے معاملات طے کرنے کے لیے برسوں پر محیط عرصہ درکار ہوتا ہے۔ متحدہ ہندوستان کے سندھ اور پنجاب صوبوں کے درمیان 1930ء کی دہائی کے وسط میں شروع ہونے والے مذاکرات 1945ء میں سندھ پنجاب ڈافٹ ایگریمنٹ طے ہونے تک جاری رہے تھے۔ پانی کی تقسیم کا یہ معاملہ ایک ہی ملک کے دو صوبوں کے درمیان تھا جس کا صرف ڈرافٹ  طے ہونے میں تقریباً دس سال کا عرصہ لگا تھا۔ اس سیاق و سباق سے یہ بات بڑی حد تک سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ پانی کی تقسیم کے معاملات کے حوالے سے جو تنازعات آزادی کے بعد سامنے آئے ان پر آزادی سے پہلے ان کی اہمیت کے مطابق توجہ نہیںدی گئی۔ افسوس کہ ماضی کی طرح اب بھی ہمارے ہاں پانی کے مسئلے پر اس کی اہمیت کے مطابق توجہ نہیں دی جا رہی۔
پاکستان میں 1951ء میں دستیاب پانی کی مقدار 5000 کیوبک میڑ فی کس تھی جو 2006ء میں 1100 کیوبک میڑ فی کس رہ گئی۔ ایک اندازے کے مطابق 2025ء تک پاکستان کی آبادی 221 ملین ہو جائے گی جس کے بعد دستیاب پانی کی مقدار کم ہو کر صرف 700  کیوبک میٹر فی کس رہ جائے گی۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ بین الاقوامی طور پر کسی ملک میں 1500 کیوبک میٹر فی کس پانی کی دستیابی کو تسلی بخش معیار تصور کیا جاتا ہے لیکن اگر دستیاب پانی 1000 کیوبک میٹر فی کس یا اس سے بھی کم رہ جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ ملک پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔
جو ملک پانی کی قلت کے دہانے پر کھڑا ہو اس ملک کے قانون ساز اداروں میں بیٹھے لوگوں کو اس مسئلے کی حساسیت کا ادراک ضرور ہونا چاہیے مگر وہ اس معاملے میں اس قدر کم فہم ہیں کہ انہوں نے بغیر کسی مناسب توجیہ کے سینیٹ سے سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کی قرارداد پاس کر لی۔ بھارت میں کسی قانون ساز ادارے کی طرف سے تو سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کی قرار داد پاس نہیں ہو سکی مگر  وہاں کے مختلف سیاستدان اور حکام اس سلسلے میں کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کے جواز کے طور پر بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 6 لاکھ ہیکٹر زمین قابل کاشت ہے جس میں سے صرف ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر زمین زیر کاشت لائی جا سکی ہے۔ باقی ماندہ 4لاکھ پچاس ہزار ہیکٹر زمین اس لیے زیر کاشت نہیں لائی جا سکتی کیونکہ اس زمین کی آبیاری کے لیے ان کے پاس پانی نہیں ہے۔ لہٰذا ان کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں نظر ثانی کرتے ہوئے ترمیم شدہ معاہدے میں پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کے پانی میں سے کشمیر کا علیحدہ حصہ مختص ہونا چاہیے تاکہ وہاںموجود تمام قابل کاشت زمین کو زیر کاشت لایا جا سکے۔ پاکستان میں وہ لوگ بھارت کے اس موقف سے یقیناً بے بہر تھے جنہوں نے مارچ 2016ء میں  سینیٹ کے اپوزیشن بنچو ں پر بیٹھ کر بغیر کسی توجیہ کے صرف پوائنٹ سکورنگ کے لیے سندھ طاس معاہدہ میں ترمیم کی قرارداد پیش کی جو حکومتی بنچوں کی مخالفت کے باجود منظور ہو گئی تھی۔ سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے بیانیے کو مد نظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاستدان پانی کی تقسیم کے معاملات سے کس قدر نابلد ہیں اور اپنی سادگی کی وجہ سے بھارت کے چنگل میں پھنسنے کے لیے کس حد تک تیار بیٹھے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کو کسی طرح بھی پاکستان کے لیے ایک مثالی معاہدہ تصور نہیں کیا جا سکتا مگر بلا سوچے سمجھے اس معاہدے سے دستبرداری یا اس میں ترمیم جیسی باتیں بھی مناسب نہیں ہیں۔ Upper riparian ہونے کے ناتے سندھ طاس معاہدے میں بھارت کے حقوق قدرتی طور پر ہماری نسبت زیادہ محفوظ ہیں۔ عین ممکن ہے کہ چپقلش کے ماحول میں بھارت ہمارے پانی کے حق میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتا رہے۔ اب یہ سوچنا چاہیے کہ سندھ طاس معاہدے میں اپنے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے ہمیں کیا حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔
 

image

پندرہ برس سیاست کی وادی سے دور رہنے کے بعد دوبارہ سیاست میں آمد اور عوام کی طرف سے بے پناہ مقبولیت ملنے کی شاید واحد مثال ملائیشیا کے مہاتیر محمد کا وزیر اعظم منتخب ہونا ہے۔ مہاتیر محمد کے وزیر اعظم بننے کے بعد سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کی بد عنوانی کا معاملہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھنے لگا۔ نجیب رزاق پر الزام تھا کہ انہوں نے 2009ء میں قائم ہونے والے ملائیشیا ڈویلپمنٹ فنڈ سے رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی تھی۔ اولین مراحل میں سرکاری اداروں نے اس الزام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نجیب رزاق کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کے جانے والے  70کروڑ ڈالر سعودی عرب کے شاہی خاندان نے ذاتی عطیہ کیے تھے۔ اس مالی بدعنوانی کا انکشاف اس وقت ہوا جب 2014ء میں یہ ادارہ اپنے قرض خواہوں کو بروقت رقم لوٹانے میں ناکام ہونا شروع ہوا اور معلوم ہو کہ یہ فنڈ 11 ارب ڈالر کے قرض کی نذر ہو چکا ہے۔
ملائیشیا کے اس مالیاتی سکینڈل کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے گئے جب سوئس پولیس نے تحقیقات کے دوران تین فن پارے اپنے قبضے میں لے لیے۔ امریکی حکام نے یہ مقدمہ درج کرایا تھا کہ ایک ارب ڈالر کے ان اثاثوں کو ضبط کیا جائے، جن کے بارے میں الزام ہے کہ یہ ملائیشیا کے سٹیٹ فنڈ ون ایم بی ڈی کی رقم سے بنائے گئے ہیں۔ یہ اثاثے فن پاروں پر مشتمل ہیں، جو ونسی نٹوین گو، کلاڈمونیٹ اور ینٹی جارجز میجیور کے بنائے ہوئے ہیں۔ نجیب رزاق کی اتحادی باریسن نیشنل 58 برس سے ملائیشیا کی آزادی کے بعد سے اقتدار  میں تھی۔ لیکن کرپشن کے الزامات نے اس کی عوامی حمایت کو واضح طور پر متاثر کیا۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے بھی اس بدعنوانی کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ نجیب رزاق نے 2009ء میں قائم ہونے والی سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کمپنی ون ایم ڈی بی کی  رقوم میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی تھی حالانکہ اس کا مقصد ملائیشیا کو ایک زیادہ آمدن والی معیشت میں تبدیل کرنا تھا۔ اس کرپشن پر نجیب رزاق کے خلاف عوامی احتجاج اس حد تک بڑھ گیا کہ اس میں لاکھوں عوام شرکت کرنے لگے۔ اس تحریک کو 1981ء سے 2003ء تک ملائیشیا کی قیادت کرنے والے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کی حمایت بھی حاصل تھی، باوجودیکہ مہاتیر نجیب رزاق کے سابق اتحادی بھی تھے۔
اس احتجاجی تحریک کے بعد جب ملائیشیا میں انتخابات منعقد کیے گئے تو حکومتی اتحاد کے خلاف اپوزیشن کے پکاتانہراپان اتحاد کی سربراہی مہاتیر محمد کے پاس تھی۔ 92 سالہ مہاتیر محمد نے پندرہ سال قبل قومی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ مگر ان کی اپنی جماعت کے وزیر اعظم نے جب کرپشن کی روش اختیار کی تو اس کے خاتمے کے لیے مہاتیر نے دوبارہ سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور ملائیشین یونائیٹڈ انڈیجنس پارٹی قائم کر لی۔ انتخابات میں مہاتیر محمد نے برسر اقتدار نجیب رزاق کے باریسن نیشنل اتحاد کو شکست دی اور دنیا کے سب سے معمر منتخب حکمران بن گئے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد مہاتیر محمد نے کہا کہ وہ کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہتے بلکہ قانون کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ باریسن نیشنل اتحاد اور اس کی بڑی جماعت یونائیٹڈ مالیز نیشنل آرگنائزیشن 1957ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملکی سیاست پر غالب اور بر سر اقتدار تھی مگر مہاتیر محمد کی صورت میں ملائیشیا کی وژن کی حامل قیادت نے ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنی بنیادی جماعت اور اس سے وابستگی کو بھی قربان کر دیا۔
مہاتیر محمد نے 10 مئی کو ملائیشیا کے ساتویں وزیر اعظم کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس سے پہلے 22 برس تک ملک کے وزیر اعظم رہنے والے مہاتیر نے اپنی اس مدت اقتدار کا آغاز بھی ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک قومی رہنما کے طور پر ہی کیا۔ انور ابراہیم، جنہیں 2015ء میں ہم جنس پرستی کے الزامات کے تحت سزائے قید سنائی گئی تھی، کے بارے میں مہاتیر نے کہا کہ ہم انور ابراہیم کی معافی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ طریق کار اختیار کریں گے یعنی ان کے لیے مکمل معافی ہو گی، جس سے ان کی سزائے قید بھی ختم ہو جائے گی۔ مہاتیر محمد نے کہا کہ وہ اپنی حکومت صرف دس وزرا کے ساتھ چلائیں گے اور کابینہ میں شامل وزرا کی تنخواہوں میں دس فیصد تک کمی کر دیں گے۔ کرپشن کا خاتمہ مہاتیر کی بنیادی ترجیح ہے۔ ملک کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق پر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ مہاتیر نے کہا کہ سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سمیت تمام بد عنوانی کے معاملات کی مکمل جانچ پڑتال ہو گی۔ وزیر اعظم مہاتیر محمد کے حکم پر پولیس نے نجیب رزاق سے منسلک جائیدادوں سے پُر تعیش اشیا اور غیر ملک کرنسی سے بھرے ہوئے ہینڈ بیگز کے سیکڑوں ڈبے بھی اپنے قبضے میں لے لیے۔ 70 کروڑ ڈالر کی بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں یہ چھاپے میڈیا کی موجودگی میں مارے جا رہے ہیں۔ کمرشل انوسٹی گیشن یونٹ کے سربراہ امر سنگھ نے گراں قدر مالیت کے زیورات، اور غیر ملکی کرنسی ملنے کی تصدیق کی ہے  حالانکہ اس سے پہلے ریاستی ادارے نجیب رزاق پر کرپشن کے الزامات کو جھوٹ قرار دے چکے تھے۔
ملائیشیااس وقت ڈھائی سو ارب سے زائد کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ مہاتیر نے کہا کہ وہ ان قرضوں کو کم کرنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں جس میں ایک راستہ ان سے قبل شروع کیے گئے مہنگے منصوبوں کے بارے میں فیصلہ بھی شامل ہے۔ ملائیشیا کے عوام مہاتیر محمد کے اقدامات سے نا صرف مطمئن ہیں بلکہ کئی دہائیوں سے بر سر اقتدار جماعت کو ان کا اقتدار سے باہر کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ قوم مخلص اور اہل قیادت کی پکار اور فیصلوں پر ضرور لبیک کہتی ہے اور چاہے وہ فیصلے ظاہراً کتنے ہی غیر مقبول نظر آ رہے ہوں، عوام ان فیصلوں کی ضرور تائید کرتے ہیں بشرطیکہ انہیں قیادت کے کردار اور اہلیت پر اعتماد ہو۔
 

image

جناب مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی گزشتہ کئی برسوں سے بظاہر اپنے اتحادی سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی مبینہ حمایت سے فاٹا کے خیبر پختون خوا میں انضمام کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی اِس سے قبل کھلم کھلا افغانستان کے عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی کی آواز سے آواز ملا کر بھارتی نام نہاد پشتون بوگی کی حمایت میں پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) کو متنازع بنانے کیلئے بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، جس کا بروقت تدارک کیا جانا چاہیے۔ بہرحال پاکستان فوج پاک افغان سرحد پر باڑ لگا کر سرحدی علاقے میں افغان علاقے سے دہشت گردوں کی آمد کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں باچا خان کی پختونستان تحریک کے پس منظر میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف واحد ووٹ افغانستان نے دیا تھا۔ البتہ قائداعظم محمد علی جناح نے نواب سعید اللہ خان کو اپنے ذاتی نمائندے کے طور پر ظاہر شاہ کے دربار میں بھیجا تھا جس سے بہت سی غلط فہمیوں کا تدارک ہوا، چنانچہ افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف دیا جانے والا منفی ووٹ اکتوبر 1947ء میں واپس لے لیا تھا۔ ظاہر شاہ نے دسمبر 1947ء میں جوابی طور پر نجیب اللہ خان کو اپنے نمائندے کے طور پر پاکستان بھیجا تھا۔ قائداعظم نے اِس موقع پر افغان نمائندے کو خوش آمدید کہتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت پاکستان افغانستان کی حکومت کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کریگی۔ جوابی طور پر ظاہر شاہ نے افغانستان کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ایک پالیسی بیان میں کہا تھا کہ افغانستان خطے میں آزاد ہونے والی 
پاکستان اور ہندوستان کی مملکتوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ جس کی تائید میں 13 جون 1948ء کو پاکستان میں افغانستان کے سفیر نے پختونستان بوگی کے پس منظر میں اعلان کیا تھا کہ افغان بادشاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان پاکستان کے کسی سرحدی علاقے پر دعویٰ نہیں رکھتا اور اگر ایسی کوئی بات تھی بھی تو پاکستان کے حق میں ترک کر دی گئی ہے، لہٰذا اگر ماضی میں اخبارات میں کوئی ایسی خبر شائع ہوئی تھی تو اُسے ہرگز کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ البتہ افغان جہاد کے دوران پختونستان بوگی مکمل طور پر اپنے اختتام تک پہنچ گئی تھی، جسے اب محمود خان اچکزئی پشتون تحریک کے نام پر پھر سے جنم دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
درج بالا تناظر میں عوامی سطح پر پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کا تدارک کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ پاک افغان سرحد جسے تاریخ میں ڈیورنڈ لائن کے نام سے پکارا جاتا رہا ہے کا ایک معروضی جائزہ لیا جائے۔ ڈیورنڈ لائن سرحدی معاہدہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی قوانین کیمطابق ایک مستند سرحد کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2416 کلو میٹر لمبی پاک افغان سرحد چین سے لیکر ایران تک پھیلی ہوئی ہے۔ ماضی میں برطانوی حکومت ہند اور روس کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کو روکنے کیلئے افغانستان کو ایک بفر اسٹیٹ کے طور پر بین الاقوامی تعلقات میں اہمیت دی گئی تھی۔ چنانچہ وسط ایشیائی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے روسی اثر و رسوخ کے سبب 1887ء میں روس اور افغانستان کے درمیان سرحدی معاہدہ طے پایا تھا جس کا برطانوی حکومت نے خیر مقدم کیا تھا، اِس معاہدے کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ روس نے واخان کوریڈور کے روسی علاقے کو جہاں روس، چین اور برطانوی حکومت ہند کی سرحدیں ملتی تھیں افغانستان کی حاکمیت میں دے دیا تھا تاکہ جنوبی ایشیا میں روسی اور برطانوی فوجوں کا آمنا سامنا نہ ہو۔ چنانچہ روس افغان سرحدی معاہدے کے پیش منظر میں افغانستان کی بفر حیثیت کو مضبوط بنانے کیلئے سابق افغان حکمران امیر عبدالرحمٰن کی درخواست پر برطانوی نمائندے ایچ ایم ڈیورنڈ نے نومبر 1893ء میں کابل میں انڈو افغان سرحدی معاہدے پر دستخط کیے جو تاریخ میں ڈیورنڈ لائن کے طور پر مشہور ہے۔ ڈیورنڈ لائن کو امیر عبدالرحمٰن کی وفات کے بعد 1905ء میں امیر حبیب اللہ خان، 1919ء میں امیر امان اللہ خان نے اِس معاہدے کی توثیق کی جبکہ 1921ء میں نادر شاہ نے ڈیورنڈ لائن کی بین الاقوامی معاہدے کے طور پر توسیع کرائی، جس کی بدولت پاک افغان سرحد پاکستان کو ورثہ میں ملی۔ اِس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ 1907ء میں سینٹ پیٹر برگ کنونشن کے تحت روسی اور برطانوی حکومتوں نے افغانستان کو باقاعدہ طور پر بفر اسٹیٹ کے طور پر تسلیم کر لیا تھا، لہٰذا 1921 کے معاہدے کے تحت ڈیورنڈ لائن نے برطانوی حکومت ہند اور افغانستان کے درمیان مستقل سرحد کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اِسی حوالے سے 1930ء میں لندن میں برطانوی اور افغان حکومت کے نمائندوں (جنرل شاہ ولی خان اور آرتھر ہنڈرسن) کے درمیان سرحدی دستاویزات کا تبادلہ ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 1921ء کا سرحدی معاہدہ پوری طرح مؤثر اور کارآمد ہے۔ بین الاقوامی قوانین کیمطابق باؤنڈری لائن کے تمام معاہدے جائز اور قانونی تصور ہوتے ہیں۔ چاہے وہ جانشین حکومتیں ہی کیوں نہ ہوں لہٰذا پاکستان برطانوی حکومت ہند کے جانشین کے طور پر پاک افغان سرحد کا امین ہے جبکہ 1969ء کے ویانا کنونشن کے پیرا 2 آرٹیکل 62 میں کہا گیا ہے کہ واقعات اور حالات کی بنیادی تبدیلی کے باوجود کوئی فریق کسی سرحدی معاہدے سے منحرف یا دستبردار نہیں ہو سکتا، چاہے کوئی فریق جانشین ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اَمر بھی غور طلب ہے کہ تقسیم ہند سے قبل 31 جولائی 1947ء کو لندن میں برطانوی وزیر خارجہ ارنسٹ بیون اور افغان وزیراعظم کے درمیان ایک ملاقات میں افغان وزیراعظم کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ حکومت برطانیہ کی خواہش یہی ہے کہ افغانستان اور برطانوی ہندوستان کی جانشین حکومتوں کے درمیان امن و دوستی کے رشتے برقرار رہیں چنانچہ افغانستان کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ یک طرفہ طور پر 1921ء کے سرحدی معاہدے کو کالعدم قرار دینے سے باز رہے کیونکہ ایسی کسی بھی صورت میں پاکستان سے گزرنے والے اہم تجارتی راستے مسدود ہو جائیں گے۔
درج بالا تاریخی حقائق کی روشنی میں میاں نواز شریف کی جانب سے بیرونی اثرات کے تحت کام کرنے والے محمود خان اچکزئی کے پاکستان کی سلامتی کے خلاف ایجنڈے کو اپنے ایجنڈے سے تعبیر کرنا حیران کن اَمر ہے۔ متنازع امور پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنے کیلئے سابق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کو بھارتی جنرل کی کتاب کے حوالے سے پاکستان کی سلامتی سے متعلق غیر متعلقہ امور پر گفتگو پر جی ایچ کیو میں طلب کیا جا سکتا ہے، تو سلامتی امور کے حوالے سے محمود خان اچکزئی کے بیرونی ایجنڈے کا نوٹس بھی لیا جانا چاہیے۔ جناب مولانا فضل الرحمٰن، جنہیں اب پاکستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی کے اتحاد کا سربراہ ہونے کا شرف حاصل ہے، کو بھی نواز شریف اور آصف زرداری کے معاملات میں اُلجھنے اور محمود خان اچکزئی کے بیرونی ایجنڈے میں تال میل بڑھانے کے بجائے فاٹا کے خیبر پختون خوا میں انضمام پر مثبت رویہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ فاٹا میں سرداری نظام اور برطانوی حکومت ہند کے بنائے ہوئے کالے قوانین سے چھٹکارا پانے کیلئے قبائلی عوام اب جمہوری سہولتوں سے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کیلئے مستقبل کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اِس اہم مرحلے پر مولانا فضل الرحمٰن کیساتھ شامل دیگر مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی کو جو پاکستان کی قومی سلامتی امور سے جڑی ہوئی ہے اور فاٹا کے خیبر پی کے میں انضمام کیلئے دیگر جماعتوں کیساتھ ساتھ تحریک چلانے میں پیش پیش تھی کو بھی مولانا فضل الرحمٰن پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اِسی میں پاکستان کی بہتری ہے۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو۔

