17 ستمبر 2019
تازہ ترین

سیاسی فروعات اور کارکردگی سیاسی فروعات اور کارکردگی

بھلا کیسے بتاؤں دکھ کسی متروک گملے کا
جسے پانی نہیں ملتا، جو پانی لا نہیں سکتا
(عابی لکھنوی)
پاکستانی قوم کو اس کے ’’عظیم انقلابی رہنماؤں‘‘ نے متروک گملے میں تبدیل کر دیا ہے۔ آپ ان کے عظیم فرمودات سنیں اور عمل دیکھیں، شرم سے سر جھک جائے گا۔ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کو اپوزیشن عظیم فتح قرار دے رہی ہے، آصف زرداری یا تو پہلے غلط تھے یا اب غلط ہیں۔ مسلم لیگ کے بعد پیپلز پارٹی بھی ’’حرم‘‘ تبدیل کرنے میں کسی سے کم نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پہلی بار ایک سال سے حکومت سے باہر ہیں، مدمقابل سنگدل رقیب ہے، وگرنہ یہ فریضہ بلکہ حلالہ وہ کر چکے ہوتے۔ ہاں، یہ ہے کہ وہ فی الحال حکومت کے گلے کا کانٹا ضرور بنے ہوئے ہیں۔ بہرحال یہ ’’سیاسی سرکس‘‘ بھی دیکھنے والا ہو گا، اگر آنے والے اپنی آئی پر آ گئے تو ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن اپنے ہی لوگوں اور ووٹ سے ’’فیض یاب‘‘ نہ ہو سکے۔
 ملک میں جتنا سخت سیاسی موسم چل رہا ہے ایسے میں ضمیر جاگنا معمولی بات ہو سکتی ہے، دکانیں سج سکتی ہیں، دیکھنا ہے کہ برادرم صادق سنجرانی سے محبت کرنے والوں کی محبت کتنی ہے؟ عجیب بات ہے کہ صادق سنجرانی کا آصف زرداری سے قریبی تعلق رہا ہے، وہ یوسف رضا گیلانی کے مشیر بھی تھے۔ سیاسی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ وہ اس بار اپنا راستہ کیسے بناتے ہیں۔ بنیادی طور پر شریف آدمی ہیں، ان کی قربانی اپوزیشن اپنی سیاسی ساکھ بنانے کے چکر میں دینے چلی ہے۔ انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کر کے اپنے بلوچ بچے بلاول کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں۔ دونوں بلوچ ہیں، دشمنی کرنی اور نبھانی دونوں کو آتی ہے۔ سنجرانی ویسے بھی سخت جان بلوچ تصور کیے جاتے ہیں، بہرحال اس لڑائی کا قوم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ سیاسی اشرافیہ کا تھیٹر ہے، سیاست میں ایسی دل لگیاں وہ کرتے ہی رہتے ہیں جیسے آج کل تبدیلی سرکار آصف زرداری اور نوازشریف کے دوروں کے اخراجات قوم کے سامنے لا رہی ہیں۔ یہ بے وقت کی ٹکریں ہیں، حضور اپنی کارکردگی بتائیں قوم کو ان فروعی معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ میاں صاحب کے سری پائے، آصف زرداری کی بھنڈیاں ہیلی کاپٹروں پر آتی رہی ہیں۔ آپ کے شیرو کا بھی امپورٹڈ قیمہ آ رہا ہے، کیا فرق پڑتا ہے۔ دونوں حکمرانوں نے غیر ملکی دوروں پر تین ارب خرچ کیے۔ آپ نے اپنے چہیتوں سے پوچھا تک نہیں کہ بھائی جب سستی ترین ایل این جی اور اس کے پلانٹ دستیاب تھے، تم نے مہنگی بجلی پیدا کرنے کا  اتنا بڑا ظلم کیوں کیا؟ ایل این جی پر دسمبر، جنوری اور فروری 
میں جب ڈالر 120 روپے پر تھا ایک یونٹ 11 روپے کا تھا، فرنس پر 18 روپے سے اوپر تھا۔ آپ کو پتا ہے کہ ایل این جی استعمال ہوتی تو قوم کو 42 ارب نہ دینا پڑتے، الٹا 15 ارب روپے کا ریلیف ملتا، پھر بڑا جرم کس نے کیا؟
 بہتر تھا آپ بھی غیر ملکی دوروں پر اتنے پیسے خرچ کر لیں مگر ایسے ظلم کر کے اس پر تالیاں بجوا کر قوم کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیں۔ آپ کی وزارت کا دعویٰ ہے کہ چوری کم ہوئی ہے، ریکوری بڑھ گئی ہے۔ سب جھوٹ ہے، سفید جھوٹ ہے۔ فالتو یونٹ ڈال کر لوگوں کی زندگی تباہ کر دی گئی ہے۔ لوگ کفایت شعاری پر گئے تو بھی بجلی کے بل کم نہیں ہوئے، لوگوں کے بل اور میٹر کی ریڈنگ آپس میں میچ نہیں کھاتے۔ وہی جون والا کھیل اب ہر مہینے کھیلا جا رہا ہے، بل آخری تاریخ کو صارف کو بھیجا جاتا ہے۔ وہ بل ٹھیک کرانے جاتا ہے تو افسر دفاتر سے غائب ہوتے ہیں، بل بھرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ وگرنہ بجلی بحال کراتے گھنٹے نہیں دن لگتے ہیں۔ پورے ملک میں صارفین پر کروڑوں نہیں اربوں یونٹ ڈالے گئے ہیں۔ یقین کریں پھر قانون پسند عام شہری پھنسے گا، بجلی کی چوری مزید بڑھے گی۔ کیا ہمیں کوئی بتا سکتا ہے کہ سالانہ 50 کروڑ سے زائد یونٹ واپڈا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حاضر اور ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں کو کیوں دیے جاتے ہیں؟ اسی طرح گیس کمپنیوں میں اس مد میں سہولیات کیوں ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ سی ڈی اے کے اہلکاروں میں اربوں، کھربوں کے پلاٹ، ابا جی کے دربار کی ریوڑیاں سمجھ کر کیسے بانٹ دی گئیں؟ آخر سرکاری ملازم کے بچوں کو ہی کیوں سرکاری نوکریاں دی جا رہی ہیں؟ آپ نے کوئی فیصلہ لینا ہے تو یہاں لیں، آپ بھی قوم کو بیوقوف 
نہ بنائیں۔ قانون طاقتوروں کے گھر کی لونڈی بن گئی ہے۔ آپ قوم کو فروعی کھاتے کھول کر بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ جہاں پر قانون کی پاسداری نہیں کی گئی آپ آڈٹ پیرے بنائیں، نیب کو کیس بھیجیں مگر محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کریں۔
30 ہزار کا بجلی بل آنے پر خاتون کی مبینہ خودکشی کی خبر آئی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو اس کا پرچہ وزیراعظم اور وزیر بجلی پر کٹنا چاہیے۔ اب تو بجلی کمپنیوں کے افسر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اتنا ظلم تو کبھی بھی نہیں ہوا۔ ہم مجبور ہیں، ہمیں نوکری اور ظلم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ یہ اپنے آپ کو عوامی حکومت کہتے ہیں۔ یہ روایت بلکہ سنہری روایت ماضی سے چلی آ رہی ہے، پہلے چھری ایک طرف سے کاٹتی تھی اب دونوں طرف سے کاٹتی ہے۔ دو دھاری چھری سے محترم حفیظ شیخ اور شبر زیدی روزانہ شکار کر رہے ہیں، مگر بڑا آدمی ان سے محفوظ ہے۔ اثاثے ضبط کرنے کی فلم ایک دن سے زیادہ نہیں چل سکی۔ لوگ اس کی مزید اقساط دیکھنا چاہتے تھے پتا نہیں پھر کس کی نظر لگ گئی۔ فلم دوسرے دن ہی ڈبہ ہو گئی۔ ویسے یہ بھی کیا حکومت ہے، تازہ ترین یوٹرن انہوں نے ایک روز قبل ہی لیا جب حماد اظہر کو ریونیو کا مکمل وزیر بنایا اور ان سے یہ قلم دان اگلے ہی روز واپس لے لیا۔ یہ تاجروں کی ہڑتال کے سامنے ایک دن بھی نہیں ٹھہر سکے، اب ان کے گورنر مذاکرات کرتے پھر رہے ہیں، پہلے بڑھک لگائی کہ ٹیکس واپس نہیں ہوں گے۔ موٹی گردن والے سیٹھوں کی گردن میں یہ پھندا فٹ کر ہی نہیں سکتے، شامت پھر عوام کی ہی آنی ہے۔ یہ ریونیو ٹارگٹ 7000 میں سے 5600 ارب کا لگائے بیٹھے ہیں مگر بجلی اور پٹرول کی کھپت میں 25% سے زائد کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کا واضح مطلب ہے کہ اس شعبے سے ٹیکس شارٹ فال خطرناک حد تک کم ہو گا۔ اس کا اثر ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ شرح نمو پر بھی پڑے گا۔ دوسرے لفظوں میں اس شعبے سے 1000 ارب روپے کا شارٹ فال ہو سکتا ہے یعنی 5600 ارب کا ٹارگٹ اب عوام کا خون نچوڑ کر ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید خوفناک حد تک کم ہو گئی ہے جو کساد بازاری کا سبب بنے گی۔ تاجروں کے خرچے پورے نہیں ہوں گے، وہ مہنگائی کریں گے تو اس سے معاشرے اور معیشت دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسرے معنوں میں آپ سمجھ لیں کہ حکومت کے ’’معاشی کاریگروں‘‘ نے جو کاری گری دکھائی ہے وہ حکومت کے گلے کا ہار بن جائے گی۔ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کا شکنجہ اور سخت ہو گا، مجھے تو خطرہ ہے کہ ہم اپنی نام نہاد آزادی بھی کھو نہ بیٹھیں۔ ہم تیزی سے غلامی نہیں مکمل غلامی (باقی صفحہ 11پر)
تک جا رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ حکومت کفر سے قائم رہ سکتی ہے، ظلم سے قائم نہیں رہ سکتی۔ آگے آپ خود بہت سمجھدار ہیں، ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں۔ ٹیم بدلنے والے ٹیم بدل لیں، یہ ٹیم ورلڈ کپ تو دور، کوئی کپ ہی نہیں جیت سکتی۔
کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارہ لکھا تھا
جس نے شہر کی دیواروں پر پہلا نعرہ لکھا تھا
آخر ہم ہی مجرم ٹھہرے، جانے کن کن جرموں کے
فرد عمل تھی جانے کس کی، نام ہمارا لکھا تھا
(احمد سلیمان)
بقیہ: محاسبہ