21 ستمبر 2019
تازہ ترین

راتوں رات کی قیمت…؟ راتوں رات کی قیمت…؟

وہ کتنی دور سے پتھر اٹھا کے لایا تھا
میں سر کو پیش نہ کرتا تو اور کیاکرتا
راتوں رات 26ویں آئینی ترمیم پر اتفاق ہو گیا۔ سب حیران ہیں۔ باہمی دست و گریباں ایک دوسرے پر چنگھاڑتی جماعتیں، خود ساختہ فلسفوں اورنظریات پر مرمٹنے والی قیادتیں اچانک ہی اچھے بچے بن گئیں۔ فاٹا پر آئینی ترمیم منظور ہو گئی، پتا نہیں کہاں سے 288 اراکین اسمبلی بھی جمع ہو گئے۔ ویسے کمال ہی ہو گیا۔ یہ معجزہ تو ہو گیا مگر معجزہ گر سامنے نہیں آیا۔
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے
(احمد ندیم قاسمی)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ معجزات کا سلسلہ، مسلسل کیوں جاری نہیں رہ سکتا؟ آئینی ترمیم محسن داوڑ نے پیش کی۔ معاملہ کافی معنی خیز ہے۔ اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ معجزہ گر جس روز چاہے گا صدارتی نظام پر بھی ہمارے سب ’’دوست‘‘ ایمان لے آئیں گے۔ انہیں صرف ’’معجزہ‘‘ ہی تو دکھانا ہوتاہے۔
کبھی ضیاء الحق نے کہا تھاکہ یہ آئین کاغذ کاٹکڑا ہے، میں جب چاہوں گا سیاستدان میرے پیچھے چلے آئیں گے۔ بہرحال قارئین! اس واقعے کا موجودہ حالات اور ترمیم سے موازنہ نہ کیا جائے، کوئی بھی مماثلت اتفاقی یا حادثاتی ہو گی۔ مستقبل کی ترامیم کے ذمہ دار اور ذمہ داری کا مستقبل میں پتا چلے گا۔بہرحال سکرپٹ کے مطابق جنوبی پنجاب صوبے پر ’’اصولی اختلاف‘‘ ضرور سامنے آیا۔ یہ اصولی اختلاف (ن) لیگ کی جانب سے سامنے آیا، باقی اس پر سب ’’اصولی‘‘ طور پر متفق نظر آئے۔
اب مجھے پتا نہیں کیوں محسوس ہونے لگاہے کہ ’’موجودہ محبت‘‘ کے اختتام پر ’’صدارتی محبت‘‘ اس ملک کا مقدر بننے جا رہی ہے۔ شاید بہت سے نئے صوبے یا نئے انتظامی صوبے، بہتر شہری حکومتوں کا نظام جابجانظر آئے۔آج سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ دیکھیں آئین جامد نہیں ہے، وہ زندہ ہے، اس لئے ترامیم ہو رہی ہیں۔ جی ہاں اس میں مزید ترامیم بھی ہوں گی، 26 سے ترامیم 126 کا سفر طے کرنے میں چند لمحے ہی لگائیں گی۔ سب اچھے بچوں کی طرح کھڑے ہو کر ووٹ دیںگے۔
دوسری پارلیمانی نظام میں اگر خرابیاں ہیں اور اس میں خوفناک بگاڑ آیا ہے تو اس کا ذمہ دار عام آدمی تو نہیں ہے۔ اس کے سر پر تو پارلیمانی نظام نے ہمیشہ بم ہی پھوڑا ہے۔ آج اس ملک میں چوتھی نسل آ گئی ہے مگر حالات پہلی نسل سے بھی بدتر ہیں۔ لوگ معاشی ابتری سے اب نبردآزما ہونے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں۔ پہلے ایک آدمی کماتا تھا دس لوگ کھاتے تھے، اب دس کماتے ہیں پھر بھی گزارہ نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ پارلیمنٹ ، بلدیاتی اداروںیا حکومت میں جو آ گیا، ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد اس نے غربت کو شکست دے دی۔ انتخابات پیسے کا کھیل بنا دیئے گئے ہیں، وہ قومی اسمبلی کا انتخاب ہو یا بلدیاتی حتیٰ کہ کسی تاجر تنظیم یا ایسوسی ایشن کا ہو۔ آج ہائوسنگ سوسائٹیز کے انتخاب پربھی کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ قومی اسمبلی کے انتخابات کو بھی مات دے گئے ہیں۔ ڈریں اس وقت سے جب یہ تمام لوگ قومی سیاست میں کود پڑیں گے۔ لگتا ہے یہ بھی ایک دن ہو ہی جائے گا۔ جب یہ ہو گاتو ایک نیا تماشا لگے گا۔ بہتر یہی ہے کہ رواں محبت کے دوران ہی ’’محبوب‘‘ کے مطالبات کو مان لیا جائے، وگرنہ محبوب آنکھ کے اشارے سے عاشقوں کے سر قلم کرنے اور دل پھاڑنے کی صلاحیت بہرحال رکھتا ہے۔ میں نے ایک بار استاد محترم سید تنویر عباس نقوی کو مختلف اشعار سنانے کے بعد کہاکہ پہلے تو شاعر بہت جرات اور ہمت دکھاتا ہے، کہتا ہے کہ محبوب کو اس کا نصیب رلائے، دل کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر اچانک ہی کہتا ہے کہ:
ہو جائیں بددعائیں میری دوستو غلط
اب ان پہ کوئی حرف نہ آئے خدا کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شخص جو کوثر میرا اپنا بھی نہیں ہے
ہوجائے کسی کا مجھے اچھا نہیں لگتا
(کوثر علی کوثر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فضا کی نغمگی سے تم نئے گیتوں کو چن لینا
حسین پلکوں کی نوکوں پہ نئے کچھ خواب بن لینا
میرے سب خط جلادینا
میرے تحفوں کو دریا میں بہانا یا جلا دینا
تمہیں جاناں اجازت ہے
تمہیں اس کی اجازت ہے
مگر اتنی گزارش ہے
اگر ایسا نہ ہو جاناں
تو اچھا ہے
(وصی شاہ)
تنویر عباس نقوی مسکرائے اور کہنے لگے کہ دراصل عاشق محبوب کے سامنے اور پیچھے بزدل ہوتا ہے۔ وہ محبوب سے ڈرتا ہے، کمزور دل ہوتا ہے۔ اس لئے کتنا بھی دل کڑا کر لے، کچھ ہی دیر کے بعد ہمت ہار جاتا ہے۔ جب محبوب کو ان کمزوریوں سے کھیلنا بھی آتا ہو تو وہ عاشق کی انتہائی بری درگت بناتا ہے۔ اسے نہ مرنے دیتا ہے اور نہ ہی زندہ رہنے دیتا ہے۔
شاید اسی لئے ’’چاہ بابل‘‘ جیسی ڈیڑھ ہزار صفحات کی کتاب کا نچوڑ دو جملوں میں
ہے۔ جب ببدخت زہرہ جمال اپنے محبوب مہرتاب کو کہتی ہے کہ ’’انسان کسی کا عاشق نہ ہو، محبوب ہو‘‘۔
پاکستان کے سیاستدان محبوب بن سکتے تھے اگر وہ اپنے لوگوں سے محبت کرتے، ان کے کام کرتے، ان کی زندگیاں آسان کرتے۔ مگر ان لوگوں نے عام آدمی کو سنگدل اور شقی القلب بنا دیا ہے۔ اپنی کمزوریوں کو کسی سنگدل محبوب کی جھولی میں ازخود ڈال دیا ہے۔ اپوزیشن عمران خان پر ہنستی تھی کہ یہ دوستوں کا ’’ربوٹ‘‘ ہے۔ گزشتہ روز پتہ چلا کہ یہ سب بھی اسی کی زلف کے اسیر ہیں۔ 
آعندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو پکارے ہائے گل، میں پکاروں ہائے دل
بقیہ: محاسبہ