22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

تہذیب کیا نہیں ہے؟ تہذیب کیا نہیں ہے؟

انسانی تاریخ دراصل انسانی تہذیب کے ارتقا کی تاریخ ہے جس میں کمزور تہذیبیں طاقتور تہذیبوں میں مدغم ہو گئیں اور طاقت کے غلبے کے آفاقی أصول کے تحت وہی تہذیبیں اور انسانی معاشرے تاریخ میں آگے بڑھے جو اس تاریخی کشمکش کے عمل میں باقی رہ سکے۔ تاریخ کی تشکیل کا یہ عمل رُکا نہ ہی اس کا بنیادی أصول تبدیل ہوا ہے۔ تاہم اس سارے عمل میں سب سے اہم پہلو خود تہذیب کا تصور ہے۔ جب تک کوئی تہذیب خود شعور کی حامل نہیں ہوتی، وہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے نہ آویزش کے عمل میں باقی رہ سکتی ہے۔
دور حاضر کا سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والا موضوع تہذیبوں کا تصادم ہے۔ اس کا اقوام عالم کے باہمی تعلقات، قومی و دفاعی حکمت عملی اور امن عالم کے قیام کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کو سمجھنے کے لیے خود تصور تہذیب کی درست تفہیم ضروری ہے۔ کیونکہ تصادم کی اساس کا تعین تہذیبوں کی ساخت، نظام اقدار اور ان کے اہداف و مقاصد سے ہوتا ہے۔ دور حاضر کے علمی مباحث میں تہذیب و ثقافت کے اکثر ہم معنیٰ و مترادف اصطلاحات کے طور پر استعمال ہونے کے باعث تہذیب کی اصطلاح اپنے مفہوم کے جامع اظہار کے لیے توضیح طلب ہے۔ کسی بھی تہذیب کے لیے تہذب ہونے کا دعوی کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ وہ ان خصائص کی حامل ہو: وہ واضح نظریاتی اساس اور اجتماعی نصب العین کی حامل ہو، اس تہذیب میں خیر و شر کے امتیاز پر مشتمل نظام اقدار ہو، اس تہذیب کے نظام اقدار کا اس کے ثقافتی و تہذیبی مظاہر میں اظہار ہو رہا ہو، اس کے نظام اقدار کو اس تہذیب کی قوم کے اجتماعی نظام زندگی و نظام ریاست میں ڈھالا کا سکتا ہو اور اس تہذیب کی نظریاتی اساس، نصب العین اور نظام اقدار اپنے نفاذ کے حوالے سے احتساب کی کسوٹی سے آزاد نہ ہو۔
یہ ایک المیہ ہے کہ تہذیب پر لکھنے والے اہل علم اور مفکرین کے افکار تہذیب کے ان پہلوؤں کا جامع احاطہ نہیں کرتے۔ جدید سماجیات اور مطالعہ تہذیب و معاشرت کے تین بنیادی صورت گر ایمائیل ڈر کہائیم، میکس ویبر اور ٹائن بی ہیں۔ ایمائیل ڈرکہائیم نے معاشرے کی ساخت اور فعالیت کی توضیح کے لیے سماجی حقائق کا تصور دیا۔ سماجی حقائق کا تعلق معاشرے کے خصوصی نوعیت کے حقائق سے ہے، جو حیاتیاتی یا نفسیاتی بنیادوں پر محصور نہیں ہوتے۔ اس نے معاشرے کی تشکیل میں مذہب کا کردار معاشرتی نظم و ضبط، افراد معاشرہ میں تعلقات کے قیام، روحانی بیداری اور معاشرے میں اعلیٰ جذبات پیدا کرنے تک محدود کر دیا جس سے مذہب کا وہ کردار اس کی نظر سے اوجھل رہا جو انسان کو اپنے خالق حقیقی سے وابستہ کر کے اس کی ذات کے مابعد الطبیعیاتی اور روحانی پہلوؤں کی تکمیل کرتا ہے۔ میکس ویبر نے انسانی سماجی اعمال پر مشتمل ساختیے کو سماج و معاشرت قرار دیا۔ اس کے نزدیک سماجی اعمال چار اقسام پر مشتمل ہیں جو روایاتی، جذباتی، اقداری اور اعانتی ہیں۔ ویبر نے مشرق اور مغرب کی ثقافتوں کے ارتقا اور عروج پر تحقیق کی اور تہذیبی عمل میں مذہب کا کردار ازالہ افسوں قرار دیا۔ معروف ماہر بشریات ایلفرڈ کروئبر نے ثقافتی نمونوں کی چار اقسام بیان کیں: آفاقی، منظم، معاشرتی یا کل ثقافتی، اور اسلوبی نمونہ ثقافت۔  (جاری ہے)