25 اگست 2019
تازہ ترین

ٹرمپ کی دھونس کا جواب ٹرمپ کی دھونس کا جواب

ترکی روسی ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400خرید کر ٹرمپ کی دھونس کا جواب دے چکا ہے۔ اس ڈیل پر واشنگٹن سخت برہم تھا جبکہ اس نافرمانی پر ٹرمپ ترکوں پر پابندیوں کی بارش کرنے باتیں کر رہے تھے۔ ایس 400 روس کا بہترین ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم ہے جو ایف 35جیسے جدید ترین طیاروں کے علاوہ کروز میزائلوں ، میڈیم رینج بیلسٹک میزائلوں ، ڈرون طیاروں سمیت ہر قسم کے میزائلوں کے خلاف موثر ہے۔ اس دفاعی سسٹم کی ایک خصوصیت ریڈار کا رخ موڑنے کا خودکار نظام ہے، جس کی رہنمائی اس کا لانچ بیٹری ریڈار کرتا ہے۔ نیٹو کی اصطلاح میں اس نظام کی 400کلو میٹر رینج انہیں مہلک بناتی ہے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ ایس 400سسٹم ایف 35جیسے جدید ترین طیارے کی بھی نشاندہی کر سکتا ہے۔1990ء کی دہائی میں ایک سوویت فوجی افسر نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کی ریڈار جدید سٹیلتھ امریکی طیاروں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
ایس 400میزائلوں کی نشاندہی کرنے کی شاندار صلاحیت اور رینج امریکی فضائیہ کے جدید ترین طیاروں کی جنگی صلاحیت کو خطرہ میں ڈالتی ہے جن میں ای تھری اواکس ایئر بورن ریڈار ایئر کرافٹ، امریکی الیکٹرونک وار فیر ایئرکرافٹ، ٹینکرزکے علاوہ جدید ترین ایف 35، ایف 22، بہتر بنائے گئے ایف 15طیارے، اور بی ون، بی ٹواور بی 52جیسے بمبار طیارے شامل ہیں۔ یہ تمام طیارے لانگ رینج کروز میزائل لے جانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ روسی اے اے سسٹم تیزی سے جھپٹنے کی صلاحیت کا حامل ہے، نشانہ بنانے کے بعد تیزی سے آگے نکل جاتا ہے۔ایس 400سسٹم کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی قیمت ہے جوکہ امریکی پٹریاٹ پی اے سی 2سسٹم سے تقریباً نصف ہے؛ 
ایس 400میں جتنی بھی خوبیاں ہوں، وائٹ ہاؤس میں براجمان بڑے بابے کو یہ سب انتہائی ناگوار لگ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے انقرہ پر سب دباؤ ڈالا کہ ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے سے باز رہے، یہاں تک کہ ایک سو ایف 35طیاروں کی ڈیل منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ترکی امریکی دباؤ یوں مسترد کر دے گا۔ دراصل مبصرین بدگمانی کی اس گہرائی کو سمجھ نہیں سکے تھے جوکہ ترکی اور امریکا کے مابین پائی جاتی ہے۔ ترکوں کی اکثریت کو یقین ہے کہ 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کی انجینئرنگ امریکا نے کی تھی، جس میں انقرہ کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے ایک مشکوک مذہبی تنظیم کو استعمال کیا گیا جس کا نظم و نسق ایک مذہبی سیاسی رہنما فتح اللہ گولن کے ہاتھ میں ہے،جو امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ترکی کے منتخب صدر طیب اردوان واشنگٹن کے دباؤ سے بالاتر ایک مکمل آزاد سوچ کے حامل رہنما ہیں۔شام اور خلیج کی پالیسیوں پر ان کے واشنگٹن سے سخت اختلافات رہے ہیں،وہ فلسطینیوں کیلئے انصاف کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے امریکا کی اسرائیلی لابی کو سخت کھٹکتے ہیں۔ واشنگٹن ترکی پر معاشی حملہ کر چکا ہے، ٹرمپ کئی بار ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جوکہ امریکا کا بااعتماد اور پرانا اتحادی ہے۔ کوریا کے جنگ کے دوران ترکی کے فوجیوں نے چینی گھیراؤ سے امریکی فوجیوں کو بچایا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ترک مسلمان بھی ہیں جن سے ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کو ویسے ہی نفرت ہے۔
ایس 400میزائل سسٹم اب ترکی پہنچ چکا ہے۔ اس پر ٹرمپ کا ردعمل کیا ہو گا؟ ایف 35طیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان، سپیر پارٹس کی ترکی کو فروخت منسوخ کرنے کے علاوہ نیٹو اتحاد سے نکالنے کی دھمکی دے گا۔اسرائیل اور یونان کے ذریعے ترکی کو آنکھیں دکھائی جائینگی ۔ ترکی ایف 35طیاروں کے بغیر گزارہ کر سکتا ہے، وہ انتہائی مہنگے ہونے کے علاوہ ضروری نہیں کہ امریکی دعوؤں کے مطابق کارآمد بھی ہوں ؛ ایف 35جیسے طیارے ترکی روس سے سستے میں حاصل کر سکتا ہے۔ بھارت اور چین دونوں ایس 400سسٹم خرید رہے ہیں۔ سعودیہ بھی انہیں حاصل کرنے کی خواہش کر سکتا ہے۔ روسی فورسز نے ایس 400سسٹم شام میں بھی نصب کر رکھا ہے، اس کا بحری سسٹم بھی وہ متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
اگر امریکا ردعمل میں زیادہ ناراضگی دکھاتا ہے تو ترکی نیٹو سے نکلنے کی دھمکی دیتے ہوئے اپنی سٹریٹجک اہمیت کی حامل جنوب مشرقی اینجرلیک ایئر بیس سے امریکا کو نکال باہر کر سکتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیٹو ممالک میں امریکا کے بعد دوسری بڑی فوج ترکی کی ہے۔ سخت جاہل ٹرمپ کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ترکی کے بغیر نیٹو کی حیثیت ایسے شیر کی ہو جائیگی جس کے پنجے ہی نہ ہوں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نیٹو رکنیت کی پابندیوں سے آزاد ہونے کے بعد ترکی اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے نئے اتحاد تشکیل دے گا۔ محض ایک صدی قبل تیل کی دولت سے مالامال عراق سلطنت عثمانیہ کا حصے تھا،پھر برطانوی اور فرانسیسی استعماری طاقتوں نے قبضہ کر لیا۔ لگتا ہے کہ ترکی ایک صدی سے جاری تابع فرمانی کے طوق سے بتدریج نجات حاصل کر رہا ہے۔
(ترجمہ:ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ہف پوسٹ)