19 نومبر 2019
تازہ ترین

تاخیر نہ کیجیے تاخیر نہ کیجیے

جمہورت کے ’’جنازے‘‘ اس ملک میں صرف فوجی آمروں نے ہی نہیںنکالے بلکہ ’’جمہوریت کو کندھے‘‘ دینے والوں میں ’’جمہوری سیاسی ادوار‘‘ بھی شامل رہے ہیں، بلکہ ہر موقع پر پاکستان کے ’’سیاسی ارسطووں‘‘ نے ہی اپنے بدترین طرز حکمرانی اور کرپشن کی ’’لازوال کاری گریوں‘‘ سے جمہوریت کا جنازہ نکالا ہے۔ اس ’’مکروہ عمل‘‘ میں ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے کندھے ہمیشہ خود پیش کیے۔ مفادات کی سیاست کرنے والے تمام سیاستدانوں نے کیا کبھی سوچا ہے کہ جب جمہوریت کا بوریا بستر گول کر کے پاکستان میں جمہوریت پر شب خون مارا جاتا ہے اور حکمرانوں کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے تو عوام خوشیاں کیوں مناتے ہیں؟؟ جمہور یت در اصل ’’جمہور‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی عوام کے ہیں۔ جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے بھی کچھ عرصہ کی جمہوری حکومتوں کے بعد اس سے نجات کی دعا کیوں مانگنے لگ جاتے ہیں؟ وقفہ وقفہ سے کسی بھی غاصب کے آنے پر عوام مٹھائیاں کیوں بانٹتے ہیں؟؟ ’’جمہوری روایات کو پنپتے پنپتے صدیاں‘‘ لگ جاتی ہیں لیکن اگر ’’رویے جمہوری‘‘ اور حکمران ’’با اخلاص‘‘ ہوں تو یہ سفر چند دنوں میں بھی طے کیا جا سکتا ہے۔۔۔ 
اگر حکمران قوم کے سیدھے راستے کا تعین ایمانداری سے کریں تو نا صرف قوم ان کا ساتھ دے گی بلکہ یہ کٹھن راستہ نہایت تیزی سے طے ہو سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کے موجودہ بدترین حالات کے خاتمہ کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔۔موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے عوام سے کیے وعدے تو خواب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔۔ ملک و قوم کے ’’سیدھے راستے‘‘ کے لیے ایک ’’رہبر‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ راہزن کی۔ آج ہمارا ’’رہبر‘‘ ہی کوئی نہیں ہے۔ اقتدار کے بھوکے تمام مفاد پرست کسی نہ کسی شکل میں آج بھی ریاست و حکومت کے ’’سرمور‘‘ ہیں اور ان کی ’’اونچی اونچی باتیں‘‘ اس بد حال قوم کی حالت بدلنے کے تناظر میں اب مذاق ہی لگتی ہیں۔ 30، 30 سال سے زیادہ عرصہ اقتدار کی ’’باریاں‘‘ لینے والے آج بھی طاقتور ہیں اور ا قتدار سے باہر ہونے کے باوجود ’’افسر شاہی‘‘ ان کا ہی حکم مانتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ آج کے حکمران اب پھر عوام کو ’’انتظار‘‘ اور ’’سخت دنوں‘‘ کی داستانیں سنا رہے ہیں۔ اس ’’ملک اور جمہوریت‘‘ کے ساتھ ماضی میں ’’سیاستدانوں نے افسر شاہی‘‘ کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا ہے، ناقابل معافی اور بدترین جرم سے کم نہیں۔۔۔