image

The fast-moving events regarding North Korea are part of a wider attempt at President Donald Trump’s zig-zag diplomacy over one of the world’s most sensitive security issues. Trump canceled the Singapore summit with Kim Jong Un on the same day that North Korea claimed to have destroyed its nuclear testing facility.
Pyongyang’s demolition of the Punggye-ri nuclear test site, where it tested six nuclear warheads, is part of the process. Three tunnels were destroyed and Pyongyang invited journalists from China, Russia, the US, South Korea and Britain to witness the site’s dismantling. The complete closure of the area surrounding the nuclear test ground will come after the successive removal of all observation facilities, research institutes and structures of guard units, and withdrawal of staff.
But the destruction of the test site alone does not necessarily signify any change in nuclear ambitions or capability. Based on details available so far on the dismantling of Punggye-ri, North Korea’s moves do not appear to have irreversibly put the site out of commission. This type of demolition does not go far enough, with no known international experts able to inspect and verify.
Trump’s letter to Kim, saying that their planned meeting in Singapore on June 12 will not happen, is a counterpunch to Pyongyang. In the letter sent by the White House, Trump said that, although he was very much looking forward to being in Singapore with Kim, it was “inappropriate” to have the meeting at this time, “based on the tremendous anger and open hostility” displayed in North Korea’s statements regarding US Vice President Mike Pence. Earlier, North Korea’s Vice Minister for Foreign Affairs Choe Son Hui labeled remarks by Pence as “unbridled and impudent,” and “ignorant and stupid.”
More important are the comments made by National Security Adviser John Bolton, who raised the “Libya model” as a potential pathway for North Korea if Pyongyang does not follow the negotiated timeline. Bolton’s comments struck North Korea as particularly nasty given how Muammar Qaddafi met his fate.
The White House has still opened the possibility of meeting another time as part of the negotiation process. The letter states: “Therefore, please let this letter serve to represent that the Singapore summit, for the good of both parties, but to the detriment of the world, will not take place,” with Trump adding that he still looks very much forward to meeting Kim “some day.”
In this round, the Trump administration managed to free three Americans — Kim Dong Chul, Tony Kim and Kim Hak Song — who were being held in North Korean prisons. In this case, Trump publicly thanked Kim and called him “nice” for releasing the three prior to their now-canceled summit. However, the US had actually made the release of the three a condition for the summit. It would have been unthinkable for the US president to sit down and talk with Kim without the return of the three Americans. One had been sentenced to 10 years’ hard labor and all three were charged with “hostile acts,” spying or other crimes without any semblance of due process and were denied regular visits by the US protecting power, Sweden, and direct contact with their families. It is quite possible that North Korea may now return to using prisoners as hostages.
In Northeast Asia, there is dismay at Trump’s decision. South Korea’s presidential Blue House seemed blindsided by the cancelation of the summit. “We are attempting to make sense of what, precisely, President Trump means,” it said in a clear signal of the personal nature of the bilateral negotiations between Washington and Pyongyang.
Expectations were overblown for the North Korea summit and there are legitimate reasons to question whether Kim is serious about giving up his nuclear weapons. With Trump’s letter, the crisis on the Korean Peninsula returned. The planned summit was an opportunity to test Kim’s intentions, but the rhetoric in Trump’s letter and the comparison of nuclear weapons sizes harms the chances of future talks and returns the agenda to the tit-for-tat escalations seen last year.
This outcome will likely force North Korea to accelerate work on its nuclear and missile programs, strain America’s ties with South Korea, reduce international pressure on Beijing to rein in Pyongyang, and undermine future attempts at nuclear diplomacy. Trump is threatening again the use of military action if North Korea tries to provoke the US. Trump’s “fire and fury” is back for act two.
(Courtesy: Arab News)
 

image

’’اخوت‘‘ سے میرا تعارف صرف اتنا تھا کہ یہ غریب، ضرورت مند چھوٹے کاروباری افراد کو بلاسود قرضہ مہیا کرتا ہے۔ یہ اب تک لاکھوں لوگوں کو اربوں روپے قرض دے چکا ہے۔ کئی خاندان اپنے قدموں پر کھڑے ہوچکے ہیں۔ تنظیم کے دفاتر مساجد میں قائم ہیں۔ یہ کسی ضمانت کے بغیر قرضے دیتی ہے۔ ’’اخوت‘‘ کے قرضوں کی واپسی کی شرح 99.85 فیصد ہے اور یہ شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ میرے لیے’’اخوت‘‘ کا یہ تعارف ہی کافی تھا، میں اسے  پاکستان جیسے ملک میں کسی معجزے سے کم نہیں سمجھتا تھا، لیکن گزشتہ روز ’’اخوت‘‘ کی ایک تقریب میں جانے کا موقع ملا، جہاں تنظیم کی کچھ ایسی سرگرمیوں کو  جاننے کا موقع ملا، جس نے مجھے خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔ 
ڈاکٹر امجد ثاقب سے میری پہلی ملاقات گورنر ہاؤس لاہور میں ’’اخوت‘‘ یونیورسٹی کے فنڈزریزنگ پروگرام  میں ہوئی، دوسری چند روز قبل جی او آر ون لاہور کے آفیسر کلب میں، دونوں ملاقاتوں کا سبب برادرم محمد عبداللہ بنے۔ گزشتہ ملاقات صحافی امین حفیظ کی اعلیٰ صحافتی خدمات کے عوض صدارتی ایوارڈ سے نوازے جانے اور پنجاب اسمبلی میں اقلیتی رکن سردار رمیش سنگھ اروڑا کو سکھ میرج ایکٹ کی کاوشوں (جس نے  بعد میں  اقلیتوں کے میرج ایکٹ کی شکل اختیار کرلی) کو سراہنے کے حوالے سے تھی۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں سکھ میرج ایکٹ منظور کیا گیا۔ آفیسر کلب کے پُروقار ماحول میں ہونے والی اس تقریب میں امین حفیظ 
صحافی دوستوں اور بیگم کے ساتھ جب کہ سردار رمیش سنگھ اروڑا ساتھی ارکان  پنجاب اسمبلی کے جھرمٹ میں براجمان تھے۔ یقینی طور پر کسی بھی انسان کے لیے ایسے لمحات یادگار ہوتے ہیں، جب اس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے  ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے مختصر خطاب میں کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا کہ ’’اخوت‘‘ جہاں لوگوں کے غم بانٹتی ہے، وہیں ان کی خوشیوں میں بھی شریک ہوتی ہے۔ میرے لیے اخوت کا یہ پہلو پہلی بار سامنے آیا تھا۔ امین حفیظ کے دلچسپ صحافتی واقعات نے محفل کو زعفران بنادیا جب کہ سردار رمیش سنگھ کی خوبصورت انداز میں اُردو تقریر بھی سرپرائز سے کم نہ تھی۔
’’اخوت‘‘ کی بنیاد ہجرت مدینہ کے موقع پر ’’مواخات‘‘ سے متاثر ہوکر رکھی گئی ہے، جب مدینہ کے مسلمانوں نے مکہ سے ہجرت کرکے آنے والے  اپنے بھائیوں کے لیے دل کھول کر مدد کی اور ہر چیز میں ان کو برابر کا حصہ دار قرار دے دیا۔ ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے بعد دنیا کی تاریخ  میں اس کی دوسری  مثال نہیں ملتی۔ مواخات مدینہ میں انصار نے مہاجرین کی دل کھول کر مدد کی اور وہی مہاجر جو مکہ میں اپنا مال و دولت، کاروبار بیوی بچّے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آئے تھے، جلدہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی تنظیم ’’اخوت‘‘ جہاں بغیر سود کے قرضہ جاری کرتی ہے، تاکہ بے روزگار بے سہارا لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر معاشرے کے کارآمد فرد بن جائیں، وہیں سوسائٹی کے سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے طبقے ’’خواجہ سرائوں‘‘ کو سوسائٹی کا کارآمد فرد بنانے کے لیے دن رات کاوشوں میں مصروف عمل ہے۔
لاہور کے فائونٹین ہائوس، جو پہلے ہی ’’اخوت‘‘ کی زیر نگرانی ذہنی معذور افراد کے لیے سرگرم عمل ہے، اب وہاں ڈاکٹر اظہارالحق کی زیرنگرانی خواجہ سرائوں کی تعلیم و تربیت کے کئی پروگرام جاری ہیں۔ محمد عبداللہ نے بتایا کہ فائونٹین ہائوس کے علاوہ دو اور جگہو ں مغل پورہ اور ٹائون شپ میں  قائم تربیتی مرکز 
میں خواجہ سرائوں کے مسائل اور ان کے حل پر کام ہورہا ہے۔ ان کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرچکی ہے۔ ایسے خواجہ سرا جو عمر کے ایسے حصہ میں پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کے اپنے بھی ان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، ’’اخوت‘‘ انہیں سہارا دیتی ہے، سب سے پہلے ان کے تمام میڈیکل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ خدا نخواستہ کسی مہلک بیماری نے تو نہیں آن گھیرا، ان کو ہنرمند بنایا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنا روزگار کماسکیں، جو کوئی ہنر جانتا ہے اس کے مطابق اس کے روزگار کا بندوبست کیا جاتا ہے، ان کی تفریح طبع کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ خواجہ سرائوں کے درمیان ڈانس کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ وہ ادارے کے ماحول میں اجنبیت محسوس نہ کر یں۔ اس  بات کو لازمی بنایا جاتا ہے، اس طرح کے پروگراموں میں غیر متعلقہ افراد داخل نہ ہوسکیں۔ اس کے علاوہ ’’اخوت‘‘ کے سائے تلے ایک کلاتھ بینک قائم کیا گیا ہے، جہاں لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ کپڑوں کو ہدیہ کرتے ہیں۔ ’’اخوت‘‘ ان کو ڈرائی کلین کراکر خوبصورت  انداز میں پیک کرتی ہے، تاکہ ضرورت مند اسے حاصل کرنے میں کسی قسم کی قباحت محسوس نہ کریں اور یہ سارا کام خواجہ سرائوں سے لیا جاتا ہے۔ جس سے ان کو روزگار کے مواقع بھی دستیاب ہوجاتے ہیں۔ مذکورہ نشست بظاہر استقبالیہ نشست تھی، لیکن ’’اخوت‘‘ کے حوالے سے کئی جہتوں کو کھول گئی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے لوگ معاشرے میں کسی نعمت سے کم نہیں۔
 

image

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چند روز قبل لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب میں تاجروں اور صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے بعض چشم کُشا حقائق کا اظہار کیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاروباری طبقے کو مراعات اور سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی میں حکومت نے کوتاہی نہیں کی۔ اس کے بعد تاجروں اور صنعت کاروں کا کام ہے کہ حکومت کے فراہم کردہ سازگار ماحول سے فائدہ اٹھائیں اور کاروباری سرگرمیوں میں خاطرخواہ اضافہ کرکے ملکی برآمدات چالیس پچاس بلکہ سو ارب ڈالر تک پہنچائیں۔ 
موجودہ حکومت کے شروع یا مکمل کردہ میگا ترقیاتی اور بجلی منصوبے حکومت کی اسی سوچ کے آئینہ دار ہیں۔ موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو ملک میں بجلی کا قحط تھا۔ فیکٹریاں اور کارخانے لوڈشیڈنگ کا شکار ہوکر بیشتر وقت بند رہتے اور بعض حالتوں میں بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ حکومت نے آتے ہی اہم ترین ملکی ضرورت کے پیش نظر دھڑا دھڑ بجلی منصوبوں کا آغاز کیا۔ ان میں سے کئی بجلی گھروں نے بجلی دینا شروع کردی ہے، جس سے کارخانوں اور فیکٹریوں کا جمود ختم ہوچکا ہے۔ بھکی گیس پاور پلانٹ بھی انہی منصوبوں میں شامل ہے، جس کے 1018 میگاواٹ کے پہلے فیز کا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے افتتاح کرکے رمضان کے بابرکت مہینے کے پہلے عشرے میں 
لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا عملی اعلان کردیا ہے۔ اسی موقع پر مقبوضہ کشمیر میں قاتل مودی قاتل مودی کے فلک شگاف نعروں اور پاکستانی پانی پر رہزنی کے خلاف احتجاج کی سوگوار فضا میں330  میگاواٹ کے کشن گنگا ڈیم کا افتتاح کیا گیا۔ اگر مودی نے مقبوضہ وادی میں ظلم کو نہ روکا اور حریت پسند عوام کے لہو سے پاکستان کے پانیوں کو خون رنگ بناتا رہا تو وہ وقت زیادہ دُور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے جذبات شعلہ جوالہ بن کر مودی سرکار کے تمام منصوبے خاکستر بنادیں گے۔
دوسری طرف اہلیان ملک کے لیے خوش آئند بات یہ کہ پاکستان کے عوام اور حکومت میں یکجہتی کا ماحول آگے بڑھتا رہا تو بھکی پاور پلانٹ اپنی تکمیل کے بعد دس ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کردے گا، جس کے بعد ملک بجلی کی ضرورتوں میں خود کفالت سے اوپر جاکر اس شعبے سے ملکی برآمدات کو چار چاند لگانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ حکومت نے صرف بجلی منصوبوں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ خوبصورت سڑکوں کی شکل میں بین الاقوامی معیار کا انفرا اسٹرکچر مہیا کردیا ہے۔ خارجہ سرمایہ کاری کے اشتراک و تعاون سے سی پیک کا عظیم الشان منصوبہ شروع کر رکھا ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار و عظمت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پورے ملک کے عوام کاروباری طبقے اور سیاست دانوں کا شملہ اونچا ہوگا۔ محب وطن کاروباری طبقہ ہر حکومت کے کاروبار دوست اقدامات اور فیصلوں کو ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا اور پسند کرتا ہے۔ ہمیشہ پاکستانی پانیوں پر مودی سرکار کی ڈاکہ زنی کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ بھی متفقہ اقدامات سے مودی سرکار کی توسیع پسندانہ سوچ کے آگے بند باندھنے میں کامیاب ہوں گے۔ 
ملک میں الیکشن کی آمد آمد ہے۔ اس موقع پر احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ترقیاتی منصوبے کہیں اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔ ملک وجود میں آیا تو بانی پاکستان قائداعظمؒ نے تمام طبقات کو یکسوئی کے ساتھ کام، کام اور کام کی تلقین کی تھی۔ قائدؒ 
کے اس فرمان پر اگر کسی نے دل و جان سے من و عن عمل کیا ہے تو وہ کاروباری طبقہ ہے۔ پاکستان میں کاروباریوں کو نشیب و فراز دیکھنے پڑے۔ قومیانے اور نجکاری کے ہچکولے کھاتے رہے۔ ہنر، سرمایہ اور صلاحیتوں کو بعض اوقات ہجرت کرنا پڑی، لیکن پاکستان کے کاروباری طبقے کی حب الوطنی کے جذبوں میں پہلے کمی تھی اور نہ اب ہے۔ فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تمام مقامی چیمبر اپنے اپنے دائروں میں اقتصادی و معاشی سرگرمیوں میں فروغ کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ لاہور چیمبر کا اچیوومنٹ ایوارڈ اس سلسلے کی خوبصورت کڑی ہے۔ ارکان میں کوالٹی اور مقابلے کا شعور بڑھتا ہے، جو برآمدات بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس موقع پر بزنس کمیونٹی کی آئندہ الیکشن میں دلچسپی لینے والے سیاست دانوں سے درخواست ہے کہ انتخابات سے قبل تمام طبقات ایک نکاتی ضابطۂ اخلاق پر اتفاق رائے پیدا کرلیں کہ شروع اور مکمل کردہ ترقیاتی منصوبوں کو اختلاف رائے کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس سے تعمیری صلاحیتوں کو جلا ملے گی اور ملکی ترقی میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ فروخت کے لیے ضروری ہے کہ وافر بجلی کی دستیابی کے ساتھ آبی ذرائع سے سستی بجلی پیدا کی جائے۔ اس لیے کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر توجہ مرتکز کی جائے۔
 

