17 اگست 2019
تازہ ترین

تباہی کا انتظار کیجیے تباہی کا انتظار کیجیے

ڈرائیور اناڑی ہو یا کھلاڑی، کبھی کبھار کوئی آوارہ کتا اس کی گاڑی کے ٹائروں تلے آکر کچلا جاتا ہے، ٹائروں کے نیچے آنے والا عموماً مارا جاتا ہے، لیکن کبھی وہ نہیں بھی مرتا اور اپنا آدھا دھڑ زمین پر گھسیٹتا نظر آتا ہے، پاکستان نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، بیشتر مارے گئے، کچھ ایسے ہیں جو مرے تو نہیں لیکن اپنا آدھا دھڑزمین پر گھیسٹتے سڑکوں، بازاروں میں آنکلتے ہیں اور بے گناہوں کو نشانہ بناتے ہیں، چند روز قبل لاہور میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے، ٹی وی پر جاری فوٹیج کو بغوردیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک نوجوان چلاآرہا ہے جو حلیے سے ہی دہشت گرد لگتا ہے، وہ ہجوم کے قریب پہنچتا ہے تو ایک دھماکہ پھر آگ کے شعلے نظرآتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریموٹ کنٹرول کا بٹن کسی اور کے ہاتھ میں تھا، واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد اب بڑھ کر بارہ ہوچکی جب کہ متعدد زخمی ہیں۔
دہشت گردی کے اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک روز قبل نوازشریف کو ان کے سیکڑوں چاہنے والے دھوم دھڑکے سے تالیوں اور نعروں کی گونج میں جیل پہنچانے آرہے تھے۔ایک ٹی وی ٹاک شو میں اس خدشے کا اظہار کیاگیا کہ نواز شریف کی سیکیورٹی ناکامی ہے، حکومت نے اس سلسلے میں واضح کردیا تھا کہ ماہ رمضان میں مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات ہے، لہٰذا نوازشریف کے اس الوداعی قافلے کو سیکیورٹی مہیا نہیں کی جاسکتی، بہتر ہے کہ وہ بغیر ریلی اور خراماں خراماں سفر کے بجائے خاموشی سے خودجیل پہنچ جائیں اور جیل میں اپنے لیے مخصوص کمرے کو رونق بخشیں، اسی ٹاک شو میں اظہار کیاگیا کہ نوازشریف کی ریلی میں کوئی بم دھماکہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ عناصر جو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، ان کی نوازشریف سے کوئی دشمنی نہیں، وہ ہر طرح سے محفوظ ہیں، ان کے کسی جلسے کی ریلی کو ماضی میں کوئی خطرہ تھا نہ مستقبل میں ہوگا۔
نوازشریف بخیروعافیت جیل پہنچ گئے اور انہوں نے معمول کے مطابق اپنی جیل کی زندگی کا آغاز کردیا، انہوں نے جیل کا گیٹ عبور کرنے سے قبل ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ جانتے ہیں انہیں کس بات کی سزا دی گئی ہے، وہ ان سزائوں کو نہیں مانتے، انہوں نے اداس چہرے اور گلوگیر آواز میں یہ بھی کہاکہ جیل کی اندھیری رات اور ظلم وستم کی یہ رات جلد ختم ہونے والی ہے، یاد رہے کہ قید کے آغاز پر نوازشریف کو اڈیالہ جیل رکھا گیا تھا، جہاں ان کی فرمائش پر جیل مینوئل سے ہٹ کر ان کی سہولت کے کچھ سامان مہیا کیے گئے تھے، وہ جیلر کا کمرہ بطور دفتر استعمال کرتے تھے، انہیں قیدیوں کی بیرک سے علیحدہ کمرہ، اے سی، فریج، کھانا گھر سے منگوانے کی سہولت، اخبار، ٹی وی، بیڈ، میز اور کرسی بھی مہیا کی گئی جبکہ ان کا کمرہ روشن و ہوادار تھا، اس کے علاوہ انہیں صبح شام جیل میں مخصوص حصے کے اندر چہل قدمی کی سہولت اور دو عدد مشقتی بھی دیے گئے، کوٹ لکھپت جیل میں بھی یہ سہولتیں موجود ہیں، ان سب سہولتوں کی موجودگی میں وہ جیل میں گزرنے والے دن کو ظلم کے پہاڑ اور جیل کی اندھیری رات کو یوں بیان کرتے ہیں، جس طرح کبھی ماضی میں ملک کے غداروں کو ایک ایسی کوٹھری میں بند کیا جاتا تھا، جہاں دن کے وقت بھی روشنی کا گزر نہ ہوتا اور کوٹھری کے باہر کوئی طوفان بھی برپا ہوتا تو اس کی خبر اندر نہ ہوتی۔ 
