25 اگست 2019
تازہ ترین

شیخ رشید، ریلوے اور ضمیر شیخ رشید، ریلوے اور ضمیر

پاک و ہند کے معروف شاعر جاوید اختر صاحب کے جو اشعار گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بہت مقبول ہوئے ان میں سے ایک شعر یہ بھی ہے،
یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے
کیوں پرانا ہوا ویران کبھی دیکھ تو لو
تذکرہ فرزند راولپنڈی کہے جانے والے شیخ رشید احمد کا ہو اور بات کا آغاز اگر جاوید اختر کے کسی شعر سے کیا جائے تو ہو سکتا ہے دونوں شخصیتوں کے فہم میں زمین و آسمان جتنے فرق کو محسوس کرتے ہوئے بعض لوگوں کو یہ بات کچھ عجیب لگے۔ شیخ رشید کے مکتبہ فکر کی وجہ سے نہ تو دونوں شخصیتوں میں کوئی تال میل ہو سکتا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارے وزیر ریلوے کا میلان جاوید اختر کی شاعری کی طرف ہو۔ اس کے باوجود صادق آباد کے ولہار ریلوے سٹیشن پر ہونے والے اکبر بگتی ایکسپریس کے افسوسناک حادثے کے بعد ذہن میں یہ خیال آیا کہ کاش وزیر ریلوے نے بھارتی شاعر کا مندرجہ بالا شعر پڑھنے کے بعد سمجھ اور اس کے مطابق عمل بھی کر لیا ہوتا تو پاکستان کے لوگ کئی ممکنہ ریل حادثوں سے محفوظ رہ سکتے تھے۔ اس طرح کا خیال ذہن میں آنے کی وجہ وہ طویل پس منظر ہے جو یہاں آئے روز رونما ہونے والے ریل گاڑیوں کے حادثوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ریل گاڑیوں کے حادثوں کا آغاز شیخ رشید کے وزارت ریلوے سنبھالنے کے بعد نہیں ہوا بلکہ یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔ ریل حادثوں کی تاریخ کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ریلوے کا تکنیکی و انتظامی ڈھانچہ پرانا اور بوسیدہ ہوا، ویسے ویسے یہاں ریل حادثوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ اگر یہاں کوئی غیر جانبداری سے ریل حادثوں کی تاریخ کا جائزہ لے تو اسے فوج یا سول حکمرانوں کے دور حکومت میں حادثوں کی سالانہ اوسط میں کوئی فرق نظر آئے گا۔ ولہار ٹرین حادثے کے بعد شیخ رشید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر کیا کسی نہ یہ دیکھنا گوارا کیا کہ ان کے وزارت سنبھالنے سے قبل یہاں ٹرین حادثوں کی تفصیل کیا تھی۔
2017ء میں جب یہاں میاں نواز شریف وزیر اعظم اور سعد رفیق وزیر ریلوے تھے، اس وقت کسی رکن نے قومی اسمبلی میں ایک سوال کے ذریعے ریلوے انتظامیہ سے ٹرین حادثوں کی تفصیل طلب کی تھی۔ اس سوال کے جواب میں ریلوے انتظامیہ نے قومی اسمبلی کو جو تفصیل فراہم کی، اس کے مطابق جنوری 2013ء سے دسمبر 2016ء کے دوران ریل گاڑیوں کے کل 338 حادثے رونما ہوئے۔ حادثوں کے لیے ریلوے کی اپنی بنائی گئی کیٹیگریوں کے مطابق 149 حادثوں کو بڑے اور 189 کو چھوٹے حادثے قرار دیا گیا تھا۔ ان حادثوں میں 118 قیمتی جانیں ضائع ہونے کے ساتھ سیکڑوں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ دسمبر 2016ء سے شیخ رشید کے وزیر ریلوے بننے تک ٹرین حادثوں کا سلسلہ حسب سابق جاری رہا۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد جب ان کے اقتدار کے پہلے 100 دن کی رپورٹ میڈیا میں شائع ہوئی تو اس میں وزیر ریلوے شیخ رشید کی کارکردگی یوں بیان کی گئی تھی کہ گزشتہ 3 ماہ دس دن کے دوران ریلوے میں 10 نئی گاڑیوں کا اضافہ کیا گیا جبکہ نئے حادثات رونما ہونے کی رفتار بھی جوں کی توں رہی۔ شیخ رشید کی وزارت کے پہلے سو دنوں میں ریل گاڑیوں کے مختلف حادثات کے دوران 16 لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد جیسے جیسے شیخ رشید کے عرصہ وزارت میں اضافہ ہوا ویسے ویسے ٹرینوں کی تعداد اور حادثات بھی بڑھتے گئے۔ 2 جولائی کو جب وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی ریلوے سٹیشن سے ایک مزید نئی ٹرین سرسید ایکسپریس کا افتتاح کیا تو میڈیا کو بتایا گیا کہ شیخ رشید کے دور وزارت میں چلائی گئی نئی ٹرینوں کی تعداد اب 24 ہو گئی ہے۔ 