image

گزشتہ کچھ ہفتے تہران کیلئے اچھے ثابت نہیں ہوئے؛ پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدے پر عمل کرتے ہوئے نئی نیوکلیئر ڈیل پر مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق ڈیل سے امریکہ کو الگ کر لیا۔ پھر کچھ روز بعد عراق میں ایران کے اتحادیوں کو بڑا دھچکا لگا جب فرقہ واریت مخالف قوم پرست سیاسی اتحاد جو کہ عراق کے داخلی معاملات میں ایرانی مداخلت کے سخت خلاف ہیں، نے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لی؛جب ایرانی حکام دونوں واقعات کا نقصان کم کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ، اسرائیل نے شام میں ایران کے فوجی اہداف پر حملے تیزکر دیئے، روسی یہ سب ہوتا دیکھتے رہے۔
شام میں روس ایران اتحاد کو ہمیشہ غرض کے رشتے کی نظر سے دیکھا گیا؛ایک عارضی انتظام جو تہران اور ماسکو کے مختصر المدت مفادات کیلئے تھا۔ آج فاتح روسی رہنما ولادی میر پیوتن شام میں الگ راستے پر رواں دواں ہیں جس سے ایرانیوں کو باہر کر دیا گیا ہے۔انہیں ابھی بتانا ہے کہ ایران اور اسرائیل کی ممکنہ کشمکش میں وہ کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔اسرائیل نے اپنے خطرات کا پیچھا کارروائی کرکے کیا، روزانہ کی بنیاد پر شام بھر میں ایرانی ٹھکانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا۔چند حالیہ حملوں کو شامی حکومت نے ’’ نامعلوم فریق ‘‘ کی کارستانی قرار دیا ، مگر یہ امر یقینی ہے کہ اسرائیل ہی وہ اصل فریق ہے۔
پیوتن جغرافیائی سیاسی لمحے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ستمبر 2015ء میں روسی فوجی مداخلت کے بعد سے ہواؤں کا رخ تبدیل ہو چکا ہے، صدر بشار کی حکومت ڈھیر ہونے سے بچ گئی ہے، بڑے شہروں اور اضلاع پر قابض باغی گروپ ملیامیٹ ہو چکے ہیں، حالانکہ اس کی بھاری انسانی قیمت ادا ہوئی۔ داعش، النصرۃ فرنٹ اور دیگر مسلح گروپوں کو حلب ،القلمون ، حماہ اور حال ہی میں مشرقی غوطہ سے پسپا کرنے میں ایران نواز ملیشیائوں ، بعدازاں ایران روس تعاون نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ مگر اب نئے اصولوں کی بنیاد پر کھیل ہو رہا ہے: پیوتن اسرائیل ایران دونوں کیساتھ اس امید پر کھیل رہے ہیں کہ اسرائیل کو استعمال کرکے ایران پر دبائو ڈالا جا سکے۔رواں ہفتے سوچی میں اسد سے گفتگوکے دوران پیوتن نے کہا کہ وہ شام سے تمام غیر ملکی فورسز کا انخلا چاہتے ہیں۔اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا، تاہم اس میں امریکی، ترک اور ایرانی فورسز شامل ہیں۔ انہوں نے اسد پر زور دیا کہ وہ سیاسی عمل تیز کریں۔ اس پر اسد نے اعلان کیا کہ شامی آئین میں ترمیم کیلئے وہ آئینی کمیٹی کے وفود کی فہرست کو جلد حتمی شکل دیں گے۔
روس نے گزشتہ ہفتے آستانہ کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنی سیاسی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں،جوکہ شورش زدہ علاقے کم سے کم رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے؛ ان میں اہم ترین جنوبی علاقہ ہے جوکہ اسرائیل اور ایران کا میدان جنگ بن سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک سینئر روسی افسر نے کہا وہ نہیں سمجھتے کہ شام کے مسئلے پر مستقبل میں مزید جینوا مذاکرات ہونگے۔یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ ماسکوواحد فریق ہے جو شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے سیاسی عمل بحال کرنا چاہتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ پیوتن نے اسرائیل اور ایران کے درمیان خود کو بطور ثالث پیش کیا ہے کہ نہیں۔ تنہائی کے شکار تہران کیلئے ماسکو ایک اہم فریق ہے جوکہ دو بنیادی معاملات میں اس کی مدد کر سکتا ہے: نیوکلیئر ڈیل بچانا، شام میں اسرائیل کیساتھ براہ راست محاذ آرائی سے گریز ۔ اسرائیلی پریس نے اشاروں میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے شاید پیوتن کی منظوری حاصل کی ہو، کیونکہ 9مئی کو انہوں نے ماسکو کو دورہ کیا تھا۔ پانچ روز بعد ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف ماسکو گئے جس کا مقصد نیو کلیئر ڈیل امریکا کے نکلنے کے مضمرات کا جائزہ لینا تھا، امکان ہے کہ اس موقع پر اسرائیل ایران کشیدگی پر بھی بات ہوئی ہو گی۔
اسرائیلی حملوں پر ایران کی خاموشی حیران کن نہیں۔ صدر روحانی ، ان کے نام نہاد اعتدال پسند کیمپ کیلئے زیادہ اہم نیوکلیئر ڈیل کا مستقبل ہے؛ 
 شام میں اسرائیل کیساتھ طویل جنگ میں الجھنے سے ان کی کوششیں متاثر جبکہ کٹر ایرانی حلقوں کے ہاتھ مضبوط ہونگے۔مگر صدر روحانی کیلئے اس ڈیل کو بچانے کا آخری راستہ بھی جلد بند ہو جائیگا۔ جب بھی ایسا ہوا، ایران میں داخلی سطح پر بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہو نے کا امکان ہے۔ 
یورپی یونین ایران پر نیوکلیئر معاہدے کے از سرنو جائزے ، میزائل پروگرام محدود کرنے اور خطے کے ملکوں میں مداخلت نہ کرنے کیلئے دبائو ڈالے گا، ماسکو اور بیجنگ ہمنوا بن سکتے ہیں۔ نیوکلیئر ڈیل بچانے کیلئے ایران سے شام، عراق اور یمن میں موجودگی محدود کر نے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ روحانی یہ شرائط پوری نہیں کر پائینگے، کیونکہ ایسا کرنے پر کٹر حلقے ان پر الزام لگاسکتے ہیں کہ انہوں نے مغرب اور عرب اتحادیوں کیساتھ ایران کے مفادات کا سودا کیا ہے۔
 اسرائیل ایران کی سیاسی کمزوریوں کابھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ شام میں ایران کی کامیابیاں محدود کرنے کیلئے پیوتن تل ابیب کو کچھ کرنے کی خاموش اجازت مگر براہ راست جنگ میں الجھنے نہیں دینگے۔ یہ ہر کسی کیلئے خطرناک کھیل ہے، مگر اسی سے شام میں ایران کی گرفت کمزور کی جا سکتی ہے، جوکہ ہمسایوں کیلئے ایک اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ اس سے صدر روحانی کا سیاسی کیریئر ختم ہو سکتا ہے، اور اس صورت میں  تمام اختیارات انتہاپسندوں کو منتقل ہو جائینگے، اور خطے کے مختلف فریقین کے درمیان تصادم کی نئی راہیں ہموار ہوجائینگی۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔۔ بشکریہ: عرب نیوز)
 

image

داعش کی ہولناکیوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکا، جس نے امت مسلمہ کو معاشی، عسکری، ثقافتی، سماجی اور خصوصاً فکری طور پر بانجھ کردیا تھا، لیکن جب میں نے اس پر تحقیق شروع کی تو جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا تو رونگٹے کھڑے ہوتے گئے۔ دہشت، ظلم و جبر، درندگی، قتل و غارت گری، سفّاکیت اور فرعونیت کا دوسرا نام داعش، جسے پوری منصوبہ بندی سے امت اسلامیہ کو تہہ تیغ کرنے کے لیے بدترین دشمنوں نے تخلیق کیا۔ داعش درحقیقت جنگوں کی ماں کا نام ہے، جس کا پہلا روپ القاعدہ کی شکل میں نمودار ہوا اور ان سب فتنوں کی بنیاد 9\11 تھا۔ اس فتنے کی سیاہ کاریوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں جانا پڑے گا۔
جون 2014 کو داعش نے عراق کے کئی شہروں پر بغیر کسی خاص مزاحمت اور شام کے صوبے رقہ ودیرالزور پر قبضہ کرکے اپنی خلافت کا اعلان کردیا تھا۔ تب عالمی میڈیا کی مختلف رپورٹس کے مطابق داعش قریباً 90000مربع کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کرچکی تھی۔ بعض کے خیال میں اُس وقت ’’داعش‘‘ کے زیرتسلط علاقے کا رقبہ صہیونی ریاست ’’اسرائیل اور لبنان‘‘ کے مشترکہ علاقائی رقبے کے برابر تھا۔ اور 81ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں غیر ملکی جنگجوؤں نے اس گروہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ صہیونیوں کے زیر اثر مغربی میڈیا اس گروہ کو ایسے پیش کررہا تھا، جیسے یہ کوئی ماورائی مخلوق ہو۔ یعنی پوری منصوبہ بندی کے تحت امت مسلمہ کے دینی، مذہبی حلقوں اور خاص کر مسلم نوجوانوں کے ذہنوں کو پوری طرح مسخر کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں، جس میں دشمن کامیاب رہا۔  داعش کی95 فیصد لڑائیوں کا مرکز سنّی علاقوں تک محدود رہا، جس کا صاف مطلب تھا کہ دہشت گرد گروہ داعش کے ہاتھوں مرنے والے مسلمان ہی تھے۔ اس ہولناک سازش کا یہی وہ پہلو ہے، جسے میں طشت ازبام کرنا چاہ رہا ہوں۔ 
تب میں نے ’’عراقی تجزیاتی رپورٹ‘‘ کے نام سے ایک کالم لکھا تھا، جس میں، مَیں نے تین نکات کو ڈسکس کیا تھا۔ (1)داعش کی غیر متوقع فتوحات بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ (2)داعش کے بہانے اگر ایران ایک دفعہ عراق میں داخل ہوگیا تو وہ واپس نہیں جائے گا۔ عراق میں اپنی مستقل موجودگی کی وہ یہ دلیل دے گا کہ وہ مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے رُکا ہوا ہے۔ (3)عراق کی ہر لمحے بدلتی صورت حال کو سمجھنے کے لیے ہمیں 28 مئی 2014 کے اوباما کے اُس خطاب کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کریں گے۔‘‘ موصل پر قبضے کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ مشرق وسطیٰ میں اسے کن خود ساختہ خطرات کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے گذشتہ چار سال کے تمام حالات میرے مؤقف کی سو فیصد تصدیق کررہے ہیں۔ 
اس دوران داعش کے بہانے امریکا نے شام میں چار ملٹری بیس بنالیے۔ اردن، عراق اور شام کی سرحد پر التنف Al-tanif کے مقام پر، رقہ کے علاقے الطبقہ Tabqa،  الحسکہ صوبے کے علاقے oil town رمیلان میں اور ترکی کی سرحد کے ساتھ کوبانی Kobani کے جنوب مشرق میں۔ اس کے علاوہ شمالی مشرقی شام میں المبروکہ، تل بیدر اور تل ابیض کے اڈوں کو بھی امریکی فورسز استعمال کررہی ہے۔ امریکیوں کی پوری کوشش ہے کہ شام کے مشرقی علاقوں رقہ دیر الزور اور الحسکہ میں SDF سے مل کر ان پر اپنا ہولڈ قائم کرلیں۔ 25 نومبر 2017 کو پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ داعش کے خطرے کے پیش نظر 2 ہزار امریکی فوجی شام میں غیر معینہ مدت تک موجود رہیں گے، یعنی صلیبی فورسز مستقل بنیادوں پر شام میں آکر بیٹھ گئیں۔ 
اسی طرح بحیرۂ روم کے ساحلی شہر الاذقیہ کے علاقے حمیمیم Khmeimim اور راس الحربہ میں روس نے بھی 2 ملٹری بیس بنالیے ہیں، جس کے ساتھ ہی روس نے بحیرۂ روم میں طرطوس سے لیکر الاذقیہ تک سارے علاقے کو اپنے زیرتسلط کرلیا ہے جب کہ پوتن شام میں مستقل بنیادوں پر اپنے فضائی اور بحری اڈے قائم رکھنے کا عندیہ بھی دے چکا ہے۔ اسی داعش کے بہانے سات ہزار ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سمیت ایرانی حمایت یافتہ مسلح ملیشیا کے 70 ہزار جنگجو شام کے صوبوں حماہ، حمص اور گیس و تیل کی دولت سے مالا مال السخنہ میں آکر بیٹھ گئے ہیں۔ دمشق سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر  Al-Kiswah اڈے اور شام کے سب سے بڑے ملٹری ایئربیس Tiyas پر ایرانی سپیشل القدس فورس براجمان ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ دمشق کا بین الاقوامی فوجی بیس بھی ایرانی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔  20 دسمبر 2016 کو ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے بھی اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ ہم نے روس کی مدد سے شام میں ایک مشترکہ فوجی ہیڈ کوارٹر قائم کرلیا ہے۔ عالمی اور عرب میڈیا کے مطابق ایران پوری کوشش کررہا ہے کہ کسی طرح وسطی شام میں اسے ایک بری فضائی اڈا مل جائے، جہاں وہ پاکستان، عراق، لبنان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کرایے کے قاتلوں کو رکھ سکے۔
کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر پوری منصوبہ بندی، جیسے ہی داعش کا شر شام میں سرایت کیا تو اگر ایک جانب شام کے حریت اور اسلام پسندوں کی فتوحات کا راستہ روک کر پوری دنیا کی صلیبی، کمیونزم فورسز اور ایرانی فورسز یہاں آکر بیٹھ گئیں تو دوسری طرف وحشیانہ طریقے  سے بے گناہ اور نہتے شامی مسلمانوں کی نسل کشی بھی جاری ہے، جو رُکنے کانام نہیں لے رہی۔ یہ تھا داعش کے ذریعے کھیلی گئی ہولناک سازش کا وہ خفیہ گوشہ جس کے لیے اسے تخلیق کیا گیا۔ 
یہ سارا منظرنامہ مجھے ماضی کے دریچوں میں لے گیا۔ جب قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے علاقوں پہ علاقے فتح کرتے ہوئے اسلامی فتوحات کو بام عروج تک پہنچادیا۔ مجاہدین اسلام کی یہ فتوحات رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ تب اسلام دشمنوں نے ان فتوحات پر روک لگانے کے لیے انتہائی درجے کے شرپسند اور سازشی عبداللہ بن سبا (یہودی) کا انتخاب کیا۔ جس نے زہد وتقویٰ کے لبادے میں بصرہ، کوفہ اور دمشق کو مرکز بناکر امت اسلامیہ کے خلاف فتنہ انگیز خیالات کی تخم ریزی شروع کردی اور آخرکار 35 ہجری 18ذی الحجہ بروز جمعۃ المبارک کو داماد رسولﷺ سیدنا عثمان غنیؓ کو روزے کی حالت میں  شہید کرکے امت اسلامیہ کو فتنوں، مصائب اور خانہ جنگیوں میں مبتلا کردیا، جس سے مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بھی رک گیا۔ لامحالہ 14 صدیوں کے بعد بالکل اسی پیٹرن پر اسلام دشمنوں نے یہی گھناؤنا کھیل داعش کی آڑ میں کھیل کر جہاں ایک جانب مسلمانوں کو آپس میں لڑاکر فکری انتشار کا شکار کردیا تو دوسری طرف شام میں اسلام پسندوں کی بڑھتی فتوحات کو شکست میں تبدیل کرکے وہاں پر اسلام مخالف قوتوں کو لابٹھایا۔ 
 

