09 اپریل 2020
تازہ ترین

’’شبر زیدی اور گرین چینل‘‘ ’’شبر زیدی اور گرین چینل‘‘

1990 میں جب نواز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو پاکستان کے کاروباری طبقے کی خوشی قابل دید تھی۔ غالباً پہلا موقع تھا کہ کاروباری شخص کو وزیراعظم بنایا گیا۔ ویسے تو دنیا بھر میں یہ روایت ہے کہ کاروباری شخصیات حکمران نہیں بنتیں اور اگر سیاست میں حصہ لیں تو پھر کاروبار نہیں کرتیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کے لیے آپ کو ملکی سیاست میں حصہ لینا پڑتا ہے اور اگر آپ کامیاب سیاست دان ہوں تو پھر اقتدار مقدر ہوسکتا ہے۔ ملکی سیاست کا بہرحال باوا آدم نرالا ہے۔ یہاں کی سیاست میں آمریت کے دور میں اپنے من پسند لوگوں کو لاکر کامیاب کرانے اور پھر اقتدار دلوانے کا ’’چلن‘‘ پرانا ہے۔1990 میں نواز شریف کوآئی جے آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑاکر محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہرایا گیا اور آئی جے آئی کے سربراہ غلام مصطفیٰ جتوئی کی جگہ نواز شریف کو ملک کا وزیراعظم بنوانے والے کوئی اور نہیں اس وقت کے صدر اسحاق خان اور دیگر تھے۔ 
1985 میں جنرل ضیاء الحق کے ’’سیاسی بندوبست‘‘ کے تحت ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں اٹک کے پرانے سیاست دان ملک اللہ یار قریباً وزیراعلیٰ بن چکے تھے کہ اُس وقت کے گورنر پنجاب غلام جیلانی نے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور ایک وقت میں جنرل ضیاء کے بہت قریبی میاں زاہد سرفراز سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ’’پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے بہتر شخصیت کون سی ہے؟‘‘ زاہد سرفراز کے بقول ان کا جواب تھا کہ چونکہ اسمبلی نئی ہے اور  پنجاب اسمبلی کے اراکین کی اکثریت ملک اللہ یار آف اٹک کے رابطے میں ہے، اس لیے ملک اللہ یار بہترین چوائس ہیں۔ جنرل غلام جیلانی نے اس پر ان سے کہا کہ ملک اللہ یار تو اپنی مرضی کرے گا کیونکہ وہ پرانا سیاست دان ہے اور اسے وزیراعلیٰ بنوانے سے مستقبل میں جنرل ضیاء اور دوسروں کے لیے مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں اور انتخابات کے نتیجے میں بنائی جانے والی حکومتوں کا مستقبل بھی تباہ ہوسکتا ہے۔ میاں زاہد سرفراز جواُس وقت ضیاء کے بہت قریب تھے اور جنرل صاحب ان کی بات کم ہی رد کیا کرتے تھے کے بقول جنرل غلام جیلانی نے درخواست کی کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف، جو پنجاب میں صوبائی وزیر ہے کو وزیراعلیٰ بنادیا جائے، کیونکہ وہ اس موم کی ناک کی مانند ہے کہ جسے جب چاہیں کسی بھی جانب موڑ لیں گے۔ جنرل غلام جیلانی نے زاہد سرفراز سے درخواست کی تھی کہ چونکہ جنرل ضیاء آپ سے مشورہ کرتے ہیں، اس لیے جب نواز شریف بارے آپ کی رائے لی جائے تو نواز 
کے حق میں بات کیجیے گا۔ زاہد سرفراز کے بقول اگلے ہی دن جنرل ضیاء نے مجھے بلایا اور نواز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب  بنانے کی بابت مشورہ کیا تو میرا جواب تھا کہ جنرل صاحب جیسا وزیراعلیٰ آپ چاہتے ہیں، ملک اللہ یار تو ویسا نہیں بنے گا اور جیسا آپ کو بتایا گیا ہے کہ ’’موم کی ناک‘‘ جیسا وزیراعلیٰ آپ کو پنجاب میں درکار ہے، اس کے لیے نواز شریف ہی بہتر رہے گا۔ میاں زاہد سرفراز آج بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف کو وزیراعلیٰ بنوانے اور سیاست میں آگے لانے کے ’’گناہ عظیم‘‘ میں میں ’’برابر‘‘ کا شریک ہوں۔
