23 جولائی 2019
تازہ ترین

سوڈان امن معاہدہ: روشنی کی موہوم امید سوڈان امن معاہدہ: روشنی کی موہوم امید

سوڈان میں عمر حسن البشیر کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد فوجی ملٹری کونسل نے زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں تھام لی، جس کے بعد ملک میں نئی کشمکش کا آغاز ہوگیا، ایک طرف سوڈانی عوام کا اصرار ہے کہ وہ اپنے ملک کو بطور سول ریاست دیکھنا چاہتے ہیں، ان کے خیال میں اگرملٹری کونسل کا وجود باقی رہتا ہے تو ان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوسکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عرصہ تک برسراقتدار رہنے والے حسن البشیر بھی فوج سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے جانے کے بعد بھی ملٹری کونسل ملکی معاملات کو کنٹرول کرتی رہے تو سوڈانیوں کو خوف ہے دوبارہ وہی کچھ ہوگا جو سابق صدر کے دور میں ہوتا رہا اور یہ صدر حسن البشیر کا پرتو ہوگا۔ 
سوڈان میں ابھی تک جاری پُرامن مظاہروں کے باوجود ملٹری کونسل اپنے اختیارات چھوڑنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن بالآخر تین ماہ کے عوامی مظاہروں اور احتجاج کے بعد گزشتہ دنوں عسکری قیادت اور مظاہرین کے نمائندہ رہنمائوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ طے پاگیا، جس کے مطابق تین برس کے اندر اندر مکمل طور پر سول انتظامیہ کے حوالے کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اس معاہدہ کی رو سے ملٹری کونسل اور عوامی نمائندے باری باری حکومت سنبھالیں گے۔ معاہدہ میں اگلے چھ ماہ کی ترجیحات میں سرفہرست معاملہ یہ ہے کہ مختلف مسلح جنگجو گروہوں کو غیر مسلح کرکے امن مذاکرات کے لیے تیار کیا جائے۔ فریقین 300رکنی کمیٹی کے قیام پر بھی متفق ہوگئے ہیں جو سول انتظامیہ کے لیے انتقال اقتدار کا کام کرے گی۔ عبوری پارلیمنٹ میں دو تہائی نمائندگی مظاہرین کے نمائندوں کو دی جائے گی اور باقی وہ لوگ شامل ہوں گے جن کا سابق صدر حسن البشیر حکومت سے کسی قسم کا تعلق نہ رہا ہو۔ تین ماہ تک جاری رہنے والے ان مظاہروں میں 100سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ یہ مذاکرات افریقی یونین اور ایتھوپیا کے تعاون سے ہوئے تھے۔
اس تمام عمل کے بعد سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فریقین میں اعتماد کی کمی محسوس کی جارہی ہے اور جب تک اگلے انتخابات نہیں ہوجاتے اور ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ2022 میں عسکری قیادت باآسانی اقتدار سے دستبردار ہوجائے گی، کیوںکہ سوڈان کا ماضی گواہ ہے کہ یہاں سول حکومتیں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئیں، جس کا بڑا سبب 1958، 1969 اور 1989کی کامیاب فوجی بغاوتیں ہیں، اس باعث یہاں جمہوری روایات پنپ نہ سکیں اور اس کا عملی مظاہرہ اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب حسن البشیر کے جانے کے بعد ملٹری کمانڈر عواد بن عوف نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی، لیکن محض دو دن میں ہی کونسل کی کمان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے، لیکن پھر کمان ایک اور عسکری جنرل یاسرالعطا کے ہاتھ آگئی۔ اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ موجودہ فوجی قیادت سابق صدر حسن البشیر کی باقیات کو اہم حکومتی عہدوں سے ہٹانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کے ساتھ سوڈان کے جنوبی اور مغربی علاقوں کے عوام ابھی تک اس پورے معاملے میں خاموش ہیں، کہیں یہ دوسرے انقلاب کا ذریعہ نہ بن جائے، لیکن ان تمام مسائل کے باوجوسیاسی مبصرین اس تمام تر صورت حال میں اس معاہدے کو غنیمت ہی سمجھ رہے ہیں۔
8 سال سے زائد عرصہ ہونے کو ہے جب سے عرب اسپرنگ کی لہر اٹھی تھی، لیکن ابھی تک مشرق وسطیٰ کے بارے میں اندیشے اور خدشات باقی ہیں اور مسائل روز بروز پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ تجزیہ کار خطے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں جس سے اس مسئلے کی نئی جہتیں سامنے آرہی ہیں اور مستقبل کا ایک نیا نقشہ سامنے آرہا ہے، مسئلے کے تجزیے کا اصل پہلو یہ ہے کہ عرب اسپرنگ کی حقیقی وجوہ تلاش کی جائیں اور اسے علاقائی تناظر کے ساتھ بین الاقوامی حوالے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہاں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس بارے میں مطلوبہ مواد نہ ہونے کے برابر ہے، لہٰذا ممکنہ طور پر ہوسکتا ہے کہ ایسی کوششیں زیادہ بارآور ثابت نہ ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر آج کوئی سمجھتا ہے کہ2011 کے عرب اسپرنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میںحقیقی جمہوریت آگئی ہے تو وہ اس خطے کے حالیہ نقشے کو دیکھ کر ضرورمایوس ہوگا اور وہ عرب اسپرنگ کی جگہ عرب’’عرب خزاں‘‘ کی تعبیر استعمال کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ 
گزشتہ برس دسمبر کے اوائل سے سوڈان میں جاری عوامی مظاہروں کا اختتام رواں ماہ تیس سال سے برسر اقتدار عمر حسن البشیر کی حکومت کی سبکدوشی پر ہوا۔ چار ماہ دورانیہ پر مشتمل ان مظاہروں کا اختتام جانی نقصانات پر ہوا اور آرمی کے مرکزی دفتر کے قریب احتجاج کرنے والوں پر فورسز کی فائرنگ نے مسئلہ کو گمبھیر بنادیا، یہ مظاہرین قریباً ایک ہفتے سے صدارتی محل اور آرمی آفس کا گھیرائو کیے ہوئے تھے اور ایک اطلاع کے مطابق فوج کا ایک حصہ احتجاج کے آخری مراحل میں مظاہرین کے ساتھ مل گیا تھا۔ اس احتجاج کا آغاز ملک میں روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور معیشت کی ناگفتہ بہ حالت کے بعد ہوا تھا، جس کے بعد چھوٹی بڑی قریباً تیس حزب مخالف کی جماعتوں نے صدر عمر حسن البشیر کے استعفے کا مطالبہ کیا، جس پر صدر راضی نہ ہوئے لیکن رواں ماہ اپریل میں بالآخر انہیں مجبوراً اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔ ایک بہت بڑا مسئلہ جو سوڈان کو درپیش رہا ہے، وہ دارفر کا بحران تھا، جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاکر امریکا نے سوڈان پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں، جس کی وجہ سے ملک کے اقتصادی معاملات گمبھیر ہوگئے اور سابق صدر اس حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی ترتیب دینے میں ناکام رہے جو ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کی ایک بڑی وجہ بنا۔
(تلخیص وترجمہ: محمد احمد۔۔۔ بشکریہ:دی نیشنل)