image

(21مئی1948ء کی تحریر)
ہندوستانی ریاستوں کے جو افراد بیکار ہو کے رہ گئے ہیں مسٹر پٹیل نے انہیں روز گار مہیا کرنے کی جانب بالکل توجہ نہیں کی۔ البتہ وہ بے روزگار والیان ریاست اور ان کے کنبہ کے لوگوں کے لئے روز گار مہیا کرنے کی تدبیروں میں ضرور مصروف ہیں ۔ کہاں جاتا ہے کہ ان میں سے بعض کو سفارت خاتون میں اٹاشی، بعض کو سکتر، بعض کو قونصل اور بعض کو سفیر بنا کے باہر بھیج دیا جائے گا۔ پھر بھی ان لوگوں کی بے روزگاری کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ کوئی عجب نہیں کہ یہ لوگ مل کے ٹریڈ یونین کے قاعدے کے مطابق اپنی علیحدہ یونین بنالیں اور جلسے کرنے اور جلوس نکالنے شروع کردیں۔ پہلے ہی شرنارتھیوں اور مزدوروں نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ راہوں اور مہارجوں نے بھی جلوس نکالنے شروع کردیئے تو ہندوستان کی حکومت کیا کرے گی۔ ان کے جلوسوں پر گولی چلانا تو الگ رہا، لاٹھی چارج کرنا مشکل ہے۔ جب وہ چلا چلا کے کہیں گے کہ پانچ لاکھ روپلی میں ہمارا گزارہ نہیں ہوتا تو ممکن ہے کہ مسٹر پٹیل صرف تماشائی بنے رہنے کے بجائے خود بھی جلوس میں شامل ہو جائیں۔
………………………
شملہ کی پہاڑی ریاستوں میں جواب ہما چل پردیش یونین میں شامل کرلی گئی ہے، بعض ریاستیں ایسی بھی ہیں جن کی آمدنی بہت تھوڑی ہے لیکن برطانوی عہد میں ان والیان ریاست کو بڑے بڑے راجائوں جیسے حقوق حاصل تھے۔ مثلاً رتیش کے ٹھاکر صاحب کی سالانہ آمدنی سوا چھ سو روپے تھی یعنی ریاست کے خزانے سے وہ کوئی پچاس روپے ماہانہ وصول کرلیتے تھے۔ بعض ٹھاکر اور رانا رتیش کے ٹھاکر سے بھی چھوٹے تھے لیکن طاقت اور اختیار کا نشہ بری چیز ہے۔ یہ ٹھاکر راجہ اور رانا اسی میں مگن تھے۔ معلوم نہیں اختیارات سلب ہو جانے کے بعد ان پر کیا گزری۔ دس پانچ لاکھ روپے سالانہ وصول کرنے والے راجہ مہاراجہ کوئی یونین بنائیں یا نہ بنائیں شملہ کے ان ٹھاکروں بعد انائوں کے مزدور یونین کے طرز پر کوئی ٹھاکر اور رانا یونین ضرور بنانی پڑے گی۔ 
………………………
نوکر نے آقا سے کہا ’’دیکھئے صاحب میری تنخواہ بڑھا دیجئے ورنہ…‘‘آقا نے آنکھیں نکال کر کہا ’’ورنہ کیا۔؟‘‘ نوکر بولا…’’حضور!… ورنہ اسی تنخواہ پر کام کرتا رہوں گا!‘‘ حال ہی میں شیخ عبداللہ کو بھی اس سے ملتا جلتا حادثہ پیش آیا ہے یعنی انہوں نے بھی ’’پرانی تنخواہ‘‘ ہی پر کام کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔
………………………
کچھ عرصہ ہوا’’لندن آبزرور‘‘ کے نامہ نگار سے شیخ صاحب نے کہا تھا کہ کشمیر کو ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کے بجائے خود مختار رہنا چاہیے۔ اس پر ڈانٹ پڑی۔ شیخ عبداللہ دوڑے دوڑے دلی پہنچے۔ پنڈت نہرو سے کچھ کھسر پھسر ہوئی اور ایک تازو بیان شائع ہوگیا کہ کشمیر کی خود مختاری کا خیال تو پڑا دلکش ہے لیکن ہندوستان کے ساتھ رہنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ گویا شیخ صاحب نے خود مختاری کا صرف خواب دیکھا تھا۔ آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو پنڈت نہرو کے حضور میں پایا۔
جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا
………………………
سنا ہے۔ ان دنوں یونیورسٹی کے نصاب میں بڑی اہم تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ مثلاً ایم اے اردو کے نصاب میں مومن کا کلام شامل تھا۔ اسے نکال کے ’’صد پارہ دل‘‘ کو جو خواجہ دل محمد کی رباعیات کا مجموعہ ہے، اس میں شامل کرلیا گیا ہے۔
………………………
خواجہ دل محمد جو ہمارے محترم بزرگ ہیں۔ مدتوں اسلامیہ کالج میں ریاضی پڑھاتے رہے ہیں۔ ایک زمانے میں وہ اسلامیہ کالج کے پرنسپل بھی ہوگئے تھے لیکن یہ بھاری پتھر اس سے اٹھ نہ سکا۔ اس لئے چوم کے چھوڑ دیا۔ مرحوم لاہور میونسپلٹی سے بھی انہیں برسوں تعلق رہا ہے۔ چنانچہ لاہور کی ایک مشہور سڑک یعنی دل محمد روڈ اسی تعلق کی یادگار ہے۔ اب وہ کارپوریشن کے کونسلر ہیں۔ یونیورسٹی میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں اور فراخت اور اطمینان کی زندگی بسر کررہے ہیں۔
………………………
اگر خواجہ دل محمد کا کلام ساتویں یا آٹھویں درجہ کے نصاب میں شامل کرلیا جائے تو مضائقہ نہیں ان کی بعض نظمیں اب بھی مڈل اور انٹرنس کے نصاب میں موجود ہیں اور اگر ’’صد پارہ دل‘‘ کی چند رباعیاں بھی ان میں شامل کردی جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایم اے اردو کے نصاب سے مومن کا کلام نکال کے خواجہ دل محمد کا کلام شامل کردینا تو نری دھاندلی ہے۔ ہمیں تو اردو کے پرانے نثر نگاروں اور شاعروں میں ایک کی خیوبھی نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے کہ ڈاکٹر عبدالوحید کل کلاں کوئی کتاب لکھ ماریں اور اردوئے معلیٰ ، عودہندی یا آبِ حیات کی جگہ اسے نصاب میں شامل کرلیا جائے یا علامہ علائو الدین صدیقی شعر کہنا شروع کردیں اور میرو غالب کے کلام کی جگہ ان کے کلام معجز نظام کو ان کی بارگاہ سے سند قبول عطا کردی جائے۔
………………………
مومن کے کلام پر خواجہ دل محمد کے کلام کو ترجیح دینے کی صرف ایک وجہ سمجھ میں آسکتی ہے۔ معاملہ ایم اے اردو کے نصاب کا ہے اور وہ بچارا ایم اے چھوڑ مڈل فیل میں نہیں تھا۔ اس لئے کلام مومن کی جگہ ایک ایسے شاعر کا کلام داخل نصاب کرلیا گیا ہے جو نرا شاعر ہی نہیں بلکہ ایم اے بھی ہے۔ اگر ہمارا قیاس صحیح ہے یعنی کلام خواجہ کو کلام مومن پر اسی لئے ترجیح دی گئی ہے، تو میر سووا، غالب ، سرسید ، شبلی، حالی وغیرہ سب پر بالآخر یہی ماجرا گزرے گا اور ایم اے کے طلبہ کو مجبوراً ایسے لوگوں کے مضامین نظم و نثر پڑھنے پڑیں گے جو شاعر اور ادیب تو نہیں البتہ ایم اے ضرور ہیں۔
………………………
خواجہ دل محمد کے کلام کو کلام ِ مومن پر ترجیح دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مومن نجومی تھا اور خواجہ صاحب ریاضی کے ماہر ہیں اور نجوم پر ریاضی کی ترجیح مسلم ہے اور ریاضی سے خواجہ صاحب کو جو شغف ہے وہ اسی بات سے ثابت ہے کہ انہوں نے کتاب کا نام ’’صد پارہ دل‘‘ رکھا ہے جو بجائے خود کسورِ اعشاریہ کا سوال معلوم ہوتا ہے۔ بہر حال آپ خواجہ صاحب کو پنجاب کا شاعر اعظم مانیں یا نہیں مانیں، وہ’’حادِ اعظم‘‘ ضرور ہیں اور اب تو یونیورسٹی نے انہیں شاعر اعظم بھی تسلیم کرلیا ہے۔
………………………
یونیورسٹی نے خواجہ صاحب کے کلام کو ایم اے کے نصاب میں داخل کرکے ان کی شاعرانہ حیثیت تو تسلیم کرلی۔ اب دیکھیں، میراں بخش جلوہ مرحوم ، الہ یار جوگیؒ اور خان احمد حسین خان کی قدر شناسی کا کوئی موقع بھی ہاتھ آتا ہے یا نہیں اور خان احمد حسین خاں نرے شاعر ہی نہیں نثر نگار بھی ہیں اور ایک زمانے میں تو پنجاب کے ’’سروالٹر سکاٹ‘‘ سمجھے جاتے تھے۔
………………………
29مئی
خواجہ دل محمد صاحب کا ارشاد ہے کہ ان کی کتاب ’’صد پارہ دل‘‘ ابھی ایم اے اردو کے نصاب میں تو شامل نہیں ہوئی، البتہ ادیب عالم کے نصاب میں اسے ضرور شامل کرلیا گیا ہے۔ اگرچہ خواجہ صاحب کی روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، تاہم ہم نے جن راویوں پر اعتماد کرکے لکھا تھا کہ ’’صد پارہ دل‘‘ ایم اے کے اردو نصاب میں داخل کرلی گئی ہے وہ سب کے سب بھی ثقافت کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
روایت ارچہ ضعیف است راویاں ثقہ اند
تاہم خواجہ صاحب کو اس معاملے میں مطمئن رہنا چاہیے۔ ان کی کتاب ابھی ایم اے اردو کے نصاب میں شامل نہیں ہوئی تو چند دنوں میں شامل کرلی جائے گی۔ بہر حال ان دنوں ایم اے اردو کے نصاب کے سلسلے میں ’’صد پارہ دل‘‘ کا نام بعض لوگوں کی زبان پر بار بار آرہا ہے اور یہ حضرات کوئی ادنیٰ درجے کے شاعر نہیں بلکہ بڑے بڑے اہل علم بزرگوار ہیں اور جہاں تک یونیورسٹی کے معاملات خصوصاً نصاب تعلیم کا تعلق ہے یہ حضرات بلا مبالغہ 
شہان ِلے کمرد خسرو ان بے کلہند
…………………………
ایک مرتبہ یونیورسٹی میں نصاب تعلیم پر گفتگو ہورہی تھی کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے تذکرہ کا معاملہ سامنے آیا۔ بعض لوگ چاہتے تھے کہ تذکرہ کو ایم اے اردو کے نصاب میں شامل کرلیا جائے لیکن بہت سے لوگ صرف اس لئے تجویز کے مخالف تھے کہ مولانا ابوالکلام آزاد ہمیشہ کانگرس سے وابستہ رہے ہیں۔ اتنے میں ایک صاحب اٹھے اور کہنے لگے میں اب تذکرہ کی ادبی حیثیت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کتاب کو نصاب میں داخل کرنے پر اتنا زور کیوں دیا جارہا ہے۔آخر اس میں چینی ، چائے کے تذرے کے سوا اور کیا رکھا ہے۔ لوگوں نے کہا، صاحب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔ آپ جس کتاب کو تذکرہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ وہ مولانا ابوالکلام آزاد کے مکتوبات کا مجموعہ ہے اور اس کا نام ’’غبارِ خاطر‘‘ ہے۔ بس اسی ایک واقعہ سے اندازہ کر لیجئے کہ نصابِ تعلیم تجویز کرنے کا کام کن لوگوں کے سپرد ہے۔
………………

image

بالآخر میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی نے فاٹا کا خیبر پختون خوا میں انضمام کا تاریخ ساز بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا ہے ۔ البتہ اِس تاریخ ساز مرحلے پر نواز شریف کے دو اتحادی محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن نا صرف ایوان سے غیر حاضر رہے بلکہ اُن کی جماعتوں جے یو آئی (ف) اور پشتون خوامیپ کے ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ محمود خان اچکزئی کی بل کی مخالفت تو اُن کے افغان شمالی اتحاد ، بھارت اور امریکا کے پس پردہ اثرات کے باعث سمجھ میں آتی ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے آپ کو اِس تاریخ ساز فیصلے سے کیوں علیحدہ رکھا ہے، ناقابل فہم بات ہے۔ ماضی میں مولانا مفتی محمود اور خان عبدالولی خان یکجہتی کیساتھ سابق صوبہ سرحد اور فاٹا کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، چنانچہ ولی خان کے صاحبزادے اسفند یار ولی نے فاٹا کے خیبر پی کے کیساتھ اتحاد میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے جو قابل تحسین ہے۔کیا موجودہ جمہوری دور میں بھی مولانا فضل الرحمٰن وفاقی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود فاٹا کے محب وطن قبائل کو برطانوی حکومت ہند کے کالے قانون ایف سی آر کے تحت محکومیت کا شکار ہی رکھنا چاہتے ہیں، حیران کن بات ہے؟ بہرحال فاٹا کا صوبہ خیبر پی کے سے اتحاد نا صرف پاک افغان سرحد کو متنازع قرار دینے والے بیرونی اثرات کا قلع قمع کریگا بلکہ قبائلی عوام کے جمہوری حقوق کی بحالی کے بعد فاٹا کے عوام پاکستان سے محبت اور قبائل کی ترقی کو نئی جہتوں سے ہمکنار کریگا۔
 محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن کو یہ جان لینا چاہیے کہ فاٹا اور سابق ریاست سوات کے قبائل ہمیشہ ہی سے پاکستان کے حامی رہے ہیں ۔ ایک ایسے وقت جب تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت سابق صوبہ سرحدکے بھارت یا پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے ریفرنڈم ہوا تھا تو صوبہ سرحد کے اکیاون فی صد عوام نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کر کے بھارت کے دعوے کو ہمیشہ کیلئے غلط ثابت کر دیا تھا ۔ گو کہ اُس وقت سابق ریاست سوات اور فاٹا صوبہ سرحد کے ریفرنڈم کا حصہ نہیں تھے لیکن والیٔ سوات اور فاٹا کے قبائل نے صوبہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت کیلئے زبردست مہم چلائی تھی جس کے اثرات آج بھی قومی اسمبلی میں فاٹا کے صوبہ سرحد میں شمولیت کے حوالے سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے قبل ریاست سوات کے عوام اور فاٹا قبائل کی جانب سے پاکستان کے حق میں چلائی جانے والی پُر جوش مہم کی تعریف کرتے ہوئے 28 جولائی 1947 میں والی سوات کے نام ایک خط میں لکھا تھا: ’’ 6 جولائی 1947 کو ہونے والے استصواب رائے میں ہماری جدوجہد کیلئے آپ کی پُر خلوص حمایت اور حوصلہ افزائی کا جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے ۔ میں ہمیشہ یاد رکھونگا کہ اِس نازک لمحے میں آپ نا صرف دل و جان ہمارے ساتھ تھے بلکہ آپ نے ہر طرح ہماری مدد بھی کی تھی‘‘ ۔صوبہ سرحد میں ریفرنڈم سے قبل 6 مارچ 1947 کو میر بادشاہ صدر وزیرستان قبائلی جرگہ نے ہندوستان میں عبوری حکومت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ قبائلی علاقہ جات اور صوبہ سرحد سے متعلق معاملات طے کرنے کی نیت سے نہرو کی قائم کردہ  پٹیل کمیٹی وزیرستان میں آنے کی زحمت گوارا نہ کرے البتہ قائداعظم کی قائم کردہ کوئی بھی کمیٹی یہاں آ سکتی ہے۔ اِسی طرح 20 مارچ 1947 کو قیام پاکستان سے قبل وزیرستان کے وزیری ، محسود اور دیگر قبائلی عمائدین نے ایک مشترکہ جرگہ میں پاکستان کے حق میں ایک قرارداد منظو رکی جس کی تفصیل ایک خط میں اہم قبائلی شخصیت شیر بادشاہ خان نے قائداعظم کی خدمت میں ارسال کی تھی جو نیشنل آرکائیو کے ریکارڈ پر بھی موجود ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا حصول قبائلیوں کا پیدائشی حق ہے چنانچہ مسلمانوں پر حکمرانی کرنے کے ہندوئوں کے ارادے کو کچل دیا جائیگا کیونکہ نتائج کی پروا کیے بغیر ہمیں پاکستان چاہیے۔ 
دریں اثنا، اِس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ صوبہ سرحد میں ریفرنڈم سے قبل صوبہ سرحد میں قائم کانگریس اور خدائی خدمتگار تحریک حکومت کی حمایت سے جواہر لال نہرو نے بظاہر ریفرنڈم میں قبائلیوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے جب وزیرستان و دیگر قبائلی علاقوں کا دورہ کیا تو مرکزی حکومت کی جانب سے بیشتر قبائلی علاقوں میں ہندو پولیٹیکل ایجنٹوں کی تعیناتی کے باوجود نہرو کو قبائلی علاقوں میں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ جب نہرو باچا خان کے ہمراہ میران شاہ ، رزمک اور وانا میں قبائلی جرگہ سے خطاب کیلئے پہنچے تو ہر جگہ قبائلی جرگہ یہ کہتے ہوئے اُٹھ گیا کہ وہ ہندوئوں کی حکومت نہیں چاہتے جبکہ جمرود ،مالاکنڈ اور لنڈی کوتل میں برقع پوش خواتین کی جانب سے نہرو کے جلوس کو جوتیاں دکھائی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے قبائلیوں کی پاکستان سے محبت کے پیش نظر وزیرستان سے پاکستانی فوجیں واپس بلا لیں اور فرمایا کہ قبائلیوں کیلئے پاکستانی حکومت کوئی غیر ملکی حکومت نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے اپنے مسلمان بھائیوں کی حکومت ہے جنہیں قبائلی عوام کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور یہ کہ قبائلیوں کی سول و ملٹری ملازمتوں اور حکومتی معاشی امور میں شرکت کو یقینی بنایا جائیگا ۔ تو کیا مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت قیام پاکستان سے قبل ہندو کانگریس سے اتحاد کے پس پردہ اثرات کو ابھی تک نہیں بھول پائی ہے جبکہ فاٹا کے قبائل بھارتی را ، بلیک واٹر آرمی اور شمالی اتحاد کی دہشت گردی کی موجودہ جنگ میں افواج پاکستان کا دامے درمے سخنے ساتھ دینے کے بعد ایک مرتبہ پھر سے پاکستان کی سلامتی کیلئے بھر پور محبت کا اظہار کر چکے ہیں۔ محمود اچکزئی کی بات تو چھوڑیے اُنہوں نے تو پاک افغان 
سرحد کو بھی متنازع بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور بظاہر نواز شریف کی حمایت سے بیرونی اثرات کی غلامی کو اپنے گلے لگا لیا ہے لیکن کیا مولانا فضل الرحمٰن بھول گئے ہیں کہ سوات اور وزیرستان میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جسے افواج پاکستان نے اپنے سنہری افسروں اور جوانوں کی شہادتوں سے بحال کیا ہے۔ کیا اغیار کے ایجنٹوں نے بلوچستان سے وزیرستان اور مالاکنڈ سے سوات تک حساس اسلحہ ، دہشت اور ہیبت سے خود اپنے عوام کو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کیا تھا، لیکن پاکستان فوج نے وزیرستان اور سوات کے شہریوں کی مدد سے سے ہی غیر ملکی دہشت گردوں سے فاٹا کے عوام کو رہائی دلانے میں غیر معمولی قربانیاں دینے سے گریز نہیں کیا جس میں فاٹا کے عوام کا جذبہ حب الوطنی بہرحال شامل رہا ہے تو کیا اب فاٹا کے عوام کو کالے قوانین سے نجات دلانے اور جمہوری سہولتوں سے بہرہ مند کرنے کا وقت نہیں آیا ہے؟ مولانا فضل الرحمٰن اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی میں جب بھارتی افواج نے جموں و کشمیر میں بے گناہ کشمیروں کا خون بہانا شروع کیا تو یہ سوات، کوہستان اور وزیرستان کے جانباز ہی تھے جنہوں نے کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم روکنے کیلئے قربانیاں دینے سے گریز نہیں کیا ۔ یہ وہی سنہرے بدن ہیں جنہوں نے کشمیر کے علاوہ افغان جہاد میں بھی افواج پاکستان کے ہمراہ باطل کا بے خوفی سے مقابلہ کیا تھا۔ آج انہیں اگر جمہور کے ثمر سے نوازا جا رہا ہے تو یہ اُن کی پاکستان کیلئے خدمات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے ۔ 
 

