31 مئی 2020
تازہ ترین

سرکاری رہائشی سکیموں کی ناگزیریت! سرکاری رہائشی سکیموں کی ناگزیریت!

بڑھتی آبادی کے پیش نظر عوام کو جہاں روزگار مہیا کرنا ضروری ہے، وہیں رہائش کے لیے انہیں چھت کی فراہمی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 22 کروڑ کے ملک میں روز بروز آبادی کے بڑھنے سے زمین کم ہوتی جارہی ہے، بڑے بڑے شہروں میں جہاں کسی وقت کاشت کاری کی جاتی تھی، اب وہ جگہ ہائوسنگ سوسائٹیوں نے لے لی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بنگلادیش کی آبادی بہت زیادہ تھی، لیکن اس نے آبادی پر قابو پالیا، اسی طرح چین کی آبادی بھی پہلے سے بہت کم ہوچکی ہے، لیکن ہمارے ملک میں آبادی زمین کو نگل رہی ہے، بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے زمینوں پر محلات تعمیر کرلیے ہیں، رہی سہی کسر پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیوں نے پوری کردی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں جو زمین سبزیوں کی کاشت کے لیے مختص کی گئی تھی، وہاں بڑے لوگوں نے محلات تعمیر کرلیے ہیں۔ ان حالات میں حکمرانوں کو شہریوں کی رہائش کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت تھی، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ 
ابھی حال ہی میں پنجاب کے محکمۂ ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ نے مختلف شہروں میں نئی ہائوسنگ سوسائٹیاں بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف شہروں میں سرکاری اور پرائیویٹ جگہ ایکوائر کرکے نئی ہائوسنگ اسکیموں کا آغاز کیا جارہا ہے، تاکہ کم آمدن والے شہریوں کو قطعہ اراضی الاٹ کرکے ان کی رہائشی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ افسوس ناک پہلو کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ محکمہ شہریوں کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کرسکا۔ حالانکہ جس رفتار سے آبادی میں اضافہ ہورہا تھا، اس لحاظ سے ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کو زیادہ سے زیادہ ہائوسنگ سکیمیں بنانی چاہیے تھیں، اَب تک جو رہائشی سکیمیں بنائی گئیں، وہ آبادی کے لحاظ سے ناکافی تھیں، کیونکہ عام شہری سرکاری رہائشی سکیموں میں قطعہ اراضی کے حصول کے لیے درخواست تو دے سکتا ہے، لیکن عام مارکیٹ سے زمین کی خریداری اس کی دسترس سے باہر ہوتی ہے، فزیکل اینڈ پلاننگ نے ماسوائے چند ایک شہروں میں اکّا دکّا سکیم بنانے کر برسوں بعد صوبے کے چند ایک شہروں میں نئی ہائوسنگ سکیموں کے اجراء کا پروگرام بنایا ہے، جس میں عام شہریوں کے لیے تین، پانچ، سات اور دس مرلہ کے پلاٹ مختص کیے جائیں گے، جو شہریوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کیے جائیں گے۔ نئی سکیموں میں دس مرلہ اور ایک کنال کے پلاٹس اوپن آکشن کے ذریعے الاٹ ہوسکیں گے۔ اس محکمے نے راولپنڈی کے نزدیک روات سے چند کلومیٹر چھینی کے قریب دو ایکڑ رقبے پر ایک بڑی ہائوسنگ سکیم شروع کرنے کا پروگرام بنایا ہے، لیکن ڈسٹرکٹ ہائوسنگ کمیٹی کے اجلاس میں جب سکیم کی منظوری کا معاملہ آیا تو ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کو بتایا کہ روات کے قریب سی پیک کے گزرنے اور منصوبے کے دیگر تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے، تاکہ زمین ایکوائر کرنے کے بعد کوئی قانونی رکاوٹ پیدا نہ ہوسکے۔ اس سلسلے میں سکیم کو حتمی شکل دینے کے لیے منصوبے کی منظوری کی خاطر دوسرا اجلاس بہت جلد متوقع ہے، جس کے بعد چھنی سکیم کا پروسیس شروع ہوجائے گا۔ 
