25 مئی 2019
تازہ ترین

رمضان میں مہنگائی ’’لاس د بری کار دے‘‘ رمضان میں مہنگائی ’’لاس د بری کار دے‘‘

وطن عزیز کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے گرانی کے عذاب کو بھگت رہے ہیں،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مہنگائی میں مزید شدّت آتی چلی جا رہی ہے۔ویسے تو ہر ماہ ہی گرانی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔یوں عوام کے لیے زیست کو دُشوار بنا دیا گیا ہے۔اُن کے لیے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ رمضان میں ہر شے کی قیمتوں کو پر لگنے شروع ہوگئے ہیں۔متعدد اشیاء کے دام ماہِ صیام میں آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ رمضان میں مہنگائی اپنے جوبن پر ہوتی ہے ،اسی لیے منافع خور ،ذخیرہ اندوز اور گرانی کے ذمے دار عناصر نے کمر کس لی ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دُنیا بھر کے مہذب ممالک میں اُن کے خصوصی دنوں اور تہواروں کے موقع پر اشیائے ضرور یہ کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہے جب کہ وطن عزیز میں اُلٹی گنگا بہتی ہے اور ہر شے کے دام بڑھ جاتے ہیں،عوام پر مہنگائی کے نشتر اس بے رحمی سے برسائے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔
ہر سال ہی رمضان المبارک میں گرانی اپنے عروج پر پہنچی ہوتی ہے۔دودھ ،آٹا،گھی،تیل ،سبزیاں وغیرہ سب مہنگے ہو جاتے ہیںاور پھل تو غریبوں کے لیے شجر ممنوعہ اس لیے ہو جاتے ہیں کہ وہ اُن کی اتنی زائد قیمت پر خریداری کے متحمل نہیں ہو سکتے۔حکومت اور متعلقہ انتظامیہ اس کی روک تھام کے حوالے سے ناکام ہی رہتی ہیں۔ آسٹریلیا میں رمضان المبارک کے موقع پر میلبورن کے دکان داروں نے حلال چیزوں کی قیمت میں50فیصد کمی کر دی ۔ہمارے ہاںہر سال ماہ صیام میں اشیائے خورونوش کی قیمتوںمیںاضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو مہنگائی پشتو کی اس کہاوت کے برابر ہے کہ’’لاس د بری کار دے‘‘یعنی اپنے ہاتھ کا کام ہے جس نے ریٹ جتنا زیادہ بڑھا دیا بس بڑھ گیا کوئی پوچھنے والا ہی نہیں،دکاندار من مانے ریٹ وصول کرتے ہیںاور تاجر طبقے کا موقف یہ ہوتا ہے کہ یہی مہینہ ان کی کمائی کا ہے دوسری جانب حکومت شہریوںکو یقین دلاتی رہتی  ہے کہ گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی لیکن اپنے تئیں حکومت سرسری اقدامات 
کرتے ہوئے چند مارکیٹوںمیں چھاپوں اور جرمانوں سے یہ سمجھ لیتی ہے کہ قیمتیں کم ہو گئیں اور مہنگائی پر قابو پا لیا گیا۔ آخر یہ مجسٹریسی نظام کس مرض کی دوا ہے کہ مہنگائی تو روز بروز ترقی کررہی ہے لیکن مجسٹریسی نظام تاحال کارگر ثابت نہیں ہوسکا،رہی بات یوٹیلٹی اسٹوروں کی تو وہاں پر معیاری اشیاء ناپید ہیں، عوام تو صرف چینی ،گھی،آٹا،چاول، دالوںکے لیے اسٹوروں کا رخ کرتے ہیں جو وہاں مل نہیں پاتیں، غریب عوام یوٹیلٹی اسٹوروں پر اگر جاتے بھی ہیں تو رُل رُل کر واپس آجاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے رمضان پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا،جس کے تحت یوٹیلٹی اسٹوروں پر سستی اشیاء خورونوش کی فراہمی کا عندیہ دیا گیا تھا،لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ رمضان کے لیے اُنہیں سستی اشیاء میسر آسکیں گی،لیکن اُن کے ارمانوں پر اوس پڑگئی ہے کہ اس ضمن میں ناقص منصوبہ بندی اور حکمت عملی نے سارے اعلانات پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔اطلاع آئی ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن رمضان المبارک میں عوام کو رمضان پیکیج کے تحت ریلیف دینے میں بُری طرح ناکام ہوگئی، مختلف کمپنیوں نے کارپوریشن کی طرف سے دیے گئے چیک باؤنس ہونے اور بقایا جات کی ادائیگی نہ ہونے پر اشیاء ضروریہ کی کارپوریشن کے ریجنل اسٹوریج سینٹرزکو ترسیل روک دی،اشیاء ضروریہ کی 