image

موجودہ دور میں ہم یورپ کو اس کی جغرافیائی حدود اُس کے ملکوں، اُن میں بسنے والی اقوام بولنے والی زبانوں اور بہ حیثیت مجموعی اُس کی تہذیب و کلچر کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتے ہیں، لیکن تاریخ میں یورپ کا تصور بدلتا رہتا ہے۔ مختلف ادوار اسے مختلف پہلوؤں سے دیکھا گیا ہے یورپ کے اس بدلتے تصور کے بارے میں (Kevin Peter Bugge) کیون پیٹربگ نے اپنی کتاب ’’یورپ کے بارے میں تاریخ کا بدلتا تصور‘‘ میں اُن اہم مرحلوں کا ذکر کیا ہے، جن میں یورپ کے بارے میں ایک نیا تصور تشکیل پاتا ہے۔ مثلاً ہم تاریخ میں سب سے پہلے مغرب اور مشرق کے درمیان فرق کو ہیروڈوٹس کی کتاب میں پاتے ہیں۔ ہیروڈوٹس مشرق اور مغرب کے تضاد کو یونان اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ اُس وقت وہ مغرب کو یونان اور اُس کی نوآبادیات میں محدود کر دیتا ہے اور ایران اُس کے نزدیک مشرق کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان جس فرق کو وہ محسوس کرتا ہے وہ یونان کے معاشرے کی آزادی(Freedom) اور ایران کا استبدادی نظام (Despotism) ہے۔ ہیروڈوٹس کا یہ فرق کسی نہ کسی شکل میں آج تک جاری ہے کیونکہ مغرب خود کو جمہوریت اور فرد کی آزادی کا مرکز سمجھتا ہے جب کہ مشرقی ملکوں کو مطلق الغانیت (Oriental Despotism) کا مظہر قرار دیتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے تحت جب یورپی ملکوں نے ایشیا اور افریقا کی اقوام کو شکست دے کر اُن پر اپنا تسلط قائم کیا تو مغرب کے دانشوروں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ایشیائی عوام جبر اور تشدد کے عادی ہیں اس لیے ان پر استبدادی نظام کے تحت حکومت کرنی چاہیے۔ یورپ کی دوسری شکل اُس وقت اُبھرتی ہے جب یورپ کی اقوام آہستہ آہستہ ارتقائی عمل کے تحت عیسائیت قبول کر لیتی ہے اور چرچ کی بالادستی کے نتیجے میں پوپ اُس کا روحانی سربراہ ہو جاتا ہے۔ روحانیت کے ساتھ ساتھ وہ سماجی اور سیاسی اختیارات کو بھی حاصل کر لیتا ہے اور کیتھولک چرچ ایسے تمام مذہبی فرقوں کو کچل دیتا ہے جو اُس کے خلاف تھے۔ عیسائیت کی حدود مشرقی یورپ تک پھیلیں اور وہ ملک جو عیسائیت سے باہر تھے، اُنہیں زبردستی عیسائی بنا کر عیسائیت کے اتحاد کو قائم کیا۔ عہدِ وسطیٰ میں یورپ کا عیسائی تصور اُبھرا۔ اس کی تمام جامعات چرچ کے تحت تھیں چاہے ادب ہو یا آرٹ یا موسیقی یہ تمام مذہبی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا عملی کردار ادا کرتی تھیں۔ نئے خیالات کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اگرچہ یورپی ملکوں میں جنگیں ہوتی رہیں لیکن عیسائی عقیدے نے تمام یورپی ملکوں کو آپس میں جوڑے رکھا تھا۔ اگرچہ اس مذہبی اتحاد نے 1517ء میں اس وقت دراڑیں پڑیں، جب لوتھر نے پوپ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اصلاح مذہب کی تحریک شروع کی۔ اس نے یورپ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا یعنی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ۔ یورپ کی تیسری شکل اُس وقت اُبھری جب نشاۃ ثانیہ کی تحریک آئی۔ اس نے عہدِ وسطیٰ کے یورپ اور چرچ کی بالادستی کو چیلنج کیا اور یورپی تہذیب کی بنیادیں یونانی اور رومی تہذیبوں میں تلاش کیں۔ یورپی سماج جو اب تک مذہبی تسلط میں تھا، اس میں سیکولر نظریات کی ابتدا ہوئی۔ روشن خیالی کی تحریک نے فلسفہ، ادب، موسیقی اور آرٹ کو مذہب کی گرفت سے آزاد کر کے انہیں نئی زندگی اور تازگی دی۔ جب 1789ء میں فرانسیسی انقلاب آیا تو اس نے نئے خیالات کو جنم دیا۔ جس میں قوم پرستی سیکولرازم، سوشل ازم، جاگیرداری اور بادشاہت کا خاتمہ اور عوامی فوج کی تقسیم اہم بنیادیں تھیں، جن سے پورا یورپ متاثر ہوا۔ اگرچہ نپولین نے اس بات کی کوشش کی کہ تمام یورپ کو فتح کر کے اُسے فرانس کے تصور کے تحت متحد کیا جائے۔ مگر قوم پرست تحریکوں نے اس اتحاد کو قائم ہونے نہیں دیا۔ اس کے نتیجے میں یورپ کے ملکوں میں قوم پرستی کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ صنعتی اِنقلاب نے نوآبادیاتی نظام کو پیدا کیا اور جب اِن اقوام میں سیاسی اختلافات اُبھرے تو طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے یورپی ملکوں کے درمیان مختلف معاہدے ہوئے۔ یہ معاہدے امن برقرار نہیں رکھ سکے اور یورپ کو پہلی اور دوسری جنگوں کی خون ریزی سے گزرنا پڑا۔
یورپ کی تاریخ میں فرانس اور جرمنی کے درمیان ہمیشہ سے تضاد رہا ہے۔ تحریک نشاۃ ثانیہ کے بعد فرانسیسی تہذیب کا ابھار ہوا جو لوئس چہارم تک جا کر پختگی میں آیا۔ اس عہد میں یورپی اقوام کی اشرافیہ فرانسیسی زبان بولتی تھی اور اپنی زبانوں سے نفرت کرتی تھی، لیکن پہلی اور دوسری جنگوں کے بعد اُس کا یہ تہذیبی تسلط ٹوٹا۔ جرمنی جو 1871ء میں متحد ہوا، اُس کے فلسفیوں اور مفکروں نے جرمن تہذیب میں اُن عناصر کی تلاش کی جو اُسے فرانسیسی تہذیب کے مقابلے میں ممتاز کر سکے۔ مثلاً جرمن مفکرین نے سویلائزیشن (Civilization) اور کُلطور (Kultur) کے درمیان فرق کو نمایاں کیا۔ اُن کے نزدیک سویلائزیشن کا فرق فرانس میں اٹھارویں صدی سے استعمال ہونا شروع ہوا اور وقت کے ساتھ فرانس تہذیبی لحاظ سے پسماندہ ہوتا چلا گیا۔ لہٰذا وہ تہذیب کو اُس کے مادی وسائل سے منسلک کر کے دیکھتے ہیں۔ جبکہ کُلطور کے تعلق انسانی روح کی نشوونما سے ہے۔ اس نے جن نظریات کو جنم دیا اُن میں گہرائی ہے اور ان میں وہ قوت اور توانائی ہے جو معاشرے کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کو ہیگل روح اثر کا نام دیتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ نظریاتی طور پر کمیونسٹ اور سرمایہ دارانہ حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ جب روس کے انقلاب کے بعد سرحدیں ٹوٹیں تو مشرقی اور مغربی ممالک ایک دوسرے کے نزدیک آتے چلے گئے اور اب ایک بار پھر یہ کوشش ہوئی ہے کہ یورپی یونین کے تحت تمام ملکوں کو متحد کر کے یورپ کو ایک نئی شکل دی جائے تاکہ وہ موجودہ تقاضوں کے تحت اپنا کردار ادا کر سکے۔
یورپ کی ان تمام بدلتی ہوئی شکلوں میں ہم کلچر کے عنصر کو مختلف اقوام کے ہونے کے باوجود اُس کو ایک متحدہ یورپی شکل میں دیکھتے ہیں۔ جب کسی بھی یورپی ملک میں ادب، آرٹ، موسیقی، فن تعمیر اور مجسمہ سازی میں نئی ایجادیں ہوتی ہیں تو جلد ہی وہ تمام جغرافیائی سرحدیں توڑ کر یورپی ملکوں میں پھیل جاتی ہیں۔ جو یورپی کلچر کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر کسی دانشور کو اپنے ملک میں پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ تو وہ بآسانی کسی دوسرے ملک میں پناہ لے لیتا ہے۔ اگر کسی دوسرے ملک میں سنسرشپ کی پابندیاں ہوں تو کتابیں اور رسالے ہمسایہ ملکوں سے چھپ کر سمگل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا یورپ کی تہذیبی ترقی میں مشکلات کے باوجود رکاوٹیں نہیں آئیں۔
 

image

امریکی اپنے آپ کو لاکھ مہذب کہیں لیکن تہذیب کا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی فساد ، دہشت گردی اور خونریزی ہو رہی ہے اس میں کسی نہ کسی طرح امریکا کا ہاتھ ہے اور اندرونِ امریکا بھی کم و بیش روزانہ تعلیمی اداروں میں فائرنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ 20 مئی کی خبر کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں فائرنگ کے متعدد واقعات ہوئے جن میں 21  افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے اور ان میں سب سے ہلاکت خیز واقعہ ٹیکساس کے سانتا فی ہائی سکول کا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے امریکا کی دوسری بڑی ریاست ٹیکساس قاتلوں، دہشت گردوں اور غارت گروں کی ریاست بن کر رہ گئی ہے۔ ٹیکساس کا سب سے بڑا قاتل جارج واکر بُش ہے جو افغانستان اور عراق کے کم از کم بیس لاکھ مسلمانوں کا قاتل ہے۔ 2006ء میں بولیویا (جنوبی امریکا) کے پہلے ریڈ انڈین صدر ژوان ایوو مورالس آئما نے بر ملا کہا تھا: ’’میں دنیا میں ایک ہی دہشت گرد سے واقف ہوں اور اس کا نام جارج بُش ہے۔‘‘ 
22 نومبر 1963ء کو امریکا کے واحد کیتھولک صدر آئرش نژاد جان فٹز جیرالڈ کینیڈی کھلی کار میں ڈلاس (ٹیکساس) میں اپنی اہلیہ جیکولین کے ہمراہ طرفین کے تماشائیوں سے داد وصول کرتے جا رہے تھے کہ ایک عمارت سے گولیوں کی بوچھاڑ آئی جس سے کینیڈی ہلاک ہو گئے۔ قاتل لی ہاروے اوسوالڈ سابق میرین فوجی ایک پُرجوش کمونسٹ تھا۔ وہ پکڑا گیا اور اس پر قتل کی فرد جرم عائد کی گئی مگر دو دن بعد جب اسے کائونٹی جیل منتقل کیا جا رہا تھا ، اسے ایک نائٹ کلب کے مالک جیک روبی نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جیک روبی پر قتل کے الزام میں مقدمہ چلا۔ وہ 1967ء میں جیل میں وفات پا گیا جبکہ وہ ازسرِ نو مقدمہ چلائے جانے کا منتظر تھا۔ جسٹس وارن کمیشن نے قرار دیا تھا کہ صدر کینیڈی کا واحد قاتل اوسوالڈ ہی تھا۔ جیکولین نے بعد میں یونانی ارب پتی اوناسس سے شادی کر لی ۔
مشرقی ٹیکساس کے شہر واکو (Waco) میں 1993ء میں شاخ دائودی (Branch Davidian) نامی فرقے کے پیرو کار ایک عمارت میں قلعہ بند ہو گئے تھے۔ 28 فروری1993ء کو فورسز نے عمارت پرناکام دھاوا کیاجس میںچار فیڈرل ایجنٹ مارے گئے، محاصرہ 51 دن جاری رہا حتیٰ کہ 19 اپریل کو عمارت نذرِ آتش کر دی گئی۔ 70 محصورین عمارت میں جل مرے۔ 11 گرفتار ہوئے جن پر چار وفاقی ایجنٹوں کے قتل کا مقدمہ چلا، تاہم فروری 1994ء میں وہ سب بری ہو گئے۔
18مئی 2018ء کو ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے قریب سانتا فی ہائی سکول میں سترہ سالہ نوجوان دمتریوس نے اندھا دھند د فائرنگ کر کے ایک استاد سمیت دس طلبا و طالبات کو ہلاک اور دس کو زخمی کر دیا۔ قاتل اسی سکول کا طالبعلم تھا۔ ٹی وی چینلز نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لیے گئے شاٹس میں دکھایا کہ سکول کے طلبا مسلح پولیس اہلکاروں کے سامنے اپنے بیگز خالی کر رہے تھے کہ پولیس کسی قسم کے اسلحے یا بارودی مواد کی عدم موجودگی کو یقینی بنانا چاہتی تھی۔ زخمیوں اور لاشوں کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ 
طلبہ نے بتایا کہ صبح آٹھ بجے فائر الارم بجنے لگا، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ فائر الارم کیوں بجا۔ سکول کے نئے طالبعلم ایوان سان میگوئل نے کہا کہ جمعے کی صبح میں اپنی آرٹ کلاس میں تھا کہ ایک طالبعلم کلاس میں آ دھمکا اور چلایا: ’’سرپرائز!‘‘ پھر وہ اچانک فائرنگ کرنے لگا۔ میں خوفزدہ ہو گیا اور میں نہیں جانتا تھا کہ گھر بھاگ جائوں یا نہیں۔آرٹ کلاس کی ایک طالبہ نے بتایا کہ کوئی شاٹ گن لیے کلاس میں داخل ہوا تھا۔ اس کی فائرنگ سے ایک لڑکی کے گھٹنے میں گولی لگی۔ میں نے حملہ آور کی طرف نہیں دیکھا کیونکہ میں بھاگ کر چھپ گئی تھی۔ ایوان نے بتایا: ’’جب دمتریوس نے دروازہ کھول کر ساتھی طالبعلم کائل کو گولی ماری تو وہ ہمارے لیے سرپرائز ہی تھا۔ پھر اس نے ایک گولی بیچارے کائل کے سینے میں داغ دی۔ خود میرے کندھے کو چھوتی ایک گولی گزر گئی۔ ٹوٹا شیشہ لگنے سے میرا گھٹنا زخمی ہوا۔ جب قاتل کلاس روم سے نکل گیا تو ہم نے دروازے کے آگے بنچ لگا کر اسے بند کر دیا حتیٰ کہ پولیس آن پہنچی۔‘‘
بیلی سوبنو سکی سکول کے عقب میں تھی جب اس نے فائرنگ کی آواز سنی۔ اسے سکول میں تین ماہ پہلے کی ایک فائرنگ کا تجربہ تھا، لہٰذا وہ بھاگ نکلی اور سڑک پار کر کے ایک قریبی گیس سٹیشن میں جا پناہ لی۔ سولہ سال کی سوبنوسکی صدمے سے دوچار رہی۔ اس نے بتایا : ’’مجھے لگتا ہے کہ اس طرح سوسائٹی تباہ ہو جائے گی اور حالات کا معمول پر آنا مشکل ہو گا۔ میں قاتل کو تو نہیں جانتی مگر میں نے اسے سکول کے اندر آتے جاتے دیکھا تھا۔ وہ دیکھنے میں شریف لڑکا لگتا تھا، تاہم اس کے زیادہ دوست نہیں تھے۔‘‘ جب وہ یہ بتا رہی تھی تو اس کا باپ جس کے سر پر چمکیلا کائو بوائے ہیٹ تھا، تمباکو چباتے ہوئے سڑک کے کنارے بار بار تھوک رہا تھا۔ 
سوبنوسکی کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کے خاندان کا تعلق مشرقی یورپ کے کسی ملک سے ہے اور قاتل دمتریوس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
سانتا فی ہائی سکول کے باہر قریبی کلیئر فالز ہائی سکول کی گریجوایٹ لڑکی مقتولین سے ہمدردی کے پھول رکھنے اپنی سہیلی کے ہمراہ آئی ہوئی تھی۔ 20 سال کی کیلی کیسی نے بتایا: ’’ہم کولمبائن سکول اور سینڈی ہُک سکول میں قتلِ عام کے سانحات کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ اب ویسا ہی سانحہ یہاں پیش آ گیا۔‘‘ مذکورہ دونوں امریکی سکولوں میں حالیہ برسوں میں فائرنگ سے ہلاکت خیزی کے ہولناک ترین واقعات پیش آئے تھے۔ علاوہ ازیں چھ ماہ پہلے جنوبی ٹیکساس کے شہر سان انٹونیو کے قریب ایک گرجے میں ایک شخص نے وحشیانہ فائرنگ کر کے 25 افراد ہلاک کر دیے تھے جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں۔
 سانتا فی ہائی سکول کی فائرنگ میں ایک پاکستانی لڑکی بھی شہید ہوئی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی سبیکہ عزیز سٹڈی ایکسچینج پروگرام کے تحت ٹیکساس گئی ہوئی تھی اور 9 جون کو اسے پاکستان واپس آنا تھا، مگر دمتریوس کی فائرنگ نے اس کی بھی جان لے لی۔ سبیکہ کے والد عبدالعزیز شیخ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا: کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج اینڈ سٹڈی سکالر شپ پروگرام کے لیے چھ ہزار طلبہ و طالبات میں سے 75 کو منتخب کیا گیا تھا جن میں سبیکہ بھی شامل تھی۔ وہ تین بیٹیوں میں سب سے بڑی تھی اور گزشتہ سال 21 اگست کو دس ماہ کے لیے امریکا گئی تھی۔ مجھے سانتا فی سکول میں فائرنگ کی اطلاع گزشتہ روز افطار کے بعد ملی۔ ہم نے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر سبیکہ نے فون نہیں اٹھایا۔ ایک دن پہلے فون پر اس سے بات ہوئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ وہ سب کے لیے تحائف لے کر آئے گی ۔‘‘ لیکن اے بسائے آرزو کہ خاک شدہ۔۔۔ اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے سبیکہ کے اہل خانہ سے بذریعہ فون تعزیت کا اظہار کیا۔
ریاست ٹیکساس کا رقبہ 2, 68, 596  مربع میل ہے اور آبادی 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس کا دارالحکومت آسٹن ہے۔ ٹیکساس کے مشرق میں ریاست لوئزیانا ، شمال مشرق میں ریاست آرکنساس، شمال میں ریاست اوکلاہوما، مغرب میں ریاست نیو میکسیکو، جنوب مشرق میں خلیج میکسیکو اور جنوب میں ملک میکسیکو واقع ہیں۔ دریائے ریو گرانڈے ٹیکساس میکسیکو سرحد پر بہتا ہے جبکہ دریائے ریڈ ٹیکساس کی شمالی سرحد بناتا ہے۔ 1682ء سے ٹیکساس میں ہسپانوی جانے شروع ہوئے۔ اس وقت یہاں کئی ریڈ انڈین قبائل رہتے تھے۔ ہسپانویوں نے ان قبائل کو کھدیڑ کر ٹیکساس کو بھی اپنی کالونی میکسیکو میں شامل کر لیا۔ 1821ء میں میکسیکو نے سپین سے آزادی حاصل کر لی اور پندرہ سال بعد 1836ء میں میکسیکو کے خلاف ٹیکساس نے بغاوت کر دی اور یہ ایک آزاد ملک بن گیا۔ ٹیکساس کا فاتح جرنیل سیم ہیوسٹن صدر ٹھہرا۔ پھر 1845ء میں امریکا نے چکر چلا کر ملک ٹیکساس کو نگل لیا اور اسے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ضم کر لیا گیا۔ امریکا میں تیل کا پہلا کنواں بھی ٹیکساس میں کھودا گیا تھا، ان دنوں ٹیکساس کی تیس فیصد آبادی سیاہ فام افریقی غلاموں پر مشتمل تھی۔ ٹیکساس میں تیل کی صنعت آج بھی سب سے بڑی صنعت ہے۔
ملحوظہ: اخبارات میں سانتا فی سکول میں شہید ہونے والی پاکستانی لڑکی کا نام ’’سبیکا‘‘ چھپا جبکہ درست نام ’’سبیکہ‘‘ ہے۔ عربی نام سبیکہ کے معنی ہیں ’’سونے کی ڈلی‘‘۔ سبیکہ کی جمع سبائک ہے، چنانچہ عربوں کے انساب کی مشہور کتاب کا نام ’’سبائک الذہب‘‘ ہے۔ ایسے ہی فضّہ نام ہے جسے بگاڑ کر ’’ فضا‘‘ لکھا جاتا ہے۔’’ فضہ‘‘ کا معنی ہے چاندی اور’’ ذہب‘‘ کا معنی ہے سونا۔ لیکن ہمارے ہاں ذہب سے عربی نام ذُہیب کو بگاڑ کر ذوہیب یا زوہیب لکھا جاتا ہے۔
 

