17 ستمبر 2019
تازہ ترین

سنیے وزیر اعظم سنیے وزیر اعظم

نیا پا کستان بننے کے بعد ہماری وزیر اعظم پاکستان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، اس لیے نہیں کہ ہم ملاقات کے متمنی نہیں بلکہ اس لیے کہ ہم ایک عالم فاضل نہیں بلکہ ایک فضول کالم نویس ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ ملک میں کوئی مسئلہ ہی نہیں جسے ڈسکس کیا جائے بلکہ یوں کہا جائے کہ ملک میں اتنے مسائل ہیں کہ کس کس کو ڈسکس کیا جائے۔ پھر ہم نے سوچا کہ پاکستان میںکوئی کسی کی نہیں سنتا تو سنانے کا فائدہ؟ پھر خیال آیا کہ بھکاری یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسے بھیک نہیں ملے گی یہ کہنے سے باز نہیں آتا کہ سب کا بھلا اور سب کی خیر۔ چنانچہ ہمیں اس پہ خیال آیا کہ چاہے وزیر اعظم صاحب ہماری سنیں نہ سنیں ہمیں اپنا کام کرتے رہنا چاہیے اور مسائل کی جانب انکی توجہ مبذول کراتے رہنا چاہیے۔ جناب وزیر اعظم بہت عرصہ پہلے کے لکھے ہوئے ہمارے ایک قطع کے بول ہیں کہ ؎ 
میرے پیارے اﷲ میاں دل میرا حیران ہے
میرے گھر میں فاقہ اور تیرے گھر میں نان ہے
میں بھی پاکستان ہوں اور تُو بھی پاکستان ہے
میں کیسا انسان ہوں؟ اور تُو کیسا انسان ہے؟
میرا یہ شعر کبھی پُرانا نہیں ہوا۔ میرے ملک میں آج بھی لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور آج بھیٹی وی چینلز پہ یہ ڈسکس ہو رہا ہے کہ دل کے مریض وی آئی پی قیدی کو مرغن غذا کھانی چاہیے یا نہیں؟ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ ہم عالم فاضل نہیں بلکہ ایک فضول سے انسان ہیں اس لیے ہمارا کہا اور لکھا ہوا فضول ہی جاتا ہو گا مگر ہم چونکہ وزیر اعظم صاحب کے صرف خیر خواہ ہیں، مشیر نہیں ہیں جو وہ ہمارے مشوروں پہ عمل کریں گے۔ ہم اگر ان کے مشیر ہوتے تو انہیں یہ بھی مشورہ دیتے کہ جناب آپ بھی ذرا سوچ کے قدم بڑھائیے گا کہ ملک کے عوام اور خاص طور پہ نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے میں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز 
ہونے سے پہلے انکا سدباب کرنا ہو گا ورنہ خدا نخواستہ حکومت کے بینروں پہ وہی تحریر نظر آئے گی جو کچھ عرصہ پہلے ہمارے لیڈروں کے لیے لکھی جاتی رہی ہے، یعنی، ’’قدم بڑھاؤ نواز شریف یا زردای، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ ۔ ایسا نہ ہو کہ اس سلوگن میں نوازشریف اور آصف زرداری کے بجائے آپکا نام ہو باقی سارا وہی کام ہو جو ہم پچھلے ستر برس سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ہمارے بے چارے سابقہ لیڈروں نے بھی عوام کے اسی نعرے کے سہارے قدم بڑھائے اور سرحدیں کراس کر گئے مگر انکے عوام وہیں کے وہیں کھڑے اب یہ کہتے ہیں ’’جہاں رہو خوش رہو کیا ہم تمہارے ساتھ ہیں؟‘‘ ہمارے اس دوہرے معیار سے آپ جناب کو ہشیار رہنا ہو گا کہ ہم کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔
ایک زمانے میںہمارے ہاں وزارت اطلاعات سگریٹ کے اشتہاروں سے مال کماتی رہی اور وزارت صحت اسی اشتہار کے نیچے ایک سطر لکھا کر اپنا فرض نبھاتی رہی کہ ’’خبردار، تمباکو نوشی مضر صحت ہے‘‘۔ ہمارے اداروں کے قیام کا مقصد کچھ ہے اور انکا مطلب کچھ نکلتا ہے۔ مثلاً، پٹرول پمپ کو دیکھ کر ہمیںگاڑی میں پٹرول ڈلوانے کے بجائے کم تول اور ملاوٹ کا خیال آ جاتا ہے۔ سرکاری ملازم کو دیکھ کر ہمیں سستی تساہل اور کام چوری کا یقین ہو جاتا ہے۔ گوالے کو دیکھ کر پانی یاد آ جاتا ہے۔ پولیس کو دیکھتے ہی رشوت کا تصور ابھرتا ہے۔ بسوں ویگنوں کو دیکھ کر موت اور ٹریفک سگنلز دیکھ کر قانون شکنی یاد آتی ہے۔ دکانداروںکو دیکھ کر سچ پہ سے یقین اُٹھ جاتا ہے۔ سمگلنگ کی چیک پوسٹوں پہ سختی دیکھ کر غیر ملکی مصنوعات سے بھرے بازار یاد آ جاتے ہیں۔ ایئرپورٹ پہ مسافروں کا رش دیکھ کر مہنگائی جھوٹ لگتی ہے۔ فلمیں دیکھو تو سنسر بورڈ پہ یقین اُ ٹھ جاتا ہے، تھیٹر دیکھو تو شرم یاد آ جاتی ہے اور ٹی وی دیکھو تو سب کچھ بھول جاتا ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہماری ثقافت کیا ہے؟ ہماری منزل کیا ہے اور ہمارا راستہ کیا ہے؟ ہمارے ملک کا دارالخلافہ اسلام آباد ہے تو ہمارے لیڈروں کا دارومدار لندن اور واشنگٹن کیوں ہے؟ ہم امریکا سے خائف ہی رہتے ہیں اور اسی کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے تن، من اور دھن کی بازی لگا دیتے ہیں۔ ہم امریکا کو سامراج کہتے ہیں اور بھاگ کر اسی کی سیاسی پناہ لیتے ہیں۔ ہم دولت اس ملک سے کماتے اور جمع دوسرے ملکوں میں کرتے ہیں۔ ہم گورے سے آزادی حاصل کرنے کے نغمے اسی کی گود میں بیٹھ کر گاتے ہیں۔ ہم دعا عربی میں مانگتے ہیں اور درخواست انگریزی میں لکھتے ہیں۔ ہم اﷲ پہ ایمان اور امریکا پہ بھروسہ رکھتے ہیں۔ ہمارے پھل غریب کیلئے اور قیمت رکھتے ہیں اور امیر کے لیے اور قیمت۔ ہمارے تعلیمی ادارے غریب کے بچوں کیلئے اور، امیر کے بچوں کے لیے اور ہوتے ہیں۔ بلوں اور ٹیکسوں کے مارے عوام ٹکٹ خرید کر عوامی کلاس میں سفر کرتے ہیں اور انہی کے ٹیکسوں پہ پلنے والے وی آئی پی بن کر فرسٹ کلاس میں مزے کرتے ہیں۔ ہمارے گلو کار سرکاری پروگراموں 
میں ملی نغمے گاتے ہیں اور پرائیویٹ فنکشنز میں بھارتی نغمے گا کر روزی کماتے ہیں۔ تو جناب وزیر اعظم صاحب، آپ اب اس ملک و قوم کیلئے امید کی آخری کرن ہیں، اس ملک سے جہالت، غربت اور ناخواندگی کے اندھیرے دور کرنے کا اکلوتا چراغ ہیں۔ سڑکوں اور عمارتوں پہ لگے بینروں اور پوسٹروں پہ لکھی ہوئی عبارات کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی عادات بھی ذہن میں رکھیے گا جو جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو اپنے مخالفین کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہناتے ہیں اور پھر اپنے مفاد کیلئے انہیں مخالفین کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ’’ہم ایک ہیں‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ یہ وہ ایک ہیں جو اپنے مفاد کے لیے تو ایک ہیں مگر کالا باغ ڈیم جیسے قومی اور عوامی مفاد میں اتفاق نہیں رکھتے۔
اب ہم وزیر اعظم پاکستان کے بجائے پاکستان کے ہیرو عمران خان سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ جناب کوئی بھی کام سرانجام کرنے سے پہلے لوگوں کے دلوں سے اداروں کے خلاف بدگمانی دور کیجیے۔ عوام کی پہلی عدالت یعنی تھانے کو کمپیوٹرائزڈ کرنے اور پولیس کے نکلے ہوئے پیٹ پہ توجہ دیجئے، پولیس کے آئی جی صاحب ان پولیس والوں کی تنخواہ بند کرا دیں جب تک وہ سمارٹ نظر نہ آئیں۔ ہر علاقے میں وہاں کے کسی نامور دانشور کو انچارج بنا کر اسکے ذمے کام لگائیں اگر ہم آپ کے مشیر ہوتے تو آپ کے لیے کچھ اور ہی لکھتے مگر ہم تو آپ کے خیر خواہ ہیں، ہم تو بس آپکو اتنا ہی مطلع کر سکتے ہیں کہ؎
غیرت کی شمع لگتی دل آویز بہت ہے
غربت کی ہوا بھی تو مگر تیز بہت ہے
بقیہ: پتلی تماشا