25 مئی 2019
تازہ ترین

پتھرکے دور میں بھیجنے کی خواہش پتھرکے دور میں بھیجنے کی خواہش

یہ محض اتفاق نہیں کہ ٹی وی نیٹ ورکس دوبارہ سے ’’ ڈرٹی ہیری‘‘ فلم سیریز چلا رہے ہیں کہ امریکی نیوی کا ہتھیار بند بیڑا اور ایئر فورس کے بی 52بمبار طیارے ایران سے ٹکرانے کیلئے چل پڑے ہیں۔ ایک مرتبہ پر ہمیں’’ برے لوگ‘‘ بمقابلہ ’’اچھے لوگ‘‘ کی کہانی دیکھنے کو مل رہی ہے جسے دیکھ کر ہمارا وقت اچھا کٹ رہا ہے۔ شاید یہ سب دھونس جمانے سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایران کیساتھ حالیہ کشیدگی سے قبل ہی طے شدہ شیڈول کے تحت نیوی کے طیارہ بردار جہاز ابراہام نے خلیج روانہ ہونا تھا؛ وائٹ ہاؤس کے نوقدامت پسند جان بولٹن اور مائیک پومپیو نے یہ تاثر ہمیشہ دینے کی کوشش کی کہ امریکا جنگ چاہتا ہے۔ 
جنگی جنون مزید ہوا دینے کیلئے صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کا سب سے بڑے کارگو جہاز قبضے میں لینے کا حکم دیا، جوکہ نہ صرف عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی بلکہ واضح اعلان جنگ تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ پسند حلقے ایک خطرناک پالیسی پر عمل پیرا ہیں،طاقت اور رعونت بتدریج انہیں پاگل کر رہی ہے۔ ان سے بڑھ کر مضحکہ خیز کردار خود صدر ٹرمپ ہے جنہوں نے جنگ مخالف کروڑوں امریکی ووٹروں کیساتھ وعدہ کیا تھا کہ امریکا مزید بیرونی جنگوں میں ملوث نہیں ہو گا، ان ووٹروں نے ٹرمپ پر یقین بھی کر لیا تھا۔آخر صدر ٹرمپ نے کیوں اپنے دو الہامی گھڑ سوار جنگ کے پیچھے لگا دیے ہیں؟ جنگی کشتیوں کی حالیہ امریکی پالیسی میں میری خصوصی دلچسپی اس لیے بھی ہے کیونکہ 1994ء میں مجھے ابراہام جنگی بیڑے کیساتھ جانے کا موقع ملا تھا جو اس وقت ایرانی ساحلوں کی جانب رواں دواںہے۔ ایک نیوکلیئر آبدوز، ایک کروزر جنگی جہاز، تباہ کن جہازوں کا مکمل بیڑا اس کی ہمراہ ہیں، تمام میزائلوں سے لیس ہیں۔
ایک سابق فوجی اور جنگی نامہ نگار کی حیثیت سے ابراہام لنکن بیڑے اور اس کے نوجوان عملے نے مجھے بہت متاثر کیا تھا۔ وہ ذہین،متحرک اور انتہائی منظم تھے۔ اس دور میں دنیا کے کسی ملک کی نیوی کے جنگی بیڑے صلاحیت کے لحاظ سے امریکا کے برابر نہیں تھے۔ آج کے بھاری بھر کم امریکی جنگی جہازوں کو حقیقی خطرہ روس کی بڑھتی طاقت اور مہارت کے علاوہ چینی اور بھارت کے بھاری اینٹی شپ میزائلوں سے ہے۔
اس امریکی بیڑے کی پشت پر نیوکلیئر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل بی 52بمبار طیارے اور امریکی فضائیہ کے دیگر طیارے ہیں، جوکہ اس وقت قطر ، سعودی عرب ، عمان، ترکی، اردن اور پاکستان کی ایئر بیسوں پر تعینات اور موثر طور پر ایران کا گھیراؤ کر سکتے ہیں۔ ابراہام جنگی جہاز کی حیثیت محض نمائشی اور دھمکانے کیلئے ہے۔
اسرائیل امریکا کو ایران پر حملے کرتے دیکھنے کیلئے بے تاب ہے،اس نے امریکا کو کچھ ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں کہ جیسے ایران مبینہ طور پر مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ 2001ء اور 2003ء میں ایسی ہی معلومات اسرائیل اور اس کے امریکی سپورٹرز نے فراہم کی تھیں، جوکہ ان کے دشمن عراق پر امریکی حملے کا باعث بنیں۔ عراق کے معاملہ میں واشنگٹن نے اسرائیلی انٹیلی جنس پر بہت زیادہ بھروسہ کیا تھا؛ بش سینئر کے نوقدامت پسند مشیر اسرائیل کے مخبر بنے رہے۔
صدر ٹرمپ خود کو ایک شہنشاہ خیال کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن کے بونوں نے گھیر رکھا ہے۔ ایسی کوئی چھوٹی موٹی جنگ نہیں جوناقدین کے منہ بند اور میڈیا کے سپورٹ حاصل کر سکے۔ اس لڑائی کے برے لوگ ایرانی مسلم ہیں۔ ٹرمپ کے جس طرح کے عقائد ہیں، ایک اسلامی جمہوریہ پر بمباری کا خیال ہی ان کیلئے ہیجان خیز ہے۔ بش انتظامیہ کے دور میں انہی جیسے عقائد کے حامل افراد نے عراق کے خلا ف جنگ کی حمایت کی تھی۔ ’’دوسرا گال آگے کرنے ‘‘ کا عقیدہ کہاں ہے؟ موجودہ انتظامیہ کے نو قدامت پسندایران کی تباہی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا چکے ہیں، جیسے فلسطینی کاز کا واجد چمپئن اور اسرائیل کا سخت دشمن خیال کیا جاتا ہے۔ موجودہ ٹرمپ انتظامیہ خارجی اور فوجی امور میں مکمل طور پر اسرائیل کے زیر اثر ہے، بولٹن اور پومپیو کی بھرپور کوشش ہے کہ کچھ ایسا ہو جس سے جنگ چھڑ جائے۔
وہ مکمل جنگ نہیں چاہتے، صرف ایران کی ایٹمی اور اہم تنصیبات کے علاوہ نقل و حرکت کے انفراسٹرکچر پر بمباری کا امریکااور اسرائیل کو جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں، جیسے کبھی عراق کے معاملہ میں کیا گیا۔یہ بمباری ایران کو مکمل طور پر پتھر کے دور میں نہ سہی، تاہم اس کی ترقی کے سفر کو کئی عشرے پیچھے لے جائیگی۔پھر اسرائیل امریکی کانگریس میں اپنا اثرورسوخ ایران پر سخت ناکہ بندی لگانے کیلئے استعمال کریگا۔ پنٹاگون کا ایران کو سزا کے اصل منصوبے میں ایک روز میں 2300فضائی حملوں پر مبنی تھا۔ واشنگٹن نے ایک عرصہ سے امید باندھ رکھی ہے کہ بڑھتی سختیوں سے بیزار ہو کر ایرانی عوام ایک دن اسلامی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے؛ جس سے جنوبی کیلیفورنیا میں مقیم اپنے وفاداروں کو ایران پر مسلط کرنے کا واشنگٹن کو موقع ملے گا۔ یہی امیدیں واشنگٹن نے کیوبا، نکاراگوا، عراق ، شام، لیبیا اورا ب وینزویلا میں لگا رکھی ہیں۔ یہ کوئی ڈپلومیسی نہیں، بلکہ اندھی طاقت کا خمار ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ہف پوسٹ)