image

گزشتہ دنوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار سمیت اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں افغان امن مذاکرات، افغان مہاجرین کی واپسی، ریل روڈ منصوبوں اور دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے، ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز اور ویزا پالیسی آسان بنانے پر اتفاق ہوا۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے پلان سے بھی آگاہ کیا ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغان مسئلہ کا فوجی حل ممکن نہیں، مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے افغان صدر کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم بھی کیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورے کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے ذریعے بہت سے اقدامات کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ امن مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بھی بعض اقدامات کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے امید ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔ امید کرنی چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے آگے بڑھیں گے اور بار بار الزام تراشیوں کا تبادلہ نہیں ہو گا، جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت بڑی وسیع ہے لیکن بہت سی اشیا یہاں سے سمگل ہو کر افغانستان جاتی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت معروف تجارتی راستوں اور بین الاقوامی طور پر مروجہ طریقوں سے ہو۔ سال ہا سال تک گندم پاکستان سے سمگل ہو کر افغانستان جاتی رہی ہے۔ اب تو کئی سال سے پاکستان گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہے لیکن جب پاکستان کو گندم باہر سے درآمد کرنا پڑتی تھی۔ اس وقت بھی افغانستان کی گندم کی ضروریات پاکستان سے ہی پوری ہوتی تھیں، اب اگر پاکستان کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور نئی بمپر فصل آنے کی بھی امید ہے تو افغانستان کو گندم بر آمد کرنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کرنا چاہیے تاکہ افغان عوام کی غذائی ضروریات پوری ہوں اور اس تجارت کا پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے، افغان برآمدات پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ کر کے بھی پاکستان نے خیر سگالی کے جذبے کا مظاہرہ کیا اور گندم کا جو عطیہ دیا اس سے بھی افغان عوام کی تالیف قلب میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ 
افغان حکومتوں کا یہ مسئلہ ہمیشہ سے ہے کہ وہ بھارت کے سحر سے نکل کر آزادانہ فیصلے نہیں کر پاتیں کیونکہ بھارتی رہنماؤں نے کمال مکاری سے کام لے کر افغان عوام کے ذہنوں میں یہ تصور راسخ کر رکھا ہے کہ پاکستان افغانستان کا دشمن ہے، وہ افغان حکومتوں کو پاکستان کے خلاف گمراہ کن تصورات میں الجھا کر اسے پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے بھارت میں تربیت یافتہ دہشت گرد بھی افغانستان کے راستے ہی پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اس لیے تعلقات کے نئے عہد کا آغاز کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ افغان حکام بھارتی جال سے نکلیں اور گمراہ ہو کر ایسے فیصلے نہ کریں جن سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن نہ ہو سکیں، بھارتی حکام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ دونوں ملک آپس میں کسی نہ کسی تنازعے میں الجھے رہیں اور جب کبھی تعلقات کی بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے بھارتی حکام فوراً متحرک ہو جاتے ہیں اب تو بھارت کو امریکا کی اشیرباد بھی حاصل ہو چکی ہے اور وہ اسے ’’افغانستان میں وسیع تر کردار‘‘ بھی سونپ چکا ہے اگر یہ بھارتی کردار خطے کے امن کے لیے سازگار ثابت ہو تو اس کا خیر مقدم کیا جائیگا لیکن اگر یہ مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید گمبھیر بنادے تو ایسے کردار کا کیا فائدہ؟
 دونوں ممالک نے ان امور پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی سے گریز کیا جائے گا۔ ویزہ پالیسی آسان بنائی جائے گی، دونوں ممالک سلامتی کے لیے خطرہ اور مفاہمت پر آمادہ نہ ہونے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر اشرف غنی کے مابین ملاقات میں باہمی تجارت اور علاقائی رابطے سمیت پاک افغان تعلقات پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔ اسی طرح کاروباری لحاظ سے ایک دوسرے سے جڑے رہنے اور خطے میں اقتصادی حوالے سے دونوں ممالک کے سربراہوں نے ریلوے اور روڈ رستوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔ اسی طرح پاکستان، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کو آپس میں ملانے کے حوالے سے ریل، روڈ، گیس پائپ لائن اور توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اقتصادی معاملات کو آگے بڑھاتے ہوئے چمن، قندھار، ہرات ریلوے لائن، دوسری جانب پشاور کابل موٹروے رابطے کے منصوبوں کو آگے لے جانے پر اتفاق آنے والے وقتوں میں مزید بہتر تعلقات کی جانب گامزن ہو سکیں گے۔ 
یہ امر حقیقی ہے کہ ریلوے لائن کوئٹہ سے افغانستان اور پھر وہاں سے سنٹرل ایشیا تک جا سکتی ہے اور اسی طرح پشاور اور کابل تک موٹر وے جیسے منصوبوں کے پایہ تکمیل ہونے سے بھی علاقائی طور پر نزدیکی مزید تیز ہو جائے گی۔ آپس میں جڑت سے فاصلے مٹیں گے اور اسی طرح دلوں کے فاصلے بھی قریب قریب ہوں گے۔ کچھ عرصہ قبل دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات میں دوری رہی اور بات چیت نہ ہونے کی بنا پر غلط فہمیوں نے جگہ لی۔ جس سے ایسی فضا قائم ہوئی جو دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کا باعث بنی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پاک افغان تعلقات خطے کیلئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح دونوں ممالک کے مذاکرات ازحد ضروری ہیں کہ پاک افغان بہتر تعلقات سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔اس سے پہلے بھی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاک افغان تعلقات کو بہتر قرار دیا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے۔ پاکستان سے زیادہ کوئی ملک افغانستان میں امن کا خواہش مند نہیں۔پاکستان نے پہلی بار افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانی شروع کی ہے۔قندوز میں مدد سے پر حملے جیسے واقعات وزیر اعظم نے شدت پسندی اور بنیادی پرستی کا سبب قرار دیا۔پاکستان نے ہمیشہ انتہا پسندی کا مقابلہ کیا اور اب تک کر رہا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان ہوئیں۔ ضرب عضب ، ردالفساد اور دیگر آپریشن شہروں ،سرحدی اور قبائلی علاقوں میں کیے گئے۔پاکستان نے بے مثال ترقی حاصل کی ہے۔افغانستان میں جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے پاکستان مصالحت کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔جنگ افغانستان میں امن نہیں لاسکتی،پاکستان میں بدامنی کی وجہ افغانستان میں عدم استحکام ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات سے یہاں موجود دہشت گردوں کا خاتمہ یقینی ہو جائے گا۔سرحدی مینجمنٹ میں بہتری،دفاعی وسفارتی وسیاسی تعلقات کے توسط دونوں ممالک کی آپس کی دوریاں ختم ہو سکتی ہیں۔دونوں ممالک کے آپس میں شکوک وشہبات اور الزام تراشیوں سے دُشمن قوتیں فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں جو کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہر گز نہیں ہیں۔پاک افغان سر براہان کی ملاقات سے دونوں ممالک کی دوریاں ختم ہوں گی،ان ملاقاتوں کے دورس نتائج بر آمد ہوں گے۔خطے میں کچھ طاقتیںپاک افغان تعلقات کو بہتری کی جانب بڑھتے نہیں دیکھنا چاہتی،تاہم اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک میں دہشت گردی کے خاتمے اور ایک خوشحال دور کی شروعات ہو چکی ہے۔دونوں ممالک کی امن وامان کی صورتحال اور خوشحالی ایک دوسرے سے منسلک ہے۔دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر مسائل سے نمٹنا چاہیے۔جبکہ پاکستانی حکام نے گزشتہ چند ماہ میں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی اہلکاروں کو باور کرایا ہے کہ اگر اس کی سلامتی کو لاحق خطرات کو امریکانے اہمیت نہ دی تو امریکہ سے تعاون محدود کیا جا سکتا ہے۔
 

image

 میڈیا ڈویلپمنٹ کا تصور بظاہر آسان سا لگتا ہے ۔یعنی آسان لفظوں میں کہہ لیجیے میڈیا معاشرے کی ترقی میں کیسے اپنا کردار اداکرسکتا ہے۔
 میڈیا ڈویلپمنٹ تھیوری کے مطابق میڈیا اور حکومت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کرتے ہیں،اسی طرح آگے چل کر یہ تھیوری اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ میڈیا ملک کی ترقی میں کردار ادا کر رہا ہے۔اس تصور کا وجود میں آنا کچھ ممالک کے ملتے جلتے ترقی کے حالات کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ تھیوری اس بات پر زور ڈالتی ہے کہ جب تک کسی ملک کی قوم کی حالت اور اس کے معاشی حالات اچھے نہ ہوں تب تک میڈیا کو حکومت پر تنقید کرنے کی بجائے قوم کو سہارا دینا چاہیے۔
ڈویلپمنٹ تھیوری کے کچھ اہم نکات اس کی اہمیت بخوبی واضح کرتے ہیں
میڈیا کو قومی ثقافت اور زبان کو ترجیح دینی چاہیے۔
میڈیا کی آزادی معاشی ترجیحات اور معاشرے کی ترقیاتی  ضروریات سے وابستہ ہونی چاہیے۔
میڈیا کو ترقیاتی کاموں کو قومی ضرورت کے طور پر قبول کر لینا چاہیے
میڈیا تبدیلی کا عامل ہے اور اسے ترقی اور تبدیلی کے لیے کام کرنا چاہیے۔
میڈیا کے پیشہ ور افراد کو بخوبی معاشرے کی ترقیاتی ضروریات کے لیے اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
میڈیا کو ثقافتی اور جغرافیائی رو سے ملک کے نزدیک ہونے والی ترقیاتی سرگرمیوں کو کوریج دینی چاہیے۔
  میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی ترویج کو اپنا مقصد بنائے۔
میڈیا کی آزادی، معاشی ترجیحات اور ترقی کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھنا۔میڈیا اپنی کوریج میں اپنی قومی ثقافت اور زبان کو فروغ دیں۔
میڈیا ان ممالک کی خبروں اور معلومات کو ترجیح دے جو ترقی پزیر ہیں اور جغرافیہ، ثقافت اور سیاست میں اس ملتے جلتے ہوں۔
 میڈیاکی ذریعے مثبت ترقی کے کردار کو اجاگر کرنا۔
سوسائٹی کے مثبت پہلوئوں کو پروان چڑھائے۔
میڈیا کو معاشرے کی مثبت تبدیلی اور ترقی و نشوونما کے لیے کام کرنا چاہیے، یہ تھیوری میڈیا کی آزادی کا احترام بھی کرتی ہے لیکن ساتھ ہی میڈیا کی آزادی کی سامنے کچھ حدیںبھی باندھ دیتی ہے۔ یہ میڈیا کو مکمل طور پر آزاد نہیں کرتی یہ میڈیا سے توقع کرتی ہے کہ وہ صرف ایک مقصد کی جانب ہی بڑھے گا جس کا نام ہے ’’معاشرے کی ترقی‘‘۔یہ کھلی حقیقت ہے تھیورسٹ، سکالرز اور ریسرچرز میڈیا کے اثرات اور اس کے پیغامات سے متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن میڈیا اپنے سامعین کے دماغوں پر نشانات چھوڑتا ہے۔
میڈیا ڈویلپمنٹ تھیوری مزید بتاتی ہے کہ میڈیا مثبت استعمال اور قومی ترقی کے لیے ہے اور میڈ یا کو اپنا کام مزید ذمہ داری کے ساتھ اپنا نبھانا چاہیے۔ یعنی میڈیا کو لوگوں اور افسرشاہی کو ترقیاتی امور کی طرف راغب کرنے میں حصہ ڈالنا چاہیے۔۔ میڈیا اور حکومت کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔  حکومت میڈیا کی سرگرمیوں پہ نظر رکھ سکتی ہے، اس میں شائع ہونے والی ایسی خبریں جو ملکی مفاد کے خلاف ہوں، انہیں سینسر کر سکتی ہے۔ 
ڈویلپمنٹ میڈیا تھیوری کا مختلف ترقی پذیر ممالک میںمضبوط کردار ہوتا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس تھیوری کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، میڈیا میں اس تھیوری کے استعمال کے لیے مندرجہ ذیل امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
٭ معاشرے کی معیشت، سیاسی اور سماجی ترقی کو مدنظر رکھ کے میڈیا کوریج کرنا۔
٭ دوسری جگہ پر یہ دیکھنا ہے کہ کون سی چیزیں ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم ہیں، جیسے ٹیکنالوجی، پیشہ وارانہ مہارتیں اور ثقافتی پیداوار وغیرہ۔
٭ معاشرے کی معیشت، سیاسی اور سماجی ترقی کو مدنظر رکھ کے میڈیا کوریج کرنا۔
٭  دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کیساتھ اپنی پہچان بنانے کے لیے اس تھیوری کا استعمال ضروری ہے۔
یہ ساری باتیں دیکھی جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میڈیا کا مثالی ملک بنانے میں کردار بہت اہم ہے۔
آپ اپنے ملک کی صورتحال سے بھی واقف ہیں اورمیڈیا کے کام اور رعب سے بھی۔ہمارے ہاں مخفی یا کھلی اظہار کی پابندی کے باوجود میڈیا بہت طاقت حاصل کر چکا ہے۔ریاست کا چوتھا ستون باقی ستونوں سے زیادہ طاقتور لگتا ہے۔
یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی پزیرممالک کی فہرست میں شامل ہے اس لیے میڈیا کو تعلیم، صحت اور ماحولیات جیسے اہم مسائل کے خاتمے اور ملک کی بہتری کے لیے میڈیا اپنا کرداراداکرنا چاہیے۔سوال یہ ہے کیا میڈیا ایسا کرسکتا ہے؟
 

image

(آخری حصہ)
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ انجام ’’گلستاں‘‘ سے واقف نہیں؟ میں نے پھر فقرا کس دیا؟
فرمانے لگے، ہمیں اپنے ’’انجام‘‘ سے واقفیت نہیں تو ’’گلستاں‘‘ کی کہانی کیا سنائیں؟
میں بولا، آقائے دو جہاں ؐنے جو نسخہ کیمیا عطا کیا ہے اس میں تو مالک نے صاف کہہ دیا ہے کہ ’’قسم ہے زمانے کی انسان خسارے میں ہے‘‘ پھر تم دل چھوٹا کیوں کر رہے ہو؟
کہتے ہیں یہ بات بالکل درست ہے کہ انسان خسارے میں ہے، پھر مالک قدم قدم پر امتحان کیوں لیتا ہے، ہم دنیا دار بندے بھلا کیسے اس کے معیار پر اتر سکتے ہیں؟
میں نے ہنستے ہوئے کہا، ’’کیوں؟‘‘
غصے میں بولے، کہاں مالک۔ کہاں اس کا بندہ؟ تم جیسے چار جماعتیں کیا پڑھ لیتے ہیں ان کا ’’کیوں؟‘‘ ہی جان نہیں چھوڑتا۔ میڈیا اینکرز خود کو آسمانی مخلوق سمجھتے ہوئے ایسی ’’کیوں‘‘ کی تکرار کرتے ہیں کہ ان کے سامنے بیٹھے ’’صاحب منصب‘‘ بھی جاہل اور بے خبر سے محسوس ہوتے ہیں۔ مجھے کوئی ’’اینکر‘‘ اس بات کا جواب دے کہ ان کی ’’بحث‘‘ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، بھلا یہ ملک و ملت کی کون سے خدمات انجام دے رہے ہیں؟
میں نے کہا، بات دراصل یہ ہے کہ ہم ہر معاملے میں ’’کیوں‘‘ کی تخلیق تک جانے کے بجائے اپنی عقل و دانش سے ’’نان ایشو‘‘ پر زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں۔ ہمیں جہان میں مطمئن زندگی گزارتے ہوئے مالک کائنات کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ’’اشرف المخلوقات‘‘ بنایا، لیکن ہم ’’بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘ سے آگے بڑھنے کے بجائے اتنی ہی بات میں الجھ کر بات ختم کر دیتے ہیں تو پھر کامیابی کا راستہ ہمیں کیسے ملے گا؟ نسخہ کیمیا میں کوئی بات ادھوری نہیں، اس لیے اگر اس سورۃ کو ترجمے کے ساتھ، خسارے کے لفظ کو ’’کیوں‘‘ کی سوچ کے ساتھ، پڑھا جائے تو مکمل بات واضح ہو جائے گی۔ ’’قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان گھاٹے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘۔ مختلف تراجم میں اس ترجمے کے لفظوں میں معمولی فرق بھی ملتا ہے لیکن ’’خسارے اور گھاٹے‘‘ پر کیوں کا مفصل جواب موجود ہے۔ میری کوشش پوری ذمہ داری سے بات واضح کرنے کی ہے۔ پھر بھی ’’ٹو ٹو میاں‘‘ کا اصرار رہا کہ مسجد کا مولوی تو ہمیں صرف ڈراتا 
ہے کہ اللہ جبار ہے، قہار ہے اور روز قیامت ایسا دربار الٰہی لگے گا کہ بڑے بڑے دہل جائیں گے۔ میں نے حوصلہ دیا کہ محبوب خداؐ ہماری شفاعت کا باعث بنیں گے لیکن اس کی شرط یہی ہے کہ ہم نے ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہو؟ معاشرے میں تفرقہ ڈالنے کے بجائے بھائی چارے اور رواداری کی روایت کو جنم دیا ہو۔ اگر کھانے کمانے کیلئے دنیا میں آنے والی اولاد آدم ؑ نے توازن رکھا، جائز و ناجائز سے واقف رہا، صرف اتنا کھایا جتنی زندگی کی ضرورت تھی، جو کمایا اس میں ناجائز حربہ استعمال نہ کیا بلکہ پوری زندگی ’’کیوں‘‘ کو یاد رکھا تو معاملہ خود بخود حل ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا؟ نسخہ کیمیا کہتا ہے ’’عبادات الٰہی‘‘ کیلئے۔ سرور کونین حضرت محمدﷺ کی آمد کے بعد سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔ اس لیے دین مکمل کیلئے ایک جامع ضابطہ حیات قرآن مجید اور دین حق اسلام کے استحکام کیلئے اہلبیت کی محبت چھوڑ کر محبوب خدا، وجہ خلق کائنات دنیا سے زمانہ جاہلیت کے تمام بتوں کو توڑ کر کفر کا نا صرف خاتمہ کر کے رخصت ہو گئے بلکہ نسل انسانی کو فلاح و بہبود کیلئے حق اور سچ کا راستہ بھی دکھا گئے۔ جونہی عبادات اور عمل صالح کا تذکرہ آتا ہے تو ہر مذہبی رہنما نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور توحید خدا کا درس دے کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کائنات کا مالک 70ماؤں جتنا پیار اپنے بندے سے کرتا ہے، لیکن ڈراتا دھمکاتا بھی خوب ہے۔ حالانکہ پیار کا جواب تو پیار سے ہی دینا چاہیے۔ کوئی خدا کو مانے یا اس سے بغاوت کر دے۔ اس کی بادشاہت پر کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ تو اپنے آپ سے پیار کے بجائے اپنی خلق سے محبت، پیار اور رواداری کا تقاضا کرتے ہوئے 
غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں سے توبہ کرنے کیلئے ہر وقت اپنے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ ’’بندہ‘‘ ہی اس قدر نکما ہے کہ وہ اپنی دنیاوی طاقت کے غرور تکبر میں اپنی بخشش کیلئے فکر مند نہیں، لیکن ’’امت مسلمہ‘‘ کے ہر فرد کا دعویٰ ہے کہ وہ امت محبوب خدا حضرت محمدﷺ ہونے کے ناتے معافی پا جائے گا، وہ یہ سوچنے کی بالکل کوشش نہیں کرتا کہ امتحان ’’کیوں‘‘ کا پیمانہ اور اس کے تقاضے تو کچھ اور ہیں۔ ’’اصول دین اور فروع دین‘‘ کی بجا آوری اپنی جگہ، لیکن اس کی ’’رضا‘‘ کے معاملات کچھ اور بھی ہیں، اگر ہم کیوں کی تکرار میں اپنے آپ سے سوال کریں کہ۔۔۔
٭کمزور کو کیوں دبایا؟
٭مال حلال میں حرام کیوں شامل کیا؟
٭حقدار کا حق کیوں غضب کیا؟
٭چاپلوسی اور رشوت کے زور پر ترقی کیوں کی؟
٭کسی اللہ کے بندے کا دل کیوں دکھایا؟
٭غریب، لاچار، مسکین اور یتیم کا مال کیوں ہڑپ کیا؟
٭زکوٰۃ و خیرات مستحقین تک کیوں نہیں پہنچائی؟
٭صاحبِ حیثیت ہوتے ہوئے مجبور اور بے کس کی مدد کیوں نہیں کی؟
٭ہمسایے سے سلوک و برتاؤ اچھا کیوں نہیں رکھا؟
٭منصب و اقتدار میں خلق خدا کی بھلائی میں کوتاہی کیوں کی؟
٭ہر سچ کو جھوٹ بول کر کیوں چھپایا؟
٭کسی رشتہ دار کی جائیداد پر قبضہ کیوں کیا؟
تو انسان کی دنیاوی حیثیت خواہ کچھ بھی ہو، معاملات خود درست سمت اختیار کر جائیں گے کیونکہ ایسے انداز میں ہم ہر ایسا کام کرنے کی کوشش کریں گے جس میں ’’کیوں‘‘ کی گنجائش نہیں رہے گی۔ ہر ایسا کام جس سے خوشنودیٔ مالک کائنات ہو، جس میں شرِ شیطان سے رحمٰن کا بندہ محفوظ اور پُر سکون رہے، معاشرہ فلاح پائے، کسی ’’عبادت‘‘ سے کم نہیں۔ آخر میں قول حضرت علیؓ  شیر خدا ’’جتنا تکبر انسان کے دل میں داخل ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس سے نکل جاتی ہے، اسی لیے کبھی بھی خود کو اتنا قیمتی مت سمجھنا کہ ہر کوئی تمہیں دل سے نکال دے کیونکہ جس چیز کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اکثر لوگ اسے چھوڑ دیتے ہیں‘‘۔ پھر بندۂ خدا تکبر اور حسد کیوں کرے؟
 

