19 نومبر 2019
تازہ ترین

شاخ نازک پہ آشیانہ … شاخ نازک پہ آشیانہ …

ہمارے سیاست داں صرف اقتدار کے لیے عوامی خدمت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ حقیقت میں ان کا عوام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ میڈیا نے عوام کی آنکھوں پر پڑی پٹی بہت حدتک اتاردی ہے، لیکن ہمارے سیاست دان پتا نہیں کس مٹی کے بنے ہیں کہ صرف کرسی اور دولت کا دفاع کرنے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں۔ کہنے کو تو یہاں جمہوری طرز حکومت ہے، لیکن جتنی بھی سیاسی جماعتیں متحرک ہیں، ان کے ذمے داران اور ترجمان ہر صورت اپنے لیڈروں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے سیاسی پہلوان جو بار بار پارٹیاں بدلنے کی وجہ سے خاصہ نام رکھتے ہیں۔ یہ لوگ جب ایک جماعت میں ہوتے ہیں تو اس سے حق وفاداری نبھاتے رہتے ہیں، لیکن یہی فصلی بٹیرے ہوا کا بدلتا رخ دیکھ کے کسی بھی ایسی جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں جس کے اقتدار میں آنے کا موقع بن رہا ہو۔ 
آج صورت حال یہ ہے کہ نواز شریف جیل میں ہیں اور زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو احتساب کا سامنا ہے۔ یہی نواز شریف اور ان کی پارٹی کچھ سال پہلے زرداری کو چور، ڈاکو، منی لانڈرنگ کا بادشاہ اور کرپشن کنگ کہتی تھی اور یہی بلاول کچھ عرصہ پہلے میاں صاحب کے تخت لاہور پر نقب لگانے کے خواب دیکھا کرتے تھے، لیکن ہوا کچھ مختلف۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیاست بے نظیر کی شہادت کے ساتھ ہی ختم ہوچکی تھی اور امید ہے کہ اگلے الیکشن میں سندھ سے بھی زرداری لیگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔ سندھ کے عوام تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں، ان کے ’’محبوب قائدین‘‘ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہاں کے لوگ صرف اپنی روزی روٹی کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہیں اور سندھ دھرتی کے نعرے پہ انہیں ووٹ ملتا رہے۔ بہت سال ایسا ہی چلتا رہا۔ عوام کو قابو میں رکھا گیا۔ اندرون سندھ تک سیاسی شعور پہنچ رہا ہے۔ امید ہے کہ اگلے الیکشن تک سندھ کے عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے خوب باخبر ہوچکے ہوں گے۔ انتخابی کامیابی اور اتحادیوں کو ساتھ ملاکے پی ٹی آئی ناصرف مرکز بلکہ پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں حکومت بناچکی ہے۔ 
پچھلے کئی برس سے دو جماعتی سیاسی نظام چل رہا تھا۔ کبھی نون تو کبھی پی پی۔ اب مولانا فضل الرحمٰن ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ (ن) لیگ اور پی پی کو ساتھ ملاکے حکومت گراسکیں، تاکہ اگلی بار انہیں پہلے سے زیادہ موثر وزارت مل سکے۔ آل پارٹیز کانفرنس کی بھی وہی قیادت سنبھالے ہیں، لیکن آج کوئی سیاسی ورکر میدان میں نہیں آرہا، وہی لوگ سڑکوں پر سامنے آرہے ہیں جنہوں نے جی بھر کے مال بنایا تھا، باقی سمجھ چکے ہیں کہ آل پارٹیز کا گٹھ جوڑ صرف قوم سے لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لیے ہے، یہ سب اپوزیشن جماعتیں اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کی سیاست کررہی ہیں۔ حقیقت میں اپوزیشن کے پاس کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔ سابق صدر زرداری اور تین بار کے سابق وزیراعظم 
نوازشریف اکٹھے قانون کی گرفت میں ہیں۔ بلاول کو شاید یاد نہ ہو کہ ان کی والدہ کی کردار کشی کے لیے نواز شریف نے کیا کردار ادا کیا تھا اور محترمہ مریم بھی آج بھول چکیں کہ آج سے چند سال پہلے پی پی کے جیالے 
ان کے بارے کیا کہا کرتے تھے۔ آل پارٹیز کانفرنس ابتدا ہے جیسے جیسے ہمارے سابق حکمرانوں کے گرد گھیرا تنگ ہوگا یا جیسے جیسے یہ حکومت پٹرول بم گرا کے ضروریات زندگی مہنگی کرے گی، اپوزیشن جماعتیں عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کریں گی، لیکن آج ہر باشعور فرد جان چکا ہے کہ پی پی اور نون لیگی قیادت صرف اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