19 نومبر 2019
تازہ ترین

تضحیکِ انصاف… تضحیکِ انصاف…

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
ساحر لدھیانوی کا یہ شعر دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کی کرن سمجھا جاتا ہے، لیکن میں اِس سے شدید اختلاف کرنے پر مجبور ہوں، یا تو یہ بات سرے سے ہی غلط ہے، یا اِس کا اطلاق ہمارے ملک پر نہیں ہوتا۔ ہماری سات دہائیوں پر محیط قومی تاریخ میں ظلم ہر نئے دن کے ساتھ بڑھا ہے اور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ خون مسلسل ٹپکنے کے باوجود جم نہیں پایا۔ شاید یہ جمنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ چونکہ پاکستان تبدیلی کی زد میں ہے تو یقیناً طریقہِ ظلم بھی تبدیل ہوا ہے۔ پرانے پاکستان کے قیام پر بچوں کو اُن کے والدین کے سامنے قتل کیا گیا جب کہ نئے پاکستان کی قیمت بچوں نے اپنے والدین کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھ کر ادا کی۔ پرانے پاکستان میں قتل کرنے والے ہمارے دشمن تھے مگر نئے پاکستان میں یہ ذمے داری ہمارے محافظوں نے لے لی۔ سانحۂ ساہیوال کے متاثرین کئی ماہ گزرنے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں۔ مالی امداد اور دیگر حیلے بہانوں سے واقعے پر گرد کی دبیز تہہ جمانے کا مکروہ عمل جاری ہے۔ مظلوموں کو ظالم گرداننے والی پہلی ایف آئی آر سے عدالتِ عالیہ کے نوٹس لینے تک فراہمیٔ انصاف کی رفتار مثالی سست روی کا شکار ہے۔
یقیناً ہمارے حافظے کمزور اور ضمیر بنجر ہوچکے۔ مذکورہ ظلم پر ہمارے میڈیا نے بھرپور آواز اُٹھائی اور حکمرانوں نے اِس پر مٹی ڈالنے کی بھرپور کوشش کی، جس میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کامیاب ہوتے دِکھائی دیتے ہیں۔ سانحے کی تفصیلات اس قدر دہرائی 
جاچکی ہیں کہ انہیں تحریر کرنا غیر ضروری ہے۔ میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ ظلم کی پہلی داستان ہے، لیکن جانے کیوں ہمارے حکمران اس سانحے پر انصاف فراہم کرنے کے بجائے اسے ماضی کے حکمرانوں کے مظالم کے سامنے چھوٹا ثابت کرنے پر تُلے ہیں۔ حکومت کا کام ماضی کے غلط کاموں کے پیچھے چھپنا نہیں بلکہ اُن کا تدارک کرنا ہے۔ میری التجا ہے کہ ماضی کے تمام مظالم کا حساب لیا جائے اور حال ہی میں ہونے والے واقعات پر انصاف بہم پہنچایا جائے، کیونکہ یہ آپ کا آئینی فرض اور اخلاقی قرض ہے کہ آپ خود کو انصاف کی تحریک کہتے ہیں۔ ماضی کے تمام حکمران آپ کے شکنجے میں ہیں اور طاقت کے تمام ایوان آپ سے مائل بہ تعاون ہیں۔ ستر برس میں ہونے والے تمام مظالم کا حساب لیجیے اور تمام ظالموں کو جنہوں نے ملک لوٹا یا اس کی دولت، اُنہیں کیفرِکردار تک پہنچائیے۔ یہ مظلوم قوم آپ کا بھرپور ساتھ دے گی۔ وزیرِاعظم صاحب، ظلم 
آپ کے اپنے دور میں ہوا یا پہلے ادوار میں، اُس کا مداوا صرف انصاف ہے۔ خالی اور غیر مناسب وضاحتیں وحشت میں اِضافہ کرتی ہیں اور بادیٔ النظر میں ظلم کی حمایت تصور کی جاتی ہیں۔ 
صوبائی وزیر قانون کا سرکاری موقف مزید حیران کن ہے کہ سارا خاندان بے گناہ مارا گیا، پھر بھی آپریشن درست تھا۔ صرف گاڑی کا ڈرائیور گناہ گار تھا 
جسے زندہ گرفتار کرنے کی قطعی کوشش نہیں کی گئی۔ ویسے میری ناقص عقل کے مطابق گناہ گار اور بے گناہ کا فیصلہ عدالت کرتی ہے، یہ اختیار کسی شخص یا ادارے کو ہرگز تفویض نہیں کیا جاسکتا۔ محترم وزیرِاعظم ہر پاکستانی جان چکا ہے کہ آپ ہمیں نئے پاکستان میں سستا پٹرول، سستی بجلی، ادویہ تو درکنار عزت کی روٹی بھی مہیا نہیں کرسکتے، خدارا! انصاف تو مہیا کردیں، کیونکہ تحریک انصاف کو تضحیکِ انصاف زیب نہیں دیتی۔ سانحۂ ساہیوال کے ظالموں کو کیفرِ کردار تک پہنچاکر حقیقی تحریکِ انصاف کا آغاز کریں۔