11 جولائی کو جب ریلوے سٹیشن ولہار پر اکبر بگتی ایکسپریس کھڑی ہوئی مال گاڑی سے ٹکرائی تو میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ شیخ رشید کی وزارت میں 79 ٹرین حادثے رونما ہو چکے ہیں، جن میں سے کیٹیگری کے اعتبار سے 18 بڑے اور 61 چھوٹے حادثے ہیں۔ کاش کہ شیخ رشید نئی ریل گاڑیاں چلانے سے قبل اس بات کا جائزہ لے لیتے کہ پرانی گاڑیوں کو آئے روز حادثے کیوں پیش آ رہے ہیں، کیوں ان حادثوں میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور کیوں ان حادثوں کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپوں کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ شیخ رشید کے دور میں ہونے والے حادثات ان سے پہلے ادوار کا تسلسل ہیں مگر تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے دور میں ہونے والے حادثات کی تعداد میں گزشتہ دور کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ اگر سابقہ ادوار میں حادثوں کی وجہ ریلوے کا بوسیدہ ڈھانچہ تھا تو حادثوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ بوسیدہ ڈھانچے پر نئی ٹرینوں کے بلاوجہ بوجھ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ شیخ رشید کے اپنے بیان کے مطابق ریلوے کے افسران، تکنیک کار اور ماہرین تو نئی ٹرینیں چلانے کے حق میں نہیں تھے مگر انہوں نے کسی کی نہ مانی اور اپنی مرضی کے مطابق نئی ٹرینیں چلانے کا حکم دیا۔ اب اگر ٹرینوں کے حادثات میں اضافہ ریلوے کے بوسیدہ ڈھانچے پر ڈالے گئے نئی ٹرینوں کی بوجھ کی وجہ سے ہو رہا ہے تو کیا انکوائری کے دوران کسی عام ریلوے ملازم کو ان حادثوں کا ذمہ دار قرار دیا جانا درست تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
ولہار ٹرین حادثے میں اب تک 24 لوگ ہلاک اور 100 زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ وزیر ریلوے شیخ رشید کے اعلان کے مطابق ہر ہلاک ہونے والے کے ورثا کو 15 لاکھ، شدید زخمی کو 5 لاکھ اور معمولی زخمی کو 2 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ اس حساب سے صرف مرنے والوں کے ورثا کو ریلوے کے مالی وسائل سے 3 کروڑ 60 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔ زخمیوں کو ادا کی جانے والی رقم بھی کروڑوں میں ہو گی اور حادثے کی وجہ سے پہنچنے والے مالی نقصان 
کا تخمینہ بھی کروڑوں میں لگایا جا رہا ہے۔ قومی خزانے کو پہنچنے والے اس نقصان کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ اس حوالے سے یہ بات توجہ طلب ہے کہ میاں شہباز شریف پر کرپشن کے جن الزامات کے تحت نیب میں تفتیش جاری ہے ان میں سے کسی میں بھی یہ الزام نہیں ہے کہ انہوں نے کہیں سے کمیشن یا رشوت لی بلکہ ان پر یہ الزام ہے کہ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں اربوں کا نقصان پہنچا۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے پہنچنے والے قومی خزانے کے نقصان کو بدعنوانی کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ شکنجہ صرف شہباز شریف تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کی پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو نقصان بھی پہنچ چکا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع بھی ہو چکیں مگر انہوں نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ابھی وہ اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس نہیں کر رہے، جب بھی انہیں اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس ہوا وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔
بقیہ: لعل و گہر