15 ستمبر 2019
تازہ ترین

’’یہ پرچم اب کسی سے گرایا نہ جائے گا‘‘ ’’یہ پرچم اب کسی سے گرایا نہ جائے گا‘‘

(13 جنوری 1924ء کی تحریر)
 کیا کوئی خطاب یافتہ یا حکومت کا ذمہ دار افسر نیک نیتی کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ اکالی تحریک محض ’’پرتاپ سنگھ‘‘ اور ’’کھڑک سنگھ‘‘ جیسے ’’شورش انگیز‘‘ لوگوں کی پھیلائی ہوئی ہے ورنہ عام سکھوں کو اس سے کچھ واسطہ نہیں؟ یقینا ایسا کہنا صداقت کا خون اور واقعات کی مجرمانہ پردہ پوشی ہے۔ پھر ہم یہ پوچھتے ہیں کہ جب اکالیوں کے مطالبات حقیقی ہیں اور انہوں نے یہ ثابت بھی کر دیا ہے کہ ان کی قوم کا ایک ایک فرد ان مطالبات کی صرف تکمیل ہی نہیں چاہتا بلکہ ان کیلئے جان و مال قربان کرنے کو طیار ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی۔ رعب و وقار قایم کرنے کی کوشش میں حکومت اپنی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ مہاراجہ صاحب نابھہ کی غیر منصفانہ معزولی پر ساری دنیا میں شور مچ چکا ہے۔ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان بھی مہاراجہ صاحب کے دوبارہ تقرر کا مطالبہ کرنے میں اکالیوں کے ساتھ ہیں۔ کیا حکومت انگریزی کی مجال ہے کہ وہ بہت مدت تک اس مطالبہ کی تکمیل سے غافل رہے؟ ہم افواہاً سن رہے ہیں کہ حکومت عنقریب مہاراجہ نابھہ کو واپس لا کر ریاست کا انتظام ان کے سپرد کرنے والی ہے خدا کرے یہ افواہ درست ہو۔ صبح کا بھولا شام ہی کو گھر آ جائے جب بھی غنیمت ہے۔
آخر میں ہم اکالیوں کی تازہ گرفتاریوں پر سکھوں کی غیور اور بہادر قوم کو مبارکباد دیتے ہیں کہ ان کی تحریک میں ازسرنو جان پڑ گئی۔ اب وہ زیادہ قوت اور جوش کے ساتھ اپنے جہاد مذہبی کو جاری رکھ سکیں گے۔ مسلمانان ہند کی دہلی ہمدردی اپنے اکالی بھائیوں کے ساتھ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیش بندھو داس زندہ باش
دیش بندھو داس ہندوستان کے ان معزز فرزندوں میں سے ہیں جن پر ہندوستان بجا طور پرناز کرسکتا ہے۔ کانگرس کے ہندو رہنمائوں میںجن حضرات کو مبداء فیاض سے روش خیالی، علم و فضل اور صحیح احساس قومی عطا ہوا ہے ان میں دیش بندھو داس بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ نے بنگال کے ہندوئوں اور مسلمانوں کیلئے جو میثاق مرتب فرمایا ہے اس پر تمام ہندوستان کے گوشے گوشے سے جہاں تحسین کی آواز بلند ہوئی ہے وہاں بعض تنگ خیال ہندوئوں نے احتجاج و نارضامندی کا شور و غل مچا کر اس میثاق کو نامنظور کر دیا۔ صوبہ بنگال کے ہندو بھی چونکہ مدت سے مسلمانوں کے حقوق پر قابض ہیں اس لئے انہیں بھی اس میثاق سے تکلیف ہوئی یہاں تک کہ بنگالیؔ وغیرہ  تو ایک طرف رہے امرت بازارؔ پتریکا اور سرونٹؔ جیسے آزاد خیال اور تارک موالات اخباروں نے بھی میثاق کی مخالفت کی اور بنگال کے اعتدال پسند اہل الرائے نے اس کے خلاف جلسے بھی منعقد کئے۔
لیکن دیس بندھو داس ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنے ہم قوموں کے ناواجب اور غیر معقول شور و غل سے متاثر ہو کر اپنے اصول کو ترک کر دیں۔ آپ کا گراں قدر اخبار فارورڈؔ نہایت بہادری اور پامردی سے مخالفین میثاق بنگال کا مقابلہ کر رہا ہے۔ خود دیش بندھو جب کانگرس سے واپس کلکتہ پہنچے تو انگلشمینؔ کے نمایندہ نے آپ سے ہوڑہ ریلوے سٹیشن پر ملاقات کی اور میثاق کے متعلق استفسار کیا۔ آپ نے نہایت زور سے اپنی رائے قطعی طور پر بیان کی کہ لوگوں کو میرا مرتب کردہ میثاق منظور کرنا پڑے گا۔ آپ کو بتایا گیا کہ بنگال میں تو شرایط میثاق پر بہت لے دے ہو رہی ہے۔ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں اعتراضات معلوم کروںگا ان کا جواب دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ انجام کار یہ میثاق ضرور منظور کیا جائے گا۔
ریلوے سٹیشن پر آپ نے بعض احباب موجود تھے انہوں نے کہاکہ آپ اپنا بیان شایع نہ کرائیں۔ اس پر آپ نے پھر اسی فقرے کا اعادہ کیا کہ ’’میثاق بنگال ضرور تسلیم کرنا پڑے گا‘‘۔  (جاری ہے )