سوچنے کی بات ہے کہ کیا قوم کا حافظہ کمزور ہے یا ہم بحیثیت قوم بیوقوفوں اور مفاد پرستوں کا ٹولہ بن چکے ہیں؟ آج بھی قوم کو ان ہی نعروںکے ذریعے حوصلہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جنہیں سن سن کر دو نسلیں بڑھاپے میں داخل ہو کر ’’ماضی کا حصہ‘‘ ہو چکیں اور تیسری نسل جوانی میں قدم رکھ چکی۔۔۔ آج پاکستان کی حالت ایسے مریض کی مانند کر دی گئی ہے کہ جیسے ایک مریض ICU میں پڑا ہو اور اسے کسی ماہر اور ایمان دار ڈاکٹر کی خدمات حاصل نہ ہوں۔ ’’ڈاکٹر موجود ہی نہیں‘‘ ہیں اور اگر موجود ہیں تو ان کی ’’ایمانداریاں مشکوک‘‘ ہیں۔ عوام کہاں جائے اور کسے ’’آواز‘‘ دے؟ آج پاکستان کو ICU سے نکالنے والی کسی ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو کسی رشتہ اور تعلق سے بالاتر ہو کر صرف پاکستان کا سوچے اور ایسا نظام اس ملک میں نافذ کرے جس میں سفارش، نا انصافی، برادری ازم اور کرپشن کا سایہ بھی نہ نظر آتا ہو۔ ماضی کی طرح آج بھی سرکاری ادارے کرپشن کا گڑھ ہیں۔۔ سرکاری افسران کا رویہ عوام کے ساتھ ہتک آمیز اور عوام کے ’’سلگتے مسائل‘‘ جوں کے توں ہیں۔ ’’حکومت کے لگائے زخموں‘‘ پر ’’پھاہا‘‘ رکھنے کو کوئی بھی تیار نہیں نظر آتا۔۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں وہ افسر شاہی جس نے پہلے نواز شریف اور پھر آصف علی زرداری کو نا صرف کرپشن کے طریقے بتائے بلکہ ان کے ساتھ مل کر اس ملک کے وسائل کی بُری طرح ’’لوٹ مار‘‘ بھی کی اور بہت طاقتور بن گئے، آج بھی اسی طرح طاقتور ہیں اور اصل حکمرانی اپنے ہاتھوں میں لیے عوام کا نا صرف استحصال کر رہے ہیں بلکہ ماضی کے حکمرانوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے عمران خان کی پنجاب اور مرکزی حکومت کے ’’تبدیلی کے غبارے‘‘ سے ہوا نکالتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
جب جنرل پرویز مشرف نے کارگل کی ملک دشمن ’’کارروائی‘‘ کے بعد پاک فوج کے ’’سپہ سالار اعلیٰ‘‘ کے جہاز کو پاکستان کے کسی ایئر پورٹ پر اترنے کی اجازت نہ دینے اور ’’گرفتار‘‘ کرنے کے حکم کے بعد نواز شریف وغیرہ کو گرفتار کیا اور حکومت سنبھالی تو فوجی حکومت نے بہت سے اچھے اقدامات بھی کیے تھے جن میں سے ایک قدم ہر تھانے میںایک کرنل کی تعیناتی تھی۔ یقین جانیں کہ تھانوں میں فوجی افسران کی تعیناتیوں کے بعد عوام کو کافی حد تک ریلیف ملا تھا اور پولیس کے ’’منہ زور افسران‘‘ بھی احتساب کے ڈر سے کافی حد تک بہتر ہونے لگے تھے، لیکن بعد میں جنرل مشرف کے ساتھ سیاسی لوگوں کے ’’اشتراک‘‘ کے بعد یہ ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ بھی ختم ہو گیا۔۔ اسی طرح باقی اداروں کی مانیٹرنگ کا جو سلسلہ مشرف نے اپنی حکومت کے ابتدائی دور میں فوجی افسران کے ذریعے شروع کیا تھا اس کا خاتمہ بھی ’’سیاسی قدآوروں‘‘ کے کہنے پر مشرف حکومت نے کر دیا اور عوام کو ’’کرپٹ ترین ظالم‘‘ بیورو کریسی کے ’’رحم و کرم‘‘ پر چھوڑ دیا گیا۔۔ سیاستدانوں اور افسر شاہی کا ’’گٹھ جوڑ‘‘ جیت گیا اور عوام ہار گئے۔۔۔
2018ء میں جب ملک میں تحریک انصاف انتخابات میں کامیاب ہوئی تو ایک تقریب میں لاہور کے دو بہت طاقتور پولیس انسپکٹر جب مجھے ملے تو میں نے ان کی باتوں سے اندازہ لگایا کہ وہ نئی حکومت کے آنے پر پریشانی کا شکار ہیں۔۔۔ ان دونوں نے مجھے کہا ’’کہ تبدیلی حکومت‘‘ آ رہی ہے اور ہم سب بہت پریشان ہے لیکن ہم نے نا صرف نوکریاں کرنی ہیں بلکہ انہیں ’’بچانا‘‘ بھی ہے۔۔۔ مطلب یہ کہ اگر حکومت کرپٹ افسر شاہی سے آہنی ہاتھوں سے نبٹتی تو آج اس پریشانی کا سامنا نہ کر رہی ہوتی جس کا عوام کی ’’بُری حالت زار‘‘ کی وجہ سے وہ سامنا کر رہی ہے۔۔ 
ماضی میں ایوب خان، جنرل آغا محمد یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو اور پھر جنرل پرویز مشرف نے خاص طور پر اس ’’سیاسی افسر شاہی‘‘ کے کرپٹ ترین پُرزوں کو پکڑا اور کچھ کو سزائیں بھی دیں۔۔۔ میاں نواز شریف کا افسر شاہی کو میرٹ پر ’’جزا اور سزا‘‘ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ اس افسر 
شاہی کو کرپٹ ترین کرنے کا ’’سہرا ان کے سر‘‘ ہی باندھا جائے گا۔۔ بے نظیر بھٹو بھی اس افسر شاہی کے ہاتھوں بے بس دکھائی دیں۔ عمران خان لاہور پولیس کے افسران اور تھانوں کا اگر حال دیکھ لیں تو انہیں بخوبی سمجھ آ جائے گی کہ ان کے تبدیلی کے نعرے، وعدے اور عوام کے خواب کس بُری طرح ’’چکنا چور‘‘ ہو چکے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو شخص تبدیلی کے وعدوں سے ملکی تاریخ کے بدترین کرپٹ حکمرانوں کی جگہ وزیر اعظم بنا ہو، اس نے کیسے سوچ لیا کہ کرپٹ افسر شاہی کو ان کے کیے کی سزا دیے بغیر ملک میں کوئی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔۔۔ 
بے لگام افسر شاہی کو لگام ڈالنے کے لیے عمران خان کو ویسا ہی آرڈیننس صدر پاکستان سے جاری کرانا ہو گا جیسا ایمنسٹی سکیم کے لیے جاری کیا گیا۔ یقین کریں جب اس کرپٹ افسر شاہی کی ’’نشاندہی‘‘ کے بعد ان کی ’’جانچ پڑتال‘‘ اور ’’حساب کتاب‘‘ کا عمل شروع ہو گیا تو پھر ملک میں ’’قانون کی حکمرانی‘‘ بھی ہو جائے گی اور عوام کے دکھوں پر ’’پھاہا‘‘ بھی رکھا جائے گا۔ اس ’’منہ زور کرپٹ افسر شاہی‘‘ کو لگام ڈال کر ’’ایماندار افسران‘‘ سے ’’تبدیل‘‘ کرتے ہی اپوزیشن ’’چپ‘‘ اور ملک و قوم کا لوٹا پیسہ واپس کرنے پر بھی ’’تیار‘‘ ہو جائے گی۔ یقین کیجیے سیکڑوں ایماندار افسران اس ملک کی خدمت کو تیار بیٹھے ہیں اور اس ’’محاذ‘‘ پر اب تک حکومت کی ناکامی پر مایوسی کا شکار ہیں۔۔ تاخیر نہ کیجیے۔۔۔ ’’کہیں دیر نہ ہو جائے‘‘۔۔۔
بقیہ: ناسٹلجیا