شدید قلت کے باعث یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن سے رمضان ریلیف پیکیج تا حال شروع نہ کیا جا سکا۔آخر عوام کے ساتھ ایسا کھلواڑ کب تک کیا جاتا رہے گا۔کب تک اُن کو جھوٹے دعووں کے ذریعے بہلایا جائے گا۔ اُن کی صحیح معنوں میں اشک شوئی کب یقینی بنائی جائے گی۔کب اُن کے مصائب میں کمی لائی جائے گی۔کب اُنہیں سستی اشیاء کی فراہمی ممکن ہوگی۔یہ تمام سوالات جواب کے متقاضی ہیں۔ایسے میں ضروری ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو لاحق مسائل کے حل کے ضمن میں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔کمپنیوں کو بقایا جات کی ادائیگی کا مناسب بندوبست کیا جائے کہ اشیاء کی ترسیل کا سلسلہ شروع ہو سکے اور عوام وہاں سے سستی اشیاء ضروریہ خرید سکیں۔اس حوالے سے کسی قسم کی تاخیر کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔اس کے علاوہ ضروری ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو ہر طرح کی بدعنوانیوں اور خرابیوں سے پاک کیا جائے اوروہاں کا نظام شفاف بنیادوں پر استوار کیا جائے اور اُسے لازمی طور پر عوامی مفاد کا ادارہ بنایا جائے کہ جہاں سے غریب عوام کی کثیر 
تعداد مستفید ہوسکے۔یوٹیلٹی اسٹورز سے غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت کی اطلاعات بھی وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔اس مسئلے کا بھی سدباب ناگزیر ہے۔ملک عزیز کے طول وعرض میں یوٹیلٹی اسٹورز کی تعداد بھی خاصی کم ہے،عوام کی بڑی تعداد ان سے مستفید نہیں ہو پاتی۔اس ضمن میں ازحد ضروری ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کی تعداد مناسب طور پر بڑھائی جائے کہ لوگوں کی اکثریت ان سے صحیح معنوں میں استفادہ کر سکے ۔یقینی طورپردرست سمت میں اُٹھائے گئے قدم مثبت نتائج کے حامل ثابت ہوں گے اور رمضان پیکیج کے ثمرات غریبوں کی اکثریت تک صحیح معنوں میں پہنچ سکیں گے۔ 
 کئی سال سے یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمین سبسڈی والی اشیا صارفین کو فروخت کرنے کے بجائے پچھلے دروازے سے مافیا کے ساتھ ساز باز کرکے کروڑوں روپے کمالیتے ہیں۔یاد رہے ملک کی آبادی 21کروڑ ہے اور ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورزکی کل تعداد 5491ہے۔اب ذرا تصور کریں کس طرح ملک کے کروڑوںلوگوں کو سبسڈی سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہےلہٰذا حکومت کا سبسڈی والی 
اشیا یوٹیلٹی سٹورز کو فروخت کرنے کا فیصلہ قطعی غلط ہے۔یہ منصوبہ ہمیشہ کی طرح ناکام نظر آرہا ہے۔ایسے میں رمضان میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے کسی سطح پر کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے،اس چشم پوشی کو کیا سمجھا جائے ؟وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر نا جائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریںاور منافع خور تاجروں پر جرمانہ عائد کرنے کے بجائے سخت ترین سزائوں کے اقدامات کیے جائیں بلکہ رمضان المبارک میں عوام کو گرانی کے عذاب سے بچانے کو مؤثر بندوبست بھی کیا جائے۔تمام بازاروں کا ذمے داران دورہ کریں اور وہاں سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیاء ضروریہ کی فروخت ممکن بنائیں،گراں فروشوں کے خلاف کڑی کارروائیاں کی جائیں۔
بقیہ: یقین محکم