1993 میں جب کرپشن کے الزامات کے تحت نواز حکومت برخاست کی گئی تو زاہد سرفراز کو احتساب کا مشیر بنایا گیا اور انہوں نے لاہور، اسلام آباد موٹروے پروجیکٹ میں اس وقت 20 ارب کی کرپشن کو بے نقاب کیا اور عوام کو بتایا تھا کہ کس طرح وزیراعظم موٹروے بنانے والی کورین کمپنی ’’ڈائیوو‘‘ کے چیف ایگزیکٹو کو رات کے اندھیرے میں خود ’’ریسیو‘‘ کرنے ایئرپورٹ گئے اور انہیں وزیراعظم ہاؤس میں بطور مہمان ٹھہرایا گیا اور ان سے اربوں کی ’’کک بیک‘‘ لی گئی تھی۔ 80 کی دہائی میں لاہور میں بنائے جانے والے نئے علاقوں گارڈن ٹاؤن، فیصل ٹاؤن،  جوہر ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن اور اقبال ٹاؤن میں نواز شریف کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب قریباً 10 ہزار کے قریب پلاٹوں کی اپنے فرنٹ مینوں کوغیر قانونی الاٹمنٹوں پر زاہد سرفراز کے ساتھ کیے گئے ایک چشم کشا پروگرام پر 2017 میں نیب نے ایک ریفرنس تیار کیا اور اس میں نواز شریف کو بطور مرکزی ملزم نامزد بھی کیا جاچکا ہے۔ فیصل آباد میں کلکٹر کسٹم کو اپنے کاروباری دوست کے کہنے پر ’’ہتھکڑیاں‘‘ لگوانے والا غیر قانونی و غیر آئینی واقعہ ایک اوسط درجے کے کاروباری 
شخص کا افسر شاہی کے خلاف بغض تھا۔ جو شخص وزیر بننے سے پہلے ایک اسسٹنٹ کلکٹر کو ملنے کے لیے اپنے بھائی سمیت لاہور ڈرائی پورٹ پر 4 گھنٹے انتظار کرتا رہا، جب اسے اقتدار میں لایا گیا تو اس نے بیوروکریسی کو ڈرانے کے لیے ایسے اقدامات شروع کیے۔
اگر 70 اور 80 کی دہائی پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ پاکستان نے تمام ایسی اشیا پر بھاری ڈیوٹیاں لگائی ہوئی تھیں کہ جن کی درآمد سے ملکی صنعتوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ لیکن ہوا کیا؟ نواز حکومت نے آتے ہی اپنے کاروباری ’’کارٹل‘‘ کے کہنے پر کسٹم ڈیوٹیوں میں فوری کمی کردی اور پاکستان کا ’’صنعتی زوال‘‘ شروع ہوگیا۔ بہت سی ایسی اشیاء کہ جن کو تیار یعنی مکمل حالت میں منگوانے پر بہت زیادہ کسٹم ڈیوٹی عائد تھی، پر ڈیوٹیوں کی شرح ایک دم سے گرادی گئی اور ان کی امپورٹ پر عائد بہت سی شرائط کو بھی ہٹادیا گیا۔ اب ہوا کیا۔؟ پاکستان کی لوکل مارکیٹ کے مینوفیکچررز بہت سارا سامان بیرون ملک سے منگواتے تھے جس کے لیے انہیں انڈسٹریل لائسنس وغیرہ کی ضرورت ہوتی تھی اور جب وہ سامان باہر سے منگواکر اشیاء  مینوفیکچر کرتے تو پھر بھی ان کے امپورٹ شدہ سامان کو کسٹم حکام چیک کیا کرتے تھے کہ کہیں منگائے گئے سامان کا غلط استعمال تو نہیں ہورہا۔ قریباً تمام اشیاء کی درآمد پر عائد شرح ڈیوٹی کو یک دم گرانے سے بظاہر لوکل مینوفیکچررز کو فائدہ نظر آرہا تھا، لیکن جب مکمل پالیسی سامنے آئی تو کاروباری لوگوں کا ماتھا ٹھنکا کہ جن اشیاء کی امپورٹ پر لوکل مینوفیکچررز کے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے سخت شرائط عائد تھیں، نواز حکومت نے ان شرائط کو ختم کرکے ڈیوٹیوں کی شرح خطرناک حد تک گرادی تھیں۔ نتیجہ بیرونی اشیاء کی لوکل مارکیٹوں میں بہتات اور لوکل مینوفیکچررز کی تباہی کی صورت نکلا۔ عوام کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ نواز شریف کے پہلے دو ادوار میں ایک ایک دن کے ’’ایس آر اوز‘‘ کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تھا اور ایک ایک دن میں پورٹوں پر موجود درآمدات پراربوں کی کسٹم  ڈیوٹیوں کی مد میں آمدہ محصولات کی معافی کراکر حکومت کو ’’چُونا‘‘ لگایا جاتا رہا۔ 
