10 اپریل 2020
تازہ ترین

رانا ثناء کے ساتھ عدالت میں کیا ہوا؟ رانا ثناء کے ساتھ عدالت میں کیا ہوا؟

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت ملی، کیونکہ یہ اچانک گرفتاری تھی اور یہ نیب کے ہاتھوں نہیں ہوئی بلکہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے انہیں لاہور داخل ہوتے ہوئے ٹول پلازہ کے قریب سے حراست میں لیا تھا۔
دوسری ہائی پروفائل سیاسی شخصیات کی پیشیوں کے لیے احتساب عدالت جانا تو معمول بن گیا ہے، اس مرتبہ ضلع کچہری عمارت کی پہلی منزل پر واقع پہلا کمرہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت ہے، جہاں رانا ثناء اللہ کو پیش کیا گیا۔ اس طرح کی سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہنا ہی بڑی بات ہے۔ (ن) لیگ پنجاب کے صدر کی گرفتاری پر پورا یقین تھا کہ اب کی بار متوالے چپ نہیں بیٹھیں گے مگر یہ کیا، 9 بجے تک لاہور سے ایم این اے بننے والے وحید خان کے ساتھ صرف درجن بھر کارکن موجود تھے۔
(ن) لیگ کا قلعہ کہلانے والے لاہور سے صرف چند کارکن، شاید ہی تنظیمی طور پر سابق حکمراں جماعت پر اس سے زیادہ بُرا وقت پہلے کبھی آیا ہو۔ مجھے زرداری کی گرفتاری یاد آئی، جس پر احتجاج کرتے ہوئے لاہور کی سڑکوں پر جیالے نکل آئے تھے مگر رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر لاہور میں سناٹا تھا۔ جب وحید عالم سے اس بارے میں دریافت کیا تو ان کے پاس میرے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔ 
میرے قریب قیدیوں سے بھری گاڑی آئی تو کئی آوازیں آئیں، پائن ایتھے کنے آناں (بھائی ادھر کس نے آنا ہے) میں نے جواب دیا، رانا ثناء اللہ۔ پھر سوال، اونہوں وی ساڈے نال پیش کیتا جائے گا (اس کو بھی ہمارے ساتھ پیش کیا جائے گا؟) جی ہاں، میں نے جواب دیا۔ گاڑی کی سلاخوں میں سے روشنی دیکھنے والے قیدی یقیناً خوش ہوگئے ہوں گے کہ کوئی بڑا آدمی بھی ان کے ساتھ اسی جگہ پیش ہورہا ہے، جہاں انہیں پیش کیا جاتا ہے۔
رانا ثناء اللہ کو عدالتی احاطے میں لایا گیا تو پہلی منزل پر کھڑے مجھ سمیت باقی صحافی چوکس ہوگئے۔ سب کی نظریں تین سفید لینڈ کروزر پر تھیں، جن میں سے ایک میں منشیات رکھنے کے ملزم رانا ثناء موجود تھے۔ انہیں گاڑی سے نکالنے سے پہلے اے این ایف کے اہلکار عدالت میں آئے، پھر ملزم کو عدالت میں سیکیورٹی کے سخت حصار میں لایا گیا۔ عدالت میں شدید دھکم پیل تھی۔ پیشی سے 15 منٹ قبل صحافی حبس کی شدت سے بچنے کے لیے عدالت کے دروازے پر تھے کہ ایک نوجوان کے ساتھ دو افراد عدالت میں جانے لگے تو اہلکاروں نے انہیں روک دیا، جس پر ایک نے بلند آواز میں کہا ’’جج صاحب ہیں‘‘ آواز کے ساتھ ہی اہلکاروں نے راستہ چھوڑ دیا۔ نوجوان عدالت میں داخل ہوگیا، یہ وہی مجسٹریٹ ہیں جن کی عدالت میں یہ کیس چل رہا ہے۔ عدالت میں ملزم رانا ثناء کو لایا گیا تو وکلاء نے شدید نعرے بازی شروع کردی۔ کچھ عدالت میں موجود کرسیوں پر چڑھ کر نعرے لگانے لگے، کچھ ویڈیوز بنانے لگے۔ صحافی عدالتی احترام کے پیش نظر ویڈیوز نہیں بنارہے تھے، مگر وکلا اور دیگر کھلم کھلا عدالت میں جج صاحب کی موجودگی میں سیلفیاں اور ویڈیوز بناتے رہے۔ 
سماعت کے آغاز میں ہی ایک رپورٹر نے کان میں سرگوشی کی، جوڈیشل ریمانڈ ہوگا، پتا چلا اے این ایف نے موقف اپنایا ہے کہ چونکہ انہوں نے رنگے ہاتھوں ملزم پکڑا ہے، انہیں مزید تفتیش کی ضرورت نہیں۔ معزز جج نے رانا ثناء اللہ کے ساتھیوں کے فرداً فرداً نام پکارے، جس پر ہتھکڑیوں میں بندھے ہاتھ بلند ہوتے اور اپنی موجودگی کا بتاتے۔ صحافیوں نے ملزم رانا ثناء سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ صرف اتنا ہی کہہ سکے ’’یہ ظلم ہے اور ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔‘‘ اے این ایف اہلکار ان کو واپس لے کر جارہے تھے تو ان کی گاڑی کو روک کر نعرے لگاتے رہے اور نعروں میں براہ راست وزیراعظم کو برا بھلا کہا جاتا رہا۔ اب رانا ثناء اللہ جیل میں ہیں، ان کی فیملی کبھی انہیں مل پاتی ہے کبھی نہیں۔ ان کے گھر سے آیا کھانا وصول کرنے سے جیل حکام انکاری ہیں۔ ان کی بیوی اور داماد کے مطابق رانا ثناء اللہ نے انہیں بتایا کہ انہیں پھنسایا گیا ہے۔ مگر عدالت میں کھڑے (ن) لیگ کے رہنما نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ رانا صاحب نے انہیں دو ہفتے پہلے کہا تھا ’’ان کی جان لینے کی کوشش کی جائے گی‘‘ لیگی رہنما کی بات سن کر میں مزید کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر سماعت کا آغاز ہوگیا۔ 
کل ان کے داماد شہریار رانا نے مجھے بتایا، انہیں سپائنل کارڈ کا مسئلہ ہے مگر انہیں زمین پر سلایا جارہا ہے، انہیں صحت کے مسائل ہیں مگر ادویہ ان تک پہنچنے نہیں دی جارہی ہیں۔ مقدمہ عدالت میں چلے گا۔ آئندہ دن ہی تصویر کی حقیقت واضح کریں گے مگر جیل حکام کی بے جا سختی اور اے این ایف کی ایف آئی آر نے بہت سے ایسے سوالات کھڑے کردیے ہیں جس پر بات کرنے سے لوگ ڈرنے لگے ہیں۔