24 اگست 2019
تازہ ترین

روزہ۔۔ روز جیسا ہرگز نہیں روزہ۔۔ روز جیسا ہرگز نہیں

رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت گزرنے کو ہے، ذرا سوچئے، ہم نے تمام تر کوتاہیوں کے باوجود اس سے کیا حاصل کیا؟ غور کریںکہ کہیں کسی کوتاہی میں ہم یہ دن ضائع تو نہیں کررہے، اگر جواب نہ میں ملے تو آج ہی عہد کرلیں کہ اس کوتاہی کا ہر حال میں ازالہ کیا جائے گا، انسان خطا کا پتلا ہی نہیں زمانے کی رنگینیوں میں بہت جلد بہک بھی جاتا ہے، قدم قدم پر مختلف انداز میں شیطان موجود ہیں، حدیث نبوی ﷺ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ نیت کریں پھر دیکھیں مالک کائنات کیسی برکت ڈالتا ہے۔ ’’بھلا رحمان کے سامنے شیطان کیا حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ ساری زندگی سجدے میں پڑے رہنے کے باوجود اﷲ کی حکم عدولی پر لعنتی قرار دیا گیا، حکم کیا تھا حضرت آدمؑ کو سجدہ۔ ایک انکار اور غرور میں مارا گیا۔ بس یہی دماغ میں رکھیں کہ کہیں ہم بھی ایک غلطی پر مارے دھتکارے نہ جائیں۔ ایک اور حدیث آپ کی تقویت کے لیے موجود ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ ’’صدق دل‘‘ سے روزہ رکھیں، ’’فیشن‘‘ میں نہیں، پھر دیکھیں ’’روزہ‘‘ آپ کو کن کن خرافات سے بچاتا ہے۔ ماہ مقدس میں روزوں کی پابندی کریں۔ شکر بجا لائیں کہ اے زندگی اور موت کے مالک، سب کچھ تیرا عطا کردہ ہے، ہم دنیاداری میں بہکنے کے باوجود اپنی شناخت رحمانیت رکھنا چاہتے ہیں شیطانیت نہیں، کیونکہ ہم جیسے بھی ہیں تیرے بندے ہیں، پھر دیکھئے رحمتوں کا نزول۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تُو میری عطا پر شکر کر پھر دیکھ تیری قسمت و مقدر میں کیا کچھ آتا ہے؟ لیکن رحمتیں بٹورنے کے لیے ’’نیت‘‘ کی درستی اور آپ کے روزمرہ کے انداز بھی رمضان المبارک میں ویسے ہی بدلنے چاہئیں جیسے اللہ کا حکم اور اس کے رسول ﷺ کی تربیت ہے، یعنی روزہ رکھا جائے تو انسان روز جیسا ہرگز نہیں ہو، اس کے شر سے ہر کوئی محفوظ ہو، اس کی زبان و بیان سے کسی کو دکھ نہ پہنچے، نگاہیں نیچی اور گردن میں مغروری کی اکڑ نہ ہو، کسی کی جیب پر نظر ہونے کے بجائے اپنی جیب کے مطابق یتیموں، غریبوں، لاوارثوں اور ضرورت مندوں کا مددگار بنے، پھر چاہے سانس لے یا دنیا کو دنیا کے حال پر چھوڑ کر سوجائے، سب کچھ عبادت… 
مالک کائنات سب سے بڑا اور شہ رگ کے قریب ہے، وہ دلوں کا حال جانتا ہے اور ذہنوں کی کیفیت سے بھی واقف ہے، رمضان المبارک اس کا مہینہ، روزہ بھی اس کا اور ثواب بھی وہی دے گا، وہی حقیقی انصاف کرنے والا ہے، بس آپ بھی ’’عشرۂ رحمت‘‘ کے تقاضوں کے تحت حکم خداوندی بجالائیں، اپنی مصروفیات سے مالک حقیقی کے حکم پر قرآن و سنت کی روشنی میں نماز، روزہ، عبادت کے فرائض ذمے داری سے انجام دیں، تاکہ جون ایلیا کی طرح کوئی یہ نہ کہہ سکے۔۔
یہ عبادت ہے۔۔۔ کہ توہین عبادت ہے
جب کوئی یاد نہ آیا۔۔۔ تو خدا یاد آیا 
روزہ بھی خالصتاً اللہ کے لیے ہی رکھیں اور التجا کریں۔ یااللہ ہم تیرا حکم بجا لائے، آزمائشوں کے قابل نہیں ہیں ہم، بس اپنی رحمتوں سے نواز دے۔ یہ ماہ عبادت اپنے دامن میں ڈھیروں فضیلت سمیٹے ہے، اس میں ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کی ادائیگی کا اجرو ثواب ستر گنا قرار پایا ہے، اس ماہ مقدس کے تیس دنوں کی شان ہی نرالی ہے۔ پہلا عشرہ باعث رحمت، دوسرا باعث مغفرت اور تیسرا جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، اسی ماہ مقدس کی طاق راتوں میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اس ماہ مقدس کی عبادت، تہجد، توبہ استغفار، صدقہ خیرات، صبر و تحمل، نماز، نوافل، تلاوت، روزہ اور افطار و سحری کی فضیلت اس قدر زیادہ ہے کہ لوگ اس کا اندازہ ہی نہیں لگاسکتے۔ غور طلب بات یہ کہ اگر آدمی کو انسان بننے کی خواہش میں صرف توبہ واستغفار کی عادت پڑجائے تو اس کی بخشش کے لیے یہی کافی ہے۔ مالک کائنات ہر بہانے سے اپنے بندے کو معاف کرنا چاہتا ہے، ماہ مقدس میں شیطان کو پابند سلاسل کرکے آدم زادوں کو عذاب الٰہی سے بچنے کا بہترین موقع فراہم کیا گیا ہے، ایک نیکی کا ستر گنا انعام، پھر بھی اگر کوئی غافل رہے تو اس کی مرضی۔قول حضرت محمد ﷺ ہے کہ ’’شیطان نے رحمان سے مکالمہ کیا۔ مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو جب تک ان کے جسموں میں روحیں باقی رہیں گی، گمراہ کرتا رہوں گا۔ مالک کائنات نے جواب دیا، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے، یعنی بخشش مانگتے رہیں گے، میں انہیں بخشتا رہوں گا۔‘‘
بات کھل کر سب کو سمجھ آجانی چاہیے کہ بندے اور مالک کا کوئی مقابلہ نہیں، بندہ خودسری چھوڑ کر بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہوجائے، صدق دل سے معافی مانگ لے تو رحمان و رحیم معاف کردے گا، کہ وہی حقیقی مہربان ہے، اس کی مہربانی حاصل کرنے کے لیے ہمیں انکساری اور خلق خدا کی بھلائی کا عملی مظاہرہ کرنا پڑے گا، یعنی اگر ماہ رمضان میں مالک ارض و سماء نے اجر و ثواب کی برسات کی ہے تو ہمارا روزہ، عبادات، صدقہ خیرات اور صبر وتحمل کا مظاہرہ بھی روز جیسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ ’’ہم اور آپ‘‘ رحمت، مغفرت اور جہنم کی آگ سے بچنے کے خواہش مند ہیں تو ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی حقیقی تبدیلی آنی چاہیے، دکھاوا نہیں۔ اس لیے کہ وہ ہمارے دلوں اورذہنوں سے بھی بخوبی واقف ہے، لہٰذا روزہ ہو تو روز جیسا ہرگز نہیں، ورنہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اگر روزہ اور عبادات خلوص نیت سے نہیں ہوئے تو مالک کائنات کو ہماری بھوک پیاس کی ضرورت نہیں۔
آئیے اپنا احتساب کریں۔ کہتے ہیں دنیا امتحان گاہ ہے، یہاں مختلف اقسام کے امتحانات سے ہر شخص کو گزرنا پڑتا ہے۔ ’’روزہ‘‘ مسلمانوں سے پہلے بھی پایا جاتا ہے، پھر اسے مسلمانوں پر کیوں فرض کیا گیا؟ اس بات کی تحقیق سے پتا چلے گا کہ مالک کائنات نے بے لگام اولاد آدم کو سب کچھ دے کر ’’تزکیہ نفس‘‘ کا نسخہ عطا کیا ہے، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ اپنے بنائے ہوئے اصولوں کا غلام بن کر ساری زندگی غلام گردش میں گزاردے گا، اس لیے روزہ اسے خواہشات کی غلامی سے نکال کر ’’ڈسپلن‘‘ میں لائے گا، لہٰذا آج کے جدید دور میں ’’روزہ‘‘ ہر حال میں انسانی تربیت میں ایسا کارگر ہے کہ اس عمل سے تکمیل خواہش میں تاخیر کرنے کی استعداد پیدا ہوتی ہے، یوں انسان خواہشوں کے سمندر میں ڈوبنے سے بچ سکتا ہے۔ رحمت کا عشرہ گزرنے کو ہے۔ آج تجدید عہد کریں۔ رب کائنات کے حضور جھک جائیں، عشرہ مغفرت میں اپنے کیے کی معافی مانگیں اور عشرہ نجات جہنم کے اعمال بجالائیں، روزہ نمازکے ساتھ قرآن پاک کی کثرت سے 
تلاوت کریں، روزمرہ کی عادت چھوڑ دیں۔ کون جانے آئندہ سال یہ لمحات ہمارا اورآپ کا مقدر بھی بنیں گے یا نہیں۔ عہد کریں یہ موقع ضائع نہیں کریں گے، روزہ رکھیں گے، اس کے تمام تر احکامات کے ساتھ صرف اللہ کے لیے اور وہی اس کا بہترین اجر دے گا، لیکن شرط یہی ہے کہ روزہ۔۔ روز جیسا ہرگز نہ ہو۔ خلوص نیت اور ایسا جذبہ شامل ہوکہ مالک راضی ہوجائے۔
بقیہ: جمع تفریق