ذرائع بتاتے ہیں کہ نوازشریف کے پاس عالم غیب سے سیل فون بھی پہنچ جاتا ہے، جیمرز آف کرنے بعد وہ من چاہے لوگوںسے فون پر باتیں کرلیتے ہیں، ملاقاتوں کے شیڈول سے ہٹ کر بھی آف دی ریکارڈ ملاقاتیں جاری رہتی ہیں۔ ایک صاحب نے تو معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خفیہ  انتظامات کے تحت رات کے اندھیرے میں جیل سے باہر بھی آجاتے ہیں، آپ اسے بے پرکی اڑانا کہیں یا اس پر یقین کرلیں، یہ آپ کا اور نوازشریف کا ذاتی اور نجی معاملہ ہے، قلم اس کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔ یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ  اگر اس شریف ریلی کو دشمن پاکستان نشانہ بنانے کا فیصلہ کرلیتے اور کامیاب ہوجاتے تو کس قدر جانی نقصان ہوتا، پھر اس کا مقدمہ منصوبے کے مطابق عمران خان، عثمان بزدار، بریگیڈیئر اعجازشاہ اور چوہدری پرویز الٰہی کے نام پر درج ہوتا اوریوں ماڈل ٹائون کیس کو بیلنس کرنے کی کوشش کی جاتی۔
شہبازشریف جس طرح ملک سے باہر گئے، لندن میں ان کی مصروفیات اور چہل قدمی کے علاوہ بس کے مسافروں کی انتظار گاہ میں بیٹھنے اور سیل فون سے کھیلنے کی ویڈیو ریلیز کرنے کا ایک خاص مقصد ہے، جو اس تاثر کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے کہ شہبازشریف بہت بیبا آدمی ہے، عام سا اور عام آدمیوں جیسی حرکتیں کرتا ہے، لہٰذا اس عام آدمی کو ایک مرتبہ وزیراعظم پاکستان ضرور بنایا جائے، تاکہ عام آدمی کے دکھ درد دور ہوسکیں، جالبؔ کی نظمیں ترنم سے پڑھنے والا دوبشرٹوں اور دو پتلونوں میں روزوشب گزارنے والا، غریب آدمی کی تقلید میں رنگین پی ٹی شوز پہن کر لندن میں مٹرگشت کرنے والا دراصل عام آدمی نہیں بلکہ عام آدمی کا بہروپ دھارے وہی ہے جس کی بیگمات اور اولاد  کے مختلف اکائونٹس میں ڈالروں کی برسات ہوتی رہی، وہ اس برسات اور بارش برسانے والوں سے بے خبر رہا۔ شہبازشریف کے لندن جاتے ہی اس کی ٹیم کا دھڑن تختہ ہوگیا، کمپنی کے اصلی منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر چھوٹے موٹے منیجروں نے منصب سنبھال لیے ہیں، لیکن میرے پسندیدہ دانیال اور طلال دور دور تک کہیں نظر نہیں آتے، طلال کٹ پہن کر ریزرو کھلاڑیوں کے بینچ پر بیٹھا ہے لیکن دانیال شاید ریٹائرڈ ہرٹ ہے، اس کے پرستار اب اسے اس ٹیم میں شاید دوبارہ نہ دیکھ سکیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دانیال کا کیریئر ختم ہوگیا، وہ کچھ دیر آرام مرہم پٹی اور سینکائی کے بعد کسی نئی ٹیم میں نظر آئے گا۔ 
مریم اورنگزیب اور طلال چوہدری اب ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر نہیں آئیں گے، دونوں اس معاملے میں احتیاط برتیں گے اور ضروری فاصلہ برقرار رکھیں گے، دونوں بہت سمجھ دار ہیں، سمجھ داری کا تقاضا بھی یہی ہے، اگر دونوں کی طرف سے اچانک سیاست سے دستبرداری کا اعلان ہوجائے تو پریشانی کی کوئی بات نہ ہوگی، بلکہ اسے صرف اتفاق سمجھا جائے۔ طویل عرصہ اکٹھے کام کرنے کے بعد ہیرو کی ہیروئن اور ہیروئن کا ہیرو بدل جائے تو نئی بننے والی فلم زیادہ کامیاب رہتی ہے، فلمی جوڑے بدل سکتے ہیںتو یہ تبدیلی دیگر شعبوں میں بھی ہوسکتی ہے، یہ الگ بات کہ وزیرخزانہ اور چیئرمین ایف بی آر بدلنے سے جس تبدیلی کے آپ منتظر ہیں، وہ نہیں آئے گی بلکہ تباہی آرہی ہے، مزید تباہی کا انتظار کیجیے۔