22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

’’روڈ ٹو مکہ‘‘ ’’روڈ ٹو مکہ‘‘

سعودی عرب کی جانب سے عازمین حج کے لیے خصوصی پروگرام ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پانچ ممالک کے لیے ہے، جن میں تیونس، پاکستان، بنگلادیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا  شامل ہیں اور ان ملکوں کے دو لاکھ پچیس ہزار حجاج اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام کے تحت عازمین حج کی امیگریشن، سامان کی بکنگ اور کوڈنگ ملکی ہوائی اڈوں سے ہورہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ان کا سامان مکہ یا مدینہ میں ان کی رہائش گاہوں تک پہنچایا جائے گا اور انہیں کسٹم اور امیگریشن کلیئرنس کے لیے سعودی عرب میں طویل انتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ خادم حرمین شریفین کی جانب سے عازمین حج کے لیے ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام یقیناً تحفے سے کم نہیں۔ یہ پروگرام ان ممالک کے عازمین حج کے لیے بہت سہولت کا سبب بنا ہے۔ اس سے پاکستانی حجاج کرام کو دیرینہ پریشانیوں و تکالیف سے نجات حاصل ہوگی، ان شاء اللہ۔ سعودی حکام کے مطابق  سعودی پاسپورٹ کنٹرول کا عملہ تمام فنی نیٹ ورک کے ساتھ روڈ ٹو مکہ پروگرام کے تحت آپریٹ ہونے والے ہوائی اڈوں پر موجود ہوگا اور وہ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے کمپیوٹر کے ذریعے ان تمام سفری دستاویزات کا جائزہ لیں گے اور حجاج کے بورڈنگ کارڈ اور ضروری شناختی کارڈ کی چیکنگ کرے گا، تاکہ سعودی عرب میں حج ڈائریکٹوریٹ کا عملہ انہیں جلد از جلد اپنی رہائش گاہوں تک پہنچاسکے۔ یہ انتہائی احسن اقدام ہے، جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ  اسلام کے اہم رُکن حج کے موقع پر سعودی فرماںروا کی میزبانی پر مخالفین کی جانب سے کوئی نہ کوئی ایشو اٹھایا جاتا ہے اور اسلامی دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے حجاج کرام کی میزبانی احسن انداز میں نہیں کی جاتی۔ یقیناً یہ ایک منفی پروپیگنڈا ہے، کیونکہ سعودی عرب یہ 
فریضہ بڑے احسن انداز میں نبھانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ 30 لاکھ کے قریب مسلمان ہر برس حج کرتے ہیں، لاکھوں افراد کی میزبانی سرزمین حجاز کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، اس لیے سعودی حکومت پوری کوشش کرتی ہے کہ لاکھوں حجاج کرام کو جتنی زیادہ سہولتیں دے سکیں، فراہم کی جائیں۔ ’’روڈ ٹو مکہ‘‘  بھی سعودی عرب کا احسن پروگرام ہے۔
 لاکھوں عازمین میں بڑی تعداد ایسوں کی بھی ہوتی ہے جو پہلی مرتبہ حج پر آتے ہیں اور غیر دانستہ غلطیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں۔ حج کے موقع پر زیادہ تر حادثات جلدبازی، بھگدڑ اور شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران ہوتے ہیں۔ گو ہر ملک کے عازمین حج کو متعین جگہ و وقت پہلے سے ہی بتادیے جاتے ہیں لیکن بعض حجاج  گروپ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کیمپوں کے منتظمین کی تھوڑی سے عدم توجہ کے باعث حادثات رونما ہوجاتے ہیں۔ رمی کے دوران 2004 کی بھگدڑ کے بعد سعودی حکومت نے جمرات کے پل کے آس پاس بہت بڑا تعمیراتی منصوبہ شروع کیا تھا، جس میں اضافی راستے اور ہنگامی صورت حال میں نکلنے کے اضافی راستے بنائے گئے۔ جمرات کے تین ستونوں کی جگہ اب دیواریں لگائی گئی ہیں، تاکہ رمی آسان ہوسکے۔ اس کے علاوہ رمی کے لیے پل کی پانچ منزلیں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ 
قدرتی طور پر بیماریوں سے بھی ضعیف عازمین کی وفات کے واقعات رونما ہوتے ہیں، نیز مسجد الحرام کی توسیع کے دوران 2015 میں کرین حادثے میں107 حجاج کرام شہید ہوئے تھے۔ جس کے بعد مخصوص لابی نے  سعودی فرماںروا کے خلاف دنیا بھر میں منفی پروپیگنڈا کرکے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن ان سازشی منصوبوں کو امت مسلمہ نے ناکام بنادیا۔ اسلام کے اہم رکن  حج  کے خلاف دشمنان کی سازشوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جولوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہ وہی ہے جومکہ مکرمہ میں ہے جوتمام دنیا کے لیے برکت و ہدایت والا ہے‘‘ (آل عمران:96)۔ 
570ء یا 571ء میں یمن کا فرمانروا ابرہہ ساٹھ ہزار فوج اور تیرہ ہاتھی (بعض روایات کے مطابق نو ہاتھی) لے کر کعبہ کو ڈھانے کے لیے حملہ آور ہوا۔ لیکن سورۃ فیل میں ابرہہ کی فوج کی جو بربادی کا ذکر ہے، وہ اللہ کے گھر کو نقصان پہنچانے کی سازش کرنے والوں کے لیے تاقیامت محفوظ کردی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حادثے کا قرآن مجید میں کچھ اس طرح ذکر فرمایا ہے: ’’کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا ان کی سازش و مکر کو بے کار نہیں کردیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے، جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے، پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا‘‘ (سورۃ الفیل)۔
مسجد الحرام کے ساڑھے 26 ارب ڈالرکی لاگت سے توسیعی منصوبے سمیت عازمین 
کو مکہ سے مدینہ لے جانے کے لیے 2018 میں مکہ اور مدینہ کو آپس میں ملانے کی خاطر قریباً آٹھ ارب امریکی ڈالر سے تیار ہونے والی ہائی سپیڈ ٹرین کا افتتاح ہوچکا ہے۔ سعودی عرب میں یہ اپنی نوعیت کا مہنگا ترین اور اولین منصوبہ ہے۔ 450 کلومیٹر طویل حرمین ریلوے کے اس منصوبے سے سالانہ ساٹھ ملین مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ سعودی ولی عہد کے جدت پسند پروگرام وژن 2030کے تحت سعودی عرب میں اصلاحات پر بھی تیزی سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ جیسے احسن پروگرام سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی حکومت عازمین کی تکالیف و مسائل کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولت پہنچانے کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے وعدے کو پورا بھی کررہی ہے۔ امید ہے کہ  ’’روڈ ٹو مکہ‘‘  سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے عازمین حج بھرپور استفادہ کریں گے۔ اسی طرح دیگر شعائر کے دوران حجاج کرام صبر تحمل کے ساتھ ’’خادمین‘‘ کی ہدایات کے مطابق عمل کرنے سے خود کو بھی زحمت سے بچائیں گے اور دیگر عازمین حج کو بھی کسی غیر دانستہ حادثے سے بچانے کی خاطر اپنا کردار ادا کریں گے۔ بیماریاں یا قدرتی آفات سمیت حکومت یا نجی حج آپریٹرز کی جانب سے حجاج کرام کو ماضی میں تکالیف کا سامنا رہا ہے۔ اس بار امید کی جارہی ہے کہ حکومت پاکستان نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہوگا اور اب عازمین حج کو بدانتظامی یا کسی کوفت سے دوچار نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بقیہ: پیامبر