image

خلیج تعاون کونسل مشرق وسطیٰ میں خلیج عربی پر واقع متمول عرب ممالک کی ایک تنظیم ہے جو علاقائی معاملات پر مشترکہ تعاون کے لئے تشکیل دی گئی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک یونین کا روپ دھارنے کی تگ و دو میں مصروف ہے اسی سلسلہ کی ایک کڑی مشترکہ کسٹم سسٹم کا نفاذ ہے جس پر رکن ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔اس بات کی ضرورت اس لئے بھی محسوس کی جاری ہے کہ رکن ممالک اور دیگر ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 900ارب ڈالر سے بھی بڑھ چکاہے ،اسی طرح مشترکہ سیاحتی ویزا کی منظوری کی تجویز ہے جوبہت جلد نافذالعمل ہو جائے گی۔ خلیج تعاون کونسل کی اعلیٰ مشاورتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق اس فیصلہ کے نفاذ کے بعد اگر کوئی سیاح ان چھ خلیجی ممالک میں سے کسی ایک ملک کا ویزا حاصل کر لے تو بقیہ ممالک کا ویزا حاصل کرنے کی اسے ضرورت نہ ہو گی اور وہ ان چھ ممالک میں آزادانہ آمد و رفت رکھ سکتا ہے۔ مشترکہ سیاحتی ویزا کا مسئلہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے کونسل میں زیر غور ہے اس کی منظوری کے راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں میں سیکیورٹی اور غیر قانونی تارکین وطن کے مسائل  تھے جو اس ویزا سے غلط فائدہ اٹھا سکتے تھے۔چنانچہ ان خدشات کے پیش نظراس ویزا کے حصول کے لئے کمیشن کی سفارشات کے مطابق امیدوار کی مالی اور روزگار کی حیثیت کو لازماً دیکھا جائے گا اور اسی کے مطابق اسے ویزا دیا جائے گا۔ اس فیصلہ میں یہ بات بھی زیر غور ہے کہ پہلے مرحلہ میں ایسے منتخب ممالک کے شہریوں کے لئے اس ویزا کا اجرا کیا جائے گا جو سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم ہیں اور ان کے خلیجی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔
خلیجی ممالک کی مشترکہ ویزا کی اس کوشش کو اس خطہ کو ایک یونین کی صورت میں ڈھالنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان ممالک کے درمیان مشترکہ کرنسی کی بھی تجویز کافی عرصہ سے زیر غور ہے، لیکن چند مسائل کی وجہ سے ابھی تک یہ معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ مشترکہ ویزا کی اس پالیسی سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ اس خطہ کے ممالک اپنی معیشت کو مختلف میدانوں میں توسیع دینا چاہتے ہیں اور وہ علاقائی معیشت کو تیل اور گیس پر منحصر کرنے کے بجائے اس خطہ کو ایک سیاحتی مرکز بنانے کے لئے بھی سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔ سلطنت عمان پہلے ہی سے سنگل ویزا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دبئی سے اگر کوئی سیاح عمان آنا چاہے تو اسے علیحدہ سے دوسرا ویزا لینے کی ضرورت نہیں اور وہی سابقہ ویزا پر ہی عمان گھوم پھر سکتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ عمان اپنی ایوی ایشن کی صنعت کو بڑھا رہا ہے چنانچہ وہ وہاں مزید نئے ایئر پورٹس بھی تعمیر کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں سڑکوں کا نظام بھی مزید بہتر کیا جا رہا ہے، ساتھ ساتھ شاپنگ مالز اور پانچ تین الاقوامی ہوٹلوں کی چین بھی عمان میں زیر تعمیر ہے۔ خطہ میں سب سے زیادہ سیاح دبئی کا سفر کرتے ہیں, 2017ء  کے دوران ایک کروڑ سے زائد غیر خلیجی ممالک کے سیاحوں نے دبئی کا وزٹ کیا اور اب دبئی اپنے بہترین شاپنگ مالز، تفریحات کے ذرائع اور عوامی دلچسپی کی لاتعداد لوازمات ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
اکثر لوگ عربوں کے اتحاد کا سوال کرتے ہیں، جس سے ان کا مستقبل بھی جڑا ہوا ہے۔ دنیا میں 22  عرب ممالک ہیں  جن میں سے 12 ایشیا میں جب کہ 10 شمالی افریقہ میں واقع ہیں۔ کبھی کبھی اس تمام علاقہ کو MENA یعنی Middle East & North Africa بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ ان تمام عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ ہے۔ ایشیائی خطہ میں واقع بارہ عرب ممالک میں سے چھ خلیجی ریاستیں ہیں یعنی سعودی عرب، کویت، سلطنت عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین۔ عرب لیگ بحیثیت تنظیم بہت زیادہ فعال نہیں ہے چنانچہ عالمی سیاست میں اس کا کوئی اہم کردار دکھائی نہیں دیتا۔1970 ء کی دہائی میں تیل کے بحران نے خلیجی ریاستوں کو اہمیت کو مزید بڑھا دیا ور عرب سیاست کا محور قاہرہ سے ریاض منتقل ہو گیا اور یہ ممالک علاقائی معاملات میں اہم کردار ادا کرنے لگے، پھر مشترکہ سیاسی، معاشی اور سماجی نظام نے ان ممالک کو مزید قریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ چنانچہ 1980 ء کے ابتداء میں متحدہ عرب امارات کی ابتدائی کاوشوں سے جس کو سعودی عرب اور کویت کی حمایت بھی حاصل تھی، خلیج تعاون کونسل قائم کر گئی۔ اس تنظیم کے قیام کے بعد عربوں اور خاص طور پر خلیجی ممالک کی عوام نے تجربات و واقعات سے بہت سی چیزوں کو سیکھا۔ پہلی یہ کہ عرب اتحاد کی آج جتنی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ دوسری بات یہ کہ اتحاد کا محفوظ راستہ جو رابطہ کاری اور انضمام کی صورت میں صرف ان ممالک کے درمیان ممکن ہے جو جغرافیائی، تاریخی، سیاسی، معاشی اور سماجی معاملات میں ہم خیال ہوں۔ تیسری یہ کہ نظریاتی اختلاف باہمی اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہاپسندانہ سوچ اور مسلکی اختلاف نے اس خطہ کو کافی متاثر کیا ہے۔
بد قسمتی سے حالیہ دنوں میں کونسل کے ممالک کے درمیان شدید اختلاف رونما ہوئے ہیں، جن کا سبب مقامی اور خارجی مسائل ہیں، جن پر ان ممالک کے آراء اور سوچ میں کافی تفاوت نظر آتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اختلافات نہ سرحدی معاملات پر ہیں اور نہ کوئی مالیاتی معاملات ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، بلکہ اب کچھ خاص مسائل ہیں جو علاقائی اور عالمی تبدیلی کا باعث بن رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان ممالک کے تعلقات میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں جیسا کہ قطر کے معاملہ پر سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے خاصہ جارحانہ رویہ اختیار کیا جب کہ کویت اور عمان کافی حد تک غیر جانب دار رہے اور انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کر کے کافی حد تک اس کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اگر یہ ممالک اپنے اختلافات کو پس پشت رکھ کر علاقہ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی متفقہ فیصلہ کریں تو یہ یورپی یونین کی طرح ایک بڑی معاشی اور سیاسی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
(ترجمہ: محمد احمد۔۔۔بشکریہ :الشرق الاوسط)

image

٭سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 42 ہزار کی حد بھی گرادی
جس طرح ہمارے ملک میں سیاسی رہنما سیاست کی حدیں گرا رہے ہیں اسی طرح سٹاک ایکسچینج نے اپنی قائم کردہ حدیں گرادی ہیں۔ ہر اگلے روز بتایا جارہا ہے کہ کوئی نہ کوئی حد گرگئی۔ اب بتارہے ہیں کہ 42ہزار کی حد بھی قائم نہیں رہی۔ اس کا مطلب کہ جس طرح کی سیاست ملک میں ہورہی ہو، سٹاک مارکیٹ بھی ویسی ہی ہوجاتی ہے۔ اچھی سیاست میں حدیں پھلانگنا اور گری ہوئی سیاست میں حدیں گرانا بھی سٹاک مارکیٹ کا شیوہ ٹھہرا۔ ہمارے رہنمائوں کو اس مارکیٹ پر بھی ترس کھانا چاہیے اور سیاست کو لڑائی جھگڑے کا میدان نہیں بنانا چاہیے۔ 
٭موسم گرما کی چھٹیاں نہ دینے والے نجی سکولوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
نجی سکولوں کو موسم گرما کی چھٹیوں کے اعلان سے اپنی دو ماہ کی ایڈوانس فیس جمع کرنے کی پڑجاتی ہے۔ اگرچہ ان کی طرف سے سلیبس مکمل کرانے کا کہا جاتا ہے۔ ہماری سرکار اگر بچوں کے بارے میں سوچتی ہے تو پرائیویٹ سکولز کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ مگر پرائیویٹ سکولز تو چلتے ہی بچوں کی فیسوں پر ہیں اور یہی دو ماہ کی اکٹھی فیس تو سکولوں کا منافع ہوتا ہے۔ ان ماہ میں سکول کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہوجاتا ہے اور فیس تو پوری ہی وصول کی جاتی ہے، یعنی سو فیصد منافع ہی منافع اور سکول بھی بند ہوتے ہیں۔
٭آئندہ وزیراعظم اور صدر دونوں پیپلزپارٹی کے ہوں گے، کائرہ
پیپلزپارٹی کے رہنما آئندہ وزیراعظم اور صدر پیپلزپارٹی سے لانے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ اب صورت حال یوں ہے کہ ان کے لوگ بڑی تعداد میں دوسری جماعتوں میں شامل ہورہے ہیں۔ ادھر کائرہ صاحب کا اعتماد تو دیکھیے کہ وہ اپنی پارٹی کو اقتدار میں دیکھ رہے ہیں۔ ویسے تو پی ٹی آئی بھی خود کو قریباً اقتدار میں ہی دیکھ رہی ہے بلکہ وہ تو سو روزہ پلان بھی دے چکی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں اقتدار کے لیے بے چین و بے قرار ہیں۔ اب تو بلاول بھی اقتدار کے دائو پیچ سیکھنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ادھر عمران خان وزیراعظم بنے بیٹھے ہیں۔ اقتدار کی یہ ریس کون جیت پائے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ 
٭پنجاب بھر میں ڈھائی ہزار سے زائد اتائیوں کے اڈے سیل
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے 7854 چھاپوں کے بعد 2725 اتائیوں کے اڈے سیل کردیے ہیں۔ ابھی نہ جانے ایسے کتنے مراکز قائم ہیں جو صحت کے نام پر موت بانٹ رہے ہیں۔ اتنے جینوئن ڈاکٹرز نہیں جتنے پرائیویٹ کلینک اتائی چلارہے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ 12ہزار 500 اتائیوں کے اڈوں کو بند کردیا گیا ہے۔ یہ جعلی ڈاکٹرز ہمارے معصوم لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔ یہ اتائی اپنے ہتھکنڈوں سے معصوم لوگوں سے علاج کے نام پر ہزاروں روپے ہتھیا لیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ان کا علاج مریض کو مریض تر بنانے کے لیے ہوتا ہے۔
٭چینی کمپنی مردان میں کوڑے سے بجلی بنانے کا پلانٹ لگائے گی
چینی کمپنی مردان میں کوڑے سے بجلی بنانے کا پلانٹ لگائے گی۔ اگر کوڑے سے پلانٹ لگانے ہی ہیں تو کراچی اور سندھ اس وقت موزوں ترین علاقے ہیں، جہاں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں۔ جس رفتار سے کوڑا وہاں جمع ہوتا ہے، اتنے پلانٹ لگ سکتے ہیں کہ بجلی میں ہمیں خود کفیل کردیں گے۔ ویسے تو کوڑے سے پاور پلانٹ تو ہمارے ہر صوبے میں لگ سکتے ہیں اور خام مال تو ہر موڑ پر دستیاب ہے۔ اگرچہ پنجاب صفائی ستھرائی میں آگے ہے مگر کوڑا کرکٹ میں تو ہمارے عوام ہر لحاظ سے خود کفیل ہیں۔ 
٭تحریک انصاف ،اقتدار کے پہلے سو دن کا پلان
پی ٹی آئی کے چیئرمین نے 2013 کے انتخابات کے موقع پر اپنی ناتجربہ کاری کو تسلیم کرلیا، تاہم آئندہ انتخابات کے موقع پر وہ حکومت میں اپنے پانچ سال کے تجربہ کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ذہنی طور پر وہ آئندہ انتخابات کے بعد وزیراعظم بن چکے اور انہوں نے اقتدار کے پہلے سو دن کا پلان بھی دے دیا۔ عمران خان مغربی طرز کی سیاست کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اسی لیے وہ ہر چیز پلان کے مطابق کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کی وزیراعظم بننے کی خواہش شدید تر ہوچکی ہے۔ حالانکہ انتخابات کا پل صراط ابھی عبور کرنا باقی ہے۔ Electables کے پارٹی میں آنے کے باعث وہ انتخابات میں اپنی فتح دیکھ رہے ہیں۔ ادھر نجومی  مستقبل میں مخلوط حکومت کی پیش گوئی کررہے ہیں۔ ایسے میں سو دن کا پلان قبل ازوقت اور بے وقت کی راگنی ہوسکتا ہے۔ 
٭(ق) لیگ اور پی ٹی آئی کا مشترکہ انتخابی حکمت عملی بنانے پر اتفاق
مسلم لیگ (ق) کو چند نشستیں جیتنے کے لیے بھی مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی شدید ضرورت ہے۔ (ق) لیگ پی ٹی آئی میں ضم ہوجائے تو پھر کچھ نشستیں نکال سکتی ہے۔ تن تنہا تو اس کے حالیہ انتخابات کے شورشرابے میں دب جانے کا امکان ہے۔ چوہدری برادران شاید اس خوف سے اپنی جماعت (ق) لیگ کا پی ٹی آئی کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ یہ کام شاید اس خوف سے بھی کیا جارہا ہے کہ باقی ماندہ رہنما کہیں پی ٹی آئی میں شامل نہ ہوجائیں۔ سیاست اگر خوف کے تابع ہوجائے اور ہار کے امکانات زیادہ ہوں تو ہاتھ پائوں زیادہ مارنے پڑتے ہیں۔ چوہدری شجاعت کو تو اپنی سیٹ جیتنے کے لیے پی ٹی آئی کی معاونت درکار ہوگی۔ ادھر عمران خان کا بس چلے تو تمام Electable ساتھ ملا لیں۔
٭حکومت چھوٹے ڈیموں کی تعمیر شروع کرے، ملک سہیل۔ بڑے ڈیموں پر اختلافات برقرار
جب ملک میں اختلافات نہ تھے۔ منگلا اور تربیلا جیسے بڑے ڈیم تیار ہوئے۔ قومیں رفتہ رفتہ ایک ہوتی اور ایک جان ہوکر ترقی کرتی ہیں۔ مگر ہمارے رہنما چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں پڑے رہے اور یوں بڑے کام ہونا بند ہوگئے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ملک اندھیروں میں ڈوب گیا۔ اب ماہرین ان مسائل کے باعث بڑے ڈیموں کے بجائے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے مشورے دے رہے ہیں۔ اگرچہ ہمارے رہنما نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ تربیلا ڈیم بننا چاہیے مگر اعلیٰ سطح پر ان کی رائے اختلافی ہی رہتی ہے۔ آج ڈیم نہ بنانے کا انجام دیکھ کر بھی سبق نہیں سیکھتے اور بجلی بنانے کے مہنگے طریقوں کو اپناکر خوفناک حد تک مہنگی بجلی مہیا کررہے ہیں۔ عوام کا دھیان اِدھر اُدھر کررہے ہیں اور دھرنے قومی مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ غیرتعمیری کاموں کے لیے دیے جاتے ہیں۔
 