فزیکل پلاننگ نیو ایئرپورٹ کے نزدیک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایک بڑی سکیم کا اجرا کررہا ہے، جس میں تین اور پانچ مرلہ کے پلاٹ لوگوں کو الاٹ کیے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ ہائوسنگ کمیٹی نے اس سکیم کی منظوری دے دی ہے، جس پر جلد کام شروع ہوجائے گا۔ اسی طرح کی ایک اور سکیم ضلع اٹک 2 میں شروع کی جارہی ہے، جو فتح جنگ سے تین کلومیٹر دُور جھنگ 72 روڈ پر بنائی جائے گی، جس میں کم آمدن والے لوگوں کو پلاٹ الاٹ ہوسکیں گے۔ اس سکیم میں بھی تین، پانچ، سات اور دس مرلہ کے پلاٹ ہوں گے جب کہ دس مرلہ اور ایک کنال کے پلاٹ اوپن آکشن کے ذریعے الاٹ ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ ہائوسنگ کمیٹی نے سکیم کی باقاعدہ منظوری بھی دے دی ہے، بلکہ آئندہ چند روز میں زمین پر جنگلات کی صفائی کا کام شروع ہوجائے گا۔ یہ زمین حکومت پنجاب کی ملکیت ہے، جس کا باقاعدہ اعلان زیادہ سے زیادہ دو ماہ میں کردیا جائے گا۔ اسی طرح کی ہائوسنگ سکیم کلرکہار اور چوآسیداں شاہ میں بھی شروع کی جارہی ہیں، جس کی منظوری ڈسٹرکٹ ہائوسنگ کمیٹی نے دے دی ہے، پچاس ایکڑ پر بنائی جانے والی اس سکیم میں بھی تین، پانچ اور سات مرلہ کے پلاٹ ہوں گے۔ 
حکومت کی طرف سے ہائوسنگ سکیم کا آغاز اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ بعض پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں میں عوام کو سستے پلاٹوں کا جھانسہ دے کر جمع پونجی سے محروم کردیا جاتا ہے، کیونکہ اکثر شہروں میں عموماً متعلقہ محکموں کی منظوری کے بغیر نئی ہائوسنگ سکیم شروع کردی جاتی ہیں، جن میں سادہ لوح شہریوں کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ اگر حکومت شہریوں کے لیے وقفے وقفے سے مختلف شہروں میں ہائوسنگ سکیموں کا اجراء کرتی رہے تو پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ کی نئی سکیموں کے شروع نہ ہونے سے اس محکمے کے پاس ماسوائے چیدہ چیدہ پلاٹوں کے ٹرانسفر کیسوں کے کوئی قابل ذکر امور انجام دینے کے لیے نہیں۔ اس لیے حکومت کو کم آمدن افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شہروں میں زیادہ سے زیادہ ہائوسنگ سکیموں کا آغاز کرنا چاہیے، تاکہ کم آمدن لوگ بھی اپنے لیے گھر تعمیر کرسکیں۔ قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ ہائوسنگ اینڈ فزیکل کے محکمے نے نئی سکیم کا آغاز کم از کم دو عشرے سے بھی زیادہ عرصہ بعد کیا ہے، ہائوسنگ اینڈ فزیکل کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے، البتہ اب نئی ہائوسنگ سوسائٹیاں بنانے کے لیے کم از کم ایک ہزار کنال رقبہ کی شرط رکھنے کا معاملہ پنجاب حکومت کے زیر غور ہے۔ اس کی حکومتی منظوری کے بعد چھوٹی چھوٹی پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ اب آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، حکومت کو عوام اور خصوصاً کم آمدن والے شہریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سرکاری سطح پر ہائوسنگ سکیم متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