15 ستمبر 2019
تازہ ترین

سخنِ کرپشن   (2) سخنِ کرپشن (2)

قارئین! قیامِ پاکستان کے بعد طنز و مزاح کے بڑے شاعر مجید لاہوری تھے جنہوں نے شاعری کے ذریعے سیکڑوں اشعار میں رشوت، سفارش اور بدعنوانیوںپر کڑی تنقید کی ہے۔ دو تین مثالیں دیکھئے:
نوٹ ہاتھوں میں وہ رشوت کے، لیے پھرتے ہیں
کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
خدا کے واسطے مجھ کو منسٹری دے دو
مرا مزاج لڑکپن سے لیڈرانہ ہے
صاحبو! مولانا ظفر علی خاں کی ساری شاعری طنزیہ اور ہجویہ اشعار پر مشتمل ہے۔ فرنگیوں کی کرپشن کا ذکر جابجا کرتے ہیں۔ مثلاً:
میوہ خوری کے لیے چُننے لگے جب گول میز
رکھ لیے خود مغز، چھلکوں پر ہمیں ٹرخا دیا
سید محمد جعفری بھی کسی سے کم نہیں۔ دیکھئے دفتری کلرک کی کرپشن کا انداز ان دو شعروں میں کس طرح سمو دیا ہے:
لالچ کی مُہر کندہ تھی دل کے نگین پر
ٹی۔ اے وصول کرنے کو اُترا زمین پر
ابلیس راستے میںملا، کچھ سِکھا گیا
اُترا فلک سے تھرڈ میں انٹر لکھا گیا
قارئین! مشہور شاعر مرزا محمود سرحدی نے اپنی تخلیق ’’اندیشۂ شہر‘‘ میں جا بجا رشوت اور سفارش کا ذکر کیا ہے۔ ذرا یہ قطعہ دیکھئے:
حقیقت کی تجھ کو خبر ہی نہیں ہے
نہ جا ان کے ظاہر پہ میرے مربیّ
کمائی سے رشوت کی اکثر بنے ہیں
وہ گھر جن پہ لکھا ہو ’’مِن فضلِ ربی‘‘
صاحبو! حضرت رئیس امروہوی تو قطعہ نگاری اور نظم نگاری میں طنز و مزاح کے ایسے نشتر لگاتے ہیں کہ مریض کراہنے لگتا ہے۔ ان کی مشہور نظم ’کھٹمل نامہ‘ کے آخری دو اشعار ملاحظہ ہوں:
آپ کو تھپکیاں جو دیتے ہیں
آپ کا خون چُوس لیتے ہیں
یعنی حضرت کے لیڈرانِ کرام
سخت خونخوار، سخت خون آشام
قارئین! اردو کے ایک اور مزاح گو شاعر محبوب عزمی تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر اقبال کی مشہور نظم ’’شکوہ‘‘ کی پیروڈی کی اور کرپشن کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔ نظم کا ایک بند دیکھئے:
آ گیا گر کہیں دفتر میں کوئی بندہ نواز
ہوسِ زر میں گرفتار ہوئی قومِ حجاز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
آئے رشوت کی جو زَد میں تو سبھی ایک ہوئے
معزز قارئین! اب ذرا جدید دور میں آ جائیں تو پتا چلتا ہے کہ ہمارے سبھی اہم شعراء نے کرپشن پر کچھ نہ کچھ ضرور کہا ہے۔ ہمارے دائیں بائیں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے صرف نظر تو نہیں کیا جا سکتا۔ عصرِ حاضر میںکرپشن کی مقبولیت کو دیکھ کر انور مسعود یہ کہنے پر مجبور ہو گئے :
کروں گا کیا جو کرپشن میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
اور پروفیسر طہٰ خاں کا اندازِ بیاں دیکھئے:
ارضِ پاکستان یہ کہتی ہے رشوت خور سے
شوق سے کھاؤ پیو، پھولو پھلو، آزاد ہو
دونوں ہاتھوں سے سمیٹو حق پہنچتا ہے تمہیں
سب میرے بیٹے ہیں لیکن تم میرا داماد ہو
صاحبو! محقق و شاعر ڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ کا کرپشن کے حوالے سے یہ خوبصورت قطعہ دیکھئے:
گھر میں آ کر کھیلو کودو، دفتر میںآرام کرو
جھوٹ کے کاروبار کو جتنا کر سکتے ہو عام کرو
عزت اور توقیر سے رہنا چاہتے ہو تو چُپکے سے
رشوت دے کر کام کراؤ، رشوت لے کر کام کرو
اور پھر نوجوان شاعر محمد عارف نے ٹھیکوں کے بارے میں کیا خوب کہا  ہے:
جی ٹی کو ’’مال ‘‘ بنانا تھا جس نے
جی ٹی روڈ سے مال بنا کر چلا گیا
قارئین! میں اپنی بات اپنے ہی شعر پر ختم کر کے اجازت چاہوں گا:
مسلسل ڈَس رہا ہے وائرس ہم کو ’’کرپشن‘‘ کا
مگر اس روگ کو کب اپنے چارہ گر سمجھتے ہیں!