15 ستمبر 2019
تازہ ترین

’’زرداری‘‘۔۔۔۔ کیا کھیل ختم۔۔؟ ’’زرداری‘‘۔۔۔۔ کیا کھیل ختم۔۔؟

یہ 80 کی دہائی کی بات ہے اور جنرل ضیاالحق کی آمریت کی منحوست کو پاکستان پر چھائے ہوئے تقریباً  9 سال ہو چکے تھے۔۔ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو 5 جولائی 1977 کے بعد مسلسل زیر عتاب تھیں اور امت مسلمہ کی تاریخ کے سب سے بڑے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی فیملی تتر بتر تھی۔۔۔ دونوں صاحبزادے ملک سے باہر جلاوطنی کاٹ رہے تھے اور اس جلاوطنی میں سب سے چھوٹا شاہنواز بھٹو فرانس میں زہر سے پُراسرار طریقے سے ہلاک ہو چکا تھا اور دوسرا مرد مرتضیٰ بھٹو طیارہ ہائی جیکنگ اور المرتضی کی وجہ سے پاکستان آنے سے قاصر تھا۔۔۔ ایک مشرقی لڑکی، جو آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتی رہی تھی اور اپنے مرحوم والد کی پسندیدہ تھی، یک دم سے اکیلی پڑ گئی تھی۔۔۔ ضیاالحق کے گماشتے اور پٹھو اس پر بھرپور تنقید کے نشتر برساتے تھے اور مشرقیت اور اسلام کو ڈھال بنا کر اس کی سیاست کو شجر ممنوع قرار دینے کی کوششوں میں مصروف تھے۔۔ پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے پاس تھی اور بدترین آمر کے خلاف جمہوریت کی جو جنگ بھٹو کی بیوی اور بیٹی نے لڑی، اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔۔۔ ضیاالحق کے گماشتوں نے جب پاکستان کی سیاست میں بے نظیر بھٹو کے عورت ہونے کا ایشو کھڑا کیا تو نصرت بھٹو نے بے نظیر بھٹو کی شادی کا فیصلہ کر لیا اور سندھ کے پرانے سیاست دان آفتاب شعبان میرانی نے اپنے ہم زلف اور اے این پی کے پرانے پارلیمنٹیرین حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری کا رشتہ بھجوا کر محترمہ نصرت بھٹو کو زور دیا کہ مستقبل میں جب بھی انتخابات ہوں گے بے نظیر بھٹو کے ’’غیر شادی شدہ‘‘ ہونے کو اپوزیشن پی پی پی کے خلاف استعمال کرے گی اور سیاسی طور پر اس کا نقصان ہونے کا احتمال ہے۔۔ نصرت بھٹو نے یہ رشتہ قبول کر لیا جو اس وقت کی مجبوری تھی ورنہ بھٹو خاندان کے سامنے زرداری کچھ بھی نہیں تھے اور خصوصاً آصف علی زرداری تو بے نظیر کے مقابلے میں ایک ان پڑھ شخص تھا جس نے غالباً بی اے بھی نہیں کیا ہوا تھا۔۔۔ 1987 میں یہ شادی ہوئی اور پھر 1988 میں محترمہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن کر ابھریں۔۔  بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت کا دورانیہ 18 ماہ تھا اور ان کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا کر حکومت توڑنے والوں میں صدر غلام اسحاق خان، مرزا اسلم بیگ اور نواز شریف وغیرہ شامل تھے۔۔۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں آصف علی زرداری پر الزامات لگنا شروع ہو گئے تھے لیکن ان کی نوعیت معمولی تھی۔ جب نواز شریف 1990 میں وزیر اعظم پاکستان بنے تو انہوں نے انتقامی سیاست کرتے ہوئے آصف علی زرداری کو مختلف مقدمات میں گھسیٹنا شروع کر دیا۔۔ یہ دراصل مفادات کا کھیل تھا اور جو کام آصف علی زرداری حکومتی ایوانوں میں رہ کر کرتا رہا، وہ ہی کام شہباز شریف بھی کر رہا تھا۔۔۔ فرق صرف یہ تھا کہ شہباز شریف نواز شریف کا بھائی تھا اور آصف علی زرداری بے نظیر بھٹو کا شوہر۔۔۔ ’’کام دونوں کے ایک جیسے تھے‘‘۔۔۔ ایک شخص سندھ میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر رہا تھا جبکہ دوسرا پنجاب میں ایسا ’’بازار‘‘ کھولے بیٹھا تھا۔۔۔ قبضہ گروپوں اور پولیس مقابلوں کو اسی دور میں ان دونوں مستقبل کے ’’رہنماؤں‘‘ نے نا صرف پروموٹ کیا بلکہ ان کی سرپرستی کر کے اس وقت میں کروڑوں بنائے۔۔۔ عالمی شہرت یافتہ صحافی رحمت شاہ آفریدی راوی ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت تھا اور وہ چونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھائی بنے ہوئے تھے اور محترمہ ان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھیں اور ان کا اصرار تھا کہ رحمت شاہ آفریدی حکومت میں کوئی عہدہ حاصل کر لیں 
جس سے وہ مسلسل انکاری تھے۔۔ رحمت شاہ آفریدی بتاتے ہیں کہ ایک شام جب وہ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں دوپہر کے بعد نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے باہر لابی میں لوگوں کا شور سنا۔۔ جب وہ اپنے کمرے سے باہر نکلے تو دیکھا کہ وہ سب کاروباری شخصیات وہاں پر موجود تھیں جو نواز شریف کے ساتھ ملکی وسائل کو لوٹنے میں شامل رہی تھیں اور ماضی میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف ہر قسم کا ’’محاذ‘‘ بنا کر انہیں حکومت سے بے دخل کرنے کی ذمہ دار تھیں۔۔ ۔بقول رحمت شاہ آفریدی ان کے لیے یہ صورتحال بہت حیران کن اور تشویشناک تھی۔۔۔۔ کیونکہ نواز شریف وغیرہ کا انداز سیاست پی پی پی اور ’’بھٹوز‘‘ سے بالکل الگ تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کے والد کی ہمالائی شخصیت اور ان کی اپنی ’’تاریخی جمہوری جدوجہد‘‘ تھی۔۔۔ رحمت شاہ آفریدی کے بقول ابھی میں ان سب کاروباری شخصیات کو سندھ ہاؤس میں موجود پا کر محو حیرت تھا کہ وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کا فون آیا۔۔ رحمت شاہ آفریدی کے بقول بی بی کا پہلا جملہ تھا ’’رحمت شاہ سندھ ہاؤس میں کیا ہو رہا ہے اور یہ سب کون لوگ ہیں؟‘‘۔۔۔ جواب دینے والے رحمت شاہ آفریدی کا مختصر جواب تھا۔۔ ’’بی بی سب کاروباری لوگ ہیں اور 
بزنس ہو رہا ہے‘‘۔۔۔ جس پر فون بند ہو گیا اور رحمت شاہ آفریدی سندھ ہاؤس سے اپنی مرسڈیز میں پشاور روڈ تک نکل آئے اور اپنی گاڑی وہاں کسی کے پاس کھڑی کی اور ایک بس میں بیٹھ کر پشاور روانہ ہو گئے۔۔۔ گاڑی بعد میں ان کے ملازم لے کر گئے۔۔۔ رحمت شاہ آفریدی کے مطابق میرے وہاں سے نکلنے کے تھوڑی دیر کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو سندھ ہاؤس پہنچ گئی تھیں اور وہاں پر ان کا آصف علی زرداری سے جھگڑا بھی ہوا تھا اور اس کے بعد ہی آصف علی زرداری کے بارے بے نظیر بھٹو کو یقین ہوا تھا کہ وہ کرپشن میں ملوث ہے۔۔ اس سے پہلے وہ مانتی ہی نہیں تھیں کہ آصف علی زرداری کرپٹ ہے۔۔۔ تاریخ کا جبر کہ آصف علی زرداری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بعد میں قائل کر لیا کہ اگر نواز شریف جیسے مافیا کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر وہ سب کرنا ہو گا جو نواز اور شہباز حکومت میں آنے کے بعد کرتے ہیں۔۔ یوں ایک ایسی خاتون جس نے جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ایک تاریخ رقم کی تھی وہ بھی کرپشن میں آصف علی زرداری کے سامنے مجبور ہو گئی۔۔ سرے محل اور دوسری کرپشن اس کا ثبوت تھے۔۔۔۔ مشرف سے کامیاب مذاکرات کے بعد جب 2007 میں محترمہ بےنظیر بھٹو پاکستان واپس آ رہی تھیں تو بقول ناہید خان، جو برسوں سے بے نظیر بھٹو کے بہت قریب تھیں، آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی ’’علیحدگی‘‘ ہو چکی تھی بلکہ محترمہ چاہتی تھیں کہ وہ جب پاکستان جائیں تو ان کے نام کے ساتھ آصف علی زرداری کا نام نہ ہو، لیکن دبئی کے فرمانروا نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو کہا ’’آپ الیکشن لڑنے واپس پاکستان جا رہی ہیں طلاق کی خبر سے آپ کی مقبولیت پر فرق پڑ سکتا ہے‘‘۔ اس پر طلاق کو پبلک کرنے کی بات مؤخر کر دی گئی اور بی بی پاکستان آ گئیں اور آصف علی زرداری امریکا روانہ ہو گئے۔۔۔۔ محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری فوراً پاکستان واپس آئے اور بقول ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی جعلی ’’وصیت‘‘ تیار کر کے ’’بھٹو کی پی پی پی پر قبضہ جما لیا‘‘۔۔۔ ناہید خان کے مطابق میں ہر وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہوا کرتی تھیں اور ’’وصیت‘‘ کا کبھی بھی ذکر نہیں ہوا تھا۔۔۔ 2008 میں بی بی کی شہادت کے بعد جو فائدہ پی پی پی کو ملنا چاہیے تھا وہ بھی زرداری نے گنوا دیا اور نواز شریف، جس کے پاس جدہ سے واپسی پر سوائے کچھ حلقوں کے امیدوار بھی نہیں تھے، کو ساتھ ملا کر ایک ایسا ’’سیٹ اپ‘‘ ترتیب دیا جس میں صوبوں اور مرکز میں اپنی اپنی حکومتیں بنا کر لوٹ مار کا ایسا ’’کہرام‘‘ مچایا گیا کہ جس نے نا صرف پاکستان کی اساس و معیشت کو ’’تہہ و بالا‘‘ کر دیا بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی عوامی سیاسی جماعت پی پی پی کو بھی سندھ تک ’’محدود‘‘ کر دیا۔۔ محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے کھربوں ڈالر کی لوٹ مار کی کیونکہ محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتے تھے تو محترمہ بینظیر بھٹو نا صرف ان
 کو روکتیں بلکہ ان میں شدید لڑائی بھی ہوتی تھی۔۔۔۔ سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آصف علی زرداری کی جس ’’گیارہ سالہ قید و بند‘‘ کا ذکر سب کرتے ہیں وہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی آپسی لڑائی کا شاخسانہ ہو سکتی ہے، لیکن اب کی گرفتاریاں نیب کی ’’طویل سائنسی بنیادوں پر تحقیقات‘‘ کی بدولت ہوئی ہیں اور اگر اب بھی ان ’’معاشی دہشت گردوں‘‘ کو عبرتناک سزائیں نہ ملیں تو پھر کرپشن کرنا ہر شخص اپنا ’’حق‘‘ سمجھے گا۔۔۔ حکومت کو جان لینا چاہیے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے جیل میں جانے کے بعد بھی عوام ’’متذبذب‘‘ ہیں کہ کیا عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس آئے گا؟؟؟