25 مئی 2019
تازہ ترین

سچائی سامنے آگئی… سچائی سامنے آگئی…

میں نے پہلے بھی تجویز کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت کو ذوالفقار علی بھٹو سے سبق لینا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے بانی رہنما نے ملک توڑا کہ نہیں، اس کا ذکر تو اب بے سود ہے، مگر عنان حکومت سنبھالنے کے صرف چند گھنٹوں بعد ہی موصوف کام میں جُت گئے۔ ٹوٹے ہوئے ملک اور شکست خوردہ قوم کا ناصرف اعتماد بحال کرنا بلکہ اُسے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کردینا کوئی معمولی بات نہ تھی، لیکن بھٹو نے اپنے عزم و ہمت سے ایسا کر دِکھایا۔ کہتے ہیں نا کہ ہمتِ مرداں، مدد خدا۔ بھٹو مرحوم بھی انسان ہی تھے، لیکن انسان ہی کو اﷲ پاک نے اشرف المخلوقات بناکر زمین پر بھیجا، اُسے بے انتہا صلاحیتوں سے نوازا۔ اُس کو طاقت، ہمت، عزم و ارادوں جیسی صلاحیتوں سے نواز کر دُنیا میں امن و امان، مالکِ کائنات کی مخلوق کی فلاح و بہبود کا کام سپرد کیا۔ 
عمران خان بھی پُرعزم، اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک اور باصلاحیت انسان ہیں، 22 سال تک ہمت نہیں ہاری، بالآخر اُس کا پھل اُن کی گود میں آگرا، آج وہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں، لیکن وقت کا احساس شاید نہیں اور اگر ہے بھی تو نظر نہیں آتا۔ نو مہینے ہوگئے، ابھی تک معاشی، سماجی یا کسی بھی سمت میں قدم اُٹھتے نظر نہیں آتے، ان کے وزرا پارلیمان تک جانے سے کتراتے ہیں، تو پھر منتخب کیوں ہوئے؟ زرعی، صنعتی، لیبر اور معاشی پالیسیاں، اب تک کسی بھی سمت میں قدم نہیں بڑھایا گیا۔ نو مہینے کے بعد جاکر اب احساس ہوا کہ عوام بلبلا رہے ہیں، دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔ عمران خان صاحب آپ کو اور آپ کی پوری کابینہ، ارکان پارلیمان کو شب و روز ایک کرنے پڑیں گے۔ چین، آرام بھول جائیں، خلقِ خدا کی بھلائی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں، ہمت تو کریں، اﷲ کی نعمتوں سے خودبخود سرفراز ہوں گے۔ خلق خدا کی خدمت ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ پاکستانی کرنسی جب 143 روپے فی امریکی ڈالر کی نچلی سطح تک گر گئی، تب آپ کو ہوش آیا۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتے ہوئے، مہینے بھر سے زائد ہوگیا، ابھی تک کچھ بھی سامنے نہیں آیا، بروز پیر جب یہ سطور قارئین کے سامنے ہوں گی تو آپ ایک اجلاس کی صدارت کررہے ہوں گے کہ آخر آئی ایم ایف سے مذاکرات کو کیا شکل دی جائے۔ آپ کی نیت پر شبہ نہیں لیکن وقت کی کمی کا شکوہ ضرور ہے۔ بہت وقت ضائع کردیا گیا۔ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ قوم کو کچھ وقت مشکل حالات کا سامنا مزید کرنا پڑے گا، لیکن آئی ایم ایف کے مزاج تو اچھے نظر نہیں آتے، Take it or leave it کا مطلب ہے کہ آپ کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے، یا ٹیکنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ پبلک اکانومی کا حجم 300 فیصد ٹیکس نظام میں لانا ہوگا، بجلی اور گیس کے نرخ دو سال تک مزید بڑھتے رہیں گے۔ آپ کا یہ فرمان کہ ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، ہوسکتا ہے ٹھیک ہو، لیکن صرف آپ کی نظر میں، عوام کی نظروں میں نہیں۔ 
چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اچھا فیصلہ کیا کہ ایف بی آر کے افسران کو تجارتی اداروں اور افراد کے بینک اکائونٹس منجمد کرنے سے پہلے اُنہیں 24 گھنٹے کا نوٹس دینا لازمی قرار دے کر اُنہوں نے کاروباری طبقوں میں اعتماد کسی حد تک ضرور بحال کیا ہوگا۔ اسٹاک مارکیٹ اور معیشت کی بحالی کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری تھا۔ شبر زیدی ایک شہرت یافتہ شخصیت کے مالک ہیں، انہوں نے بغیر تنخواہ کے کام کرنے کا وعدہ کرکے دُنیا کے لیے مثال پیش کی ہے، کاش کچھ اور لوگ بھی قائداعظمؒ کی طرح صرف ایک روپیہ ماہانہ تنخواہ لیتے۔ 
قومی بچتوں کی اسکیمیں نظرانداز ہوئی پڑی ہیں، اُنہیں دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ سیونگز سرٹیفکیٹس، ڈیفنس سرٹیفکیٹس اور دوسرے ذریعے جس سے قومی خزانے کو تقویت مل سکے، کی فوری طور پر دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ایوب خان کے زمانے سے سیونگز سرٹیفکیٹس پر زور دیا گیا تھا۔ نواز شریف کے دورِ حکومت سے اسے نظرانداز کردیا گیا۔ کوئی پوچھے کہ کیا لمبی چوڑی سڑکیں بنانے سے معیشت ترقی کرے گی؟ نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں لمبی چوڑی شاہراہیں ہی بنانے پر ساری توجہ صَرف کردی گئی، سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے پیسے دینے سے انکار کردیا تھا، صحیح کیا۔ قومی خزانے پر خوامخواہ کا بوجھ تھا۔ ٹھیک ہے جرمنی، انگلینڈ، امریکا وغیرہ میں شاہراہیں بنائی گئی ہیں، روڈ کا سفر عام ہے، لیکن ساتھ صنعتی ترقی پر بھی دھیان برقرار رکھا گیا۔ ہمارے یہاں تو یک طرفہ تماشا تھا۔ معیشت ہچکولے کھانے لگی تھی، فطری امر تھا۔ 
وزیراعظم عمران خان کی اس بات سے کم از کم میں تو خوش ہوں کہ خزانہ خالی ہو تو ترقیاتی منصوبوں کو منجمد کردینا چاہیے، نئی اسکیموں پر عمل بعد میں بھی ہوسکتا ہے، لیکن نئے ہسپتال، تعلیمی ادارے، دریائوں پر بند بنانا تو ایسے کام ہیں جنہیں کرنا ہی پڑے گا۔ شکر ہے مہمند ڈیم پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ کئی ایک چھوٹے چھوٹے ڈیمز اور بنانے پڑیں گے، تاکہ بارانِ رحمت سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جاسکے۔ چین نے اسی طرح اپنے مسائل حل کیے، اُس کے مشورے پر ہم نے کان نہیں دھرا، بے وقوفی کی، اب پچھتا رہے ہیں، اب بھی وقت ہے، صحیح فیصلے ہوں گے تو نتائج بھی اچھے حاصل ہوں گے، معیشت ترقی پذیر ہو گی۔ عمران کو اور اُن کے ارکان پارلیمان اور وزراء کو دن  رات ایک کرنا پڑیں گے۔ وقت کا ضیاع معیشت کو لے ڈوبے گا۔ وقت کی قدر کا احساس بہت اہم ہے۔