06 دسمبر 2019
تازہ ترین

سوڈان کی نئی سیاسی ڈیل کا مستقبل سوڈان کی نئی سیاسی ڈیل کا مستقبل

عمر بشیر کی 30سالہ آمریت کے خاتمے کے چار ماہ بعد ملٹری اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا کہ ان کے مابین پاور شیئرنگ کی ڈیل طے پا گئی ہے۔ اس ڈیل کے تحت 11رکنی اتھارٹی عام انتخابات کے انعقاد تک تین سال کی عبوری مدت کیلئے اقتدار سنبھالے گی۔ یہ اتھارٹی اپوزیشن اور فوج کے پانچ پانچ ارکان پر مشتمل ہو گی، چھٹے سویلین رکن کی تقرری اتفاق رائے سے کی جائیگی۔ عبوری دور کے پہلے 21مہینے فوج کا جنرل جبکہ اگلے 18ماہ کوئی سویلین ملک کا نظم و نسق چلائے گا؛ سول ارکان ماہرین پر مشتمل ٹیکنوکریٹس ہوں گے۔
یہ ڈیل وزارت دفاع کے سامنے دھرنا دینے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد طے پائی جس میں 100سے زیادہ مظاہرین ہلاک ہوئے۔ ملٹری کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتح البرہان تشدد کا الزام تیسرے فریق پر عائد کرتے ہیں جبکہ اپوزیشن بدنام زمانہ ’’ رپیڈ سپورٹ فورسز‘‘ کے کمانڈر محمد ہمدان ڈاگلو کو اس کا ذمہ دار قرار دیتی ہے جوکہ ’’ہمٹی‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔ یہ ڈیل افریقی یونین کی ثالثی کا نتیجہ ہے جسے امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل تھی۔ سوڈا نی عوام کی اکثریت نے اس ڈیل پر خوشی کا اظہار اور اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ 
 ڈیل پر خوشی کا اظہار قبل از وقت ہے؛ کئی وجوہات اس ڈیل کو ناکامی سے دوچار کر سکتی ہے، جن میں سرفہرست تین سالہ طویل عبوری دور ہے ۔ اپریل میں سوڈان میں جو ہوا، وہ غیر معمولی اور عوامی مظاہروں کے بعد فوجی بغاوت کی وجہ سے ممکن ہواجس کا نتیجہ اپوزیشن اور ملٹری کونسل کے درمیان تعطل ، اعتماد کے فقدان اور مخاصمت کی شکل میں نکلا۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج دونوں فریقین کے مابین اعتماد کی بحالی ہے۔ 
امکان ہے کہ جنرل برہان پہلے مرحلے میں نئی اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے، مگر انہیں ہمٹی کی طرف سے چیلنج کا سامنا ہے، جس کی فورسز کہیں زیادہ منظم اور مسلح ہونے کے علاوہ ڈارفور میں جنگ کا تجربہ بھی رکھتی ہیں۔ ہمٹی اپوزیشن کے رہنماؤں کو ہمیشہ کڑی تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں، اور عبوری ملٹری کونسل میں ان کا گہرا اثرورسوخ ہے۔ آزادی کے بعد کی سوڈان کی تاریخ پر نگاہ دہرائی جائے تو طالع آزما جنرلوں کی وجہ سے فوجی بغاوت کا خطرہ ہمیشہ سے وہاں منڈلاتا رہا ہے، جوکہ آئیڈیالوجی، اقتدار کی ہوس یا بیرونی طاقتوں کی ایما پر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ چند روز قبل عبوری ملٹری کونسل نے اعلان کیا کہ انہوں نے بغاوت کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے کئی گرفتاریاں کیں۔ عبوری مدت کے پہلے تقریباََ دو سال تک حکومت فوج کے پاس رہنے کے باعث یہ تشویش بلاجواز نہیں کہ سویلین کو اختیارات منتقل کرنے کی مزاحمت ہو سکتی ہے۔
دوسرا بڑا چیلنج خود اپوزیشن اتحاد ہے جس کے تادیر قائم رہنے کا خاص امکان نہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اتحاد کی ایک اہم رکن جماعت ندائے سوڈان ڈیل کی مخالفت کر چکی ہے، اور کسی وقت بھی اتحاد سے نکل سکتی ہے۔ انتخابات سے قبل کے تین سالہ عرصہ میں سیاسی جماعتوں کے مابین سول حکومت کے ڈھانچے، عدلیہ ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے کردار اور جمہوری عمل سمیت کئی امور پر کھل کر بحث ہو گی۔ مزید براں ، نئی اتھارٹی کو علیحدگی پسندوں اور دیگر مسلح گروپوں کیساتھ بھی بات کرنا ہو گی، جن میں ڈارفورکے گروپ بھی شامل ہیں۔ پانچ باغی ملیشیاؤں میں صرف 2اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہیں، جبکہ دیگر براہ راست کیساتھ مذاکرات یا پھر مرکزی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھنا چاہتی ہیں۔
اس سب کے باوجود اگر نئی حکمران اتھارٹی تمام چیلنجز پر قابو پا لیتی ہے، تب بھی اسے نام نہاد اسٹیبلشمنٹ کا اثرورسوخ توڑنا ہو گا جوکہ عمر بشیر کے تیس سالہ دور آمریت میں بہت مضبوط ہوئی۔ انہی میں ایک نیشنل کانگریس پارٹی ہے،جس کی عوامی ساکھ ختم ہو چکی ہے، اسے ملک کے بیشتر ناکامیوں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، مگر اس جماعت کے کئی ممتاز ارکان آج بھی بااثر اورطاقتور ہیں۔ وہ سوڈان میں جمہوریت کی نئی لہر کو ڈی ریل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
سب سے بڑا چیلنج معیشت ہے جوکہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ معیشت کی ناکامی ہی عمر بشیر کے خلاف عوامی مظاہروں کو باعث بنی تھی۔ اس چیلنج سے نمٹنے اور معاشی استحکام کیلئے سوڈان کو ہمسایوں اور دیگر ممالک کے تعاون کی ضرورت ہے۔سعودی عرب اور یو اے ای سوڈان کی معیشت کو سہارا دینے میں تعاون کر رہے ہیں،جبکہ امریکا معاشی پابندیاں جلد اٹھانے کا عندیہ دے چکا ہے۔ سوڈان کیلئے یہ مثبت اشارے ہیں، جو اسی صورت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں کہ فوج خلوص نیت سے ڈیل کی پاسداری اور اعتماد کی فضا کو خراب کرنے سے گریز کرے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: عرب نیوز)