31 مئی 2020
تازہ ترین

روس مغرب تلخیوں کی بنیادی وجہ روس مغرب تلخیوں کی بنیادی وجہ

چند ہفتے قبل ماسکو میں قیام کے دوران سابق سوویت صدرمیخائل گورباچوف کے ایک انٹرویو کے چند نکات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے۔ انہیں ایک موقع پر یہ بات چھپانا پڑی کہ وہ ہسپتال مختلف ٹیسٹ کرانے کیلئے گئے تھے۔ امریکی ماہر تعلیم گورڈن ہاہن جوکہ سنٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سابق فیلو بھی ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ امریکا کی روس سے متعلق پالیسی ایک ایسی چلتی ٹرین کی طرح ہے جس کا ریل لنک کوئی نہیں ہے، یہ پالیسی زعم پر مبنی نظریاتی اثرات اور بیوروکریسی کے زیر اثر طبقاتی مفادات کا سنگم ہے۔ میری نظر میں سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے ارکان نے روس سے متعلق امور میں چھیڑ چھاڑ کیلئے صدر ٹرمپ کا ایک چھوٹا کا کمرہ دے رکھا ہے؛ حالانکہ کئی مرتبہ ٹرمپ نے واضح اشارے دیے کہ وہ روس کیساتھ پرامن روابط کے خواہاں ہیں۔ 
سابق صدر بل کلنٹن کے سیکرٹری دفاع ولیم پیری نے کئی موقعوں پر یہ تسلیم کیا’’ امریکہ روس تعلقات کی زبوں حالی میں واشنگٹن برابر کا قصور وار ہے۔ اگر گزشتہ 20 سال کی دوطرفہ غلطیوں کو جائزہ لیا جائے تو امریکی غلطیوں کی تعداد بھی اتنی ہی نکلے گی جتنی غلطیاں روس سے سرزد ہوئیں‘‘۔ ولیم پیری نے نیٹو کی توسیع کا خصوصی ذکر کیا جس کا آغاز بل کلنٹن نے کیا،جسے ان کے تین جانشینوں نے جاری رکھا ، یہی توسیع پسندی امریکا روس تعلقات کے زوال کا نقطہ آغاز بنی۔ پیری کے مطابق اس کے قبل دو طرفہ تعلقات بہتری کی طرف جا رہے تھے، روسی اور نیٹوافواج چار مرتبہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی تھیں۔ لگتا ہے کہ سب باتیں بھلا دی گئیں ہیں، جان بولٹن جیسے مشیر قومی سلامتی ایسی باتیں نظرانداز کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
کہانیاں گھڑنے والے جن میں سابق صدر اوباما کے مشیر خارجہ پالیسی بن روہڈز شامل ہیں، ہمیشہ اس جھوٹ پر زور دیتے رہے کہ یوکرائن کے بحران کا نیٹو کی توسیع سے کوئی تعلق نہیں۔ یوکرائن ایک رستا ہوا زخم ہے جوکہ روسیوں کیلئے تکلیف دہ ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ یورپی یونین اور امریکا یوکرائن کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جوکہ ماضی میں سوویت یونین کا اہم حصہ رہا ہے؛ روس کو لگتا ہے کہ ایسا کرکے مغربی دنیا اس کا گھیراؤ کرنا چاہتی ہے، روس کو ہمیشہ سے یہی خدشہ رہا ہے۔ انہیں اسسٹنٹ سیکرٹری خارجہ وکٹوریا نولینڈ بھی یاد ہیں جو کہ مظاہرین کی جانب سے یوکرائن کے روسی حمایت یافتہ صدر وکٹر یانکووچ کے گھیراؤ پر انتہائی خوشی کا اظہار کر رہی تھیں۔ کیا یہ باتیں ایک خود مختار ریاست کے سیاسی امور میں واشنگٹن کی مداخلت کی علامت نہیں؟
یہ گورباچوف کو کرائی گئی یقین دہانیوں کے باوجود نیٹو کو توسیع دینا وہ عمل تھا جوکہ روسیوں کے خوف کی بنیاد رہا ہے۔ روس سخت رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرقی یوکرائن کی حکومت مخالف ملیشیاؤں کو مسلح اور کریمیا پر قبضہ کر لیتا ہے ، جوکہ بحیرہ اسود میں اس کے سمندری جہازوں کا ایک بڑا مرکز ہے تو اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں۔ ان اقدامات کو روسی عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے، حالانکہ ان کی اکثریت تسلیم کرتی ہے کہ عالمی قانون کو توڑا گیا تھا۔ اگر نیٹو ممالک ماسکو کیساتھ تعلقات کی بحالی میں پیش رفت چاہتے ہیں تو انہیں مذکورہ بالا دونوں واقعات کو جواز بنا کر لگائی گئی پابندیاں ختم کر دینی چاہئیں۔
گزشتہ کچھ سال کے دوران میں نے جتنے بھی انٹرویو کئے ، اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ روسی رائے عامہ اس معاملے پر انتہائی حساس ہے ؛ روسی صاف کہتے تھے کہ وہ اپنی حکومت کو مداخلت پر مجبور کر دیں گے۔ مسئلہ صرف مغرب کی سابق سوویت ریاستوں کا ہے، وگرنہ جنوب کی سابق سوویت ریاستوں کیساتھ روس کے اچھے روابط ہیں۔ مشرق میں چین ماسکو کے قریب ہو رہا ہے۔ یہ پیش رفت مغرب کے مفاد میں نہیں۔ حال ہی میں روسی صدر پیوتن اور چینی صدر ژی نے اتفاق کیا کہ چینی کمپنی ہواوے روس کیلئے جی فائیو ٹیلی فونک رابطے کاسسٹم نصب کرے گی۔ یہ پیشرفت امریکا کے اپنے نظام کو متاثر کرے گی۔ پیوتن کے پاس امریکی اقدامات کی ایک طویل فہرست ہے جن کی وجہ سے روس کو نقصان پہنچا۔ ان میں ایک جارج ڈبلیو بش کی جانب سے 1972ء کے اینٹی بیلسٹک میزائل معاہدے کی منسوخی ہے۔ اس معاہدہ کا مقصد نیوکلیئر ہتھیاروں کی دھاک کو مزید موثر بنانا تھا۔ بش اس معاہدے کو اس لئے منسوخ کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ زمینی میزائل دفاعی نظام کو آگے بڑھا سکیں۔
ٹرمپ نے روسی خدشات میں یہ کہہ کر اضافہ کر دیا ہے کہ امریکا چھوٹے نیوکلیئر ہتھیار تیار کررہا ہے جوکہ آدھی دنیا کو تباہ کر دینے والے نیوکلیئر میزائلوں کی نسبت جنگ کے دوران زیادہ کار آمد ہیں۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعدسے امریکا نے ہر خطے کو اپنے مفادات کیلئے اہم خیال کرناشروع کر دیا ہے۔ 147ملکوں میں امریکا کی فوجی تنصیبات ہیں، روس کی نسبت 19گنا بڑی فوجی طاقت کا حامل ملک ہے۔ پرامن دنیا کے قیام کا یہ کوئی طریقہ نہیں ۔امریکا کو اپنی رویئے پر غور کرنے کی ضرورت ہے، وگرنہ دونوں بڑی طاقتوں کی امن شکنی کا مداوا کوئی نہیں کر سکے گا۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون)