06 دسمبر 2019
تازہ ترین

سفید دھن… سفید دھن…

کالے اور سفید دھن کا جھگڑا صدیوں قبل سے چلتا آرہا ہے اور ذخیرہ اندوزی بھی اسی کا حصہ ہے، پرانے زمانے میں لوگ زیادہ تر ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، دولت کو چھپاکر کم رکھتے تھے، اناج کی ذخیرہ اندوزی زیادہ ہوتی تھی اور جب قلت ہوتی تو زیادہ قیمت پر فروخت کرتے تھے۔ انسان ازل سے ہی لالچی ہے، اس نے پیسہ کمانا ہے، جیسے بھی کمایا جائے۔ آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ کاروبار ذخیرہ اندوزی کا ہی ہے، پاکستان میں لاکھوں لوگ یہ کاروبار کرتے ہیں۔ یہاں صرف ایوب خان کے مارشل لا کے دور میں کارروائی ہوئی ہے، باقی حکومتوں کی اس طرف نظر کم ہی پڑی ہے۔ موجودہ حکومت کو ذخیرہ اندوزی کا کوئی علم نہیں، صرف کرنسی کی فکر ہے، کرنسی کی بھی ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے، سونے کی بھی ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے، دیگر قیمتی چیزوں کی بھی ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ ہمیشہ غیر محفوظ رہا ہے، اس لیے عوام پیسہ چھپا کر رکھتے ہیں، حالانکہ یہ طریقہ غیر محفوظ ہے اور ایسا حکمرانوں کی غلطیوں کے باعث ہوتا ہے۔ حکمران ایسی سکیمیں دیتے رہتے ہیں جس سے لوگ پیسہ غائب کردیتے ہیں، لیکن موجودہ حکومت پیسہ باہر لانا چاہتی ہے، یہ بات اچھی ہے، اس سے ملک ترقی کرے گا مگر سوال یہ ہے کہ انکم ٹیکس کے ادارے کیا عوام سے انصاف کریں گے؟ ملک کی ترقی دیانت سے ہوتی ہے اور اداروں میں دیانت نہیں۔ 
سرکاری ادارے پاکستانیوں کے ہیں، وہاں بھی ہمارے بھائی ملازم ہیں، جو خود عوام کو بچنے کے طریقے بتاتے ہیں، اگر ہم ملک سے وفادار ہوں تو پھر کمال ہے اور ہمارا ملک فوراً ترقی کرجائے۔ حکومت کو سب سے زیادہ زور دیانت پر دینا چاہیے، پہلی کوشش لوگوں کو دیانت کی طرف لانا ہے، دوسری باتیں بعد کی ہیں۔ ہمارا معاشرہ بددیانتی پر چل رہا ہے، اس میں سارا پاکستان شامل ہے، کوئی ایک ادارہ نہیں مگر جو ادارے ملک کے لیے پیسے جمع کرتے ہیں، اُن کی ذمے داری زیادہ ہے، چند بڑے ادارے جو اس ملک کی باگ ڈور چلاتے ہیں، وہ بددیانتی سے سارا اثاثہ ضائع کردیتے ہیں، مطلب چور سپاہی ایک ہوجاتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ دیانت سے بڑا کوئی کام نہیں۔ اگر دیانت میں ناکامی ہے  تو پھر حشر یہی ہوگا جو اَب ہے۔ بہت کم لوگ اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، اکثر اپنی ذات کی فکر میں ہوتے ہیں، اب دولت کا رُخ بدل رہا ہے، لوگ اپنی دولت کسی اور کرنسی میں تبدیل کرلیں گے، جس کو روکنا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ حکومت جو بھی کارروائی کرے، اُس کا علم میڈیا کو نہیں ہونا چاہیے۔ میڈیا لوگوں کو ہوشیار کردیتا ہے۔ حکومت ہر وہ فیصلہ کرے جس سے عوام کا نقصان نہ ہو، کیونکہ یہ وہی عوام ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر عمران خان کو وزیراعظم بنایا۔ عوام بہت جلد بدل بھی جاتے ہیں ان کوخوش رکھنا بھی ضروری ہے۔ 
حکومت لوگوں کو دیانت دار بنانے کا راستہ تلاش کرے، دوسری بات کہ عوام کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو، آج لوگ خوف میں ہیں، اس کا کچھ کرنا ہوگا۔ سفید و کالے دھن کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، کالا دھن سفید ہوجاتا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ لوگوںکا خون سفید ہوجائے، جب دھن کالا ہی رہے اور خون سفید ہوجائے تو بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ عمران خان پر بڑی ذمے داری ہے کہ یہ اپنے ووٹر بھی خراب نہ کریں اور ملک کو سیدھی راہ بھی عطا کریں۔ محض دوسروں کو بُرا کہنے والے ٹولے سے تبدیلی نہیں آتی، اس کے لیے ساتھی بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ملک میں ایسے کام کیے جائیں، دھن خود بخود سفید ہوتا چلا جائے۔ وزیراعظم ایسے افراد کو ساتھ ملائیں، جو لوگوں کو کاروبار کا راستہ دکھائیں۔ کالا دھن سفیدکرنا بہت ضروری ہے، خون سفید کرنا ضروری نہیں۔ اگر حکمران کمال کے کاروباری ہوں تو دھن جلد سفید ہوجائے، لوگوں کو ملکی ترقی کے کاموں میں لگایا جائے۔ میرے خیال میں ایسی کشش ہو کہ لوگ اپنا پیسہ مارکیٹ میں لگائیں اور جب دولت باہر سے آکر کاروبار میں لگے گی تو پھر دھن سفید ہونا شروع ہوجائے گا۔ دھن تو ہوتا ہی سفید ہے، اس کو ملک کے حالات کالا کردیتے ہیں۔ خان صاحب ایسے افراد کو آگے لائیں جو لوگوں کو سرمایہ کاری کرنے کے راستے بتائیں کہ ڈر زیادہ کالا دھن کرے گا۔(باقی صفحہ 11پر)
دھن کالا ہو یا گورا دھن ہوتا ہے 
پر دھن پہ پڑا ہوا تالا اچھا نہیں ہوتا
دولت چلتی پھرتی رہے تو اچھی ہوتی ہے 
پیسہ گھر میں چھپایا اچھا نہیں ہوتا
ہر آدمی بڑا سمجھ دار ہوگیا ہے فرازیؔ
بندہ آئی ایم ایف سے نکالا اچھا نہیں ہوتا 
دھن کالا رہنے سے انسان کا خون سفید ہوجاتا ہے اور آنکھوں میں سفید موتیہ اُتر آتا ہے، دولت کی حفاظت انسان کو کمزور کردیتی ہے، ملک کا سرمایہ بھی رُک جاتا ہے اور رُکا ہوا پانی بدبودار ہوجاتا ہے۔
بقیہ: فیض عام