image

The term “mental illness” is often wrongly associated with dementia, sorcery or witchcraft. This common misunderstanding reflects the public’s lack of awareness about mental illnesses, and their effects from the early stages of a patient’s life. They can cause direct psychological or physical harm, and sometimes lead to sexual exploitation.
The Saudi mental health care regulations, issued in 2014, are among the most comprehensive in the Kingdom. They deal with important aspects of a psychiatric patient’s life, and identify the care and control mechanisms provided by the General Council for the Supervision of Mental Health, which supervises the work of local councils in each region.
The council was established mainly to organize and promote mental health care for psychiatric patients, to protect their rights and their dignity, and to establish the proper mechanisms for treatment in psychiatric facilities. Its job is to ensure that all such facilities operate to the highest standards and systems, and to deal correctly with complaints from patients or their representatives. However, despite a huge number of complaints, and reports of the deterioration of some mental health facilities, one rarely hears of the work of the General Council. 
I would like to shed more light on the rights of psychiatric patients, because they have a direct impact on the patient, their dignity and their protection. The mental health care regulations clearly stress the importance of observing the highest medical standards in a safe and healthy environment, informing the patient or their representative about their condition, proposing the proper treatment, and enabling the patient to participate in this plan.
The system requires respect for a psychiatric patient’s rights, one of the most important of which is the right to know why they are being admitted to a psychiatric treatment facility. The only exceptions are when there are clear signs of severe mental disorder that can lead to the patient harming themselves or others, or when admission is required to prevent any further deterioration in the patient’s psychological condition. In each case, documentation is required from two accredited psychiatrists. Restricting a patient’s psychological freedom through isolation is legally permissible only in the case of need, and must be medically approved for a specified period and through the least restrictive means.
One of the most important aspects of treatment is the method used. Unfortunately, many psychiatrists prescribe drugs without educating the patient about possible side effects, which can lead to deterioration in health, and sometimes even addiction. Drugs companies also have a role to play, and should be encouraged not to put profit before patient health. In practice, any patient in a psychiatric facility, or their representative, may report to the Committee for the Care of the Rights of Psychiatric Patients in Psychiatric Facilities any exploitation or abuse, actual or threatened, whether physical, moral or sexual.
Mental health is one of the main pillars of a healthy society and a safe environment that contributes to the protection and appreciation of every individual. Before legal education on the rights of psychiatric patients, we need a proper understanding of what mental illness is, and we must work to raise awareness about it. After all, that psychiatric patient could be us or any of our loved ones.
(Courtesy : Arab News)
 

image

پاکستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب وزیراعظم پر جوتا پھینکا گیا۔ قابل مذمت مگر لمحہ فکریہ بھی، ہم کس طرف جارہے اور کیوں جارہے ہیں؟  ہمیں اس ڈگر پر کون لایا۔ اس واقعے نے قوم کو بہت سی باتیں سوچنے پر مجبور کردیا اور یہ حوصلہ بھی دیا کہ شاید یہ بیداری کی بارش کا پہلا قطرہ ہو، لیکن یہ بیداری جوش والی نہیں بلکہ ہوش والی ہونی چاہیے۔ یہ سب تبھی ممکن ہے جب پوری قوم اٹھے اور بجائے اپنے ماضی پر خوش یا مایوس ہونے کے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچے۔
کون ہیں وہ جو اب تک ’’ن، ق، ف، ع، ض وغیرہ‘‘ لیگ کے نام سے لوٹ رہے ہیں، وہ کون ہیں جو ہمیں اکیلا کرکے توڑ رہے ہیں، کبھی اسلام تو کبھی جمہوریت کے نام پر، کبھی دفاع اور کبھی ترقی کے نام پر اور کبھی برادری و قبیلے کے نام پر۔ ہم مکمل طور پر انحطاط کے شکار ہوچکے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں، کیونکہ ہمیں بھوک و افلاس میں مبتلا  کردیا گیا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کا فائدہ ’’سامراج‘‘ نے نہیں اٹھایا بلکہ سامراجی طاقتوں نے ہی یہ تقسیم کی اور منصوبہ بندی انگریز نے برصغیر میں گھسنے سے قبل ہی کرلی تھی۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ 40 ہزار گوروں نے تین 3 لاکھ ہندوستانی فوج کی مدد سے 60کروڑ انسانوں پر 100سال حکومت کی۔ انہوں نے ایسا میکانزم  بنایا کہ اب ہم خود ان کے مفادات کی حفاظت اپنے اور اپنے ہی بہن بھائیوں کا خون بہا کر کررہے ہیں، کیونکہ نوکر شاہی آج بھی ہمارے سروں پر مسلط ہے، وہ اُسی طرح ملک کو چلارہی ہے جیسے کہ تقسیم سے قبل انگریز برصغیر کو چلاتا رہا ہے۔ مذہب کے نام پر اختلافات پیدا کرکے امیر کے حصے میں عزت اور غریب کے حصے میں باقی ماندہ۔ امیر جیسے بھی دولت کمائے جائز اور غریب ایک وقت کی روٹی چرائے تو وہ ناجائز۔ اربوں ڈالر ’’کمانے‘‘ والا منصف سے پوچھے کہ آپ کون ہو، اگر میرے اثاثے میری آمدن سے بہت زیادہ بھی ہیں تو آپ کو کیا غرض۔ 
’’سامراجی میکانزم‘‘ نوکر شاہی کی تربیت شروع سے ہی ایسے کرتا ہے کہ وہ خود کو مقدس گائے سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور انہیں پڑھایا جاتا ہے کہ تمہارا کام لوگوں کی زندگی مشکل بنانا ہے۔ برصغیر میں حکومتیں کرپٹ نہیں بلکہ کرپشن کے لیے حکومت بنائی جاتی ہے۔ نوکر شاہی سیاستدانوں کو خود کرپٹ کرتی اور اس کے بعد خود انہیں چلاتی ہے، نام اور چہرے بدل جاتے ہیں مگر کردار وہی رہتے ہیں، پالیسی وہی چلتی آرہی ہے جو برطانوی سامراج نے بنائی تھی کہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘۔ آج دنیا کی ایک چوتھائی آبادی خوشی خوشی غلامی کی زنجیریں پہن کر آزادی کی خوشی منارہی ہے۔
قومیں مٹی اور نسل سے بنتی ہیں نا کہ مذہب سے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے، مذہب ہر انسان کا اپنے خدا سے تعلق کا نام ہے، اب اگر کوئی میرے خدا کو نہیں مانتا تو اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر میرا خدا مجھے یہ آزادی نہیں دیتا کہ میں لوگوں پر ظلم کرکے اُن سے امید رکھوں کہ وہ میرے خدا کو مانیں۔ اس طرز عمل کو برصغیر میں اس طرح بویا گیا کہ آج یہاں نفرت کے جنگل  میں منگل منایا جارہا ہے، جوتا پھینکنے کا  واقعہ اُن تمام لوگوں کے لیے بہت خوف ناک ہے، جو اس نظام کا کسی نہ کسی طرح حصہ رہے، اس لیے یہ وقت ایک دوسرے کے احتساب کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہے، کیونکہ ہمیں ماننا پڑے گا کہ کسی نہ کسی جگہ کسی نہ کسی صورت اور کسی نہ کسی گروہ بندی میں ہم سب کرپٹ ہیں، جھوٹ، مکاری فریب تو عام سی بات ہے اور اب ظلم کی فصلیں بھی کاٹنے کو تیار ہیں۔ کڑی سے کڑی ملائی جائے تو بات آج سے لگ بھگ 5 سو سال پیچھے سے شروع ہوتی ہے، جب چند برطانوی یہودیوں نے بادشاہ کو اس بات پر راضی کیا کہ  اُسے مذہب سے بغاوت کرنا ہوگی اور خود کو رومن کیتھولک پوپ سے علیحدہ ہونا ہوگا، پھر ایک نئے فرقے کی بنیاد رکھی گئی۔ ایک نظام کے تحت بادشاہ پورے ملک کا مالک ہوگا مگر سیاست میں حصہ نہیں لے گا۔ ملک میں جو بھی کاروبور ہوگا، اُس میں اس کا اور اُس کے خاندان کا حصہ ہوگا، بے پناہ آمدن ہوگی اور وہ آرام سے زندگی گزارے گا اور اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے اپنے بہترین لوگوں کو دنیا میں پھیلادیا، پھر تحقیق کروائی گئی کہ کس قوم کو کیسے فتح کیا جاسکتا ہے۔ 
برصغیر کے بارے میں محققین نے لکھا ہے کہ یہ ایک معصوم مگر جذباتی قوم ہے جسے حکمران جیسے چاہیں چلاسکتے ہیں۔ بادشاہ اپنی ملکہ کی قبر تو بہت خوبصورت بنواتا ہے مگر زندہ ہنرمندوں کے ہاتھ کٹوا دیتا ہے، تاکہ اُس کی بیوی کے مقبرے جیسا دوسرا شاہکار نہ بن سکے۔ اقتدار کے لیے جو اپنے بھائیوں، باپ  اور اسلام کے 
نام پر بے گناہ انسانوں کا قتل کرے، وہ بھی عظیم بادشاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مسلمان بادشاہوں کے دور میں کوئی درس گاہ نہیں بنی، سائنسی تحقیق یا علمی مباحثے  نہیں ہوئے، بلکہ انسانوں کا خون نچوڑ کر قلعے تعمیر کیے گئے، زرعی ترقی کی طرف کوئی دھیان نہیں  دیا گیا۔ آج بھی ویسے ہی ہورہا ہے، کہنے کا مقصد یہ کہ اسلام سیدھا سچا اور خوبصورت مذہب ہے مگر ہمارا کردار ہمیشہ سے مکروہ رہا ہے۔ اسلام تو ہے ہی علم کا منبع، ہمارے نبی پاکؐ نے جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا، وہ علم کا حصول ہے، چاہے وہ کفار سے ہی حاصل کرنا پڑے۔ آج پاکستان میں علم  اور اس کے حصول کی جستجو کی سب سے زیادہ کمی ہے۔
ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں نوکری کے نام پر غلامی کرنے کے لیے، ہمیں اپنے شعور کی تسکین کا کچھ علم نہیں۔ ہمیں صرف اپنے پیٹوں کو بھرنے کی فکر ہے۔ ہمیں زندگی سے دُور کردیا گیا ہے، تبھی ہمیں نظر نہیں آتا کہ  پاکستان کے ہر بلاد میں تین تین شہر آباد ہیں، (کنٹونمنٹ ایریا، جی او آر، عام لوگوں کے گلی کوچے)۔
ہماری جڑیں کاٹی جارہی ہیں، ہمیں اپنی مٹی سے دور کیا جارہا ہے اور ایسے کہ ہمیں پتا بھی نہ چلے۔ ہم اس خوش فہمی میں زندگی گزار جائیں کہ آزاد ہیں۔ ہمارے لیے آزادی کا مطلب پیسہ، طاقت کا مطلب حکومت اور عزت کے معانی کرپشن ہے، جو جتنا زیادہ کرپٹ وہ اُتنا ہی عزت دار۔ جب ایک بڑے عزت دار پر جوتا پھینکا گیا تو عزت داروں کو بہت درد ہوا، مگر  جب ایک بارہ سالہ بچہ ایک عزت دار کے قافلے کی گاڑیوں کے نیچے کچلا جاتا ہے تو دو دن شور کے بعد سب خاموش ہوجاتے ہیں، جب ماڈل ٹائون میں 14 انسان قتل کیے جاتے ہیں تو سب سیاست کرتے ہیں اور مظلوموں کو انصاف نہیں ملتا۔
 

image

وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 70 سال ہوچکے ہیں مگر جس نظریے و جذبات اور احساسات کے تحت یہ ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا، اسے پس پشت ڈال دیا گیا اور ٹھیک 24 سال بعد ہم اس کا ایک حصہ کھوبیٹھے۔ اس کا تجزیہ کیا جائے تو یہ مترشح ہوگا کہ جس جمہوریت کا راگ الاپتے ہمارے سیاستدان نہیں تھکتے، اسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کے مشرقی حصّے کے لوگوں کو ووٹ کی اکثریت کے باوجود اقتدار حوالے نہ کرنے کا جرم عظیم کیا گیا، نتیجہ ملک کے دولخت ہونے کی صورت برآمد ہوا۔ اس صورت حال سے ہمارے سیاستدانوں، مقتدر حلقوں وغیرہ نے سبق حاصل کرنے کے بجائے بقیہ پاکستان میں اقتدار کے لیے جو کھیل کھیلا، اس نے ملک کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا۔
ملک کی سیاسی جماعتوں کا یہ حال ہوا کہ انہوں نے سیاسی میدان میں جمہوری اقدار، بنیادی اخلاقیات، باہمی رواداری کے اصولوں کو اپناکر اپنے وابستگان، کارکنان اور لیڈرشپ کی ایسی تربیت نہیں کی، جس کے نتیجے میں یہاں سیاسی استحکام پروان چڑھتا۔ اس کے برعکس چند ایک سیاسی گروہوں اور شخصیات کے استثنیٰ کے ساتھ اکثریت نے اپنی لیڈرشپ اور کارکنوں کو جھوٹ، دغابازی، عوام کو فریب دینے اور مالی کرپشن کرکے قومی خزانے کو لوٹنے جیسے جرائم پر لگادیا جو اَب ہمارے لیے قومی روگ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ ایسے میں عدلیہ جیسے ادارے نے ابھی محدود پیمانے پر مالی بددیانتی پر کچھ طبقوں کے خلاف فیصلے کرنے شروع کیے تو پورے ملک میں شوروغوغا اور بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ حالانکہ ان فیصـلوں کو حمایت ملنی چاہیے تھی، تاکہ مستقبل میں کسی بھی سطح کے سیاستدانوں، مقتدر طبقوں اور بااثر افراد کو قومی جرائم کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ 
اس تناظر میں حال ہی میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ، بڑی بڑی رقوم کے ذریعے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی خریداری وغیرہ کے لیے جو ’’منڈی‘‘ لگائی گئی، یہ جمہوری اقدار کی مکمل نفی، ضمیر فروشی کا گھنائونا اور گھٹیا طرز عمل انتہائی افسوس ناک ہے۔ سیاست کو جب ایک مقدس فریضہ سمجھ کر نہ کیا جائے تو پھر محض اقتدار کے لیے کی جانے والی سیاست کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اخلاقیات اور اقدار کو بالائے طاق رکھ کر ہر جائز و ناجائزحربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ یوں قوم و ملک کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ البتہ چند شخصیات اور خاندانوں کی تجوریاں بھرنے کاسلسلہ جاری رہتا ہے، جو اس وقت ملکی سیاست میں پورے زورشور سے جاری ہے۔ رہی سہی کسر سینیٹ کے انتخاب اور اس کے مناصب تک پہنچنے کے لیے پوری کی گئی۔
البتہ ملکی تاریخ میں ایسے جلیل القدر لوگ بھی گزرے ہیں، جنہوں نے سیاست کی نئی طرح ڈالی اور اسے محض اقتدار تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اپنے جلو میں چلنے والے رہنمائوں، کارکنان اور وابستگان کی تعلیم وتربیت کا ایک ادارے کی طرح اہتمام کیا۔ انہوں نے مختلف سطح کی قیادتوں کے اخلاق و کردار کی تعمیر کو اولین ترجیح بنایا اور انہیں سیاست میں اخلاقی اقدار کو مقدم رکھنے کا خوگر کیا۔ بلاشبہ انہوں نے سیاست میں اختلاف کی شائستہ روایت کو فروغ دیا۔ جس کو سیاسی جماعتیں اُس وقت اگر سنجیدگی سے اپنے دائروں میں اپنائیں تو سیاست کا چہرہ ایک مرتبہ پھر روشن ہوسکتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف گالم گلوچ کا سلسلہ ختم ہوسکتا ہے۔ یہ کام جماعتوں کا ہے کہ وہ سیاسی فوائد کے ساتھ یہ بھی مدنظر رکھیں کہ بحیثیت مجموعی وہ سیاست اور سماج میں کن روایات کو فروغ دے رہی ہیں۔ سینیٹ انتخابات کا حالیہ منظرنامہ عیاں کررہا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اس معاملے میں بحیثیت مجموعی ناکام ثابت ہوئی ہیں، اب عام انتخابات ہونے کو ہیں، ان میں بھی یہی صورتحال رہی تو پھر ہم تباہی سے بحیثیت قوم نہیں بچ سکیں گے۔
سیاسی جماعتوں کی پہلی ذمے داری اچھے امیدوار لانے کی ہے۔ جمہوری اداروں کی کامیابی یا ساکھ کا بڑا انحصار اس پر ہے کہ ان کی نمائندگی کرنے والے اخلاقی اور عملی اعتبار سے کس سطح کے لوگ ہیں۔ اس حوالے سے جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جن لوگوں کو سینیٹ میں بھیجا گیا، اب قومی وصوبائی اسمبلیوں میں بطور امیدوار کھڑا کیا جارہا ہے، سوائے چند کے استثنا کے ساتھ ان کی وجۂ شہرت، سیاسی جدوجہد یا اخلاقی برتری نہیں۔ اکثریت کا تعارف محض یہ ہے کہ وہ اہل ثروت میں سے ہیں۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر خریدوفروخت کا عمل اختیار کرلیا ہے۔ حتیٰ کہ بظاہر ملک کی بڑی جماعتوں کے وابستگان نے بھی جس طرح ہارس ٹریڈنگ کو رواج دیا اور کھلے بندوں رقوم کا استعمال کیا اور اب بھی کررہے ہیں، وہ شرمناک حد تک قابل افسوس ہے۔ البتہ کچھ چھوٹی جماعتوں کے بعض افراد نے اس گھنائونے فعل سے خود کو محفوظ رکھا ہے۔ اس حوالے سے پیش نظر رہے کہ سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ محض سیاسی کارکن نہیں ہوتے بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کا ایسا اہتمام ہونا چاہیے کہ وہ عام سطح سے لے کر لیڈرشپ تک خوف خدا، آخرت کی جوابدہی اور جمہوری نظام میں اخلاقی اقدار کو ہر صورت مدنظر رکھیں۔
جماعت اسلامی کی فکر اور اس کی قیادت سے ہزار اختلاف مگر ایک وقت تھا جب اس نے اپنی نمائندگی کے لیے قاضی حسین  احمد، پروفیسر خورشید احمد، پروفیسر غفور احمد، پروفیسر ابراہیم کو ملک کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں بھیجا۔ اپنے ادوار میں انہوں نے جو تقاریر کیں، وہ وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہیں اور کچھ کتابی شکل میں طبع بھی ہوئیں جن کو دیکھ اور پڑھ کر مخالف سے مخالف قاری یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ قومی مسائل کا سنجیدہ جائزہ ہے۔
آج سوال یہ ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جانے والے موجودہ لوگوںمیں سے کوئی ایسا ہے، جس کی تقاریر کو کل عوام کو دکھایا جاسکے۔ ان میں تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی کوئی جماعت کیا قوم کو بتاسکتی ہے کہ یہ وہ افراد ہیں جو جمہوری عمل کو مثبت طورپر متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ سینیٹ کے امیدواروں کے انتخاب میں اس غیر سنجیدگی کے بعد کیا عوام کے دلوں میں اداروں کا احترام پیدا کیا جاسکتا ہے؟ اب بھی وقت ہے کہ سیاسی جماعتیں ہارس ٹریڈنگ کی لعنت اور نمائندوں کی خریدوفروخت کے عمل کو رواج دینے اور روز روز پارٹیاں بدلنے والے عناصر کو امیدوار نہ بنائیں تو مثبت صورتحال پیدا ہوسکتی اور ملک وقوم سیاسی عدم استحکام سے نجات پاسکتے ہیں۔
 

image

عوامی سروے

سوال: کیا نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے؟