میاں شریف میڈیکل کمپلیکس کے نام پر 1998 میں شریف برادران نے 423 ’’بی ایم ڈبلیو‘‘ لگژری گاڑیاں فری امپورٹ کرکے اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کیں اور  اس میگا کرپشن کے معاملے کوبھی راقم نے اپنے پروگرام میں دستاویزات کے ساتھ نشر کیا تھا۔ کرپشن کی ہوش رُبا تمام داستانوں کے پیچھے ٹیکس چوری چھپی نظر آئے گی۔ 
نواز شریف نے اپنے کاروباری دوستوں کی اعانت اور مشورے سے اپنے دور میں ’’گرین چینل‘‘ متعارف کرایا تھا، جس کا مقصد ایئرپورٹس سے بغیر چیکنگ کے سامان کی کلیئرنس تھا۔ کسٹم حکام کو گرین چینل سے نکلے صرف ایک یا دو پسینجرز کو چیک کرنے کی اجازت تھی۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کسٹم پولیس اور دوسرے محکموں میں بھرتی کے ہائی ریٹس مقرر تھے، یہاں گرین چینل کو کھولنا ایسے ہی تھا کہ جیسے چوروں کو کہا جائے ’’آپ چوری کرو، کوئی نہیں پکڑے گا۔‘‘ آج بھی وہ لوگ موجود ہیں جن کا تعلق گوالمنڈی اور نسبت روڈ لاہور سے تھا اور بیکار پھرا کرتے تھے۔ ان تمام بیکاروں کو شہباز بلابلاکر کہا کرتے تھے کہ ’’گرین چینل‘‘ آپ لوگوں کے لیے کھولا گیا ہے جاؤ ’’پھیرے‘‘ لگاؤ اور پیسے کماؤ۔ اگر کوئی کسٹم والا تنگ کرے تو مجھے بتاؤ۔ ماضی گواہ ہے کہ اس ’’گرین چینل‘‘ نے ناصرف پاکستانی محصولات کو کھربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا بلکہ لوکل مارکیٹوں و صنعتوں کو بھی تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اور اس تباہی کے اثرات آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔ نواز شریف کے ایسے اقدامات نے ملکی محصولات کے نظام کو تباہ کرکے رکھ دیا تھا۔
’’گرین چینل‘‘ کا ذکر سنتے ہی ماضی میں قوم کے محصولات کو برباد کرنے والوں کی فلم دماغ میں چل پڑی۔ چند دن قبل لاہور ڈرائی پورٹ پر کنٹینرز کی کلیئرنس کے ذریعے ہونے والی روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کی ٹیکس ڈکیتیوں کے ذکر کے بعد ایک رکن ایف بی آر، دو کلکٹرز، دو ایڈیشنل کلکٹرز اور ایک سینئر خاتون کلکٹر سمیت 4 کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس اور 11 آپریٹرز کی پریشانی قابل دید ہے، لیکن ان سب کی میگا کرپشن ان کے اثاثوں سمیت سامنے آنے والی ہے۔ ان کی میگا کرپشن کے ثبوت شبر زیدی چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے بھی مانگے گئے لیکن جب تک ان کرپٹ کسٹم آفیسران وغیرہ کی تمام جائیدادوں کا ریکارڈ مکمل نہیں ہوجاتا، اسے کسی کو دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، لیکن میرے لیے شبر زیدی کا بیان کہ 60 فیصد امپورٹس کو ’’گرین چینل‘‘ سے نکال کر تاجروں کو ریلیف دیا جائے گا، نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ شبر زیدی ایک سی اے کمپنی کے سینئر پارٹنر ہیں اور یہ وہی کمپنی ہے جس نے 2016 میں پاناما لیکس سامنے آنے پر پالیسی بیان دیا تھا کہ پاناما لیکس کی کوئی ’’حیثیت‘‘ نہیں اور نواز شریف ’’بے گناہ و معصوم‘‘ ہیں۔ جس ملک میں معیشت پر ’’میگا ڈاکے‘‘ پڑے ہوں اور محصولات و برآمدات کرپشن کی وجہ سے ’’زمین  پر لگے‘‘ ہوں، وہاں کا چیئرمین ایف بی آر اگر آج بھی کہہ رہا ہو کہ 60 فیصد درآمدات ’’گرین چینل‘‘ سے نکالنے کی اجازت دی جارہی ہے تو پھر عمران خان کو سوچنا ہوگا کہ اس حکومت کا مستقبل کیا ہے اور ان کی حکومت اور ماضی کی کرپٹ نواز حکومتوں میں ’’ٹیکس چوروں کو سہولتیں‘‘ فراہم کرنے کے تناظر میں فرق کیا ہے۔
بقیہ: ناسٹلجیا