23 جولائی 2019
تازہ ترین

پیرول پر رہائی، نئے ایکٹ کا مسودہ تیار پیرول پر رہائی، نئے ایکٹ کا مسودہ تیار

پنجاب حکومت نے قیدیوں کی پیرول پر رہائی کے قانون میں تبدیلی کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ نئے ایکٹ کا نام Probation and Proclamation Act,2019 ہوگا جو پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد نافذ ہوگا۔ قیدیوں کی پیرول پر رہائی کا قانون انگریز دور میں 1926 بنایا گیا تھا، جس کے تحت جن قیدیوں کا جیل میں چال چلن اچھا ہو اور وہ اپنی کُل سزا کا ایک تہائی حصہ کاٹ چکے ہوں، انہیں صوبے کے سیکریٹری داخلہ کی منظوری کے بعد آزمائشی مدت کے لیے رہا کردیا جاتا ہے، اس وقت صوبے میں وہ قیدی جن کی سزا ایک سے تین سال تھی اور وہ پیرول پر رہا ہوچکے ہیں، ان کی تعداد 52 ہزار ہے۔ وہ قیدی جن کی سزا عمر قید یا اس سے کم ہے اور وہ پیرول پر رہا ہیں، ان کی تعداد 9سو ہے۔ سابق طریقہ کار کے مطابق سب سے پہلے ہوم ڈیپارٹمنت کے ماتحت پیرول کا دفتر قیدیوں کے چال چلن کے بارے میں جیلوں سے رپورٹ لینے کے بعد متعلقہ پولیس سٹیشن سے رپورٹ حاصل کرتا ہے کہ متعلقہ قیدی کے خلاف قبل ازیں کوئی مقدمہ تو نہیں تھا، پھر ضلع کا ڈی پی او دستخط کرنے کے بعد کیس کو ڈپٹی کمشنر کو بھیج دیتا ہے، بعدازاں قیدی کے معاملے کو پیرول کے محکمہ کو ارسال کردیا جاتا ہے۔ 
عموماً پولیس قیدی کی پیرول پر رہائی کے لیے سفارش نہیں کرتی، لیکن صوبے کا سیکریٹری داخلہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے قیدیوں کی رہائی کے احکام دے دیتا ہے۔ نئے پیرول ایکٹ کے مجوزہ مسودے کے مطابق پیرول کے محکمے کوسیکریٹری داخلہ کی ماتحتی سے ناصرف واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے، بلکہ اس کے لیے ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ بنانے کا پروگرام ہے، جس کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوگا۔ مجوزہ مسودے میں جیل کا سپرنٹنڈنٹ قیدی کی پیرول کا کیس تیار کرکے براہ راست ڈائریکٹر جنرل کو بھیج سکے گا۔ جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل پیرول پر رہائی کی درخواست دینے والے قیدی اور اس کے مدعی فریق کو طلب کرکے معاملے کی ایک ماہ کے اندر انکوائری کرنے کے بعد پیرول پر رہائی کا حتمی فیصلہ کرسکے گا۔ یہ تمام کارروائی مکمل کرنے کے لیے چھ ماہ کی مدت تجویز کی گئی ہے۔ راقم کو ملنے والی مصدقہ معلومات کے مطابق 1926 کے قانون کے تحت اگر ایک مرتبہ پیرول پر رہائی ملنے کے بعد قیدی کے بھگوڑا ہونے کی صورت میں اسے دوبارہ پیرول پر رہائی نہیں مل سکتی تھی، لیکن نئے ایکٹ 2019  میں قیدی کو دوبارہ پیرول پر رہا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 
پنجاب حکومت نے نئے ڈائریکٹوریٹ کے لیے قطعہ اراضی کی خریداری کے لیے پانچ کروڑکی بھی منظوری دے دی ہے۔ اگرچہ قیدیوں کی پیرول پر رہائی کا قانون بہت پرانا ہے، لیکن اس کا پوری طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا، لیکن ملک کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کے باعث  ہونے والے مسائل اور قومی خزانے پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم پر پیرول کے قانون کا پوری طرح استعمال شروع کیا گیا تھا، پرانے قانون کی رو سے رہائی پانے والا قیدی اپنے ضلع سے دو سو کلومیٹر دُور رکھا جاسکتا ہے۔ مجوزہ مسودے میں پیرول پر رہا کیے جانے والے قیدیوں کو کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے کی صورت میں دوبارہ بند کرنے کے لیے علیحدہ جیل بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ قبل ازیں ایسے قیدیوں کو جیلوں میں بند کردیا جاتا تھا۔ پیرول پر قیدیوں کی رہائی کا بڑا مقصد انہیں معاشرے کا اچھا شہری بنانا ہوتا ہے، اسی لیے پیرول پر رہائی پانے والوں کو ان لوگوں کے سپرد کیا جاتا ہے جو پڑھے لکھے، انکم ٹیکس گزار ہونے کے ساتھ سماج میں اچھے مقام کے حامل ہوتے ہیں۔ 
موجودہ صورت حال میں پیرول کا محکمہ مطلوبہ سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث پیرول پر رہائی پانے والے قیدیوں کی اچانک جانچ پڑتال کرنے سے بھی عاری ہے۔ پیرول کے مجوزہ ایکٹ پر غور کرنے کے لیے صوبائی وزیر قانون کی صدارت میں کئی اجلاس ہوچکے ہیں، اسی سلسلے کا ایک اور اجلاس جمعہ کو چیف سیکریٹری پنجاب کے زیر صدارت ہوا، جس میں دی گئی سفارشات پر غوروخوض کرنے کے بعد مجوزہ ایکٹ کے مسودے کو ماہرین قانون کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سربراہی سپریم کورٹ 
کے ایک سینئر وکیل سید معظم شاہ کریں گے۔ کمیٹی کو پیرول ایکٹ کے مسودے کو ایک ہفتہ کے اندر اپنی حتمی سفارشات کے ساتھ چیف سیکریٹری کو پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایکٹ کو منظوری کے لیے ایک ماہ کے اندر پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔ نئے ایکٹ میں ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ چھ ڈپٹی ڈائریکٹر، 45 اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سو سے زیادہ ڈیٹا انٹری آپریٹر کی آسامیاں تجویز کی گئی ہیں جب کہ پہلے سے موجود پیرول آفیسروں کی آسامی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ نیا ڈائریکٹوریٹ گیارہ کنال اراضی پر مشتمل ہوگا، جس کا ہیڈ کواٹر لاہور میں ہوگا جب کہ ڈویژن کی سطح پر ایک ڈائریکٹر بھی ہوگا۔ جو اپنے ڈویژن کے پیرول کے معاملات کی نگرانی کرے گا۔ چیف سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں مجوزہ ایکٹ میں دی گئی بہت سی سفارشات کے ساتھ پیرول کے محکمہ نے اتفاق نہ کرتے ہوئے پیرول قانون میں موجود شقوں میں ردوبدل نہ کرنے کی بھی تجاویز دیں، جس کے بعد حتمی طور پر نئے ایکٹ کے مسودے کو ماہرین قوانین سے (Vet) کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذمے دار ذرائع کے مطابق نئے ایکٹ کے نفاذ کے بعد پیرول پر قیدیوں کی رہائی کے امکانات کافی حد تک کم ہوجائیں گے۔
بقیہ: نقارہ خلق